حب الوطنی کا ترجمان کنول ڈبائیوی

ڈاکٹرمحمد فاروق خان

کنول ڈبائیوی

کنول ڈبائیوی پ ۱۹۲۰؁ء۔ م۱۹۹۴؁ءاپنے  ننھال قصبہ بہجوئی ضلع مراد آبادمیں  پیدا ہوئے۔  ان کے  والد قصبہ ڈبائی ضلع بلند شہر کے  مشہور وکیل اورزمین دار تھے۔  کنول دس سال کے  تھے  کہ باپ کا سایہ سر سے  اٹھ گیا، والد کے  انتقال کے  بعد عزیزوں  نے  بہت پریشان کیا۔ اپنے  چچا کے  ساتھ عدالت ومقدمہ بازی کی اذیت سے  دوچار ہونا پڑا۔  کنول ڈبائیوی کے  اجداد شاہ جہاں  کے  عہد میں  ہندوستان آئے ، اور قاضی کے  عہدے  سے  نوازے  گئے۔  حکومت کی طرف سے  جاگیربھی ملی،  قصبہ ڈبائی میں  رہائس پزیر ہوئے۔ کنول کا خاندان ادبی وعلمی سرگرمیوں  کی وجہ سے  مشہور تھا۔

کنول کو بچپن سے  ہی کتابوں  سے  عشق تھا۔  کم عمری میں  ہی انھوں  نے  ہزاروں  کتابوں  کا مطالعہ کر لیاتھا۔  ان کا یہ جذبہ تاعمر قائم رہا۔۱۹۳۵؁ء سے  انھوں  نے  شاعری کی طرف توجہ کی اورتخلص ’انور ‘رکھا۔شاعری میں  اصلاح ڈبائی کے  مشہور استاد شاعر حکیم محمد اسماعیل ذبیح سے  لیتے  تھے۔  شاعری کے  علاوہ کنول کوافسانہ نگاری میں  بھی مہارت حاصل تھی۔  ۱۹۳۷؁ء میں  پہلا افسانہ ’نرالی دنیا ‘ کے  نام سے  لکھاتھا۔ ڈبائیوی کادل جذبہ حب الوطنی سے  شرشار تھا۔  یہی وجہ ہے  کہ ان کی شاعری اور افسانوں  میں  حب الوطنی کا جذبہ نمایا ہے۔

کنول ڈبائیوی نے  ۱۵ سال کی عمر میں  ہی قومی تحریکوں  میں  حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ نویں  کلاس میں  تھے  کہ اسکول کو خیر باد کہہ دیا،  اور جدوجہد آزادی میں  عملی طور پر شریک ہوگئے  جس کے  پاداش انھیں  لاہور اور دہلی جیل کی بچہ بارک میں  قیدوبند کی صعوبتیں  اٹھانی پڑیں۔  رہائی کے  بعد بھی انقلابی تحریکوں  میں  حصہ لیتے  رہے۔  بعد میں  انھوں  نے  اپنی تعلیم مکمل کی۔

کنول ڈبائیوی کا شمار وطن پرست اورجدوجہد آزادی میں  عملی حصہ لینے  والے  مقبول انقلابی شعرا میں  ہوتا ہے۔  ان کی شاعری حب الوطنی کے  جذبے  میں  ڈوبی ہوئی ہے۔  وہ ایک سچے  محب وطن تھے۔  پندرہ سال کی عمر سے  شاعری کرنے  کے  باوجود وہ گمنامی کی زندگی بسر کرتے  رہے۔  مشاعروں  میں  بہت کم شریک ہوتے  تھے ، شہرت کی تقریب سے  بھی وہ کتراتے  تھے۔فکر معاش اور بچوں  کی تعلیمی پریشانیوں  نے  انھیں  چین نہیں  لینے  دیا، یہی وجہ ہے  کہ ان کے  کلام کابڑا حصہ ضائع ہوگیا۔ ان کے  کلام کے  دو مجموعے  ’بساط زیست ‘’سوز وطن ‘کے  نام سے  شائع ہوچکے  ہیں۔ ان کے  کلام کو معاصرادباء وشعرا نے  سراہاہے۔مصنفین کی ان تحریروں  کو ’سوز وطن ‘کے  آخر میں  شامل کیا گیا ہے ، جس کے  مطالعہ سے  کنول کی شاعرانہ فکروفن کی بلندی کااندازہ ہوتاہے۔  کنول ڈبائیوی کی حب الوطنی اور ان کے  کلام کے  متعلق ڈاکٹر سلام سندیلوی ’بساط زیست ‘ کے  پیش لفظ میں  لکھتے  ہیں۔

’’کنول ڈبائیوی کو اپنے  وطن سے  محبت ہے۔  یہی وجہ ہے  کہ ان کی نظموں  کے  چلمن سے  حب الوطنی کی خوشبو چھن چھن کر نکلتی ہے۔  انھوں  نے  حب الوطنی کو اپنا مخصوص موضوع بنا لیا ہے۔۔ وہ تمام تر توجہ اسی موضوع کی طرف منعطف کرتے  ہیں۔  چوں  کہ وہ غریق حب وطن رہتے  ہیں  اسی سے  وہ خیالات کے  نادر اوراچھوتے  موتی حاصل کرنے  میں  کامیاب ہوجاتے  ہیں۔  ‘‘۱؂

حب الوطنی کے  جذبے  کااندازہ کنول کی نظموں  سے  لگایا جاسکتا ہے  مثال کے  لیے  نظم کا یہ بند ملاحظہ ہو۔

سپاہی کا نعرہ

نہ میں  طالب زینت کج کلاہی

نہ ہوں  خوگر عشرت قصر شاہی

کنول جانتے  ہیں  مجھے  مرغ وماہی

مجھے  چاہیے  ملک کی خیر خواہی

وطن میرا میں  ہوں  وطن کا سپاہی

ہر ایک قید دنیا سے  آزاد ہوں  میں

محبت کے  ایوان کی بنیاد ہوں  میں

عدو کے  لیے  ضرب فولاد ہوں  میں

یہ اہل دول دے  رہے  ہیں  گواہی

وطن میرا میں  ہوں  وطن کا سپاہی ۲؂

’بساط زیست ‘کی مقبولیت اوراحباب کے  اصرار پر کنول ڈبائیوی نے  بیس پچیس نظمیں  تھوڑی بہت ترمیم واضافے  کے  ساتھ اپنے  دوسرے  مجموعے  ’سوز وطن ‘ میں  بھی شامل کردیاہے۔  کنول اپنے  کلام میں  جذبہ حب الوطنی اورقومی یکجہتی جیسے  نظریات کوموضوع سخن بنانے  کی وجہ یوں  بیان کرتے  ہیں۔

’’میں  ’بساط زیست ‘میں  عرض کر چکا ہوں  کہ میری زندگی ہمیشہ جدوجہد کا مرکز رہی ہے  اور میرے  اندر جذبہ وطن آگ اور انگارے  کی طرح دہکتارہاہے  اگر میں  ملک میں  یک جہتی اور وطنی جذبہ کو ابھارنے  میں  تھوڑا بہت بھی کامیاب ہوگیا تو میں  ……سمجھ لوں  گا کہ مجھے  اس کی قیمت مل گئی۔ ‘‘۳؂

سوز وطن کو کنول نے  چار حصوں  میں  تقسیم کیاہے۔  پہلا عنوان ’میرا ہندوستان وطن ‘اس میں  انھوں  نے  ترانے  اور یک جہتی جیسی نظموں  کو شامل کیا ہے۔  ان کی نظموں  میں  حب الوطنی وآزادی کے  جذبے  کو بڑے  پرخلوص اندازمیں  بیان کیا گیا ہے۔ کنول کی نظموں  میں  قومی یک جہتی، اتحاد واتفاق کا درس پورے  طور پر نمایاں  ہے۔ مثال کے  لیے  ان کی نظموں  سے  کچھ بند پیش کیے  جاتے  ہیں۔

 درس محبت

یہ بات ہر اک فرد گلستاں  کو بتا دو

جیسے  بھی ہٹیں  راہ سے  کانٹوں  کو ہٹا دو

نفرت کے  ہر ایوان کو بنیاد سے  ڈھادو

الفت کے  نئے  پھول گلستاں  میں  کھلا دو

  اشجار محبت کے  ہر اک سمت لگا دو

تم ہند کو ایک مرکز تمثیل بنادو

جب جب بھی ہوئے  ہند میں  تفریق کے  ساماں

تبدیل خزاؤں  میں  ہوا دور بہاراں

نفرت بنی ہر ایک کی تذلیل کا عنواں

تفریق کی رسموں  کو زمانے  سے  مٹا دو

اشجار محبت کے  ہر اک سمت لگا دو

  تم ہند کواک مرکز تمثیل بنا دو ۴؂

میرا دیوتا

جنت کا ہوں  نہ طالب دولت نہ مدعا ہے

دل میں  وطن کی عظمت ہر چیز سے  سوا ہے

میرا وطن ہی مجھ کو اے  دوست میکدہ ہے

میخانہ وطن سے  اب جام مل گیا ہے

حب وطن کا نغمہ ہر سانس کی صدا ہے

خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے

جی چاہتا ہے  میرا ہر اک کو حوصلہ دوں

مردہ طبیعتوں  کی پژمردگی مٹا دوں

ہندوستاں  میں  لاؤں  گذرا ہوا زمانہ

سویا ہوا مقدر اک بار پھر جگا دوں

 ہاں  اس طرح کا میں  نے  اک عزم تو کیا ہے

 خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے  ۵؂

میرا ہندوستان وطن

رشیوں  کا استھان وطن  ویروں  کا ایمان وطن

ولیوں  کا ارمان وطن  ہر ہندی کی جان وطن

 کل دنیا کی شان وطن

میرا ہندوستان وطن

ایک وطن ہے  ایک ہیں  ہم  اس میں  لیا ہے  سب نے  جنم

سب قومیں  مل کر باہم  دور کریں  بھارت کا الم

 ہے  ہم سب کی شان وطن

 میرا ہندوستان وطن ۶؂

ڈاکٹر سلام سندیلوی نے  ’سوز وطن‘ کے  پیش لفظ میں  کنول کے  شاعرانہ عظمت کااعتراف اس طرح کیاہے۔

’’اگرچہ کنول صاحب نے  مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے  مگر ان کا خاص موضوع حب الوطنی ہے۔ انھوں  نے  حب الوطنی پر کافی تعداد میں  نظمیں  کہی ہیں  میرا خیال ہے  کہ دور حاضر میں  اس قدر وطنی نظمیں  کسی شاعر نے  غالبا نہیں  کہی ہوں  گی۔ کنول ڈبائیوی نے  حب الوطنی کے  موضوع کو اپنا لیا ہے۔  اس لیے  ہم ان کو ایک قومی شاعر کہہ سکتے  ہیں۔  ‘‘۷؂

اس مجموعے  کادوسراحصہ ’’کاروان وطن ‘ہے  اس میں  انھوں  نے  واقعاتی اور اصلاحی نظموں  کو شامل کیا ہے۔  کنول ڈبائیوی ہندوستان کو غلامی سے  آزاد کرانا چاہتے  تھے۔انھیں  اندزاہ تھاکہ ملک وقوم کی ترقی آپسی اتحاد وبھائی چارہ میں  ہے۔  انھوں  نے  قوم کو بے  دار کرنے  کے  لیے  ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور عظمت رفتہ کو یاد دلانے  کی کوشش کی ہے۔ تاریخی وثقافتی اعتبار سے  بھی یہ نظمیں  اہم ہیں۔ مثال کے  لیے  نظموں  کے  کچھ حصے  پیش کیے  جاتے  ہیں۔

ڈکٹر قمر رئیس کنول ڈبائیوی کے  نظموں  کے  متعلق لکھتے  ہیں۔

’’ڈاکٹرکنول کی بیشتر نظمیں  بیانیہ ہیں  لیکن سپاٹ اور بے  رنگ نہیں۔  جذبہ کی صداقت سے  ان میں  روانی کیفیت اور شعریت پیدا ہوگئی ہے۔ ان کے  مخاطب دانشور نہیں  عام قاری ہیں  اس لیے  بول چال کی سیدھی سادی زبان میں  ہی انھوں  نے  اپنے  تجربات بیان کیے  ہیں۔ بعض نظموں  میں  انھوں  نے  افسانوی اور ڈرامائی تدبیر سے  بھی فائدہ اٹھایاہے۔  امید ہے  کہ اہل نظر اور عام قاری ان کے  اس مجموعہ کی قدر کریں  گے  اوریہ مقبول ہوگا۔  ‘‘۸؂

وطن پرست

دشت میں  تھا حسین اک گلزار

چار سو چھارہی تھی اس میں  بہار

وہ چمن تھا بہ صورت جنت

دیکھ کر جس کو ملتی تھی راحت

بلبلیں  نغمہ سنج تھیں  ہر سو

ہر طرف کوئلوں  کی تھی کوکو

برگ شاداب پھول تھے  خوش رنگ

بج رہے  تھے  مسرتوں  کے  چنگ

عیش وآرام کے  حسیں  لمحے

 اس وطن کی زمیں  پر گزرے

آج اس پر پڑی مصیبت ہے

چار جانب بپا قیامت ہے

عیش میں  جب رہے  ہیں  ہم اس میں

ہم کو لازم نہیں  اسے  چھوڑے

چھوڑ کر ہم اسے  نہ جائیں  گے

جان رہ کر یہیں  گنوائیں  گے

یہ وفا کا کنول ؔاصول نہیں

 غیر کی خلد بھی قبول نہیں  ۹؂

اپنے  کوچہ میں  نہ پائی قبر کو دوگززمیں

(شاہ ظفر بستر مرگ پر )

آہ بستر پر پڑا ہے  ایک شاہ

نامور  تاجدار مغلیہ

ہے  نام ہے  اس کا ظفر

یوں  تو ہو جاتا ہے  بیماری میں  ہر دل بیقرار

آج اس کی زندگی کا ختم ہے  شاید سفر

 ضعف سے  بے  کار اس کے  سارے  اعضا ہوگئے

کل یہ کتنے  خوش نما آج یہ کیا ہوگئے

کہہ رہا تھا آہ رخصت اے  جہان آرزو

کہہ رہاتھا آہ رخصت گلستان آرزو

تم سے  رخصت ہورہا ہوں  آہ اے  اہل وطن

نقش پارینہ بنی ہے  داستان آرزو

 کیا تعجب ہے  کہ وہ اس غم میں  ہے  اندوہ گیں

 اپنے  کوچہ میں  نہ پائی قبر کو دوگز زمیں  ۱۰؂

تیسراحصہ ’پاسبان وطن ‘کے  نام سے  ہے۔ اس باب میں  رزمیہ نظمیں  شامل ہیں۔ کنول ڈبائیوی نے  وطن پرستی کے  جذبے  سے  مغلوب ہوکرملک وقوم کے  سپاہیوں  کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔  ان کی نظر میں  وطن عزیز سے  بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔  سوز وطن کی نظموں  اور کنول ڈبائیوی کے  متعلق دیریندر پرشاد سکسینہ بدایونی لکھتے  ہیں۔

’’……سوز وطن کی ہر نظم وطنی احساسات کا آئینہ ہے  جب کوئی محقق اردو کی قومی شاعری پر تحقیقی کام کرے  گا تو ڈاکٹر کنول ڈبائیوی کا ذکر کئے  بغیر اس کا مضمون نامکمل رہے  گا۔  ڈاکٹر کنول ڈبائیوی نے  اپنی ساری زندگی قومی شاعری کے  لیے  وقف کردی ہے  خدا ان کو قوم ووطن کی خدمت کے  لیے  زندہ اور سلامت رکھے۔ ‘‘۱۱؂

مثال کے  لیے  نظم سے  کچھ بند پیش کیے  جاتے  ہیں۔

فوجی جواں  ہمارا

خاک وطن کا ذرہ ہے  قصہ خواں  ہمارا

وابستہ ہے  اسی سے  سود وزیاں  ہمارا

یہ کہہ رہاہے  ہم سے  قومی نشاں  ہمارا  ہے

سیکڑوں  برس سے  یہ پاسباں  ہمارا

  جانباز صف شکن ہے  فوجی جواں  ہمارا

آزادی وطن نے  جب جب بھی ساتھ چھوڑا

قسمت نے  جب بھی رشتہ جبروستم کا جوڑا

ہمت سے  بڑھ کے  اس نے  قصر عدو کوتوڑا

یہ حال جاننا ہے  اے  آسماں  ہمارا

  جانباز صف شکن ہے  فوجی جواں  ہمارا

یہ ہے  دعا کنول کی اس کی ہے  یہ تمنا

پرچم رہے  ہمیشہ اس کا جہاں  میں  اونچا

فتح مبیں  عطا ہوا س کو ہمیشہ مولا

ہے  ملک جس کے  دم سے  دار الاماں  ہمارا

  جانبازصف شکن ہے  فوجی جواں  ہمارا ۱۲؂

چوتھا حصہ ’روداد وطن ‘ہے  اس میں  متفرق موضوعات پر ان کی لکھی ہوئی نظمیں  شامل ہیں۔ کنول کے  کلام کے  متعلق مبشر علی صدیقی لکھتے  ہیں۔

’’وہ بے  تکان کہتے  ہیں  ‘بہت کہتے  ہیں  اور اچھا کہتے  ہیں۔  وہ دوسرے  شعرا سے  متاثر ہوتے  ہیں۔  دونوں  چیزوں  میں  یعنی ہئیت یااسلوب میں  اور مواد میں۔  لہذاآپ کو کہیں  اقبال ؔجھانکتے  ہوئے  مل جائیں  گے  ‘کہیں  حالیؔ ‘کہیں  اکبرؔ‘کہیں  جوشؔ یافیض ؔیاسردارجعفریؔ یاجذبی ؔلیکن ان شعرا کے  اسلوب نے  کنول کو زیادہ متاثر کیا ہے۔  مواد زیادہ تر ان کا اپنا ہی ہے۔ اور اس قسم کے  بعض اشعار میں  واقعیت ((Realism زیادہ آگئی ہے۔ کیوں  کہ انھوں  نے  تجربہ کی کسوٹی پر ان باتوں  کو اچھی طرح پرکھ لیا ہے  جوبیان کی ہیں۔  ان کا شعری اسلوب بہت سلیس اور سادہ ہے  اور وہ رمزیت واشاریت سے  زیادہ کام نہیں  لیتے  جب کہ بعض نقادوں  کے  نزدیک شعر میں  رمزیت واشاریت ہی سب کچھ ہے۔ اور شاعری کی بات یوں  بھی اشاروں  وکنایوں  میں  بیان ہوتی ہے۔ لیکن سہل ممتنع بھی اپنی جگہ پر اہم ہے۔  ‘‘ ۱۳؂

اس باب کی نظموں  سے  کچھ بند ملاحظہ ہوں۔

دردونغمہ

سکون ڈھونڈ تا پھرتا ہوں  اجنبی کی طرح

میری ہنسی ہے  کنول غمزدہ کلی کی طرح

میں  غم کو پوجتاہوں  رسم آذری کی طرح

 شب حیات پہ چھایا ہوں  تیرگی کی طرح

شب فراق میں  تاروں  کی روشنی کی طرح

 مجھے  یہ زیست ملی پھیکی چاندنی کی طرح

مری حیات کو اک درد کے  سوا نہ ملا

 میرے  چمن میں  کوئی پھول بھی کھلا نہ ملا

مری حیات کی کشتی کو ناخدا نہ ملا

 کہیں  بھی میری محبت کو آسرا نہ ملا

مری حیات ہے  دنیا میں  اجنبی کی طرح

 مجھے  یہ زیست ملی پھیکی چاندنی کی طرح ۱۴؂

کنول ڈبائیوی ہندوستان میں  یک جہتی اور اتحاد کے  خوہاں  تھے۔ انھیں  احساس تھا کہ ملک کی خیر خواہی آپسی اتحاد واتفاق میں  ہے۔کنول ڈبائیوی نے  حب الوطنی کے  موضوعات کے  علاوہ تاریخی اور سماجی موضاعات پر بھی عمدہ نظمیں  لکھی ہیں۔

      ۱؂          بساط زیست :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۷: گنور ضلع بدایوں  یوپی ۱۹۷۰؁ء

۲؂  بساط زیست :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی : ص ۷۰:گنور ضلع بدایوں  یوپی ۱۹۷۰؁ء

۳؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص۲۱لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

      ۴؂         سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۴۳:لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴ء ؁

۵؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۴۸۔۴۹لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۶؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص۵۴۔۵۵ لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

      ۷؂         سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۱۸لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۸؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۸۲لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۹؂   سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۸۷۔۸۸لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۱۰؂ سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص۱۱۸۔۱۲۰لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۱۱؂  سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۱۶۸لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۱۲؂ سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۲۰۰۔۲۰۱لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

ٍ  ۱۳؂        سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۲۱۴۔۲۱۵لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

۱۴؂ سوز وطن :ڈاکٹر کنول ڈبائیوی :ص ۲۳۳۔۲۳۴لیتھوکلرپرنٹر س علی گڑھ ۱۹۷۴؁ء

                   Mohd Farooque Khan

  M.S.Inter college Sikandarabad Bulandshahar U.P

       mob No.9359955642

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.