شجاع خاور کی شاعری میں روایتی عناصر

شجاع ؔخاور بیسویں صدی کے نصف آخر کے ان باکمال شاعروں میں سے ہیں جن کا کلام اپنے معاصرین شعراء سے بالکل ہٹ کر ہے اور اس کی وجہ ان کا منفرد شعری لب ولہجہ ہے۔شجاع خاور نے غزل کے فکری ومعنوی پس منظر کو وسعت بھی عطا کی ہے اور زبان وبیان کی سطح پر غزل کو ندرت اور نیا پن بھی عطا کیا ہے ان کی تخلیقی ذہانت اور فکری وفنی شائستگی نے ایک ایسا اسلوب تراشا ہے جہاں گرے پڑے اور کم مستعمل الفاظ بھی شعر کے آہنگ میں رچ بس کر چمکنے لگتے ہیں ۔

عام رواج سے ہٹ کر چلنے کی کوشش میں ایجاد واختراع اور نئی راہیں نکالنا انسان کی فطرت میں شامل ہے کیوں کہ ہر زمانے کا اپنا الگ مزاج ہوتا ہے ایک سچے فنکار کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے فن میں اپنے پورے عصر کو سمیٹ لائے لیکن اس جدت ،اور ایجاد واختراع میں وہی فن زیادہ دیر پا ہوتا ہے جو اپنی زمین سے کٹ کر بالکل الگ نہیں ہوتا۔وہ اپنے پیش روؤں  کے مستحسن اور توانا روایات کا استقبال بھی کرتا ہے اور احترام بھی ورنہ اس کا فن ایک محدود عارضی تجربے اور وقتی ضائقے سے زیادہ اثر قائم نہیں رکھ پاتا۔

شجاع خاور نے جہاں اپنی غزلوں میں غیر رسمی پن اور شاعرانہ تصنع سے انحراف کی شعوری کیفیتیں پیدا کی ہیں وہیں ان کی غزلوں میں کلاسیکی غزل کا امتزاج اور رچاؤ بساؤ ان کے کلام کے حسن میں اضافہ کرتا ہے۔

ان کی غزلوں میں کلاسیکی شاعری کا رنگ بھی موجود ہے اور قدیم شعراء کا آہنگ بھی ،اور وہ اس بات کا برملا اظہار اپنے اشعار میں بھی کرتے ہیں ۔وہ اپنے پیش روؤں  کے انداز میں بات کرنے سے نہ جھجکتے ہیں اور نہ خوف کھاتے ہیں چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

اب ملے ہیں دل وجاں اس کے شجاعؔ خاور میں

پہلے غالبؔ میں غزل کا تھا دل اور میرؔ میں جاں

ذوقؔ صاحب کو سخن فہموں سے آتا ہے حجاب

سارے الزام ہیں غالبؔ کے طرفدار کے سر

قلم کا لطف اگر اک انیسؔ پر ہوجائے

تو پھر ہزار دبیروں سے کچھ نہیں ہوتا

شجاع خاور کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو کی کلاسیکی اور نوکلاسیکی غزل کے مانوس الفاظ کو جوں کا توں استعمال نہیں کیا بلکہ ان لفظیات کو کچھ اس ڈھنگ سے برتا ہے کہ یہ جانے پہچانے الفاظ نامانوس ہوجائیں ان میں ایک اجنبیت پیدا ہوجائے جس سے ان کی شاعری میں تازگی اور نیا پن جھلکنے لگتا ہے:

چار پائی تو استعارہ ہے

زخم ہجر آگیا ہے بان تلک

گیا دشت کو سارا شہر

دیوانہ بیچارا نہیں جارہا

شجاعؔ خاور نے کلاسیکی غزل کا بہت باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ انھوں نے روایتی شاعری اور کلاسیکی غزل کو اپنی غزل پر حاوی نہیں ہونے دیا یہی ان کی غزل کی تازہ کاری کا اسم اعظم ہے۔

شجاع ؔخاور کی غزل گوئی کی اسی خصوصیت کی تعریف مشہور ومعروف نقاد ظ ۔انصاری کچھ یوں بیان کرتے ہیں ۔

’’شجاع ؔخاور کو اردو کلاسیکی سرمائے پر خوب عبور ہے وہ اگلوں کے لہجے میں بات کرنے کو نہ نقالی سمجھتا ہے نہ وہ اس سے شرماتا ہے،وہ عہد حاضر کے رنگ

 سخن سے اور ٹھوس بات کو ٹھوس لفظوں میں کہنے سے نہ جھجکتا ہے نہ اسی کو اپنی شناخت بناتا ہے ۔نہ وہ نثری جملوں کی موزونیت کو شعر سے کاٹ کر نکالتا ہے اورنہ لفظوں کی ذات برادری پوچھتا ہے۔قدرتِ کلام اور فنی مشاقی اس کلام کی مقدار سے نہیں اس صفت سے ظاہر ہوتی ہے۔‘‘1؎

شجاع خاور کی غزلوں میں لسانی ہنر مند ی تو نمایاں طور پر ہے ہی لیکن قدیم مضامین کو بھی جس طرح نیا آہنگ عطا کرتے ہیں وہ لائق ستائش ہے مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھئے جو ایک ہی موضوع پر پانچ الگ الگ شعراء کے پانچ مختلف ادوار کی عکاسی کرتے ہیں :

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائیگا

  میرؔ تقی میر

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی

مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

 حسرتؔ موہانی

ایک مدت سے تیری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

فراقؔ

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے

ترے ذکر سے تیری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے

جگر  ؔ

تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھا

تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے

 نداؔ فاضلی

میرؔ کے شعر سے لیکر ندا ؔ فاضلی کے شعر تک یادوں کا ایک طویل سفر ہے لیکن شجاع خاور کے شعر میں یادوں کے خلاف جو رد عمل ہے اسی چیز نے اسے انفرادیت عطا کردی ہے:

رشتے بنائے ہم نے بھی کیسے نئے نئے

کیا کیا قدم اٹھائے تیری یاد کے خلاف

شجاعؔ خاور

یہ موضوع شجاع خاور کی غزل میں جب بھی آیا ہے نئے انداز سے آیا ہے:

دل برباد سے یوں مت نکالو اس کی یادوں کو

میاں آساں نہیں ایسے مکینوں کو مکیں ملنا

شجاع خاورکی شاعری میں روایت کی پاسداری کا اہتمام تو ملتا ہے مگر احتیاط کے ساتھ، روایت در اصل ماضی سے حال تک کے مسلسل سفر کا نام ہے۔جسے ایک اصول کی حیثیت سے حاصل ہے یعنی کسی چیز کا ماضی سے حال تک رائج ہونا روایت ہے۔سماجی طور طریقے ،رسم ورواج ،عقائد وتصورات ،اقدار وغیرہ روایت کا ناگزیر حصہ ہیں ان ہی عناصر سے روایت تشکیل پاتی ہے ۔ادبی اصطلاح میں روایت ماضی سے حال تک مسلسل چلنے والا مذاق سلیم کا وہ عمل ہے جس کی جڑیں ادبی معاشرے کے رگ وپے میں اندر تک پیوست ہوتی ہیں ۔

روایت کی حیثیت فن اور فکر کے ارتقاء  میں بنیادی ہوتی ہے وہ ماضی اور حال دونوں میں زندہ رہتی ہے۔روایت بہت سی جدتوں کو اپنے دامن سمیٹے ہوئے ہوتی ہے ہر جدت اپنے استحکام اور استقلال کے بعد روایت کا حصہ بن جاتی ہے روایت ادبی ذوق کی بنیاد ہے جس پر نئی نئی عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں لیکن اس کے لئے لازمی ہے کہ ہر نیا تجربہ اور جدت روایت سے استوار ہو۔

ان باتوں کی روشنی میں جب ہم شجاع خاور کی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو وہ روایت سے مکمل طور پر ہم آہنگ نظر آتی ہے ان کی شاعری میں روایت اور کلاسیکیت کا صحت مندانہ اظہار ملتا ہے ان کی روایت سے وابستگی کو ان کی شاعری میں صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے چند اشعار دیکھئے:

دوائی چارہ گرنے دی بھی تو ہم مر نہیں پائے

مگر تیرے نہ آنے نے یہ دشواری بھی حل کردی

اندر سے جو بھی حال ہو گھر کا ہوا کرے

باہر سے آرزو کا دریچہ سجا کے رکھ

یہ تنگ خیالی کی باتیں ہیں میاں چھوڑو

ایک اس کا ہی کوچہ کیا سارا جہاں چھوڑو

مسیحا تجھ کو کیسا لگ رہا ہے

ہمیں تو زخم اچھا لگ رہا ہے

غزل میں کلاسیکی اقدار آج بھی اپنی اہمیت رکھتی ہیں ۔روایتی طور طریقے ،لفظیات ،اسالیب اور رنگ وآہنگ کی حیثیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔بعض شعراء نے ان سے اخذواکتساب کیا ، بعض نے ان کو رد کیا۔ کچھ نے اپنی الگ راہ نکالی اور کچھ نے انہی کی راہ پر چلنا مفید سمجھا اور ان کی پیروی کی۔

روایتی اور کلاسیکی شاعری سے اپنی ذہنی وجذباتی وابستگی کے باوجود شجاع خاور کی شاعری میں بغیر سوچے سمجھے ،اندھی تقلید اور بے جا پیروی کا پہلو نظر نہیں آتا۔

شجاع خاور کی اسی خوبی اور منفرد لب ولہجہ کی تعریف اردو ادب کے بڑے اور معتبر نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ اس انداز میں کرتے ہیں :۔

’’روایتی غزل میں تو سب خیریت ہی خیریت ہے اس انبوہ میں تو جو چاہے بے کدو کاوش شریک ہوسکتا ہے لیکن نئی غزل میں بار پانا اور اپنی آواز الگ سے پہچانا جانا اتنا ہی مشکل ہے۔شجاع اپنے اطراف کی غزل اور اس کی بندھی ٹکی لفظیات سے شدید طور پر ناآسودہ ہیں ۔کوئی بھی شاعر انحراف کی راہ پر تبھی نکلتا ہے جب وہ موجود اور مانوس سے سخت نا مطمئن ہو یا کسی داخلی اضطراب سے دوچار ہو یا طرفگی اور تازگی کی جمالیات مرتب کرنے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہو۔شجاع خاور نے بغاوت کی راہ اتفاقاً نہیں ارادتاً اختیار کی ہے۔لفظ جب تخلیق کی تپش سے گرماتا ہے تو معنی لودینے لگتا ہے۔شجاع خاور نے بنی بنائی پٹری پر چلنے سے انکار کیا ہے اس لئے لفظیات وضع کرنا بھی ضروری تھا تاکہ عامیانہ تصورات کو چیلنج کیا جاسکے ۔غزل کی روایتی لفظیات پر اشرافیہ کے رکھ رکھاؤ کے پردے پڑے ہوئے ہیں ۔شجاع خاور نے پہلا کام یہ کیا کہ رسمیات کے رنگین پردوں کو الگ کردیا ۔جہاں رسمیات اور مرصع کاری ہوگی وہاں بورزوائیت بھی ہوگی۔شجاع کا تخلیقی رویہ بنیادی طور پر اسی ملفوظی بورژوائیت سے گریز کا ہے۔بورژوائیت در اصل پا بستگیٔ رسم ورہ عام کا دوسرا نام ہے اسلئے محفوظ ترین راہ عمل یہی ہے۔اس کے برعکس انحراف خطرات مول لینے کا کھیل ہے ۔شجاع رسمیات اور فرسودگی اسالیب کے تئیں چونکہ بے حد حساس ہیں چنانچہ ان کے لئے اپنی انفرادیت کو منوانا اور ہر طرح کے Doxaکو رد کرنا بے حد ضروری تھا۔ ‘‘ 2؎

البتہ اپنے وفور شوق اور قدما کے کلام سے والہانہ محبت کے اظہار میں تین چار غزلیں میرؔ وغالب کی زبان اور زمین میں شجاع خاور نے بھی کہیں ہیں اور ان کے تئیں اپنی عقیدت اور پسند یدگی کا ثبوت یوں بھی پیش کیا ہے مثال کے طور پر :

صرف تھوڑی سی سخن فہمی اگر دیدے خدا

زندگی کا لطف غالبؔ کی طرف داری میں ہے

ساری دنیا کررہی ہے اس کی صحرا میں تلاش

اور دیوانہ چھپا ہے میرؔ کے دیوان میں

وصل کس کو نصیب ہوتا ہے

داغؔ کے شعر پر گزارا کر

وہ روایتی مضامین جو جدید غزل میں سلیقے سے برتے گئے ہیں شجاع خاور کی شاعری میں جب بھی بیان ہوئے ہیں بالکل نئے رنگ اور آہنگ کے ساتھ آتے ہیں اور نئی شکل اختیار کرتے ہیں ۔

کردیا حیران اک تصویرنے

ایسے پگھلے ہم کہ پتھر ہوگئے

میرؔ جی ایسی غزل گوئی بھی کیا

سننے والے گھر سے بے گھر ہوگئے

مبارک ساعتِ تجدید زخموں کو مبارک ہو

میرے گھر پے کوئی غمخوار ہمدردانہ آتا ہے

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک کا موضوع کلاسیکی شاعری میں مختلف ادواراور مختلف پیرائے میں بیان ہوا ہے شجاع خاور نے بھی اس موضوع کو اپنی شاعری میں کئی غزلوں میں برتا ہے الفاظ تو وہی ہیں لیکن زاویہ نیا ہے انداز بھی الگ ہے اور اسلوب بھی منفرد ہے ۔اس نوع کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔

پیدا جنوں میں ایک نیا زاویہ کرو

وحشت بڑھے تو چاک گریباں سیا کرو

یا اس بہار پہ بھی کرو وحشتوں کے وار

یا پھر کہیں پہ جاکے گریباں رفو کرو

صحرا نوردی اور دشت پیمائی ،گھر چھوڑنا اور رسوائی تو عشق کا لازمی حصہ ہیں شجاع خاور نے اس عشق کی جدید ترین اور منفرد شکل پیش کردی ہے:

شجاع میاں یہ عشق بھلا کہاں کا ہوا

نہ آہ بھری نہ زخم جگر دکھانے گئے

ساری دنیا کررہی ہے اس کی صحرا میں تلاش

اور دیوانہ چھپا ہے میرؔ کے دیوان میں

ہوش والے دشت کی جانب گئے تھے ایک دن

تب سے دیوانہ سنا ہے دشت سے مفرور ہے

یہ چند نمونے تھے شجاع خاور کی شاعری میں کلاسیکی غزل سے ان کی مناسبت،موافقت،عقیدت اور محبت کے۔وہ کلاسیکیت کے معترف تو ہیں اور اس سے استفادہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ اس کے اسیر نہیں ہوئے انہوں نے کلاسیکیت کو اپنے بس اور گرفت میں رکھا۔ان کی شاعری کلاسیکیت کے اثر سے بوجھل نہیں ہوتی بلکہ کلاسیکیت کے خوشگوار اور صحت مند عناصر سے نکھر جاتی ہے اور وہ اسے اپنے منفرد اسلوب میں ڈھال کر الگ ہی رنگ میں رنگ دیتے ہیں حالانکہ الفاظ وہی ہوتے ہیں اور مضامین بھی وہی لیکن جس فنکارانہ چابک دستی سے وہ الفاظ اور خیال کو اپنے ڈھنگ سے باندھ دیتے ہیں اس میں ایک نئی جہت اور ندرت پیدا ہوجاتی ہے جس میں معنی کے نئے جہان پوشیدہ ہوتے ہیں :

جہاں بٹھادیں گے ہم جیسے

اک اک لفظ رہے گا بیٹھا

مجتبیٰ حسین شجاع خاور کے انداز بیاں اور ندرت اسلوب کے بارے میں رقم کرتے ہیں :

’’شجاع خاور نے بات کہنے کا ایک نیا سلیقہ ،نیا لہجہ اور موضوعات کی طرف دیکھنے کا ایک نیا زاویۂ نگاہ اپنایا ہے۔انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ جو شاعری سچی ہوتی ہے وہ ممکن ہے کہ اچھی نہ ہو اور جو شاعری اچھی ہوتی ہے وہ ممکن ہے کہ سچی نہ ہو ۔اس شعری ادراک کے باعث ان کی شاعری میں اچھے پن اور سچے پن دونوں کا حسین امتزاج موجود ہے ۔

شجاع خاور کی شاعری کا سب سے بڑا وصف شعر کے فنی اور معنوی لوازمات کی طرف ان کا بے تکلف اور کھلا ہوا رویہ ہے۔جسے وہ زیادہ سنجیدہ اور رنجیدہ بنانے کی کوشش نہیں کرتے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کا لہجہ خود ساختہ تصنع اور اوڑھی ہوئی بناوٹ سے عاری ہے ۔وہ زندگی کو صحیح تناظر میں دیکھتے ہیں ۔بات کچھ ایسی بے تکلفی سے کہہ جاتے ہیں کہ بظاہر اس بات کا تعلق خوش مذاقی یا شگفتگی سے پیدا ہوجاتا ہے لیکن غور سے دیکھا جائے تو اس شگفتگی کے پیچھے ایک گہری سنجیدگی چھپی ہوتی ہے میں سمجھتا ہوں بات کہنے کا یہ سلیقہ ہمارے بہت کم شاعروں کے حصہ میں آیا ہے۔‘‘ 3؎

شجاعؔ خاور کی شاعری میں میرؔ کی شیوہ بیانی اور بول چال کی سادگی بھی ہے اور غالبؔ کی طرح داری اور تہہ داری بھی، داغ ؔکی دہلوی زبان کا چٹخارہ بھی ہے اور یگانہؔ کا طنز یہ لہجہ بھی، لیکن اسلوب ان کا اپنا ہے اچھوتا ،جدید اور منفرد جسے انہوں نے خود ڈھالا ہے اور یہی ان کی شاعری کی خصوصیت بھی ہے اور خوبی بھی ۔

حواشی :

۱۔ ظ ۔انصاری: ’’مصرع ثانی‘‘ از شجاعؔ خاور 1987؁  ص 27

2۔ گوپی چند نارنگ: مضمون ’’ ہیں اہل خرد کس روش خاص پر نازاں ‘‘ مشمولہ سہ ماہی ادب ساز دہلی ۔جنوری تامارچ 2015؁ ص 90

3 ۔مجتبیٰ حسین ’’ واوین کے بعد ‘‘ مرتب : محمد اعظم 1985؁ ص 55 , 54

……………

عاشق الٰہی

ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی۔ دہلی

ashiqilahi83@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.