مظہر الاسلام کا فکشن اور نمائندہ کہانیوں کا انتخاب

 نام کتاب: مظہر الاسلام کا فکشن اور نمائندہ کہانیوں کا انتخاب

مصنف: محمد غالب نشتر

صفحات: 296  ، قیمت: 500/- ،  سنہ اشاعت: 2016

ناشر:  براؤن بُک پبلی کیشنز، نئی دہلی، 110025

مبصر:  عمران عراقی (ریسرچ اسکالر) شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی

        پیش نظر کتاب محمد غالب نشتر کے مضامین کے ساتھ مظہر الاسلام کے افسانوں کا ایک خوبصورت انتخاب ہے۔ اس انتخاب سے غالب نشتر کے علمی ذوق اوران کی افسانوی بصیرت دونوں کابخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ غالب نشتر نے مظہرالاسلام کے افسانوں کو پاکستان کی سیاسی اور سماجی صورت حال کے زیر اثر بدلتے ادبی ماحول کے پس منظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ شاملِ کتاب افسانوں کی نوعیت بھی اسی قبیل کی ہے۔ ان افسانوں میں ــکندھے پر کبوتر‘ متروک آدمی، سانپ گھر، تالاب، کہانی کیسے بنی وغیرہ بے حد اہم افسانے ہیں۔ ’’پاکستان کی سیاسی اور ادبی صورت حال‘‘  کے عنوان سے غالب نشتر نے پاکستان کے سماجی پہلوؤں کو نہ صرف سیاست اور فوجی آمریت کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے بلکہ قیام پاکستان کے اسباب و عوامل کی تہوںمیں ان تصورات کو بھی دیکھنے کی کوشش ہے جن میں ایک خوبصورت خواب کی مانند کسی نئے ملک کا جنم ہوتا ہے جہاں ’’فسق و فجور کا دور دور تک واسطہ نہ ہو۔‘‘

        اس حوالے سے دیکھا جائے تو ادب پاروں کو سمجھنے کے لیے اس کے عہد کے ساتھ ان محرکات اور سماجی عوامل کوبھی جاننا بے حد ضروری ہے، جن کے تحت ادب پارے پروان چڑھتے ہیں۔ اس امر کو سمجھتے ہوئے ہی غالب نشتر نے مظہر الاسلام کے افسانوں کے انتخاب یا غیر افسانوی نثر کے تجزیے میں روایتی پن سے ایک قدم آگے بڑھ کر، پاکستان کی سیاسی اور ادبی صورت حال کا جائزہ لینا ضروری سمجھا اور اس تعلق سے ابتدا میں ایک وقیع اور بھرپور مضمون بھی شامل کیا۔ یہ مضمون پاکستان کی ادبی صورت حال کے ساتھ سیاسی اور سماجی سروکار کو سمجھنے کے لیے کافی تو نہیں لیکن اختصار کے ساتھ اہمیت کا حامل ضرور ہے۔ اس مضمون کے مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں فکشن اپنے عہد اور سماجی صورت حال کا کس حد تک عکاس ہے۔ یوں تو پاکستان میں ہونے والی شاعری بھی بہ صورت دیگر اپنے عہد اور سماج کی عکاسی خوب کھُل کر کرتی ہے۔ لیکن فکشن کی جہاں تک بات کی جائے تو یہاں معاملہ ذرا دوسری نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔ خیر سے، مختلف ادبی نظریات کے زیر اثر علامت نگاری نے بھی اس حوالے سے فکشن کو خوب۔خوب نئے مواقع فراہم کیے۔ جس کی صاف جھلک مظہر الاسلام کے افسانوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

        واضح ہو کہ غالب نشتر کی یہ دوسری کتاب ہے جو گزشتہ برس منظر عام پر آئی۔ فی الوقت غالب نشتر رانچی یونیورسٹی میںتدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ فکشن ان کا خاص میدان ہے ۔ نوجوان نسل میں ابھرتے ہوئے ناقد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مظہر الاسلام کے حوالے سے لکھتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی سیاسی اور سماجی صورت حال کو جس طرح سے عالمی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے وہ یقناً اس کے دائرے کو وسیع کرتا ہے۔ اس پس منظر میں فکشن کے بدلتے مزاج اور فکشن نگاروں کی ترجیحات کا بھی تجزیہ خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔ غالب نشتر نے مظہر الاسلام کے سوانحی خاکے کے ساتھ ان کا ادبی سفر اور تمام مطبوعات کو یکجا کر کے نہایت گراں قدر کام کیا ہے۔ یقینا ان کا یہ کام تحقیقی نوعیت کا ہے۔ لیکن سوانحی خاکہ کو پڑھتے وقت تھوڑی تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مصنف نے نہایت اختصار سے کام لے کر بات آگے بڑھا دی ہو۔ ممکن ہے جن ذرائع سے مظہرالاسلام کے سوانحی گوشوں تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے وہاں سے فراہمی کی حدیں یہیں تک متعین ہوتی ہوں۔

        جس طرح سے پاکستان کی سیاسی اور ادبی صورت حال پر لکھا گیا مضمون کتاب کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے اسی طرح ’’مظہر الاسلام کے ہم عصر افسانہ نگار‘‘ کے عنوان سے لکھا گیا مضمون بھی اہمیت کا حامل ہے جو اس کتاب کو دستاویز کی حیثیت عطا کرتا ہے۔ مظہرالاسلام کے ہم عصر افسانہ نگاروں میں اسد محمد خان، زاہدہ حنا، احمد جاوید، مرزا حامد بیگ وغیرہ بے حد اہم ہیں۔ ان افسانہ نگاروں اور ان کی کاوشوں کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ کتاب کو ایک الگ نوعیت عطا کرتی ہیں۔

        مظہر الاسلام کی افسانہ نگاری اپنے ہم عصروں میں ایک الگ شناخت رکھتی ہے اسی طرح ان کی ناول نگاری بھی بے حداہم ہے۔ ایک جگہ مظہر الاسلام اپنے ناول کے تعلق سے لکھتے ہیں:۔

’’میرا یہ ناول دراصل محبت کا عجائب گھر ہے۔ اس دنیا سے انتہائی تیز رفتاری سے ختم ہوتی ہوئی محبت کی پر اسرار راہداریوں میں سایوں اور خوابوں میں لپٹے نادر نمونوں کا سانس لیتا میوزیم ہے جسے بیسویں صدی کی آخری دہائی کا تاج محل بھی کہہ سکتے ہیں۔‘‘

        محمد غالب نشتر کی اس خاص پیش کش پر ان کو دلی مبارکباد اور امید کرتا ہوں کہ ادبی حلقوں میں یہ کتاب نہ صرف مظہر الاسلام کے افسانوی انتخاب کی وجہ سے پسند کی جائے گی بلکہ مظہر الاسلام کے ہم عصر افسانہ نگاروں کو جاننے اور پاکستان کی سیاسی و سماجی صورت حال کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب خوب پسند کی جائے گی۔

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.