اٹھارہ سو ستاون اور مفتی صدرالدین خاں  آزؔردہ

ڈاکٹر محمد ارشد

شعبہ ٔ اردو، دیال سنگھ کا لج،  لو دھی روڈ، دہلی یو نیورسٹی

برطانوی اقتدار کے  خلاف رئیس المجاہدین حضرت سید احمد شہید اور ان کے  تمام رفقاء کا ر نے  اسلامی جہاد کا پر چم بلند کیا اور ہندوستان کے  ایک کو نے  سے  لے  کر دوسرے  کو نے  تک ہزاروں  افراد کے  دلوں  میں  دین کی عظمت اور وطن کی حفاظت کے  لیے  جان و مال کی قربانی اور سرفروشی کا ولولہ پیدا کیا لیکن دیکھتے  ہی دیکھتے  ۱۸۵۷کے  آنے  سے  قبل سیاسی و سماجی حالات میں  تبدیلی رونما ہو نے  لگی۔ تہذیبی و معاشرتی ماحو ل بگڑ نے  لگی۔ ہر چہار جانب انگریزوں  کی پالیسی کے  مطابق ہندوستان کا بیشتر حصہ انگریزوں  کی سلطنت میں  شامل کیا جانے  لگا۔

دہلی کی تاریخ کسی سے  مخفی نہیں  کیو نکہ میر کی زبان میں  ’’یہ نگر سو مر تبہ لو ٹا گیا‘‘ دہلی پچھلے  ایک صدی سے  حملوں  کی آماجگاہ بنی ہو ئی تھی۔ کبھی نادرشاہ تو کبھی احمد شاہ ابدالی، کبھی روہیلے  نے  تو کبھی مر ہٹہ و جاٹوں  نے  دہلی کو ہمیشہ تاراج کیا۔۱۸۰۳ ء میں  انگریزوں  نے  مغل حکمراں  سے  اس بات پر معاہدہ کیا کہ وہ ان کو تحفظ فراہم کر یں  گے  لیکن مالی اور انتظامی امور کے  سارے  اختیارات ضبط کر لیے۔ اکبر شاہ ثانی کی حکو مت پالم اور بہادر شاہ ظفر کی لال قلعے  تک محدود تھی اور ان کی زندگی پنشن پر گزر رہی تھی۔  یہی وہ زما نہ ہے  جو مفتی صدرالدین آزردہ اور ان کے  معاصرین غالبؔ، ذوقؔ، مو منؔ، صہبائیؔ اور شیفتہؔ وغیرہ دنیائے  علم و ادب کے  مشاہیر تھے۔ اُن سبھوں  کے  محور و مرکز بہادر شاہ ظفر تھے۔ اس لیے  بادشاہ کے  اردگرد رونق ضرور تھی لیکن اندر ہی اندر یہ سکون، طو فان کی شکل میں  بہت جلد ابھر نے  والا تھا۔غالب بڑی خوبصورتی کے  ساتھ اپنے  معاصر شعراء کے  بارے  میں  لکھتے  ہیں  کہ :

اے  کہ راندی سخن از نکتہ سریانِ عجم

چہ بما منت بسیا نہی از کم شاں

ہند را خوش نفا نند سخنور کہ بود

باد درخلوت شاں  مشک فشاں  ازدم شاں

مومنؔو نیّرؔ و صہبائی ؔ و علوی ؔ و آنگاہؔ

حسرتی ؔ، اشرفؔ و آزردہ ؔ بود اعظم شاں

غالب ؔ سوختہ جاں  گرچہ نیّر زد بہ شمار

ہست در بزم ِ سخن ہم نفس و ہمدم شاں

مفتی صدرالدین آزردہ اکبر شاہ ثانی کے  عہد (۱۸۳۷۔۱۷۶۰ ) میں  دہلی کے  چتلی قبر کے  قریب حویلی عزیز آبادی میں  ۱۷۸۹ میں پیدا ہوئے۔ آبا و اجداد کشمیر کے  اہلِ بیت اور علمی خانوادے  سے  تعلق رکھتے  تھے۔ آزردہ کے  والد مولانا لطف اللہ کشمیری ذی علم اور ذی حیثیت اور دہلی میں  اپنے  وقت کے  بڑے  علماء میں  شمار ہو تے  تھے۔ فیضانِ ولی اللہی اور شاہ عبدالعزیز، شاہ عبدالقادر، شاہ رفیع ا لدین، مولانا فضلِ امام خیر آبادی کے  شاگرد رشید آزردہ اپنے  وقت کے  بہت جید، متبحر عالم تھے۔ انہیں  تمام علوم اسلامیہ، منطق و فلسفہ، عصری علوم ادبیات و ریاضیات کے  علاوہ منقو لات و معقولات پر خوب مہارت تھی۔ عبدالرحمان پرواز اصلاحی ایک جگہ لکھتے  ہیں  کہ :

’’اسی دور ِ زوال میں  مفتی صدرالدین خاں  آزردہ جیسے  صاحب ِ فضل و کمال پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت مجموعہ ٔ او صاف ہی نہیں  گونا ں  گوں  محاسن کا گَنجِینہ تھی۔ عالم با عمل ہی نہیں  بلکہ فقیہ بے  مثل بھی تھے۔صرف و نحو، منطق و فلسفہ، ریاضت و اُقلیدس، معانی و بیانی، ادب و انشاء، فقہ و حدیث، تفسیر و اصول میں  فرد فرید اور نادرہ ٔ عصر تھے۔ علماء کی مجلس میں  صدر نشیں ، شعراء کے  جمگھٹے  میں  میر ِ مجلس، حکام کے  جلسوں  میں  مؤ قر و ممتاز، حکام رس و ذی اقتدار ہی نہیں ، بلکہ بے  کسوں  اور محتاجوں  کے  ملجا و ماوی ٰ، طالبان ِ علم و فن کے  استاد ہی نہیں  بلکہ سرپرست و مربی بھی تھے۔ ‘‘(مفتی صدرالدین آزردہ۔ عبدالرحمان ص۹)

۱۸۵۷ء سے  قبل دہلی مسلمانوں  کی تہذیب و تمدن کا محور و مر کز اور علماء و مشائخ اور عصری علم و ادب کی آماجگاہ تھی۔ علم و دانش کے  مابین مفتی صدرالدین آزردہ کے  مشاغل درس و تدریس، فتوے  کا عمل، مدارس کے  امتحانا ت میں  ممتحن، قلعے  معلی کی حاضری اور حکو متی سطح پر صدارت کے  فرائض انجام دیتے  تھے  مزید اکا برِ علماء وفضلائِ خاص دہلی و نواح ِ دہلی آپ کے  مکان پر حاضر ہو تے  تھے۔ طلباء واسطے  تحصیل ِ علم، اہل ِ دنیا واسطے  مشورہ ٔ معاملات، ادبا و انشاء پرداز بغرض ِ اصلاح اور شعراء واسطے  مشاعرہ کے  آتے  تھے۔

دوسری جانب انگریز اس بات سے  واقف تھے  کہ دہلی علم و اد ب کا مر کز ہے  اس لیے  یہاں  کے  بااثر علماء و فضلاء میں  سے  ہی انگریزی ملازمت کے  لیے ’ صدر امین‘ اور’ صدرالصدور‘ یعنی آ ج کی اصطلاح میں  جج بنا جائے  تو زیادہ مو زوں  ثابت ہو گا۔ اس کے  لیے  انہوں  نے  دہلی میں  مفتی صدرالدین آزردہ کو ۱۸۲۷ء صدر امین اور مفتیٔ دہلی کے  فرائض انجام دینے  کے  لیے  چنا اور مولانا فضلِ امام خیر آبادی کو صدرالصدور بیایا گیا، ۱۵/ جون ۱۸۴۴ء میں  آزردہ کو ’صدر امین ‘سے  ’صدرالصدور‘ بنا یا گیا۔چند ہی دنوں  میں  آپ کے  عدل و انصاف کا شہرہ پورے  ہندوستان میں  پھیل گیا اور چہار جانب آپ کے  عدل کی مثال دی جا نے  لگی۔ ایک واقعہ بہت مشہور ہے  کہ آزردہ کے  دوست مر زا غالب بہت مقروض ہو گئے ، قرض خواہوں  نے  غالب پر مقدمہ درج کرایا۔ آزردہ کی عدالت میں  جب غالب کی پیشی ہوئی تو انہوں  نے  یہ شعر پڑھا۔

قرض کی پیتے  تھے  مے  لیکن سمجھتے  تھے  کہ ہاں

رنگ لائے  گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

یہ سنتے  ہی آزردہ مسکرائے  اور اپنے  پاس سے  قرض خواہوں  کو قرض کا روپیہ ادا کر دیا۔ اس طرح آزردہ بڑی خاموشی اور احترام مزاجی سے  مدد گار وں  کی مدد کر دیتے  تھے۔

نواب مصطفے  ٰ خاں  شیفتہ آزردہ کے  حوالے  سے  لکھتے  ہیں  کہ :

’’جھگڑوں  کے  فیصلہ کر نے  پر مامور ہیں  جو منصب ِ اعلٰی ہے  جس کو اہل ِ فرنگ کی اصطلاح میں صدر الصدور کہتے  ہیں  ۔ فی زمانہ ان کی سلطنت میں  اہل ہند کے  لائق اس سے  بڑا کوئی عہدہ نہیں  ہے۔ مولانا نے  اس دنیوی کسب ِ معاش کے  ذریعے  کو دینی ثواب حاصل کر نے  کا وسیلہ بنا رکھا ہے  کیو نکہ ان کی تمام تر کو شش مخلوق کی حاجت روائی میں  صرف ہو تی ہے۔ ان کے  انصاف کی برکت ہر خاص و عام پر محیط ہے  ‘‘(گلشن بیخار ص۱۳)

ان تمام مشا غل کے  باوجود مفتی صدرالدین آزردہ اور ان کے  رفقاء کہیں  نہ کہیں  انگریزوں  کے  خلاف اور بہادر شاہ ظفر کے  ہمدرد اور غم گساروں  میں  تھے  کیو نکہ مغلیہ خاندان سے  دیرینہ تعلق اور ان کی خد مت میں  نذرانہ پیش کر تے  تھے۔ یہی وجہ ہے  کہ انگریزوں  کی ملا زمت کے  باوجود بادشاہ ِ سلا مت کے  خزانہ سے  آزردہ کو ان کے  منصب کے  اعتبار سے  دو روپے  آٹھ آنے  ملتے  تھے  جیسے  وہ تبرک کے  طورپر لیتے  اور اس کی قدر کر تے  تھے۔

یہ بات درست ہے  کہ انگریز بذات خود ملک پر قابض نہیں  ہو ئے  بلکہ مغلوں  کی نا اہلی اور انگریزوں  کی شاطرانہ چالوں  کا عمل دخل تھا۔ جس کے  سبب ملک کے  دیگر حصوں  پر باری باری وہ قابض ہو تے  چلے  گیے۔ ہندوستانیوں  کی تو ہین، ان پر ظلم و بربریت کا قہر اور دل آزاری کا سلسلہ دن بدن بڑھتا چلا گیا۔ یہانتک کہ دہلی پر بھی قابض ہو نے  کے  لیے  فرنگیوں  کی اندرونی طور پر تیار یاں  زوروں  پر چل رہی تھیں  ۔ اس کے  اثرات جگہ بجگہ دِکھ رہے  تھے  جس سے  یہاں  کے  سربر آوُ ردہ لو گوں  نے  محسوس کیا کہ مذہبی شعائر،  عزت و آبرو، جان و مال کا تحفظ اور سماجی و معاشرتی زندگی بری طرح متاثر ہو تی جا رہی ہے۔ انگریزوں  کے  نا پاک عزائم کے  خلاف دن بدن تدبیریں  سوچی جا نے  لگی۔ ان میں  فضل ِحق خیرآبادی، مولانا امام بخش صہبائی، نواب مصطفیـٰ خاں  شیفتہ، نواب ضیاء الدین نیّررخشاں ، مولوی محمد باقر کے  علاوہ مفتی صدرالدین آزردہ وغیرہ بھی شامل تھے  لیکن یہ بات بھی ذہن نشیں  ہو نی چاہیے  کہ آزردہ انگریزی صدرالصدور ہو تے  ہوئے  کسی محاذ پر پیش پیش تو نہیں  رہے  البتہ پس ِ پشت ہمیشہ مجاہدین ِ آزادی کی مدد کر تے  رہے۔ ایک مر تبہ جب انہیں  مجا ہد ین کی آمد کی خبر ہو ئی تو وہ عدالتی اجلاس بر خاست کر کے  چلے  گئے  اور ان کی خد مت گزاری میں  لگ گئے۔  انگریزوں  کا سب سے  خطرناک دشمن ’مجاہدین ‘تھا اور یہ گروہ آزردہ کے  درِ دولت پر رہا کر تے  تھے  کہ اچانک ایک دن ۹/ اگست ۱۸۵۷ کو انگریزوں  کو خبر ملی کہ آزردہ کے  گھر پر ستّر جہادی مقابلے  کے  لئے  تیار بیٹھے  ہیں ۔ انہوں  نے  اپنے  سپاہیوں  کو بھیجا لیکن الٹے  پاؤں ‘ واپس آنا پڑا کیو نکہ ’’انقلابیوں  کا گروہ اور انقلابی فوج آزردہ صاحب سے  اس درجہ متاثر تھی کہ آزردہ صاحب کی خاموش دلچسپی انقلابی سرگرمیوں  سے  وابستہ تھی۔

آزردہ انگریزوں  کی ملا زمت کر تے  ہوئے  بھی وہ انگریزوں  کی صف میں  شامل نہیں  تھے  بلکہ بہادر شاہ کے  دربار سے  منسلک رہنا پسند کر تے  تھے۔

انگریزوں  کے  ظلم و زیادتی نے  ہندو مسلم کو دوش بدوش رہنے  پر مجبور کر دیا کیو نکہ برطانوی اقتدار کی نا انصافی او ر بے  ایمان کے   کا رنامے  اظہر من الشمش کی طرح ہندوستانیوں  پر عیاں  ہو چکے  تھے۔ اِ ن فِلڈ رائفلوں  کا استعمال جس میں  کا ر توس کو چربی سے  چکنا کیا جا تا تھا۔ یہ چربی سور یا گائے  کی ہو تی تھی۔ ہندوستانی فوجیوں  میں  اس کے  برخلاف ردّ عمل شروع ہو ا۔ اسی مو قع پر ایک گِروہ نے  گائے  کی قربانی یا ذبیحہ پر پا بندی لگا نے  کی کو شش کی تو مولانا شاہ احمد سعید جو بر گزیدہ ہستی تھی۔ ان مخالفین سے  جہاد کے  لیے  جامع مسجد کے  سامنے  جہاد کا جھنڈا گاڑ دیا۔ دیکھتے  ہی دیکھتے  ہزاروں  لو گ جمع ہو گیے۔ اس کا علم بادشاہ کو ہوا تو انہوں  نے  مفتی صدرالدین آزردہ کے  ذریعے  ایک تحریر مولانا شاہ احمد سعید کو بھیجوایا جس میں  آزردہ کا یہ شعر بھی درج تھا۔

رخ متاب اے  یا ر گر پیشت نیاز آرد کسے

نازنیں  آں  بہہ کز و ہر گز نیاز آرد کسے

مولانا نے  جہاد کا ارادہ تر ک کر دیا۔ اسی دوران حالات اتنے  خراب ہو چکے  تھے  کہ جنرل بخت خاں  جب دہلی آئے  تو انہوں  نے  شہر کے  عمائدین اور علماء کو شاہ جہانی جامع مسجد میں  جمع کیا اور انگریزی سامراج کے  خلاف مسلمانوں  میں  جوش و ولولہ پیدا کر نے  کی غرض سے  جہاد کے  لیے  تاریخی فتوی ٰ مر تب کیا گیا، جس میں  شہر کے  مشاہیر علماء کر ام کے  علاوہ مفتی صدرالدین آزردہ نے  بھی دستخط کیے۔

مگر افسوس کہ ۱۸۵۷کی تحریک ِ انقلاب نا کام ہو گئی۔ ہر چہار جانب قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ بڑ ے  بڑے  علماء، شرفا، صلحا و ادبا شہید کر دیے  گئے۔بہادر شاہ ظفر کو قید کر کے  رنگون بھیج دیا گیا۔ ہزاروں  بے  گناہوں  کو قید کر لیا گیا۔ آزردہ اس منظر کا نقشہ اس طرح کھینچتے  ہیں  :

آفت اس شہر میں  قلعہ کی بدولت آئی

واں  کے  اعمال سے  دہلی کی بھی شامت آئی

روزِ مو عود سے  پہلے  ہی قیامت آئی

کالی میرٹھ سے  یہ کیا آئی کہ آفت آئی

گوش زدہ تھا جو فسانوں  سے  وہ آنکھوں  دیکھا   جو سنا کر تے  تھے  کا نوں  سے  وہ آنکھوں  دیکھا

دوسری جگہ آزردہ لکھتے  ہیں  کہ :

روزِ وحشت مجھے  صحرا کی طرف لاتی ہے

سر ہے  اور جوش ِ جنوں ، سنگ ہے  اور چھا تی ہے

ٹکڑے  ہو تا ہے  جگر، جی ہی پہ بن جا تی ہے

مصطفیٰ خاں  کی ملاقات جو یاد آتی ہے

کیوں  نہ آزردہ نکل جائے  نہ سودائی ہو

قتل اس طرح سے  بے  جرم جو صہبائی ہو

 غالب بھی اپنے  ایک خط میں  لکھتے  ہیں  کہ :

’’ انگریز کی قوم میں  سے  جو اِ ن رو سیاہ کالوں  کے  ہا تھ سے  قتل ہوئے  اس میں  کوئی میرا امید گاہ تھا اور کوئی میرا شفیق اور کوئی میرا دوست اور کوئی میرا یا ر اور کوئی میرا شاگرد۔ ہندوستانیوں  میں  کچھ عزیز کچھ شاگرد، کچھ معشوق، سو وہ سب کے  سب خاک میں  مل گئے۔ ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہو تا ہے  !جو اتنے  عزیزوں  کا ماتم دار ہو۔ اس کو زِیست کیوں  نہ دشوار ہو۔ ہائے  !اتنے  یار مرے  کہ جو اَب میں  مروں  گا تو کوئی میرا رونے  والا بھی نہ ہو گا۔ انا للہ و انا للہ راجعون ‘‘(تفتہ ۱۸۵۸)

یہ جنگ ِ آزادی تقریباً دوسال تک چلتی رہی۔ ۱۸۸۹تک آتے  آتے  انگریزحکو مت نے  تمام شورشوں  پر قابو پا لیا اور اپنے  تمام حریفوں  کو پا مال کر کے  جنگ کو نا کام بنا دیا۔

مفتی صدر الدین آزردہ، نواب مصطفے  ٰ خاں  شیفتہ اور ان کے  دیگر احباب بھی انگریزوں  کے  عتاب کا شکا رہوئے  اور گرفتار کر لیے  گئے۔ آزردہ کہتے  ہیں  کہ :

آپھنسے  بیڈھب الہی دیکھیے  کیسے  بنے

مر رہے  ہیں  سب الہی دیکھیے  کیسے  بنے

اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے  کہ آزردہ انقلابی تحریک سے  وابستہ ہو نے  کے  باوجود سزائے  موت کے  مُرتکب کیوں  نہیں  ہوئے  جب کہ فتوی جہاد پر ان کے  بھی دستخط تھے۔ آزردہ ذی علم ہو نے  کے  ساتھ ساتھ فلسفہ اور منطق کے  بھی بہت بڑے  عالم تھے۔انہوں  نے  دستخط کے  نیچے  بہت باریکی کے  ساتھ ’’کتبت بالحر ‘‘ کا لفظ لکھا جو اس زما نے  میں  ’کتبت بالخیر ‘لکھنے  کا رواج تھا لیکن اس میں  انہوں  نے  حرف ’ح‘ اور ’ی‘ پر نقطہ نہیں  لگا یا۔ علمائے  وقت نے  اسے  ’بالخیر ‘ پڑھا اور آزردہ نے  عدالت میں  پیشی کے  دوران ’کتبت بالجبر ‘ کا اعلان کیا۔ جس سے  آزردہ اپنی جان بچا گئے  لیکن وہیں  یہ اعتراض بھی اٹھتا ہے  کہ مفتی صدرالدین آزردہ جیسے  شخص جھوٹ کا سہار ا کیونکر لیں  گے  اس لیے  علمائے  وقت اور دیگر اس بات کو ماننے  سے  انکار کر تے  ہیں  کیو نکہ آزردہ عدل و انصاف کے  پیکر تھے۔ ان کی ذات پر شک کر نا اچھی بات نہیں  البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے  کہ وہ انگریز وں  سے  ساز باز ضرور رکھتے  تھے۔ اسی ساز باز کے  تحت مولوی ذکا ؤ اللہ ایک جگہ لکھتے  ہیں  کہ :

’’ایک اور طریقہ بھی امیروں  کے  لَوٹنے  کا تھا۔ بعض ذی اختیار انگریز مجرموں  کو سب طرح کے  جرم سے  بری ہو نے  کی اسناد دیتے ، اور ان سے  خاطر خواہ روپیہ لے  لیتے ، مشہور ہے  کہ نواب حامد علی خاں ، مفتی صدرالدین خاں  آزردہ اور مکند لال مصر نے  اس طرح زَرِ کثیر دے  کر اپنی جا نیں  بچائی تھیں ‘‘ (تاریخ عروج عہد انکلیشیہ ص۱۴)

اس طرح یہ بات کہی جا سکتی ہے  کہ ۱۸۵۷ء کے  ہنگا مہ خیز بغاوت میں  آزردہ کو سخت تکلیف اٹھا نی پڑی۔ روزگار سے  ہاتھ دھو نا پڑا۔تمام جائیدا د اور املاک جو انہوں  نے  تیس سالہ ملازمت میں  کمایے  تھے  وہ بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔ فتوی جہاد کے  الزام میں  کئی ماہ قید با مشقت زندگی گزارنے  کے  بعد جرم ثابت نہ ہو نے  کی وجہ سے  بری ہوگئے۔

غالب ان تمام واقعات کے  چشم دید گواہ ہیں  ۔ ان کے  خطو ط ۱۸۵۷میں  ہو نے  والے  حالات کو بنفس ِ نفیس بیان کر تے  ہیں  ۔  جیل سے  رہا ئی کے  بعد آزردہ کے  طرز ندگی کو غالب اپنے  رفیق حکیم سید احمد حسن مو دودی کو لکھتے  ہیں  کہ :

’’مولوی صدرالدین صاحب بہت دن حوالات میں  رہے۔ کورٹ میں  مقدمہ پیش ہو ا۔ روبکاریاں  ہوئیں  ۔ آخر صاحبان ِکو رٹ نے  جاں  بخشی کا حکم دیا۔ نوکری موقوف۔ جائیداد ضبط، ناچار خستہ و تباہ حال لا ہور گئے۔ فنا نشل کمشنر اور لفٹنٹ گورنر نے  از راہ ترحم نصف جائیداد و اگزاشت کی۔ اب نصف جائیداد پر قابض ہیں  ۔ اپنی حویلی میں  رہتے  ہیں  ۔ کرایہ پر معاش کا مدار ہے۔ اگرچہ بہ آمدنی ان کے  گزار ے  کو کافی ہے۔ کس واسطے  کہ ایک آپ اور ایک بی بی۔ تیس چالیس روپے  مہینہ کی آمدنی ‘‘(اردو ئے  معلی ص ۲۴۱)

مجموعی طور پر ہم مفتی صدرالدین آزردہ کا مطالعہ کر تے  ہیں  تو وہ ایک برگزیدہ شخصیت کے  طور پر ابھر کر سامنے  آتے  ہیں  ۔ وہ گونا گوں  صفات کے  علمبردار تھے۔ ایک ماہر معلم، علم دوست، عربی و فارسی کے  اچھے  انشا پر داز، عدل و انصاف کے  پیمبر، قوم و ملت کے  ہمدردو غمگسار تھے۔ جہاں  تک بر طانوی حکو مت کی ملازمت کی بات ہے  تو وہ وقت اور حالات کے  پیش ِ نظر تھا جب کہ ان کی محبت اور حقیقی وفاداری سلطنتِ مغلیہ کے  آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے  ساتھ تھی۔

دوسری جانب وہ معاصرین ِ غالب میں  دینی و دنیاوی علم وادب کے  بڑے  مائے  ناز استاد تو تھے  لیکن تصنیف و تالیف کے  میدان میں  وہ کار نامہ انجام نہ دے  سکے۔ البتہ چند معدودے  کتاب کے  علاوہ عربی و فارسی اور سرمایہ کلام اردو کافی اہم ہیں  ۔ جس میں  ان کی غزلیں  اور انقلاب اٹھارہ سو ستّاون کے  حالات ’شہر آشوب ‘کی شکل میں  دستیاب ہے۔ جو پڑھنے  سے  تعلق رکھتا ہے۔

٭٭٭

ڈاکٹر محمد ارشد

شعبہ ٔ اردو، دیال سنگھ کا لج،  لو دھی روڈ، دہلی یو نیورسٹی

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.