انشائیہ کی پہچان

 اردو ادب ہر دور میں نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے لیکن ہر دور میں شاعروں ،ادیبوں اور دانشوروں نے اس کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔اردو ادب کے ان شاعروں،ادیبوں اور دانشوروں نے اپنی ان تھک کوششوں سے اردو ادب میں بہت سی نئی اصناف متعارف کروائی ہیں جن میں انشائیہ بھی ایک اہم صنف ہے۔انشائیہ اردو ادب میں ایک نئی اور غیر معمولی اہمیت کی حامل غیر افسانوی صنف ہے۔موجودہ دور میں زندگی کے نت نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ایسی صورت میں انشائیہ اظہارِ جذبات کا بہترین زریعہ ہے۔ یہ ایک ایسی تحریر ہے جس میں مصنف بے تکلفی اور شگفتگی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتاہے۔

            ہر صنف ادب کے کچھ مبادیات و مقضیات ہوتے ہیں جن کی بنا پر ہم اسے دوسری اصناف سے بآسانی ممیّز کرسکتے ہیں۔جس طرح غزل ،قصیدہ،مرثیہ، مثنوی کو صنف شعر سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے الگ کرسکتے ہیں۔داستان،افسانہ اور ناول کو ایک دوسرے میں گڈمڈ نہیں ہونے دیتے اسی طرح انشائیہ کو بھی اس سے ملتی جلتی تحریروں یعنی مضمون،فکاہیہ اور طنزو مزاح تحریروں سے الگ کرسکتے ہیں۔انشائیہ کی جامع و مانع تعریف کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے۔اسی سعی و جستجو کے نتیجے میں کئی تعریفیں ادیبوں اور نقادوں نے پیش کی ہے۔جب ہم انشائیہ کی تعریف کا تعیٔن کرنے کے لیے لغات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو کم از کم معنویت ضرور سامنے آجاتی ہے۔فرہنگ آصفیہ،لغات فیروزی،فیروزاللغات اور دیگر کے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انشائیہ کا لفظ انشا سے نکلا ہے اور اس عربی النسل لفظ کے معنی عبارت،تحریر،دل سے بات پیدا کرنا،علم معانی و بیان،صنائع و بدائع،طرز تحریر،خوبی عبارت اور وہ جملہ جس میں سچ اور جھوٹ کا گمان نہ ہو،سامنے آتے ہیں۔انشائیہ کے ان لغوی معنی کو بیان کردینے سے مدعا واضح نہیں ہوتا۔انشائیہ کی تعریف کا تعین کرنے کے لئے دو چیزیں اہمیت کی حامل ہے۔اس صنف کے بڑے بڑے اصحاب ِقلم کی تخلیقات اور متعلقہ نقادانِ فن کی آراء کاجائزہ۔

بقول سید محمد حسنین:

’’ انشاء کا مادہ نشا(نش ئ) جس کے لغوی معنی پیدا کرنا ہے۔۔۔انشاء کی توانائی دراصل خیال کی تازگی، تنومندی سے ظاہر ہوتی ہے۔انشائی قوت سے بات میں معنویت پیدا ہوتی ہے اور خیالات کی لہریں نکلتی ہیں۔‘‘(انشائیہ کی بنیاد:ڈاکٹر سلیم اختر،ص:147

بقول ڈاکٹر وحید قریشی:

 انشاء کا لفظ عربی زبان سے اپنی اصطلاحی حیثیت کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ انشا کا لفظ ابتدا میں ایک دفتری اصطلاح تھا۔ اس کا اطلاق سرکاری فرامین اور مکتوبات کے رف ڈرافٹ پرہوتا تھا اور صاف شدہ مسودے کو تحریر کے نا م سے پکارا جاتا تھا۔اس نے دیوان اور انشاء کا نام پایا۔رفتہ رفتہ فرامین اور مکتوبات کی تحریر و ترتیب کے لئے انشا کا لفظ مستعمل ہوگیا۔یہی نثر احکام اور فرامین اور مکتوبات کی زبان قرار پائی۔اس نثر میں خطابت کا عنصر جزو اعظم تھا۔اس سے انشا پردازی کی وہ خاص نہج وجود میں آگئی جس کو ہم انشائیہ کے نام سے یاد کرتے ہیں‘‘۔(اردو کا بہترین انشائی ادب :ڈاکٹر وحید قریشی،ص:12)

’کشاف تنقیدی اصطلاحات‘ میں لکھا ہے:

’’انشائیہ ایک اصطلاح کی حیثیت سے Essayکا ترجمہ ہے۔پہلے پہل اسے بھی مضمون ہی کہا جاتا تھا لیکن مضمون ایک ایسی عام اصطلاح ہے جس کی حدود میں سوانحی مضمون،تحقیقی مقالہ حتیٰ کہ اخبا ر کا مقالہ افتتاحیہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔مضمون کی اس قسم کے لئے کسی نئے لفظ کی ضرورت تھی۔چنانچہ وزیرآغا نے انشائیہ کا لفظ تجویز کیا ،جو اب اصطلاح کا درجہ اختیار کرچکا ہے۔‘‘(ابو الاعجاز حفیظ صدیقی،کشاف تنقیدی اصطلاحات،مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد،طبع دوم ستمبر1985)

بقول سلیم اختر:

’’انشا کے جو بھی معنی ہوں ،انشائیہ صرف اور صرف Essayکا مترادف ٹھہرتا ہے۔‘‘(انشائیہ کی بنیاد:ڈاکٹر سلیم اختر،ص:147)

بقول ڈاکٹر سلام سندیلوی:

’’انشائیہ کا مفہوم اردو میں تقریباََ وہی ہے جو انگریزی میں Essay کا ہے۔انشائیہ مضمون نگاری کا وہ جزو ہے جس میں مصنف اپنے ذاتی اور انفرادی تجربات کو پیش کرتا ہے۔‘‘(ادب کا تنقیدی مطالعہ: ڈاکٹر سلام سندیلوی،ص:203-04)

بقول ڈاکٹر سید عبداللہ:

’’مضمون نگاریEssay writing کا ترجمہ ہے اور Essay کا ترجمہ مضمون کہا جاتا رہا ہے۔آج کل Essayکو انشائیہ اور مضمون لطیف بھی کہہ دیتے ہیں۔‘‘(صنف نثر بحوالہ ’اردو انشائیہ کے ابتدائی نقوش‘:لطیف ساحل،ص:14)

            یہ صحیح ہے کہ اردو میں انشائیہ کا لفظ انگریزی لفظ Essay کے مترادف کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔Essay دراصل فرانسیسی لفظ Assaiکے متبادل کے طور پر رائج ہوا۔انشاکا لفظ عربی النسل ہے اور Assai بھی عربی لفظ اسعی کی فرانسیسی شکل ہے۔اگرچہ عام خیال یہ ہے کہ  Assaiکا لفظ کوشش کرنے کے معنوں میں یونانی زبان سے فرانسیسی میں منتقل ہوا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔تاریخی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اندلس اور جنوبی فرانس پر اہل عرب کی زبان و ثقافت کے اثرات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فرانسیسی میں لاطینی الفاظ سے بھی زیادہ عربی الفاظ و تراکیب کا استعمال پایا جاتا ہے۔لہذا Assaiعربی لفظ اسعی ہی کافرانسیسی املا ہے۔اسعی کا مادہ سعی ہے یعنی کوشش۔اب اگر اردو میں انشائیہ Essay کے مترادف کے طور پر مستعمل ہے تو قربت کے ساتھ ساتھ تخلیقی کوشش کے حوالے سے بھی اس لفظ کا استعمال زیادہ با معنی ہوجاتا ہے۔سید محمد حسنین نے جب انشائیہ کے لفظ کو زائیدگی یا آفریدگی کے ساتھ جوڑاتھا تو غالباََ مشکور حسین یاد کے ذہن میں یہی معنی ٹھہرے گئے تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’میں انشائیہ کو ادب کی ام الاصناف کہا کرتا ہوں۔انشائیہ ادب کا ایک فکری اظہار ہے اس لئے ہر ادیب اس کا موجد ہوتا ہے۔دنیا کی ہر زبان میں جب اس کے ادب کا آغاز ہوا تو انشائیہ وجود میں آیا۔‘‘(مشکور حسین یاد:ممکنات انشائیہ،ص:24)

محمد ارشاد کا کہنا ہے کہ:

’’پرسنل ایسے(انشائیہ) اس ایسے (مضمون) کو کہا جاتا ہے جو پرسنل(شخصی) کی صفت سے متصف ہو۔جس طرح عربی گھوڑا گھوڑا ہی ہوتا ہے لیکن بعض مخصوص اوصاف کی بنا پر جو صرف عربی گھوڑے میں موجود ہیں گھوڑوں کی دیگر انواع سے ممیز کیا جاتا ہے۔لیکن ان مخصوص اوصاف کی بنا پر گھوڑے کی جنس سے خارج نہیں ہوجاتا۔اسی طرح پرسنل ایسے(انشائیہ) نوع ہے جسے پرسنل ہونے کی صفت سے متصف ہونے کی بناپر ایسے مضمون کی دیگر انواع سے ممیز کیا جاتا ہے۔ لیکن اس صفت کی بنا پر وہ اپنی جنس سے خارج نہیں ہوجاتا۔ہر انشائیہ مضمون ہی ہوتا ہے۔اسی طرح جس طرح عربی گھوڑا گھوڑا ہی ہوتا ہے۔ــــ‘‘ (محمد ارشاد،انشائیہ اور انشائیہ نگاری،مشمولہ فنون،شمارہ 21،جولائی،اگست1982 لاہور ص:47)

مندرجہ ذیل بالا تعریف کو مدنظر رکھ کر بڑے وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انشائیہ کا موضوع کچھ بھی ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ دنیا کی کوئی بھی چیز اس کا موضوع ہوسکتی ہے۔اس کے لئے کوئی پابندی نہیں۔انشائیہ کا لفظ وزیر آغا کی تحقیق کے مطابق سب سے پہلے شبلی نے استعمال کیا۔انشائیہ کے لغوی معنی سچ اور جھوٹ کا احتمال جس بات میں نہ ہواس میں ذاتی تاثرات ہوں،تحقیقی و استدلالی انداز نہ ہو اور اسلوب میں شگفتگی ہو۔مگر اسے مکمل طور پر انشائیہ کی تعریف نہیں کہا جاسکتا۔اس پہلو سے دیکھا جائے تو  انشائیے میں تین چیزیں بنیادی طور پر موجود ہونی چاہئے  یعنی اسلوب کی تازگی ایسی ہو جس سے قاری لطف اندوزہو اور موضوع بھی دلچسپ ہو۔جہاں تک خیالات کا تعلق ہے وہ نئے ہونے چاہئیں یا کم از کم ان کا انداز نیا ہونا چاہئے۔ڈاکٹر وحید قریشی انشایئے کی ہیئت کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’انشائیے،افسانے،ڈرامے اور دیگرفنی صورتوں میں بھی لکھے جاسکتے ہیں اورلکھے جاتے رہے ہیں اور ان کا رشتہ کبھی ناول سے کبھی ڈرامے سے کبھی افسانے سے جا ملتا ہے۔انشائیے کی اپنی خارجی شکل نہیں ہے۔یہ وہ فارم دوسرے اصناف سے حا صل کرتا ہے۔‘‘(ڈاکٹر وحید قریشی:انشائیہ ایک بحث،مشمولہ اوراق لاہور ،مارچ اپریل1972،ص:269)

ڈاکٹر وزیر آغا نے بھی ’ دوسرا کنارا‘ میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’انشائیہ کی کوئی مخصوص ہیئت نہیں ہے حتیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ اسے لازمی طور پر مضمون ہی کے اسلوب میں لکھا جائے۔‘‘(ڈاکٹر وزیر آغا: دوسرا کنارا،مکتبہ اردو زبان،سرگودھا 1982،ص:1)

یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ شاید انشائیہ کی اپنی کوئی انفرادی حیثیت نہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بعض اوقات انشائیہ میں کہانی کا عنصر آجاتا ہے،مگر انشائیہ کہانی نہیں بننے پاتا،کبھی انشائیہ نگار سفرنامہ اور رپورتاژ کی تکنیک سے فائدہ اُٹھاتا ہے اور کہیں طنزومزاح سے کام لیتا ہے لیکن نہ تو انشائیہ کو سفرنامہ یا رپورتاژ بننے دیتا ہے اور نہ اسے طنزومزاح مضمون میں تبدیل ہونے دیتا ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح بعض اوقات اس میں دیگر اصناف کا عکس نظر آتا ہے۔ورنہ انشائیہ مختلف اصناف کی تکنیک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی ایک اپنا داخلی مزاج اور خارجی ہیئت رکھتا ہے۔اردو میں عموماََ انشائیے مضمون کی ہیئت میں لکھے جاتے رہے ہیں۔تاہم اسے مضمون کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے،کیونکہ مضمون ایک مخصوص ترتیب اور توازن کا حامل ہوتا ہے۔انشائیہ کی خاص پہچان یہ ہے کہ اس میں اختصار پایا جاتا ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بہت ہی مختصر ہو بلکہ اس کا انحصار انشائیہ نگار کے مشاہدے پر ہوتا ہے۔انشائیہ کی پہچان کے متعلق ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:

’’ ایک اچھے انشائیہ کی پہچان یہ ہے کہ آپ اس کے مطالعے کے بعد کتاب کو چند لحظوں کے لیے بند کردیں گے اور انشائیہ میں بکھرے ہوئے بہت سے اشارات کا سہارا لے کر خود ہی سوچتے اور محظوظ ہوتے چلے جائیں گے۔‘‘(ڈاکٹر وزیر آغا:انشائیہ کے خدوخال،مکتبۂ فکرو خیال لاہور،ص:11)

انشائیہ نگار موضوع کے بارے میں ہلکے پھلکے انداز کو اپناتا ہے۔انشائیہ نگار بے تکلفی اور سادگی کے ساتھ اپنے تاثرات کو بیان کرتا ہے۔انشائیہ ایک ایسی نثری تحریر ہے جس میں انشائیہ نگار شگفتہ انداز میں اپنا مافی الضمیرقاری تک پہنچاتاہے۔وہ بعض اوقات طنزومزاح سے بھی کام لیتا ہے۔انشائیہ نگار زندگی کا مبصر ہوتا ہے اور نقاد بھی۔وہ اپنے انشائیے کے ذریعے سے اپنے تجربات کا نچوڑ پیش کردیتا ہے۔زندگی اور اس کے مسائل سے پردہ اٹھانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔انشائیہ نگار زندگی کو جس طرح سے برتتا ہے اور جس رنگ میں دیکھتا ہے اسے وہ اپنی تمام تر داخلی کیفیات کے ساتھ پیش کردیتا ہے۔وہ اختصار سے کام لے کر جامعیت کے ساتھ اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔انشائیہ میں کوئی پلاٹ نہیں ہوتا اور نہ یہ مزاحیہ مضمون ہوتا ہے اور نہ افسانہ اور مقالہ۔انشائیہ میں انشائیہ نگار شروع سے اختتام تک خود بھی بے خبر ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار کا قوت مشاہدہ وسیع اور تیز ہونا ضروری ہے تب ہی وہ انشائیہ کے فن سے انصاف کرسکتا ہے۔ وہ الفاظ کو نئے معنی میں اور نئے تناظر میں پرونے کے فن سے واقف کار ہو۔انشائیہ اپنے دور کا اور اپنے عہد کا ترجمان اور عکاس ہوتا ہے۔انشائیہ کے لیے بندھے ٹکے اصول نہیں ہیں۔انشائیہ کے لیے اختصار،غیر رسمی انداز،اسلوب کی شگفتگی،عدم تکمیل کا احساس، شخصی نقطۂ نظر وغیرہ جیسی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے اور ان ہی اجزاء سے جو فن پارہ تکمیل پائے گا وہ انشائیہ کہلائے گا۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.