فلسفہ وحدۃ الوجو والشہور اور شاعری

Click here for PDF file

Click here for PDF file

سلمان عبدالصمد

ریسر چ اسکالر ، جے این یو ، نئی دہلی

…………………

نظریہ وحدۃ الوجود کے اعتبار سے ذات خداوندی اورکائنات کا ذرہ ذرہ ایک دوسرے کے عین ہیں اوران میں کوئی دوئی کا شائبہ تک نہیں ۔برخلاف اس کے وحدت الشہود کا نظریہ یہ ہے کہ ذات خداوندی اور اشیائے کائنات ایک دوسرے کے عین نہیں بلکہ غیر ہیں ۔ خداکی ذات ہمار ی عقل وفہم کی رسائی سے باہر ہے ۔ اشیائے کائنات خداکی ذات یا صفات کے مظاہر نہیں ،بلکہ موجود بالذات ہیں ۔ وحدت الشہود کے نظریے کی رو سے اگرسالک کو حالت جذب میں خدااور کائنات کے درمیان عینیت کا تعلق نظر آتا ہے تو وہ حقیقی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے ۔ جب سالک راہ دیدارِ محبت سے سرشار ہوکر ماسوا سے نظریں ہٹا لیتا ہے اور صرف خداہی کے تصور کو اپنے ذہن میں قائم رکھتا ہے تو اس کو ذات خداوندی کے سامنے اپنی ذات اورکائنات معدوم نظر آنے لگتی ہے ۔(1)

ان دونوں نظریات پر غورکرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے ۔ فقط عین اور نفسیات کا فرق ہے ۔وحدۃ الوجود کے قائلین کا ماننا ہے کہ خدا اور انسان عین ہے ۔ تاہم وحدۃ الشہود کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ عین تو نہیں ہے ، عینیت کا تعلق جو نظر آتا ہے وہ دراصل حقیقی نہیں ، بلکہ نفسیاتی ہے۔ انسانی عقل ودماغ بھی اس کے ہی مؤید ہے کہ انسان اور خدا میں غیر معمولی قربت ہوسکتی ہے ، جیسا کہ وجود اور شہود کے قائلین کا ماننا ہے ۔ یعنی اس حد تک دونوں باہم متفق ہیں ، بات صرف اتنی رہ جاتی ہے کہ عینیت کا تعلق ہے یا نفسیا نیت کا۔ذیل میں چند اشعار سے دونوں کو باہم جوڑ کر دکھانے کی کوشش بھی کی جائے گی ۔

وحدۃ الوجود پر غورکرنے سے یہ بات لازم آتی ہے کہ جب وجود ایک ہی ہے توخدا اور بندہ میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے ، اس لیے خلود(حاشا ک اﷲ ) انسانی ذات کو بھی میسر ہونا چاہئے ۔ یعنی جب ذات باری اور ذات انسانی میں کوئی فرق نہیں ہے تو بقا انسان کو اﷲ کی طرح ہی سزاوار ہونا ہے ، حالانکہ وحدۃ الوجود کے قائلین بھی اس قول کی تائید نہیں کریں گے کہ انسان کو بقا مستلزم ہے ۔ اس لیے یہ کہنا چاہئے کہ دونوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔علامہ ابن قیم نے منازل السائرین کی شرح میں وحدۃالوجود کو وحدۃالشہود بنا کر پیش کیا۔تاہم اتنا ضرورہے کہ جب وحدۃ الوجود میں غلو کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تو مطلب کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے ۔آواگون، تناسخ ، حلول اور دیگر مشرکانہ عقائد اپنے بال وپر نکالنے لگتے ہیں۔ اسی غلو کی وجہ سے عیسائیوں کا عقیدۂ تثلیث بھی مضبوط ہوتانظر آتا ہے۔

یادرکھنے کی یہ بات ہے کہ بعثت محمدی سے قبل بھی تصوف اور اس کے دیگر فلسفوں کا تذکرہ رہاہے ۔ عہد رسالت اور عہد صحابہ میں بھی اس کی جھلک ملتی ہے ۔ زمانہ قدیم سے نظریہ وحدۃالوجود کسی نہ کسی رنگ میں موجود رہا ہے ۔ البتہ اس کو پوری شرح و بسط کے ساتھ حضرت علامہ ابن عربی نے پیش کیا ۔(2) جب جاہلوں کی محفل میں یہ نظریہ آیا اور اس کا مطلب کچھ کا کچھ لیا جانے لگا تو پھیلی گمراہی کے تدارک کے لئے حضرت مجدد الف ثانی نے و حدۃالشہود کانظریہ پیش کیا ، جو کہ غلو سے پاک وحدۃ الوجود کے فلسفے سے برعکس بھی نہیں ہے ۔

 فنافی اﷲ ، خدا کی وحدانیت اور دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ کم وبیش اردو کی ابتدا سے لے کر اب تک کے بیشتر شعرا کے کلام میں پایاتا ہے ۔ وحدۃ الوجود کا غلبہ بہت کم شعرا ء کے یہاں ہوا ، البتہ وحدہ الشہود کا ذکر کثرت سے ملتاہے ۔

دیگر متصوفانہ اشعار سے قطع نظر فقط وحدۃ الوجود اور شہود کے اشعار پیش کیے جاتے ہیں ۔

وحدۃ الوجود:

سب سکھین کاپیا پیارا

سب میں ہے اور سب سوں نیارا

اس شعر کا ایک سرا وحدۃ الوجود سے جا ملتا ہے اور دوسرا وحدۃ الشہود سے بھی۔ وہ اس طرح کہ ’’وہ سب میں ہے‘‘یعنی وہ سب سے مل کر ایک جیسا ہوا ، تاہم وہ سب سو ں نیارا ہے ۔ یعنی سب میں آنے کے بعد ، سب میں سمانے کے بعد بھی وہ الگ ہوگیا ، اس طرح یہ شعر وحدۃ الشہود سے اپنا سراملانے لگتا ہے۔ یعنی انسان میں اﷲ کا پرتوں ہے ، انسان خدا کا مظہر ہے۔ اس کا عکس ہے ۔

_____

میر اثر کی مثنوی ’خواب وخیال‘میں وحدۃ الوجود کا ایک شعر کچھ یوں ہے :

کس کو دیکھوں ، کروں میں کس پر نگاہ

سب طرف جلوہ گر ہے وجہ اﷲ

_____

بت پرستی میں موحد نہ سنا ہوگا کبھو

کوئی تجھ بن میرا وﷲ کہ معبود نہیں

______ انعام اﷲ خان یقین )

_____

یہی مجھ میں اس میں تھا راز ونیاز

کوئی اس میں محمود نہ کوئی ایاز

ّّّّ______اشرف علی خان فغان)

_____

گل وآئینہ کیا ، خورشید ومہ کیا

جد ھر دیکھا ، تدھر تیرا ہی رو تھا

____میرتقی میر

میر بنیادی طور پر صوفی تو نہیں تھے ، البتہ ان کے کلام میں جا بجا ایسے افکار وخیالات ملتے ہیں ، جو فنافی اﷲ صوفیا کے ہم خیال ہیں ۔ اس شعر میں میر وحدۃ الوجود کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں کہ جد ھر دیکھو ،اے اﷲ ادھر تیری جلوہ سامانیاں ہی نہیں بلکہ توہی توہے ۔

____

میر ے فراق شوق کا اس میں بھرا ہے رنگ

میں خود کو دیکھتا ہوں کہ تصویر یا رکو

یا پھر

جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے

پردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتاہے

____(اصغر گونڈوی)

یعنی یہ دنیا ، دنیا نہیں ، فقط ایک دھوکا ہے ۔دنیا کو دنیا سمجھنے والے فریب میں ہیں ۔ اس کا بنانے والاہر جگہ نظر آتا ہے ۔پر دہ کچھ نہیں، مصور ہی ہے سب کچھ ، یعنی ہر چیز خدا ہے ۔جو کہ وحدۃ الوجود کے نظریہ پر مبنی ہے ۔

 اس شعر سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ صوفیا فقط دوسری دنیا میں ہی کھوئے نہیں رہتے ہیں ، بلکہ مادی دنیا کو دیکھتے ہیں ، اس کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں ، ظاہر ہے جو صوفیا دنیا کو یعنی دنیوی معاملات کو خدا کہے یا پھر خد اکودنیاوی معاملات سے جوڑ کر دیکھے ،وہ کیسے دنیا سے الگ ہے ۔ چنانچہ صوفیا کادراصل مقصد یہ ہے کہ جس طرح ہم عبادت کے معاملہ میں اﷲ سے لو لگاتے ہیں ، اس کے قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، اسی طرح ہمیں ہر معاملہ کو خدائی رنگ میں رنگ دینا ہے ۔

 اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ تصوف ’انسان کیا ہے‘کے بجائے’انسان کو کیا ہونا چا ہیے‘پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے اورعبادت کو ایک ایسے روحانی جذبے میں تبدیل کردیتا ہے ، جس کی نگاہ میں ہرا نعام بے وقعت ہوجاتا ہے(3)۔ تصوف پراس تناظر میں غورکرنے کے بعد یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ تصوف کا سِرا رات کے اندھیروں میں سکون ِ قلبی کی خاطر خدا سے لَو لگانے سے نہیں ہی بلکہ دن کی روشنی میں انسانیت کا درس دینے اور انسانی تمام تراقدار سے بھی اس کا سرا جا ملتا ہے ۔

_____

یوں تو اقبال کی شناخت فلسفہ خودی سے ہے ، اپنے اسی فلسفہ کی بنیاد وہ پرانسانی عظمت کا راگ الاپتے ہرجگہ نظر آتے ہیں ۔تاہم فلسفہ وحدۃ الوجود کے یکسر مخالف بھی وہ نہیں ہیں۔ ان کے فلسفہ خودی میں کہیں کہیں نادانستہ طورپر کلام میں وحدۃ الوجود کا نظریہ در آیا ہے ۔

خود ی کی جلوتوں میں مصطفائی

خودی کی خلوتوں میں کبربائی

زمین وآسمان وکرسی وعرش

خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

․․․․․․․

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی

ہو صاحب مرکز توخودی کیا ہے ، خدائی

درج بالا اشعار سے یہ مراد لیا جاسکتاہے کہ اقبال اتحاد اورحلول کے قائل تو نہیں البتہ وحدت الوجود کے خلاف بھی نہیں ۔ تعمیر خودی کو منشائے خداوندی سمجھے والا یہ فلسفی دراصل وحدۃ الوجود کے وکیل ہیں۔تلاش اقبال میں ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے اس موضوع پر اچھی بحث کی ہے ۔ (4)

ان شعرا کے علاوہ بھی لاتعدا د شعرا کے یہاں وحدہ الوجود کا فلسفہ ملتا ہے ۔ نہ یہاں اردو شاعری میں وحدۃ الوجود کی روایت پر مکمل طور پر بحث کرنی ہے اور نہ ہی اس چھوٹے سے مضمون میں اس کی گنجائش ہے ۔

وحدۃ الشہود:

سودا کہتے ہیں :

سودا نگاہِ دید ہ ٔتحقیق کے حضور

جلوہ ہر ایک ذرہ میں ہے آفتا ب کا

یا

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

موسی نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا

سودا کے ان دونوں اشعار سے ازخود واضح ہے کہ نیلگوں آسمان ہو کہ بارونق مسطح زمین ، ہر جگہ خدا کی کرشمہ سازیوں کا ہی ظہور ہے ۔

یہی معاملہ ذیل کے اشعار میں بھی ہے :

کعبہ میں وہی خود ہے وہی دیر میں ہے

آپ ہندو کہویا اس کو مسلمان وہی ہے

․․․․․․․․

صورت میں ہے ظاہر وہی معنی میں ہے باطن

ہر مشکل میں پیدا وہی پنہاں وہی ہے

____یقین

تھا مستعار حسن سے اس کے جونور تھا

خورشید میں بھی اس کا ہی ذرہ ظہور تھا

____میر

 میر کا ایک شعر وحدۃ الوجود کے زمرہ میں بھی پیش کیا گیا ہے ۔ اب یہاں وحدۃ الشہود میں بھی مذکور ہے ۔ اس سے انداہو تا ہے کہ میر کے کلام میں دونوں افکار کی ترجمانی ملتی ہے ۔ مذکورہ شعر میں شاعر کہنا چاہتا ہے کہ دنیا کی جلوہ سامانیوں میں ، یہاں کی رعنائی اور دلکشی میں ، آفتاب ومہتا ب میں اس کے نور کا ہی عکس ہے ۔اگر اسی خیال کو اس بات پر محمول کرلیں کہ خدا کی جلوہ سامانی ، اس کی تجلی کا نہیں بلکہ خود خدا کا ظہور ہے تو یہی وحدۃ الشہود کا شعر وحدۃ الوجود کے فلسفہ کی مثال بن جائے گا۔

 میر کے علاوہ اس زمرے میں جو اشعارپیش کیے گیے ، ان کی تشریح بھی دونوں نظریات کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے کہ بذات خود خدا کا ظہور ہے ، تو یہ وحدۃ الوجود بن جائے گا ۔ تاہم یہ فرض کرلیں کہ خدائی نور کا ظہور ہے ، تو یہ وحدۃ الشہود کا نظریہ بن جائے گا۔یعنی شاعر کبھی کل بول کر جزمراد لے رہا ہے اور کبھی جز بول کر کل ۔ اس طرح دیکھا جائے تو وحدہ الوجود اوروحدۃ الشہودمیں خاصافرق نہیں ہے ۔اگر کل مراد لے لیتے ہیں تو وہاں وحدۃ الوجود کا فلسفہ سامنے آجاتا ہے اورجز مراد لینے سے شہود کا ۔

انیس اس کے رباعی پر اپنا یہ مضمون ختم کرتا ہوں ، جس میں ذات باری تعالی کی انسانی ذات سے قربت یعنی وجود اور شہود کا پورا کا پورا معاملہ حل ہوتا نظر آتا ہے :

پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو

آنکھیں جسے ڈھونڈتی ہیں وہ نور ہے تو

نردیک رگ جاں سے اور اس پر یہ بعد

اللّٰہ اللّٰہ! کس قدر دور ہے تو

حواشی:

(1)ڈاکٹر محمد علی صدیقی ، تلاش اقبال ، کتابی دنیا دہلی 2004، ص30۔

(2)محبوب عزمی ، پاکستان کے صوفی شعرا ، پاکستان اکیڈمی آف لٹریچر ، لاہور1995، ص9)

(3)۔انور سدید ، تصوف :تحریک وتنا ظر ،مشمولہ ادبی تحریکات ورجحانات (ایک مکمل انسائیکلو پیڈیاجلد دوم ،مرتب پروفیسر انور پاشا)،

 عرشیہ پبلی کیشنز دہلی 2014، ص 47۔

(4)ڈاکٹر محمد علی صدیقی ، تلاش اقبال ، کتابی دنیا دہلی 2004، ص28۔

…………………………………………………….

نوٹ: اردو ریسرچ جرنل میں شائع مضامین کو بلا اجازت دوبارہ شائع کرنا منع ہے ایسا کرنا قانونا جرم ہے۔ (ادارہ)

سلمان عبدالصمد

پتا: روم نمبر29ماہی ہاسٹل ، جے این یو نئی دہلی

فون:9891233492

ای میل : salmansamadsalman@gmail.com

Leave a Reply

1 Comment on "فلسفہ وحدۃ الوجو والشہور اور شاعری"

Notify of
avatar
Sort by:   newest | oldest | most voted
راؤ محمد اکرم
Guest
آپ نے فلسفہ وحدت الوجود کی الف باء بھی نہیں سمجھی ۔۔۔۔ ظریہ وحدۃ الوجود کے اعتبار سے ذات خداوندی اورکائنات کا ذرہ ذرہ ایک دوسرے کے عین ہیں اوران میں کوئی دوئی کا شائبہ تک نہیں وحدت الوجود کی یہ تعریف بالکل غلط ہے یہ تو عین شرک ہے جبکہ آپ شاید جانتے نہیں کہ سلسلہ چشتیہ کے اکثر بزرک جن کا تدین تفقہ تمام امت مسلمہ پر روز روشن کی طرح ثابت ہے جیسے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ،حضرت خوجہ بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر،شاہ سلیمان تونسوی، سیدنا پیر مہر علی شاہ جیسے نابغہ… Read more »
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.