اردو تحقیق میں جدید ذرائع کا استعمال

عزیر اسرائیل٭
زبان و ادب کا معاملہ ریاضی اور سائنس سے اس معنی میں مختلف ہے کہ یہاں ایک اور ایک مل کر دو ہو کوئی ضروری نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زبان وادب کی تحقیق اور تنقید کے لئے کوئی حتمی اور منطقی اصول نہیں بنائے جاسکے جس کو سامنے رکھ کر ادبی تحقیق کی جاسکے ۔ ماہرین نے کچھ ضوابط ضرور مقرر کئے ہیں مگر ان میں رد بدل کی گنجائش باقی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والا کچھ نئے اصول وقوائد مرتب کرتا ہے اور پرانے اصولوں پر قلم پھیر کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔ان اصول وضوابط کی ترتیب میں بھی ہر ایک اپنے تعصبات کا خیال رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کپمیوٹر اور جدید ٹکنالوجی کی مدد سے ادبی تحقیق میں کوئی خاص مدد نہی لی جاسکتی۔ جہاں تک سائنس اور ریاضی کا تعلق ہے تو ان کے لئے کمپوٹر پر ایسے پروگرام بن گئے ہیں جن کی مدد سے کسی نتیجہ تک پہنچا جاسکتا ہے ۔ مثال کے طور پر ریاضی کے کسی بھی سوال کو حل کرنے کے لئے ہمیں صرف یہ کرنا ہوگا کہ ہم ریاضی کے سوال کو ایک مخصوص پروگرام میں درج کرنے کے بعد ایک ماؤس کلک سے نہ صرف یہ کہ اس کا جواب معلوم کرلیں بلکہ اس سوال کو حل کرنے کے سارے عمل کو معلوم کرلیں۔ یہی معاملہ سائنسی موضوعات کا بھی ہے ۔
ہمارا موضوع چونکہ ‘‘اردو تحقیق میں جدید ذرائع کا استعمال’’ ہے ۔ اس وجہ سے سب سے پہلے میں اس موضوع کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ اردو تحقیق ہی نہیں بلکہ سبھی زبانوں میں تحقیق کے قدیم ذرائع میں روایتی کتابوں، قلمی نسخوں سے براہ راست استفادہ اور فیلڈ ریسرچ جیسے ذرائع زمانہ قدیم سے رائج ہیں۔ متعلقہ موضوع کے ماہرین سے ان کی رائے معلوم کرنے اور ان کے تجربات سے استفادہ کے لئے میلوں کی مسافت طے کرکے تحقیق کے شیدائی مطوبہ معلومات دنیا کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی موضوع پر تحقیق کرنے میں برسوں لگ جاتے تھے ۔ ڈاک کی سہولت سے لوگ ایک دوسرے سے کتابیں ڈاک کے ذریعہ منگانے لگے ۔ آپس میں خط وکتابت کرنے لگے ۔ داغ نے کئی شاگرد ایسے بنائے جن کو انہوں نے دیکھا بھی نہیں تھا۔ پھر فون کا زمانہ آیا تو ماہرین سے فوری رابطہ کی سہولت سے محققین کو اور بھی آسانی ہوئی۔ لیکن تحقیق کے میدان میں سب سے بڑی پیش رفت کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے آنے سے ہوئی۔ گھر بیٹھے دنیا کی بڑی بڑی لائبریوں کے ای شیکشن(e- Section) کا مطالعہ کرنا، ماہرین سے تبادلہ خیال کرنا اب بہت ہی آسان ہوگیا۔ اس سہولت کا فائدہ صرف سائنس ہی نہیں بلکہ ادبی تحقیق کرنے والوں نے بھی اٹھایا۔ ایک عام سی بات ہے کہ پہلے جب کسی سے پوچھا جاتا کہ فلاں شعر کس کا ہے تو اس کے لئے کتابوں کی طرف رجوع کرتا تھا۔ لیکن اب اس کی آسان صورت یہ نکل آئی ہے کہ مطلوبہ شعر لکھ کر نیٹ پر سرچ کرلیا جاتا ہے ۔ اکثر صورتوں میں جواب صحیح ملتا ہے ۔
اردو زبان اور کمپوٹر کا رشتہ بہت قدیم نہیں ہے ۔ کمپوٹر کے آتے ہی دوسری زبانوں کی رسائی آسانی سے کمپوٹر تک ہوگئی ۔ لیکن اردو کی راہ میں دو رکاوٹیں تھیں۔ اس کا دائیں سے بائیں کی طرف لکھا جانا اور دوسرا اس کا نستعلیق خط۔ دائیں سے بائیں لکھی جانے والی زبانوں میں اردو ہی اکیلی زبان نہیں تھی ۔ اقوام متحدہ کی منظور شدہ زبانوں میں سے عربی بھی انہی زبانوں میں شامل ہے ۔ اس وجہ سے یہ مسئلہ جلد ہی حل کرلیا گیا۔2000ء اردو یونی کوڈ کو ونڈو ایکس پی میں شامل کرلیا گیا تھا۔ لیکن اردو کا معاملہ اس کے باوجود ایک مشکل امر تھا کہ اس کو اپنے نستعلیق فانٹ سے دست بردار ہونا پڑ رہا تھا۔ بہت سے اردو دوست حلقوں کی طرف سے بھی یہ آواز اٹھنی شروع ہوگئی تھی کہ اردو کو کمپیوٹر ٹکنالوجی سے جوڑنے کے لئے اردو کو اپنا رسم الخط عربی کرلینا چاہئے ۔ غالبا ۱۹۹۸ میں پاکستان میں تجارتی ضرورتوں کے لئے ایک سافٹ ویر ان پیج بیایا گیا۔ مگر اس کی قیمت اتنی زیادہ تھی کہ وہ عام اردو والوں کی پہنچ سے دور تھا۔ آج کل اردو کا سب سے مشہور سافٹ ویر ان پیج ہی ہے مگر اس کی شہرت اس کی خوبیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پائریٹڈ کاپی کی وجہ سے ہے ۔ پاکستان میں ہی کسی نے اس سافٹ ویر کو ان کوڈ کرکے پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اردو کو اس کے اپنے رسم الخط میں لکھنا آسان ہوگیا۔ لیکن اس سافٹ ویر کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ یہ کمپوٹر کی اپنی زبان میں نہیں تھا۔ اردو کو کمپیوٹر پر متعارف کرانے کے لئے ہندوپاک کی حکومتوں نے اگرچہ کوششیں کی ہیں۔ مگر ان کی کوششیں اتنی کارگر نہیں ہوئیں جتنی کہ urduweb.org سے وابستہ رضاکارانہ طور پر اردو پر کام کرنے والوں کی۔ اس ویب سائٹ نے اردو کے لئے کام کرنے کا ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ اسی فارم سے وابستہ رضاکاروں نے اردو کے لئے نئے نئے فانٹ اور کی بورڈ بنائے بنائے ۔ آج کل اردو کے لئے سب سے زیادہ رائج فانٹ جمیل نوری نستعلیق، القلم تاج نستعلیق، اور علوی نستعلیق ہیں۔ ان فانٹ کی مدد سے کمپیوٹر پر براہ راست اردو کو اس کے فطری نستعلیق رسم الخط میں لکھا جاسکتا ہے ۔
ان پیج کے ساتھ پریشانی یہ تھی کہ اس کی فائل کو وہی کھول سکتا ہے جس کے پاس ان پیج ہو۔ اس وجہ سے اس کی فائل کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرنے کے لئے یاتو پی ڈی ایف میں اس کی فائل کو بدلنا پڑتا تھا۔ یا اس کی فوٹو بنا کر اس کو چسپاں کرنا پڑتا تھا۔ ان دونوں صورتوں میں اردو زبان کا زبردست نقصان ہوا۔ گوگل یا دوسرے سرچ انجن ان فائلوں کو پڑھ نہیں پاتے تھے ۔ جس کی وجہ سے ان میں لکھے ہوئے مواد تک رسائی ایک دشوار کن مرحلہ تھا۔ آج بھی عام طور پر سبھی اردو اخبارات یہی طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ‘بی بی سی اردو’روز اول سے برابر یونی کوڈ میں خبریں شائع کررہا ہے ۔
اردو تحقیق کے لئے کمپیوٹر پر موجود سافٹ ویر:
اردو زبان اور کمپوٹر کے رشتہ کی مختصر وضاحت کے بعد اب ہم گفتگو کرتے ہیں کمپوٹر اور انٹرنیٹ پر موجود ان وسائل کا جو ادبی اور لسانی تحقیق میں ہمارے لئے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ سب سے پہلے اردو تحقیق کے ان جدید وسائل کا تذکرہ کروں گا جو ہماری دسترس میں ہیں۔ اس کے بعد ان وسائل کو جو دوسری زبانوں میں ہیں لیکن تھوڑی سی کوشش سے اردو میں بھی یہ سہولت ہوسکتی ہے ۔ پھر آخر میں کچھ ایسی چیزوں کی طرف توجہ دلاؤں گا جو اردو کے لئے کرنا باقی ہے ۔ لیکن اس سب تفصیلات سے پہلے ایک وضاحت ضروری ہے کہ زبان وادب کی تحقیق ابھی اتنی سائنٹفک نہیں ہوئی ہے کہ اردو میں اس کے لئے کوئی سافٹ وئر ڈیولپ کیا جاسکے ۔ لیکن اس کے باوجود کچھ کوششیں ہوئی ہیں۔ جن کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے ۔
زبان وادب میں بھی وہ امور جس کے اصول و ضوابط منطقی انداز میں مرتب ہیں ان کے لئے ماہرین نے سافٹ ویر بنالیئے ہیں جن کی مدد سے ایک معمولی پڑھا لکھا شخص بھی اصل حقیقت تک رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔ علم عروض کا سافٹ ویر ادب کے اسکالر کو کسی بھی شعر کے عروضی مطالعہ میں مدد فراہم کرتا ہے ۔ اس کے لئے صرف یہ کرنا ہے کہ مطوبہ شعر کو پروگرام میں درج کرنا ہے ۔ وہ شعر درج کرتے ہیں سافٹ ویئر اس شعر کے بحر کے بارے میں معلومات فراہم کردیگا۔یہ سافٹ ویرurduweb.org سے مفت میں ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہ سافٹ ویر ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہے ۔ ابھی اس میں بہت سی بحروں کا شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ لیکن امید ہے کہ آنے والے دنوں میں لوگ اس جانب متوجہ ہوں۔ اور اس پروگرام کو اور اچھے انداز میں بنالیں۔
دوسرا سافٹ ویر ہے حروف ابجد معلوم کرنے کا۔ کسی بھی حرف کی رقم معلوم کرنی ہو تو اس سافٹ ویئر سے معلوم کیا جاسکتا ہے ۔ یہ سافٹ ویر بھی اسی ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔
ڈکشنری اور ترجمہ
ان دو سافٹ ویروں کے علاوہ اردو کی ڈکشنری بھی چونکہ اسی قسم ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے کمپیوٹر پر اون لائن اور آف لائن عمدہ ڈکشنریاں موجود ہیں۔ جو کسی بھی لفظ کے معنی تک رسائی قارئین کے لئے چند سکیڈ میں فراہم کردیتی ہے ۔ آف لائن ڈکشنریوں میں سب سے عمدہ ڈکشنری ‘لنگوز’ (lingoes)کی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو اپنے کمپوٹر پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد لنگوز کی ویب سائٹ سے تقریبا ہر زبان کی ڈکشنری ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے ۔ کمپوٹر کے کسی بھی پروگرام میں کوئی دستاویز یا کتاب پڑھتے ہوئے کسی لفظ کے معنی معلوم کرنے کے لئے ہمیں کہیں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے صرف ctrl کا بٹن دبا کرماؤس کو لے جاکر مطلوبہ لفظ پر روک دینا ہوگا۔ لفظ کا معنی کھل کرسامنے آجائے گا۔ اس کے لئے انٹرنیٹ کنکشن کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کا ایک مشکل امر ہے ۔ دنیا میں بے شمار زبانیں ہیں۔ ہر انسان کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ سبھی زبانوں کا علم رکھے اس لئے کہ یہ ممکن بھی نہیں ہے ۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے مشینی ترجمہ وجود میں آیا۔ مشینی ترجمہ سے مراد وہ ترجمہ ہے جو کمپیوٹر کی مدد سے کیا جائے ۔ گوگل پر دوسری زبانوں کے علاوہ اردو میں بھی ترجمہ کی سہولت موجود ہے ۔ مگر یہ ترجمہ کا معیار بہت سطحی ہونے کی وجہ سے اکثر ترجمہ مضحکہ خیز صورت اختیار کرلیتا ہے ۔ ترجمہ صرف لفظوں کو ایک دوسرے کی جگہ رکھنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں مترجم کا ذوق اور حسن سلیقہ بھی جھلکتا ہے ۔ مشینی ترجمہ میں یہ بات نہیں ہے ۔ خاص طور پر محاورے اور کہاوتوں کا فرق مشینی ترجمہ کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے ۔ کمپویٹر انہیں بھی اسی انداز میں ترجمہ کردیتا ہے جس طرح دوسرے جملوں کا کرتا ہے ۔ محاوریے اور کہاوتیں تو بہت دور کی بات ہے ابھی مشینی ترجمہ میں معروف اور مجہولactive voice and passive voice کا کوئی بہتر حل نہیں نکالا جاسکا ہے ۔ اس وجہ سے ادب کے علاوہ دوسرے میدان میں اگرچہ اس مشینی ترجمہ سے کام چلالیا جائے کہ وہاں صرف نفس مضمون کی ترسیل ہی کافی ہے ۔ ادب میں تحریر کی عصمت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس کو مشینی ترجمہ کے حوالے کردیا جائے اور وہ ادبیت سے عاری ترجمہ کرکے تحریر کی عصمت کا پامال کردے ۔ ڈاکٹر عطش درانی کے مطابق پاکستان کے مرکز فضیلت کی طرف سے اس پروجیکٹ پر کام ہورہا ہے ہوسکتا ہے کہ جلد ہی کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے آئے۔
مصنف کا اسلوب جانچنے کا سافٹ ویر
ہر مصنف کا اپنا اسلوب style ہوتا ہے ۔ وہ غیر محسوس طریقے پر اس کی پیروی کرتا ہے ۔ یہ کوء ضروری نہیں ہے کہ لکھنے والا ایک ہی اسلوب کی پیروی ہمیشہ کرے ۔ مضمون کے لحاظ سے اور جس کے لئے لکھا جا رہا ہے اس کی رعایت کرتے ہوئے مصنف اپنے اسلوب میں تبدیلی کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر میڈیکل پر لکھی گئی کتاب کا اسلوب ادبی کتاب سے مختلف ہوگا اسی طرح بچوں کے لئے لکھی گئی کتاب کا اسلوب بڑوں کے لئے لکھی گئی کتاب سے الگ ہوگا۔ کسی مصنف کے اسلوب کو سمجھنے کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کی لفظیات کی جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ وہ کون کون سے الفاظ سب سے زیادہ استعمال کرتا ہے ۔ اس سے مصنف کے اسلوب کو جانچنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سافٹ ویر بنایا گیا ہے جس کانام ہے ۔ Hermetic Word Frequency Counter اس کا 13.02 ورژن مارکیٹ میں موجود ہے ۔ اس کو معمولی قیمت پر کمپیوٹر پر ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی مدد سے ہم مضمون یا کتاب میں کون سا لفظ کتنی بار استعمال ہوا ہے اس کی فہرست بناسکتے ہیں ۔ اس سے ایک حد تک مدد تو مل سکتی ہے لیکن ہم بہت دور تک اس کے سہارے نہیں چل سکتے ہمیں خود اپنے علم اور ذوق کا سہارا لینا پڑے گا ورنہ صرف الفاظ کے استعمال سے کسی مصنف کے اسلوب تک رسائی حاصل کرنا اس مصنف کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی اور خود اپنے اوپر بھی ظلم ہوگا۔ ابھی اس میں اردو کی سہولت موجود نہیں ہے ۔ جب تک اردو میں یہ سروس نہ شروع ہو ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔
سرقہ (چوری) روکنے میں مدد دینے والا کمپیوٹر پروگرام
تحقیق وتنقید کے میدان میں سرقہ ایک عام سی چیز ہے ۔ ہمارے یہاں لوگ صفحات کے صفحات ہوبہو نقل کرلیتے ہیں اور کسی کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ کمپوٹر کی دنیا نے سرقہ کو آسان بنایا تھا تو اس کے روک تھام کا کام بھی کمپوٹر ہی نے کیا۔ turnitin.com ایک ایسا ہی سافٹ ویر فراہم کرتا ہے جو ہزاروں صفحات کو چند سیکنڈوں میں جانچ کرکے بتادے گا کہ اس کے اندر چوری کا مواد ہے یا نہیں؟ یونی ورسٹیاں کالجز اور اسکول اس کی مدد سے تحقیقی مقالوں کی جانچ کرتے ہیں۔ اب اس سافٹ ویر کی وجہ سے بغیر حوالے کے اگر ایک جملہ بھی کسی نے کہیں سے نقل کیا تو اس کی چوری پکڑی جائے گی۔ یہ سافٹ ویر اس مفروضے پر بنایا گیا ہے کہ دو آدمیوں کے خیالات میں یکسانیت ہوسکتی ہے ۔ مگر خیالات کے ساتھ اس کے اظہار میں اس قسم کی یکسانیت نہیں ہوسکتی کہ الفاظ بھی ہوبہو ایک جیسے ہوں۔ کمپنی کا دعوی ہے کہ اس سافٹ وئر میں لاکھوں آن لائن صفحات اور لاکھوں کی تعداد میں ریسرچ پیپر جمع ہیں۔ جن کی مدد سے یہ سرقہ کو آسانی سے پکڑ لیتا ہے ۔ دراصل اس آن لائن سافٹ وئر میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ریسرچ پیپر ڈالے جاتے ہیں۔ یہ سافٹ ویر ان مقالوں کو بھی اپنے ریکارڈ میں محفوظ کرلیتا ہے ۔ اس طرح اس کا ڈیٹا بیس دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔ بعد میں اگر کوئی شخص اس مقالہ سے سرقہ کرے گا تو یہ سافٹ ویر بتادے گا کہ فلاں مقالہ سے چوری کی گئی ہے ۔ صرف وہ مواد سرقہ سے مستثنی ہیں جو انورٹیڈ کاما میں حوالوں کے ساتھ ہیں۔ یہ سافٹ وئر دنیا کی دس زبانوں میں ہے ۔ لیکن ابھی اردو زبان کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ اس وجہ سے جب تک یہ سروس اردو میں شروع نہیں ہوئی ہے اردو میں تحقیقی مقالوں کے سرقہ کو روکنے کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔ اسی قسم کا ایک سافٹ وئر اس کمپنی نے اخبارات ورسائل کے مدیروں کے لئے بھی بنایا ہے ۔
اس آن لائن سافٹ ویر پر بھی مختلف قسم کے اعتراض کئے گئے ۔ مختلف عدالتوں میں اس کے خلاف کیس بھی کیا گیا۔ زیادہ معاملات پرائیویسی سے متعلق ہیں۔ اس وجہ سے کینیڈا اور دوسرے ممالک میں بعض یونی ورسٹیوں نے اس کو اپنے یہاں ممنوع قرار دے دیا ہے ۔
متنی تنقید میں مدد فراہم کرنے والا پروگرام
قلمی نسخوں کی تحقیق اور ان کا باہم مقابلہ کرنا ایک دشوار کام ہے ۔ بعض معاملوں میں ایک ہی کتاب کے سیکڑوں نسخے ہوتے ہیں۔ ان کے باہمی فرق کو واضح کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ اس کام کو آسان کرنے کے لئے بھی ایک اہم سافٹ وئر بنایا گیا ہے ۔ caterbury tale project ایک ویب سائٹ کے ذریعہ پیش کیا گیا پروگرام ہے ۔ وہ قلمی نسخوں کو سائنٹفک انداز میں پیش کررہی ہے ۔ اب تک اس نے ہزاروں قلمی نسخوں کو ڈیجیٹلائز کردیا ہے ۔ اس پروگرام کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ساتھ کئی نسخوں میں اس میں داخل کرنے پر کمپوٹر سبھی نسخوں کے اختلاف کو آن واحد میں بیان کردیتا ہے ۔ اس طرح فرق کو تلاش کرنے کے لئے سبھی نسخوں کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
انگریزی حروف کی بناوٹ کچھ اس طرح کی ہے کہ کمپیوٹر پر اسکین کئے ہوئے متن یا متن کے فوٹو کو وہ آسانی سے تحریر میں تبدیل کردیتا ہے ۔ مثال کے طور پر ہمارے سامنے ایک قدیم انگریزی کتاب ہے ۔ ہمیں اس کو ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پوری کتاب کو اسکین کرنے کے بعد اس کو ایک سافٹ وئر کے ذریعہ اس کے حروف کو وہ کیپچر کرلے گا۔ اس میں غلطی کا امکان کم ہوتا ہے ۔ الگ سے ٹائپ کرنے میں پروف کی غلطیوں سے بچنا مشکل ہوتا ہے اس طرح نسخوں کا موازنہ صحیح نتیجہ نہیں دے گا۔
اردو میں آج سے دس سال پہلے تک کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ ہاتھ میں لکھنے کی وجہ سے حروف کی بناوٹ ایک جسی نہیں ہوتی اس وجہ سے کوئی ایسا سافٹ وئر اردو میں بنابا ذرا مشکل ہے ۔ لیکن آنے والے دنوں میں ممکن ہے اس کے لئے کوئی راستہ نکل آئے ۔
قلمی نسخون کے حوالے سے ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ اکثر لائبریوں نے اپنے قلمی نسخوں کی فوٹو آن لائن کردیا ہے ۔ اس کی وجہ سے ان کتابوں کی حفاظت بھی ہوئی ہے ۔ اور ان کے ضائع ہونے کے امکانات بھی کم ہوگئے ہیں۔ جن لائبریوں نے اپنے نسخوں کو آن لائن نہیں کیا ہے ان میں سے اکثر نے اس کی فہرست آن لائن مہیا کرادی ہے اور ایک مختصر سی فیس دے کر کتاب کی فوٹو کاپی سی ڈی یا ای میل کے ذریعہ منگانے کی سہولت دے رکھی ہے ۔
اس پوری بحث سے ایک بات معلوم ہوگئی کہ زبان وادب کے لئے ایسے سافٹ ویر بنانا جو سائنٹفک بنیاد پر معلومات فراہم کریں چند ایک صورتوں کو چھوڑ کر ناممکن ہے ۔ مان لیجئے کہ ہمیں معلوم کرنا ہے کہ فلاں شعر سودا کا ہے یا میر کا۔ کسی شعر میں کون سی صنعت پائی جارہی ہے ۔ کسی شعر یا فن پارے میں کیا خامی یا خوبی ہے ۔ یا کوئی کتاب کب لکھی گئی؟ وغیرہ جیسے امور ہم کسی سافٹ ویئر کے ذریعہ نہیں معلوم کرسکتے ۔ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ ہم کوئی شعر درج کریں اور ایک بٹن دباتے ہی اس کے شاعر کا نام سامنے آجائے ۔ آنے والے دنوں میں ہوسکتا ہے کہ جب اہم شاعروں کے کلام یونی کوڈ میں محفوظ کردیئے جائیں تو اس قسم کے پروگرام بنائے جاسکتے ہی۔ لیکن اس کی بھی ایک حد ہے ۔ اس سے آگے یہ کام نہیں ہوسکتا۔
آن لائن اور آف لائن اردو لائبریری:
اردو میں آن لائن کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔ یہ کتابیں پی ڈی ایف اور یونی کوڈ دونوں فارمیٹ میں ہیں۔ دونوں کے اپنے فائدے ہیں۔ محقق کے لئے پی ڈی ایف اس لئے زیادہ مفید ہے کیوں کہ وہ بعینہ اصل کتاب کی ضرورت کو پوری کرسکتا ہے ۔ کیوں کہ وہ اصل کتاب کی فوٹو ہوا کرتی ہے ۔ چند اہم ویب سائٹ کے نام یہ ہیں:
اردو ڈیجٹل لائبریری
Urducouncil.nic.in
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، انڈیا کی پیش کش، اردو زبان وادب کو نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں قومی کونسل کا بہت اہم رول رہا ہے ۔ اردو دنیا میں اس کو ایک اعتبار حاصل ہے ۔ کسی کتاب کے لائق اعتبار ہونے کے لئے کافی ہے کہ اس کو قومی کونسل نے شائع کیا ہے ۔ قومی کونسل اردو دنیا پر ایک بڑا احسان کیا ہے کہ اس نے اپنی سبھی قدیم کتابوں کو آن لائن پرھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت مفت میں فراہم کردی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس نے ابھی حال ہی میں اردو فانٹ فون اور کمپوٹر کے لئے بھی مفت میں فراہم کیا ہے ۔
اردو برقی کتابیں
Kitaben.urduliberary.org
تقریباً دیڑھ ہزار کے قریب مفت اردو کتابیں یونیکوڈ فونٹ میں ڈاونلوڈ کی سہولت کے ساتھ یہ ویب سائٹ حقیقی معنوں میں اردو کے قارئین کے لئے ایک عظیم تحفہ ہے ۔ اس لائبریری کی کتابوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ یونی کوڈ میں ہیں۔ اس وجہ سے اسے مکتبہ الحکیم اور کالیبر جیسی لائبریوں میں جوڑ کر سرچ کی سہولت کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔
اردو محفل لائبریری
www.urduliberary.org
اردو محفل فورم کا محبان اردو کے لیے ایک نایاب تحفہ ، یونیکوڈ اردو فونٹس میں کتابیں آن لائن پڑھنے و ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے موجود ہے ۔
دیدہ ور
www.deedahwar.net
شاذ و نادر کتابیں آن لائن پڑھنے کے لیے ایک مفید ویب سائٹ۔ اس ویب سائٹ کی خاصیت یہ ہے کہ اس پر ایسی قدیم کتابیں بھی پڑھنے اور ڈاؤں لوڈ کرنے کو مل جائیں گی جو عام طور پر لائبریوں میں بھی دستیاب نہیں ہیں۔
اردو بک لنک
www.urdubooklink.blogspot.com
اسلامی کتابیں پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈانلوڈ کرنے و آن لائن مطالعہ کے لیے ایک بہترین لنک، یہ ویب سائٹ بتاتی ہے کہ اگر جذبہ نیک اور ارادے بلند ہوں تو مالی دشواری کا رونا رونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ اصل میں بلاگ ہے ۔ اور اسے کوبھی مفت میں بنا سکتا ہے ۔
کتاب گھر
www.kitabghar.net
اپنی طرز کی ایک منفرد آن لائن لائبریری۔ یہاں ہزاروں اہم کتابوں کو پڑھنے اور ڈاؤں لوڈ کرنے کی سہولت ہے ۔
اقبال سائبر لائبریری:
www.Iqbalsyberliberary.com
انٹرنیٹ پر اقبالیاتی ادب کا پیش بہا ذخیرہ اس ویب سائٹ پر دستیاب ہے ۔
اردو دوست:
www.urdudost.com
اردو کی ادبی کتابیں پی ڈی ایف فارمیٹ میں یہاں سے ڈاون لوڈ کی جاسکتی ہیں۔
ریختہ ڈاٹ کام:
www.rekhta.org
اردو کی جدید ترین کار آمد ویب سائٹ جہاں پر کلاسیکی ادب کی کتابیں نہ صرف پڑھی جاسکتی ہیں بلکہ شاعروں کے کلام کو سنا بھی جاسکتا ہے ۔ انجمن ترقی اردو بورڈ کی ساری کتابیں اس پر شائع کی جارہی ہیں۔
اس کے علاوہ اور بھی کتب خانے آن لائن موجو ہیں۔ ان میں کچھ ایسے ہیں جو اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کو بھی شامل ہیں جیسے :
www.archive.org
www.scrib.com
اس کے علاوہ اردو کے کئی رسالے ایسے ہیں جو اون لائن شائع ہوتے ہیں ان میں سے چند اہم رسالوں کے نام یہ ہیں:
ماہنامہ سمت
اس کے شماروں کو www.samt.bazmeurdu.com پر پڑھا جا سکتا ہے ۔اعجاز عبید کی ادارت میں شائع ہونے والا برقی رسالہ 2005 سے شائع ہورہا ہے ۔
سہ ماہی اردو اسکالر کی دنیا
یہ اردو زبان میں اون لائن شائع ہونے والا اوپن اکسس جرنل ہے ۔ اس کو www.scholarsworld.net پر پڑھا جا سکتا ہے ۔ اس پرقی میگزین کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ISSN نمبر حاصل ہے ۔
شعروسخن
ٹورنٹو سے 2003 سے شائع ہونے والا پرقی رسالہ ہے ۔ اس کی ادارت ایک ادب دوست سردار علی کرتے ہیں۔ یہ رسالہ اپنے مشمولات کی وجہ سے کافی وقیع ہے ۔ اس کو www.sherosukhan.com پر پڑھا جاسکتا ہے ۔
اردو ریسرچ جرنل
سہ ماہی ‘اردو جرنل’ کا آغاز فروری 2014 میں ہوا ہے ۔ اردو ریسرچ جرنل میں اعلی تحقیقی اور تنقیدی مضامین شائع کئے جاتے ہیں۔ اس جرنل کو آئی ایس ایس این نمبر حاصل ہے۔  راقم کی ادارت میں شائع ہونے والے اس پرقی رسالے کو www.urdulinks.com پر پڑھا جاسکتا ہے ۔
یہاں صرف چند رسالوں کا ذکر کیا جارہا ہے اس کے علاوہ بھی کئی رسالے ہیں جن کا ذکر یہاں اس وجہ سے نہیں کیا جارہا ہے کیوں کہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے ۔ کچھ رسائل ایسے ہیں جو پرنٹ کے ساتھ اون لائن بھی شائع ہوتے ہیں جیسے اردو دنیا ، فکروتحقیق اور سب رس وغیر ہ انہیں بھی ان کی ویب سائٹ پر جاکر ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔
رسالوں کے ساتھ ایک پریشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کے گزشتہ شمارے عام طور پر کھوجاتے ہیں اگر کبھی کسی سابقہ شمارے میں کچھ تلاش کرنا ہو تو اس وقت اس کے لئے لائبریوں میں جاتا پڑتا ہے وہاں بھی عام صورتوں میں مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے ۔ اس معاملے میں برقی رسائل کافی اچھے مانے جاتے ہیں کیوں کہ ان ویب سائٹ پر تمام شماروں کو کبھی بھی پڑھا جاسکتا ہے ۔
کمپیوٹر کے لئے آف لائن لائبریری:
کمپوٹر کے آنے سے زندگی کے ہر شعبہ میں آسانی پیدا ہوگئی ہے ۔ گھنٹوں کا کام منٹوں میں اور منٹوں کا سکنڈوں میں ہونے لگا ہے ۔ کمپوٹر پر دوسری زبانوں کی طرح اردو میں بھی آف لائن لائبریری موجود ہے ۔ جس کی مدد سے کمپیوٹر پر موجود سبھی کتابوں کو جوڑ کر ایک لائبریری کی شکل دی جاسکتی ہے ۔ اردو میں ابھی اس قسم کی لائبریری ابتدائی مراحل میں ہے ۔ لیکن اس لائبریری کا فائدہ اٹھا کر ہم تحقیق جیسے دشواگزار مرحلے کو آسان بناسکتے ہیں۔ ہم ایسی دو لائبریوں کا تعارف یہاں پیش کررہے ہیں۔
مکتبہ الحکیم:
عربی زبان میں مکتبہ الشاملہ ایک کامیاب کمپیوٹر لائبریری ہے ۔ جس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو آف لائن کمپوٹر پر ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے ۔ اس لائبریری میں عربی کی دینی اور ادبی کتابوں کا تقریبا اہم حصہ موجودہے ۔ اس کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں ضرورت کے مطابق کوئی بھی کتاب جوڑا سکتا ہے ۔ اردو اور عربی زبان کے رسم الخط میں ایک حد تک یکسانیت کی وجہ سے اس لائبریری کو اردو والے ایک زمانے سے للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ لیکن پریشانی یہ تھی اردو کی کتابیں اس میں جوڑنے پر اس میں کچھ حروف کٹ جاتے تھے ۔ اس کمی کو اردو کے ایک خادم نے مکتبہ الحکیم کے ذریعہ پورا کیا ہے ۔ اس کو اپنے کپیوٹر پر ڈاون لوڈ کرکے انٹرنیٹ پر موجود ہزاروں کتابوں کو آسانی سے ایک لائبریری کی شکل دی جاسکتی ہے ۔ چونکہ یہ لائبریری ابھی صرف ورڈ اور ٹکسٹ فائل کو قبول کرتا ہے اس وجہ سے لائبریری میں ہزاروں کتابوں کے مواد کو آن واحد میں تلاش کرسکتا ہے ۔ مثال کے طور پر ہمیں غالب کا کوئی شعر تلاش کرنا ہے تو ہم غالب کا دیوان ڈھوڈنے کے بجائے اس شعر کو یا اس کے کچھ الفاظ کو اس کے سرچ والے حصے میں داخل کردیں۔ وہ شعر اس لائبریری کی جس جس کتاب میں ہوگا۔ وہ حصہ کھل جائے گا۔
ایک دوسری لائبریری ہے ‘کیلیبر’(Calibre) یہ اگرچہ انگلش میں ہے ۔ مگر اس میں بھی اپنی ضرورت کی کتابوں کو جوڑنے کی سہولت ہے ۔ لہذا اردو کی کتابوں کو آسانی سے جوڑا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس میں کتابوں کے مواد کو سرچ کرنے کی سہولت نہیں ہے ۔ اس کا اردو ورزن بھی موجود ہے ۔ اس لائبریری کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتابوں کو ان کی اصلی حالت میں محفوظ رکھتا ہے ۔ اس لئے ضروورت پڑنے پر انہیں الگ بھی کیا جاسکتا ہے ۔
اہم ادیبوں کی کتابوں کے لئے خصوصی پروگرام:
کمپوٹر پر اردو کے مشہور ادیبوں کی کلیات کو سامنے رکھ کر عمدہ پروگرام بنائے جاسکتے ہیں۔ ابھی تک اردو میں اس قسم کی کوشش کم ہوئی ہے ۔ اقبال اکیڈمی پاکستان نے اقبال ڈیجیٹل لائبریری بناکر ایک راہ دکھائی ہے ۔ اس کی ڈی روم میں کلیات اقبال اردو مکمل ہے ۔ اسے پڑھنے کے علاوہ سنا بھی جاسکتا ہے ۔ اور کسی بھی لفط کی مدد سے پورے کلیات میں مطلوبہ لفظ کو تلاش بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ کلیات اقبال کا متن وہی ہے جو اقبال اکیڈمی پاکستان کا مطبوعہ نسخے کا ہے ۔ اسی نسخہ کی بنیاد پر ایک اینڈ رائڈ ایپ (android App.) کلیات اقبال کے نام سے بنایا گیا ہے ۔ اس کو اپنے موبائل پر گوگل پلے سے ڈاون لوڈ کرکے کبھی بھی اور کسی بھی وقت کلام اقبال کو پڑھا جاسکتا ہے ۔ انڈرائڈ موبائل کے لئے اسی طرح کا پروگرام غالب، فیض اور پروین شاکر کے کلام کا بھی بنایا جاچکا ہے ۔ مگر ان میں سے اکثر صرف انتخاب کلام پر ہی مبنی ہیں اس وجہ سے محققین کو ان سے مدد ملنے کی امید کم ہے ۔
اس تعلق سے اردو کونسل ایک اہم کام کرسکتی ہے ۔ اردو میں ابھی تک آف لائن ڈیجیٹل انسائیکلوپیڈیا نہیں ہے ۔ اردو کونسل نے اپنے انسائیکلو پیڈیا کو آن لائن ڈاون لوڈ کرنے کی سہولت دے دی ہے ۔ کونسل نے جامع انسائیکلو پیڈیا کو کمپیوٹر پر کمپوز کرایا تھا۔ اس کی سافٹ کافی کی مدد سے آسانی سے انسائیکلو پیڈیا آف انکارٹا اور انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا کی طرح کامیاب ڈیجیٹل انسائیکلو پیڈیا بنایا جاسکتا ہے ۔
جہاں تک آن لائن انسائیکلوپیڈیا کی بات ہے تو اس سلسلے میں وکی پیڈیا کا نام لیا جاسکتا ہے ۔ وکی پیڈیا ایک ایسی انسائیکلو پیڈیا ہے جس میں ہر کوئی اپنا مضمون ڈال سکتا ہے ۔ اور کسی بھی مضمون کی ایڈٹنگ بھی کرسکتا ہے ۔ اس طرح یہ عوام کے ذریعہ عوام کی انسائیکلو پیڈیا ہے ۔ اس کی سب بڑی خصوصیت بھی یہی ہے اور سب سے بڑی کمزوری بھی یہی ہے ۔ اس وجہ سے اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
ابھی حال ہی میں وکی پیڈیا کی طرز پر اردو کونسل نے ایک اردو پیڈیا لانچ کیا ہے ۔ یہ www.urdupedia.in پر دستیاب ہے ۔ ‘اردو پیڈیا’ وکی پیڈیا کی طرح کام کرتا ہے ۔ اس کے اندر بھی کوئی بھی اپنا موضوع شامل کرسکتا ہے ۔ ایک موڈریٹر پوسٹ کئے گئے مواد کو جانچ کرکے اون لائن کردیتا ہے ۔ لیکن افسوس کہ بات ہے کہ مرکزی وزیر کپل سبل کے ہاتھوں اجراء ہونے کے بعد سے اس ویب سائٹ پر کوئی کام نہیں ہوا ہے ۔
برقی کتابوں خصوصیات:
موجودہ صورتحال میں جب اردو کے لئے بنے اکثر کمپیوٹر پروگرام زیادہ دیر اور دور تک ساتھ نہیں دے پاتے اردو محققین کے لئے جو چیز سب سے کارآمد ہوسکتی ہے وہ ہے ای کتاب۔ اس کو برقی کتاب بھی کہا جاتا ہے ۔ برقی کتاب سے مراد وہ کتابیں ہیں جو کمپوٹر یا موبائل کی اسکرین پر پڑھی جائیں۔ برقی کتابوں کی روز بروز بڑھتی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسائیکلو پیڈیا آف برناٹیکا نے اب کاغذ پر چھائی بند کردیا ہے ۔ اب اس کا جدید ایڈیشن سی ڈی کے ذریعہ یا آن لائن ہی ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے ۔
کاغذی کتاب یا روایتی کتابوں کے ساتھ قاری کا جذباتی رشتہ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ روایتی کتابوں کی جگہ ڈیجیٹل کتابیں نہیں لے سکیں گی۔ لیکن ڈیجیٹل کتابوں کی کچھ ایسی خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے آنے والے دنوں میں اس کی مقبولیت اضافہ ہی ہوگا۔ روایتی کتابوں ختم تو نہیں ہونگی۔ لیکن ان کی اشاعت محدود ہوجائیگی۔
ای بک کو اٹھانے رکھنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ ہزاروں لاکھوں ای کتابوں کو کمپوٹر یا لیپ ٹاپ میں محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔ ایک معمولی سی جگہ میں پوری لائبریری سما سکتی ہے ۔ ای بک کی یہ ایسی خصوصیت ہے جس میں اس کا بدل روایتی کتاب نہیں بن سکتی۔
برقی کتاب کے رکھ رکھاؤ اور ان کی نگہداشت کے لئے کوئی محنت نہیں کرتی پڑتی ہے ۔
برقی کتابوں کو انکے ذخیروں میں تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ جبکہ راویتی کتابوں کو لائبریوں میں تلاش کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر مکتبہ شاملہ میں کسی حدیث کو تلاش کرنا کسی روایتی لائبریری سے کتاب تلاش کرنے سے زیادہ آسان ہے ۔ اگر سو کتابوں میں کسی چیز کو تلاش کرنا ہو تو اس میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔ جبکہ یہ کام مکتبہ الشاملہ کی مدد سے منٹوں میں کیا جاسکتا ہے ۔
برقی کتابوں کی ایک اہم خصوصیت جس کا متبادل روایتی کتب نہیں ہوسکتیں وہ یہ ہے کہ ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کے لئے ڈاک کے روایتی طریقوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ملکوں کی سرحدوں کو بے معنی کرتے ہوئے سیکنڈوں میں کہیں بھی برقی کتاب کو بھیجا جاسکتا ہے ۔ وہ بھی بغیر کسی خرچ کے ۔یہی وجہ ہے کہ اگر برقی کتاب موجود ہوتولوگ باہر ملکوں سے کتابیں برقی شکل میں منگانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ برقی کتابوں کو ایک ہی شہر میں بھیجنا ہو یا دور دراز کے ملک میں بھیجنا ہو برابر ہے ۔
برقی کتب کفایتی ہوتی ہیں۔ ان کی اشاعت پر بہت کم خرچ آتا ہے ۔ جو بھی خرچ برقی کتاب کی ٹائپنگ یا ڈیزائننگ میں آتا ہے اس کے بعد اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتاب ہزار لوگ ڈاؤن لوڈ کررہے ہیں یا اس سے زیادہ۔
برقی کتابیں ماحول دوست ہوتی ہیں۔ ان کی چھپائی پر نہ بجلی خرچ ہوتی ہے اور نہ کاغذ خرچ ہوتا ہے ۔ اس طرح یہ کتابیں ہمارے دنیا کی ہریالی کو برقرار رکھنے میں معاون ہوتی ہیں۔
برقی کتابیں عام طور پر سستی ہوتی ہیں اور بعض ویب سائٹ برقی کتابوں کو مفت میں ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت بھی دیتے ہیں۔
کچھ برقی کتابیں کچھ اضافی خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں۔ مثلاً آپ اسے سن بھی سکتے ہیں۔ یہ نابیناؤں کے لئے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے ۔ ضرورت پڑنے پر آپ اس میں نوٹ بھی لگا سکتے ہیں۔ اہم صفحات کو بک مارک (نشان زد) کرسکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس سے اقتباس درج کرنے کے لئے ٹائپ کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کاپی کرکے مطلوبہ جگہ اسے Paste کیا جاسکتا ہے ۔
محققین کے لئے برقی کتابوں میں دلچسپی لینے کی دو وجوہات ہیں:
مطلوبہ کتاب اور اس کے اندر کے مواد کو تلاش کرنے میں آسانی۔
نقل وحمل اور رکھ رکھاؤ میں آسانی۔
محققین عام طور کتابوں کو مکمل نہیں پڑھتے ۔ وہ صرف کتاب کے انہیں حصوں پر نظر ڈالتے ہیں جو ان کے تحقیق کے موضوع سے مطابقت رکھتا ہے ۔ اس لئے انٹرنیٹ بکھری ان برقی کتابوں سے محققین پورا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
لیکن برقی کتابوں کی یہ سبھی خصوصیات اسی صورت میں محققین کے لئے کشش کا باعث ہیں جب وہ پی ڈی ایف یا فوٹو کی شکل میں ہوں ۔ مطلب یہ کہ روایتی کتابوں کی فوٹو کاپی ہو۔ اس لئے کہ یونی کوڈ برقی کتابوں کی اچھائیاں اگرچہ ہیں لیکن ان کے اندر پروف کی غلطیوں کا امکان رہتا ہے ۔ ا ن کے صفحات میں بھی رد وبدل کا امکان ہوتا ہے اس وجہ سے ان کتابوں کو حوالے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصل کتاب ہم اسی کو تسلیم کرتے ہیں جو روایتی طور پر شائع ہوتی ہے ۔ برقی کتاب کو اس کا عکس ہی تسلیم کیا جاتا ہے ۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا چاہوں گا۔ عام طور پر کہا جاسکتا ہے کمپیوٹر اور جدید وسائل کی وجہ سے مطالعہ کا رجحان کم ہوا ہے ۔ ایسی بات نہیں ہے آج کا پڑھا لکھا طبقہ پہلے سے زیادہ پڑھ رہا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ اس نے روایتی کتابوں کی جگہ آن لائن کتابیں مضامین اور مواد پڑھنا شروع کردیا ہے ۔ وہ فیس بک پڑھتا ہے ۔ ایس ایم ایس پڑھ رہا ہے ۔ معلومات کے دوسرے وسائل کی طرف رجوع کررہا ہے ۔ اس وجہ سے نئی جنریشن پہلے سے زیادہ پڑھنے والی ہے ۔
آخر میں اک بات کہنا چاہوں گا کہ اگر نیٹ پر یا کمپوٹر پر آج اردو میں مواد کم ہے تو اس کی وجہ ہماری غفلت ہے ۔ اس غفلت کی نیند سے اردو والے جتنی جلدی بیدار ہوجائیں ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے ۔
۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔
مصادر ومراجع:
اس مقالہ کی تیاری میں درج ذیل ویب سائٹوں سے مدد لی گئی ہے :
1. www.urduweb.org
2. www.urduweb.org/mehfil
3. www.urdu.ca
4. www.kitaben.urduliberary.org
……………………………
Uzair Israeel
A-71, Abul Fazal Encalave
Jamia Nagar, N. Delhi-110025

اس مضمون کو پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اردو ریسرچ جرنل (اگست۔اکتوبر 2014)کو مکمل پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نوٹ: اردو ریسرچ جرنل کی کسی بھی تحریر کو بغیر اجازت نقل نہ کریں۔ (مدیر)

Leave a Reply

11 Comments on "اردو تحقیق میں جدید ذرائع کا استعمال"

Notify of
avatar
Sort by:   newest | oldest | most voted
محمد شمس الدین
Guest
محمد شمس الدین
جدید زمانے میں اردو زبان و ادب کے لئے کس طرح کام کیا جائے ، یہ مضمون اس پر روشنی ڈالتا ہے۔ ریسرچ اسکالرس کس طرح اپنے کام کو آسانی سے کرسکیں، اس میں ان باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ مواد حاصل کرنا، انہیں ٹھیک طرح ٹائپ کرکے پیش کرنا تحقیق میں نہایت ہی اہم مرحلہ ہے۔ مضمون نگارنے اپنے اس مضمون میں ان تمام ویب سائٹوں کے نام بھی درج کئے ہیں جہاں سے مواد آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے۔ ساتھ ہی ایم ایس ورڈ میں اردو کس طرح لکھی جائے، تفصیلاً بتایا ہے۔ ریسرچ اسکالرس… Read more »
محمد اشفاق ایاز
Guest
بڑا اچھا مضمون ہے۔ اس میں جدید اردو کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یعنی بہت سی معلومات کو یکجا کر دیا گیا ہے۔
Mohammad Firoz Alam
Guest
Shanti Vihar, Mangal Bazar Chipiyana Khurd Urf Tigri, G B Nagar مضمون معلوماتی ہے۔ لیکن کئی عنوان تشنہ اور ادھورے ہیں۔مثلاً ان پیج کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ یہ پاکستان کا بنا ہوا سافٹوئیر ہے۔ اس کے لئے مصنف کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ جس پائریٹڈ ان پیج کو استعمال کیا جارہا ہے وہ ۱۹۹۸ئ کا ورزن ہے۔ اس کے بعد کئی ورزن ان پیج کے آگئے۔ یہاں تک اب ورن ۴ بازار میں آنے کو تیار ہے۔اردو میں تحقیق کا یہی معیار ہے تو ؟ فیروزہاشمی، گریٹر نوئیڈا،… Read more »
Dr. Uzair
Editor
یسلام مسنون: ان پیج جہاں تک میری معلومات ہے پاکستان میں ہی بنا ہے نستعلیق خط کے خالق کے بارے میں یہ رپورٹ پڑھیں:
http://yoonhe.com/forum/discussion/392/%D9%86%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%82-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%82
جہاں تک ان پیج کے کئی ورزن آنے کی بات ہے تو موجودہ ورزن جو غالبا ۲۰۱۰ کا ہے، کافی کامیاب ہے۔ لیکن اب بھی لوگ پائریٹڈ کاپی استعمال کررہے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ بہت مہنگا ہے۔
Mohammad Firoz Alam
Guest
جس مضمون کو بطور حوالہ عزیر احمد صاحب نے پیش کیا ہے وہ بھی غیر متحقق اور ادھورا ہے۔ اُس میں نوری نستعلیق کے بارے میں تو ہے لیکن اِن پیج کے بارے کیا ہے؟ کب بنا؟ کب ریلیز ہوا؟ کتنے لوگوں نے کام کیا؟کس کمپنی نے بنایا؟ اُن کی ٹیم میں کون کون لوگ شامل تھے؟ براہِ کرم کسی کے پاس یہ معلومات ہو تو پیش کریں۔ تاکہ شبہات زائل ہوں۔ اور اوٹ پٹانگ کی معلومات سے لوگوں کو بچایا جاسکے۔ اور اگر اِسی قسم کی معولمات فراہم کرنے کانام ریسرچ ہے۔ تو ہمارے یہاں ایسے ریسرچ اسکالروں کا… Read more »
Dr. Uzair
Editor
فیروز صاحب ناراض نہ ہوں، مذکورہ مضمون میں اگر آپ غور سے پڑھتے تو ان پیج کس طرح سے وجود میں آیا اس کی پوری روداد ہے، مختصر ہی سہی، دوسری بات میں اپنے تمام بزرگوں سے کہنا چاہوں گا کہ وہ ہر جملے میں اس بات کی تکرار نہ کریں کہ اسی کا نام تحقیق ہے تو ۔۔۔۔۔، آج کی نسل ان نامساعد حالات میں بھی جو کچھ اردو کے لیے کررہی وہ کچھ کم نہیں ہے۔ ہم اپنے بزرگوں کا احترام کرتے ہیں، یہی امید اپنے بزرگوں سے رکھتے ہیں کہ وہ ہم سے شفقت سے بات کریں۔… Read more »
Mukarram Niyaz
Guest
ڈاکٹر عزیر اسرائیل کی معلومات درست نہیں۔ ان-پیج سافٹ وئیر ہندوستان کے وجے کرشن گپتا کی تخلیق ہے۔ وجے کرشن گپتا کا انٹرویو اس لنک پر ملاحظہ کیجیے ۔۔۔
http://andleebindia.blogspot.com/2009/01/interview-of-inpage-developer.html
ddd
نویدظفرکیانی
Guest
بہت اچھا مقالہ ہے۔۔۔سیر حاصل بحث کی گئی ہے لیکن اس ضمن میں آئندہ امکانات پر کوئی بات نہیں کی گئی۔
Dr. Uzair
Editor
اس مقالہ میں بہت ساری ایسی چیزیں گنائی گئی ہیں جو ابھی اردو میں دستیاب نہیں ہیں، امید ہے کہ آئندہ اردو میں بھی دستیاب ہوجائے۔ یہ امکانات کے ہی زمرہ میں آتا ہے۔
Tauseef Khan
Guest
اسلام علیکم :
عزیر بھائی یہ مضمون کافی پہلے نظروں سے گزرا ، بس یونہی سرسری سا ۔۔۔۔۔
مگر آج آپ کے شکریہ کے ساتھ اس کی قدروقیمت کا اندازہ ہوا۔۔۔
کل ہمارا ” research methodology ” پیپر ہے ، جس کا یونٹ تھری ”
Basic knowledge of computer in context of urdu research ”
ہے۔۔۔۔
ہم تو بولائے پھر رہے تھے کہ آپ کا مضمون ہاتھ لگ گیا، کئی جزئیات حل ہوگئے جس میں اردو ای ریسورسز بہت اہم ہے۔۔۔۔
یہ مضمون نہایت کارآمد ثابت ہوا، جو اس کے معیار پر دال ہے۔۔۔۔
شکریہ سائیں۔۔۔۔۔۔
توصیف خان ، دھلی یونیورسٹی۔۔۔۔
گلشن وفا
Guest
آداب وسلام ! اس مقالے کو پڑھنے کے بعد کچھ سوالات خود بخود حل ہو گۓ،….دل بھی بہت خوش ہے اور آ ج زہن کی موجوں کو خوشگوار فضاء میں پرسکون سانسیں پانے کا موقع نصیب ہوا…
آتھنٹک جرنل پڑھ کے دلی مسرت ہوئ..الله اسکے سرپرست سر پروفیسر ابن کنول،مدیر اعلی عزیز اسرائیل صاحب اور تمام معزز قلمکاروں کو سلامت رکھے، خوش رکھے اور دونوں جہاں میں کامیاب بنائے..اور دعا ہے کہ اللہ عزیز صاحب کو ہر دل عزیز بنا دے…
آ مین
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.