اردو تحقیق و تدوین کی روایت و اہمیت :امتیاز علی خان عرشی اور قاضی عبد الودودکی خدمات کی روشنی میں   

ڈاکٹر الطاف حسین نقشبندی

  اسسٹینٹ پروفیسر,شعبۂ ارود، سینٹرل یونی ورسٹی کشمیر

قدیم مخطوطات کی بازیافت جن کی علمی، ادبی  اور تاریخی اہمیت ہو انھیں منشائے  مصنف کے  مطابق ترتیب دینا تدوین کہلاتا ہے۔منشائے  مصنف کے  مطابق متن کو ترتیب دینے  کے  کچھ اصول و آداب ہیں اور بہت سے  مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان سے  عہدہ بر آ ہونے  کے  بعد ہی کوئی مرتب کسی متن کو اچھی طرح ترتیب دے  سکتا ہے۔کسی بھی متن کو مرتب کرنے  کے  لئے  سب سے  پہلے  مواد کا فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس کی دو صورتیں ہیں پہلا یہ کہ وہ ایک جگہ موجود ہو دوسرا یہ کہ بکھری ہوئی حالت میں ہو۔ مثلاً کسی کا دیوان ہے  یا تذکرہ یا پھر لغت ہے  تو بس اس کا طریقہ یہ ہے  کہ اصل مخطوطے  سے  اس متن کو نقل کر لیا جائے۔مخطوطے  کی بھی مختلف صورتیں ہویتی ہیں ۔  خود مصنف کے  ہاتھ کا لکھا ہوا یا اس کا اصلاح کیا ہوا یا کم از کم اس کی نظر سے  گذرا ہوا۔اس سے  مختلف صورت یہ ہے  کہ کسی متعلق یا غیر متعلق شخص نے  مخطوطے  کی کتاب کی ہو اور یہ مصنف کی نظر سے  نہ گذرا ہو۔پہلی صورت میں مصنف متن سے  متفق ہوگا لیکن دوسری صورت میں نہیں۔

لہذا مرتب متن کی یہ ذمہ داری ہے  کہ وہ قلمی نسخوں کو تلاش کرنے  کی کوشش کریں لیکن قلمی نسخیں اور قابل اعتماد ایڈیشن آسانی سے  دستیاب نہیں ہوتے  بلکہ ملک اور بیرون ملک کے  کتاب خانوں سے  بکھرے  ہوئے  صورت میں ملتے  ہیں۔ زیر ترتیب متن کے  تمام ممکن الحصول نسخوں اور ان کے  ذیلی متعلقات کی دستیابی تدوین متن کا بنیادی لازمہ ہے۔اردو تدوین کی روایت میں علی خاں عرشی اور قاضی عبد الودود کے  کارنامے  قابل ذکر ہیں۔

امتیاز علی خاں عرشی:

تحقیق و تدوین کا کام جس دیدہ ریزی اور جگر کاوی کا مطالبہ کرتا ہے  امتیاز علی خاں عرشی اس پر پورے  اترتے  ہیں۔ اس تیز رفتاری اور سہل پسندی کے  دور میں ان کے  معیار کے  بلند پایہ عالم اور محقق نایاب ہیں۔ ان کی ساری زندگی تحقیق و تصنیف کے  کام میں بسر ہوئی، عرشی صاحب نے  تصنیف و تالیف کی ابتدااپنی تعلیم کے  زمانے  سے  ہی پنجاب یونی ورسٹی میں کی۔ کچھ دنو ں  کے  بعد رام پور ریاست کی عظیم الشان رضا لائبریری سے  وابستہ ہو گئے، عربی فارسی انگریزی زبانوں سے  گہری واقفیت کے  ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتے  تھے۔لیکن ان کا اصل میدان تحقیق و تدوین ہے۔عرشی صاحب نے  تحقیق کے  میدان میں کار ہائے  نمایاں انجام دئے۔خاص طور سے  غالبیات میں انھوں نے  بہت اضافے  کئے۔  مثلاً یوسف علی خان ناظم اور نواب کلب علی خاں کے  نام غالب نے  جو خطوط لکھے  تھے  وہ رام پور کے  دار الانشاء میں محفوظ تھے۔عرشی صاحب نے  ان خطوط کو ’’مکاتیب غالب ‘‘ کے  نام سے  مرتب کیا اور 183صفحات پر مشتمل طویل مقدمہ کے  ساتھ 1937میں شائع کیا۔اس کے  علاوہ فارسی اور اردو پر مشتمل ایک کتاب’’ انتخاب غالب‘‘ کے  نام سے  شائع کی۔اس کتاب کا دیباچہ عرشی صاحب کی محققانہ علمیت کا مظہر ہے۔

غالب نے  اپنے  کلام میں بعض ایسے  الفاظ استعمال کئے  ہیں جو انھیں سے  مخصوص تھے  یا فارسی و اردو کے  مشکل الفاظ  کا استعمال کیا ہے  جسے  عام قاری سمجھنے  سے  قاصر رہتا ہے۔لہذا عرشی صاحب نے  ایک اہم کام یہ کیا کہ غالب کی ارود ئے  معلیٰ، عود ہندی، ابر گہر، انتخاب غالب، پنچ آہنگ، تیغ تیز، دستنبو، قاطع برہان اور غالب کی دوسری تخلیقات کی مدد سے  انھوں نے  فرہنگ تیار کی۔جو 1947میں ’’فرہنگ غالب ‘‘کے  نام سے  شائع ہوئی۔

غالب شناسی میں عرشی صاحب کا ایک نمایاں کارنامہ ’’دیوان غالب نسخہ عرشی‘‘کے  نام سے  بھی ہے۔اس نسخہ میں غالب کے  اردو کلام کو تاریخی ترتیب سے  پیش کیا ہے۔اس کے  تین حصے  ہیں پہلے  حصے  کا عنوان ’’گنجینہ معنی ‘‘ہے۔اس میں غالب کے  ابتدائی زمانے  کا کلام ہے۔دوسرے  حصے  کا نام ’’نوائے  سروش‘‘ہے۔اس حصے  میں وہ اشعار ہیں جو غالب کی زندگی میں کئی بار چھپ چکے  تھے۔تیسرے  حصے  کا نام ’’یادگار نالہ ‘‘ہے  اس حصے  میں غالب کے  وہ اشعار ہیں جو متداول دیوان میں شامل نہیں ہیں ۔ یہ وہ اشعار ہیں جو غالب کے  دیوان کے  کسی نسخے  کے  حاشیہ یا خاتمے  یا کسی بیاض یا کسی خط میں موجود تھے۔اس نسخے  کے  تینوں حصوں کے  نام غالب کے  اشعار سے  ہی ماخوذ ہیں۔ ایک بار اس نسخے  کے  شائع ہونے  کے  بعد عرشی صاحب نے  دوسری بار کی طباعت میں مزید چھان بین اور تلاش و جستجو کر کے  نئے  مآخذ کا استعمال کرکے  اختلاف نسخ کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا ہے۔

اس لحاظ سے  نسخہ عرشی دوسرے  تمام نسخوں کے  مقابلے  صحت متن اور اپنے  مقدمہ کے  اعتبار سے  قابل قدر ہے۔اس کا مقدمہ بہتر 72 صفحات پر مشتمل ہے۔اس بسیط مقدمے  سے  بہت سی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں ۔ اس نسخہ کی ایک خصوصیت یہ ہے  کہ اس میں منشائے  مصنف کا حتی الامکان لحاظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً غالب پاؤں کو پانو لکھتے  تھے، خورشید کو خرشید، اور ذال والے  لفظ کو ز سے  لکھتے  تھے  چنانچہ عرشی صاحب نے  غالب کے  اس مخصوص طرز کو مد نظر رکھا ہے۔

عرشی صاحب کو یہ امتیاز حاصل ہے  کہ انھوں نے  پہلی بار غالب کے  تمام اردو کلام کو تاریخی ترتیب اور صحت متن کے  ساتھ اور دوسرے  تمام تحقیقی اصولوں کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا۔جب کہ اس سے  پہلے  ڈاکٹر عبد اللطیف نے  غالب کے  اردو اشعار کو تاریخی ترتیب سے  پیش کرنے  کا ارادہ کیا تھا۔مگر ان کی کوشش پوری نہ ہو سکی اور اس عظیم کارنامہ کی خواہش تشنہ رہ گئی۔اس کے  بعد شیخ محمد اکرام نے  بھی ’’غالب نامہ ‘‘اور ’’ارمغان غالب ‘‘ میں کلام غالب کی نئی ترتیب پیش کرنا چاہی مگر وہ بھی ناکام رہے۔اس قدر محنت و ریاضت سے  دیوان غالب کو مرتب کرنے  کے  باوجود اس پر محمد سعید کا اعتراض ہے  کہ:

’’نسخہ عرشی میں اختلاف نسخ کے  اندراج میں کوئی خاص قاعدہ یا طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔اس میں چار طرح کے  اختلاف آئے  ہیں پہلی قسم کا تبوں کے  املا اور رسم الخط وغیرہ کی اختلاف کی ہے۔دوسری کاتبوں کے  سہو پر مبنی ہے۔تیسری متن کے  اختلاف اور چوتھی غزلوں کے  اندر اشعار کی ترتیب کے  فرق کی ہے۔مختلف نسخوں پر غالب کی اصلاحوں کو بھی اختلاف نسخ ہی کے  ذیل میں رکھا گیا ہے۔‘‘1  ؎

اپنے  اسی مضمون میں محمد سعید صاحب نے  نسخہ عرشی کے  متعلق ایک اور رائے  دی ہے  جس میں اس نسخہ کے  مشکوک ہونے  کا اندازہ ہوتا ہے۔

’’۔۔۔۔۔۔غالب چونکہ بعض الفاظ کے  املا کے  بار ے  میں اپنی منفرد رائے  رکھتے  تھے  اور اپنی تحریروں میں اس کی پابندی بھی کرتے  تھے۔اس لئے  جس طرح اصول تدوین کے  مطابق متن کو منشا کے  مصنف کے  مطابق پیش کرنا ہوتا ہے۔اس طرح املا بھی مصنف (خصوصا  غالب)کے  منشا کے  مطابق درج کرنا چاہئے  اس لحاظ سے  دیکھیں تو نسخہ عرشی طبع اول یا طبع ثانی دونوں میں غالب کے  املا کی مکمل پیروی نہیں کی گئی جو اصول تدوین کے  خلاف ہے۔‘‘2ـ ؎

عرشی صاحب کے  تحقیق و تدوین کا ایک بہترین نمونہ احمد علی یکتا کی دستور الفصاحت ہے۔اس کتاب کے  دیباچے  میں انھوں نے  بہت سی معلومات یکجا کی ہیں ۔  جو ان کے  وسیع مطالعے  کے  ضامن ہیں ۔ کڑی محنت و ریاضت کا ثبوت بھی۔ شاہ عالم ثانی کے  ارود فارسی اور ہندی کلام کو ’’نادرات شاہی ‘‘کے  نام سے  شائع کیا۔ اس کتاب کا بھی دیباچہ بہت ہی علمی ہے۔عرشی صاحب کے  نادر و نایاب کتابوں کے  ذخیرہ میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے۔اس سے  ہمیں شاہ عالم ثانی کے  بارے  میں بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں ۔

انشاء اللہ خان انشاء کی مختصر کہانی سلک گہر کو بھی عرشی صاحب اپنے  دیباچے  کے  ساتھ 1948میں اسٹیٹ پریس رام پور سے  چھپوایا، محاورات کے  نام سے  ایک کتاب شائع کی جس میں بیگمات کے  محاوروں کو جمع کیا ہے۔خان آرزو کی ’’نوارد الفاظ ‘‘میں کواتین کے  محاورے  اور الفاظ نقل کئے  گئے  تھے۔سعادت یار خاں رنگین نے  بھی ’’دیوان ریختی‘‘میں بیگمات کے  محاوروں کو جمع کیاتھا۔عرشی صاحب نے  ’’دیوان ریختی‘‘اور ’’نوادر الفاظ‘‘کو سامنے  رکھ کر ’’محاورات بیگمات‘‘ترتیب دی۔ اس کے  علاوہ عرشی صاحب نے  کئی عربی کتابوں کے  اردو میں ترجمے  کئے  اور مخطوظات کو بھی مرتب کیا۔

عرشی صاحب نے  شاعروں اور ادیبوں سے  متعلق تحقیقی مقالات بھی لکھے   مثلاً۔

سودا کا ایک قصیدہ اردو ادب علی گڑھ 1950

خطوط داغ، اردو ادب علی گڑھ ستمبر 1952

آنند رام مخلص کے  اردو شعر، معاصر پٹنہ حصہ 1مئی 1951

مومن کا کلام فارسی۔پگڈنڈی، امرتسر جنوری 1960

ناسخ کے  دفتر پریشاں کا بیش قیمت سودہ۔ قومی زبان کراچی مئی 1979

امتیاز علی خاں عرشی کی تحریروں پر اگرچہ بعض ناقدین نے  اعتراز کیا ہے  مگر ان کی وسیع کارنوموں کے  پیش نظر انہیں صف اول کے  محققین میں شمار کرنے  میں کوئی ترددنہیں ۔

قاضی عبد الودود

اردو تحقیق و تدوین کی روایت میں قاضی عبد الودود (1898-1986)کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے  اپنے  وقت کا بیشتر حصہ مطالعہ میں صرف کیا حافظہ بہت قوی تھا چنانچہ انہوں نے  تحقیق کے  میدان میں کار ہائے  نمایاں انجام دئے۔ فارسی، عربی اور اردو ادب کے  علاوہ بہترین انگریزی اور فرانسیسی بولنے  پر بھی قدرت رکھتے  تھے۔انہوں نے  اعلیٰ تعلیم کیمبرج سے  حاصل کی اور بیرسٹر کی اعزازی ڈگری حاصل کی تھی مگر انہوں نے  بیرسٹری کا پیشہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ قانون کے  مطالعے  نے  انہیں تحقیق کی نئی راہ دکھائی اور قاضی صاحب نے  تصنیف و تالیف  اور ادبی تحقیق میں حصہ لیا۔ مستقل قیام پٹنہ میں رہا مگر علمی ضروریات کے  تحت مختلف مقامات کے  سفر کرتے  رہے۔ قاضی صاحب نے  ایک محقق کی تقریباً تمام خوبیاں موجود تھیں  مثلاً مزاج کے  بہت کھرے  تھے ، خوش خلق ہونے  کے  با وجود علمائے  ادب کی غلطیوں کو نہایت ہی بے  باکی سے  نشان زد کرکے  ان کے  سامنے  لاتے  تھے۔ قریبی دوستوں کے  ساتھ بھی رعایت و جانبداری سے  کام نہ لیتے۔اپنی تحقیق سے  متعلق غلطیوں کا بھی صدق دل اعتراز کرتے۔ گویا ہر بات نہایت قطعیت کے  ساتھ بیان کرتے  تھے۔ شعر کا استخراج دلائل و براہین کے  ذریعے  کرتے  یوں ہی قیاسی باتیں نہیں کرتے  تھے۔قاضی صاحب کی محققانہ علمی صلاحیت کے  ضمن میں رشید حسن خان رقم طراز ہیں  :

’’قاضی صاحب کی تحریروں سے  تحقیق کو جو طاقتور عناصر ملے  ہیں ان میں ظاہری سطح پر شاید سب سے  نمایاں چیز تحقیق زبان ہے  اور وہ اسلوب جو معنویت سے  معمور اور رنگینی سے  محفوظ ہے۔ سادہ ہموار اور ایک حد تک کھردرے  پن سے  آراستہ۔ ان کی تحریروں نے  یہ سکھایا کہ بقدر ضرورت لفاظ کو استعمال کرنا چاہئے  اور بے  ضرورت صفائی الفاظ کی تحقیق میں الفاظ کی تحقیق میں مطلق گنجائش نہیں ۔

قاضی صاحب کی تحریر الفاظ کی کفایت شعاری اور ان کے  حد درجہ محتاط استعمال کی نہایت عمدہ مثال ہوتی ہے۔لفظوں کو قطعیت کے  ساتھ متعین معنی میں استعمال کرنا بھی ان کی تحریری خصوصیت ہے۔

اس زمانے  میں تحقیق سے  تعلق رکھنے  والے  نسبتاً نئے  لوگوں میں الفاظ کے  انتخاب اور ان کے  استعمال میں جس حد تک بھی احتیاط آئی ہے  اور انداز بیان کی سادگی کو جو ضروری اہمیت حاصل ہوئی ہے  یہ در اصل قاضی صاحب کی تحریروں کا اثر ہے۔‘‘3  ؎

قاضی صاحب کے  شوق مطالعہ نے  معلومات کا ذخیرہ بہت وسیع کردیا تھا۔ انھوں نے  ہندوستان کی اٹھاروی اور انیسوی صدی کی مغل تاریخ کا مطالعہ کیا، فارسی اور قدیم فارسی کا بھی وسیع علم تھا، میر کے  چھ دیوان، غزلیات، مثنویات، مراثی، قطعات و رباعیات وغیرہ کا گہرائی سے  مطالعہ کیا۔اس کے  علاوہ قاضی صاحب یاداشت اور نوٹ بھی بناتے  جاتے  تھے۔تذکرہ نگاری، تاریخ ادب اور عہد مغل کی تاریخ کے  سلسلے  میں بڑی گہری معلومات تھی۔

قاضی صاحب کی اصل شناخت اردو تحقیق کی دنیا میں ان کے  تحقیقی مضامین کی وجہ سے  ہے۔ جو سائینٹیفیک تحقیقی اصولوں کے  نقطہ نظر سے قابل قبول ہیں۔ سہل پسندی اور جانبداری سے  یکسر پاک ہیں  مثلاً غالب بحیثیت محقق، جہان غالب، محمد حسین آزاد بحیثیت محقق، ’’یاداشت ہائے  قاضی عبد الودود، آوارہ گرد کے  اشعار، تعین زمانہ وغیرہ ان تحقیقی مضامین کو بطور نمونہ پیش کرکے  قاضی صاحب نے  قابل قبول شہادت کو لازمی قرار دیا، اس کے  علاوہ قاضی صاحب کا اہم تحقیقی کانامہ یہ بھی ہے  کہ انہوں نے  شاعروں کے  سن ولادت، سن وفات سفر کا زمانہ، تصانیف کا زمانہ اور ان کے  معاصرین وغیرہ کا ذکر مختلف قرینوں سے  زمانہ کا تعین کر کے  لکھا اور ’’تعین زمانہ‘‘ میں شامل کیا۔

قاضٰ صاحب کے  وسیع مطالعے  اور تحقیقی ذہن کی شہادت ان کے تبصروں سے  ملتی ہے ۔ مسعود حسن رضوی ادیب نے  فائز دہلوی کا دیوان مرتب کیا تو قاضی صاحب نے  مطالعے  کے  دوران بہت سی کمیوں کی نشاندہی کی۔ قاضی صاحب نے  تبصرے  دو طرح کے  لکھے۔ ایک تو غلطیوں کی تصحیح کی، دوسرے  معلومات میں اضافہ کیا۔ اس طرح خواجہ احمد فاروقی نے  ’’میر تقی میر حیات اور شاعری ‘‘کے  نام سے  کتاب لکھی۔ قاضی صاحب نے  اس پر تبصرہ کیا تو متعدد کمیوں اور خامیوں کی طرف اشارہ کر دیا، قاضی صاحب کے  تبصرے  ’’عیارستان ‘‘اور ’’اشتر و سوزن ‘‘کے  نام سے  شائع ہوئے۔ نور الحسن ہاشمی کی کتاب ’’دلی دبستان شاعری‘‘لکھنو کا دبستان شاعری (ابواللیث صدیقی)اور بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقا  (اختراورینوی)  ان تمام کتابوں پر انہوں نے  مفصل بحث کی  اور ان مصنفین سے  جو سہو لغزش کلام سرزد ہوا سب کی طرف توجہ دلائی۔ اس کام میں انہوں نے  شخصی تعلق، مروت و رعایت پر تحقیقی اصول کو ترجیح دی۔ ان کی اسی دیانت داری کے  پیش نظر رشید حسن خان نے  اپنے  مضمون میں لکھا ہے  کہ

’’قاضی صاحب جیسی دیو قامت شخصیت نہ ہوتی تو اس زمانے  میں احتساب کی روایت شاید مرحوم ہو کر رہ جاتی اور اس طرح تحقیق کو بے  طرح نقصان پہنچتا۔ قاضی صاحب نے  اپنے  طرز عمل سے  اس بات کو اصول کا درجہ بخش دیا کہ تحقیق اور ذاتی تعلقات میں کوئی نسبت نہیں ۔ ‘‘4 ؎

قاضی صاحب نے  ان تمام کاموں کے  ساتھ ساتھ ترتیب و تدوین کا کام بھی انجام دیا  مثلاً دیوان جوشش، دیوان رضا (ترتیب )تذکرہ ابن طوفان (تدوین)وغیرہ کو نہایت ہی عرق ریزی اور دیانت داری کے  ساتھ ترتیب و تدوین کیا  اور شرائط تحقیق کو ملحوظ رکھا جو خود انھوں  نے  ہی زور دے  کر کہی تھیں ’’مزاج کی مناسبت ضروری ہے  علم کافی نہیں دوسرے  یہ کہ قبول عام کی خواہش کرنا۔ ‘‘

قاضی صاحب کو ماہر غالبیات کے  نام سے  بھی یاد کیا جاتا ہے  وہ یوں کہ غالب کے  غیر مطبوعہ خطوط کو جو ڈھا کے  کے  حکیم حبیب الرحمان کے  قلمی بیاض میں موجود تھے  جن کی تعداد تقریباً 32تھیں اور اس کے  ساتھ دوسری فارسی کی نادر تحریروں کو اکٹھا کر کے  آثار غالب کے  نام سے  شائع کیا مگر جب شیخ محمد اکرام کی کتاب آثار غالب سے  واقفیت ہوئی تو نام بدل کر اپنی کتاب کا نام ’’اثر غالب ‘‘رکھا۔اس کے  علاوہ انہوں نے  غالب پر چھوٹے  چھوٹے  متعدد مضامین لکھے  جسے  خدابخش لائبریری پٹنا نے ’’ جہان غالب ‘‘  کے  نام سے  شائع کیا۔ اس کے  علاوہ قاطع برہان اور سائل مطعلقہ بھی غالبیات میں اضافہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔

قاضی صاحب نے  میر، مصحفی، انشاء اور مومن پر جو مضامین قلم بند کئے  ہیں وہ ان کی محققانہ شان کے  مظہر ہیں۔ مومن کے  خطوط کو قاضی صاحب نے  پہلی بار تفصیل کے  ساتھ مطالعہ کرکے  اردو خطوط میں مومن کو متعارف کرایا۔ قاضی صاحب کے  متعدد ادبی کارناموں میں ایک کام رسالہ ’’تحقیق ‘‘کا اجرا بھی ہے  مگر یہ زیادہ عرصے  تک نہیں چل سکا۔

ان تمام کوششوں و کاوشوں کے  با وجود قاضی صاحب پر اعتراز ہے  کہ انہوں نے  کوئی مستقل کتاب نہیں لکھی، دوسری یہ کہ قاضی صاحب کی نگارشات میں توازن و اعتدال کا فقدان ہے۔لیکن اگر اسے  مان بھی لیا جائے  تب بھی قاضی صاحب کی محققانہ خصوصیات اور ان کی خدمات کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔انہوں نے  تحقیق و تدوین کے  جو نمونے  پیش کئے  ان سے  عمل تحقیق کے  نئے  نئے  گوشے  روشن ہوتے  ہیں جو کہ اس نئی نسل کے  لئے  کار آمد اور مشعل راہ ثابت ہوتے  ہیں۔

حواشی:

1۔دیوان غالب نسخہ عرشی کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ، سعید احمد مشمولہ تحقیق و تدوین :سمت رفتار، مرتب ڈاکٹر محمد موصوف احمد، ص:249

2۔ایضاً۔ص 265

3۔تحقیق کا معلم ثانی، قاضی عبد الودود، رشید حسن خاں  ، مشمولہ تحقیق و تدوین، سمت رفتار :مرتب موصوف احمد، ص:138

4، ایضاً، 140

٭٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.