(تبصرہ: دلت کویتا جاگ اٹھی ہے  (شعری مجموعہ

نام کتاب:۔ دلت کویتا جاگ اٹھی ہے  (شعری مجموعہ)

شاعر و ناشر:۔ ڈاکٹر حنیف ترین

صفحات:       ۔ ۱۱۰

قیمت:۔        ؍۱۵۰ روپے

سال اشاعت:۔ ۲۰۱۸ء

مطبع:۔         نیو پرنٹ سینٹر،  دریا گنج،  نئی دہلی۔۲

تزئین:۔       امکان پبلی کیشنز

مبصر:۔         سنتوش کمار

ادب کوئی بھی ہو سب ہماری معلومات میں اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے،  چاہے  ہندی ادب،  انگریزی ادب یا اردو ادب ہو،  اسی میں ہمارا جنم ہوا ہے  اور اسی میں دفن بھی ہونا ہے۔ مگر ان میں سے  ایک ادب بہت مشہور اور نیا ہے۔ وہ ہے  ’’دلت ادب‘‘،  دلت ادب وہ ہے  جس میں دلتوں کا ذکر ہو،  دلتوں پر لکھا گیا ہو اور سب سے  بڑی بات ہے  کہ وہ دلتوں کے  ذریعے لکھا گیا ہو۔ دلت دانشوروں کا کہنا ہے  کہ دلتوں کے  ذریعے،  دلتوں پر اور دلتوں کے  بارے  میں لکھا گیا ہو،  جوہندوستانی آئین میں ایس۔ ٹی کے  زمرے  میں آتا ہو وہی دلت ادب ہے۔ کسی نے  سچ ہی کہا ہے  کہ دلتوں سے  سروکار رکھنے  والا ادب،  دلت ادب کہلاتا ہے۔ دلت ادب بالکل نیا ہے،  مگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایک طرح سے  کہا جائے  تو دلت ادب پر لکھنا لازمی تھا۔ جیوتی با پھولے  اور ڈاکٹربابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے  ذریعہ دلت ادب  اجاگر ہوا ہے۔ آج کے  دور میں دلت ادب پر سب سے  زیادہ لکھا جارہا ہے۔ دلت ادب پر الگ الگ زبانوں میں ریسرچ بھی کیا جارہا ہے۔ ان سب کے  علاوہ سب سے  اہم بات یہ ہے  کہ دلت کویتا پر غیر دلت ادیب و شاعر بہت عمدہ طریقے  سے  لکھ رہے  ہیں جو کہ قابل تعریف ہے۔ ان میں ایک مشہور نام ڈاکٹر حنیف ترین صاحب ہیں۔  یہ ایک نڈر شاعر ہیں جو دلت کویتا پر بے  باک طریقے  سے  لکھتے  ہیں۔  میں ان کی ہمت کی داد دیتا ہوں اور مبارک باد پیش کرتا ہوں  اورامید کرتا ہوں کہ اس روایت کو ہمیشہ آگے  بڑھاتے  رہیں گے۔  ہم سب کی دعائیں ان کے  ساتھ ہیں۔  یہ بہت اچھا قدم اپنایا ہے  جو قابل تعریف ہے۔

زیر نظر تبصرہ کتاب ’’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے ‘‘ ڈاکٹر حنیف ترین کی بے  حد خوبصورت کتاب ہے۔ دلت کویتا پر یہ شاعر کی پہلی کتاب ہے۔ یہی نہیں اردو شاعری میں ڈاکٹر حنیف ترین صاحب کا یہ پہلا مجموعہ کلام ہے۔ اردو شاعری میں اولیت کا تاج حنیف ترین کے  سر جاتا ہے۔ اردو میں یہ پہلا موقعہ ہے  کہ دلت کویتا پر کسی نے  قلم اٹھایا ہے۔ دلت شاعری کی روایت اردو شاعری میں سب سے  پہلے  ڈاکٹر حنیف ترین کے  نام ہے۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے۔ اس پر لکھنے  کی ہمت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔ ابھی تک اس طرح کی کتاب میری نظروں کے  سامنے  سے  نہیں گزری۔ یہ پہلی کتاب ہے  جس کا میں نے  گہرائی سے  مطالعہ کیا ہے۔ یہ کتاب بہت اچھی ہے  اور دلتوں پر بہت گہرائی سے  لکھا گیا ہے۔ اس کے  موضوع سے  یہ معلوم ہوتا ہے  کہ یہ دلتوں کو جگانے  کے  لئے  لکھی گئی ہے۔ کتاب کا موضوع ہی اتنا جاندار ہے  کہ اس سے  اندازا لگایا جاسکتا ہے  کہ یہ کتاب کتنی اچھی اور اہم ہوگی۔ اردو کویتا میں دلت کویتا سبھی پر غالب نظر آتی ہے۔ یہ کتاب دلت کویتا پر لکھی ہوئی ایک بہترین کتاب ہے۔ موجودہ دور میں اس کی اہمیت کا کوئی جواب ہی نہیں ہے۔

ڈاکٹر حنیف ترین کی کتاب ’’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے ‘‘ (شعری مجموعہ) ہے۔  اس کتاب میں کلسولہ(۱۶) شعری مجموعے  ہیں۔  سبھی شعری مجموعے  بے  حد عمدہ ہیں۔  یہ ہندوستانی سماج کی خامیوں کو اجاگر کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کتاب میں سماج کے  سب سے  نچلے  پائیدان پر رہنے  والے  لوگوں کے  سماجی،  سیاسی،  تعلیمی،  ادبی،  ان کے  حالات زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب سماج کی ان خامیوں کو منظرعام پر لاتی ہے  جو کہ سبھی لوگ اس سے  کنارا کستے  رہتے  ہیں۔  دلتوں کی زندگی اور ان کی تعلیم پر گہری نظر ڈالی گئی ہے۔ ان کے  مسائل پر خاص طور سے  کویتا کہی گئی ہے  جو کہ یہ دکھاتا ہے  کہ ان کے  ساتھ غیر دلتوں نے  کتنا برا سلوک کیا ہے  اور آج بھی یہ روایت جاری ہے۔ اسی روایت کو توڑنے  کے  لئے  یہ کویتا لکھی گئی ہے  جودلتوں کے  تعلیم یافتہ ہونے  کے  بعد آگے  کی ترقی کس طرح کی جاسکتی ہے۔ یا جو لوگ کچھ جانکار ہوگئے  ہیں۔  ان کو آگے  بڑھانے  کے  لئے  ان کا حوصلہ افزائی کرنے  کے  لئے  یہ کویتا منظرعام پر لائی گئی ہے۔

یہ کتاب’’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے ‘‘ ڈاکٹر حنیف ترین صاحب کی ایک بہترین شعری مجموعہ ہے۔ اس میں سولہ (۱۶)شعری مجموعہ ہیں ہر ایک شعری مجموعہ اپنے  آپ میں بے  حد عمدہ ہے  اور سماج کی برائیوں کو ختم کرنے  کی پرزور کوشش بھی ہے۔  یہ دلت سماج پر لکھی ہوئی کویتا ہے  جو ان کے  مسائل پر گہرائی سے  اجاگر کرتی ہے۔ اس میں سبھی شعری مجموعے  ہماری معلومات میں اضافہ کرتے  ہیں۔  دلت کویتا کو فروغ دینا اور اس کے  ارتقاء کی بات کرنا،  دلت کویتا کو رواج دینا اور ان کی تعلیم کی بات کرنا اور دلتوں کو کویتا کے  ذریعہ تعلیم یافتہ کرنا اس طرح کی کتاب کو منظرعام پر لانا بڑے  جگر والا کام ہے۔ اس طرح کا کام صرف گنے  چنے  لوگ ہی کرسکتے  ہیں یا کررہے  ہیں ایسے  ہی لوگوں میں ایک نام حنیف ترین کا بھی ہے۔ اس میں  سولہ 16) )شعری مجمو عوں کا ذکرکر نا اس لئے  ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کے  موضوع سے  ہی معلوم ہوسکے  کہ یہ کس طرح کی کتاب ہے۔ ’’(۱) دلت کویتا جاگ اٹھی ہے  (۲) جاری ووستھا کو بدلوں گا (۳) کیا یہ جنگل راج نہیں ہے  ؟ (۴) میں کب تک یوں خوار ہوں گا (۵) خاموشی بھی قہر خدا ہے  (۶) اْونا سے  نکل پڑا ہوں (۷) سب تنہا ہیں (۸) تجھ سے  بڑا ہوں بھلے  دلت ہوں (۹) مانوتا کا ہوں پجاری (۱۰)  ناسٹا لجیا (۱۱)تجھے  زمین پہ لاؤں گا (۱۲)  سورن مسلمانوں کا نوحہ (۱۳)دھرم کی یہ کیسی مانوتا (۱۴) صداایک بے  نام شیُ کی(۱۵)سورن سماج سے  دیش بچاوُ، اور(۱۶) کینسر سیاست کا‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہے۔شعر ملاخت ہوں  :

اپنے  بھاگ کو خود میں لکھنے

ماند سے  اپنی نکل پڑا ہوں

دیکھ مجھے  میں شیر ببر ہوں

ذات و صفت میں تجھ سے  بڑا ہوں بھلے  دلت ہوں

’’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے  ‘‘ شعری مجموعہ ڈاکٹر حنیف ترین کی خوبصورت تخلیق ہے  اس میں جس جس موضوع پر بحث کی گئی ہے  وہ بے  حد عمدہ ہے۔ اس موضوع کے  ذریعے  یہ بتانے  کی کوشش کی گئی ہے  کہ ہندوستان میں بالکل جنگل راج قائم ہے  اور جو روایت چلی آ رہی ہے  اسے  ختم کر نئی روایت قائم کرتا ہے  جس میں سبھی کے  لئے  برابری کا درجہ حاصل ہوں جو مانوتا وادی ہو یعنی کہ جس میں انسا نیت ہوکوئی بھی تنہا نہ ہو کیوں کہ خاموشی بھی قہر برپانے  کا موقعہ دیتی ہے۔ اس طرح اس کہے  خلاف آواز بلند کرنا لازمی ہے۔ شاعر یہ بتانے  کی کوشش کرتا ہے  کہ اے  برہمن وادی نظام تجھے  توڑ کر زمین پر میں لاؤں گایعنی مانوتا وادی سماج قائم کروں گا جس سے  سب کو برابر حقوق ملے۔ جو لوگ انسانی حقوق سے  محروم کردئیے  گئے  تھے  ان کو ان کا دلانے  کی بات پر شاعر زور دیتا ہے۔ میری نظر میں یہ کتاب معلومات کے  لئے  بھی اچھی ہے  اور دلتوں کا جگانے  کے  لئے  دلت کویتا بہت اچھی مثال ہے  جو قابل قبول ہے۔ ؎

دیش میں سب سے  کھرا دلت ہے

اب یہ بھی ثابت کروں گا

مانوتا کا میں ہوں پجاری

اور ہوں ہر نفرت سے  عاری

ڈاکٹر حنیف ترین کا شمار نظمیہ شاعری کے  صف اول کے  شعراء میں کیا جاتا ہے۔  یعنی آج کے  دور میں مزاحمتی شاعری کے  سرخیل ہیں۔  ان کی اب تک ڈیڑھ درجن سے  زیادہ کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔  جس میں ’’ابابیلیں  نہیں آئیں  ‘‘، ’’باغی سچے  ہوتے  ہیں  ‘‘، ’’ یک چہل روزہ جنگ (خلجی جنگ)‘‘، ’’ ۶؍دسمبر‘‘ وغیرہ ان کی قابل ذکر تخلیقات ہیں۔  دلت کویتا سے  متعلق ابرار کرت پوری لکھتے  ہیں ’’حالات حاضرہ سے  تاثیر لیتے  ہوئے  انہوں نے  اپنا زاویہ فکر و ’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے  ‘کو اپنی ایسی تازہ تخلیق (کتاب) میں پیش کیا ہے  جو کسی غیر دلت کی دلت ادب میں پہلی کتاب ہوگی۔ جو کہ ’دلت مسلم اتحاد کا اشاریہ ‘بھی ہے ‘‘۔ کہا جاتا ہے  کہ ہندوستان کی زمین یا مٹی کو سیاست دانوں نے  خراب کردیا ہے  بقول پروفیس کوثر مظہری ہندوستانی مٹی کو خراب کرنے  کا بڑا رول دیش کے  سیاست دانوں کا ہے  زیر مطالعہ مختصر سا مجموعہ ’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے ‘ اسی خراب مٹی کے  بطن سے  پیدا ہونے  والی نظموں پر مشتمل ہے۔سماج کے  کمزور اور محروم طبقوں کی روحانی و جسمانی چیخوں کو حنیف ترین نے  ملفوظ و منظوم کیا ہے۔‘‘ جیسے :۔

ہاتھ میں اپنے  جھاڑو لے  کر

آج بھی در در بھٹک رہا ہوں

یگ یگ سے  غربت میں جکڑا

بے  کل جیون کاٹ رہا ہوں

نرظتا کی آگ میں جلتا

اپنیے  غموں کو تاپ رہاہوں

چھپرّ سی بے  بسی ہے  مری

ہر موسم میں بلی ہے  مری

جانوروں سا کھانا پینا

      رسوائی    سے    مرنا    جینا

اسی طرح پروفیسر کوثر مظہری صاحبایک جگہ اور لکھتے  ہو کہتے  ہیں۔  ’’ جب یہ دلت کرہ ار حنیف ترین کی زبان میں کہا ہے : صرف دلت ہونے  کے  کارن ؍۔۔سیاسی ریپ کیا ہے،  تو سچ پوچھئے  سارے  سیاسی کردار مادر زاد ننگے  دکھائی دینے  لگتے  ہیں۔ ‘‘ اسی کڑی میں پروفیسر توقیر احمد خاں لکھتے  ہیں ’’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے ‘ ایک ایسی کتاب ہے  جو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ ڈالتی ہ بلکہ ہندوستان کے  تمام ان لوگوں کو جو حاشیے  پر پڑے  ہیں انھیں آپس میں مل جانے  کی دعوت دیتی اور ایک حقیقی انسانیت کے  سورج کے  طلوع ہونے  کی خواہاں ہے  اور ایک نئے  دور کے  آغاز کی متمنی بھی ہے۔ ‘‘ اس کے  علاوہ اس کا مقدمہ اسلم حنیف صاحب نے  بڑی خوبصورتی کے  ساتھ پیش کیا ہے  اور پروفیسر مولا بخش صاحب نے  اپنا خیال و اظہار ’’ حنیف ترین کا نیا شعری زاویہ،  دلت مسلم انصمام کا اشاریہ‘‘ بے  حد عمدہ زبان میں لکھا ہے۔ اور یہ بتانے  کی کوشش کی ہے  کہ دلت مسلم موجودہ دور میں ان کے  حالات بد سے  بدتر ہیں ان کے  مسائل کو سیاست داں نظر انداز کرتے  ہوئے  نظر آتے  ہیں۔  اس لئے  انسانیت کا بیڑا دلت مسلم کو ہی اٹھانا پڑے  گا۔جس میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ آخر میں یہ بتانے  کی کوشش کی ہے  کہ ’’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے  ‘‘ میں مسائلی شاعری کا فی زمانہ ایک بلیغ متن قرار پاتا ہے۔

ان تمام شعری مجموعہ کو پڑھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے  کہ دلت شاعری دلت مسائل پر یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ شعر بے  حد عمدہ ہیں تحریریں پر زور اور دلچسپ معلوم ہوتی ہیں مجھے  اس کتاب میں ایک کمی نظر آئیہے۔ کتاب کے  کور کے  اوپر ’’دلت کویتا جاگ اٹھی ‘‘لکھا ہے  اور اندر ’’دلت کویتا جاگ اٹھی ہے  ‘‘لکھا ہے  یعنی کہ ’’ہے  ‘‘ کور کے  اوپر سے  غائب کردیا گیا ہے۔اس کے  باوجود کتاب کی زبان صاف و آسان ہے  سرورق دیدہ زیب ہے۔ کاغذ عمد ہے۔کتا ب مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے  اور خاص بات ہے  کہ اردو ادب میں دلت شاعری اس کتاب کو چار چاند لگاتی ہے۔  امید ہے  کہ قارئین اسے  دلچسپی سے  پڑھیں گے۔بدلتے  ہوئے  زمانے  کی طرف اشارہ کرتے  ہووئے  کہتے  ہیں  :  ؎

دیکھو مجھے  ! میں بدل رہا ہوں

ُٓاپنا حق اورآدر لینے  کے  لئے

گھر سے  اپنے  نکل پڑا ہوں

بھارت ماں  کو،  تم نہیں ،  اب میں

اس کا اصلی گورودوں گا

………………

Santosh Kumar

Resreach Scholar,

Department of Urdu,

University of Delhi

santsk786@gmail.com

7827582645

٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.