مشاہیرخطوط کے  حوالے  سے” ایک مطالعہ”

ڈاکٹر آصف حمید

شعبہ اُردو، گورنمنٹ کالج چکسواری، میرپور  کشمیر

فون نمبر:0333-5833517

ای میل: drasifhamid1@gmail.com

Abstract

Since a great time letter have been a source of conveying messages, emotions and rationals. At present age this idea has prevailed that this source came to an end naturally. But in reality letters have changed their tools as usual. As with the invention of paper the importance of stone, leather, and skin of tree has reached to an end; similarly computer and mobile has brought level of paper at fall. As modern methods of sending messages has progressed to great hight the collection of published letters has also increased. Moreover new experiments have also been made. Dr Rauf’s collection of critical essays “Masheer khatuut k havalay se” also throws light on the same issue. Which is valuable in this sense that the writes are addressed through this collection of 12 essays. At the beginning the personality or personalities are addressed giving detailed information about them and then essay is completed with the help of letters. Through this collection of essays interesting and valuable factors are brought to light. But Mr. Rauf could not achieved expected results from the available material however a complete command over the pen is shown at certain points.

مدتوں دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں خطوط پیغام رسانی کا اہم ترین ذریعہ رہے۔ لیکن اُردو غزل کی طرح ان میں موضوعاتی تخصیص نہیں۔  خطوط نگاروں نے  جو چاہا اور جب چاہا حوالۂ قلم کیا۔ اسی لئے  خطوں میں مذہبی،  لسانی،  معاشرتی،  معاشی،  نجی،  ادبی اور تصوفانہ مسائل و موضوعات پر وافر مواد ملتا ہے  اور متذکرہ تمام تر موضوعات اگر کسی ایک خط میں یکجا ہوئے  تو اس کی توقیر میں اضافہ ہی ہوا۔

مکتوب نگاری سے  متعلق یہ رائے  پختہ اذہان بھی قبول کر چکے  ہیں کہ نئے  دور میں رائج کمپیوٹر اور موبائل فون کے  بے  دریغ استعمال نے  اس کا گلا دبا دیا ہے  اور اب خدانخواستہ یہ اہم ترین صنف طبعی موت مر چکی ہے۔ لیکن اگر موجودہ حالات کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے  تو حقائق یکسر مختلف نظر آتے  ہیں۔  بلا شبہ خطوط کی قدیم تاریخ میں پتھر،  سل چمڑے،  چھال وغیرہ کے  استعمال کا ذکر ملتا ہے  مگر بعد ازاں طویل عرصے  تک قلم اور کاغذ کا خطوط سے  اتنا مضبوط اور مستحکم رشتہ رہا کہ اس میں خلا کو خطوط کی موت سے  تعبیر کیا جانے  لگا ہے۔ حالاں کہ خطوط نے  موجودہ زمانے  میں بھی صرف اپنے  ٹولز (Tools) بدلے  ہیں۔  بالکل ویسے  ہی جیسے  کاغذ کی ایجاد نے  پتھر،  سل،  چمڑے  اور چھال سے  اس کا ناطہ توڑا تھا۔

معترضین کا خیال ہے  کہ ماضی میں لکھے  جانے  والے  خطوط محفوظ رکھے  جا سکتے  تھے  یا انھیں تلاش کرنا ممکن تھا،  جس کی وجہ سے  انھیں بآسانی کتابی صورت میں یکجا کیا جاتا رہا۔ لیکن آج کے  دور میں موبائلز پر SMS اور کمپیوٹر پر بھیجی جانے  والی Mails فوراً Delete کر دی جاتی ہیں۔  لیکن غور کریں تو ایسا تو ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے  کہ صدیوں میں لاکھوں کی تعداد میں لکھے  جانے  والے  سبھی خطوط محفوظ ہیں نہ سب کی اہمیت یکساں ہے۔ افادیت کے  قابل تو وہی خطوط سمجھے  جاتے  رہے  جو خواص کے  تھے۔ عوام کے  خطوط نہ پہلے  پذیرائی حاصل کر پائے  نہ آئندہ حاصل کریں گے۔ اہل علم و ادب کے  E-mailاور SMS پہلے  کی طرح آج بھی ذوق و شوق سے  پڑھے  جاتے  ہیں اور کچھ اکابرین ادب کے  E-mailکے  ذریعے  بھیجے  جانے  والے  جذبات،  افکار اور پیغامات نہ صرف خطوط کی روایتی شکل میں ہوتے  ہیں بلکہ باقاعدہ خطوط کے  مجموعوں میں بطور خط شامل بھی کیے  جاتے  ہیں۔  ایسے  خطوط باقی خطوں سے  الگ،  انوکھے  یا بہت مختصر بھی نہیں بلکہ طویل اور کچھ زیادہ طویل بھی ہیں۔  ایسے  خطوں کو دیکھ کر نہ صرف یہ حوصلہ ملتا ہے  کہ خطوط کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ بلکہ یہ دعویٰ بھی انگڑائیاں لیتا محسوس ہوتا ہے  کہ اُردو غزل کی طرح خطوط میں بھی سخت جاں صنف کی خصوصیات موجود ہیں ،  جو مرنے  کے  شبہات کے  باوجود ابھی زندہ ہی نہیں بلکہ اپنے  جینے  کے  نئے  ساز و سامان میں منتقل ہو چکی ہے  اور ایسا کسی ایک زبان میں نہیں بلکہ دنیا بھر کی کم و بیش تمام زبانوں میں ہو رہا ہے۔

پیغام رسانی کے  جدید آلات جس قدر برق رفتار ہوئے  ہیں اُردو مجموعہ ہائے  مکاتیب کی اشاعت میں بھی اسی قدر اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ اٹھائیس برسوں میں اُردو میں خطوں کے  مجموعے  اتنی تعداد میں چھپ چکے  ہیں جو اس سے  قبل سوا صدی میں چھپنے  والے  اُردو مجموعہ ہائے  خطوط سے  تعداد میں زیادہ ہیں۔  اور دلچسپ بات یہ کہ اشاعت کا یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں بلکہ اس میں ہونے  والے  نئے  تجربات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر رؤف خیر کے  تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’مشاہیر خطوط کے  حوالے  سے ‘‘ اسی سلسلے  کی کڑی ہے۔ جو اس لحاظ سے  منفرد ہے  کہ اس میں مختلف اہل قلم کے  خطوط کو بنیاد بنا کر بارہ مضامین لکھے  گئے۔  ہر مضمون کے  آغاز میں متعلقہ شخصیت یا شخصیات سے  متعلق اہم معلومات فراہم کی گئیں اور پھر خطوط سے  استفادہ کرکے  مضمون مکمل کیا گیا۔ اس مجموعہ سے  دلچسپ اور بیش قیمت حقائق بھی سامنے  آتے  ہیں۔  چناں چہ قارئین ادب آگاہ ہوتے  ہیں کہ شاد عارفی کسی سے  خوش تھے  نہ ان سے  کوئی خوش تھا ادبی مخالفین کی خبر لینا فرض سمجھتے  تھے۔ انھوں نے  گھر بیچ کر اپنی والدہ مرحومہ کی تجہیز و تکفین کی تھی اور پھر ساری عمر خانہ بدوش رہے۔ (۱)  معین احسن جذبی نے  پی ایچ۔ ڈی کی تھی اور مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں استاد تھے۔(۲)’’فروزاں  ‘‘ اور ’’سخن مختصر‘‘ ان کے  شعری مجموعے  ہیں۔  (۳) مگر ترقی پسند ناقدین نے  دیگر ترقی پسند شعرا کی نسبت ان پر بہت کم توجہ دی۔ (۴) معروف ناول نگار عزیز احمد پاکستان میں Department of Advertising, Films and Publications کے  ڈپٹی ڈائریکٹر اور بعد ازاں ڈائریکٹر رہے۔ اس سے  قبل ہندوستان میں وہ حیدر آباد دکن میں بادشاہ کی بہو -در شہوار کے  پرائیویٹ سیکرٹری رہ چکے  تھے  (۵) ڈپٹی نذیر احمد حیدر آباد دکن میں اپنی محنت کے  بل بوتے  پر صدر تعلقہ دار کے  منصب جلیلہ پر فائز ہوئے  اور اسوقت کی مروجہ تنخواہ کا Highest scale حاصل کیا۔ (۶)شاعر،  افسانہ نگار اور خاکہ نویس خالد یوسف ۹ برس کی عمر میں ہندوستان سے  پاکستان آئے  تھے۔ ۱۹۶۱ء میں سندھ یونی ورسٹی سے  انھوں نے  ایم اے  انگریزی میں کیا۔ پاکستان میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے  کے  بعد انگلستان کو اپنا جائے  مسکن بنایا۔(۷) سرسید احمد خاں کی اولاد کا یہ حال تھا کہ ان کے  دونوں بیٹے  رات دن شراب میں غرق رہا کرتے  تھے۔ بڑا بیٹا مہاجنوں سے  قرض لے  لے  کر پیتا رہا اور مر گیا۔ اس کا سارا قرض سرسید کو چکانا پڑا۔ دوسرے  بیٹے جسٹس محمود نے  سرسید کو اپنی حویلی سے  نکال دیا تھا۔ سرسید کی میت چندے  سے  اٹھائی گئی تھی۔ (۸)میاں بشیر الدین احمد ڈپٹی نذیر احمد کے  چہیتے  اور اکلوتے  بیٹے  تھے  (۹) اُن کی شدید خواہش تھی کہ بشیر انگریزی زبان میں مہارت حاصل کر لے  (۱۰) عصمت چغتائی کی گزر بسراپنی تخلیقات کے  معاوضے  پر ہوتی تھی (۱۱) ان کا کہنا ہے  کہ میں کہانی لکھتی ہوں مجھے  کیا معلوم افسانہ ترقی کررہا ہے  یا تنزل کا شکار فن لکھنا میرا کام ہے  پرکھنا نہیں  (۱۲) انھیں اپنی افسانہ نگاری سے  زیادہ گھریلو اخراجات اور اپنی بچیوں کے  بارے  فکر مندی تھی۔ (۱۳) اپنی کہانیوں کے  بارے  میں ناقدین ادب کی رائے  سے  زیادہ وہ اپنی رائے  کو فوقیت دیتی تھیں۔ (۱۴)ڈاکٹر رؤف خیر قلعہ گولکنڈہ کے  بالکل سامنے  رہتے  ہیں۔  انھیں قطب شاہی تاریخ سے  گہری دلچسپی ہے  (۱۵)اس مجموعے  میں ڈاکٹر رؤف خیر نادر اور قیمتی معلومات فراہم کرنے  کے  باوجود دستیاب مواد سے  یکساں نتائج اخذ نہ کر سکے۔ وہ شاد عارفی اور عزیز احمد کو تو مدیرانِ رسائل سے  اپنی تخلیقات کے  عوض معاوضہ طلب کرنے  پر ہدف تنقید بناتے  ہیں۔  مگر عصمت چغتائی کے  ایسے  ہی مطالبات پر چشم پوشی کرتے  ہیں۔  ’’مدیر نقوش سے  عزیز احمد کی سودا بازی‘‘ میں سودا بازی حقیقتاً غلط اندازِ فکر کا نتیجہ ہے۔ انھیں گلہ ہے  کہ عزیز احمد تخلیقات کا معاوضہ ۴۰ روپے  اور بعض صورتوں میں ۲۰۰ کیوں طلب کرتے  ہیں کہ موجود زمانے  میں ۴۰ روپے  چالیس ہزار اور ۲۰۰ روپے  دو لاکھ کے  برابر ہیں (۱۶)۔ یہ اعتراض اس لیے  درست اور مناسب نہیں کہ اس دور کے  باقی مصنفینِ ادب بھی اتنا اور بعض صورتوں میں اس سے  کئی گنا زیادہ معاوضہ طلب کرتے  تھے۔ جسے  عصمت چغتائی رقم طراز ہیں  :

’’پندرہ دن کے  اندر میں ایک ناول بھی نظر ثانی کے  بعد تیار کر لوں گی۔ اگر ادارہ کو دلچسپی ہوئی تو بھیج سکوں گی۔ مگر سانس لینے  کے  لیے  مجھے  کم از کم ہزار روپیہ کی اشد ضرور ہو گی۔‘‘ (۱۷)

یہ صورت حال اس وقت مضحکہ خیز بن جاتی ہے  جب رؤف خیر اسی رقم کو معمولی اور حقیر قرار دیتے  ہوئے  لکھتے  ہیں  :

’’عزیز احمد جیسا متمول بڑا عہدہ دار محض تیس چالیس روپے  کے  معاوضے  کے  لئے  مدیر نقوش،  محمد طفیل سے  سودے  بازی کرتا ہے۔‘‘ (۱۸)

اس کتاب میں عزیز احمد کے  علاوہ ڈپٹی نذیر احمد بھی مصنف کے  مخاصمانہ رویے  کا نشانہ بنے۔ نذیر احمد اپنے  بیٹے  کو ایک خط میں بتاتے  ہیں  :

’’مجھ کو ایسا احمق مت سمجھ کہ بہت دنیا جمع کرنے  کو زندگی کا ماحصل سمجھوں۔  بشیر! دنیا کو تو خوب دیکھا۔ غریب محتاج تھا،  خدا نے  مال دار غنی کیا،  اولاد ہوئی۔ حکومت کے  مزے  اڑائے۔ نام وری اور شہرت سے  بھی بے  نصیب نہیں رہا۔ لیکن انجام ان بکھیڑوں کا کیا ہے ؟ آخر فنا آخر فنا۔ اب خداوند تعالیٰ ایسی توفیق عطا کرے  کہ کچھ وہاں کے  لئے  بھی کروں۔ ‘‘ (۱۹)

لیکن رؤف خیر اس بیان کو مشکوک بناتے  ہوئے  بتاتے  ہیں کہ نذیر احمد دراصل دنیا داری پر پردہ ڈالنے  کی کوشش کررہے  ہیں  (۲۰)’’ حقیقت یہ ہے  کہ ڈپٹی نذیر احمد خاں اور حیدر آباد‘‘ میں مہیا کردہ خطوں کے  اقتباسات نذیر احمد کی شخصیت کے  مثبت رویوں کو اجاگر کرنے  میں بہت کارآمد ہیں۔  جس کی طرف توجہ نہ دی گئی۔’’رضیہ سجاد ظہیر کے  نام‘‘ گو خیالی اور فرضی خط ہے۔ لیکن رؤف خیر نے  اس میں ، دستیاب معلومات کو قرینے  سے  استعمال کیا ہے۔  معیاری اشعار اور دلکش نثر کی خوبیوں سے  متصف اس مکتوب میں سجاد ظہیر کے  ’’نقوش زنداں  ‘‘ میں شامل ۲۶؍ جولائی ۱۹۴۰ئ،  ۱۲؍ اگست ۱۹۴۰ئ،  ۲۴؍ فروری ۱۹۴۱ئ،  ۴ ؍اگست ۱۹۴۱ء اور۱۸؍ اگست ۱۹۴۱ء کے  خطوں کے  اقتباسات بطریق احسن برتے  گئے  ہیں۔  اختتام پر رضیہ سجاد کی تاریخ وفات بھی درج ہے  بطور نمونہ خط کے  آخری جملے  ملاحظہ کریں  :

’’میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ میں آج بھی تم سے  بے  انتہا پیار کرتا ہوں۔  میں آج بھی تمھاری یاد میں اسی طرح تڑپ رہا ہوں۔  جانِ من! اس بار ملنے  میں کوتاہی نہ کرنا۔ میں ایک ایک پل تمھارے  انتظار میں گن رہا ہوں۔  یہ خط جیسے  ہی ملے،  چلی آنا۔ اس بار دیر نہ کرنا۔ آتے  ہوئے  نئی نئی مطبوعات جس قدر مل سکیں لے  آنا اور ہاں یہاں سگریٹ پینا منع تو نہیں ،  مگر ملتے  کہیں نہیں اور پھر تمھارے  برانڈ کے  سگریٹ۔ اس لئے  اپنا برانڈ لیتی آنا۔‘‘ (۲۱)

یاد رہے  کہ سجاد ظہیر کا انتقال رضیہ سجاد سے  پہلے  ہوا تھا اور یہ خط رؤف کی طبع زاد فکر نے  اسی پس منظر میں لکھا ہے۔’’خط خیر و جواب ناک‘‘دلچسپ بلکہ لرزہ خیز مضمون ہے۔ آغاز میں بہت احتیاط نفاست اور دلکش انداز میں ناوک حمزہ پوری کے  ادبی مقام و مرتبہ کا تعین ہے۔ یہاں شبہ تک نہیں ہوتا کہ آگے  چل کر مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کے  علمی و ادبی تعلقات اور مباحث انانیت کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ اس مضمون میں شامل خطوط میں دونوں اصحاب کا ایک دوسرے  پر بھرپور علمی حملہ عجیب قسم کی ذہنی اذیت میں مبتلا کرتا ہے  اور قاری جہاں یہ سوچنے  پر مجبور ہوتا ہے  کہ رؤف خیر کو یہ مضمون شاملِ کتاب نہیں کرنا چاہیے  تھا۔ وہاں ان کے  حوصلے  و برداشت کی کی داد بھی دیتا ہے۔ جنھوں نے  اپنے  خلاف بیانات کو حذف کیا نہ ناوک خیر پوری کا مکمل تعارف کرانے  میں کوتاہی برتی۔  اس مضمون میں خطوں کے  اقتباسات کے  بیچ میں ہی قوسین میں رؤف خیر کے  وضاحتی جملے  (۲۲) اچھا تاثر نہیں دیتے۔یہ وضاحتیں الگ پیرا گراف کی متقاضی تھیں۔

ڈاکٹر رؤف خیر نے  کم و بیش سبھی مضامین کا آغاز عمدہ پیرائے  میں کیا ہے  لیکن جب کسی تخلیق کار کی کتب کے  عنوانات کو جملوں میں دلآویز اور پر معنی انداز میں استعمال کرتے  ہیں۔  تو زبان پر ان کی کامل دستگاہ کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ بطور مثال یہ جملے  دیکھے :

’’جانے  کیا بات ہوئی کہ صرف دس گیارہ سال تک ہی پروین شاکر اور نصیر ساتھ ساتھ نباہ کر سکے۔ ۱۹۸۷ء میں دونوں میں طلاق ہو گئی۔ اس ’کف آئینہ‘ کے  پیچھے  ’انکار‘ واثبات کے  زنگار سے  فی الحال ہمیں کوئی علاقہ نہیں کہ ہم تو اس ’ماہ تمام‘ کے  مہتابِ سخن کی ’خوش کلامی‘ کے  گرویدہ ہیں۔ ‘‘ (۲۳)

قرۃ العین کے  بارے  میں بتاتے  ہیں  :

’’ان کی ’چاندنی بیگم‘ چائے  کے  باغ کے  کنارے  ’ہاؤسنگ سوسائٹی‘ میں ’گردش  رنگ چمن‘ پر گہری نظر ڈالتی ہیں۔  تو کبھی ’ستمبر کے  چاند‘ کا لطف لینے  کے  لئے  ’سفینۂ غم دل‘ میں بیٹھ کر ’آخرِ شب کے  ہمسفر‘ کے  ساتھ ’آگ کا دریا‘ پار کرنے  کی کوشش کرتی ہوئی ’جہاں دیگر‘ پہنچتی ہیں۔ ‘‘ (۲۴)

’’حرفِ خیر‘‘ میں ڈاکٹر رؤف خیر نے  غالب اقبال اور ابو الکلام آزاد کے  خطوں کی اہمیت بیان کرتے  ہوئے  ’’لیلیٰ کے  خطوط‘‘ اور’’ مجنوں کی ڈائری‘‘ کا ذکر بھی کیا ہے۔ (۲۵) حالاں کہ ’’لیلیٰ کے  خطوط‘‘ اور ’’مجنوں کی ڈائری‘‘ کے  تحت تحریریں حقیقی خطوط نگاری کی ذیل میں نہیں آتیں۔  ڈاکٹر موصوف اس لحاظ سے  یقیناً قابلِ تعریف ہیں کہ انھوں نے  تحقیق نامہ (۰۶-۲۰۰۵ئ) (۲۶) میں شائع شدہ چند خطوط کو بنیاد بنا کر یہ مضامین تحریر کرنے  کا جواز ڈھونڈا اور قارئین ادب کے  سامنے  نئے  فکری زاویے  ابھارے۔ ۱۴۳ صفحات کو محیط اس کتاب کی طباعت ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی نے  ۲۰۱۵ء میں کی اور اس کی قیمت دو صد روپے  رکھی۔

حواشی و مصادر

۱۔  ڈاکٹر رؤف خیر۔مشاہیر خطوط کے  حوالے  سے۔ دہلی: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،  ۲۰۱۵ء۔  ص۹،  ۱۰

۲۔ ایضاً  ص۳۲

۳۔ ایضاً  ص۲۵

۴۔ ایضاً  ص۲۶

۵۔ ایضاً  ص۵۹

۶۔ ایضاً  ص۷۶،  ۷۷

۷۔ ایضاً  ص۸۰

۸۔ ایضاً  ص۹۹

۹۔ ایضاً  ص۱۱۲

۱۰۔            ایضاً  ص۱۰۷

۱۱۔ ایضاً  ص۱۳۷

۱۲۔            ایضاً  ص۱۴۰

۱۳۔           ایضاً  ص۱۴۱

۱۴۔           ایضاً  ص۱۴۲

۱۵۔           ایضاً  ص۱۳۲

۱۶۔            ایضاً  ص۵۹

۱۷۔           ایضاً  ص۱۳۶

۱۸۔           ایضاً  ص۹۲

۱۹۔            ایضاً  ص۷۱

۲۰۔           ایضاً

۲۱۔            ایضاً  ص۶۸

۲۲۔           ایضاً  ص۱۲۴،  ۱۲۵

۲۳۔           ایضاً  ص۴۳

۲۴۔           ایضاً  ص۵۹

۲۵۔           ایضاً  ص۶

۲۶۔           گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی لاہور کا تحقیقی مجلہ۔

٭٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.