اُردو داستانوں میں مافوق الفطرت کردار

ABSTRACT

(SUPERNATURAL CHARACTERS IN URDU DASTANS)

     (Supernatural Characters are the most important part of urdu dastan. We can easily find them in every Urdu prose dastan. But in Urdu criticism they are usually neglected due to their super nature. Here, the question arises that if they are faraway from real life practices then why they get place not only in Urdu dastans but also in the stories of modern era. In this article I tried my best to explore and elaborate the main reasons for having these super natural characters in urdu prose dastans and their way of presentation whether they are useful or not. )

      اردو نثری داستان کی دنیا میں مافوق الفطرت مخلوق عام ملتی ہے۔ داستان کے عجیب و غریب زمان و مکان اور محیر العقول واقعات کی رنگا رنگی اکثران ہی کرداروں کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ تا ہم اردو داستان پر سب سے زیادہ اعتراض بھی اس کے مافوق الفطرت کرداروں کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ الزام یہ لگا کر کہ یہ کردار انسانی زندگی سے تعلق نہیں رکھتے ، انسان کی روزمرہ ضروریات کی نشاندہی نہیں کرتے اس لیے حقیقت پسند نقاد اردو داستان کو محض خیالی، ماورائی اور اس کے مطالعے کو وقت کا ضیاع قرار دے کر داستان اور اس کے مافوق الفطرت کرداروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

      لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود حقیقت کا معیار کیا ہے؟ اگر یہ کردار اس قدر ہی موجودہ حقیقت پسند نقاد کے معتوب ہیں تو اس وقت کی کہانیوں میں کیسے در آئے؟کیا آج کی ترقی یافتہ اور حقیقت پسند مقامی معاشرت میں جن، بھوت، پریت، چڑیل، ڈائن، سعد و نحس کا تصور موجود نہیں؟ داستان میں مافوق الفطرت کردار لانے کے کیا محرکات تھے؟ اس کے پسِ پردہ داستان گو کے کیا مقاصد تھے اور کیا داستانوں میں پیش کیے جانے والے مافوق الفطرت کردار ان مقاصد کو پورا کرتے نظر آتے ہیں؟ داستان میں ان کی اہمیت اور افادیت کس حد تک ہے؟ کیا واقع ہی ان کرداروں کا ہماری حقیقی زندگی میں کوئی وجود نہیں اور اگر ہے تو وہ کس طرح کا ہے؟ اس قسم کے کرداروں نے ہمارے ذہنوں میں کس طرح جڑیں پکڑیں اور داستانوی ادب میں جگہ بنا لی کی کھوج لگانا بہت ضروری ہے۔داستان میں مافوق الفطرت کرداروں کی موجودگی کے حوالے سے ڈاکٹر گیان چند نے لکھا ہے :

      “اگرچہ فوق الفطرت کے بغیر بھی داستان لکھی جا سکتی ہے لیکن اردو کی کوئی داستانی کتاب اس سے صد فیصد آزاد ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔” (۱)

       اُس دور میں جب یہ داستانیں لکھیں گئیں اور آج کے دور میں جبکہ اس صنف کو متروک قرار دیا جاتا ہے ہماری سوچ اور نظریے میں کیا تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ حقیقت پسندی کے اس دور میں ان کرداروں کی کیا اہمیت ہے تو جواب یقینا یہی ہو گا کہ یہ کردار آج بھی اتنی ہی اہمیت کے حامل اور مقبول ہیں۔ کیونکہ اگر یہ کردار مقبول نہ ہوتے توہمارے قصے کہانیوں کے علاوہ عالمی ادب میں بھی یہ مافوق الفطرت کردار تخلیق نہ ہو رہے ہوتے جیسا کہ (ٹام اینڈ جیری، سپائیڈر مین، آئرن مین، ہیری پوٹر وغیرہ)۔ یہ کردار ہماری حقیقی زندگی سے تعلق نہ رکھتے ہوئے بھی بہت قریب تر ہیں۔ ان کی اہمیت اور افادیت کے دلائل میں یہی کافی ہے کہ یہ کردار آج بھی ادب میں ملتے ہیں۔ قصہ یا کہانی میں مافوق الفطرت کرداروں کی موجودگی کے حوالے سے ضروری ہے کہ قصہ یا کہانی کے آغاز اور ارتقاء کا عقلی اور تہذیبی ارتقاء کیساتھ جائزہ لیا جائے۔ یہ کردار کیسے ہمارے ذہنوں میں آتے ہیں اور ان پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔ کیا حقیقت میں ایسے کرداروں کا وجود ہے ذیل میں اس پر ہی بحث کی جائے گی۔

      دریافت شدہ قصہ یا کہانی کاتصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان۔علمِ بشریات (Anthropology)کے مطابق انسانی زندگی کے رہن سہن کا آغاز غاروں اور جنگلوں سے ہوا اور ایک طویل عرصے کے بعد انسان نے میدانوں میں ایک مکمل مہذب معاشرتی زندگی کا آغاز کیا۔غاروں کے دور کو عہدِ عتیق کے نام سے یا دکیا جاتا ہے۔ اس عہد کے انسان کا زیادہ ربط فطری عوامل یعنی جنگل ، پہاڑ، پانی، پرندوں اور جانوروں سے تھا۔ زلزلوں ،سیلاب یا خشک سالی کی وجہ سے قحط اور شکار کے لیے جانوروں کی کمیابی اس کے لیے بے حد خوف ، تردد اور دہشت کا باعث ہوتے۔ فطرت کی یہ تخریبی آفات، بیماریاںاور موت کے اسباب کی سوجھ بوجھ اانسان کی سمجھ سے بالکل بالا تر تھے ۔ وہ در اصل ایک بے حد ڈرا ہوا ، سہما ہوا اور دہشت زدہ انسان تھا جو خود کو بالکل غیر محفوظ اور بے سہارا سمجھتا تھا۔ اس سب کے باوجود اسے اسی ماحول میں زندگی بسر کرنی تھی۔اس کا علم محدود لیکن فطرت سے قریب تر رہنے کی وجہ سے مشاہدہ وسیع تھا۔ اپنے آپ کو اس دبائو سے نکالنے کے لیے اس نے کچھ پیکر تراشے اور وقت گزرنے کیساتھ ساتھ وہ ان پیکروں کو خود سے بر تر سمجھ کر انکی پرستش کرنے لگا۔

      اس عہد کے انسان کی سوچ اور ذہنی سطح ایک بچے کی طرح تھی۔ وہ اپنے ذہن میں خیالی تصویریں اور ہیولے بالکل اسی طرح بنایا کرتا جیسا کہ بچے کے ذہن میں یہ ہیولے آتے ہیں۔ ایک بچے کے خواب ، تخیلاتی تصورات، ڈر اور خوف بالغ انسانوں سے بہت زیادہ واضح ہوتے ہیں۔عہدِ عتیق کے لوگ جذباتی طور پر جانوروں سے بے حد قریب تھے اور ان کو یقین تھا کہ ان جانوروں میں بھی انسانوں کی طرح کے جذبات ہوتے ہیں اور ان کا ردِ عمل بھی انسانوں کا سا ہوتا ہے۔ نظریہ ارتقاء کے مطابق بھی انسان کسی الگ خصوصی تخلیق سے وجود میں نہیں آیا بلکہ سب جانداروں کا نقطہ آغاز ایک ہی ہے اور سب جانداروں کا آپس میں تعلق اور رشتہ ہے۔برتھامورس پارک کے بقول” پچھلے زمانے میں بعض لوگ ایسے جانوروں کی موجودگی پر یقین رکھتے تھے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا “(۲)اس دور کے انسان کے لیے توہم اور شک نے ہر چیز کو پر اسرار بنا دیا۔ چاند ، ستارے، سورج سب جاندار سمجھے گئے انسان کو ہوا، آگ، بارش ہر چیز کا تلخ تجربہ ہوا۔ سب سے بڑھ کر موت کے تجربے سے انہیں ہر کام اور ہر چیز میں کسی نادیدہ ہستی کا ہاتھ دکھائی دیا۔ اسی وجہ سے ہر کام کسی نہ کسی دیوتا یا دیوی سے منسوب کر دیا گیا۔

      چونکہ اکثر معاشروں میں حیات بعد ممات یا تناسخ ارواح کا تصور رائج تھا اس لیے جانوروں کو انسانی روح اور انسانی اوصاف سے متصف کر دیا جاتا تھا۔اس عہد کی کہانیوں میں ایسے تصورات اور واقعات کا ذکر بکثرت ملتا ہے کہ کوئی انسان کسی جانور میں تبدیل ہو گیا یا کسی اژدھا یا عفریت نے انسانی شکل اختیار کر لی اسے قلبِ ماہیت  (metamorphosis) کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ سمجھا جاتاتھا کہ مرحوم بزرگ رہنمائی کے لیے جانوروںاور پرندوں کے روپ میں آتے ہیں اس لیے انسانوں میں غیب دان پرندے، انسان سے زیادہ عاقل طوطے اور لومڑیوں کا ذکر ملتا ہے۔بقول سید وقار عظیم:

“دانا و بینا اور واعظ و ناصح طوطے فصاحت و بلاغت کے دریا بہانے والی مچھلیاں ، ہمدرد و ہم راز گیدڑ غرض ایسی بے شمار باتیں جو نہ صرف ہمارے مشاہدے میں آتی ہیں نہ تصور و خیال کے احاطے میں آتی ہیںاس دنیا کے حقائق ہیں۔ “(۳)

       خوف کے جبلی احساس کو کم کرنے کے لیے مذاہب اور جادو ٹونے نے جنم لیا ۔ماضی کے انسان نے خود سے برتر جو ہستیاں تخلیق کیں اور جادو ٹونے کے لیے جو لائحہ عمل اختیار کیا وہ داستانوں میں کھل کر سامنے آتا ہے ۔خواب ، تصورات ، دیوی ، دیوتائوں، خدائوں اور پتھروں کے بتوں کی پوجا نے قصص و روایات کو جگہ دی، جنھیں مائیں اپنے بچوں کو سناتیں اور ان کے بار بار دہرائے جانے سے نہ صرف یہ عام ہو گئیں بلکہ ذہنوں میں ان پر حقیقت کا رنگ چڑھ آیا۔ نسلاً بعد نسلاً ان کے مسلسل اعادے سے یہ معاشروں کی معتبر روایات بن گئیں اور دیو مالا اساطیر کی شکل اختیار کر گئیں۔ اساطیر کیساتھ خوف، اسرار، تقدس، عبودیت، اور تحیر کے عناصر لازم ہیں۔ یہ اساطیری روایات اور اعتقادات ہزاروں سال کی مدت سے جاری رہنے کے بعد انسانوں کی سرشت میں داخل ہو گئے ۔

       یہ ماورائے عقل عناصر انسانی خواہشات کی تجسیم کرتے ہیں۔ کبھی یہ ماورائے عقل ہستیاں دیوی اور دیوتا بنتے ہیں ۔ کبھی پریاں، اپسرائ، جل پریاں ، کبھی بھوت اور راکشس۔ دیو ، جن، بھوت اور پریاں ہماری طرح چلتے پھرتے ، بولتے، کھاتے اور پیتے نظر آتے ہیں۔ حیوانات کی حکایات میں حیوان انسان کو اخلاق ، سیاست اور حکمت کا عملی درس دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح کے کرداروں سے متعلق ایک جواز انسان کو اس کی مذہبی کتابو ں نے بھی فراہم کیا۔ جانوروں کی قوت گویائی کے متعلق قران میں بھی ذکر ملتا ہے۔ حضرت سلیمانؑ نے جب ہدہد سے دربار میں حاضر نہ ہونے کے بارے میں باز پرس کی تو اس نے جواب دیا:

“اس نے آکر کہا ۔ میں نے وہ ایک بات معلوم کی ہے جو آپ کو نہیں معلوم اور میں سب سے ایک یقینی اطلاع آپ کے لیے لایا ہوں۔ میں نے ایک عورت کو پایا ہے جو ان پر بادشاہت کرتی ہے اور اسے ہر چیز کا ذخیرہ عطا ہوا ہے اور اس کا ایک بڑا تخت سلطنت ہے۔ میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پوجا کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں سنوار دیا ہے تو اصل راستے سے ان کو روک دیا ہے جس سے وہ ایسے گمراہ ہو گئے ہیں کہ سجدہ نہیں کرتے اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو باہر لاتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپائو اور جو ظاہر کرو۔ ۔اللہ کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں جو بڑے عرش کا مالک ہے ۔”(۴)

      قلب ماہیت کے حوالے سے قران میں حضرت موسیٰ ؑ کے عصا کی مثال دی جا سکتی ہے:

”  اور اپنے عصا کو پھینکو تو جب اسے دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا ہے کہ وہ ایک سانپ ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر مڑے اور پھر نہیں پلٹے۔ “(۵)

      اردو میں ترجمہ ہونے والی داستانوں میں بڑا ذخیرہ سنسکرت الاصل داستانوں کا بھی ہے ۔ بیتال پچیسی، سنگھاسن بتیسی، توتا کہانی، مادھو نل اور کام کندلا، شکنتلا ، افسانہ عشق (یعنی قصہ نل و دمن) اردو داستانوں میں اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ یہ سنسکرت الاصل داستانیں ہندو متھالوجی کی عکاس ہیں۔ان داستانوں کا بڑا مقصد تفریح سے زیادہ اخلاق اور کردار سازی نظر آتا ہے۔ ان داستانوں میں جھوٹ نہ بولنے، ہر حال میں خوش رہنے، طمع سے پرہیز، نیکی کرنے، غرور سے دوری اور صبر و شکر سے کام لینے کی ترغیب جیسے پند و نصائح عام ملتے ہیں۔ رہن سہن، نشست و برخاست، طرزِ گفتگو غرض زندگی کے ہر پہلو سے متعلق ان داستانوں میں انسان کی رہنمائی کی کوشش کی گئی ہے۔تہذیبِ نفس، فلسفہ اور حکمت کی تعلیم کے لیے ان داستانوں میں چرند و پرند اور غیر مرئی کرداروں کا تذکرہ عام ملتا ہے۔۔ علی عباس حسینی لکھتے ہیں:

” یہ امر بھی قابلِ لحاظ ہے کہ جن، دیو، پری ، شیاطین، ارواح خبیثہ، سحر و طلسم، جنتر و منتر، گنڈا ، تعویذ، اسمِ اعظم ہندوستان کے عقائد میں سے ہیں۔ نہ تو ان کے بیان کو محض واہمہ کی پرستاری اور صداقتِ حیات سے گریز آسانی سے کہا جا سکتا ہے اور نہ ادبی کارناموں کو جھوٹ کی پوٹ اور قطعی غیر دلچسپ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ “(۶)

       دیومالا یا علم الاصنام کا مذہب سے گہرا تعلق ہے اور تقریباً تمام قدیم تہذیبوں کی دیومالائیں ان لوگوں کے مذہبی عقائدکے بارے میں معلومات مہیا کرتی ہیں۔ جنہوں نے یہ کہانیاں تخلیق کی تھیں ہم انہیں خرافات کہہ کر نظرانداز نہیں کر سکتے۔یہ داستانیں در اصل اپنے وقت کی سماجی سائنس سے کم نہ تھیں۔پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان نے اپنے ماحول اور معاشرے سے متعلق اور اپنے جبلی خوف پر قابو پانے کے لیے جو جواز تراشے تھے ، جانوروں اور دیگر موجودات سے متعلق جو نظریات قائم کیے تھے ان کو کسی حد تک تقویت روایات اور مذاہب نے بھی دی ۔ یہی وجہ ہے کہ ابتداء میں ہمیں جانوروں سے متعلق کہانیاں، فیبل اور پیرابیل کی صورت میں عام ملتی ہیں۔

      جس طرح عموماً انسان بچپن میں بھوت پریت کی کہانیاںپڑھنے اور سننے میں دلچسپی رکھتا ہے اسی طرح ادب بھی نظم و نثر کے ذریعے اپنے ابتدائی دور میں ان داستانوں کو دامن میں سمیٹتا ہے۔اس کے پسِ پردہ انسان کا اجتماعی لا شعور بھی کارفرما نظر آتا ہے کیونکہ زمینی فاصلے اور جغرافیائی حد کے باوجود ہر ملک اور قوم کے ادب میں سب سے پہلے زیادہ تر اسی قسم کی مافوق الفطرت اور تخئیلی کہانیاں نظر آتی ہیں۔ مشرقی ادبیات سے قطع نظر مغربی ادبیات کے ابتدائی دور میں بھی مافوق الفطرت عناصر کی کارفرمائی اکثر و بیشتر پائی جاتی ہے۔ پروفیسر حبیب اللہ خان غضنفر کے مطابق:

 “جب یہ دیکھا گیا کہ لوگ قصوں میں دلچسپی لیتے ہیں اور افسانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو اس پیرایہ میں اخلاقیات کا درس دینا بھی شروع کیا اور اس کے لیے جانوروں کی حکایات بیان کی گئیںاور ان کی زبان سے سبق آموز قصے کہے گئے اس سلسلہ میں امثال لقمان کلیلہ دمنہ کا نام لینا کافی ہے مگر تھوڑی مدت گزرنے کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ یہ پیرایہ بیان قدرے کم موثر ہے کیونکہ واقعات غیر عادی کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے لوگوں نے اس میں ترمیم کی اور انسانوں کے قصے کہنے شروع کیے مثلاً الف لیلہ کی حکایتیں ، مگر اس سے مطلوبہ اثر حاصل نہ ہو سکا کیونکہ لوگوں کی توجہ داستان کی طرف ہو گئی ۔۔۔ اب یہ ترمیم کی گئی کہ افراد قصہ غیر معمولی ہستیاں ہوں یعنی انسانوں کے سر بر آوردہ بادشاہ اور وزیر وغیرہ ہوں یا ایسے لوگ ہوں جن کو قدرت کی تائید حاصل ہو۔ اس مدعا کو حاصل کرنے کے لیے مافوق الفطرت عناصر کو قصوں میں لانا پڑا۔۔۔ ان عناصر کے شمول سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں وہ ممکن الوقوع سمجھے جاتے ہیں “(۷)

      مافوق الفطرت عناصر ادب کے قدیم اجزاء ہی بن کر نہیں رہ گئے ہیں بلکہ ادب کے ضمیاتی حصے میں ان کی جگہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی ہے جس سے ادب وقتاً فوقتاً فیضان حاصل کرتا رہتا ہے۔ اس طرح ان عناصر کو قائم اور زندہ رکھنے میں ادبی روایات کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ یہ عناصر ادبی روایات کا ایک اہم جزو بن چکے ہیں۔ ممکن ہے یہ بات انفرادی طور پر صادق نہ آتی ہو مگر انسان میں کہیں نہ کہیں آج بھی ماضی چھپا بیٹھا ہوتا ہے ۔ انسان کے ذہن میں ایک نہ ایک قوت مخفی جگہ پاتی رہتی ہے اور وہ اس سے اثر قبول کرتا رہتا ہے۔ بقول مجتبٰی حسین:

“آج بھی جب ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو عقل اور سائنسی تجزیے کے سہارے ہی قدم آگے بڑھا رہی ہے ہمارے ادب میں یہ مافوق الفطرت عناصر کبھی کبھی کیوں مل جاتے ہیں؟ہم نے ان سے اب تک پیچھا کیوں نہیں چھڑایا”۔ (۸)

      عہدِ عتیق کی مافوق الفطرت ہستیاں دیو، دیوتا، دیونی،پریاں، بھوت ، چڑیل ، ڈائن یہ سب مخلوقات ہماری مقامی معاشرت میں آج بھی موجو د ہیں۔ مقامی معاشرت میں آج بھی لوگ ان کے وجود پر یقین رکھتے ہیں۔ آج بھی بڑے جُسے والا مرد کو دیو اور گرانڈیل عورت کو دیونی کہا جاتا ہے۔ دھول میں اٹے ہوئے مرد کو بھوت جبکہ عجیب حلیے کی عورت کو بھتنی کہا جاتا ہے۔ کریہہ الصورت عورت کو چڑیل اور ظالم عورت کو ڈائن کہا جاتا ہے ۔اسی طرح پری اور پری زاد سے حسین و جمیل مخلوق مراد لی جاتی ہے۔اچانک نمودار ہو جانے والے شخص کے لیے اکثر لفظ جِن استعمال کیا جاتا ہے۔ بد اور شریر انسان کو شیطان جبکہ نیک صفت کو فرشتہ کہا جاتا ہے۔ غرض یہ مخلوق آج بھی ذہنِ انسانی کے اندر بستی ہے۔

      انسان کے اندر ایک رجحان پایا جاتا ہے جس کے تحت وہ بغیر کسی شہادت کے ہر چیز کو کسی نہ کسی فاعل کی کاروائی قرار دیتا ہے ۔ اکثر اوقات یہ فاعل خود انسان کی مانند ہوتا ہے ۔ جب انسان کا دماغ اس قسم کا تعلق بنا لے تو پھر کسی بھوت ، بد روح ، دیوتا یا ان دیکھی ہستیوں کی موجودگی کو فرض کرنا اور یہ سمجھنا کہ یہ ہستیاں ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیںکا تصور زیادہ مشکل نہیں رہتا ۔ یہ صلاحیت انسان کے لیے اضافی تھی۔عقلِ انسانی کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ یہ ہر چیز میں انسانی خصوصیات دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

      مافوق الفطرت عناصر روزمرہ کی زندگی سے جڑے رہتے ہیں ۔انہیں آسانی سے یاد رکھا جا سکتا ہے، دہرایا جا سکتا ہے اور اگلی نسل تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ انسان کم سے کم خلافِ توقع خیالات کو عام قرین ِ قیاس خیالات یا بے سروپا خیالات کے مقابلے پر زیادہ بہتر طریقے سے یاد رکھتا ہے ۔ کم سے کم خلافِ توقع عناصرکامیاب لوک کہانیوں اور مذہبی بیانوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

      ان داستانوں میں متعدد علوم و فنون کو کہانیوں کے پردے میں اس آسانی سے پیش کیا گیا ہے کہ عام قاری یہ محسوس بھی نہیں کر پاتا کہ یہ در اصل ا ہم مسائل اور مباحث کی افسانوی تعبیر اور تشریح ہے۔ ادیبوں نے ان مافوق الفطرت عناصر سے کسی نہ کسی پیرائے میں معنویت، اشاریت ، وسعت اور زور پیدا کیا ہے۔ فنی طور پر بھی مافوق الفطرت عناصر ادیبوں کو بہت سی دشواریوں سے بچا لیتے ہیں۔ خیال جو کہ کسی بھی ادب پارے کی بنیاد ہوتا ہے اس خیال کو سمیٹنے ، اس کے تاثر کو ابھارنے ، پیرایہ اظہار کو بلیغ اور دلچسپ بنانے میں یہ عناصر بڑی مدد دیتے ہیں۔ پیچیدہ ،فلسفیانہ ، ما بعد الطبیعاتی مباحث کے ساتھ ساتھ تلخ معاشرتی حقائق کو ادبی حسن اور فکر انگیز طور پر پیش کرنے میں یہ عناصر اسلوبِ بیان اور فنی مطالبات کے حوالے سے ادیب کی مشکلات کو بہت آسان بنا دیتے ہیں۔داستان گو در اصل ان سے علامتوں کا کام لیتے رہے ہیں۔ ان ہی مافوق الفطرت عناصر کے ذریعے انہوں نے اپنے مافی الضمیر کو فنی بلندیوں تک پہنچا کر موئثر بنایا ہے۔ کہانیوں میں مافوق الفطرت کرداروں کی شمولیت کے حوالے سے اویس احمد ادیب لکھتے ہیں:

“جب کبھی افسانہ نگار اپنے افسانہ کی تدریجی ترقی رکتے ہوئے دیکھتا فوراً کسی ایسی مافوق العادت یا مافوق الفطرت ہستی کو درمیان میں ڈال دیتا جس کی وجہ سے قصہ ترقی کی منزلیں پھر بہ آسانی طے کرنے لگتا۔  اس کی تیسری وجہ اور بھی تھی اور وہ یہ کہ اس عہد کے افسانہ نگار خواص کی زندگی کو محض عیش و عشرت کے گھروندے میں بند دیکھنا پسند نہ کرتے تھے وہ اپنے افسانوں کے ذریعے سے ان میں ایسا جذبہ پیدا کرنے کی کوششیں کرتے تھے جو ان کی طبیعتوں کو مشکل پسند بنا دیتا تھا۔ ان کے طائرِ وہم و خیال میں بھی یہ بات نہ آ سکتی تھی کہ ایک اعلی طبقہ کا فرد اور مردانہ کمالات کا حامل نہ ہو۔ اس لیے وہ خواصِ قصے کو ایسی ایسی دشواریوں میں مبتلا کرتے کہ جس کا علاج ان کے پاس سوائے مافوق الفطرت ہستیوں کی امداد طلب کرنے کے اور کچھ نہ ہوتا۔ “(۹)

      کہانی میں مافوق الفطرت عناصر کی موجودگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک خاص وقت تک کہانیوں میں وہ عناصر پائے جاتے رہے جنہیں معاشرت میں پسندیدگی کی سند ملتی تھی ۔ سائنس کے فروغ سے پہلے لوگ فطری قوانین سے ناواقف اور قدرتی مظاہر کی توجہیہ فکر سے نہیں تخئیل سے کیا کرتے تھے۔ وہ روحوں کی پوجا کر کے ان سے مدد مانگتے، دیوتائوں کو خوش کرنے ، جادو کے ٹونے ٹوٹکوں سے کائنات کو مسخر کرنے اور موت اور فنا پر قابو پانے کی کوشش کرتے تھے۔

      یہ داستانیں کہنے والے وہ لوگ تھے جو اپنے ارد گرد کی دنیا میں بہت دلچسپی رکھتے تھے ۔اپنے مشاہد ے سے جو سوال ان کے ذہنوں  میں پیدا ہوتے ان کے عقلی جواب سوجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ پرانے زمانے کی ایسی بہت سی کہانیاں ہم تک پہنچی ہیں ۔ ان میں دنیا کے ہر خطے کی داستانیں شامل ہیںجن میں یونانی، مصری، بابلی، چینی، ایرانی، ہندوستانی داستانیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ان داستانوں میں یکسانیت ہمارے اجتماعی لاشعور کی شناخت ہے ۔یہ داستانیں اگر ہماری حقیقی زندگی سے مطابقت نہیں بھی رکھتیں(اگرچہ ایسا نہیں ہے) ، مافوق الفطرت کرداروں اور محیر العقول واقعات کی وجہ سے بعض تو بڑی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہوں گی لیکن ان کہانیوں پر طنزاًہنسنا نہیں چاہیے اور نہ ہی تعصب کی وجہ سے انہیں نظر انداز کرنا چاہیے کیونکہ یہ اس زمانے کے لوگوں کی پر خلوص کوششوں کی تصویریں ہیں۔ پس یہ ضروری ہے کہ علم الانسان ، نفسیات اور فلسفے کی روشنی میں داستان کے ان مافوق الفطرت کرداروں کو تحقیق کی نئی منزل پر لایا جائے۔ داستان میں پیش کیے گئے جنات و پری اور چرند و پرند جیسے مافوق الفطرت کرداروں کو نفسِ بشر قرار دے کر ان کا مطالعہ کیا جائے کیونکہ اس طرح یہ کردار دلچسپ بھی معلوم ہوں گے اور پر معنی بھی۔

٭٭٭٭٭

طاہر نواز،

ریسرچ اسکالر شعبہ اردو ،

وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون،

سائنس و ٹیکنالوجی، اسلام آباد

 nawaztahir87@yahoo.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.