پاکستانی اردوفکاہی شاعری کا موضوعاتی مطالعہ (ساٹھ کی دہا ئی کے حوالے سے

A Themetic study of Pakistani stairical and Humorous urdu poetry

 Pakistani urdu literature of the decade of 1960s is overall a reflective of the homorous and innovating scenario of the country.We can study and see the reflection of the scenario in the urdu poetry and prose written in pakistan.we can the national,political and social circumstances.Urdu homorous poetry of Pakistan has also targetted the homorous social,political,ethical and economical situation of the decade and reflected it in an effective manner and made fun of it.this article brings fore the majour areas of the age targetted in pakistani urdu homorous poetry.It will be helpfull to know not only      about the circumstances and ups and downs in the decade but also the literary value of pakistani urdu homorous poetry of the decade of 1960s.

     ساٹھ کی دہائی کے ملکی حالات و حوادث اور معاشرتی زندگی کے نشیب وفراز پر مجموعی طور پر نظر ڈالی جائے تو کئی عوامل و اسباب ایسے سامنے آجاتے ہیں جوپاکستانی ظریفانہ شاعری کے موضوعات کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ سیاسی سطح پر پیدا ہونے والی بے اعتدالیوں کا سلسلہ قیامِ پاکستان کے ٍایک سال بعد یعنی قائدِ اعظم محمد علی جناح کی وفات کے ساتھ ہی شرو ع ہوا اور ختم ہونے میں نہیں آیا۔ سیاسی حالات متغیر و دگرگوں رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زمامِ اقتدار عسکری قیادت ایوب خان نے سنبھالی۔ ایوب خان کا مارشل لائ( ۱۹۵۸ء) اور ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جھڑپ نے اس دہائی کے پاکستانی اردو ادب کو موضوعات و اسلوب کی سطح پر متاثر کیا۔۵۸ء کا مارشل لاء زمانی لحاظ سے تو ساٹھ کی دہائی کے دائرے میں نہیں آتا لیکن اثرات اور تغیرات کے لحاظ سے اسی دہائی سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ ۱۹۶۵ء کے اوائل میں ہی مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ بھارت نے سرحد پر اپنی فوجیں چوکس کر دیں ۔ حالات پر قابو پانا مشکل ہوا تو ۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کو سرحد عبور کر کے لاہور پر حملہ کر دیا اور دونوں ملکوں میں جنگ نے تباہی مچا دی۔ ان دونوں واقعات نے اردو کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے موضوعات اور لب و لہجے کو یقینا متاثر کیا۔

      جنرل یحیٰ خان نے ۲۵ مارچ ۱۹۶۹ء سے ۲۰ دسمبر ۱۹۷۱ء تک زمامِ اقتداراپنے ہاتھ میں رکھی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المناک واقعہ بھی اسی زمانے میں پیش آیا۔ بہر حال اس ساری صورت حال سے وطنِ عزیز میں مجموعی طور پرہلچل ، خوف، غیر یقینی صورت، گھٹن، نفسیاتی کشمکش سی پیدا ہوئی اورملک میں انفرادی و اجتماعی سطح پرمختلف بے اعتدالیاں بھی اندرونِ خانہ فروغ پاتی رہیں ۔ عوام الناس کو جن جن سماجی و معاشی حالات کا سامنا پہلے رہا ان میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ رشوت ستانی، لوٹ مار، چوربازاری، مہنگائی، مہنگائی کے باعث تہذیبی و نفسیاتی مسائل اس دور میں عوام الناس کو اپنے پنجے میں لیے رہے۔یہ حالات و واقعات نوزائدہ مملکت کی عوام الناس کے لیے بالخصوص اور حکمران طبقے کے لیے بالعموم آزمائش کی سخت گھڑی ثابت ہوئے۔عسکری دورِ قیادت میں آزادیٔ اظہار نہ ہونے کے باوجود اس دور کی پاکستانی اردوظریفانہ شاعری اپنے مخصوص لب ولہجے کے ساتھ پنپتی رہی۔ ان حالات و واقعات نے پاکستانی اردوظریفانہ شاعری کے موضوعات اور لب و لہجے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ تنوع پیدا کیا۔ پاکستانی ظریفانہ شاعری اپنے عہد کے بدلتے حالات اور اضطراب انگیز واقعات کے حوالے سے اپنی قوت مشاہدہ و تجزیہ کو بھرپور طور پر استعمال میں لاتے ہوئے دور دور تک نظر آنے والی بے اعتدالیوں ، کمزوریوں اور کجیوں کو نشانۂ طنز و تضحیک بناتی رہی۔پاکستان کی مزاحیہ اردو شاعری نے ان حالات سے پیدا ہونے والی معاشرتی،سیاسی،اخلاقی کمزوریوں ،بے اعتدالیوں اور ناہمواریوں کو اپنے انداز میں موضوع بنا لیاہے۔

     عمومی طورپر اردوکی ظریفانہ شاعری کو تین ادوارمیں تقسیم کیا گیا ہے یعنی جعفرزؔٹلی سے مرزا غالبؔ تک پہلا دور،راجہ مہدی علی خان سے رئیسؔ امروہوی تک دوسرا دور قرار دیا جاتا ہے جبکہ تیسرے دور میں ضمیرؔ جعفری، مجیدؔ لاہوری، مسٹرؔ دہلوی، نیاز ؔسواتی، انور ؔمسعود، سرفراز شاہدؔ، گستاخؔ گیاوی، انعام الحق جاویدؔ، ضیاء الحق قاسمی، طٰہٰ خاں ، آذرؔ عسکری وغیرہ شامل ہیں ۔ (۱)

      چونچال سیالکوٹی ، اکبر لاہوری، ظریف جبل پوری، مسٹر دہلوی وغیرہ ساٹھ کی دہائی میں نمایاں طور پر نظر آنے والے پاکستانی اردوظرافت نگار شعراہیں ۔ ان ظرافت نگاروں نے اپنے اپنے انداز واسلوب اور اپنے زاویۂ مشاہدہ کے مطابق حالات و واقعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بے ڈھنگے پن اور برائیوں کو نشانۂ تضحیک بنالیا۔

     یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ادب اپنے موضوعات ہمیشہ عوام الناس کی روزمرہ انفرادی و اجتماعی زندگی سے لیتا ہے۔عوام الناس کو جن جن مسائل کا شدت سے سامنا رہتا ہے وہی مسائل اس عہد کے شعرو ادب کا موضوع ٹھہرتے ہیں ۔ ساٹھ کی دہائی میں مہنگائی نے عوام الناس کو نہایت ستایا۔ بے روزگاری ، رشوت ستانی اور چور بازاری اس دور میں بھی جاری رہی۔ سیاسی و اجتماعی سرگرمیوں پرپابندی اور آزادیٔ اظہار پر قدغن کے باعث اس دور میں نفسیاتی مسائل پیدا ہوئے اور اندرون خانہ گھریلو زندگی کی سطح پر نوک جھونک کے واقعات تیز ہوئے۔ اس سے خانگی زندگی سے جُڑے کے مسائل ابھرے ۔زیر نظر تحریر میں نمایاں موضوعات کے حوالے سے پاکستانی ظریفانہ شاعری کا ایک جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ظریفانہ شاعری میں یہاں کی سیاسی،اخلاقی،تہذیبی اور سماجی مسائل کس حد تک اور کس انداز میں منعکس ہو پائے ہیں ۔

۱۔  اہلِ سیاست کے نعرے،حربے اوررویے

      سیاسی حوالے سے یہ دور جمہوریت اور آمریت کی کشمکش کی ایک صورت بھی رکھتا ہے۔ ۱۹۵۸ء میں اگرچہ مارشل لاء لگا اور ۱۹۶۵ء میں پاک بھارت جھڑپ ہوئی لیکن ساتھ ساتھ جمہوریت اور عوامی حکومت کے خواب بھی دیکھے جاتے رہے۔ اس حوالے سے عینک فریمی، سید ضامن جعفری اور مسٹر دہلوی کی بعض مزاحیہ و طنزیہ نظمیں لائقِ توجہ ہیں ۔ ان نظموں میں ظرافت نگاروں نے اپنے عہد کی سیاسی صورت حال اور کشمکش کو اپنے ایک مخصوص اندازِ ظرافت میں نشانۂ تضحیک بنایا ہے۔

     سید ضامن جعفری ؔکی مزاحیہ نظم ’’تحریکِ بحالی جمہوریت‘‘، عینک فریمی ؔکا طنزیہ قطعہ ’’مرغ نامہ‘‘ اور مسٹرؔ دہلوی کی ظریفانہ نظم ’’منشور‘‘ اپنے موضوع اور مواد دونوں حوالوں سے اہم ہیں ۔ مسٹرؔ دہلوی کی ظریفانہ نظم ’’منشور‘‘ میں سیاست دانوں کے عمومی رویّے کو نشانۂ تضحیک بنایا گیا ہے۔ سیاست دان عموماً ووٹ حاصل کرنے کے لیے عوام الناس سے ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں جنھیں انھوں نے کبھی پورا نہیں کرنا۔ ایسے ایسے سبز باغ دکھاتے ہیں جو کبھی بھی قابل تصور نہیں ہو پاتے۔ ایسے بے بنیاد اور ناقابل عمل وعدوں اور دعوؤں   کے حوالے سے چند اشعار مسٹر دہلوی نے اپنی نظم میں شامل کیے ہیں ۔

جنھیں روٹی نہیں ملتی مزے سے کیک کھائیں گے

وہ دھوتی سے ہیں جو محروم وہ مخمل سلائیں گے

جو چپل کو ترستے ہیں وہ سب فُل بوٹ پائیں گے

میں کم قیمت پہ میک اپ کی تمام اشیاء منگاؤں  گا

ضعیفہ کو جواں ، حبشن کو امریکن بناؤں  گا

(۲)

      سیاست دانوں کے وعدوں اور دعوؤں  کا تمام تر بھرم اس وقت کھل جاتا ہے جب انھیں اقتدار حاصل ہو جاتا ہے۔ کیک کھلانے، فل بوٹ دلوانے، ضعیفہ کو جواں بنانے اور حبشن کو امریکن بنانے کے وعدے صاف طور پر نامعقول اور ناقابلِ عمل وعدے ہیں لیکن عوام ان وعدوں کی اصلیت جاننے کے باوجود الیکشن کے دنوں میں سیاست دانوں کے جھانسے میں آہی جاتی ہے۔

عینک فریمیؔ کا مزاحیہ وطنزیہ قطعہ ’’مرغ نامہ‘‘ سیاست دانوں کی ہوسِ زر اور شکم پروری کے رویّوں کو نشانۂ تضحیک بناتا ہے۔ سیاست دانوں کو ملک، قوم، عوام، قومی و عوامی فلاح و بہبود وغیرہ کی بنیادی طور پر قطعاً کوئی فکر نہیں ہوتی۔ بس محض انکی اپنی کرسی اور اقتدار کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ انقلاب کے نعرے کے بطن میں اپنی کرسی کا بچاؤ اور اپنے پیٹ کی فکر پنہاں ہوتی ہے۔ نہایت ہی طنزیہ انداز میں اسی سیاسی بے اعتدالی کو عینک فریمی نے نشانۂ طنز بنایا ہے۔

سندھ و پنجاب، سرحد و بنگال

بٹ رہی جوتیوں میں ہے اب دال

رہبر قوم کو ہے پیٹ کی فکر

ان کے لب پر یہی ترانہ ہے

لاؤ شامی کباب ککڑوں کُوں

نعرۂ انقلاب ککڑوں کُوں

 (۳)

     اہلِ سیاست کے متذکرہ بالا منفی رویّے پر مزید روشنی سید ضامن جعفری ؔکی طنزیہ نظم ’’تحریکِ بحالی جمہوریت‘‘ سے پڑتی ہے۔ اس نظم میں سید ضامن جعفری نے سیاست دانوں کے نعروں اور بڑے بڑے پُرشکوہ الفاظ کی تہہ میں چھپے ہوئے مذموم ارادوں کو بے نقاب کیا ہے۔

     جمہوریت، انقلاب، عوام کی خدمت، وطن کی حفاظت، حب الوطنی جیسے پرکشش الفاظ اور نعرے سیاست دانوں کے یہاں محض ڈرامہ بازی کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔ گویا سیاست دان کے ظاہروباطن میں اور قول وفعل میں مکمل تضاد پایا جاتا ہے۔ اسی تضاد کو سید ضامن جعفری نے اپنی متذکرہ بالا نظم میں سامنے لایا ہے اور اہل سیاست پر طنز کی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔

وہ کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت بحال کرو

مراد یہ کہ ہمارا بھی کچھ خیال کرو

یہ کیا کہ ملک کو بس تم ہی پائمال کرو

اب اقتدار ہمیں دو تم انتقال کرو

اسیرِ حبِ وطن کل تھے اور نہ آج ہیں ہم

حریصِ دولت دنیا و تخت و تاج ہیں ہم

(۴)

     سیاست دانوں میں اگرچہ جاہ طلبی، زرپرستی، اقتدار کا ہوس اور شہرت طلبی کا عنصر یقینا ہوتا ہے اسی بنا پر وہ ناقابل عمل دعوے اور وعدے بھی کرلیتے ہیں لیکن یہ بھی ناانصافی ہوگی کہ انھیں سوفیصد زرپرست، شہرت طلب ، جاہ طلب اور اقتدار کا بندہ قرار دیا جائے۔ یقینا ان میں بھی وطن، قوم، ملک، عوام کی خدمت کا جذبہ تو ضرور ہوتا ہے جیسے نگاہ تحسین سے دیکھنا چاہیے۔ طنز نگار شعراء نے سیاست دانوں کی محض بے اعتدالیوں کو نشانۂ تمسخر بنانے کی سعی کی ہے ان کی مثبت باتوں اور قابلِ تحسین رویّوں کو بیان نہیں کیا۔ شاید ظرافت نگاروں نے مثبت نکات کو بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ علاوہ ازیں طنزیہ و مزاحیہ شاعری کا مقصد ہی سیاسی، سماجی ، معاشرتی بے اعتدالیوں کو نشانۂ طنز بنانا ہے لہٰذا یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ظرافت نگاروں نے اپنے فنی فریضے کو نبھایا ہے۔ سیاست دانوں کے منفی رویّوں پر طنز کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ان کے یہاں مثبت رویّے موجود ہی نہیں یا وہ سوفیصد بے اعتدالی کا شکار ہیں ۔

۲۔ اخلاقی و تہذیبی بے اعتدالیاں

      جب سے اس خطۂ ارض میں استعماری سرگرمیاں شروع ہوئیں تب سے وضعِ مشرق اور مشرقی اقدار دونوں دھیرے دھیرے دیوار سے لگنے لگے۔ ۱۸۵۷ء اس کا نقطۂ آغاز تھا اور مسلمانوں کا نقطۂ زوال۔ ۱۹۴۷ء میں الگ وطن تو حاصل کیا گیا مگر اپنی تہذیب اور اخلاق اقدار کا احیاء نہ ہوسکا۔ ساٹھ کی دہائی تک آتے آتے سماجی سطح پر تہذیب اور اخلاقی قدروں کی پامالی کا جو نقشہ ابھرا اس کی ایک جھلک درج ذیل اشعار میں ملاحظہ کیجیے۔

چاند رات آئے تو سب دیکھیں ہلالِ دید کو

اک ہمارا ہی نصیبہ ہڈیاں تڑوا گیا

چھت پہ ہم تھے ’’چاند‘‘ کے نظارے میں کھوئے ہوئے

بس اچانک ’’چاند‘‘ کا ابّا وہاں پر آ گیا

(۵)

     اخلاقی زوال دراصل سماج کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی معاشی بدحالی، تہذیبی زوال اور معاشرتی پستی کی عکاسی کرتا ہے۔ سماج کا مجموعی ڈھانچا جب توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتا ہے تو اخلاقی زوال اپنی رفتار تیز کردیتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال ساٹھ کی دہائی کے سماج میں بھی نظر آتی ہے۔ چوری چکاری، بھتہ خوری، ہمسائیوں کے اخلاق و تہذیبی حقوق کی پامالی سبھی برائیاں نشانۂ طنز و تضحیک قرار پاتی ہیں ۔

یارب دلِ جیدیؔ میں اک زندہ تمنا دے

تو خواب کے پیاسے کو تعبیر کا دریا دے

اس بار مکاں بدلوں تو ایسی پڑوسن دے

’’جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے‘‘

 (۶)

صاحب زادے کیا کرتے ہیں ؟ لڑکی والوں نے پوچھا

’’جب دیکھو فارغ پھرتے ہیں یا پیتے تمباکو ہیں ‘‘

لڑکے کی اماں یہ بولیں ’’کام کرے اس کی جوتی‘‘

’’دو بھائی بھتہ لیتے ہیں ابّا خیر سے ڈاکو ہیں ‘‘

 (۷)

     اخلاقی زوال کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ قیام پاکستان کے بعد یہاں مغربی اور بیرونی دنیا کے افکار و خیالات ہر سطح پر درآمد کیے جانے لگے۔ ادبی، سماجی، فکری معاشی ہر سطح پر بیرونی خیالات کو ترقی کا زینہ سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ساٹھ اور ستر کی دہائیاں ایک طرح کی قیل و قال اور ردّوقبول کی دہائیاں شمار ہوتی ہیں ۔ تہذیبی و اخلاقی سطح پر بھی بیرونی طرز معاشرت اور میل جول کے انداز و اطوار کو مقامی اقدار وروایات پر فوقیت حاصل ہوتی گئی جسے باعث ایک نقصان تو یہ ہوا کہ یہاں کی نوجوان نسل خصوصی طور پر اپنی تہذیبی و اخلاقی اقدار سے روزبروز ناآشنا ہوتی چلی گئی اور دوسرا نقصان یہ ہوا کہ یہ نسل بیرونی اقدار و خیالات پر بھی کمالِ دسترس حاصل نہ کرپائی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔ یہی صورت تہذیب و کلچر، زبان، اخلاقی اقدار اور تعلیم سبھی میدانوں میں نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے درج ذیل اشعار نہایت فکر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ بھرپور طنز بھی رکھتے ہیں ۔

مشرقی اخلاق سے انگریز انساں بن گئے

اور ہمیں تعلیمِ مغرب نے کرنٹا کر دیا

سوکھ کر افلاس سے مزدور کانٹا بن گیا

اور دولت مند کو دولت نے سنڈھا کر دیا

پڑھنے انگریزی گئے اپنی زبان بھی بھُل گئے

انڈین نیشن کو اس گٹ مٹ نے گنگا کر دیا

کل تلک زینت تھیں گھر کی آج سڑکوں کی بہار

مولوی جی کو بھی ان ِمسوں نے رانجھا کردیا

( ۸)

۳۔ مہنگائی اور چوربازاری

 اس دور میں اشیائے خور ونو ش کی قیمتوں میں اضافے اور مزدور کی اجرت میں کمی کے باعث عام آدمی مہنگائی کے زیر بار نظر آتا ہے۔ شعراء نے مہنگائی اور اس سے متعلق دیگر امور کو اپنیظریفانہ تخلیقات کا حصہ بنالیا۔ مثلاً چونچاؔل سیالکوٹی کی ایک ظریفانہ نظم ملاحظہ کیجیے جس کا عنوان ہے ’’رنگِ تغزل‘‘۔

فاقہ مستی، کثرتِ اولاد، بیکاری و قرض

کیا زمانہ تھا جب ان چیزوں کی سپلائی نہ تھی

ایک لیلیٰ تھی کہ اس کو بھی نہ حاصل کرسکا

قیس کے وقتوں میں اس درجہ تو مہنگائی نہ تھی

(۹)

     مہنگائی اور اس سے جڑے ہوئے دیگر معاملات کو جس خوبی کے ساتھ اکبر ؔلاہوری نے نشانۂ طنز بنایا ہے اس سے اس دور کی گرانیٔ اشیاء کا احوال بخوبی معلوم ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں عوام الناس کیمعاشرتی و اجتماعی زندگی کے بڑے مسائل ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔

تلاشِ گندم کو گھر سے نکلے گا قافلہ، مورِ ناتواں کا

پلٹ کے آیا تو سب کے پہلو میں اک دلِ داغدار ہوگا

پلٹ کے آیا تو سب کے پہلو میں اک دلِ داغدار ہوگا

چڑھے گی قیمت وہ جوتیوں کی نہ کوئی ان تک پہنچ سکے گا

’’برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگا‘‘

نہ پوچھو اکبر کا کچھ ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی

یہیں کہیں چوک میں کھڑا قیمتوں کا شکوہ گزار ہوگا

 (۱۰)

      عوام الناس کے لیے مہنگائی اور گرانیٔ اشیاء موت کے پیغام سے کچھ کم نہیں ۔ عام آدمی کی زندگی تب رواں رہ سکتی ہے جب اسے روزمرہ استعمال کی اشیاء  ان کی حسبِ استطاعت قیمت پر میسر آتی رہیں ۔ اگر ایسا نہ ہو تو یا تو انکی موت واقع ہو جاتی ہے یا پھر جینے کے لیے وہ ایسے راستوں پر چل نکلتا ہے جو مذہبی، قانونی، سماجی اور عقلی لحاظ سے ممنوع ہوتے ہیں ۔ ظریفؔ جبل پوری نے تو مہنگائی کو ایک شعر میں ’’بم ‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔مزاح نگار شعراء  کی نظریں عام عوامی مسائل پر بالخصوص ان سماجی برائیوں پر مرکوز رہیں جو اپنے عہد میں چار سو پھیلی ہوئی تھیں ۔

بے لڑے جان دیئے جاتے ہیں اب تو ہم لوگ

لائے کیا تاک کے بم پھینکا ہے مہنگائی کا

 (۱۱)

     روزمرہ اشیاء کی قیمتیں عوام کی پہنچ اور استطاعت سے کہیں بالاتر ہونے کے باعث بڑی مشکلات درپیش تھیں ۔ عوام دُکانوں تک تو خریداری کے غرض وامید سے پہنچتی ہے مگر قیمتیں سن کر اوسان خطا ہوجاتے ہیں ۔

ہم بدقت پئے خریداری

جب کسی کی دکان پر پہنچے

یوں لگا سن کر قیمتِ اشیاء

جس طرح آسمان پر پہنچے

 (۱۲)

     مہنگائی کا ایک فائدہ عوامی سطح پر یہ ضرور ہوا کہ عوام الناس میں کفایت شعاری کی عادت بحالت مجبوری پیدا ہوئی۔ چادر دیکھ کر پاؤں  پھیلانے کی سوچ پختہ تر ہونے کے امکانات زیادہ پیدا ہوئے۔ گویا کہ عوام الناس کی عقلیں گرانیٔ اشیاء نے درست کردیں ۔ ظریف جبل پوری نے اس حوالے سے اپنے طنز و تضحیک کے نشتر چلاتے ہوئے کیا خوب لکھا۔

عقلیں درست ہو گئیں مہنگائی کے سبب

سب بیوقوف جنگ میں چالاک ہو گئے

(۱۳)

گرانیٔ اشیاء کے باعث شعبۂ طب سے تعلق رکھنے والے حضرات یعنی ڈاکٹروں نے بھی اپنے علم ومہارت کو انسانیت کی فلاح و بہبودکا وسیلہ سمجھنے سے زیادہ ذریعۂ معاش بنانا شروع کیا۔ مریض کے علاج سے زیادہ فیس کی شرح پر توجہ مرکوز کر دی۔ آزادیٔ اظہار سے عوام اس دہائی میں ایسے بھی محروم تھی، اب طبیبوں کے شکنجے میں بھی بری طرح پھنس گئی۔ اس حوالے سے یہ قطعہ قابلِ توجہ ہے جسکا عنوان ہے ’’مریض کا مال‘‘

ڈاکٹر پہلے بھی تھے آج بھی ہیں

فرق لیکن ہوا ہے یہ فی الحال

ان کا مقصود تھا مرض کا علاج

ان کے پیش نظر مریض کا مال

 (۱۴)

۴۔ رشوت ستانی

     رشوت خوری اور رشوت ستانی ایسی معاشرتی و معاشی برائی ایشیا میں زیادہ اور برصغیر پاک و ہند میں زیادہ نظر آتی ہے۔ پاکستان اپنے آغاز ہی سے اس برائی سے اپنا دامن نہ بچا سکا۔یہ ایسی برائی ہے جس کے برے اثرات افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم اور معاشرے کو ایک ایسے عذاب میں ڈال دیتی ہے جس سے نکلنے کے لیے قوم اور لیڈروں کو بڑ ی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں عسکری قیادت کے زور بازو اور بعض سخت احکامات و تعزیرات کے باوجود پاکستانی سماج میں اس برائی کی بھرپور طور پر روک تھام نہ ہوسکی۔ دراصل یہ سماجی برائی اسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب اسکی پیدائش اور فروغ کے اسباب کا خاتمہ کیا جائے بصورت دیگر تمام اقدامات و احکامات کے باوجود رشوت ستانی کا سلسلہ جاری رہا ہے اور رہے گا۔ پاکستانی ظرافت نگار شعراء نے اس برائی کو نشانۂ طنز و تضحیک بناتے ہوئے اپنے فنی فریضے کو نبھانے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل اشعار قابلِ مطالعہ ہیں ۔

جب تلک رشوت نہ لیں ہم، دال گل سکتی نہیں

ناؤ تنخواہوں کی تو پانی پہ چل سکتی نہیں

علتِ رشوت کو اس دنیا سے رخصت کیجیے

ورنہ رشوت لینے کی دھڑلے اجازت دیجیے

(۱۵)

      محبوب عزمیؔ نے نہایت بلیغ اور اثر انگیز پیرائے میں علامہ اقبال کی معروف نظم ’’شکوہ‘‘ کی پیروڈی کرتے ہوئے’’رشوت خوری‘‘ جیسی موذی معاشرتی و معاشی بیماری کو نشانۂ تضحیک بنایا اور اس موذی بیماری کے دائرہ ٔ اثر میں آنے والے تمام لوگوں کی نشاندہی بھی کر ڈالی۔

آگیا گر کہیں دفتر میں کوئی بندہ نواز

ہوسِ زر میں گرفتار ہوئی قومِ حجاز

نہ کہیں رُول رہا اور نہ قانوں کا جواز

پستی عملے کی گئی اور گیا حاکم کا فراز

’’بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے‘‘

آئے رشوت کی جو زد میں تو سبھی ایک ہوئے

(۱۶)

      رشوت خوروں کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ انھیں عوام رشوت دیتی ہے تو لینا پڑتی ہے۔ اگر عوام رشوت ہی نہ دے تو بقول رشوت خوروں کے انھیں رشوت لینے کا شوق نہیں ہوتا۔ لیکن اس صورت حال کے برعکس غریب عوام اپنے کام نکلوانے اور زندگی گزارنے کے لیے اکثر و بیشتر رشوت دینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ بغیر رشوت دیے اسے اپنا حق ملتا نہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ رشوت لینا جہاں فعل قبیح ہے وہاں دینا بھی مذموم ہے یہ دونوں صورتیں سماج میں ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہیں ۔

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم

آکے دیتے ہیں جو احباب تو مجبور ہیں ہم

کام دولت سے نکلتے ہیں تو معذور ہیں ہم

مردِ میدان ہیں ہر داؤ سے معمور ہیں ہم

خوگرِ جرم تو دیتے ہیں دغا بھی سن لے

بَل پہ دولت کے ہے راشی کی وفا بھی سن لے

 (۱۷)

۵۔ افسروں کی چاپلوسی اور خوشامد

     چاپلوسی اور خوشامد وہ معاشرتی برائی ہے جو رشوت خوری کی مانند تمام عہدہ داروں میں (خواہ وہ جس نوعیت کا بھی ہو) برابر پائی جاتی ہے۔ نفسیاتی اعتبارسے دیکھا جائے توخوشامد اور چاپلوسی وہ کمزوری ہے جو کسی شخصیت کے اندر تعمیری خلا کے باعث وجود میں آتی ہے۔ اپنے ماتحتوں سے اپنی جھوٹی تعریف کروا کر عہدہ دار اپنے اس تعمیری خلا کو پر کرنا یا چھپانا چاہتا ہے۔ جس اسے شدت سے احساس ہوتا رہتا ہے۔ اسکی ایک وجہ عہدہ دار کی بے لیاقتی اور نا اہلی بھی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ماتحت افراد عہدہ دار کو مزید بے لیاقت بنائے دیتے ہیں اور اسے ’’مکھن‘‘ لگا کر ’’احمقوں کی جنت‘‘ میں پہنچا دیتے ہیں ۔

مکھن تو حماقت کی غذا ہے ہی سراسر

ملتا ہے مگر اہلِ خرد ہی کو یہ اکثر

یا پھر ہو بڑا سیٹھ کوئی یا کوئی افسر

ممدوح جو بھولے ہیں تو عیار ہے مکھن

مکھن ہے بڑی چیز جہاں تگ و دو میں

( ۱۸)

     سرکاری ونجی اداروں اور دفتروں میں اعلیٰ عہدیداروں سے اپنے کام نکلوانے کے لیے چاپلوسی کو وسیلہ بنانا بھی ایک معاشرتی ااور اخلاقی برائی ہے۔ یہ برائی اپنی تاثیر اور حدود دونوں لحاظ سے مسلسل پھیلتی جاتی ہے۔ قومی و ملکی ترقی کی راہ میں یہ برائی ایک غیر معمولی برائی ہے۔ اسی برائی کے سبب دفتروں اور اداروں میں محض ان لوگوں کی آؤ بھگت ہوتی ہے جو باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر کام کے وقت کسی نہ کسی بہانے سے غیر حاضر رہتے ہیں ۔ مسٹر دہلوی نے اس برائی کو نشانۂ تضحیک بنایا ہے۔

ہر شخص بڑوں کو تو یہ دے چھوٹوں سے یہ مانگے

چھوٹا اسے اپنے سے بھی ’’چھَٹ بھیّوں ‘‘ سے مانگے

افسر یہ منسٹر کو دے، ماتحتوں سے مانگے

ماتحت اسے بیوی سے اور بچوں سے مانگے

ہے لطف کہ مکھن کا طلب گار ہے مکھن

مکھن ہے بڑی چیز جہاں تگ و دو میں

 (۱۹)

۶۔ غربت اور بے روزگاری

     مملکتِ عزیزپاکستان کو اپنے آغازِ قیام ہی سے معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ غربت کا آسیب ابھی تک برابر ساتھ چلا آرہا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں غربت کا آسیب حالات و تغیرات کے باعث مزید قوی تر ہونے لگا۔ عوام دو وقت کی روٹی کے لیے شدید جسمانی مشقت کرنے پر مجبور ہو گئی۔ ایک طرف غربت کا یہ عالم کہ دو وقت کی روٹی بمشکل میسر آتی تھی تو دوسری طرف سیاسی عدم استحکام تھا جو استحکام کی جانب رواں ہی نہیں ہوتا۔ ایسے میں غریب عوام سڑکوں پر ریڑھی لگا کر گزراوقات کرنے پر مجبور تھی۔ عمومی طور پر صفائی کانظام بھی قابل تعریف نہیں تھا لہٰذا ریڑھیوں پر بیچی جانے والی اشیائے خوردونوش استعمال کرنے کے باعث بیماریاں بھی مسلسل پھیلتی جارہی تھیں ۔ گویا ریڑھی بان غربت کے مارے موت بیچ رہے تھے۔ اس حوالے سے نذیر احمد شیخؔ کی ظریفانہ نظم ’’خیالی پلاؤ‘‘ سے دو شعر ملاحظہ کیجیے۔

سڑک پر جو بیٹھے ’’پُلا‘‘ بیچتے ہیں

اسے بس بزورِ صدا بیچتے ہیں

اَلا بیچتے ہیں بلا بیچتے ہیں

چھپی موت کو برملا بیچتے ہیں

 (۲۰)

     متذکرہ بالا اشعار میں عوامی معاشرتی زندگی میں نظر آنے والی قباحتوں اور بے اعتدالیوں کو نشانۂ طنز و تمسخر بنایا گیا ہے۔ جہاں تک خواص اور ثروت مند طبقے اور حکمرانوں کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک غربت، تنگدستی اور مہنگائی جیسے موضوعات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی عوام کو جس نوعیت کی غربت کا سامنا کرنا پڑا اس کا اظہار درج ذیل شعر میں بخوبی ہوا ہے۔

آج دو نان جس کے گھر میں ہوں

ہاتھ میں دو جہان رکھتا ہے

 (۲۱)

۷۔            بجلی کا بحران

     ایک طرف گرانیٔ اشیا کے باعث روزمرہ زندگی کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی تھیں تو دوسری طرف بجلی جیسی بنیادی سہولت پوری طرح فراہم کرنا بھی حکومتِ وقت کے لیے آسان کام نہ تھا۔ ۱۹۵۸ء، میں مارشل لاء  لگا تو ایک نعرہ یہ لگایا گیا کہ ملک اب صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ اس نعرے کو ۱۹۵۸ء کی عسکری حکومت نے بھی اپنے مقاصد کے لییاستعمال کیا اور ان کے بعد والی عسکری قیادت نے بھی، مگر بجلی کا بحران جوں کا توں رہا۔ بجلی کا یہ بحران بھی بنیادی طور پر عام آدمی کے لیے بجلی کا بحران بے اثر ثابت ہوتا رہا۔ عام آدمی بجلی کے بحران کی زد میں رہا۔ اس حوالے سے چچا غلام رسول کی ایک نظم ’’بجلی اور مچھر‘‘ مزاحیہ پہلو کی حامل بھی ہے اور عام آدمی کے حوالے سے بحران کے اثر کو بھی واضح کرتی ہے۔

کیا بتائیں واپڈا کا کتنا اچھا ہے نظام

آندھی ہو لاہور میں ڈنگہ میں پڑ جاتی ہے شام

رات کی تاریکی میں اکثر چلی جاتی ہے یہ

ڈانگ لے کر جاتے ہیں تو تب کہیں آتی ہے یہ

بل کسی صورت ہزاروں سے نہ نیچے آئے گا

دھوپ میں ہو کر کھڑا صارف جمع کروائے گا

(۲۲)

     مندرجہ بالا سطور سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ساٹھ کی دہائی کی پاکستانی اردو ظریفانہ شاعری اپنے موضوعات کے اعتبار سے یہاں کی معاشرتی زندگی کے مسائل،انتظامی بے اعتدالیوں ،سیاسی ناہمواریوں اور اخلاقی رویوں میں پائی جانے والی ان بے اعتدالیوں کاپردہ چاک کرتی ہے جن پرعموما سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جاتی رہی ہے ۔ ظرافت نگار شعراء نے ان حالات کے نتیجے میں سماج میں نظر آنے والی بے اعتدالیوں کو فنکارانہ طور پر دیکھا۔ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظرافت نگاروں نے طنز ومزاح کے مختلف اسالیب اور طریقوں کو اپنایا۔ عمومی سطح پر نظر آنے والی مضحکہ خیز صورتوں پر طنز کے نشتر چلائے۔اس دور کی پاکستانی اردو ظریفانہ شاعری اپنے موضوعات کے اعتبار سے جہاں ملک کی سماجی،اخلاقی،تہذیبی اور سیاسی بے اعتدالیوں ،ناہمواریوں ،نادانیوں اورکجیوں کو نشانۂ طنز و تضحیک بناتی ہے وہاں اہلِ حل و عقد اور اربابِ دانش و بینش کی ذمہ داریوں اور ان کی کارکردگی کی جانب بھی توجہ مبذول کراتی ہے۔ عوام الناس کو درپیش مسائل کا پتا دینے کے ساتھ ساتھ عومی نمائیندوں کی بے حسی،سہل انگاری اورلاپرواہی کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔

     متذکرہ بالا سیاسی واقعات و حوادث ،فکاہی اشعار اور ُان کے موضوعات کی روشنی میں درج ذیل نتائج سامنے آجاتے ہیں :

۱۔  نوزائیدہ مملکت کے ابتدائی تیرہ(۱۳) سال سیاسی اعتبار سے نہایت کٹھن، ناہموار،دگرگون، صبر آزما ، ہمت طلب اور حوصلہ شکن تھے ۔            ان تمام ناہمواریوں اور مسائل کے باوجودمملکت ِ عزیزنے اللہ کی مدد،بعض مخلص سیاسی رہنمائوں کی انتھک کوششوں ، عوام کے جذبہ     آزادی و قربانی اور قوت برداشت اور عسکری قوت کی ہمراہی میں آزادی کا سفر جاری رکھا۔

۲۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہاں کی نئی سیاسی،سماجی،معاشی ،تہذیبی اورثقافتی فضا اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نت نئے مسائل و       رجحانات پر مشتمل اردو کی فکاہی شاعری کے ایک نئے دورکا آغاز ہوا ۔(۲۳)

۳۔ زمانی لحاظ سے یہ دورپاکستانی اردو فکاہی شاعری کا ابتدائی دورجبکہ موضوعاتی رنگا رنگی کے اعتبار سے اردو شعری ظرافت کا ایک نیاباب             کہلایا جا سکتا ہے۔

۴۔ اس دور کی پاکستانی اردو فکاہی شاعری نے اپنے عہد کی سیاسی سطح پر پیدا ہونے والی بے اعتدالیوں اور ناہمواریوں سے نہ صرف چشم پوشی            نہیں کی بلکہ بڑے تیکھے اور کاٹ دار لب و لہجے میں انھیں اپنا موضوع بنایا۔

۵۔ بالعموم اہلِ سیاست کے کم و بیش ہر مکارانہ رویے اور ہر مفاد پرستانہ روش کو نشانہ طنز و تضحیک بنالیا ہے۔

۶۔ سیاسی اتار چڑھائو اور بے اعتدالی کو بے نقاب کرتے ہوئے فنِ شعر و ظرافت کے تخلیقی تقاضوں کو بھی خوب نبھایا ہے اوراس کے اسلوب         کی نشتریت کو بھی فنکارانہ انداز میں بروئے کار لایا ہے۔

حوالہ جات

۱۔   سرفراز شاہد، اردو کی مزاحیہ شاعری، اکادمی ادبیات اسلام آباد،پاکستان، اشاعت دوم ۲۰۰۷ء، ص ۱۴

۲۔ مسٹر دہلوی، عطر فتنہ، ناشر:مشتاق احمد چاندنا، کراچی، ۱۹۷۳ء، ص ۱۸

۳۔ عینک فریمی،’’ مرغ نامہ ‘‘ مشمولہ: گلہائے تبسم، مرتبہ: ڈاکٹر انعام الحق جاوید، دوست پبلی کیشنز،اسلام آباد، ۲۰۰۹ء، ص ۳۲۱

۴۔ سید ضامن جعفری،’’ تحریک بحالی ٔ جمہوریت‘‘، مشمولہ: گلہائے تبسم، مرتبہ: ڈاکٹر انعام الحق جاوید، دوست پبلی کیشنز اسلام آباد،     ۲۰۰۹ء، ص ۲۲۷

۵۔ اطہر شاہ خاں ،بحوالہ: گلہائے تبسم، دوست پبلی کیشنز اسلام آباد، ۲۰۰۹ء، ص ۴۷

۶۔ ایضاً، ص ۴۸

۷۔             ایضاً، ص ۴۷

۸۔ غلام جیلانی برق، ڈاکٹر، بحوالہ: انعام الحق جاوید، ڈاکٹر، گلہائے تبسم، مرتبہ: انعام الحق جاوید، ڈاکٹر،دوست پبلی کیشنز،

      اسلام آباد، ۲۰۰۹ء، ص ۱۶۷

۹۔ چونچال سیالکوٹی، بحوالہ :اردو کی مزاحیہ شاعری، مرتبہ: سرفراز شاہد، ادکامی ادبیات اسلام آباد،پاکستان، اشاعت دوم ۲۰۰۷ء، ص ۱۰۸

۱۰۔            اکبر لاہوری، موجِ تبسم، میاں میر روڈ ڈاک خانہ، مغل پورہ، لاہور، ۱۹۷۵ء، ص ۷۱

۱۱۔             ظریف جبل پوری، نشاطِ تماشا، بہادر آباد، کراچی، ۱۹۸۹ء، ص ۳۷

۱۲۔             رئیس امروہوی، قطعات ِرئیس امروہوی، رئیس اکیڈمی کراچی، ۱۹۸۴ء، ص ۱۷

۱۳۔            ظریف جبل پوری، نشاطِ تماشا، بہادر آباد، کراچی ۱۹۸۹ء، ص ۳۵

۱۴۔            رئیس امروہوی، قطعات رئیس امروہوی،ناشر: رئیس اکیڈمی کراچی، ۱۹۸۴ء، ص ۵۵

۱۵۔            جوش ملیح آبادی،’’ رشوت‘‘ مشمولہ: گلہائے تبسم، مرتبہ: انعام الحق جاوید، ڈاکٹر، دوست پبلی کیشنز اسلام آباد، ۲۰۰۹ء، ص ۱۰۰

۱۶۔             محبوب عزمی، بحوالہ :اردو کی مزاحیہ شاعری،مرتبہ:سرفراز شاہد، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد ، اشاعت دوم ۲۰۰۷ء،

      ص ۱۸۰

۱۷۔            ایضا، ص ۱۸۱

۱۸۔            ایضا، ص ۴۰

۱۹۔             مسٹر دہلوی، عطر فتنہ ، ناشر: مشتاق احمد چاندنا، کراچی، ۱۹۷۳ء، ص ۴۰

۲۰۔           شیخ ، نذیر احمد، واہ رہے شیخ نذیر، مرتبہ: سرفراز شاہد ، دوست پبلی کیشنز ،اسلام آباد، ص ۴۰

۲۱۔             ایضا، ص ۳۸

۲۲۔            غلام رسول، چچی چاچے کی پٹاری، روداد پبلی کیشنز اسلام آباد، ۲۰۰۳ء، ص ۲۰

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر جابر حسین

لیکچرار،اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلبائ،F-10\4اسلام آباد

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.