ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خوائش پہ دم نکلے کی تشرح ۔۔۔ کی تدریس
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر۔۔۔ کی تشریح
مرزا اسد اللہ خان غالبؔ کی یہ غزل اردو شاعری کا وہ شاہکار ہے جس میں فلسفہ، انسانی نفسیات، طنز اور تغزل کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو رہتی دنیا تک غالبؔ کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔
تعارفِ شاعر: مرزا اسد اللہ خان غالبؔ (1797ء – 1869ء)
غالبؔ اردو اور فارسی کے عظیم ترین مفکر شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت “معنی آفرینی” اور “جدتِ طراز” ہے۔ غالبؔ نے غزل کو صرف حسن و عشق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کائناتی وسعتیں عطا کیں۔ ان کے ہاں شک، سوال، شوخی اور فلسفانہ گہرائی ملتی ہے۔ وہ ہر بات کو ایک نئے اور اچھوتے زاویے سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
شاعرانہ خصوصیات:
- فلسفیانہ انداز: زندگی اور کائنات کے حقائق کو منطقی انداز میں پیش کرنا۔
- شوخی و ظرافت: غم کو بھی ہنسی اور طنز میں اڑانے کا ہنر۔
- مشکل پسندی: گہرے مفاہیم کے لیے فارسی تراکیب کا استعمال۔
- انسانی نفسیات: انسانی دل کی پیچیدگیوں کی بہترین عکاسی۔
اشعار کی تشریح، الفاظ و معانی اور صنائع و بدائع
شعر 1 (مطلع):
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
- الفاظ و معانی: دم نکلنا: مر جانا، بہت زیادہ تڑپنا۔ ارمان: خواہش، تمنا۔
- تشریح: غالبؔ انسانی فطرت کی عکاسی کر رہے ہیں کہ انسان کی خواہشات لامتناہی ہیں۔ ہر خواہش اتنی شدید ہے کہ اسے پانے کی تڑپ میں جان نکل جائے۔ انسان کی بہت سی تمنائیں پوری بھی ہوتی ہیں لیکن خواہشات کا سمندر اتنا وسیع ہے کہ وہ ارمان ہمیشہ کم ہی معلوم ہوتے ہیں۔
- صنائع و بدائع: اس میں صنعتِ مبالغہ ہے (ہزاروں خواہشیں) اور صنعتِ تضاد (بہت بمقابلہ کم) کا نہایت خوبصورت استعمال ہے۔
شعر 2:
ذرا کر زور سینے پر کہ تیرِ پُر ستم نکلے
جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
- الفاظ و معانی: تیرِ پُر ستم: وہ تیر جس نے بہت ظلم ڈھایا (محبوب کی نظر)۔
- تشریح: محبوب کا تیر (عشق) میرے سینے میں پیوست ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب! ذرا زور لگا کر اس تیر کو نکال، لیکن یاد رہے کہ یہ تیر اب میری ہستی کا حصہ بن چکا ہے۔ اگر یہ تیر نکلا تو اس کے ساتھ میرا دل بھی کھنچ آئے گا اور جب دل ہی نہ رہا تو میری جان بھی نکل جائے گی۔
- صنائع و بدائع: اس میں صنعتِ لَف و نَشر اور صنعتِ تکرار (نکلے کا بار بار استعمال) سے ایک خاص موسیقی پیدا کی گئی ہے۔
شعر 3:
ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اُس کی گردن پر
وہ خوں، جو چشمِ تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟
- الفاظ و معانی: چشمِ تر: روتی ہوئی آنکھ۔ دم بہ دم: مسلسل، ہر لمحہ۔
- تشریح: میرا قاتل (محبوب) مجھے قتل کرنے سے کیوں ڈرتا ہے؟ کیا وہ سمجھتا ہے کہ میرا خون اس کی گردن پر ہوگا؟ نہیں، میرا خون تو پہلے ہی میری آنکھوں کے راستے آنسو بن کر عمر بھر بہہ چکا ہے۔ اب میرے جسم میں خون بچا ہی نہیں کہ اس پر قتل کا الزام آئے۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ استفہام (سوال کرنا) اور حسنِ تعلیل۔
شعر 4:
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- الفاظ و معانی: خلد: جنت۔ کوچہ: گلی۔ بے آبرو: ذلیل، رسوا۔
- تشریح: حضرت آدمؑ کو جنت سے نکالا گیا تھا جو ایک مشہور واقعہ ہے، لیکن غالبؔ کہتے ہیں کہ آدمؑ کا نکلنا تو پھر بھی باعزت تھا، ہمیں تو تیرے عشق کی گلی سے جس طرح رسوا کر کے نکالا گیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں شاعر اپنی محرومی کو انسانی تاریخ کے بڑے واقعے سے بلند دکھا رہا ہے۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ تلمیح (حضرت آدمؑ کے واقعے کی طرف اشارہ)۔
شعر 5:
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
- الفاظ و معانی: قامت: قد۔ درازی: لمبائی۔ طرہ: بال، زلف۔ پیچ و خم: بل کھانا۔
- تشریح: اے محبوب! تو اپنے لمبے قد پر بہت فخر کرتا ہے، لیکن تیرا قد صرف اس لیے لمبا نظر آتا ہے کہ تیری زلفیں ابھی بندھی ہوئی ہیں۔ اگر تیری زلفوں کے بل کھل کر لٹک جائیں تو وہ تیرے قد سے بھی لمبی نکلیں گی اور تیرے قد کا غرور ٹوٹ جائے گا۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ مراعات النظیر (قامت، درازی، طرہ، پیچ و خم)۔
شعر 6:
لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- الفاظ و معانی: کان پر قلم رکھنا: منشیوں یا کاتبوں کا مخصوص انداز۔
- تشریح: غالبؔ اپنی خط نویسی اور جذبات نگاری پر ناز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی کو محبوب کو خط لکھوانا ہے تو وہ مجھ سے لکھوائے کیونکہ میں نے اسے اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔ میں روز صبح کان پر قلم رکھ کر اسی انتظار میں نکلتا ہوں کہ کوئی آئے اور مجھ سے اپنے دل کا حال لکھوائے۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ ایہام اور محاورہ بندی۔
شعر 7:
ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے
- الفاظ و معانی: بادہ آشامی: شراب پینا۔ جامِ جم: شاہ جمشید کا پیالہ جس میں پوری دنیا نظر آتی تھی۔
- تشریح: اس دور میں لوگ مجھے شرابی کہتے ہیں اور میری مے نوشی کے قصے مشہور ہیں، لیکن وہ وقت دور نہیں جب لوگ سمجھیں گے کہ میرا ساغرِ شراب دراصل “جامِ جم” تھا، یعنی میری شاعری اور میرے افکار میں پوری کائنات کے راز پوشیدہ ہیں۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ تلمیح (جامِ جم کا ذکر)۔
شعر 8:
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے
- الفاظ و معانی: توقع: امید۔ خستگی: تھکن، زخمی حال۔ داد پانا: انصاف ملنا۔ خستۂ تیغِ ستم: ستم کی تلوار کا مارا ہوا۔
- تشریح: ہمیں امید تھی کہ ہم جن لوگوں کو اپنا دکھ سنائیں گے وہ ہم سے ہمدردی کریں گے، لیکن جب ان سے ملے تو پتہ چلا کہ وہ تو ہم سے بھی زیادہ حالات کے مارے ہوئے اور ستم رسیدہ ہیں۔ یہاں شاعر انسانی دکھ کی عالمگیریت بیان کر رہا ہے۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ تضاد اور صنعتِ مبالغہ۔
شعر 9:
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
- الفاظ و معانی: کافر: مراد محبوب۔ دم نکلنا: جان دینا، فدا ہونا۔
- تشریح: محبت کی دنیا عجیب ہے، یہاں زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں۔ عاشق اپنے محبوب پر مر مٹتا ہے، لیکن اسی “مرنے” یا فدا ہونے کی کیفیت کو دیکھ کر اسے نئی زندگی ملتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی ہے اور اس پر قربان ہونا ہی جینا ہے۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ تضاد (جینے اور مرنے کا اکٹھا ذکر)۔
شعر 10:
خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالم
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
- الفاظ و معانی: صنم: بت، محبوب۔
- تشریح: یہ غالبؔ کے رندانہ اور فلسفیانہ انداز کا بڑا مشہور شعر ہے۔ کہتے ہیں کہ اے زاہد! کعبے کا پردہ نہ اٹھا، کیونکہ ہر جگہ اسی ایک محبوب (خدا) کا جلوہ ہے۔ ڈر یہ ہے کہ کہیں کعبے کے اندر بھی ہمیں وہی جلوہ نظر نہ آئے جسے ہم بت خانے میں “کافر صنم” کہہ کر پوجتے رہے ہیں۔ (وحدت الوجود کی طرف اشارہ)۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ ایہام اور نازک خیالی۔
شعر 11 (مقطع):
کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ
پر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
- الفاظ و معانی: واعظ: نصیحت کرنے والا، مولوی۔ میخانہ: شراب خانہ۔
- تشریح: غالبؔ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ کہاں ایک پرہیزگار واعظ اور کہاں شراب خانے کا دروازہ! ان دونوں کا آپس میں کیا تعلق؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کل جب میں میخانے سے نکل رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ جنابِ واعظ اندر تشریف لے جا رہے تھے۔ یعنی نصیحت کرنے والے خود بھی وہی کام چھپ کر کرتے ہیں۔
- صنائع و بدائع: صنعتِ طنز و تعریض۔
فنی جائزہ:
اس غزل کی ردیف “نکلے” ایک خاص قسم کی روانی اور وسعت پیدا کر رہی ہے۔ غالبؔ نے ہر شعر میں ایک الگ دنیا بسائی ہے جو انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ترجمانی کرتی ہے۔
$$$$$$$


Leave a Reply
Be the First to Comment!