آپ بیتیوں میں مافوق الفطرت عناصروعوامل     (ایک مطالعہ

Abstract:

Supernatural are events or things that have been claimed to exist but can’t be explained by the laws of nature or science.It include things characteristic of or relating to ghosts, gods, witches or other types of spirits and non material beings that orginate from otherworldly forces. Mythology has played a pivotal role in presenting human psychology & social scenario which is deep rooted in human civilization and people maintain a skeptical attitude and belief. Autobiography is the most significant genre of literature in which the writer shares his experiences and observations of life in a creative style.Moreover we can see the social quest, etiquette, attitude,and religious believes of a nation in autobiography. The fabulous writers have expressed their individual fear and discussed a large variety of mythological references in their autobiographies.In this article,the elements of fantasy have been brought into light with textual examples presented in the autobiographies of eminent writers.

      کسی انسان کی زندگی کے تجربات ومشاہدات ،محسوسات ونظریات اور عقاید کا [۱]خود اسی کے قلم سے بالارادہ اور حتیٰ الامکان حد تک مربوط بیان[۲] آپ بیتی کہلاتاہے۔بچپن سے لے کر جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک اس پر جو کچھ بیتا ،مشاہدہ کیا، شعوری اور ارادی طور پر تجربہ کیا، وہ اسے آپ بیتی کے ذریعے دوسروں تک پہنچاتا ہے ۔ہر شخص کی زندگی کے حالات و واقعات دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں ۔حیات و کائنات اور معاملات زیست سے متعلق ہر انسان کے افکار و نظریات بھی مختلف ہوتے ہیں جن کی بنیاد اس کے حالات زندگی،تعلیم و تربیت اور ماحول پر ہوتی ہے۔آپ بیتی کسی انسان کی شخصیت و کردار کے ساتھ ساتھ اس کے سماج کی آئینہ دار ہوتی ہے کہ اس میں ایک مخصوص دور میں لوگوں کی زبان ،کھانے پینے ،رہائش و زیبائش،رسوم و رواج ،عقاید و اوہام ،ادب آداب اور مشاغل کا بیان بھی ملتاہے ۔آج تاریخ کے سماجی اور ثقافتی پہلوئوں پر بہت زور دیا جارہا ہے اور اس بات کی کھوج کی جارہی ہے کہ ایک مخصوص دور میں لوگوں کے کھیل کود،اعتقادات و عبادات ،کھانے پینے، خوشی اور غم منانے اور تعلیم وتربیت وغیرہ کے انداز کیسے تھے ۔لہٰذا مختلف علاقائی منطقوں اور ادوار سے تعلق رکھنے والے ادباکی آپ بیتیوں کا مطالعہ اس تلاش و جستجو میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔

      بر صغیر پاک و ہند مخلوط النسل لوگوں کا وطن رہا ہے جو مختلف مذاہب،روایات اور زبان کے حامل تھے۔۱۵۰۰ق م سے ۱۶۰۰ ق م کے دوران یہاں آریاآئے جواپنی ایک مستقل ثقافت اور تہذیب کے علمبردار تھے اورانھوں نے اس خطّے کی تہذیب پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ وادیٔ سندھ،ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی قدیم تہذیبوں کی آویزش نے بھی اس خطے کو متاثر کیا۔پھر ۷۱۲ء؁ میں محمد بن قاسم کی آمد نے یہاں کی تہذیب و ثقافت پر اسلامی اثرات ڈالے۔خود مسلمان جو تہذیب اور ثقافت لے کر یہاں وارد ہوئے تھے وہ مشرق وسطیٰ،اسپین، شام، ایران وغیرہ کے تہذیبی ملغوبے کا آمیزہ تھی جس کے نقوش ہندوستان کے مختلف تہذیبی اور تمدنی مظاہر میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں ۔دراصل تہذیب کوئی میکانکی عمل ہے نہ الہامی،اس کا تعلق افراد معاشرہ اور سماج کے باہمی تعامل سے ہوتا ہے جو مسلسل ارتقا،تغیر و تبدل اور عروج و زوال سے ہمکنار ہوتا رہتا ہے،اس لیے تہذیب کی تشکیل میں ان تاریخی ،سماجی،سیاسی،مذہبی اور جغرافیائی عوامل و محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاتاہم تہذیب کی بنیادکسی بھی قوم کے بنیادی مذہبی عقاید ہی ہوتے ہیں ۔مذہب اور تہذیب دو الگ الگ چیزیں ہیں مگر دنیا کی کوئی بھی تہذیب ایسی نہیں ہے جو مذہبی اعتقادات کے کسی نہ کسی سلسلے پر مبنی نہ ہو۔ہندوستانی تہذیب میں مافوق الفطرت اور لاشعوری مظاہر جیسے خوابوں کی تعبیر،اچھے اور برے شگون،بھوت پریت،ہاتھوں کی لکیروں اور ستاروں کی گردش سے قسمت کا حال معلوم کرنا،جنم پتریاں بنوانا وغیرہ بھی کسی نہ کسی حد تک شامل ہیں ۔جوگیوں ،سادھوئوں اور فقیروں کا احترام کیا جا تا ہے اور ان کی بددعااور ناراضگی کو نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے ۔اسی طرح پرانے اشجار اور بعض جانوروں اور پرندوں کے حوالے سے توہم پرستی اورمافوق الفطرت عناصر پر یقین و اعتقاد بھی یہاں کی تہذیب میں کسی نہ کسی حد تک موجود رہا ہے۔قرۃ العین حیدر’’کار جہاں دراز ہے‘‘میں ’’اجنہ قدیم و جدید‘‘کے عنوان سے اپنے دور کے جن اوہام کا ذکر کرتی ہیں ان میں غدر میں ہلاک ہونے والے فرنگیوں کی روحیں ،جو کبھی کبھارآدھی رات کو انگریزی قبرستان کے پاس سے گزرتے راہ گیر سے مکھن چینی کی فرمائش کرتے ملتی ہیں ،سنسان میدانوں میں گھوڑا دوڑاتے سر کٹے شہسوار،جھٹپٹے کے وقت کھیتوں میں آواز دیتے دیوتا،انسانوں کے بھیس میں علماسے قرآن پڑھنے آنے والے جنوں کے بچے ،یہ جن جو مٹھائی کے شوقین ،ہڈیوں پر گزر بسر کرنے والے،دراز قد ہیں اور پلکیں نہیں جھپکتے،زندگی میں برے اعمال کرنے والی یا زچگی کے دوران مر جانے والی عورتیں جو چڑیلیں بن کر پیپل پر ڈیرہ ڈالے رہتی ہیں ،یہ پچھل پائیاں بن جاتی ہیں اور ناک میں بولتی ہیں ،کالی بلی اور ناگ کے بارے میں پراسرار باتیں ،ایام غدرمیں لوٹ مار کے ڈر سے زمین میں دفن کیے گئے خزانے جن پر سانپ بٹھائے گئے اور ان خزانوں کے مالک مر گئے،اب یہ لاوارث خزانوں کی ہانڈیاں زمین کے اندر سرکتی رہتی ہیں جن سے چھن چھن کی آواز آتی ہے،ان خزانوں کو نکالنا خطرے کا کام ہے کہ لکشمی ان خزانوں کے لیے ایک جان کی قربانی مانگتی ہے ،پرانی حویلیوں اور فرنگیوں کی ویران کوٹھیوں میں بسنے والے آسیبوں کی کہانیاں وغیرہ شامل ہیں جن پر لوگ پختہ یقین رکھتے ہیں ۔[۳]

     ہندوستانی تہذیب میں ناگ اور خاص طو ر پر شیش ناگ کے بارے میں عوام کے اندر طرح طرح کی روایات پائی جاتی ہیں اور اسے ناگ دیوتا پکارا جاتاہے جو انھیں نقصان نہیں پہنچاتا ۔بعض قبائل میں سانپوں کی پوجا کی جاتی ہے اور اسے مارنا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ ناگ زیر زمین مدفون خزانوں کی حفاظت کرتے ہیں جسے مایا کہتے ہیں ۔عام طور پر بزرگ خواتین گھروں میں ان کا نام نہیں لیتیں کیونکہ یہ اپنا نام سن کر باہر نکل آتے ہیں ۔مختلف ادبانے سانپوں اور ناگوں کے بارے میں اپنے مشاہدات وتجربات اور اپنے بزرگوں سے شنیدہ واقعات بیان کیے ہیں جن سے ہندوستانی تہذیب میں ناگوں کے بارے میں مختلف نظریات کا پتہ چلتاہے۔قرۃ العین حیدرکے اکلوتے ماموں میر مصطفیٰ باقرکی قبر پر ان کے پھوپھی زاد بھائی میر افضل علی فاتحہ پڑھنے تانگے پرگئے ۔وہاں نہ صرف ناگ پھنی کی جھاڑیاں ہیں بلکہ ناگ بھی ہے جو مجاوروں کے بقول میروں کی ان قبروں کا رکھوالا ہے:

’’افضل علی نے آہستہ سے کہا ’’میاں کی قبر کے آس پاس ناگ پھنی کی جھاڑیاں ہیں ۔‘‘’’باجی جان۔ایک ناگ سرسراتا ہوا آیا اور تانگہ کے پائیدان سے سر پٹکنے لگا ۔نامعقول مجاور کھیسیں نکال کر بولا ۔اجی حضت ،یہ تو قبروں کا رکھوالا ہے ،ایک روپیہ دے جائیے ،اسے دودھ کھلائیں گے ۔‘‘انعام اللہ شاہ نے کہا۔‘‘[۴]

     تقسیم کے بہت عرصے بعد  قرۃ العین حیدرہندوستان گئیں اور اپنے گھر’’نشیمن‘‘کو دیکھنے علی گڑھ گئیں تو انھیں آم کے باغ میں موجود ناگ کے بارے میں جو کچھ بتایا گیاوہ ہندوستانی عوام کے ہزاروں سالہ عقائد کی عکاسی کرتاہے:

’’ہم اندر گئے،گھنے درخت ،اوپر سے کہرا۔کسی نے آواز دی ’’میر صاحب !اس طرف نہ جائیے گا،وہاں ایک کھوہ ہے،اس میں ایک سو سال پرانا ناگ رہتا ہے۔‘‘۔۔۔۔۔ہم نے پو چھا ،’’آپ لوگوں کو اس ناگ سے ڈر نہیں لگتا؟‘‘بولے،’’جی نہیں میر صاحب!یہ شیش ناگ تو ہماری رکھوالی کرتا ہے ۔اماوس کی رات میں کھوہ سے نکل کراپنا من باہر چھوڑ دیتا ہے ۔وہ پڑا ہیرے کی طرح چمکتا رہتاہے،کوئی قسمت والااسے اٹھا لے تو اٹھا لے۔ہمارے ہندو مالی ناگ پنچمی کے روز اس کے بل کے سامنے،دودھ کے کٹورے رکھ دیتے ہیں ۔‘‘[۵]

     انتظار حسین کے مطابق ان کے نانا کی بہن ان کے ہاں ہی رہتی تھیں جنھیں وہ سب گھر والے آیا اماّں کہتے تھے ۔ آیااماّں کے کمرے میں ایک بخاری تھی جو ہمیشہ بند رہتی تھی اور آیا اماّں کہتی تھیں کہ اس میں بیچا رہتی ہے ۔اسی طرح ان کے گھر میں دالان کے اندر ایک اندھیری کوٹھری تھی جس میں آیا اماّں کے بقول زمین والا(ناگ) رہتا تھا ۔یہ زمین والا ان کے گھر کا پرانا باسی تھا ۔ وہ انھیں کبھی نظر تو نہیں آیا البتہ کسی کسی دن ان کے گرد آلود فرش پر بل کھاتی لکیر سی نظر آتی تھی اور ایک دفعہ اس کی کینچلی بھی ملی تھی ۔کبھی کبھا ر رات کو کوٹھری سے پھنکار کی سی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی جس پر آیا اماّں انتظار حسین کی والدہ کو ہدایت کرتیں کہ کٹوری میں نمک ملا دودھ ملا کر رکھ دو ،اسے سکون آجائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ ’’زمین والا نمک کا بہت پاس کرتا ہے۔‘‘آیا اماّں ہی نے انھیں یہ بھی بتایا تھاکہ پاتا ل میں سانپوں کے بادشاہ راجہ باسٹھ کی حکومت تھی کہ کسی سانپ نے ایک برہمن کو ڈس لیا جس سے فوراََ اس کی موت ہوگئی ۔اس پر برہمن کی بیوی بہت روئی اور اپنے پتی کی لاش کو کمر پر لاد کر پاتال میں اتری اور ناگ محل کی ڈیوڑھی پر دھرنا دے کر بیٹھ گئی اورناگ راجہ کے سامنے انصاف کی دہائی دی ۔راجہ باسٹھ نے فوراََاس سنپولیے کو طلب کیا اور اسے حکم دیا کہ تونے برہمن کو ڈسا ہے،اب اس کا زہر چوس ۔پس اس سنپولیے نے آن کی آن میں سارا زہر چوس لیا اور برہمن ٹھیک ٹھاک ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔ آیا اماّں ناگ یا سانپ کا نام نہیں لیتی تھیں اور بچوں سے کہتی تھیں کہ اس کا نام نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس کے کان ہمیشہ کھڑے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اس کا نام آہستہ سے بھی لے ،وہ سن لیتا ہے اور باہر نکل آتا ہے۔اس لیے وہ اسے ’’زمین والا ‘‘کہتی تھیں ۔آیااماں کو اندھیری کوٹھری سے کبھی کبھی چھناکے کی سی آواز سنائی دیتی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اشرفیوں کی دیگ چھن چھن کرتی ہے اور ساتھ میں آواز لگاتی ہے کہ ’’بیٹا دے دے ،مایا لے لے‘‘اس پر وہ اسے دفع دور کرتیں اور وہ دیگ زمین کے اندر چھن چھن کرتی دور چلی جاتی ۔آیا اماّں کے مطابق یہ غدر کے دنوں میں دبائے گئے خزانے تھے جن کے مالک انھیں دیگچیوں اور دیگوں میں بند کر کے اپنی جانیں بچا کر نکل گئے تھے ۔مگر یہ خزانے زمین میں اندر ہی اندر حرکت کرتے رہتے ہیں اورجس رات آیا اماّں کواس کی چھن چھن کی آواز سنائی دیتی وہ اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتیں کیونکہ ان کاماننا تھا کہ اگر اس کی بات سن لی جائے تو بیٹے کی جان کو خطرہ ہوتا ہے کہ مایا جان مانگتی ہے ،لہذا وہ قل شریف پڑھتیں اور صبح اٹھ کر نماز کے فوراََبعد اپنے بیٹے زمرد پر سے پانچ سکوّں کا صدقہ اتار کر فقیر کو دیتیں ۔انتظار حسین کے مطابق تقسیم کے بعد وہ مکان کسی ہندو نے خرید لیا تھا اور جب اس نے اس کی تعمیر نو کے لیے توڑ پھوڑ کی تو کھدائی کے دوران سونے کی اینٹیں نکلیں مگر کچھ ہی عرصے میں اس شخص کے اہل خانہ میں سے کسی جوان کی موت بھی ہوگئی۔[۶]میرزا ادیب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جب ان کے مکان کی اندر والی کوٹھڑی میں ان کی والدہ نے سانپ کی کینچلی دیکھی تو ان کی دادی نے انھیں حکم دیا کہ وہ ہر روز دودھ کا ایک پیالہ کوٹھڑی میں سانپ کے لیے رکھ دیاکریں ۔جب میرزا ادیب نے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ سانپ ویسے تو انسان کا دشمن ہے مگر جب اس سے اچھا سلوک کیا جائے تو وہ اس کا دوست بن جاتا ہے ۔میرزا ادیب کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ نے ان کی دادی کی ہدایت کے بموجب مطابق مٹی کے ایک پیالے میں پائو بھر دودھ بھر کر کوٹھڑی میں رکھ دیا ۔اگلی صبح وہ پیالہ خالی ملا اور ان کی والدہ کا ماننا تھا کہ سانپ دودھ پی گیاتھا ۔[۷] ناگوں کا خوبصورت عورتوں کے روپ میں ظاہر ہونا بھی ایک قدیم تصور ہے جس کو چینی تہذیب میں بھی مانا جاتا ہے۔قرۃالعین کی والدہ انھیں اپنے دادامیر مظہر علی کے ،جو ملتان میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تھے،متعلق ایک مشہور واقعہ سنایا کرتی تھیں :

ــ’’ایک بارپرگنے کا دورہ کرتے ڈاک بنگلے پرواپس آئے ۔منظر،موسم گرم،چاندنی رات ،ڈاک بنگلے کے سبزے پر پلنگ،سفید براک مچھر دانی،برابر میں آرام کرسی،دو عدد مونڈھے ،اسٹول پر صراحی اور گلاس۔میر صاحب کا گھوڑ ااصطبل میں آرام کر رہا ہے۔پلنگ پر نیم دراز میر صاحب پیچوان کا کش لگاتے ہیں ۔بندوق سرہانے رکھی ہے۔چھن چھن چھن ۔ایک حسینہ نمودار ہوتی ہے۔اٹھلاتی ہوئی آکر مونڈھے پر بیٹھ جاتی ہے۔ادائے دلبری سے حقہ کی نے میر صاحب سے لے کر کش لگاتی ہے۔میر صاحب دل میں ،’’ہو نہ ہو یہ کنجری کسی وڈیرے نے بھیجی ہے۔لاحول ولا قوۃ(بآواز بلند)چپڑاسی ،چپڑاسی،بندوق کی طرف ہاتھ بڑھا یا۔بندوق دیکھ کر پر اسرار حسینہ کا رنگ فک،فوراًاٹھ کر اٹھلاتی ہوئی ڈاک بنگلے کی سمت چلی اور غسل خانے کی موری میں داخل ہونا شروع ہوئی ۔آخر میں فقط ناگ کی دم باقی رہ گئی اور وہ بھی غائب۔‘‘[۸]

     اپنی والدہ سے سنے گئے اس قصے پر قرۃ العین حیدر کا تبصرہ قابل غور ہے:

’’اندرونی دنیائوں کی ایک ہیبت ناک جھلک کیا میر مظہر علی نے دیکھی ؟نوہ کے ماسک۔قدیم اساطیر تنترک علامتیں ۔کچھ لوگوں نے سر اتنے بلند کیے کہ شیشہ ٹوٹ گیا۔اور آپ کے پاس کیا ثبو ت ہے کہ میر علی کے ساتھ یہ واقعہ نہیں گزرا۔‘‘[۹]

     جوش ملیح آبادی نے ’’یادوں کی برات ‘‘میں ’’میرے زمانے کے اوہام‘‘ کے عنوان سے ان فوق الفطرت عناصر کو بیان کیا ہے جن پر اس زمانے کی خواتین کا اعتقاد تھااور کچھ واقعات بھی بیان کیے ہیں جوان کے خاندان کی عورتوں کے خود ساختہ یا شنیدہ واقعات کے پرداختہ مختلف قسم کے خوف کی عکاسی کرتے ہیں ۔جوش ؔکے دادامیاں کا محل جس کا نام ’’بڑا محل‘‘ تھا ،میں جوشؔ کے خاندان کی خواتین کوآدھی رات کے وقت ۱۸۵۷ء؁ کے مقتول شہیدوں کی ارواح دکھائی اور سنائی دیتی تھیں ۔ ایک دن صبح سویرے ایک لونڈی نے ان کی دادی کو بتایا کہ رات بارہ بجے صحن میں اسے ایک چڑیل دکھائی دی اورقریب تھا کہ وہ اسے کھا جاتی یا خوف سے اس کا دم ہی نکل جاتا کہ اچانک سبز عمامے اور لال جریب والے شہید مرد نے اس چڑیل کو بھگا دیا۔اس پر جوشؔ کی دادی نے بتایا کہ سہ دری والے یہ شہید مرد اس محل میں بہت سے لوگوں کی جانیں اسی طرح بچا چکے ہیں اور ساتھ ہی لونڈی کو ہدایت کی کہ آج ان کی نیاز دلا دو اور ان کا طاق بھر دو۔انھوں نے مزید بتایا کہ جب وہ اس محل میں بیاہ کر آئیں تھیں تو محل کے کوٹھے سے رات کو الف رائی،الف رائی(لیفٹ رائٹ،لیفٹ رائٹ)کی آوازیں آتی تھیں اور جب ان کے سپاہی جا کر دیکھتے تھے تو کوئی نظر نہ آتا تھا۔ان کے بقول یہ ۱۸۵۷ء؁ کے مقتول گوروں کی روحیں تھیں ۔اسی طرح ایک بار جوشؔ نے خود دیکھا کہ ان کے امام باڑے میں محرم کی نویں تاریخ کو چراغاں تھا کہ گھر کی ایک لونڈی نے صحن سے چھت کی طرف دیکھ کر چیخنا اور چلانا شروع کر دیا اور عورتوں کے پوچھنے پر بتایا کہ ایک بھتنی اوپر سے جھک جھک کر تعزیہ کو دیکھ رہی ہے اور جب اس نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو اس بھتنی نے کہا کہ وہ بھی زیارت کرنے آئی ہے۔ [۱۰]جوشؔ اپنی دادی کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’دادی جان کا یہ ایک بندھا ٹکا اصول تھا کہ وہ ہر رات کو سوتے وقت بلا ناغہ کچھ پڑھ کر اور دور دور تک حصار کھینچ کر تین بار تالی بجایا کرتی تھیں ۔‘‘[۱۱]

     اللہ کی مخلوقات بے شمار ہیں اورجنوں کا وجود تو قرآن سے بھی ثابت ہے۔اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں آسیب وغیرہ پر اعتقاد بھی پایا جاتا ہے۔ایسی فوق الفطرت چیزوں کے بارے میں کچھ مشاہدات اور تجربات کبھی نہ کبھی ہر انسان کی زندگی میں ہوجاتے ہیں ۔احسان دانش ؔنے بھی ’’جہان دانشؔ‘‘ میں چند ایسے مشاہدات اور تجربات بیان کیے ہیں ۔جیسے ایک بار وہ اپنے دوست شجاعت کے ساتھ رات کے وقت کیرانہ سے واپس آ رہے تھے توانھیں ایک عجیب وغریب واقعہ پیش آیا :

’’سڑک سے ذرا پرے ایک اونچے درخت کی چوٹی سے کوئی بھاری چیز پتوں اور شاخوں میں کھڑ بھڑ کھڑ بھڑ کرتی دھم سے زمین پرآرہی جیسے کوئی اناج کی بھری بوری پھینک دے۔میں نے شجاعت سے کہا ۔’’یہ کیا ہے؟‘‘

شجاعت:کچھ بھی ہو بس یہاں سے چل دو۔‘‘

میں :’’چلیں گے تو سہی مگر یہ معاملہ تو کھلے کہ یہ ہے کیا؟‘‘

شجاعت:’’یہی بات ہے توآئو اٹھو ۔‘‘

ہم دونوں لٹھ تانے اس کی طرف بڑھے،جب قریب پہنچے تو تقریباََدس فٹ کے فاصلے سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز ہے جو کمہار کے چاک جیسی تیزی سے ایک محور پر گھوم رہی ہے اور رفتار کے باعث اس کی ساخت اور خد وخال معلوم نہیں ہوتے ۔ہم وہیں رک گئے اور برابر نظریں گاڑے دیکھتے رہے ۔وہ ہمارے دیکھتے دیکھتے گم ہونے لگی اور رفتہ رفتہ غائب ہوگئی،جیسے ایک بگولا چکرا کر گم ہو جائے۔ہم دونوں   دھڑکتے ہوئے دلوں سے واپس ہوئے ۔اب ہمارا یہ عالم تھا کہ اگر پتابھی کھڑکتا تو شبہ ہوتا تھا کہ وہی بلا تعاقب کر رہی ہے۔‘‘[۱۲]

     ایک بار احسان دانشؔ اپنے کسی دوست کے ساتھ رات کو گنگیرو کے راستے کیرانہ سے کاندھلہ آرہے تھے کہ جنگل میں راستہ بھول گئے۔ہر طرف کھیت ہی کھیت تھے اور یہ دونوں اندازے سے چلتے جارہے تھے کہ اچانک آدھ فرلانگ کے فاصلے پر انھیں آگ جلتی ہوئی دکھائی دی۔یہ اس آگ کی سیدھ میں چلنے لگے،جب کوئی پون گھنٹے چلتے رہے تو آگ بجھ گئی اور اندھیرا چھا گیا۔دو لمحوں بعدبائیں طرف ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر پھر وہی آگ نظر آئی تو یہ اس کی طرف چلنے لگے ۔تیس چالیس منٹ تک چلتے رہے مگر آگ کا فاصلہ کم نہ ہوا تو انھوں نے تنگ آکر وہ راستہ چھوڑدیا۔اب دیکھا تو آگ نظر نہ آئی ۔یہ چلتے رہے،اتنے میں دس فٹ کے فاصلے پر ایک قد آدم شعلہ نمودار ہوا اور لمحہ بھر میں غائب ہو گیا ،یہ خوف زدہ ہو کر چلتے رہے،پھر پندرہ بیس فٹ کے فاصلے پر وہ شعلہ نمودار ہوا اور ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ جیسے انھیں بھٹکانا چاہتا ہو۔اس شعلے کی روشنی ان کے سامنے دس بارہ فٹ کے فاصلے پر رہی اور رات بھراگیا بیتال کا یہ کھیل جاری رہا اورکوئی تین بجے کے قریب یہ لوگ صحیح سڑک پر پہنچے۔ [۱۳]

     ہندوستانی معاشرے میں یہ خیال عام ہے کہ چھوٹے بچے کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے،خاص طور پر کھلے آسمان کے نیچے کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ کوئی اور مخلوق اسے دیکھ لے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرے ۔اس طرح بچے پر کسی دوسری مخلوق کا سایہ ہو سکتا ہے،بچہ کسی سمجھ میں نہ آنے والی بیماری کا شکار ہو سکتا ہے یا پھر غائب بھی ہو سکتا ہے۔احسان دانش نے ایک ایسا ہی واقعہ بیان کیا ہے جو ان کے دوست ڈاکٹر قمر میرٹھی نے انھیں سنایاتھا۔ڈاکٹر قمر میرٹھی کے مطابق ان کے داد اکو اللہ نے بڑی منتوں اور مرادوں کے بعد ادھیڑ عمر میں ایک بیٹا دیا تھا،جب وہ بچہ چھ ماہ کا ہوا تو اسے اکیلا پا کرکوئی جن پنگھوڑے سے اٹھا کر لے گیا اور اسی عمر کا ایک اور بچہ (جو غالباََ جن تھا)ڈال گیاجسے ان کے محلے کے امام مسجد حافظ فہیم الدین صاحب نے قبرستان میں گڑھا کھود کر زندہ گاڑ دیا اور کہا:

’’تمہاراحسین اور تندرست بچہ اکیلا پڑا ہوا تھا ۔کسی جن کا گزر ہوا تو وہ اسے اٹھا کر رفو چکر ہو گیا اور پنگھوڑے میں کوئی اور غیر انسانی مخلوق کا بچہ ڈال گیا۔یہ انسانوں میں ہر گز نہ پلتا اور آئے دن نہ جانے کس کس کو نقصان پہنچتا۔اس کی وجہ سے گھر میں جنات کی آمد و رفت شروع ہو جاتی اور محلہ بھر تنگ ہوتا ۔اس کا یہی علاج تھا جو میں نے کیا۔‘‘[۱۴]

     بعض جن بہت شرارتی ہوتے ہیں اور اپنی حرکتوں سے انسانوں کو پریشان کرتے ہیں اور انھیں خوف زدہ کرنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ خاص طور پررات کے وقت مسافروں اور راہ گیروں کو تنگ کرتے ہیں ،انھیں کبھی آسیب قرار دیاجاتاہے اور کبھی بھوت۔انتظار حسین’’چراغوں کو دھواں ‘‘میں لئیق تانگے والے کا قصہ بیان کرتے ہیں جس کا ایک بھتنے سے مچیٹا ہوگیاتھا :

’’صاب جی ایک بیر کیا ہوا کہ میرا بھتنے سے مچیٹا ہو گیا۔میں نے اسے ٹکر ماری پر اس پر ذرا جو اس کا اثر ہو۔پھر میں نے اس کو کولھی بھر کے دے پٹکا۔پر وہ نیچے گرنے کی بجائے اور اوپر اٹھ گیا ۔پھر میں سمجھ گیا ،اے لئیق تو کس سے بھڑ گیا ،یہ تو بھتنا ہے۔جی رات بھر اس سے کشتم کشتا ہوتی رہی ۔مجھ میں ان دنوں کس بل بہت تھا، بس ڈرتا رہا ۔جب پو پھٹی تو میں نے دیکھا کہ اس کی طاقت گھٹ رہی ہے ۔بس میں اسے پٹخی دینے لگا تھا کہ کہ وہ پیچھے ہٹ گیا ۔کہا کہ اب کل کی رہی ،آجائیو،میں نے کہا آجائوں گا۔‘‘[۱۵]

     پس اگلے دن وقت مقررہ پر بھتنا بھی پہنچ گیا اور لئیق بھی۔لئیق اپنے جسم پر خوب تیل مل کر گیا تھا ۔اس رات مقابلے کے بعد بھتنے نے ہار مان لی اور فیصلہ ہوا کہ وہ اس جگہ سے تیس میل دور چلا جائے اور یوں بستی والوں نے اس کی شرارتوں سے سکھ کا سانس لیا۔اس کے تھوڑے ہی دنوں بعد کا واقعہ ہے کہ لئیق کی بستی کے کچھ لوگ سفر میں تھے کہ رات ہو گئی اور اوپر سے شدید بارش شروع ہو گئی ،ایسے میں انھوں نے ایک پیڑ کے نیچے پناہ لی۔اتفاق سے وہ پیڑ بستی سے تیس میل دور تھا اور اس پر اسی بھتنے کا بسیرا تھا ۔یہ لوگ سخت بھوکے تھے،بھتنے نے ان کے لیے کھانے کی دیگ مہیا کی اوران سب نے خوب پیٹ بھر کر کھایا اور انہیں چلتے وقت کہا:

’’جب چلنے لگا تو بولا کہ تم لئیق کا جانتے ہو ۔کہا کہ ہاں جانتے ہیں ۔اچھا تو پہلوان کو میری سلامالیکم دے دینا۔انھوں نے آکر مجھ سے کہا کہ لے بھئی جانے وہ کون بلا تھا ،تجھے جانتا تھا ،تجھے سلاما لیکم بھجوائی ہے۔میں نے کہا کہ سامنے برجی پر رکھ دو۔بس جی فوراََ ہی برجی چٹخ گئی۔لئیق رکا ،پھر بولا ’’بس جی مجھے عقل آگئی ۔سلاما لیکم لے لیتا تو میں چٹخ جاتا ۔اس نے سلاما لیکم میں جادو لپیٹ کے بھیجا تھا۔‘‘[۱۶]

     ایک دن لئیق کو آدھی رات کے وقت سڑک پر ایک بانکی سجیلی عورت کے روپ میں ایک چڑیل بھی ملی تھی۔انتظار حسین نے یہ واقعہ بھی لئیق کی زبانی سنایا ہے:

’’مگر تانگے میں بٹھانے لگا تو نظر اس کے پیروں پر گئی ،یہ تو پچھل پیری ہے۔میں نے آئو دیکھا نہ تائو ،بڑھ کے جھٹ اس کے سر کا ایک بال توڑ لیا ،بس جی وہ تو میرے پیروں پر گر پڑی۔پچھل پیری کا بال توڑ لو اور زمین میں گاڑ دو،پھر وہ تمہاری لونڈی ہے۔میں نے یہی کیا ،کچھ دنوں اس کے ساتھ خوب مزے کیے ،جب دل بھر گیا اور اس نے بہت منت سماجت کی تو میں نے زمین سے کھود کے بال نکالااور اس کے حوالے کیا ۔بس فوراََ ہی رفو چکر ہو گئی۔‘‘[۱۷]

     لئیق کی گفتگو ہمارے معاشرے کے لوگوں کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔رات کے وقت بھتنے یا پچھل پیری سے سامنا ہونا ،پچھل پیری کے سر کا بال اپنے قبضے میں لے کر اسے اپنے تابع کرنا وغیرہ یہاں کے لوگوں کے اعتقاد میں شامل ہے۔ جنوں میں بھی کچھ مسلمان ہوتے ہیں جو نماز وغیرہ پڑھتے ہیں اور ایسے جن عموماََ نیک ہوتے ہیں اور انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔تاہم کبھی کبھار اپنی حرکتوں سے اپنے ہونے کااحساس دلاتے ہیں ۔قرۃ العین حیدر لکھتی ہیں :

’’یہاں محلہ لانکڑی والاں میں میر مہدی علی کے آبائی مکان کے زینے پر ایک جن کا قیام تھا ۔جب کبھی میر صاحب پنجاب سے آکر اس مکان میں ٹکتے وہ پابند صوم وصلوٰۃبندئہ آتشیں فجر کے وقت زینے پر سے للکارتا ’’مہدی علی اٹھو نماز پڑھو۔‘‘اکبری بیگم کو جس وقت یہ قصہ سنایاگیا ،وہ اسی مکان کے صحن میں کھاٹ پر بیٹھی تھیں ،جھنجھلا کر بولیں ۔’’دھرا تھا جن۔‘‘لو بوا فوراََ ان کے کان کا بالا کسی نے نوچ لیا ،کیا دیکھتی ہیں سامنے کھونٹی پر لٹک رہا ہے۔‘‘[۱۸]

      یہ جن شرارتیں کرتے ہیں اور بچوں کو رلاتے ہیں ۔قرۃ العین حیدر نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ رقم کیا ہے جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ مراد آباداپنے ماموں حسنین کے ہاں گئیں ۔کسی بات پر ان کی والدہ نے انھیں ڈانٹا اور انھوں نے رونا شروع کر دیا توان کی نانی نے اسے اپنے آنگن میں لگے نیم پر مقیم بھتنے کی کارستانی قرار دیا:

’’حسنین ماموں کی انگنائی پر نیم کا درخت سایہ فگن تھا ۔آل زہرا نانی نے ہونٹ پچکا کر چھٹوا سے کہا ،’’بس نیم پر کے بھتنے کو معلوم ہوگیا کہ آگئیں ہیں ۔‘‘میں نے فوراََرونا ملتوی کر کے دلچسپی سے پوچھا ،’’کون سا بھتنا ؟‘‘نانی نے تجاہل عارفانہ سے میری سنی ان سنی کر کے چھٹوا سے گفتگو جاری رکھی ۔’’جب ذرا سی تھیں اور یہاں آتی تھیں ،نگوڑے کو فوراََ معلوم ہو جاتا تھا ۔ادھر اس نے ڈال پربیٹھے بیٹھے انگلی دکھلائی ادھر انھوں نے رونا شروع کیا۔اب پھر بیٹھا انگلی دکھلا رہا ہے۔‘‘میں فی الفور باہر گئی اور درخت کو غور سے دیکھا ۔بھتنا نظر نہ آیا مگر اس کے وجود پر یقین کامل تھا ۔ضرور رہتا ہوگا اور آج بھی آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ بھتنا نیم پر موجود نہیں ۔‘‘ [۱۹]

      عوام میں یہ خیال بھی پایاجاتاہے کہ جو عورت زچگی کے دوران مر جاتی ہے یا تو وہ چڑیل بن جاتی ہے یا پھر اس کی روح بھٹکتی رہتی ہے۔اسی طرح جس لڑکی کی شادی ہونے والی ہو،اسے مایوں بٹھایا گیا ہو،اسے ابٹن یامہندی لگی ہو،اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور عام طور پر اسے کھلے آسمان کے نیچے اکیلا نہیں جانے دیاجاتاکیونکہ اس سے کسی جن وغیرہ کے عاشق ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔قرۃالعین حیدر کی پرنانی اشرف جہاں بیگم کی پانچ بہنیں تھیں ،ان کے علاوہ ایک بہن اور تھی جو مرنے کے بعد چڑیل بن گئی تھی۔اس بارے میں قرۃ العین حیدرلکھتی ہیں :

’’ان پانچوں کی ایک بہن سیدو بھی تھی کہ ان کی اماں ممتوعہ تھیں ۔باندی گلشن نام تھا ،مر کے چڑیل ہو گئی تھیں ۔اکثر بھری دوپہر میں صحن کے اندر بڑے کمرے میں کود آتی تھیں ۔کبھی پیپل کی شاخ پر بیٹھی نظر آتی تھیں ۔اب عرصے سے غائب ہیں ۔پانچوں بہنوں میں جانی بیگم کنواری جوان مر گئیں ۔کھانا پکا رہی تھیں ،کپڑوں میں آگ لگ گئی ۔ان کے نام کا جوڑا کنبے میں ہر لڑکی کے جہیز سے نکال کر کسی مستحق غریب لڑکی کو دیا جاتا ہے۔دوسری بہن عمدہ بیگم پر جن کا سایہ ہو گیا ۔بیاہ کے روز جب ان کو مایوں کی کوٹھڑی سے باہر لایا جا رہا تھا ،عین اس وقت وہ نامعقول جن ایک سانپ کی صورت میں نمودار ہوا اور کوٹھڑی کی دہلیز پر کنڈلی مار کے بیٹھ گیا ۔بارات واپس گئی،عمدہ بیگم اس کوٹھڑی سے نہ نکل پائیں ۔ساری عمر نماز روزہ میں گزار دی ۔آج تک وہ جن آ س پاس موجود رہتا ہے۔۔۔۔۔مراد آباد میں قلعے کی مسجد جنات کا خاص مسکن ہے۔روز رات کو وہاں تہجد پڑھتے ہیں ۔نہایت شستہ اردو بولتے ہیں اور قیاس ہے کہ شیعہ ہیں ۔‘‘[۲۰]

     اشرف جہاں بیگم کے فرزند میر تفضل علی لاہور میں ایک میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے ۔انھیں یہ وہم ہو گیا تھا کہ دو جن ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔آخر وہ زمانہ طالب علمی میں ہی فوت ہوگئے جس کی پیشین گوئی انھوں نے پہلے ہی کر دی تھی کہ وہ جن اب انھیں اپنے ساتھ لے جانے والے ہیں جب ایک باروہ چھٹیوں میں گورداسپور آئے اور واپس لاہور جانے لگے تو پلیٹ فارم پر اپنی بھابی کو ان کے بارے میں بتایا:

’’ریلوے پلیٹ فارم پر اچانک بولے ،’’بھابی جان دیکھئے،دونوں آپہنچے،کہہ رہے ہیں اب ہم تین ہو جائیں گے۔‘‘لاہور کالج میں مردے کی چیڑ پھاڑ کر رہے تھے،نشتر کا زہر جسم میں سرایت کر گیا ،اللہ کو پیارے ہو گئے۔‘‘[۲۱]

     جنات میں سے جو مسلمان ہوتے ہیں وہ نہ صرف نیک فطرت اور عبادت گزار ہوتے ہیں بلکہ ان میں سے کچھ اولیائے اللہ سے عقیدت بھی رکھتے ہیں ۔وہ نہ صرف اولیائے کرام کے مزار ات پر حاضری دیتے ہیں بلکہ قوالی کا شوق بھی رکھتے ہیں ۔ایسا ہی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے شہرتؔ بخاری لکھتے ہیں کہ یوسف ظفر کو حضرت داتا گنج بخشؒ سے بے حد عقیدت تھی اور وہ جب بھی پنڈی سے لاہور آتے،سب سے پہلے داتا دربار پر حاضری دیتے تھے ۔ایک دفعہ وہ لاہور آئے تو را ت کے بارہ بج رہے تھے ۔وضو کر کے وہ شہرت ؔبخاری کے ہمراہ داتا دربار گئے اورفاتحہ پڑھنے میں مصروف ہوگئے ۔شہرت بخاری فاتحہ پڑھنے کے بعد مزار کے ایک جانب بیٹھ گئے ۔اتنے میں انہیں ایک بلی دکھائی دی جو دیکھنے میں تو بلی تھی مگر وہ عام بلیوں سے بہت مختلف تھی ۔تین فٹ لمبی اور دوفٹ اونچی اس بلی کو دیکھ کر شہر ت ؔبخاری خوفزدہ ہوگئے ۔اس بلی نے مزار کے گرد دو تین چکر لگائے اورجب شہرت ؔنے یوسف ظفرؔ کو اس بلی کے بارے میں بتا یا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ڈرنے کی بات نہیں ،یہاں ہر کوئی سلام کرنے آتا ہے ۔ [۲۲]بانو قدسیہ کو ایک بار طفیل نیازی نے ایک عجیب واقعہ سنایا جس کے مطابق جنوں کی ایک ٹولی درگا ہ پر ’’چوکی بھرنے ‘‘آئی تھی:

’’خان صاحب !میں اور میرا چھوٹا بھائی فقیریا ہمارے ساتھ طبلچی سازندے فیصل آباد کی درگاہ سے چوکی بھر کر آرہے تھے ۔ہمیں بس نہ ملی ۔شہر سے دور ایک اجاڑ جگہ میں دریاں ڈال کر لیٹ گئے ۔خاں صاحب !کوئی آدھی رات گزری ہوگی کہ جنوں کی ایک ٹولی وہاں اتری ۔‘‘۔۔۔’’ہاں تو سرکار وہ ٹولی بھی اس رات اسی درگاہ پر چوکی بھرنے آئی تھی جہاں ہم چوکی بھر کر آئے تھے ۔فقیریا کی آنکھ لگ گئی لیکن میں پتہ نہیں کیوں سو نہ سکا بلکہ چوری چوری انہیں دیکھتا رہا ۔تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے سلطان باہو کا کلام ایسی لہک سے گا نا شروع کیا کہ وجد طاری ہو گیا ۔۔۔پھر وہ فجر سے پہلے اٹھے ۔اپنے ساز سنبھالے اور چلنے لگے ۔ابھی دس بارہ قدم دور گئے ہوں گے کہ سارے غائب ۔باجا سارنگی ڈھولک طبلہ سمیت نہ کوئی نشان نہ کوئی اتہ پتہ نہ کوئی یاد گیری نہ کوئی نشانی ۔یہ تو میرا اپنا واقعہ ہے سرکار ،لوگ تومیلوں پر اور بھی عجیب و غریب باتیں بتاتے ہیں ۔‘‘[۲۳]

     بچے اپنے بڑوں سے جو کچھ سنتے ہیں اسے پلّو سے باندھ لیتے ہیں ۔بعض اوقات بڑے بھی بچوں کوڈرانے کے لیے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جنھیں وہ اپنے تخیل سے مزید پروان چڑھا لیتے ہیں ۔لہذا انتظار حسین بھی اپنے بچپن میں بھری دوپہروں میں گلیوں میں گشت کرتے(جس سے بڑوں نے منع کیا ہوا تھا )تو ان کے ساتھیوں میں سے کسی نہ کسی کو کوئی چڑیل نظر آجاتی تھی ۔ایک دفعہ کا واقعہ لکھتے ہیں :

’’دوپہریوں کے ہمارے ایک ساتھی منّے نے قسمیں کھا کھا کے بتایا کہ ادھر کربلا کے پیچھے جو پیپل ہے ،واں پہ چڑیل تھی ۔’’جھوٹ ،تجھے کیسے پتہ چلا کہ چڑیل ہے۔‘‘’’میں سمجھا کہ کوئی ڈوکریا ہے ۔پیروں کو جو دیکھا تو کیا دیکھوں ہوں کہ ایڑی آگے پنجے پیچھے۔ارے یہ تو چڑیل ہے ۔بس جی میں نے دوڑ لگا دی ۔خنخناتی ہوئی جانے کیا کہہ رہی تھی ۔میں نے تو بھیا مڑ کے دیکھا ہی نہیں ۔‘‘پھر تو ہمیں اعتبار کرنا پڑا ۔پھر خود ہمیں ایک خوف نے آلیا ۔بھاگو ۔کسی نے کہا اور ہم بھاگ کھڑے ہوئے۔‘‘[۲۴]

     ڈاکٹر سلیم اختر کی والدہ انہیں اپنے بچپن کے واقعات سناتے ہوئے جنوں کے بارے میں بتاتی تھیں کہ چاندنی رات میں وہ سب بچے جب کھیل رہے ہوتے تو انہیں احساس ہوتا کہ بچے بہت زیادہ ہیں ۔بعض انجانے بچے بھی ہوتے جو خوب مزے سے کھیلتے ۔جب وہ لوگ کھیل سے فارغ ہوتے تو وہ بچے ان کے ساتھ نہ ہوتے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ جنوں کے بچے ہوتے ہیں جو ان کے ساتھ کھیلنے آجاتے تھے ۔[۲۵]ڈاکٹر سلیم اختر کی والدہ نے انھیں ایک واقعے کے بارے میں بتایا :

’’میں اناج لینے کے لیے اندھیرے کمرے میں داخل ہوئی تو ایک بچہ سے جاٹکرائی ۔میں نے سمجھا کوئی بچہ شرارت کرنے اندر گھس آیا ہے ۔میں نے اسے بالوں سے پکڑاکہ اچانک وہ غائب!‘‘[۲۶]

     جنات کے بارے میں مشہور ہے کہ انھیں مٹھائی بہت پسند ہوتی ہے اور وہ رات گئے انسانوں کے روپ میں مٹھائی خریدتے ہیں ۔انتظار حسین کے قصبے میں مٹھن لال حلوائی کی گجیوں کی شہرت جنوں تک میں پھیلی ہوئی تھی اور وہ بھی رات کواس سے گجیاں خریدنے انسانی روپ میں آتے تھے :

’’ہاں مٹھن لال حلوائی کی دکان بارہ بجے رات تک کھلی رہتی مگر آخر بارہ بجے تک کیوں ۔اس سمے تک تو ساری بستی سو جاتی تھی ۔وہ اس وجہ سے کہ مٹھن لال کی گجیوں کی شہرت جنّات تک پہنچی ہوئی تھی ۔روزرات کے بارہ بجے ایک لمبا تڑنگا آدمی آتا ۔بڑا سا پگڑ ۔منہ پہ لمبی لمبی مونچھیں ۔نہ بولتا ،نہ بات کرتا ۔بس دو اشرفیاں اپنا بڑا سا ہاتھ بڑھا کر مٹھن لال کی مٹھی میں تھماتا اور ٹوکری میں گجیاں بھر کر لے جاتا ۔مٹھن لال شک میں کہ یہ کون شخص ہے ۔ایک روز چوک ہوگئی ۔’’مہا شے جی ،تمہارا نام کیا ہے ۔‘‘ادھر سے جواب میں تڑاخ سے ایک تھپڑ اور آدمی غائب۔مٹھن لال تین دن بخار میں پھنکتا رہا ۔مرتے مرتے بچا ۔‘‘[۲۷]

     انتظار حسین لکھتے ہیں کہ ان کی بستی میں لوگ رات کو جلدی سو جاتے تھے اور گلیاں سنسنان ہوتی تھیں جس سے لوگ باہر نکلتے ہوئے ڈرتے تھے ۔لکھتے ہیں :

’’ہماری آیا اماّں سنایا کرتی تھیں ’’ارے میا مجھے کیا پتہ تھا کہ مجلس اتنی دیر سے ختم ہوگی ۔لوٹتے لوٹتے بخت مارے بارہ بج گئے اور میں اکیلی ۔اے میا،میں اپنی گلی میں مڑنے لگی تھی کہ کسی نے مجھے پکارا۔میں اس کی خنخناتی آواز سے سمجھ گئی کہ یہ کمبخت کوئی بھتنا ہے ۔کئی مرتبہ مجھے پکارا ۔نہ مڑ کے دیکھا نہ جواب دیا ۔بس چپکے چپکے آیت الکرسی پڑھ پڑ ھ کے دائیں بائیں پھونکتی رہی ۔بس آیت الکرسی ختم ہوئی ہے اور وہ غائب۔‘‘[۲۸]

’’رات کو آنکھ کھل گئی ۔۔ٹین کی چھت پر پتھر گر رہے تھے ۔انہوں نے سمجھا پہاڑی علاقہ ہے ۔پہاڑی سے پتھر لڑھک لڑھک کر چھت پر گر رہے ہیں ۔سو گئے ۔پھر آنکھ کھل گئی ۔کئی دفعہ سوئے ،کئی دفعہ جاگے ۔نیند کچھ ٹھیک سے نہ آئی ۔صبح خالو نے پوچھا :’’رات نیند ٹھیک آئی ؟‘‘ ’’جی خوب سویا ۔‘‘اگلی رات آنکھ کھلی تو انسان کی شکل و صورت میں ایک لمبا سایہ چارہائی کے ساتھ لگا کھڑ اتھا اور چارپائی ہل رہی تھی ۔کچھ ڈرے ،کچھ سہمے ۔پسینہ آگیا ۔ساتھ اپنی عبادت گزاری پر بھروسا۔وہ سایہ ان کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا اور گلا دبانے لگا ۔انہوں نے آیت پر آیت پڑھنی شروع کر دی ۔جوں جوں پڑھتے جاتے ،اس کی گرفت ڈھیلی پڑتی جاتی ۔۔۔اگلے روز میاں عطا محیی الدین کے نو عمر صاحبزادے نے عشاء کی نماز کے بعد کچھ دیر حقہ گڑگڑایا ،پھر تھوڑی سی نیند لے کر آدھی رات کو اٹھ بیٹھے اورتسبیحاں پڑھنے لگے ۔تھک گئے تو بستر پر جا لیٹے مگر نیند نہ آئی ۔لالٹین کی بتی بھڑ بھڑ کر کے بجھ گئی ۔جیسے تیل ختم ہو گیاہو ۔ایک کونے میں سے ایک لمبا سا سایہ ابھرا جس کا قد چھت تک جاتاتھا۔وہ آہستہ آہستہ چارپائی کی طرف آیا ۔لمحہ بھر کھڑ ارہا ،پھر کونے کی طرف جا کر تحلیل ہوگیا ۔نوجوان نو عمر صاحبزادے بستر پر سے اٹھے ۔لالٹین جلائی جو تیل سے بھری ہوئی تھی۔خوف کا پسینہ پونچھ کر مصلے پر جا بیٹھے ۔آیتیں پڑھتے جاتے اور اس کونے کی طرف پھونکتے جاتے کہ دن نکل آیا ۔مہینہ بھر رہے ،پھر کچھ دکھائی نہ دیا۔‘‘[۲۹]

     شہرت ؔبخاری اپنے پرداداکے چھوٹے بھائی میر تقی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ وظیفوں کے بہت قائل تھے اور جنات کو تسخیر کرنا چاہتے تھے ۔ایک دفعہ ان کا واسطہ بھی ایک جن سے پڑا،مگر ان کے جلالی وظیفے نے اس جن کو جلا کر بھسم کر دیا تھا ۔ [۳۰] میر محمد تقی کے بیٹے جو شہرتؔ بخاری کے پھوپھا بھی تھے ،اپنے والد کے روحانی علوم کے وارث تھے۔وہ بھی وظائف پڑھا کرتے تھے کہ ایک رات وظیفہ پڑھتے ہوئے ان سے کچھ چوک ہوگئی جس سے انہیں بہت نقصان اٹھانا پڑا،جنات ان پر قابض ہوگئے اور پھر ان کے علاج کے لیے قلعہ گوجر سنگھ سے ایک شاہ صاحب کو بلا یا گیا جن کے دم اور تعویذوں کی برکت سے ان کے پھوپھاٹھیک ہوئے ،تاہم ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔[۳۱]شہرت ؔبخاری نے جب ہجویری محلے میں مکان کرایے پر لیا تو انہیں کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ مکان ٹھیک نہیں ہے اوروہاں عجیب و غریب واقعات رونماہوتے ہیں اور اس مکان میں رہنے والوں میں سے یا تو کوئی نہ کوئی مر جاتا ہے یا پھر اس کاکوئی نقصان ہو جا تا ہے ۔انہوں نے ان باتوں کو نظر انداز کر کے رہنا شروع کر دیا ۔شروع شروع میں انہیں رات کو عجیب وغریب آوازیں سنائی دینے لگیں ،پھر کبھی کبھار ایک بزرگ بھی دکھائی دیتے تھے جس سے پتہ چلا کہ وہ ایک نیک بزرگ کی روح تھی جو وہاں قیام پذیر تھی ۔[۳۲]ڈاکٹر آغاسہیل لکھتے ہیں کہ ان کے گھر کی چھت کے بارے میں ایک اوہام یہ تھا کہ وہاں ’’شہید مردوں ‘‘کا بسیرا تھا ۔ [۳۳]ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں کہ ان کی لدھیانہ والی مرحومہ والدہ کی چچیری بہنوں کی شملہ میں کوٹھیاں تھیں ۔ وہ زمانہ طالب علمی میں چھٹیاں گزارنے شملہ جاتے اور انہی کوٹھیوں میں قیام کرتے ۔ان کی خالہ کی کوٹھی کے قریب واقع ہائیڈویل نامی کوٹھی ’’بھاری ‘‘تھی جس میں کسی زمانے میں ایک انگریز پادری کا قتل ہوا تھااور اب کبھی کبھار اتوار کی رات اس کی روح آکر گھر کے دروازے پر دستک دیا کرتی تھی۔ایک بار یہ لوگ رات کو سو رہے تھے کہ کمرے کے باہر برآمدے میں لکڑی کے فرش پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی،پھر دروازے پر چھڑی سے دستک ہوئی اور دروازے کے پیچھے تیز روشنی بھی دکھائی دی جس میں سیاہ گائون اور ہیٹ میں ملبوس ایک شبیہ دکھائی دی۔ان کے دوست عزیز نے انگریزی میں کہا’’یس،یور ہائی نس!کم اِن کم اِن پلیز،آئی اوپن دی ڈور فار یو سر!کم اِن‘‘ مگر جب اس نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا تو وہ روشنی غائب ہو گئی۔[۳۴]ڈاکٹر وزیر آغا جب لاہور آئے تو متروکہ افلاک کی ملکیت ایک کوٹھی میں کرایے پر رہنے لگے جو کچھ پراسرار تھی ۔اس کوٹھی میں انہیں کچھ عجیب و غریب مسائل کا سامنا کرنا پڑ ا۔لکھتے ہیں  :

’’صاف محسوس ہوتا تھا کہ اس کوٹھی کے مکیں یہاں سے چلے جانے کے باوجود ابھی تک یہیں رہ رہے ہیں ۔ہم نے دو برس اس میں گزارے مگر سچی بات یہ ہے کہ مصیبتوں میں مبتلا ہو کر گزارے ۔گھر کے کسی بھی فرد کا مزاج نارمل نہ رہا ۔حتیٰ کہ ہمارے کتے بھی خوں خوار ہو گئے اور بلا وجہ بھونکنے اور راہ گیروں پر حملے کرنے لگے ۔گھر پر ایک گہری اداسی نے قبضہ جما لیا اور ہم بیمار رہنے لگے ۔میَنا تو بہت ہی بیمار ہوگئی ۔یہی حال سلیم اور اس کی ماں کا تھا۔میں بیمارتو نہ ہوا مگر جسمانی طور پر لڑکھڑاہٹ کا شکار ہوگیا۔انہیں دنوں ،ایک روز میں اور انور سدید چائے پی کر شیزان سے باہر نکلے تو سیڑھیوں پر کھڑے کھڑے ،میں اچانک نیچے گر پڑا اور میری پیشانی پر چوٹ آگئی۔انور سدیدمجھے ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹر نے میرے زخم کو سیا اور مجھے اینٹی ٹیٹنس کا ٹیکا لگا دیا ۔میری بیوی کا خیال تھا کہ کوٹھی منحوس ہے ،نیز یہ کہ اس میں ’’کچھ ‘‘ہے جو ہمارے سکون و قرار کو درہم برہم کر رہا ہے۔میں اس کی اس قسم کی باتوں کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھا مگر اتنا مجھے بھی محسوس ہو رہا تھا کہ ہم ویسے نہیں رہے جیسے اس کوٹھی میں آنے سے قبل تھے ۔‘‘[۳۵]

     بعض لوگ روحوں سے بات کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور مختلف طریقوں سے انھیں ’’حاضر‘‘کر کے ان سے سوالات کرتے ہیں ۔اس بارے میں مختلف لوگوں کے تجربات سے پتہ چلتاہے کہ انسانی ذہن بہت پیچیدہ واقع ہوا ہے اور وہ مختلف واقعات سے من پسند نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتاہے ۔جدید نفسیاتی علوم کے زیر اثر پیرا سائیکالوجی کی مختلف تکنیکوں کے استعمال سے اس ضمن میں تجربات کیے جارہے ہیں ۔اس بارے میں بات کرتے ہوئے جوشؔ لکھتے ہیں کہ فانیؔ بدایونی ’’پلان چٹ ‘‘کے روحیں بلایا کرتے تھے اور ان سے ہم کلام ہوتے تھے ،کچھ دن جوشؔ بھی ان کے ہمراہ،اس مشغلے میں شامل رہے۔’’پلان چٹ‘‘ کے بارے میں بتاتے ہیں :

’’پلان چٹ ،لکڑی کا ایک ’قلب صورت‘آلہ ہوتا ہے جس کے ایک طرف چھوٹے چھوٹے پہیے اور ایک طرف پنسل لگانے کا سوراخ ہوتا ہے اور جب کسی کی ’’روح‘‘بلانے کے واسطے ذہن پر زور ڈالاجاتا ہے تو وہ آلہ خود بخود معرض حرکت میں آجاتا اور کاغذ پر جوابات لکھنے لگتا۔‘‘[۳۶]

     فانیؔ بدایونی نے جوشؔ ،آزاد انصاری ،علی اختر اور مودودی وغیرہ کے سامنے اس پلان چٹ کے ذریعے غالب ؔ،فانی ؔ کی محبوبہ ایک طوائف،ڈاکٹر واگرے اور میر تقی میرؔ کی ارواح کو یکے بعد دیگرے بلاکر ان سے متعدد سوال کیے جن کے جوابات ان ارواح نے پلان چٹ پر لکھ کر دیا۔ایک مرتبہ مہاراجہ کشن پرشادؔ نے اپنے والد کی روح کو بلایا ۔اس بارے میں جوشؔ لکھتے ہیں :

’’ایک مرتبہ مہاراجہ کشن پرشاد نے مجھے اور فانیؔ کو پلان چٹ سمیت بلا کر یہ کہامیں نام نہیں بتائوں گا ،آپ میری ذات میں ڈوب کر میرے مطلوب بزرگ کو بلائیں ۔فانی ؔ نے کہایہ بڑی ٹیڑھی کھیر ہے ،جوشؔ صاحب آپ کی مشق اب مجھ سے بڑھ چکی ہے ،آپ ہی بلائیں ۔میں نے ذہن پر زور ڈالا اور’’ خلاف معمول‘‘تاخیر کے ساتھ آلے میں حرکت پیدا ہوئی۔مہاراجہ نے کہا میرا سلام کہہ دیجئے۔آلے نے لکھا ’’خوش باش‘‘اور مہا راجہ رونے لگے۔میں نے دریافت کیا کہ آپ رو کیوں پڑے۔انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ کی روح کو بلایا تھا اور اب میرے سوایہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ وہ میرے سلام کے جواب میں ہمیشہ’’خوش باش‘‘کہا کرتے تھے۔‘‘[۳۷]

     قرۃ العین حیدر نے بھی اس قسم کا تجربہ بیان کیا ہے۔جب ان کے پڑوسی ونگ کمانڈر فیاض محمود کی جواں سال بیٹی پپّا کو کسی جنونی لڑکے نے اسکول میں قتل کر دیا تھاجس پر سب افسردہ تھے۔ایسی حالت میں کسی نے پپّا کی روح بلانے کی تجویز دی تو پھر ان لوگوں نے مشاہیر کی روحوں کو بلا کر ان سے بات چیت کی:

’’چند روز بعد کسی بچے نے تجویزا کہ پپّا کی روح بلائی جائے۔ہم لوگ ڈرائنگ روم میں کیرم لے کر بیٹھے۔انگریزی حروف تہجی ایک دائرے میں رکھ کر درمیان میں گلاس الٹا رکھا گیا۔انگلیاں گلاس پر رکھ کر عاصم نے بڑی سنجیدگی سے کہا ۔’’جو نیک روح اس طرف سے گزر رہی ہو ،مہر بانی فرما کر پپّا مرحومہ کی روح کو بھیج دے۔گلاس گھومتے گھومتے بھاری سا ہوا اور تیزی سے چاروں طرف جانے لگا ۔الفاظ بنے ،لیکن بالکل بے ربط اور بے معنی تھے۔’’پپّا کی روح کو تکلیف مت دو ‘‘مظہر صاحب نے افسردگی سے کہا ۔’’اچھا لارڈبائرن کو بلایا جائے۔‘‘کسی نے تجویز کیا ۔اب مشاہیر کی روحیں بلائی گئیں ۔ایک ’’روح‘‘ آئی اور ایک غیر مانوس زبان میں ،شاید ہنگیرین میں کوئی پیغام دے کر چلی گئی۔’’یہ سب فراڈ ہے۔‘‘مظہر صاحب نے اظہار خیال کیا ۔لفظ فراڈ پر مجھے منٹو کا خیال آیا ۔منٹو کی روح بلائی گئی۔میں نے پو چھا ’’کیا آپ MINTOہیں ۔‘‘’’میرا نام MINTOنہیں MANTOہے۔‘‘گلاس نے بر افروختگی سے کود کود کر لکھا۔’’اچھا اب رڈولف ویلینٹو کو بلائیں ۔‘‘نور افشاں نے کہا ۔مظہر میاں بولے ۔’’ہم سب غیر شعوری طور پر خود لکھ رہے ہیں ۔براہ مہربانی سب لوگ آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر پھر گلاس پر انگلیاں رکھیے۔‘‘آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں ۔اب جو پیغامات لکھے گئے وہ کسی ادق زبان میں تھے جو چیک کیا نارویجن نہیں تھی ۔اتنے میں آپا راضیہ کمرے میں داخل ہوئیں ۔انہوں نے ڈانٹا ’’بند کرو یہ خرافات‘‘۔میں نے آنکھوں سے پٹی ہٹا کر کہا ’’لیکن آپا دیکھیے تو سہی یہ گلاس میں آپ سے آپ ہی ہو ا سی کیسے بھر جاتی ہے؟‘‘’’گلاس میں شیطان گھس کر بیٹھ گیا ہوگا ۔بند کرو غلط چیز ہے،خلاف شرع ہے،توبہ کرو۔‘‘ہم لوگ فوراََ اٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘[۳۸]

     عزیزوں کی روحوں سے متعلق کچھ فوق الفطرت واقعات بھی کبھی کبھار انسانی زندگی میں رونما ہوتے ہیں ۔ایسے ہی ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے دوست محمد معظم عرف موج کے، جوگورنر سندھ جسٹس دین محمد کے بیٹے تھے اورلندن میں ان کے کلاس فیلو بھی تھے، حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں :

’’موج اپنی والدہ سے بے حد پیار کرتے تھے ۔لندن میں قیام کے آخری سال ان کی والدہ شدید بیمار ہوئیں اور بیٹے کو آخری بار دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔امتحانات کے سبب ،موج ان کا قرب حاصل کرنے کی خاطر واپس نہ جا سکتے تھے ،اس لیے بے قراری اور پریشانی کے عالم میں اپنی استعمال شدہ قمیض جس میں ان کے پسینے کی تھی،ماں کو بھیج دی ۔ماں نے مرتے دم تک قمیض اپنے سینے سے لگا کر رکھی اور وفات پر ان کی خواہش کے مطابق وہ قمیض ان کے ساتھ دفنا دی گئی۔واپس پہنچ کر موج کا معمول تھا کہ وہ صبح منہ اندھیرے اٹھتے ،قبرستان جا کر ماں کی قبر پر حاضری دیتے اور پھر دفتر جا کر کام شروع کرتے۔اسی طرح گرمیوں کی ایک تاریک رات زور کی بارش ہو رہی تھی ۔موج کی آنکھ کھلی تو گمان کیا کہ شاید صبح ہو گئی ہے ۔تیار ہو کر بمطابق معمول قبرستان پہنچے ۔ماں کی قبر کے قریب بقول ان کے، والدہ کفن میں ملبوس ہاتھ پھیلائے،کھڑی نظر آئیں ۔موج ڈر گئے اور موسلا دھار بارش میں گرتے پڑتے قبرستان سے دفتر پہنچے۔وہاں چوکیدار سے پتہ چلا کہ ابھی تو رات کے صرف دو بجے تھے اور صبح کا کوئی نام و نشان تک نہ تھا ۔موج واپس گھر آکر سو رہے اور دہشت کے سبب دن چڑھنے پر بھی دفتر نہ گئے بلکہ گوجرانوالہ سے لاہور آگئے۔معلوم ہو اکہان کے دوستوں نے مری جانے کو پروگرام بنا رکھا ہے۔آپ بھی تیار ہو گئے ۔اگلے روز مری جاتے ہوئے ان کی کارحادثہ کا شکار ہو گئی۔باقی سب احباب اور ڈرائیور تو صحیح سلامت رہے،صرف موج ہی کو شاید ان کی والدہ اپنے ساتھ لے گئیں ۔‘‘[۳۹]

     مندرجہ بالا واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مافوق الفطرت عناصر ہندوستان کے کئی ہزار سالہ ثقافتی عقاید کی عکاسی کرتے ہیں جو ہنداسلامی تہذیب کے علاوہ اس خطے کی قدیم تہذیب سے بھی متاثر ہیں ۔یہ توہمات اور مافوق الفطرت عناصر لوگوں کے اذہان میں نہ صرف خوف پیدا کرتے ہیں بلکہ مخصوص اخلاقی اقدار کے پرچار اور پاسداری کا موجب بھی ہیں ۔ہندوستانی عوام کے لاشعور میں یہ توہمات اور خوف یہاں کی لوک داستانوں جیسے الف لیلہٰ،طلسم ہوشربا ،داستان امیر حمزہ،قصۂ چہار درویش،کلیلہ و دمنہ،رامائن،مہا بھارت،کتھا سرت ساگر،جاتک کہانیوں اور پنج تنتر وغیرہ کے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی حکایات کے اثرات کے علاوہ اسلامی تصوف میں صوفیاسے منسوب فوق الفطرت کرامات اور کرشموں سے ماخوذ ہیں جن پر انسان صدیوں سے یقین رکھتا آرہا ہے۔ممکن ہے کہ ان کا آغازانسانی شعوراورتہذیب کے ابتدائی دنوں کی کرشمہ سازی ہوجب انسان اپنے ارد گرد کے ماحول میں رونما ہونے والے ایسے واقعات و حالات کو،جو اس کی سمجھ اور عقل میں نہ آ سکے، فوق الفطرت عناصر کی کرشمہ سازی قراردے دیتا تھا ۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ان پر اسی طرح یقین کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ کا فرق بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ جاہل عوام اپنے ہر مسئلے کی وجہ اور حل انہی توہمات میں تلاش کرتے ہیں جبکہ پڑھے لکھے حضرات دیگر عوامل کو بھی مد نظر رکھتے ہیں ۔ہماری تہذیب میں اس طرح کی بہت سی چیزوں کوMythکا درجہ حاصل ہے جن کی کوئی عقلی اور منطقی توجیہ نہیں کی جا سکتی مگر ان پر یقین کیا جا تا ہے۔پھر یہ چیزیں ہماری تہذیب و ثقافت میں صدیوں سے اسی طرح چلی آرہی ہیں اس لیے لوگوں کو ان کی صداقت پر پورا یقین ہے۔ادباکی آپ بیتیوں کے مطالعے کے ضمن میں اہم بات یہ ہے کہ ان ادباکا تعلق انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے آغاز سے ہے اور ان میں سے بیشتر نے اپنے دادا،دادی اور والدین کے تجربات ومشاہدات کے حوالے سے تہذیب کے مختلف عناصر پر روشنی ڈالی ہے اور یہ وہ نسل ہے جس کا تعلق اٹھارویں اور انیسویں صدی سے رہا ہے۔لہٰذاہمیں ان چیزوں کواس دور کے سماجی، سیاسی، مذہبی، معاشی اور تہذیبی فریم ورک میں رکھ کر دیکھنا چاہیے۔آج کے سائنسی کمال کے زمانے میں جب کہ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ نے دنیا کو ’’گلوبل ویلیج‘‘ کا درجہ دے دیا ہے اور وقت کی طنابیں سمٹ گئی ہیں ،کائنات کے اسرار و رموز کھل کر سامنے آچکے ہیں اور علوم کے دائرے وسیع ہو چکے ہیں ،ایسے فوق الفطرت واقعات اور توہمات پر یقین میں کمی بھی پائی جاتی ہے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ چیزیں ہمارے معاشرے سے مکمل طور پر ختم ہو گئی ہیں ۔

حوالہ جات

۱۔  محمد طفیل ،’’تصریحات‘‘ ،’’نقوش‘‘،آپ بیتی نمبر ،ادارہ فروغ اردو،لاہور ، ۱۹۶۴ء؁

۲۔ قمر الہدیٰ فریدی،ڈاکٹر ،’’خود نوشت:محرکات اور فنی تقاضے‘‘،مشمولہ ،’’نئی کتاب‘‘،سہ ماہی ،شمارہ:۱۴،دہلی،

       جولائی ، ستمبر۲۰۱۰ء؁ ،ص۔۴۰

۳۔ قرۃ العین حیدر ،’’کار جہاں دراز ہے ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز ۔۲۰۱۰ء)ص۔۷۵،۷۴

۴۔ ایضاََ ،ص۔۲۱۸

۵۔ ایضاََ ص۔۷۹۰

۶۔ انتظار حسین ،’’جستجو کیا ہے ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۱۱ء)ص۔۲۹،۲۷

۷۔            میرزا ادیب،’’مٹی کا دیا‘‘،(لاہور،مقبول اکیڈمی ۔۲۰۰۰ء)ص۔۸۰

۸۔ قرۃ العین حیدر ،’’کار جہاں دراز ہے ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز ۔۲۰۱۰ء)ص۔۶۰۸

۹۔ ایضاََ

۱۰۔            جوش ملیح آبادی،’’یادوں کی برات‘‘،(لاہور،مکتبہ شعرو ادب ۔۱۹۷۵)ص۔۴۵،۴۳

۱۱۔            ایضاََ، ص۔۴۵

۱۲۔            احسان دانش،’’جہان دانش‘‘،(لاہور،خزینہ علم و ادب۔۲۰۰۲ء) طبع دوم ،ص۔۱۳۱،۱۳۰

۱۳۔           ایضاََ ،ص۔۱۳۲،۱۳۱

۱۴۔           ایضاََ ،ص۔ ۴۳۵

۱۵۔           انتظار حسین،’’چراغوں کا دھواں ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۰۳ء)طبع دوم،ص۔۱۶۳

۱۶۔            ایضاََ،ص۔۱۶۴،۱۶۳

۱۷۔           ایضاََ ،ص۔۱۶۴

۱۸۔           قرۃ العین حیدر ،’’کار جہاں دراز ہے ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۱۰ء) ص۔۱۴۹

۱۹۔            ایضاََ، ص۔۳۲۵

۲۰۔           ایضاََ،ص۔۹۹

۲۱۔            ایضاََ،ص۔۱۴۹

۲۲۔           شہرت بخاری ،’’کھوئے ہوئوں کی جستجو‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔ ۱۹۹۷ء)ص۔۱۱۱،۱۱۰

۲۳۔           بانو قدسیہ ،’’راہ رواں ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۱۱ء)ص۔۲۳۲،۲۳۱

۲۴۔           انتظار حسین ،’’جستجو کیا ہے ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۱۱ء)ص۔۴۵

۲۵۔           سلیم اختر ،’’نشان جگر سوختہ ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۰۵ء)ص۔۲۲

۲۶۔           ایضاََ

۲۷۔          انتظار حسین ،’’جستجو کیا ہے ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۱۱ء) ص۔۵۰

۲۸۔           ایضاََ

۲۹۔           آغابابر ’’خدو خال‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۰۴ء)ص۔۳۱۹،۳۱۸

۳۰۔           شہرت بخاری ،’’کھوئے ہوئوں کی جستجو‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۱۹۹۷ء)ص۔۳۷۶،۳۷۵

۳۱۔           ایضاََ،ص۔۳۷۸،۳۷۶

۳۲۔           ایضاََ ،ص۔۳۸۴،۳۸۳

۳۳۔          آغا سہیل ،ڈاکٹر ،’’خاک کے پردے ‘‘،(لاہور،ارتقامطبوعات۔۲۰۰۴ء)ص۔۸

۳۴۔          جاوید اقبال ،’’اپنا گریباں چاک ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۰۳ء)ص۔۵۵

۳۵۔          وزیر آغا ،ڈاکٹر ،’’شام کی منڈیر سے ‘‘،(لاہور،اظہارسنز ۔۲۰۰۹ء)دوسرا ایڈیشن،ص۔۱۷۰،۱۶۹

۳۶۔           جوش ملیح آبادی،’’یادوں کی برات‘‘،(لاہور،مکتبہ شعرو ادب ۔۱۹۷۵ء)ص۔۴۸۹

۳۷۔          ایضاََ ،ص۔۴۹۱

۳۸۔          قرۃ العین حیدر ،’’کار جہاں دراز ہے ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز ۔۲۰۱۰ء)ص۔۶۴۹

۳۹۔           جاوید اقبال ،’’اپنا گریباں چاک ‘‘،(لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز۔۲۰۰۳ء)ص۷۷۔۷۶

۔۔۔

ڈاکٹرمسر ت بانو

اسسٹنٹ پروفیسر ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین ،شاہ پور ضلع سرگودہا(پاکستان)

Contact:03217963529

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.