لسانیات۔۔۔تعارف اوراہمیت

ڈاکٹر رابعہ سرفراز

ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اردو

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی فیصل آباد

لسانیات اس علم کو کہتے  ہیں جس کے  ذریعے  زبان کی ماہیت ‘تشکیل‘ارتقا‘زندگی اور موت کے  متعلق آگاہی حاصل ہوتی ہے۔زبان کے  بارے  میں  منظم علم کو لسانیات کہا جاتا ہے۔یہ ایسی سائنس ہے  جو زبان کو اس کی داخلی ساخت کے  اعتبار سے  سمجھنے  کی کوشش کرتی ہے۔ ان میں  اصوات‘خیالات‘سماجی صورتِ احوال اور معنی وغیرہ شامل ہیں ۔ لسانیات میں  زبان خاص معنی میں  استعمال ہوتی ہے۔اشاروں  کی زبان یاتحریر لسانیات میں  مرکزی حیثیت نہیں  رکھتی۔لسانیات میں  زبانی کلمات کے  مطالعے  کو تحریر کے  مقابلے  میں  زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔

۱۔انسانی تہذیب کے  ارتقا میں  انسان زبان پہلے  بولنا شروع ہُوا اور تحریر بہت بعد میں  ایجاد ہوئی۔

۲۔بچہ پہلے  بولنا شروع کرتاہے  اور بعد میں  لکھنا سیکھتاہے۔

۳۔دنیا میں  سب ہی انسان بولنا جانتے  ہیں  لیکن مقابلتاً کم لوگ لکھنا جانتے  ہیں ۔

۴۔بہت سی ایسی چیزیں  جو زبانی گفتگو میں  شامل ہوتی ہیں  ‘تحریر میں  ظاہر نہیں  کی جاتیں ۔

ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کے  بقول:

’’لسانیات(Linguistics)کااردوترجمہ ہے۔ فلالوجی (Philology)کی اصطلاح بھی لسانیات کے  مترادف کے  طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ لیکن فلالوجی نسبتاً ایک وسیع تر اصطلاح ہے  جس کے  مفہوم میں زبان کے  سائنسی مطالعہ کے  علاوہ ادبیات کا سائنسی مطالعہ بھی شامل ہے۔‘‘(۱)

محی الدین قادری زور نے  لسانیات کو زبان کی پیدائش‘ارتقا اورموت سے  متعلق علم قراردیا ہے۔ وہ لکھتے  ہیں :

’’لسانیات اس علم کو کہتے  ہیں جس کے  ذریعے  سے  زبان کی ماہیت‘ تشکیل‘ ارتقا‘ زندگی اور موت کے  متعلق آگاہی ہوتی ہے۔‘‘(۲)

لسانیات کی ایک خصوصیت یہ ہے  کہ یہ انسانی زبان سے  ہی متعلق ہے  اس میں  ہم کسی دوسرے  نظام کا مطالعہ نہیں  کرتے   مثلاًجانور بھی آپس میں  بات چیت کرتے  ہیں  لیکن لسانیات میں  سوائے  انسانی زبان کے  کسی اور طرف دھیان نہیں  دیا جاتا۔یہ انسان کے  لیے  ہی ممکن ہے  کہ وہ لاتعداد جملے  بول سکے  اور وہ ایسے  ایسے  فقرے  بولتا اور سمجھتا ہے  جو اس سے  پہلے  کبھی کسی نے  بولے  یا سنے  نہ ہوں ۔ گزشتہ نصف صدی کے  عرصے  سے  صرف و نحو کے  مسائل نئے  انداز سے  دیکھے  جا رہے  ہیں  ۔ دن بدن ان مسائل کے  بارے  میں  نت نئے  نقطۂ نظر سامنے  آ رہے  ہیں  اور لسانیات نسبتاً ایک نیا علم ہونے  کے  باوجود آج زبان و ادب‘ عمرانیات ‘بشریات‘نفسیات ‘ فلسفہ‘ ریاضی اور مشینی ترجمے  کے  لیے  ناگزیر ہوچکا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں  لسانیات کی مدد سے  تاریخ‘تہذیب اور معاشرت کے  بہت سے  مسائل حل کیے  جارہے  ہیں ۔

لسانیات کی مدد سے  مختلف نسلوں  اور زبانوں  کا باہمی اشتراک و اختلاف معلوم کیا جارہاہے  اور اس سے  قوموں  اور زبانوں  کی عمر کے  ساتھ ساتھ ان کی جائے  پیدائش کے  بارے  میں  بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں ۔ ڈیوڈ کرسٹل لکھتے  ہیں  کہ

’’ہم ایک زبان کو کسی ایسے  گز سے  نہیں  ناپ سکتے  جو دوسری زبانوں  سے  مستعارلیاگیاہو۔اگر کوئی قبیلہ اپنی زبان میں اتنے  لفظ نہیں  رکھتاجتنے  انگریزی میں  ہیں تواس کایہ مطلب نہیں کہ وہ انگریزی سے  زیادہ قدیم یاغیرمہذب زبان ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے  کہ اس زبان میں زیادہ الفاظ کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اپنے  ذاتی مقاصد کے  لیے  کافی الفاظ رکھتی ہے۔اس زبان کے  بولنے  والے   مثلاً انگریزی کی طرح تکنیکی اصطلاحوں کی اتنی بڑی تعدادمیں  ضرورت محسوس نہیں کرتے۔اگر کوئی قبیلہ معاشی ترقی کے  زیرِ اثرتکنیکی چیزوں کے  ربط میں  آئے  گا تو نئے  الفاظ اختراع کر لیے  جائیں گے  یامستعارلے  لیے  جائیں گے۔اس طرح ان کاکام چل سکتاہے۔۔۔۔زبان اپنے  بولنے  والوں کی سماجی ترقی کے  قدم بہ قدم چلتی ہے۔‘‘(۳)

لسانیات کے  ذریعے  یہ بھی معلوم کیاجاتاہے  کہ کس قوم یا زبان نے  کس علاقے  کا سفر کیا اور وہ اثر اندازی اور اثر پذیری کے  عمل سے  کس حد تک دوچار رہی ہے۔قدیم اور مردہ زبانوں  کے  رسم الخط اور ادب کی تفہیم بھی لسانیات کی مدد سے  ممکن ہے۔صرف یہی نہیں  بلکہ جن زبانوں  کا اپنا کوئی رسم الخط نہیں ‘لسانیات انھیں  رسم الخط بھی عطا کرتی ہے  اور موجودہ رسم الخط میں  موجود خامیوں  کو دور کرنے  میں  بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔لسانیات ایسے  نشانات وضع کرتی ہے  جن کی مدد سے  عبارت کو دوسری زبان میں  آسانی سے  لکھا جاسکتاہے۔اس طرح ہر زبان اب حقیقی تلفظ کے  ساتھ لکھی جاسکتی ہے۔لسانی وادبی تحقیق میں  مخطوطات کا زمانی تعین بہت اہمیت رکھتاہے۔لسانیات کے  بعض اصولوں  کی مدد سے  مخطوطات کے  زمانی تعین میں  بھی مدد ملتی ہے  اور اس کی مدد سے  ایسے  قواعد بھی بنائے  جارہے  ہیں  جن کے  ذریعے  کسی دوسری زبان کو بہت کم عرصہ میں  سیکھاجاسکتاہے۔

لسانیات کی افادیت کے  پیشِ نظر ترقی یافتہ ممالک میں  اسے  خاطر خواہ اہمیت دی جارہی ہے  اور اسے  ریاضی اور شماریات کے  اندازمیں  وضع کیاجارہاہے۔اسے  افواج میں  فوجی ضرورتوں  کی تکمیل کے  لیے  بھی استعمال کیاجارہاہے  اور اس کے  ذریعے  خفیہ الفاظ بنانے  اور دوسروں  کے  خفیہ الفاظ پڑھنے  کا کام بھی لیاجاتاہے۔مغربی ممالک میں  لسانیات کو کمپیوٹر پروگرام میں  شامل کیاجارہاہے  اور اس کی مدد سے  ترجمہ کرنے  کی ایسی مشین بنانے  کی کوشش کی جارہی ہے  جو ایک زبان سے  دوسری زبان میں  ترجمہ کرسکے۔اس طرح اب ایک زبان کا مختلف زبانوں میں  مشین کے  ذریعے  چند ثانیوں  میں  ترجمہ ہوسکے  گا۔

آج کے  دور میں  لسانیات نے  زبان کے  تاریخی جائزوں  کی سرحدوں  سے  باہر نکل کر ریاضی اور سائنس کی اعلیٰ منزلوں  تک رسائی حاصل کرلی ہے۔اب زبانیں  اپنے  مخصوص دائروں  میں  محدود نہیں  رہ سکتیں ۔ تہذیبی انقلاب‘لسانی تبدیلیوں  اور صنعت وسائنس کی بے  پناہ ترقی میں  انھیں  اپنے  لیے  جگہ متعین کرنی ہوگی۔ماضی کی طرف نگاہ رکھنا ضروری سہی لیکن زمانے  کی رفتار کے  پیشِ نظر مستقبل سے  صرفِ نظر نہیں  کیاجاسکتا۔زندہ رہنے  کے  لیے  مستقبل کے  تقاضوں  کو قبول کرنا ہوگا۔ہم نے  اردو کے  آغاز کے  نظریوں  کو سب کچھ سمجھ لیا ہے  جبکہ فروغِ لسانیات کی طرف سنجیدگی سے  غوروخوض کی ضرورت ہے۔ایچ ای سی کے  زیرِ نگرانی ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے  جو لسانیات کو علمی مدارج پر فروغ دے۔اس ادارے  کے  تحت لسانیات کی تدریس پر توجہ دینی چاہیے  اور یہ ادارہ ایسی کتب کی اشاعت کو یقینی بنائے  جن سے  لسانیات اور اس کی افادیت زبان و ادب کے  طالب علموں پر اُجاگر ہوسکے۔

لسانیاتی حوالے  سے  ایک تجویز یہ بھی ہے  کہ بہروں  کے  لیے  ایک قسم کا بصری آلہ تیار کیاجائے  جو سمعی صوتیات کی مدد سے  حاصل کردہ معلومات پر مشتمل ہو۔ایسی مشین پہلے  ہی تیار ہوچکی ہے  جو تکلمی آوازوں  کی تصویر تیار کرسکتی ہے  اگرچہ یہ تصویر پیچیدہ ہوتی ہے  اور اسے  پڑھنابھی مشکل ہوتاہے۔اس مشین کو Sound Spectragraphکہتے  ہیں ۔ اگر مختلف آوازوں  کی تصاویر آسانی سے  پہچانی جانے  والی ترتیب وار شکلوں  کے  سلسلوں  میں  آسکیں  تو تکلّم کو براہِ راست تحریر میں  لایاجاسکتاہے۔ہم ایسی مشین کے  بارے  میں  بھی سوچ سکتے  ہیں  جس میں  مائیکروفون اور پردہ لگا ہومائیک پر بات کرنے  کے  بعد پردے  پر تصویر آجائے  جس سے  بہرہ فرد نئے  حروفِ تہجی سیکھنے  کے  بعد گفتگو کو براہِ راست پڑھ کر فوراً سمجھ سکتاہے۔اس تکنیک کو کاروباری منصوبوں میں بھی استعمال کیاجاسکتاہے  لیکن اس کے  لیے  مزید تحقیقاتی کام کی ضرورت ہے۔

پروفیسرگیان چندجین کے  بقول:

’’لسانیات روایتی قواعدکی اصطلاحوں کونہیں اپناسکتی کیونکہ لسانیات کی اصطلاحیں بالکل وہی مفہوم پیش نہیں کرتیں۔ تکنیکی مطالعے  میں اصطلاحیں ناگزیرہیں ۔ ‘‘(۴)

لسانی فردیات میں  فرد کے  جسمانی آغازوارتقاکے  حوالے  سے  بحث کی جاتی ہے۔ اس میں  اس امرکاجائزہ لیاجاتاہے  کہ انسانی شیرخوارزبان کا اکتساب کیسے  کرتاہے  اور آخرِ عمرتک اس کی زباندانی میں  کیاکیاتبدیلیاں آتی ہیں ۔ ابتدامیں  بچہ اپنی زبان کے  الفاظ سنتاہے  پھر انھیں ابتدائی کتاب میں  پڑھتاہے  بعدازاں  دوسری زبان کے  الفاظ سیکھتاہے  اور بیشتر صورتوں میں  انھیں  کتاب میں  پڑھتاہے۔یہ تحصیلی حصہ ہے۔دوسراحصہ وہ ہے  جب زبان کے  ذخیرۂ الفاظ کو بولایالکھاجاتاہے  خواہ وہ اپنی زبان ہویاغیرزبان۔یہ تخلیقی حصہ ہے  جس کے  لیے  زبان پر زیادہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔بچہ عام طورپر چار سے  چھ برس کی عمر تک اپنی پہلی زبان پر قدرت حاصل کرلیتا ہے۔بہت کم بچے  ایسے  ہوتے  ہیں جو اس عمرمیں بھی بعضآوازوں کو غلط اندازمیں بولتے  ہیں ۔ چارپانچ برس کی عمر کے  بعد زبان سیکھنے  کے  عمل میں  اصل کام ذخیرۂ الفاظ میں  اضافہ کرناہے۔لسانی فردیات میں  بچے  کے  زبان سیکھنے  کے  عمل کامطالعہ کیاجاتاہے۔بڑے  ہونے  پر انسان کی زبان میں  ہونے  والی تبدیلیوں کامطالعہ لسانی تغیرات کے  ذریعے  کیاجاسکتاہے۔

لسانیات کا دوسرے  انسانی علوم کے  ساتھ بھی گہراتعلق ہے۔جن میں تاریخ‘فلسفہ‘ سماجیات‘ نفسیات‘حیاتیات‘جغرافیہ اور کمپیوٹر سائنس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔ انھیں  علوم کی رعایت سے  ہم لسانیات کو مختلف شاخوں  میں  تقسیم کرتے  ہیں جیسے  سماجی لسانیات ‘نفسیاتی لسانیات‘ کمپیوٹر لسانیات وغیرہ۔دنیا کا کوئی علم محض اپنی جگہ مکمل نہیں  ہے۔ ایک علم کا کسی دوسرے  علم سے  کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہوتاہے   مثلاً جب ہم لسانیات کوزبان کے  سائنٹیفک مطالعے  کانام دیتے  ہیں تویہ بات واضح ہوجاتی ہے  کہ زبان جو کسی سماج کے  اظہار کاواحد صوتی علامتی ذریعہ ہے  وہ اس سماج سے  بھی تعلق رکھتی ہے۔ اس طرح لسانیات کا سماج سے  براہِ راست تعلق قائم ہوجاتاہے۔سماج کی رعایت سے  جب ہم زبان کا مطالعہ کرتے  ہیں  تو وہ سماجی لسانیات کا موضوع بن جاتاہے۔زبا ن کے  مطالعے  میں بولنے  والوں  کی نفسیات بہت اہمیت رکھتی ہے۔بڑوں  کے  مقابلے  میں  بچوں  کے  لسانی رویے  الگ ہوتے  ہیں ۔ مردوں  اورعورتوں کی نفسیات میں  فرق کے  باعث دونوں  کے  لسانی رویے  مختلف ہوتے  ہیں ۔ اس کے  علاوہ کسی شخص کو نئی زبان سکھاتے  وقت جو مسائل ہمارے  سامنے  آتے  ہیں وہ اس کے  نفسیاتی مسائل کا نتیجہ ہوں  گے۔اس طرح نفسیات کے  تعلق سے  زبان کا مطالعہ نفسیاتی لسانیات کا موضوع بن جاتاہے۔

ایک زبان مختلف علاقوں  میں  بولی جاتی ہے۔ یہ علاقے  ایسے  بھی ہوسکتے  ہیں  جہاں  دوسری زبانوں  کے  بولنے  والے  بھی رہتے  ہوں ۔ جب زبان کے  مطالعے  میں  اعدادوشمار کی کارفرمائی نظر آئے  تو ایسا مطالعہ شماریاتی لسانیات کہلائے  گا۔زبان سے  متعلق مسائل کی نوعیت کے  پیشِ نظر لسانیات کومزیدحصوں  میں  بھی تقسیم کیاجاسکتاہے  مثلاً تاریخی لسانیات‘تقابلی لسانیات‘اطلاقی لسانیات‘توضیحی لسانیات وغیرہ۔

تاریخی لسانیات میں  زبان کے  ماخذ‘ارتقا اور تشکیل یابازیافت سے  بحث ہوتی ہے  اس میں  الفاظ کو مختلف گروہوں میں  بانٹ دیاجاتاہے  اور ان گروہوں کے  مطالعے  کے  ذریعے  زبان کے  اصل وطن کی شناخت اور اس کی خصوصیات معلوم کی جاتی ہیں ۔ جس خاندان کے  اصل روپ کی تحقیق کرنی ہو اس کی موجودہ زبانوں کے  علاوہ پرانی شاخوں  کے  الفاظ بھی سامنے  رکھے  جاتے  ہیں ۔ مفرد الفاظ کے  علاوہ قدیم زبانوں  کے  پھیلاؤ ‘علاقے  اور وجود سے  بہت سے  تاریخی نتائج اخذ کیے  جاسکتے  ہیں ۔ تہذیبی اور مذہبی حالات کو دریافت کرتے  وقت ان سے  متعلق علوم پربھی نظررکھی جاتی ہے۔

نسلی لسانیات میں  بشریاتی نقطۂ نظر سے  لسانیات کامطالعہ کیاجاتاہے۔اس مطالعے  میں  کسی نسل کی زبان کو اس کی ثقافت کے  پس منظرمیں دیکھاجاتاہے۔نسلی لسانیات ماہرینِ لسانیات کے  نقطۂ نظرمیں  وسعت پیداکرتی ہے۔ ان کی تۃزیب میں  جن اشیاکی اہمیت ہوتی ہے  ان ہی کے  بارے  میں  تفصیلات ملتی ہیں ۔ کسی معاشرے  میں  رشتوں کی اہمیت کے  پیشِ نظر ان کے  لیے  الفاظ استعمال کیے  جاتے  ہیں ۔ جب کوئی معاشرہ جدید تمدن اہناتاہے  تو اس کی زبان میں  بھی اسی قسم کے  الفاظ درآتے  ہیں ۔ مستعار الفاظ پر غور سے  اندازہ ہوتاہے  کہ کس لسانی گروہ نے  کس دوسرے  لسانی گروہ سے  کیالیااور اسے  کیادیا۔بعض لسانی خاندان وسیع علاقے  پر پھیلے  ہوتے  ہیں  جبکہ بعض بہت مختصر علاقے  پر مشتمل ہوتے  ہیں ۔ قدیم زمانے  میں  ایسی زبانوں  کی تعدادبہت زیادہ تھی جوکسی خاندان سے  وابستہ نہیں  تھیں ۔ جس کی وجہ سے  زبانوں کی تعدادکافی زیادہ تھی لیکن انسانی نسلوں  کی تعدادزیادہ نہیں تھی۔اس لیے  یہ کہاجاسکتاہے  کہ ایک ہی نسل کی مختلف اقوام مختلف زبانیں  بولتی تھیں ۔ قدیم دورمیں  زبانوں کی تعدادزیادہ تھی بعد ازاں  مماثلت کے  سبب ان کے  اختلافات کم ہوگئے  اور بڑے  بڑے  علاقوں میں  مختلف خاندانوں  کی زبانوں  میں  یکساں  صوتی خصوصیات نظرآنے  لگیں ۔

سماجی لسانیات میں زبان کا مطالعہ سماجی سیاق میں  کیاجاتاہے۔اسے  زبان کی سماجیات بھی کہاجاتاہے۔ماہرین کے  نزدیک نسلی لسانیات اور سماجی لسانیات میں  ویساہی تعلق ہے  جوثقافتی بشریات اور سماجیات میں  ہوتاہے۔ثقافتی بشریات میں  معاشروں  کی تہذیب کا مطالعہ کیاجاتاہے  اور سماجیات میں  عصری سماج کا جائزہ لیاجاتاہے۔سماج میں  جتنی وسعت ہوگی سماجی لسانیات کے  موضوع اتنے  ہی متنوع ہوں گے۔سماجی لسانیات کے  مطالعے  کاایک دلچسپ موضوع لسانی آداب ہے۔ اس میں  خطاب کے  طریقے  بہت اہم تصور کیے  جاتے  ہیں ۔ یعنی ہم کسے  پہلے  نام سے  پکارتے  ہیں  اور کسے  آخری نام سے۔ کسی نام سے  پہلے  یا بعد میں  تعظیمی لفظ کیسے  لگاتے  ہیں ۔ اردومیں  لسانی تکلفات کی بھرمار سماجی اثرات کے  تحت ہے۔ حضور ‘ سرکار ‘ جہاں پناہ‘ دولت خانہ‘غریب خانہ‘سماعت فرمائیے ‘نوش کیجیے ‘ملاحظہ کیجیے  وغیرہ۔

اعدادی لسانیات میں  لسانیات پراعدادوشمارکا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اس کے  تحت زبان کے  مختلف عناصر مثلاً اصوات ‘فونیم‘ مارفیم‘ لفظ اور معنی کا شمارکیاجاتاہے۔لسانیات کے  لیے  اعدادیات سے  فائدے  اٹھانے  کی ابتدا انیسویں صدی کے  آخرمیں کی گئی  مثلاًپنجاب یونی ورسٹی لاہور میں  سکول جانے  والے  بچوں  کے  مقالوں  میں  ۶۸ ہزار الفاظ شمار کیے  گئے  اور ان میں  زیادہ استعمال ہونے  والے  الفاظ کی تعداد ۲۳۶۸ بتائی گئی۔اسی طرح ایک مطالعے  میں  اردو شماری میں  پانچ لاکھ الفاظ لے  کر ان میں  سے  ۱۱ ہزار ایسے  الفاظ کی فہرست بنائی گئی جو زیادہ استعمال ہوئے۔اعدادیات کی بنیادپرہی یہ طے  کیاجاتاہے  کہ کوئی زبان کس حدتک پھیلی ہوئی ہے۔کثیر لسانی افراد کے  ذخیرۂ الفاظ کے  جائزہ سے  اندازہ ہوتاہے  کہ انھیں  کس زبان پر کس حدتک عبورہے۔اسی طرح بچوں  کی درسی کتب کی تیاری میں  سب سے  پہلے  کثیرالاستعمال الفاظ لیے  جاتے  ہیں  اور بعدمیں  ان سے  کم استعمال ہونے  والے۔ایک مصنف کے  اسلوب کے  لسانیاتی جائزے  میں  آوازوں ‘محاوروں  اور ضرب الامثال تک کے  تمام عناصر کا شمارکیاجاتاہے  اور انھیں کی بنیادپر اس کے  اسلوب کی بنیادی خصوصیات متعین ہوتی ہیں ۔

تقابلی لسانیات میں  دو یادو سے  زیادہ زبانوں  کے  باہمی رشتوں کی نوعیتوں کاجائزہ لیاجاتاہے۔تقابلی لسانیات میں دوزبانوں  کی ساخت کے  درمیان پائے  جانے  والے  فرق کی وضاحت کی جاتی ہے۔اطلاقی لسانیات میں  زبان سیکھنے  یا سکھانے  کے  طریقوں  اور اسلوب کے  مطالعے  میں  لسانیات سے  مدد لے  کر ان پر اس علم کے  اصولوں  اورنظریوں کااطلاق کیا جاتا ہے۔ لسانیات کی اہم شاخوں  میں  ایک توضیحی لسانیات ہے۔توضیحی لسانیات میں  زبان کی ساخت سے  بحث ہوتی ہے  جس کی نوعیت خالص توضیحی اور تجزیاتی ہوتی ہے۔اس طرح ہم زبان کی ساخت کے  تمام پیچ و خم کو بآسانی سمجھ سکتے  ہیں ۔

پروفیسر گیان چندجین کے  بقول:

’’تاریخی لسانیات کے  تحت ہم کسی زبان کاارتقا بیان کرنے  کے  لیے  اس کی قدیم تر منزل کا تجزیاتی بیان پیش کرنے  کے  لیے  مجبورہیں یعنی یہ کہ ماضی میں اس کی اصوات‘اس کی قواعد‘اس کے  چسپیے  (Affixes)وغیرہ کیاتھے۔اس طرح تاریخی لسانیات تجزیاتی لسانیات سے  استفادہ کرتی ہے  اور جہاں تک تقابلی لسانیات کاسوال ہے  وہاں بھی تجزیاتی لسانیات سے  کنارہ کشی ممکن نہیں ۔ دومختلف زبانوں کی اصوات یاان کی تعریف کے  قواعد کامطالعہ تبھی تو کیاجاسکتاہے  جب ہم ان میں سے  ہرایک کی بناوٹ سے  واقف ہوں ۔ اس طرح تقابلی لسانیات بھی تجزیاتی لسانیات کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہے۔‘‘(۵)

زبانوں  کے  قواعد بھی اس علم کے  نظریوں ‘اصولوں ‘قاعدوں اورتصورات کی مدد سے  ترتیب پاتے  ہیں ۔ ہم جانتے  ہیں  کہ زبان مختلف آوازوں  ‘لفظوں  اور جملوں  کے  ایک باقاعدہ نظام پر مشتمل ہوتی ہے  جو ایک زبان سے  دوسری زبان میں  بدلتارہتاہے۔

آوازیں  ہمارے  اعضائے  صوت کے  مختلف اندازمیں  عمل پیراہونے  سے  تلفظ ہوتی ہیں  اور آوازوں  کے  سلسلوں  سے  الفاظ تشکیل پاتے  ہیں جبکہ لفظوں  کی مخصوص تربیت سے  فقرے  اور جملے  بنتے  ہیں ۔ آوازوں  سے  لے  کر جملوں  تک ہر مقام پر ہمارا عمل اختیاری ہوتاہے  جس سے  معانی و مفاہیم کا تعین کیاجاتاہے۔زبان میں  تلفظ کی جانے  والی آوازیں  عام صوتیات کا موضوع ہیں ۔ اعضائے  صوت کسے  کہتے  ہیں ؟وہ آوازوں  کے  تلفظ کے  وقت کس طرح عمل پیرا ہوتے  ہیں  ۔ ایک کے  مقابلے  میں  دوسری آواز کو کس طرح پہچاناجاتاہے۔انھیں  کن بنیادوں  پر ایک دوسرے  سے  الگ کیاجاسکتاہے۔کس بنیاد پر آوازوں  کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔تکلمی صوتیات ان تمام موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔

آواز کی لہروں  کا تجزیہ سمعی فونیات کا موضوع ہے  جو بولنے  والوں  کے  ہونٹوں  سے  سننے  والوں  کے  کانوں  تک پھیلی ہوتی ہیں ۔ فونیات کی ایک قسم گوشی فونیاتAuditory Phoneticsہے  جو آوازوں  کو سنتے  وقت  کان کے  اندرونی نظام سے  بحث کرتی ہے  اور انھیں  پہچاننے  کے  لیے  کان اور دماغ کے  تعلق کا جائزہ لیتی ہے۔آوازوں  کے  سائنٹیفک مطالعے  کے  ضمن میں  تکلمی صوتیات کو بڑی اہمیت حاصل ہے  کیونکہ یہ وہ علم ہے  جو کسی آلے  کی مددے  بغیرآوازوں  کی ادائیگی‘ان کی تقسیم اور درجہ بندی اور توضیح وتجزیہ پیش کرتاہے۔تکلمی صوتیات میں  آوازوں  کو تلفظ کرتے  وقت اعضائے  صوت کے  مختلف انداز میں  عمل پیراہونے  سے  بحث کی جاتی ہے  جو اعضائے  صوت مختلف اندازمیں عمل پیرا ہوکر آوازوں کوتلفظ کرتے  ہیں ان میں ہونٹ‘دانت‘تالو‘زبان‘حلق‘ناک اور منہ کی نالیاں قابلِ ذکر ہیں۔

تکلمی آوازوں کی ادائیگی میں ہونٹ مختلف طرح سے  عمل کرتے  ہیں ۔ باہم مل کر(جیسے  ب‘پ‘بھ‘پھ‘م وغیرہ کی آوازیں )دائرے  کی شکل میں (جیسے  ای‘اے ‘اَے ‘او وغیرہ)نچلے  ہونٹ کے  اوپری دانتوں کے  ربط میں آکر(جیسے  ف‘و  وغیرہ)۔زبان سب سے  زیادہ عمل کرنے  والا صوتی عضو ہے۔صوت کے  اعتبارسے  اس کے  کئی حصے  کیے  جاسکتے  ہیں جیسے  نوک‘ اگلا‘درمیانی‘ پچھلا‘ جڑکا حصہ۔جب زبان کااگلاحصہ دانتوں کے  پچھلے  حصے  سے  مل کر آوازیں پیداکرے  تووہ دندانی آوازیں Dental Soundsکہلائیں گی جیسے  ت‘تھ‘د‘دھ وغیرہ۔زبان کااگلاحصہ اوپری مسوڑھے  سے  مل کر ل‘ن وغیرہ کی آوازیں پیداکرتاہے۔زبان کا درمیانی حصہ پیچھے  کی طرف مڑکراوپری مسوڑھے  کے  ساتھ ٹھ‘ٹ‘ڈ‘ڈھ‘ڑ وغیرہ کی آوازیں پیداکرتاہے۔زبان کااگلاحصہ سخت تالو سے  مل کر چ‘چھ‘ج‘جھ‘س‘ز وغیرہ کی آوازیں پیداکرتاہے۔جب زبان کا پچھلاحصہ تالو سے  ملتاہے  تو ک‘کھ‘گ‘گھ‘خ‘غ وغیرہ کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں ۔

تجزیاتی لسانیات کی نمایاں شاخیں درج ذیل ہیں :

صوتیات یعنی Phonetics میں  اصوات کی نزاکتوں  کا مطالعہ کیاجاتاہے۔یہ شاخ تمام زبانوں  کا مجموعی طور پر مطالعہ کرتی ہے  لہٰذا اس کا دائرہ کار محدودنہیں ہوتا۔اس کے  زیرِ اثر کسی خاص زبان یا بولی کی صوتیات کا مطالعہ بھی کیاجاسکتاہے۔

فونیمیاتPhonemicsمیں کسی ایک زبان کے  صوتیوں  کا تعین کیاجاتاہے  لہٰذا یہ صوتیات سے  ذرا مختلف دائرہ کار کی حامل ہے۔اس میں  اصوات کی زیادہ سے  زیادہ نزاکتوں کاجائزہ لیاجاتاہے  اور بالخصوص ان اختلافات کا تعین کیاجاتاہے  جو معنی میں  تبدیلی کا باعث بن سکتے  ہیں ۔ اس کے  زیرِ اثراصوات کی گروہ بندی کے  ذریعے  انھیں  کم سے  کم صوتیوں  میں  سمیٹاجاتاہے  اور یہ شاخ Phonologyبھی کہلاتی ہے۔

مارفیمیات(صَرف)Marphologyمیں  لفظوں  کی ساخت کا مطالعہ کیاجاتاہے۔ اس میں سابقوں  اور لاحقوں  کا کردار اور اثرات بھی پیشِ نظر رہتے  ہیں ۔

نحوSyntaxکاموضوع جملہ اور فقرہ ہے  یعنی صرف و نحو مجموعی طورپرزبان کے  قواعد ہیں ۔

معنیاتSemanticsمیں  الفاظ اور جملوں  کے  مفاہیم زیرِ بحث آتے  ہیں ۔

تجزیاتی لسانیات میں  فونیمیات‘صرف و نحو کو مرکزی حیثیت حاصل ہے  جبکہ صوتیات اور معنیات کو نسبتاً کم اہمیت دی جاتی ہے۔تجزیاتی لسانیات کے  علم برداروں کے  نزدیک لسانیات کو زبان کی ہیئت سے  غرض ہے  معنی سے  کوئی سروکار نہیں ہے۔حالانہ فونیمیات اور صوتیات کے  درمیان حدبندی ناممکن ہے  کیونکہ یہ دونوں  ایک دوسرے  سے  لاتعلق نہیں  رہ سکتیں ۔  جدید لسانیات میں  صوتیات کے  مطالعے  کو خاصی اہمیت دی گئی ہے  یہاں  تک کہ تاریخی و تقابلی مطالعات میں  بھی صوتیات کے  بغیر تجزیہ نامکمل رہتاہے۔

پروفیسر گیان چند جین کی رائے  میں :

’’ادب سے  لسانیات کا اتناگہراتعلق ہے  کہ شرح کرنے  کی ضرورت نہیں ۔ لسانیات سے  قدیم ادب کو اور دوسری زبانوں سے  مستعار لفظوں  کو سمجھنے  میں  مدد ملتی ہے۔ لسانیات کے  لیے  ادب مسالہ فراہم کرتاہے۔ زبان کا تاریخی مطالعہ عہد بہ عہد کے  ادبی نمونوں ہی کے  سہارے  ہوسکتاہے۔

تاریخی لسانیات تاریخ سے  فائدہ اٹھاتی ہے۔ ایک قوم پر دوسری قوم کی حکومت ‘تجارتی تعلقات وغیرہ فریقین کی زبان پر اثراندازہوتے  ہیں ۔ کبھی کبھی لسانیات بھی تاریخ کو شمع دکھاتی ہے۔ یورپ اور ویلز کے  جپسیوں کی زبان میں ہندوستانی الفاظ کی افراط اس بات کی شاہد ہے  کہ یہ لوگ عہدِ قدیم میں  ہندوستان سے  جاکر مغرب میں  بودوباش کرنے  لگے۔‘‘(۶)

اسی طرح آثارِ قدیمہ زبانوں  کے  نمونوں  کی حفاظت کرتا ہے  اور لسانیات کے  ماہرین کتبوں  اور تحریروں  کو پڑھ کر اپنے  نتائج وضع کرتے  ہیں ۔ یعنی ایک مرحلے  پر آثارِ قدیمہ اور لسانیات کے  علوم ایک دوسرے  کے  ساتھ گھل مل جاتے  ہیں ۔ سماجی لسانیات میں  یہ امر پیشِ نظررکھاجاتاہے  کہ وقت گزرنے  کے  ساتھ ساتھ الفاظ کے  معنی بلند اور پست کیوں  ہوجاتے  ہیں ۔ لسانی عتیقیات کو لسانیات کا ایک اہم شعبہ گرداناجانے  لگاہے  اس میں زبانوں  کی عمر کے  تعین کے  ساتھ ساتھ یہ اندازہ بھی لگایاجاتاہے  کہ ایک صدی کے  دوران میں ایک زبان کے  ذخیرۂ الفاظ میں  کس حد تک تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ لسانیات کا اہم موضوع زبان کا آغازاور ارتقا ہے  جس کے  بغیر ادب کا مطالعہ ادھورا ہے۔قدیم ادب کی فرہنگوں  کی تفہیم کے  سلسلے  میں  لسانیات ہی ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ ادبی مخطوطات کے  زمانی تعین کا معاملہ بھی لسانیات کا مرہونِ منّت ہے۔ اس حوالے  سے  پروفیسر گیان چند جین کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے :

’’خدابخش لائبریری بانکی پور میں  کیمیائے  سعادت کا جو مخطوطہ ہے  اس کے  بارے  میں  مشہورتھاکہ وہ مصنف امام غزالی کے  ہاتھ کا لکھا ہُواہے۔ ڈاکٹر نذیراحمدنے  اس کا مطالعہ کیا تواس میں  دال ذال کا وہ فرق نہ پایاجو قدیم کتابت میں  ہوناچاہیے۔اس کی بنا پر انھوں نے  طے  کیا کہ یہ مخطوظہ غلط طورپر ان سے  منسوب ہے۔اسی طرح فارسی خط کی کچھ اور خصوصیات ہیں   مثلاً ساتویں  صدی ہجری تک کاف بیانیہ ’کہ ‘کو ’کی‘ لکھا جاتا تھا۔ بارہویں  صدی ہجری تک گ کو ک ہی لکھاجاتاتھا۔اردومیں  انیسویں  صدی کی ابتداتک ٹ‘ڈ‘ڑ کے  بالائی ط کے  بجائے  چارنقطوں  کا استعمال ہوتاتھا۔جن مخطوطوں میں  ان موقعوں پ ر ط لکھا ہُواہے  وہ انیسویں  صدی عیسی سے  قدیم تر نہیں  ہوسکتے۔اسی طرح کسی مخطوطے  میں  ہائے  مخلوط کا دوچشمی ھ سے  لکھا ہونااس کے  نئے  پن پر دلالت کرتاہے۔ زبان اور طرزِ تحریر کے  ارتقاسے  یہ واقفیت تحقیق میں بہت سی لغزشوں  سے  محفوظ رکھتی ہے  اور تحریر کا ارتقا مطالعہ لسانیات کاایک شعبہ ہے۔‘‘(۷)

لسانیاتی تحقیق کے  حوالے  سے  حقیقت پسندی کا دامن چھوڑنامناسب نہیں ۔ اس ضمن میں  مشینوں  کے  استعمال کے  حوالے  سے  زیادہ تخیلاتی منصوبے  بنانا بھی درست نہیں  ہے۔ سائنس فکشن کی وہ دنیا جہاں  روبوٹ انسانوں  کے  سوالات کے  جواب دیتا ہے  ‘ابھی حقیقت سے  کافی دور ہے۔ اس حوالے  سے  گفتگو کے  اجزا کو مرتب کرنے  کیے  لیے  تکنیکی سہولیات کا فقدان ہے  حتیٰ کہ ہم کمپیوٹر کو بلند آواز میں  ہدایات دے  کے  اس سے  کام کروانے  کے  منصوبے  کوبھی مکمل طور پر عملی جامہ نہیں  پہناسکے  اس لیے  ہمیں  لسانی تصورات کو قبل از وقت دوسری چیزوں  پر لاگو کرنے  کے  سلسلے  میں  احتیاط برتنی چاہیے۔اس ضمن میں  ڈیوڈ کرسٹل رقم طرازہیں کہ

’’اصولی طورپرہمیں  ان دعووں پرتنقیدی رویہ اختیارکرناچاہیے  جو عام طور پر لوگ لسانیات کا نام لے  کر کرتے  رہتے  ہیں ۔ ایسے  غیرمتوازن نظریات گمراہ کن ہیں  اور وہ اس علم کی عام اندازفکر کی نمائندگی نہیں کرتے   مثلاً یہ دعویٰ کیاجاتاہے  کہ صوت سپیکٹروگراف میں آوازوں کی جو تصاویرسامنے  آتی ہیں وہ ایسی معلومات رکھتی ہیں  جن کے  ذریعے  اگرہم تربیت یافتہ ہیں  تو بولنے  والے  کو پہچان سکتے  ہیں ۔۔۔یہ دعویٰ بھی کیاجاتاہے  کہ پانچ آدمیوں  کے  بولے  ہوئے  دس جملے  سن کر بتایاجاسکتاہے  کہ کون سے  جملے  ایک ہی آدمی نے  اداکیے  ہیں ۔ نظریاتی طورپرتو اس بات میں کوئی مشکل نظرنہیں آتی ‘لیکن ابھی ہمارے  پاس بہت کم ایسی تجرباتی شہادتیں  ہیں  جویہ بتاسکیں  کہ ایسا کس طر ح ممکن ہوسکتاہے  البتہ ایسی واضح شہادتیں  ضرورموجودہیں  جوثابت کرسکتی ہیں  کہ یہ طریقہ غلط ہے۔‘‘(۸)

صوتیات اور عروض کے  مابین گہراتعلق ہے۔شعر کا وزن اصوات کا مرہونِ منّت ہے۔مروّجہ عروض کو صوتیات کی اصطلاحوں کی مدد سے  زیادہ آسان اور سائنٹیفک بنایاجاسکتاہے  کیوں  کہ عروض کی تراش خراش میں  صوتیات کا کرداربنیادی اہمیت کا حامل ہے۔فوج کے  شعبۂ صوتیات کے  تحت بھی دو اہم کام کیے  جاتے  ہیں  یعنی اپنے  لیے  ایسے  کوڈ تیار کرنا جن تک دشمن کی رسائی نہ ہوسکے  اور دوسروں  کے  کوڈ کی تہہ تک پہنچنا۔اس طریقے  کو مردہ زبانوں  کے  رسم الخط پڑھنے  کے  مترادف قراردیاجاسکتاہے۔

تجزیاتی لسانیات کے  مطالعے  کے  بغیر زبان کی ساخت کا اندازہ ممکن نہیں ۔ صوتیات کے  مطالعے  کے  بغیر زبان کے  مصوتوں  کی صحیح تعداد معلوم کرنابھی دشوارعمل ہے۔ زبان کے  اسرارورموزکامطالعہ لسانیات ہے  جس کے  بارے  میں  جاننا ہمارے  لیے  نہایت ضروری ہے  تاکہ ہم جو عرصہ دراز سے  زبان استعمال کررہے  ہیں  اس کی جزئیات کا علم حاصل کرسکیں اور اس کے  خارج کے  ساتھ ساتھ اس کے  داخل تک بھی اپنی رسائی کو ممکن بناسکیں ۔

حوالہ جات

۱۔ابوالاعجاز حفیظ صدیقی‘کشاف تنقیدی اصطلاحات‘اسلام آباد:مقتدرہ قومی زبان‘ ۱۹۸۵ء ‘ ص۱۵۶۔

۲۔ڈاکٹرمحی الدین قادری زور‘ہندوستانی لسانیات‘ لاہور:مکتبہ معین الادب‘۱۹۶۱ئ‘ص۲۱۔

۳۔ڈیوڈکرسٹل‘لسانیات کیا ہے ؟ ڈاکٹر نصیر احمد خان (مترجم)‘  لاہور: نگارشات‘ ۱۹۹۷ء ‘ ص۲۸۔

۴۔پروفیسر گیان چند جین‘عام لسانیات‘نئی دہلی:قومی کونسل  برائے  فروغِ اردوزبان‘ ۲۰۰۳‘ ص۲۱۔

۵۔پروفیسر گیان چند جین‘عام لسانیات‘ص۲۵۔

۶۔پروفیسر گیان چند جین‘عام لسانیات‘ص۳۱۔

۷۔پروفیسر گیان چند جین‘عام لسانیات‘ص۳۵

۸۔ڈیوڈکرسٹل‘لسانیات کیاہے ؟ ڈاکٹر نصیر احمد خان (مترجم) ‘ص۹۵۔

٭٭٭٭

ڈاکٹر رابعہ سرفراز

ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اردو

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی فیصل آباد

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.