پروفیسر احتشام حسین کی تنقید نگاری: ایک جائزہ

پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی

خواجہ معین الدین چشتی اردو عربی فارسی یونی ورسٹی، لکھنؤ

حالی کے  مقدمہ شعر و شاعری کے  شائع ہونے  سے  اردو ادب پہلی بار تنقید کے  فن سے  روشناس ہو ا اور حالی کی اسی تنقید سے  فن تنقید کا باقاعدہ آغاز بھی ہوا۔ نتائج کے  طورپر کچھ عرصے  میں  اردو تنقید کا ایک بیش قیمت ذخیرہ وجود میں  آگیا۔ یہ ذخیرہ جن نقادوں  کے  قلم سے  وجود میں  آیا ان میں  ایک اہم نام پروفیسراحتشام حسین کا ہے۔ احتشام حسین اپنی ساری زندگی ترقی پسند تحریک کے  حامی رہے  اور اس بات کی پیروی کرتے  رہے  اور ساتھ ہی زور بھی دیتے  رہے  کہ شعر وادب کا مقصد صرف زندگی کو سنوارنا اور بہتر بنانا ہے۔

 احتشام حسین کی تنقیدی فکر کا محور ہمیشہ مارکسی فلسفۂ حیات رہا۔ پروفیسر قمررئیس اپنی کتاب ترقی پسند ادب کے  معمار میں  ایک جگہ کچھ یوں  لکھتے  ہیں  کہ ’’احتشام حسین کا ایمان ہے  کہ ادب زندگی سے  بے  گانہ ہوکر نہیں  رہ سکتا۔ اس کو سماج کا آئینہ،  بننا ضروری ہے۔ ادب کے  علاوہ خاص طورپر تاریخ،  سیاست،  اقتصادیات اور عمرانیات وغیرہ پر ان کی گہری نظر ہے۔ مزاج میں  سنجیدگی ہے،  غور فکر ان کی عادت ہے۔ ان سے  مدد لیے  بغیر وہ کسی فیصلے  پر نہیں  پہنچتے،  لیکن جب کسی فیصلے  پر پہنچ جاتے  ہیں  تو نہایت مضبوطی کے  ساتھ اس پر قائم رہتے  ہیں۔  یہی سبب ہے  کہ جب انھوں  نے  ایک بار مارکسزم کے  راستے  کا انتخاب کرلیا تو ساری زندگی اس سے  پیچھے  نہ ہٹے۔ ان پر کٹرپن اور شدت پسند کے  الزام لگے  اور کہابھی گیاکہ انھوں  نے  ایک اٹل عقیدے  پر ساری توجہ صَرف کردی اور باقی ہرحقیقت کو نظر انداز کردیا۔ مگر سخت سے  سخت اعتراضات بھی ان کے  قدموں  کو ڈگمگا نہیں  سکے۔‘‘

 ان کے  تنقیدی نظریات سے  اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کی اس دین سے  انکار ممکن نہیں  ہے  کہ ان کے  تنقیدی شعور نے  پہلی بار تنقیدکا رشتہ دانش عصر سے  جوڑا۔یوں  تواختر حسین رائے  پوری نے  اردو میں  مارکسی تنقیدبنیاد ڈالی۔ مارکسی کے  نظریات کے  تحت ادب کا مطالعہ کیا۔لیکن ایک طرح کی شدّت پسندی کی وجہ سے  ان کی مقبولیت نہ مل سکی۔ لیکن احتشام حسین نے  تاریخ کے  سنجیدہ مطالعہ اور گہری تجزیاتی نظر سے  طبقاتی کش مکش کو دیکھا مارکسی انتہا پسندی کے  الزام سے  بچالیا جو کہ اخترحسین رائے  پوری پر گئی تھی یہ ان کے  وسیع مطالعہ کی دین ہے۔ احتشا م حسین نے  ا س وقت تنقیدکی طرف توجہ کی جب نقاد صرف فن اور فن کار کے  نہاں  خانوں  اور لاشعوری میں  چھپی ہوئی خواہشات کی تسکین کا سامان ڈھونڈتے  تھے۔ دوسری طرف’’نیا ادب‘‘ اور ’’ترقی پسند ادیب‘‘ کی اصطلاحیں  الگ نہیں  ہوتی تھیں۔  انھوں  نے  فلسفیانہ انداز میں  ادب کا مطالعہ کیا اور ادب کی سماجی، تاریخی، تہذیبی، معاشی اور اخلاقی اور معاشرتی قدروں  کا آئینہ دار سمجھ کر اس کا تجزیہ کیا۔ وہ اپنے  ایک مضمون تنقیدی نظریہ اورعمل میں  لکھتے  ہیں  کہ:۔

’’ادب زندگی کے  معاشی، معاشرتی اور طبقاتی روابط کے  ساتھ متحرک اور تغیر پذیر دیکھتا ہے  یہ ایک ہمہ گیر نقطۂ نظر ہے  اور ادبی مطالبہ کے  کسی اہم پہلو کو نظر انداز نہیں  کرتا۔‘‘

احتشام حسین اپنے  تنقیدی نظریات اور نظریہ ادب کی وضاحت کرتے  ہوئے  تنقیدی جائزہ کے  دیباچہ میں  لکھتے  ہیں :

ان مضامین کا مصنّف غور وفکرکے  بعد اس نتیجہ پر پہنچتا ہے  کہ ادب مقصد نہیں  ذریعہ ہے۔ ساکن نہیں  متحرک ہے۔ جامد نہیں  تغیر پذیر ہے  اسے  تنقیدی کے  چند مقصد فرسودہ اصولوں  اور نظریوں  کی مدد سے  نہیں  سمجھا جاسکتا بلکہ ایک فلسفیانہ تجزیہ سے  کام آسکتا ہے۔۔۔۔ میں  ادب کو زندگی کے  عام شعور کاایک حصّہ سمجھتا ہوں۔  جس میں  طبقاتی رجحانات سے  سانس لیتے  اور تمدن کے  مظاہر اثر اندازہوتے  ہیں۔

آگے  لکھتے  ہیں  کہ :۔

اعلیٰ ادب اور اعلیٰ تنقید کی پہچان یہی ہیکہ زندگی کے  حسن اور توانائی کو سمجھنے  او راسے  ابھارنے  میں  مدد ملتی ہے۔‘

انھوں  نے  تنقید کے  جو اصول بنائے  اس پر ہمیشہ عمل کیا جبکہ اکثر نقادوں  کے  یہاں  خود اپنے  اصول اورعمل میں  تضاد پایا جاتا ہے۔  اپنے  مضامین، اصول نقد(ادب اور سماج) ادبی تنقید وروایت اور بغاوت، اردو میں  ترقی پسندی کی روایت، مواد اور ہیئت، تنقیدی جائزے ) ان سبھی مضامین میں  اصول اور عمل کا احساس شدید ذمہ داری سے  ملتا ہے  وہ لکھتے  ہیں  کہ:۔

’’اصول تنقید پر غور کرتے  ہوئے  ان تاریخی قوتوں  کو ہمہ وقت پیش نظر رکھنا چاہئے  جن سے  ادب وجودمیں  آتا ہے۔جن سے  انسان کی تمنائیں  او رخواہشیں  پیدا ہوتی ہیں  جن سے  تنقید کی صلاحیت وجود میں  آتی ہے  جن سے  انسانی تمدن بنتا ہے  جن سے  ان قدروں  کا تعین کیا ہے  جوانسان کو آزادی مسرّت اورترقی کی منزلوں  تک پہنچا سکتی ہے  جن کے  لئے  انسان ہر دور میں  بے  قرار رہے  ہیں  کسی اور طرح اصول کا تصور کرنا ایک نا مکمّل کوشش ہوتی۔‘‘

پروفیسرنورالحسن نقوی اپنی کتاب ’’فن تنقید اور اردو تنقید نگاری‘‘ میں  احتشام حسین کے  مضمون سے  متعلق خلیل الرحمن اعظمی کے  قول کا حوالہ دے  کر بتاتے  ہیں  کہ احتشام صاحب مواد اور ہیئت کی وحدت کے  قائل ہوتے  ہوئے  بھی اس فن پارے  کی طرف زیادہ متوجہ ہوئے  ہیں  جس میں  مواد کا پلہ بھاری ہو اور ان کا خیال ہے  کہ جب کسی ملک کا ادب زوال پذیر تمدن سے  گزر رہا ہو تو اس میں  صناعی کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے  اور لفظ کو زیادہ اہمیت حاصل ہوجاتی ہے،  لیکن جس ملک کے  دروازے  پر انقلاب دستک دے  رہا ہو اور وہاں  کے  عوام اس کو خوش آمدید کہنے  کی تیاری کررہے  ہوں،  وہاں  ادب کی اصل روح پیغام ہی ہوتی ہے۔

پروفیسر احتشام حسین کی یہی کوشش رہی ہے  کہ کسی فن پارے  کو پرکھنے  میں  جمالیاتی قدروں  کو زیادہ ترجیح نہ دے  کر اشتراکیت کو کتنا فائدہ پہنچا ہے  اور محنت کشوں  کی حمایت میں  جو جنگ لڑی جارہی ہے،  اس میں  کتنی مدد ملی ہے۔ اس طرح وہ ترقی پسند شاعروں  کو ایک ہی کسوٹی پر پرکھتے  ہیں،  یعنی مقصدیت کے  ادب پر پرکھتے  ہیں۔

پروفیسر احتشام حسین کے  تنقیدی مضامین کی ایک بڑی خوبی ان کا سلجھا ہوا واضحِ سنجیدہ اور مدلل انداز بیان ہے۔ اپنے  اسی اندازِ بیان کی وجہ سے  احتشام صاحب دھیرے  دھیرے  اہلِ علم کے  دلوں  میں  گھر کرنے  اور اپنا ہم خیال بنانے  میں  کامیاب ہوگئے۔ وہ اپنے  اسی اندازِ بیان سے  اپنی منزل کے  راستے  پر آخر وقت تک ثابت قدمی کے  ساتھ چلتے  رہے۔

اس سے  احتشام حسین کے  اصول اور عمل کے  ساتھ ساتھ تنقید واضح شکل میں  سامنے  آجاتی ہے  وہ ادب برائے  زندگی کے  قائل ہیں۔  ان کے  خیال میں  جو ہم پر گزرتی ہے  ان میں  شاعر،  ادیب بھی شامل ہوتے  ہیں  اور ادیب جو کچھ لکھتا ہے  وہ سماج میں  پایا جاتا ہے  یعنی سماج میں  پائی جانے  والی حقیقتوں  کا عکس ادیب کے  فن میں  ملتا ہے۔ سائنٹفک تنقید کے  پیرو اور اس کے  مبلغ ہونے  کی وجہ سے  تنقیدوں  میں  بے  مقصد جملے  نہیں  ملتے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انھوں  نے  اردوتنقیدکوایک طریقۂ کار اور عملی خراج بخشا جس پرہر فنّی تجلید کی خوبیاں  اور خامیاں  پرکھی جاسکتی ہیں  لیکن بعض ناقد صرف ان کی مخالفت کی وجہ سے  یہ کہتے  نظر آتے  ہیں  کہ انھوں  نے  تنقید اورعملی تنقید میں  عمرانی تنقید کے  طریق کار کو دوسرے  تمام طریقوں  پر ترجیح دی ہے۔ جو ان کے  سماجی محرکات کے  مخالف ہیں۔  انھوں  نے  یہ تمام الزامات لگائے  ہیں  جبکہ یہ نہیں  ہے  کہ انھوں  نے  صرف عمرانیات اور طبقاتی اور سماجی روابط کے  متعلق ہی اپنا نظریہ قائم کیا دوسرے  حصہ کو مخالفین نظر انداز کردیتے  ہیں۔

  انھوں  نے  اپنے  تنقیدی شعور سے  ترقی پسند تنقید سے  وابستہ ناقدین کی پوری نسل کو متاثر کیا اور ترقی پسند تنقید کو وقار بخشا۔

٭٭٭

پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی

خواجہ معین الدین چشتی اردو عربی فارسی یونی ورسٹی، لکھنؤ

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.