مختلف اقوام ومذاہب میں عورت کی حیثیت

ہردورمیں مظلومی اورمحکومی عورت کا مقدررہی ہے ۔اس کے حصہ میں روشنی کبھی نہیںآئی ‘وہ اذیت اور ذلت کابوجھ اٹھائے تاریکیوںکے جنگلوں میں بھٹکتی رہی ہے۔(نور ِ اسلام سے قبل) کہیںصنفی امتیاز کے سبب اسے زندہ دفن کیاگیاتوکہیںشوہر کی وفات پرخودسوزی کے لیے مجبورکیاگیا۔کبھی معمولی اشیاء کی طرح بازاروں میں بیچااورخریداگیا‘توکبھی باپ‘ شوہریا بیٹے کی ملکیت ماناگیا۔ کبھی اسے شیطان کی ایجنٹ‘شروفتنہ کا مجسمہ تو کبھی اسے بدی کی جڑ اورمعصیت کا دروازہ قرار دیاگیا۔ بحیثیت انسان اسے اس کے جائزمقام اورحقوق سے ہمیشہ محروم رکھاگیا۔

پروفیسرمیاںانعام الرحمن اپنے مضمون’’غیرمادی کلچرمیں عورت کے سماجی مقام کی تلاش‘‘ میں لکھتے ہیں :تاریخ کے قدیم دور سے لے کر ہمارے اپنے عہد تک صنف ِ نازک کے سماجی مقام کی نوعیت ہمیشہ زیربحث رہی ہے ۔اس ضمن میں معلوم تاریخ کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ صنف ِ نازک ہردور میں مرد کے زیر نگیں رہی ہے۔(1)

 عورت کی مظلومیت اور بے بسی کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے August Bell نے لکھا ہے:

’’قدیم دور میں عورت کی حیثیت انتہائی درجہ کے استبداد سے دوچار تھی ۔اسے جسمانی طورپر مغلوب کرکے قبضے میں رکھاجاتا اور ذہنی طورپراس سے بھی زیادہ ظلم روارکھا جاتا تھا ۔خانگی معاملات میں اس کی حیثیت نوکروں سے صرف ایک درجہ بہترتھی ۔اس کے اپنے بیٹے اس کے آقا ہوتے تھے ‘ جن کی فرمانبرداری اس پر لازم تھی۔‘‘(2)

مختلف اقوام میں عورت کا مقام

یونان

یونان انسانی تاریخ میں تہذیب و تمدن اور علم و فن کا سب سے قدیم گہوارہ ماناجاتاہے۔ لیکن تہذیب وثقافت اور علم و ادب کے اس مرکز میںعورت کو کوئی احترام حاصل نہ تھا ۔ یونانیوںکے نزدیک عورت ایک ادنی درجہ کی مخلوق تھی اور عزت واحترام کے لائق صرف مرد تھا‘ سقراط جو اس دور کامشہور فلسفی تھا‘اس کا یہ خیال ہے :

    ’’عورت سے زیادہ فتنہ و فساد کی چیز دنیا میں کوئی نہیں ‘وہ دفلی کا درخت ہے کہ بظاہر بہت خوبصورت معلوم ہوتا ہے لیکن اگر چڑیا اُس کو کھا لیتی ہے تو وہ مر جاتی ہے۔‘‘  (3)

یونانی (Mythology) میں ایک خیالی عورت پانڈورا(Pandora)کو تمام انسانی مصائب کا موجب قرار دیا گیا تھا۔(4)

لیکی نے اپنی کتاب ’’تاریخ اخلاق یورپ میں لکھا ہے:

’’بہ حیثیت مجموعی باعصمت یونانی بیوی کا مرتبہ انتہائی پست تھا ‘اس کی تمام زندگی غلامی میں بسر ہوتی تھی‘ لڑکپن میں اپنے والدین کی‘ جوانی میں اپنے شوہر کی‘ بیوگی میں اپنے فرزندوں کی‘ وراثت میں اس کے مقابلے میں اس کے مرداعزہ کا حق ہمیشہ راجح سمجھا جاتا تھا۔ طلاق کا حق اسے قانوناًضرورحاصل تھا تاہم عملاً وہ اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتی تھی‘ کیونکہ عدالت میں اس کا اظہار یونانی ناموس وحیاء کے منافی تھا ۔افلاطون نے مردوعورت کی مساوات کا دعویٰ کیاتھا لیکن یہ تعلیم محض زبانی تھی ۔عملی زندگی اس سے بالکل غیرمتاثررہی۔ازواج کا مقصدخالص سیاسی رکھاگیا تھایعنی اس سے طاقتور اولاد پیداہوجو حفاظت ِ ملک کے کام آئے اور اسپارٹا کے قانون میں یہ تصریح موجود تھی کہ ضعیف القوی شوہروں کو اپنی کم سن بیویاں کسی نوجوان کے حبالہ ٔعقد میں دے دینی چاہئیں تاکہ فوج میں قوی سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔‘‘(5)

انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا کے الفاظ میں’’قدیم یونانی تہذیب میں عورت کامقام اتناگرادیاگیاتھا کہ اس کی حیثیت بچے پالنے والی لونڈی کی ہوگئی تھی‘عورتوں کو ان کے گھروں میںقید کردیاگیاتھا‘وہ تعلیم سے محروم تھیں‘ان کے شوہرانہیںگھریلوسامان کی طرح سمجھتے تھے۔ (6)

  عام طور پر عورت گھر اور گھر کے سامان کی حفاظت پر مامور ایک ملازم کی حیثیت رکھتی تھی اس کے اور اس کے شوہر کے غلاموں کے رتبہ میںکچھ زیادہ فرق نہ تھا ‘وہ اپنی مرضی سے نکاح نہیں کر سکتی تھی‘ بلکہ اس کی رائے جانے بغیر اس کا نکاح کیاجاتاتھا‘ وہ خود بمشکل طلاق لے سکتی تھی‘ لیکن اولاد نہ ہو نے یاناپسندیدگی کی صورت میں شوہراسے طلاق دے سکتا تھا۔ مرد اپنی زندگی میں جس دوست کو چاہتا‘ وصیت میں اپنی زوجہ کو بطورنذرانہ پیش کر سکتا تھا۔ عورت کو خود کسی چیز کے فروخت کرنے کا اختیار نہ تھا۔یونانی معاشرے میں بھی لڑکے کی پیدائش فرحت کا تو لڑکی کی ولادت غم کاباعث ہواکرتی تھی۔(7)

  روم

یونانیوں کے بعد دنیا میںجس قوم کو عروج نصیب ہوا، وہ اہل روم تھے، رومی معاشرے کو تہذیب و تمدن کا مرکز تصور کیا جاتا تھا، لیکن اس معاشرے میں بھی عورت کو اس کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا تھا‘اس کی کوئی قابل احترام حیثیت نہ تھی ۔عورت کے معاملے میں رحم اورنرمی کابرتائو بالکل نہ تھا ‘ وہ سنگدلی اور شقاوت قلبی کی بھینٹ چڑھ جاتی تھی ۔ اگر مرد کو اپنی بیوی کے کردارپرکچھ شبہ بھی ہوتا تو وہ اسے قانونی طور پر موت کے گھاٹ اُتار دینے کا حق رکھتا تھا۔ مزید یہ کہ اپنی خواہش کے مطابق اسے مارڈالنے کا طریقہ کاراپنانے کابھی مرد مکمل اختیار تھا۔ (8)

مولاناسیدجلال الدین عمری روم میں عورت کی حیثیت کے بارے میں لکھتے ہیں:

  غلاموں کی طرح عورت کا مقصد بھی خدمت اور چاکری سمجھا جاتا تھا‘ مرد اسی غرض سے شادی کرتا تھا کہ بیوی سے فائدہ اُٹھا سکے گا‘ وہ کسی عہدہ کی اہل نہیں سمجھی جاتی تھی‘ حتی کہ کسی معاملے میں اس کی گواہی تک کا اعتبار نہیں تھا۔ رومی سلطنت میں اسے قانونی طور پر کوئی حق حاصل نہ تھا۔(9)

  حتی کہ بابل کی تہذیب کے عروج کے دوران بھی عورت کو خریدا اور بیچاجاتاتھا۔ اسے جائیداد کے حق سے بھی محروم رکھاجاتاتھا۔ ضرورت پڑنے پرباپ اپنی بیٹیوں کو فروخت کردیتے تھے۔(10)

غرض یہ کہ تہذیب وتمدن کے عظیم مراکز مانے جانے والے یونان وروم عورت کو اس کا جائز مقام اوربحیثیت انسان عزت و احترام دینے سے قاصر تھے۔

یورپ

یورپ جوآج مساوات ِ مردوزن کا سب سے بڑا دعویدار ہے ‘انیسویں صدی میں رونما ہوئے صنعتی انقلاب سے قبل وہاں عورت‘ مرد کے ظلم و ستم کا نشانہ بنی ہوئی تھی ۔کوئی ایسا قانون نہیں تھا جو عورت کو مرد کی زیادتیوں سے پناہ دیتا ۔ انگلستان کے قانون کے مطابق شادی کے بعد عورت کی شخصیت مرد کی شخصیت کا ایک جز بن جاتی تھی ‘یہ اصول بھی وہاں رائج تھا کہ شادی کے بعد عورت کے ذمہ جو قرض ہوگا وہ مرد ادا کرے گا اور اس کی جائیداد‘ مال و دولت کاوہ حقدار ہوگا‘نان و نفقہ کا بھی کوئی مناسب قانون نہ تھا ‘عورت مرد کے خلاف مقدہ دائر نہیں کرسکتی تھی ‘ مرد چاہتاتو عورت کو حق ِ وراثت سے محروم کردیتا لیکن بیوی کی جائیداد کا وہ جائز حقدارماناجاتا تھا۔(11)

John Stuart Mill اپنی کتاب ’’محکومیت ِ نسواں‘‘ میں لکھتا ہے :

انگلستان کے قدیم قوانین میں مرد کو عورت کا مالک تصورکیاجاتا تھا بلکہ وہ اس کا بادشاہ ماناجاتا تھا ‘ یہاں تک کہ شوہر کے قتل کا اقدام قانونی اصطلاح میں بغاوت ِ ادنیٰ کہلاتا تھا اور عورت اس کا ارتکاب کرے تو اس کی پاداش میں اسے جلادینے کا حکم تھا۔(12)

رابرٹ بریفالٹ کا کہنا ہے :’’پانچویں صدی سے لے کر دسویں صدی تک یورپ پرگہری تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔اوریہ تاریکی آہستہ آہستہ زیادہ گہری اور بھیانک ہوتی جارہی تھی اس دور کی وحشت اوربربریت زمانہ قدیم کی وحشت اوربربریت سے کئی درجہ بڑھی چڑھی ہوئی تھی ‘کیوں کہ اس کی مثال ایک بڑے تمدن کی لاش کی تھی ‘جوسڑگئی ہو ‘اس تمدن کے نشانات مٹ رہے تھے ‘ اور اس پر زوال کی مہر لگ چکی تھی ۔‘‘(13)

محمد قطب نے لکھا ہے :’’قدیم یورپ بلکہ دنیابھر میں عورت کوکوئی قدرومنزلت حاصل نہیں تھی۔قدیم علما ء اور فلاسفہ عرصہ دراز تک اس کے بارے میں کچھ اس قسم کے موضوعات پر سرکھپاتے رہے کہ کیاعورت میں بھی روح ہوتی ہے ؟ اگر اس میں روح ہوتی ہے تو یہ انسانی روح ہے یا حیوانی روح؟ اوراگر انسانی روح ہے تومرد کے مقابلے میں اس کا صحیح معاشرتی مقام کیا ہے؟کیاعورت پیدائشی طورپر مرد کی غلام ہے یا غلام سے اس کا مقام کچھ اونچا ہے؟‘‘ (14)

ایران

 ایرانی معاشرے میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور اگر کسی درجے پر اُسے اہمیت دی بھی جاتی تو صرف ایک غلام کی ۔ شوہرکویہ اختیار تھا کہ اپنی بیوی یا بیویوں میں سے ایک کوچاہے وہ بیاہتا بیوی ہی کیوں نہ ہو‘ کسی دوسرے بے روزگار شخص کو اس مقصد کے لیے دے کہ وہ اس سے ذریعہ  ٔمعاش میں مدد لے‘ اس عمل میں عورت کی رضا مندی شامل نہیں ہوتی تھی‘ عورت کو شوہر کے مال و اسباب پر تصرف کاکوئی حق نہیں تھا‘ اور اس عارضی ازدواجی زندگی میں جو اولاد پیداہوتی تھی‘ وہ پہلے شوہر کی تسلیم کی جاتی تھی‘ یہ مفاہمت ایک باضابطہ قانونی اقرار نامے کے ذریعے انجام پاتی تھی ۔

   ایرانیوں کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ عورت ناپاک ہے اوراُس کی نظر بد کا اثر ہوتا ہے، اور خاص طور پر اگر کسی بچے پر اُس کی نظر بد پڑ گئی تو بچے پر کوئی نہ کوئی بدبختی ضروری آئے گی ‘اس لیے بچے کو نظر بد سے بچانا نہایت ضروری سمجھا جاتا تھا‘ بالخصوص اس بات کا خیال رکھاجاتا تھا کہ کوئی عورت بچے کے پاس نہ آئے تاکہ اس کی شیطانی ناپاکی بچے کے لیے بدبختی کا باعث نہ ہو۔(15)

مشہورچینی سیاح ہیون سانگ کا کہنا ہے کہ ایرانی قانون معاشرت میں ازدواجی تعلقات کے لیے کسی رشتہ کا بھی استثناء نہیں تھا۔جن رشتوں سے ازدواجی تعلقات متمدن سماجوں میں ہمیشہ غیرقانونی رہے ہیں‘ایرانیوں کوان کی حرمت کا پاس و لحاظ نہ تھا۔(16)

اس شدیدشہوانی رجحان کے خلاف مانی نے تجرد کی تحریک چلائی تھی اورنکاح کو حرام قراردے دیاتھا۔پھرمانی کی تحریک کے خلاف مزدک نے آوازاٹھائی اور اس نے تمام عورتوں کو سب کے لیے حلال ٹھہرایا۔اس تحریک کے نتیجہ میں ایران جنسی انارکی اورشہوانی بحران میں ڈوب گیاتھا۔ (17)

مصر

قدیم مصری عورت کو تمام حقوق حاصل تھے‘ اسے احترام کی نظر سے دیکھاجاتاتھا‘لیکن پھر اس سے اس کا یہ رتبہ بتدریج چھین لیاگیا۔مصری قانون عورت کو اس وقت تخت و تاج کا وارث بناتا تھا جبکہ شاہی خاندان میں کوئی مرد وارث موجود نہ ہو ‘ لیکن ملکہ ٔ مصرعورت کے لباس میں ظاہر نہیں ہوسکتی تھی ‘وہ مردانہ لباس استعمال کرتی تھی ۔اس لیے کہ ان کا یہ ماننا تھا کہ عورت حکومت اور سرداری کی اہل نہیں ہوسکتی۔

مصر میں بھی کئی ایسی رسمیں رائج تھیں جو عورت کو نہایت پستی میں ڈھکیل دینے کے لیے کافی تھیں۔نکاح کے بعد عورت ‘مرد کی ملکیت قرار پاتی تھی ‘بلکہ شادی کے بعد عورت کا سارا مال بھی مرد کے نام ہوجاتاتھا‘اولاد پربھی عورت کا حق بالکل نہیں تھا ‘وہ مرد کی غلام بن کررہ جاتی تھی۔(18)لیکن ڈاکٹرمحمد شہزادشمس لکھتے ہیں کہ قدیم مصر میں عورت کا سماجی مرتبہ بہت بلندتھا۔ان کے مطابق نکاح نامہ کی سب سے پہلے ایجاد قدیم مصر میں ہوئی تھی ۔(19)

عرب

نورِ اسلام کے پھیلنے سے قبل عرب سماج بداخلاقیوں کی تاریکیوں میں ڈوباہواتھا‘عورت کا مقدر ذلت اور پستی تھا‘اس کی حیثیت ایک ارزاں شئے جیسی تھی۔ظلم اورجبرکا یہ عالم تھا کہ کم سنی میں اس کی زندگی کا چرا غ بجھادیاجاتا تھا‘ بیٹی کے روپ میں باپ کے لیے اس کا وجود باعث ِ عارہواکرتا تھا۔مردکوتمام مالکانہ حقوق حاصل تھے‘اورعورت ایک غلام بن کر جی رہی تھی۔

 تہذیب وتمدن اور علم و فن کے مراکز کے طورپرابھرنے والے یونان اور روم میںجب صنف ِ نازک بحیثیت ایک انسان احترام اور فطری حقوق سے محروم تھی ‘ تو شائستگی اورتہذیب سے ناآشناعرب میں عورت سے حسن ِ سلوک کا تصورمحال تھا۔

مولوی نایاب سیتامڑھی لکھتے ہیں :

’’جب تہذیب و تمدن کے مراکز اور تاریخِ اقوام میں اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنے عروج کی چھاپ چھوڑنے والی قوموں کی نگاہوں میں عورت ہر طرح کی پستی اور زبوں حالی کی حق دار تھی اور انسان کی حیثیت سے ملنے والی خداداد شرافت و کرامت اور بزرگی میں اس کا کوئی حصہ نہیں تھا، تو سرزمینِ حجاز کا کیا کہنا، وہ تو وادی غیر ذی زرع اور فطرتاً بنجر واقع ہوئی تھی اوراس کا اثر وہاں کے مکینوں پر بھی کامل تھا، چنانچہ وہ علم و تمدن سے خار کھائے بیٹھے تھے، تہذیب اور شائستگی سے انہیں خداواسطے کا بیر تھا، حسنِ اخلاق اور حسنِ سلوک کے نام سے بھی وہ ناآشنا تھے، کسی کو اس کے حقوق دینا اور دلانا ان کی جاہلی غیرت و شجاعت کے لیے چیلنج تھا، ان کے ہاں کوئی نظم و ضبط نہ تھا۔‘‘(20)

ڈاکٹرمحمدشہزادشمس‘ عرب میں عورت کی سماجی حالت سے متعلق رقمطراز ہیں:

’’عرب کے مختلف قبائل نے عورت کی سماجی زندگی اور اس کے حقوق کو نہ صرف پامال کیا بلکہ وحشیانہ سلوک کا رویہ اپنایا۔ اس سماج میں عورت ایک جائیدادکی حیثیت رکھتی تھی ۔شوہر کے انتقال کے بعد اسے فروخت کردیاجاتا تھا ‘بیوی کو زمین اور جوئے میں دائو پرلگادینے کا رواج تھا۔سوتیلی ماں سے شادی رچانے اور اپنی بیوی کو خاص مدت تک دوسروں کو کرایہ پردینے کی رسم بھی تھی ۔‘‘(21)

قدیم ہندوستان میں عورت

عورتوں کی محکومی اورمردوں کی بالادستی کی جو تصویر قدیم عالمی سماج کے مطالعے سے ابھرتی ہے وہی ہمارے ملک کی تاریخ میں نمایاں نظر آتی ہے ۔قدیم ہندوستان میں عورت کی سماجی حیثیت اور انفرادی شخصیت محرومی ‘ کم مائیگی‘ذلت ورسوائی اورظلم وجبرسے مجروح دکھائی دیتی ہے۔قدیم ہندوستان میں عورت کے مقام ومرتبہ سے متعلق اختلافات بھی رہے ہیں ‘جس کی اصل وجہ معلومات کی کمی اور قدیم سنسکرت کی کتابوں سے ناواقفیت اوران میں پایاجانے والاتضاد بھی ہے ۔(22)

ہندوستانی خواتین کی حیثیت کو Encyclopaedia Brittanicaمیں اس طرح بیان کیاگیا ہے :’’ہندوستان میں محکومی ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی تھی‘منو کے مطابق عورت رات دن اپنے سرپرستوں کے تحت حالتِ انحصاری میںہونی چاہیے۔‘‘

 ویدک عہد

مختلف مصنّفین اور مقالہ نگاروں کا یہ احساس ہے کہ ویدک عہد میں عورت کا سماجی رتبہ کافی بلند تھا۔عورتوں کو مکمل آزادی حاصل تھی‘وہ پورے اختیار کے ساتھ اپنے شوہر کے انتخاب میں حصہ لیتی تھیں‘جیون ساتھی منتخب کرنے کی اس رسم کو’ سوئمبر‘کہاجاتا تھا۔(23)

یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیاویدک عہد میں مرداورعورت کومساوی حقوق میسر تھے ‘لیکن حاصل شدہ ذرائع سے منکشف ہوتا ہے کہ عورت کے تئیں آزادانہ رویہ اورطرزِعمل پایاجاتاتھا۔خواتین مذہبی اور سماجی امور میں سرگرم رہا کرتی تھیں۔ بیوائوں کو دوسری شادی کی اجازت تھی۔ ابتدائی ویدک دور میں خواتین کو جو اعلیٰ موقف حاصل تھا وہ آخری ویدک دور میں بتدریج زوال پذیر ہوتا گیا۔ویدک سماج کا ڈھانچہ پدرانہ تھا‘یہ لوگ بیٹوں کی شدت سے خواہش کرتے تھے۔رام شرن شرماکے مطابق :’’یہ سماج پدری تھا۔اس لیے لوگوں کی تمنا ہوتی تھی کہ ہرباربیٹا ہی پیداہو۔لوگ دیوتائوں سے خاص طورپرالتجاکرتے تھے کہ ایسے بہادر بیٹے پیدا ہوں جو جنگیں لڑسکیں۔رگ وید میں اگرچہ بچوں اور مویشیوں کی افزائش کے لیے جگہ جگہ دعائیں ملتی ہیں‘مگرکسی ایک جگہ بھی بیٹی کی پیدائش کے لیے دعا نہیں ملتی۔‘‘(24)

دھرم شاسترا (مابعدویدک عہد )کے دور میں عورت کی حیثیت نہایت پست تھی۔ کمسنی کی شادی کی حوصلہ افزائی کی گئی اور بیوائوں کی شادی کو نظر انداز کیا جانے لگا ۔ لڑکیوں کی پیدائش کو اس حد تک منحوس سمجھا جانے لگا کہ بے شمار والدین ‘ نومولود لڑکیوں کو ہلاک کردیا کرتے تھے ۔ بیوائوں کے ساتھ بے انتہا بدسلوکی کے نتیجہ میں ستی کی رسم عام ہوگئی۔

سمرتیوں‘پرانوں اوررزمیہ داستانوں (رامائن‘مہابھارت )کے عہدمیں عورت کی حالت مزید ابتر ہوگئی تھی‘اسے تمام تربرائیوں کا مجموعہ سمجھاجانے لگاتھا۔اس عہدمیں منو کے قوانین لوگوں کے لیے ندائے خداوندی کا درجہ رکھتے تھے۔منوکے اصول کے تحت عورت کو شودر کے زمرے میں رکھاگیاتھا اورقتل کے معاملے میں دونوں کی ایک ہی سزامقرر کی گئی تھی۔(25)

ہندومذہب میں دھرم شاسترکی بنیاد پرکئی سمرتیاں لکھی گئیں‘جن میں منوسمرتی سب سے زیادہ مشہور اوراہمیت کی حامل رہی ہے۔اسی سمرتی کی بنیاد پر ہندو قانون بنایاگیاہے۔(26)منوسمرتی کو ہندو سماج کے معاشرتی وعائلی قوانین کا ماخذسمجھاجاتاہے۔(27)

منوسمرتی میں عورتوں سے متعلق یہ بیانات ملتے ہیں :

٭عورت کو باپ یا بھائی اپنی مرضی سے کسی بھی شخص کے حوالے کردے تواسے زندگی بھر اس کی تابعدار رہنا چاہیے۔

٭بیوی کو اپنے شوہر کی اردھانگنی یعنی آدھا بدن یا نصف بہتر قرار دیاگیا ہے چنانچہ عورت کا اپنا کوئی انفرادی وجود نہیں ہے۔

٭منو نے بیوہ کو دوبارہ شادی کی اجازت اس طرح دی ہے کہ وہ اپنے متوفی شوہر کے سب سے چھوٹے بھائی کے سوائے کسی اور سے شادی نہیں کرسکتی ۔ اگراسے متوفی شوہر سے بچے ہوں تو اسے کبھی دوبارہ شادی نہیں کرنی چاہیے۔(28)

ہندودھرم کی مقدس مذہبی کتابوں میںبھی عورت کو وہ عزت و احترام نہیں دیاگیا جومردوں کوحاصل تھا۔مہابھارت‘پران اوررامائن جیسی اہم اور مقدس کتابوں میں عورت سے متعلق اچھے خیالات نہیں ملتے۔

بنجامن والکرنے اپنی کتاب ’’ہندوورلڈ‘‘ میں رامائن اورمہابھارت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے : ’’اس زمانے میں یہ عقیدہ عام تھا کہ عورتیں ناپاک اورمکروہ ہیں‘اورمرد کی روحانی نجات میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔یہی نہیں‘بلکہ ان میں ساری برائیاں بھری پڑی ہیں۔جھوٹ ‘فریب‘ دھوکہ ‘ہوس پرستی ‘مکر اور عقل کی کمی ۔غرض دنیا کی ساری برائیوں کا وہ مجموعہ ہیں۔‘‘(29)

مقدس پران میں بھی عورتوں سے متعلق ناپسندیدہ خیالات ملتے ہیں:

’’شراب کی تین قسمیں ہیں۔لیکن سب سے زیادہ نشہ آور عورت ہے۔اسی طرح زہرکی سات قسمیں ہیں۔لیکن سب سے زیادہ مہلک عورت ہے۔‘‘(30)

قدیم ہندوستانی معاشرے میں عورت کی مظلومی اور بے بسی کی یہ انتہاء تھی کہ اسے شوہرکی چتاپرنذر آتش کیاجاتاتھا۔بیوائوں کو یہ باور کروایاجاتا تھا کہ ’ستی‘ ہوجانے ہی میں ان کی فلاح اورنجات ہے۔مہابھارت اوررامائن میں بھی ستی کا ثبوت ملتاہے۔ جوبیوائیں خودکوآگ کے سپرد نہیں کرتی تھیں‘ ان پرکئی پابندیاںاور سخت اصول و قواعدلاگوتھے۔بیوہ کا حسن مسخ کیاجاتا تھا اور سرمنڈوایاجاتا تھاتاکہ وہ پرکشش نہ لگیں۔(31)

A S Altekarکے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے قبل کا دور(500 ق م تا1000 ئ)عورتوں کے مقام و مرتبہ میں مسلسل انحطاط اورپستی کا دور تھا۔یہ عہد تاریخ ِ ہندمیں تنگ نظری‘ عدم مساوات اورناانصافی کا تاریک عہدتھا۔(32)

عہد وسطیٰ

اے پریما لکھتی ہیں:عہد وسطی میں ہندوستانی عورت کی سماج میں حیثیت مزید بگڑگئی تھی‘کچھ طبقوں میں ستی کا رواج‘ بچوں کی شادی اور بیوہ کی دوسری شادی پرپابندی جیسی برائیاں سماجی زندگی کا حصہ بن گئی تھیں ۔ برصغیرہندوستان پر مسلم راج نے ہندوستانی سماج میں پردے کو رواج دیا۔راجستھان کے راجپوتوں میں جوہرکارواج تھا۔ہندوستان کے کچھ حصوں میں دیوداسیوں کو جنسی استحصال کا سامناکرناپڑتاتھا۔تعدد ازدواج کاخاص طورپر ہندو اور مسلم خاندانوں میں عام چلن تھا ۔ کئی مسلم خاندانوں میں عورتوں کو زنانہ رقبہ تک محدودکردیاجاتاتھا۔ (33)

ڈاکٹرمحمدشہزادشمس کا یہ احساس ہے کہ دور وسطیٰ میں(آٹھویں صدی عیسوی سے آٹھارویں صدی عیسوی تک ) بھی عورتیں عام طورپر ظلم و ستم کا شکار بنتی رہیں لیکن راجپوت‘ سلاطین ِ دہلی یامغل شہنشاہوں کے عہد کی چند شہزادیوں اورامیرزادیوں کی سماجی حیثیت کافی بلند تھی۔(34)

مختلف مذاہب میںعورت کی حیثیت

مذہب ایک اہم سماجی ادارہ ہے ‘جوانسانی معاشرے کی تشکیل میں اہم کرداراداکرتا ہے ‘اس کے اصول ونظریات ہی سماج کے لیے قدروں کومتعین کرتے ہیں ۔مذہب جہاں انسانی زندگی کی فلاح و بقاء کے لیے لائحہ عمل مرتب کرتا ہے ‘وہیں مرد اور عورت کے مقام و مرتبہ کا بھی تعین کرتا ہے۔(35)دنیا میں مختلف مذاہب نے مرد اورعورت کے متعلق جونظریات پیش کیے اس کا راست اثر مختلف اقوام میں ان کی سماجی زندگی پرپڑتاہے۔مختلف زمانوں میں خدا کی طرف سے نیکی وشرافت ‘عفت و عصمت کی جو تعلیم پہنچتی رہی ‘رفتہ رفتہ اس کا یہ مطلب اخذ کیا جانے لگا کہ عورت سے تعلق گناہ سے قریب کرتا ہے لہٰذااس سے کنارہ کشی اختیارکی جائے۔جوں جوں اس تصورکوتقویت ملتی گئی عورت سے نفرت میں اضافہ ہوتاگیا ۔صنف نازک سے ربط وتعلق کو تقویٰ و پرہیزگاری میں حائل تو اس سے دوری کوخداترسی کی دلیل سمجھ لیاگیا۔(36)

یہودیت

یہودی روایات کے مطابق عورت ناپاک وجود ہے ‘ اور اس کائنات میں مصیبت اسی کے سبب ہے ۔ان کے نزدیک مرد نیک سرشت اور حسن کردار کا حامل ‘اورعورت بدطینت اورمکار ہے ‘کیونکہ اس نے آدم ؑ کوبہلاپھسلاکر پھل کھانے پرآمادہ کیا جس سے اللہ نے منع کیا تھا۔

یہودی شریعت میں مرد کا اختیاراورعورت کی محکومیت نمایاں ہے‘عورت باپ کی رضامندی کے بغیر خدا کو راضی کرنے کے لیے منت اور نذربھی نہیں مانگ سکتی ۔ عورت کودوسری شادی کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔ (37)

 عائلی زندگی کے علاوہ عورت وصیت‘ شہادت اور وراثت جیسے حقوق سے بھی محروم تھی۔یہودی قانون کے مطابق مرد وارث کی موجودگی میں عورت وراثت سے محروم ہوجاتی تھی۔ ان کے قانون وراثت میں بیٹی کا درجہ پوتوں کے بعد آتا ہے‘ اگر کسی مرنے والے کا لڑکا نہ ہو تو وراثت پوتے کی ہوجاتی ہے، اور اگر پوتا بھی نہ ہو تو اس صورت میں وراثت لڑکی کی ہوتی ہے۔(38)

عیسائیت

عورت کے تئیںعیسائیت کابھی وہی نظریہ ہے جو ہمیں یہودیت میںدکھائی دیتا ہے۔عیسائی مذہب کا بنیادی خیال یہ تھا کہ عورت گناہ کی ماں اور بدی کی جڑ ہے اور جہنم کادروازہ ہے۔

ترتولیان جو ابتدائی دور کے آئمہ مسیحیت میں سے تھا، اُس کے عورت کے بارے میں نظریات ہیں:

’’ وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے‘ وہ شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی ‘خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کی تصویر‘ مرد کو غارت کرنے والی ہے۔‘‘(39)

کرائی سو سسٹم جوایک بڑا مسیحی امام شمار کیا جاتا ہے‘ وہ عورت کے بارے میں کہتا ہے:

’’عورت‘ ایک ناگزیر برائی‘ ایک پیدائشی وسوسہ‘ ایک مرغوب آفت‘ ایک خانگی خطرہ‘ ایک غارت گرد لربائی‘ ایک آراستہ مصیبت ہے۔‘‘ (40)

شاہ معین الدین ندوی عیسائیت میں عورت کی حالت پر روشنی ڈالتے ہیں:

’’عورت سراپا فتنہ وشر سمجھی جاتی تھی ‘  عابد و زاہد اُس کے سائے سے بھاگتے تھے‘ بڑے بڑے راہب اپنی ماں تک سے ملنا، اور اس کے چہرہ پر نظر ڈالنا معصیت سمجھتے تھے۔ رہبانیت کی تاریخ عورت سے نفرت کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ ‘‘  (41)

ڈاکٹرخالدعلوی لکھتے ہیں:

’’چونکہ مسیحی اخلاقیات میں تجرد اورصنفی تعلقات سے کنارہ کشی ہی اصل کمال تھا‘اس لیے نکاح اور صنفی تعلقات بذات ِ خود نجس اور ناقابل ِ التفات تھے۔چونکہ صنفی تعلق میں عورت ہی بنیادی کردار ہے ‘ اس لیے اسے پست ‘ذلیل اور گناہ کا ذریعہ قرار دیاگیا ۔مسیحی شریعت میں جتنے قوانین بنے اس میں عورت کی حیثیت کو پست رکھنے کی کوشش کی گئی۔وراثت اور ملکیت میں اس کے حقوق محدود تھے ‘وہ خود اپنی کمائی پر بھی اختیار نہیں رکھتی تھی ۔ہرچیزکامالک مرد تھا۔ طلاق اور خلع کی اجازت نہ تھی ۔مسیحی دنیا کے ملکی قوانین اس بارے میں سخت تھے گویا مسیحی مذہب نے عورت کی تحقیر اور اسے پابندیوں میں جکڑے رکھنے کی پوری کو شش کی ۔مسیحی دنیا میں عورت کی زندگی ایک بے بس مخلوق اور مرد کے ہاتھ میں کھلونے کے سوا کچھ نہ تھی۔(42)

ہندومت

 ہندودھرم میں عورت کو سرکشی کی صفات کامجموعہ ‘متلون مزاج‘مردوں کو بہکانے والی ‘جھوٹی ‘مکار‘ احمق اورظالم قرار دیاگیا ہے۔عورت کو شودروں کے زمرے میں شامل کیاگیا ہے اوران کے ساتھ اسے بھی ’پاپایانی‘یعنی گناہ گار قرار دیاگیا ہے کہ وہ پیدائشی گناہ گار ہے اور زندگی میں اس کاپست مقام طئے شدہ ہے۔ہندودھرم کے نظریہ میں عورت کی شخصیت کا بحیثیت مجموعی کوئی تذکرہ نہیں ہے۔اسے صرف مخصوص فرائض اداکرنے والی ہستی کی نظرسے دیکھاجاتا ہے ۔اس کی سب سے اہم ذمہ داری بیٹے کوجنم دینا ہے ‘عورت کے لیے مناسب کردار صرف بیوی اورماں کی حیثیت سے ابھرکرسامنے آتے ہیں۔(43)

یہودیوں اور یونانیوں کی طرح ہندوؤں میں عورت کو گناہوں کی جڑ اور مصائب کا سرچشمہ سمجھا جاتا تھا اور اس کی مستقل حیثیت تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا تھا۔ ہندو مذہب کے مطابق شوہر والی عورت کے ذمہ کوئی عبادت نہیںہے‘ وہ شوہر کی خدمت اور سیوا کرے یہی سب سے بڑی عبادت ہے۔ منو کے مطابق چونکہ عورتیں شادی کے بعدمرد کا آدھا انگ ہو جاتی ہیں‘ اس وجہ سے ان کے لیے علیحدہ یگیہ و برت کرنا پاپ ہے‘ انہیں صرف شوہر کی خدمت کرنی چاہیے۔(44)

 ہندو مت میں اولاد کے حصول کے لیے ’’نیوگ‘‘ کاقابل ِ نفرت اورگھنائونا طریقہ کارموجود ہے ۔ اگر شوہر بچے پیدا کرنے کے قابل نہ ہو تو وہ اپنی بیوی کو کسی اور مرد سے تعلق قائم کرنے پرمجبورکرسکتا ہے تاکہ صاحب اولادہو سکے۔(45)

بدھ مت

بدھ مذہب ‘جدید مذہب میں شمار کیاجاتا ہے۔ اس کے باوجود اس نے بھی عورتوں کو نجس ہی قرار دیا۔ اس کاثبوت ہمیں گوتم بدھ کی تعلیمات میں ملتا ہے۔ گوتم بدھ نے اپنے پیروئوںسے کہاتھاکہ اگر تم نجات پاناچاہتے ہو تو تمہیںاپنی عورتوں سے تعلق قطع کرناچاہیے اور سب سے پہلے خود انہوںنے اپنی عورتوں سے رشتہ توڑلیا۔(46)بدھ مت کے نزدیک عورت سے تعلق رکھنے والاکبھی نروان حاصل نہیں کرسکتا۔(47)

ڈاکٹرآمنہ تحسین کے مطابق بدھ مت میں مرتبہ کے اعتبار سے عورت ہمیشہ مردسے کم ترہی مانی گئی ‘لیکن ہندودھرم کے مقابلے میں بدھ دھرم میں عورتوں کوسماجی اور مذہبی آزادی حاصل رہی ۔ (48)

جین مت

جین مت کے نزدیک عورت خیرسے عاری اورتمام برائیوں اورمنکرات کی اصل جڑہے ۔اس لیے یہ مذہب مردوں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ عورت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات استوارنہ کریں۔نہ عورت کی جانب دیکھیں‘ نہ اس سے محوگفتگوہوں۔ (49)

جین مت میں اگرچہ ہندومت کے برعکس عورتوں کو مذہبی حقوق حاصل ہیں‘لیکن وہ عورتوں اورمردوں کو راہبانہ زندگی کی ترغیب دیتاہے۔جین مذہب میںکثیرزوجگی ممنوع ہے اور بیوہ کودوسری شادی کی اجازت نہیںہے۔ (50)

اسلام میںعورت

مختلف اقوام ومذاہب میں صنف ِ نازک کے مقام ومرتبہ کے جائزے سے یہ علم ہوتا ہے کہ عورت ظلم وجبر‘ذلت وحقارت‘ بدسلوکی‘تنگ نظری اورجہالت کے اندھیروں سے نبردآزماتھی۔لیکن جب اسلام کامہرتاباںطلوع ہواتو اس کی بے نور زندگی ‘عفو وکرم‘رحمت ومودت‘ حسن سلوک سے منورہوگئی۔ اسلام دین فطرت ہے ‘ وہ عورت کو بحیثیت انسان تمام فطری اورجائز حقوق عطاکرتاہے ۔

ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی لکھتے ہیں:

’’قرآن کریم نے چھٹی صدی عیسوی میں مرد اور عورت کے درمیان فرق و امتیاز کو ختم کر کے انھیں یکساں عزت و احترام اور وقار و تمکنت سے ہم کنار کرنے کا جو قدم اٹھایا وہ اتنا انقلاب آفریں تھا کہ اس کے نتیجے میں فکرونظر کی دنیا ہی بدل گئی۔ عورت کی حیثیت اور مقام و مرتبہ کے تعین میں اسلام نے تمام مذاہب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اسلام کے سایے میں عورت کے بارے میں مردوں کا پورا نقطہ نظر اور عملی رویہ بدل گیا، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد خواتین نے ایک نئی تاریخ رقم کی جس کی مثال پہلے بھی موجود نہ تھی اور آج کے نام نہاد ترقی یافتہ دور میں بھی ناپید ہے۔ ‘‘(51)

اسلام‘ خواتین کے حق میں بڑا ہی نرم واقع ہوا ہے‘ان کے مزاج اور ان کی فطری کمزوریوں کو ملحوظ رکھاگیا ہے۔ قرآن وحدیث میں مختلف موقعوں پر مردوںکویہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ عورتوں کے معاملے میں عفوودرگزراور نرم خوئی سے کام لیں‘ ان کی جذباتیت کوملحوظ رکھیں ‘ ان کے ساتھ گزربسر کے دوران ‘ان کی حساس اورنفیس طبیعت کاخیال رکھیں‘ ان سے اچھا سلوک کریں ‘ ان کے حق میںبہترین ثابت ہوں ‘ اگر وہ غلطیوں کی مرتکب بھی ہوں تو انہیں نرمی سے سمجھایا جائے ‘ سختی نہ برتی جائے ۔

قرآن حکیم میںمردوں کوعورتوں کے ساتھ اچھے برتائوکی نصیحت کی گئی ہے:

’’عورتوں کے ساتھ اچھا برتائو کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں(تب بھی ان سے نباہ کرو)ہوسکتا ہے کہ جس کو تم ناپسند کرتے ہو‘اس میں اللہ تعالیٰ خیرکثیرفرمادے ۔‘‘(52)

 رسول اللہ ؐنے ارشاد فر مایا:’’ ایمان کے اعتبار سے کامل ترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ سلوک کر نے والے ہوں۔‘‘(53)

قرآن ِحکیم میں مرد کو ’’قوام‘‘ کہا گیا ہے ‘ وہ خواتین کے سربراہ‘نگران‘ محافظ‘ ان کے سکھ دکھ کے ساتھی ہیں ‘ ان کی ضرورتوں کی تکمیل ‘ ان کی سلامتی کی ذمہ داری‘ مردوں کے سپرد کی گئی ہے۔ باپ‘ بھائی ‘ شوہر‘ بیٹا‘زندگی کے مختلف مرحلوں میں ان کے کفیل ہوتے ہیں ‘ اگر یہ موجود نہ ہوں تو دیگرمحرم رشتہ دار جیسے ‘ نانا‘دادا‘ چاچا یا ماموں ‘ بہرحال خواتین کو کسی بھی صورت میں بے یارومددگار نہیں چھوڑاگیا ۔

اگرچہ عورت پرمعاشی بوجھ نہیں ڈالاگیالیکن اسے معاشی تگ ودو کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔وہ اپنی عفت کی حفاظت اورگھریلوذمہ داریوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے معاشرے میںایک فعال اورسرگرم کرداراداکرسکتی ہے۔ صحابیاتؓ ‘تجارت ‘زراعت‘گلہ بانی‘ دستکاری اور دباغت وغیرہ سے وابستہ تھیں‘اوروہ اپنی آمدنی شوہروبچوں کے علاوہ راہ ِ حق میں صرف کیاکرتی تھیں۔

حضرت زینب بنت حجش ؓ‘دباغت اور سلائی کا کام کرتی تھیں۔(55)

حضرت عبداللہ کی زوجہ حضرت زینبؓ نے حضور اکرم ؐ سے دریافت کیا‘میں اپنے شوہر‘ اپنے زیر پرورش یتیم بچوں پر خرچ کرسکتی ہوں؟آپؐ نے فرمایا:ہاں‘ اس کا دوہرا اجرملے گا ‘ رشتہ دار کا اجر اور صدقہ کا اجر‘ایک اور روایت میں ہے ‘ تمہارا شوہر اور تمہارے بچے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ تم ان پر صدقہ کرو۔‘ (54)

صحابیات ؓ ‘ کی غزوات میں شرکت ‘بیماروں اور زخمیوں کی خدمت وتیمارداری کابھی احادیث میں ذکر ملتا ہے۔

اسلام نے عورت کو ایک مکمل قانونی اوراخلاقی تشخص عطاکیا‘پھراس کے دائرہ  ٔعمل اورمیدان کار کا تعین کیا۔اسلام کی رو سے عورت کا ایک علیحدہ قانونی وجود ہے ۔چنانچہ اس کے قانونی حقوق ہیں۔عورت کی اپنی ذاتی ملکیت ہوسکتی ہے اوروہ اپنی اس ملکیت میں تصرف کا کامل اختیار رکھتی ہے ۔لہٰذاعام انسانی حقوق کے اعتبار سے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔(56)

قرآن مجید کی آیت اس بات کی عکاس ہے کہ اسلام عورت کو ایک محترم اورمعتبر وجود مانتاہے اورکوئی امتیازنہیں برتتا‘ہاں عورت کی طبعی فطرت اوراس کی عفت و عصمت کے تحفظ کوپیش نظررکھتے ہوئے چند حدود کے پاس ولحاظ کو لازمی قراردیتاہے۔

’’نیک عمل جو کوئی بھی کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صا حب ایمان ہو تو ہم اسے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ضرور اجر دیں گے ۔‘‘ (57)

حوالہ جات

(1)http://www.alsharia.org/mujalla/2005/sep/aurat-culture-prof-inaam

(2)ڈاکٹرمحمدشہزادشمس ‘عورت اور سماج‘ص :16 تخلیق کار پبلشرز‘دہلی(2006 ئ)

(3)http://lib.bazmeurdu.net/women-in-different-societies-urdu-book/

(4)سید ابوالاعلیٰ مودودی ‘پردہ‘ص:11 مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز‘ نئی دہلی (2012ئ)

(5) مولاناسیدجلال الدین عمری عورت ‘اسلامی معاشرے میں ‘ص : 6 2‘مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز‘نئی دہلی(2011 ء )

(6)خواجہ عبدالمنتقم‘ہم‘ہمارے پیغمبراورہمارے مسائل‘ص:58‘ایم آرپبلیکیشنز‘نئی دہلی(2014 ئ)

(7)http://lib.bazmeurdu.net/women-in-different-societies-urdu-book/

 (8) ایضاً

(9) عورت ‘اسلامی معاشرے میں ‘ص :6 2

(10) عالمی یوم خواتین:ایک لمحہ فکریہ‘ص:36‘ماہنامہ زندگی نو‘ جون( 2010)

(11)عورت ‘اسلامی معاشرے میں ‘ص :7 2

(12)  ایضاً ‘ص :8 2

(13)The Making of Humanity p.164 بحوالہ اسلام اورعورت‘ص:10

(14)اسلام اورجدید ذہن کے شبہات ‘ص‘172

(15) http://lib.bazmeurdu.net/women-in-different-societies-urdu-book/

(16)مولانامحمودرشیدحدوٹی‘ اسلام اورعورت‘ص:11 ‘مرکزتحقیق وتصنیف ‘لاہور(2000 ء )

 (17)ایضاًص:11‘12

(18)مطالعات ِ نسواں‘ص:31

(19)عورت اورسماج ‘ص:19

(20)عورت ثریٰ سے ثریا تک‘ماہنامہ دارالعلوم ‘نومبر(2011 ئ)

(21) عورت اور سماج‘ص :22

(22)ایضاً‘ص:29

(23)عورت اور سماج‘ص :33

(24)رام شرن شرما‘قدیم ہندوستان ‘این سی آر ٹی ‘نئی دہلی1983 بحوالہ عورت اور سماج‘ص :35

(25)عورت اور سماج‘ص :38

(26) مطالعات ِ نسواں‘ص70

(27)مولانا سید ابوالحسن علی ندوی‘اسلام میں عورت کا درجہ اور اس کے حقوق و فرائض‘ص:28‘جامعۃ المومنات الاسلامیہ لکھنو‘(2008ء )

(28)مطالعات ِ نسواں‘ص71

(29)عورت اور سماج‘ص :40-41

(30)ایضاً‘ص :41-42

(31)  ایضاً‘ص :43

(32)مطالعات ِنسواں‘ص:48

(33)A. PREMA , WOMEN STATUS IN INDIA : Indian Streams Research Journal(Feb ; 2012)

(34)عورت اورسماج‘ص: 48

(35) مطالعات نسواں‘ص:62

(36)عورت اسلامی معاشرے میں ‘ص:29

 (37)ڈاکٹرخالدعلوی‘اسلام کا معاشرتی نظام ‘ص: 466 ‘اسلامک بک فائونڈیشن‘نئی دہلی 2011 ء

(38) http://lib.bazmeurdu.net/women-in-different-societies-urdu-book/

(39)مولانامحمدظفیرالدین ‘اسلام کا نظام ِ عفت وعصمت‘ص:43 ‘دارالاندلس‘لاہور

 (40)ایضاً‘ص:44

(41)شاہ معین الدین ندوی‘دین رحمت ‘ص:104‘دارالمصنفین شبلی اکیڈمی‘اعظم گڑھ(2009ئ)

(42)اسلام کا معاشرتی نظام‘ص: 468

(43) مطالعات ِ نسواں‘ص:63

(44)http://lib.bazmeurdu.net/women-in-different-societies-urdu-book/

(45)ایضاً

(46)عالمی یوم خواتین‘ایک لمحہ فکریہ‘ ص:38‘زندگی نو‘ جون 2010

(47)علوی‘پروفیسر ثریا بتول‘اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ ‘ص29‘اسلامک بک فائونڈیشن‘ نئی دہلی (1993)

(48)مطالعات ِ نسواں‘ص:73

 (49)اسلام اورعورت‘ص:7

 (50)مطالعات ِ نسواں‘ص:74

(51)اسلام میں انسانی حقوق کا تصور‘ ماہنامہ ترجمان القرآن‘ اکٹوبر( 2010)

(52)سورہ النسائ: 19

(53) تر مذی

(54)مسلم

 (55)بخاری و مسلم

(56)ڈاکٹراسرار احمد‘عائلی زندگی کے بنیادی اصول ‘سورہ تحریم کی روشنی میں ‘مرکزی انجمن خدام القرآن‘لاہور1999

(57)  سورہ النحل:98

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سفینہ عرفات فاطمہ ‘پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر‘مولاناآزادنیشنل اردویونیورسٹی‘حیدرآباد

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.