علامہ اقبال کی نعتیہ شاعری: ایک علمی جائزہ

Click here for PDF file

Click here for PDF file

محمدمدنی اشرف

…………………………………

            شاعر جب عشق رسول کے پاکیزہ سمندرمیں ڈوب کر اپنے جذبات کو شعر کے قالب میں ڈھالتا ہے تو اصناف شاعری میں اس مقدس صنف سخن کو ’نعت‘ کہتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کی مدح وثنا فرمائی۔ پورا قرآن آپ کی مدح وثنا اور اوصاف ومحاسن کا لافانی شاہ کار ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ۔ دوسری آیت کچھ اس طرح فرماتا ہے۔ لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہٖ و ولدہٖ والناس اجمعین۔ علامہ اقبال نے کچھ اس طرح فرمایا ہے۔

معنی حرفم کنی تحقیق اگر

بنگری با دیدۂ صدیق اگر

قوت قلب وجگر گردد نبی

از خدا محبوب تر گردد نبی

شہنشاہِ کونین کی حیاتِ ظاہری میں جن بادہ مجاز کے سرمستوں نے ان کی عظمت ورفعت کے گیت گائے، انہیں میں سے عبدالمطلب، ابوطالب، حسان بن ثابت، کعب بن زہیر وغیرھم، بعد وصال یہ نعتیہ شاعری نہ صرف مکہ ومدنیہ تک محدود رہا بلکہ دیگر مقامات میں بھی بتدریج اس کا آغازہوتا رہا۔ اور ہردور میں مداحان رسول کی جلوہ گری ہوتی رہی ہے۔ جن میں سرفہرست ہیں۔ عبدالرحیم البرعی، شیخ عبدالقادر جیلانی، محمد بن سعید، ابن خلدون، علامہ ابن حجرمکی، شیخ محمد البکر، شمس الدین محمدصالحی، عبداﷲ شبراوی، شیخ حسین، حکیم سنائی، خاقانی، عرفی، مولانا جامی، مولانا روم ،محسن کاکوروی اور علامہ اقبال وغیرھم ودیگر شعراء نے حسبِ استطاعت بارگاہ رسول میں خراجِ عقیدت پیش کی ہے۔

            علامہ اقبال فارسی، اردو نعتیہ شاعری کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ انہوں نے اردو، فارسی نعتیہ شاعری کی خوب زلفیں سنواری ہیں۔ علامہ اقبال کشمیر کے ایک براہمن خاندان کے چشم وچراغ تھے، جو گذشتہ کئی نسلوں سے سیالکو ٹ میں مقیم تھا۔ اس خاندان نے اسلام قبول کرلیا۔ آپ کی ولادت 1877میں ہوئی۔ آ پ کی ابتدائی تعلیم قدیم طرز پرمکتب سے شروع ہوئی لیکن بعد میں انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے سیالکوٹ کے مشن اسکول میں داخل ہوئے اور چوں کہ طبیعت میں ذکاوت وذہانت کا مادہ خداداد تھا، اس لیے ابتداہی سے اس کے جوہرنمایاں ہونے لگے۔

            شاعری کا آغاز مادری زبان پنجابی سے ہوا، بعد میں شمس العلماء مولوی میرحسن کے مشورے سے اردومیں شاعری کرنے لگے، آپ کی شاعری کی شہرت اس طرح ہوئی کہ ایک بار لاہورمیں مشاعرہ ہوا، جس کے صدر مرزا ارشد گورکانی تھے۔ علامہ صاحب کے کچھ بے تکلف دوستوں نے انہیں مشاعرہ میں جبراً کھینچ لائے اور جب علامہ نے یہ غزل پڑھا۔

موتی سمجھ کر شانِ کریمی نے چن لئے

قطرے جو تھے، مرے عرقِ انفعال کے

            اس شعر کو سننے کے بعد مرزا ارشدگوگانی نے یہ پیشن گوئی کی کہ اس نوجوان کا مستقبل درخشاں ہوگا اور ان کی شہرت کاڈنکا پورے لاہور میں بجنے لگا۔ علامہ اقبال کی شاعری محبت وطن اور محبت قوم سے شروع ہوئی اور محبت الٰہی اور محبت رسول پرختم ہوئی۔ آپ کا انتقال 21؍اپریل1938کو ہوا۔

            عشق رسول سے بڑھ کر دنیا میں کونسی چیز اہم ہوسکتی ہے، خدا کی خوشنودی ومعرفت، عشقِ رسول پرموقوف ہے۔ عشق رسول کے بناء خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا حاصل کرنا ایک امر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔خدا کا مقصد اس دنیا کی تخلیق سے اپنے پیارے حبیب کی تخلیق ہے۔ علامہ اقبال کو حضور سرور کائنات سے بے پناہ محبت تھی۔ اس کا اندازہ اس اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے۔

            مولانا سالک فرماتے ہیں:

’’ان کے گدازقلب اور رقت احساس کا یہ عالم تھا کہ جہاں ذرا حضور سرورکون ومکان صلی اﷲ علیہ وسلم کی رافت ورحمت یا حضور کی سروریٔ کائنات کا ذکر آتا تو حضرت علامہ کی آنکھیں بے اختیار اشک بار ہوجاتیں اور دیرتک طبیعت نہیں سنبھلتی۔‘‘

(بحوالہ: اقبال اور عشق رسول، پروفیسر سیدمحمدعبدالرشید، اعتقاد پبلشنگ ہاؤس، دہلی،1977،ص:48)

            اس طرح کے بے شمارواقعات مذکور ہیں۔ جن سے علامہ اقبال کے عشقِ رسول کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں کس قدر سرورکائنات سے عشق تھا۔ جیسا کہ فرماتے ہیں:

ہر کہ عشق مصطفے سامانِ اوست

بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا

اس نام سے ہے باقی آرام جہاں ہمارا

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے

ہونہ ہویہ پھول تو بلبل کا ترانہ بھی نہ ہو

چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو

بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک استادہ اسی نام سے ہے

نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

وہ دانائے سبل ختم الرسل، مولائے کل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا

نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر

وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰس، وہی طٓہٓ

لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب

گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام

میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب

تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پاگئے

عقل، غیاب و جستجو، عشق، حضور اضطراب

            عشقِ رسول اقبال کی رگ رگ میں سرایت تھا۔ جہاں بھی ہوتے مدح رسول سے خود کو قوت وتوانائی بخشتے۔ حکیم سنائی کے مزار پرانہوں نے یہ اشعارپڑھا:

فرنگی شیشہ گرکے فن سے پتھر ہو گئے پانی

مری اکسیر نے شیشے کو بخشی سختیٔ خارا

رہے ہیں اور ہیں فرعون مری گھات میں ابتک

مگرکیا غم کہ میری آستیں میں ہے یدِ بیضا

محبت خویشتن بینی، محبت خویشتن داری

محبت آستان قیصر و کسری سے بے پروا

عجب کیا گر مہ وپروین مرے نخچیر ہوجائیں

کہ بر فتراک صاحب دولت بستم سرخود را

آخری شعرمیں ’صاحب دولت‘ سے مراد حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگرمہ وپروین میرے شکارہوجائیں تو کوئی غم اور تعجب نہیں۔ کیوں کہ میں نے اپنا رشتہ وتعلق ایک صاحبِ دولت کے فتراک سے جوڑلیا ہے۔

            حقیقت یہ ہے کہ اقبال کا کلام سرسے پاتک عشق رسول کا ہی نتیجہ ہے۔ عاشق چاہے جیسا بھی ہو وہ کبھی بھی اپنے معشوق کے سامنے شرمندگی برداشت نہیں کرسکتا۔ علامہ اقبال خدا سے التجاکرتے ہیں کہ اے اﷲ روزمحشرمجھے میرے محبوب کے سامنے شرمندہ نہ کرنا۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر

روزِ محشر عذر ہائے من پذیر

یا اگر بینی حسابم ناگزیر

از نگاہ مصطفےٰ پنہا بگیر

            اے خداوندقدوس تو تو دونوں جہاں سے بے نیاز ہے اورمیں فقیرومحتاج ہوں۔ تیری بے نیازی کا تقاضا تو یہ ہے کہ محشر کے دن میرے عذر قبول فرما۔ اور اگرمیرا حساب لینا ضروری ہے تو (میرے محبوب) محمدمصطفی کی نظروں سے پوشیدہ لینا۔ تاکہ میرے محبوب کے سامنے مجھے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

            مثنوی ’اسرارخودی‘ میں علامہ اقبال لکھتے ہیں:

عاشقانِ او ز خوباں خوب تر

خوش تر و زیبا تر و محبوب تر

دل زعشق او توانائی می شود

خاک ہم دوشِ ثریا می شود

خاک بخدا ز فیض او چالاک شد

آمد اندر وجد و بر افلاک شد

در دلِ مسلم مقام مصطفی ست

آبروئے ما ز نام مصطفی ست

            بقول عبدالرشید اس کی تشریح حسب ذیل ہے:

’’اور وہ معشوق کیسا ہے۔؟ دنیا کے تمام حسینوں سے حسین تر اور محبوب تر، اس کے عشق سے دل توانا ہوتے ہیں۔ اور خاک بھی بلندہوکر ہم دوشِ ثریا ہوجاتی ہے۔ اس کے فیض سے خاکِ عرب پستی ذلت سے اٹھ کررفعت عزت واقبال کی انتہا کو پہنچ گئی۔ وہ معشوق ’مقام مصطفی‘ ہے جوہرمسلمان کے دل میں موجود ہے۔ ہرمسلمان حضور کے نام پرمرتا ہے ا ور دعوی کرتا ہے کہ میرا دل حضور کی محبت سے خالی نہیں ہے۔‘‘

(ایضاً،ص:55)

            ’اسرارخودی‘ میں لکھتے ہیں:

            دینِ مصطفےٰ پرعمل پیراہونے سے ہی زندگی اور ضابطہ حیات کی پابندی حاصل ہوتی ہے اور شعارِمصطفےٰ کو چھوڑا تو قوم زندگی کے رمز سے محروم رہ جائے گی۔

            علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ ہرایک کے دل میں ایک معشوق ہے۔ اگرتمہاری آنکھ کام کرتی ہے تو میں تمہیں دکھاؤں:

ہست معشوقے نہاں اندر دلت

چشم اگرداری ، بیا، بنمائمت

            وہ معشوق کون ہے جس کے چاہنے والے حسینانِ عالم ہیں۔ جس کی محبت سے دل کو توانائی اور قوت ملتی ہے۔

            علامہ اقبال فرماتے ہیں:

در دل مسلم مقام مصطفی است

آبروئے ما ز نام مصطفی است

            اس شعر کے تعلق سے پروفیسرمحمدعثمان لکھتے ہیں:

’’رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت محض جذباتی یا مذہبی نوعیت کی نہیں رکھتی یہ محبت شخصی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نصب العین، ایک اسوۂ حسنہ، انسانی سیرت کی ایک معراج سے محبت ہے۔‘‘

(بحوالہ: اقبال کا فلسفۂ خودی(بنیادی تصورات)، شاہین بک ڈپو، دہلی،1983،ص:33)

            عشق حقیقی کے تعلق سے علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ وہ عشق ومستی جس کو انسانی ارتقا کے لیے لازمی گردانا ہے، کیو ں کر حاصل ہوتی ہے؟ صرف عشق رسول کے توسل اور اس کے صدقے میں۔ فرماتے ہیں کہ یہ سرشاری وسرمستی آفتاب مصطفوی کے انواروتجلیات کی ایک کرن ہے۔ یہ نصیب میں آگئی تو سب کچھ مل گیا۔ جب تک اس کا سوز انسان میں ہے، اسی وقت تک اسے حقیقی زندگی میسر ہے۔ یہی قوت ہے جس سے یقین وایمان میں پختگی آتی ہے۔ آگے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ایک بحرذخائرہیں کہ جس کی موجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ تم بھی اس سمندرسے سیرابی حاصل کرو، تاکہ تمہیں حیاتِ نو نصیب ہو اور تمہاری بھولی بسری کیفیات جنہیں مادی دنیا نے تم سے چھین لی ہے۔ ازسرنو تم کو میسر آجائیں۔

            ان اشعارمیں مندرجہ بالا باتیں ملاحظہ ہوں:

می ندانی عشق ومستی از کجا ست

ایں شعاع آفتاب مصطفی ست

زندۂ سوز او در جان تست

ایں نگہ دارندۂ ایمان تست

مصطفی بحر است وموج او بلند

خیز و ایں دریا بجوے خویش مند

یک زماں خود را بہ دریا در فگن

تا رواں رفتہ باز آید نہ تن

            ’اسرارِ خودی‘ میں اس مضمون کو اور شرح وبسط سے بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہماری آبرو آپ ہی کے نام نامی کی بدولت ہے۔ مسلمان کے دل میں حضور کی محبت جاگزیں ہے۔ وہ ذات گرامی جس نے بوریے پرلیٹ کر زندگی بسرکی دونوں جہاں کی دولت ہونے کے باوجود ، مگراپنی امت کو وہ فروغ بخشا کہ تاجِ کسری ان کے قدموں تلے رونداگیا۔ انہوں نے غارِ حرا میں تنہائی میں راتیں بسرکیں۔ اور اس طرح ایک قوم، ایک آئین، ایک حکومت عالم کے سامنے پیش کی۔ آپ کی راتیں شب بیداری میں گزریں تاکہ ا ٓپ کی امت تخت شاہی پرمتمکن ہوسکے، میدان جنگ ہوتو آپ کی تلوارلوہے ٹکڑے کردے، مگرخودنماز میں کھڑے ہوکر اپنے معبود کے سامنے اشک ریز رہتے۔ آپ کی تلوار فتح ونصرت جلو میں لیے رہتی۔ اور ملوکیت کے تخم کی بیخ کنی کرتی۔ آپ نے دنیا میں ایک نئے آئین اور ایک نئے نظام زندگی کو رواج دیا۔ او ر تمام پرانی اور فرسودہ روایات کو الٹ دی۔ آپ نے بتایا کہ دین کی کنجی سے دنیا کا دروازہ کھولوتو راہ راست پاؤ گے۔ سچ یہ ہے کہ آپ کی ذات گرامی جیسا دوسرا کوئی فرزند اس مادرگینی سے پیداہی نہیں ہوا۔ آپ کی نظر میں پست وبلندسب برابرتھے۔ اور غلام کے ساتھ بیٹھ کر ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے۔ ان اشعار میں مندرجہ بالاباتیں ملاحظہ ہوں:

در دلِ مسلم مقام مصطفی است

آبروئے ما ز نام مصطفی است

طور موج از غبار خانہ اش

کعبہ رابیت الحرام کاشانہ اش

بوریا ممنون خواب خانہ احتش

تاج کسری زیر پائے امتش

در شبستان حرا خلوت گزید

قوم وآئین و حکومت آفرید

وقت ہیجا تیغ او آہن گداز

دیدۂ او اشکبار اندر نماز

در دعائے نفرت آمین تیغ او

قاطع نسل سلاطین تیغ او

از عید دیں در دنیا کشاد

ہم چو او بطن ام گیتی نزاد

در نگاہِ اویکے بالا وپست

با غلام خویش بریک خوان نشست

            علامہ ایک عاشق رسول کے حال کو بیان فرما کر عشق حقیقی کی طرف یوں رغبت دلاتے ہیں کہ شراب پی کر کیف وسرور حاصل ہوتا ہے اور تقلید واتباع عشق کے مدارج میں سے ایک درجہ ہے۔ حضرت بایزید بسطامی کی مثال یادکرو کہ آپ اتباع رسول میں اس قدر سرگرم تھے اور تقلید نبوی پر اس طرح کا ربند تھے کہ آپ نے ساری عمر خربوزہ اس لیے نہیں کھایا کہ آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ حضور سرورکائنات نے یہ پھل کس طرح کھایا۔ اس کامل تقلید کا نام عشق حقیقی ہے۔اگرتم عشق کے دعوے دارہوتو یار کی تقلید میں پختہ ہوجاؤ۔ پھر تمہاری کمند میں وہ پکڑآجائے گا کہ خودیزداں شکاربن جائے گا۔ تم ذرا پنے دل کے غارحرا میں خلوت نشینی اختیار کرو۔ اپنی ہوائے نفسانی کو ترک کردو۔ اور حق کی طرف رجوع کرو۔ اس کے بعد حق کی جانب سے تمہیں مضبوطی اور استحکام حاصل ہوگا کہ تم معرفت نفس کے مدارج طے کرسکو۔ اس طرح تم ہوس کے لات وعزیٰ توڑ ڈالو کہ بارگاہِ عشق سے وہ لشکر تم کو حاصل ہوگا کہ تم عشق کے فاران کی چوٹی پرجابیٹھو گے۔ ایسا کرنے سے رب کی نوازشیں نازل ہوں گی تم پر۔ اور رب تعالیٰ تمہیں ’’انی جاعل فی الارض خلیفہ‘‘ کے منصب پرسرفراز فرمائے گا۔ اس مضمون کو علامہ نے اس طرح بیان کیا ہے:

کیفیت ہا خیزد از صہبائے عشق

ہست ہم تقلید از اسمائے عشق

کامل بسطام در تقلید فرد

اجتناب از خوردن خربوزہ کرد

عاشقی، محکم شو از تقلید یار

تا کمند تو شو یزداں شکار

اند کے اندر حرائے دل نشیں

ترک خود کن سوئے حق ہجرت گزیں

محکم از حق شو سوئے خود گامزن

لات وعزی ہوس را سرشکن

لشکر پیدا کن از سلطان عشق

جلوہ گر شو بر سرِ فارانِ عشق

تا خدائے کعبہ بنوازد ترا

شرحِ انی جاعل سازد ترا

            حضور سرورکائنات کی زندگی عالم کے لیے ایک مکمل نمونہ اور ضابطۂ حیات ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ حضور کی محبت میں خود کو فناکردو۔ اور ان کی اطاعت وفرماں برداری کو اپنا شعار بنالو، جس سے ایسی قوت وطاقت حاصل ہوگی بحروبر پر تسلط قائم ہوجائے گا۔ لکھتے ہیں:

بر کہ عشق مصطفی سامان اوست

بحر و بر در گوشہ دامان اوست

            اس طرح کے بے شمار اشعار کلیات اقبال میں موجود ہیں جن سے ظاہرہوتا ہے کہ علامہ کو حضور سرورکائنات سے کس قدرعشق تھا۔ علامہ اقبال کے کلام میں مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

            آپ قرآن واحادیث کے استفادہ سے نعت کو رفیع ودقیق بنایا۔ ان سرچشمہ ہائے علوم کے علاوہ آپ نے منطق وفلسفہ، ریاضی، ہیئت ونجوم، ہندسہ ومابعد الطبیعہ جیسے جملہ علوم کی اصطلاحات کو بھی نعت میں سمویا ہے۔ سیرت اطہر کی متحرک ولافانی تصویریں نعت کے آئینے میں جس حسن وخوبی سے دکھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ تمام شعری صنعتیں اپنی نعت میں استعمال کی ہیں۔ مگر کمال فن یہ ہے کہ صنعت گری میں بھی تخلیق کارنگ نمایاں ہے اور تصنع یا آوردکا گمان تک نہیں ہوتا۔ سنگلاخ زمینوں کو بھی اپنے کمال فن سے معنوی خوبیوں سے گلزاربنادیا۔ مصرعوں کے اندر قوافی کے التزام سے موسیفی کا ایسا نادر اہتمام کیا کہ کسی دوسرے شاعرکے یہاں نظرنہیں آتا۔ فنی شکوہ اور معنوی التزامات نے قصائد کی روایات کو نئی فضا اور نیا آسمان دکھایا۔ تمام فنی اور فکری امتیازات سے بڑھ کر علامہ اقبال کی نعت میں جو پہلو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے وہ نعت میں گہری وابستگی اور داخلی کیفیات کا اظہار ہے۔

            علامہ نے عشق حقیقی اور عشق مجازی دونوں ہی فلسفے کو بڑی خوبی سے بیان کیا۔ ان اشعار سے ان کی دلی وابستگی کا پتہ چلتا ہے کہ انہیں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور اسلام سے کس قدرعشق تھا۔ آخر کے دورمیں انہوں نے خود کو اسلام کے فروغ اور سیرت نبوی بیان کرنے کے لیے وقف کردیا تھا۔ ان کی اس خدمت کو عالم اسلام رہتی دنیا تک فراموش نہیں کر پائے گا۔ ایسی شخصیت صدیوں میں جنم لیتی ہے۔

…………………………..

شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی،

 دہلی۔110007

Leave a Reply

2 Comments on "علامہ اقبال کی نعتیہ شاعری: ایک علمی جائزہ"

Notify of
avatar
Sort by:   newest | oldest | most voted
MOHAMMAD ZAHID RAZA ABBASI
Guest

REALY IT IS A VERY VERY IMPORTANT INFORMATION FOR THE MUSLIMS…..

Dr. Uzair
Editor
شکریہ، ہمیں اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازیں۔
ایڈیٹر
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.