رپورتاژ ’’یادوں کے جگنو ‘‘کا تجزیاتی مطالعہ
رپورتاژ ’’یادوں کے جگنو ‘‘کا تجزیاتی مطالعہ
ڈاکٹر شہنواز عالم
شعبۂ اردو، گنپت سہائے پی جی کالج، سلطان پور
موبائل نمبر۔9956529494
ای میل آئی ڈی۔navazhaider@gamil.com
رپورتاژ اردو کے غیر افسانوی نثر کی جدید ترین صنف ہے یہ تخیلی ادب کا سنگم ہے اس کے وسیع دامن میں نثر کی دیگر اصناف بڑی خوبصورتی سے سما جاتی ہیں۔ افسانہ، انشائیہ، سفرنامہ، مکاتیب، صحافت کے پیکر میں ڈھل کر یہ ایک نیا ذائقہ فراہم کرتا ہے۔ یہ زندگی کی نقل نہیں ہوتابلکہ اس کی سچی رپورٹ ہوتاہے۔ رپورتاژ رپورٹ کے ہم معنیٰ ہے جس میں کسی واقعے کی سیدھی سادی تصویر کشی کی جاتی ہے اگر اس رپورٹ میں ادبی اسلوب تخیل کی آمیزش اور معروضی حقائق کے ساتھ ساتھ باطنی لمس بھی عطا کردی جائے تو یہ صحافت سے الگ ہو کر ادب میں شامل ہو جاتا ہے چنانچہ ادبی اصطلاح میں رپورتاژ ایک ایسی چلتی پھرتی تصویر کشی ہے جس میں خود مصنف کی ذات، منفرداسلوب ،قوت متخیلہ، تخلیقی توانائی اور معروضی صداقت موجود ہوتی ہے۔ رپورتاژ میں خارجیت اور داخلیت کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ یہ صرف چشم دید واقعات پر لکھا جا سکتا ہے ۔اس میں واقعات کا تفصیلی ذکر ہوتا ہے وہیں احساسات اور تصورات کو بھی روداد کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بیان میں ادبیت اور رومانیت کی روداد ایک جذباتی تصویر کو ابھارتی ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے یہ ایک غیر افسانوی صنف نثر ہونے کے باوجود افسانوی انداز کی کارفرمائی کے ذریعے اپنی انفرادیت کا لوہا منواتا ہے ۔رپورتاژ کی شناخت اس کی اپنی ہیئت سے زیادہ اس کے اظہار میں پوشیدہ ہے اس میں کوئی بھی گزرا ہوا واقعہ اظہار کی تہوں تک پہنچتا ہے اور تخلیق کار کے اندر چھپے ہوئے رومانی احساسات کو جگاتا اور پھر مصورانہ چابکدستی کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیق کو اجاگر کرتا ہے۔ رپورتاژ نگاری میں چشم دید واقعات کا بیان کچھ اس انداز سے کیا جاتا ہے کہ رپورتاژ نگار کے احساسات اور جذبات کی شمولیت بھی ہوتی ہے اور اس کی کار فرمائی کی وجہ سے اس میں اور نامہ نگاری میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ رپورتاژ میں مخصوص خبر اور جذبات کی شمولیت کی وجہ سے اس کی تخلیقی حیثیت ایک آزاد صنف کی ہو جاتی ہے ۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بیشتر رپورتاژ نگار اپنے اسلوب میں افسانوی طرز کو شامل کرکے اس صنف کو دلکش اور دلچسپ بنا دیتے ہیں ۔کسی بھی فن پارے کا وجود اس کی ساخت،معنی اور اظہار میں پنہاں ہوتا ہے چنانچہ رپورتاژ کی صنف بھی ایک ہیئتی اکائی رکھنے کے باوجود اس میںمعنی اور اظہار کے معاملے میں افسانوی اور غیر افسانوی دونوں طرز اسلوب سے استفادہ کیا جاتا ہے جس سے اس کے طرز بیان میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ اس میں افسانویت کا عمل اظہار کی حد تک روا رکھا جاتا ہے۔ اس صنف میں افسانویت کا داخل ہوجانا ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے مواد اور ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کے اظہار میں حسن اور جمالیاتی کشش پیدا ہو جاتی ہے ڈاکٹر ارشاد احمد خان لکھتے ہیں:
”اس میں ادبیت صحافت،رومانیت اور افسانویت کا حسین امتزاج ہوتا ہے جس کی وجہ سے رپورتاژ کی قوت تحریر اظہار کی تمام تر لذت اور ادبی انداز کی آئینہ دار ہوجاتی ہے اس لئے اس صنف میں سوانحی خاکے کی کیفیت، انشائیہ کا دروبست، ڈرامے کی مکالماتی روش کے ساتھ ساتھ سفرنامے کی حقیقت، صحافت کی مبصرانہ شان اور روداد رپورٹنگ کی ہمہ گیری کا ایسا تسلسل پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس صنف میں دیگر نثری اصناف کی جھلکیاں نمایاں ہونے لگتی ہیں ”
(ارشاد احمد خان،اردو میں رپورتاژ نگاری کا فنی جائزہ، رسالہ فکر و تحقیق ،نئی دہلی، جولائی تا ستمبر، سن 2015،ص۔60)
رپورتاژ کے فن اور ہئیت سے متعلق پروفیسر مجید بیدار رقمطراز ہیں:
رپورتاژ کے لازم اجزاء پانچ ہیں جن کے تحت کسی محفل کا آنکھوں دیکھا حال ، سر گرمیوں کا احاطہ ، منظر ی رویہ ،ہلکے پھلکے طنزیہ پیکر کا سہارا لیا جاتا ہے ، جس میں جزئیات نگاری کی شمولیت ضروری ہے کسی بھی رپورتاژ میں (1) پیشکش کا حسن(2) واقعاتی عمل (3) تفصیل و تعبیر (4)زبان و بیان کی تخلیقی فضا (5) صحافتی عمل کی ضرورت ہوتی ہے جس میں جبریہ حصے کا دخل اور روداد کی صلاحیت کارفرما ہو تو اسے رپورتاژ کے فن کی خوبی قرار دیا جائے گا۔ ‘
(اردو کی شعری و نثری اصناف،مجید بیدار،حیدرآباد،2015، صفحہ نمبر:242 -241)
رپورتاژ کی ہیئت اور اجزاء کیا ہو سکتے ہیں اس پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد احمد خان لکھتے ہیں کہ:
” رپورتاژ کی رپورٹ روزنامچہ اور دیگر نثری صنف سے ممتاز اور مہمیز کرنے کے لیے کسی بھی متن میں حسب ذیل اصولوں کی جانچ ضروری ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رپورتاژ نگاری کا فن اور اس کا اظہار حسب ذیل عنوانات کے ساتھ ممکن ہے(1) اسلوب (2) ہیئت (3) صحافت (4) رومانیت (5) افسانویت (6) واقعیت (7) قوت تحریر (8) اقتباسی عمل (9) جبریہ انداز۔”
(ارشاد احمد خان، اردو میں رپورتاژ نگاری کا فنی جائزہ ،رسالہ فکر و تحقیق ،نئی دہلی،جولائی تا ستمبر، 2015 ص۔61)
صنف رپورتاژ کے متعلق درج بالا معلوماتی اقتباسات اس صنف کو بحیثیت موضوع اور فن کے سمجھنے کے لیے پیش کی گئیں۔ درج بالا پیش کش میں ڈاکٹر ظہور احمد اعوان (اردو رپورتاژ نگاری دو جلد)، ڈاکٹر عبد العزیز(اُردو میں رپورتاژ نگاری) طلعت گل (اردو میں رپورتاژ نگاری کی روایت)، ڈاکٹر ایس ایم زیڈ گوہر (اردو رپورتاژ نگاری کا فن) وغیرہ مصنفین کی کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ صنف رپورتاژ نگاری کے مندرجہ بالا معلوماتی نکتوں کو ذہن میں رکھ کر اس مقالے کی مناسبت سے رپورتاژ ’’یادوں کے جگنو ‘‘کو پرت در پرت کھولنے کی کوشش کریں گے۔
’’یادوں کے جگنو ‘‘نامور ادیب و شاعر ڈاکٹر نعیم انیس کا پہلا رپورتاژ ہے جسے انہوں نے اگست سن 2003 میں نیو ایشین پرنٹر کلکتہ سے شائع کروایا یہ رپورتاژ 95 صفحات پر مشتمل ہے یہ اکاڈمک اسٹاف کالج جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دلی میں منعقد ہونے والے آٹھویں کل ہند اردو ریفریشر کورس سے متعلق ہے جس میں 1 2ستمبر سن 2002 سے بارہ اکتوبر سن 2002 تک کے کل 21 دن کی روداد ہے۔ یہ کورس ڈاکٹر خالد محمود شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نگرانی میں اور پروفیسر اختر صدیقی ڈائریکٹر آف اکیڈمک اسٹاف کالج جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سرپرستی میں منعقد کیاگیاتھا۔ اس کورس کاThrust Area اردو فکشن تھا جس میں فکشن کے ماہرین نے بحیثیت Resource persons شرکت کی تھی۔ اس کورس میں ہندوستان کے تقریبا ہر ریاست سے کالج کے اردو اساتذہ نے شرکت کی تھی۔ بقول نعیم انیس اکیڈمک اسٹاف کالج کا لیکچر ہال ایک چھوٹا سا ہندوستان بن گیا تھا۔ یہ 21 روزہ تربیتی کورس ان معنوں میں تاریخ ساز اہمیت کا حامل بن گیا تھا کہ اس کا افتتاح اردو کی مایہ ناز ادیبہ محترمہ قرۃالعین حیدر کے مبارک ہاتھوں سے ہوا اور اختتام اردو کے نامور نقاد شمس الرحمن فاروقی کے لیکچر کے ساتھ ہوا ۔اس کورس میں لیکچرز کے علاوہ شام غزل، شب شعر، شب افسانہ اور دہلی درشن کا اہتمام کیا گیا تھا ۔اس کورس کا مقصد اساتذہ کو ریفریش کرنا اور محققین کے تجربوں اور نئے نئے تعلیمی میتھڈMethod سے واقف کرانا ہوتا ہے اس سفر کا آغاز مصنف نے 20 ستمبر سن 2002 کو کیا جب وہ کلکتہ سے دہلی پہنچے کلکتہ سے دہلی کے سفر کی روداد مصنف نے بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کی ہے اور زندگی کی حقیقتوں کو بھی آشکار کیا ہے اس سفرکا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”میں نے آس پاس کے مسافروں کو دیکھا ان کے چہروں پر خوف نمایاں تھا ماؤں نے اپنے شیر خوار بچے کو اپنی گود میں مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا معلوم ہوا کہ ٹرین اب کچھ ہی دیر میں رفیع گنج کے اسی پل سے گزرے گی جہاں گزشتہ ہفتے وہ بدترین حادثے کا شکار ہوئی تھی رفیع گنج آنے سے قبل ٹرین چیونٹی کی طرح رینگنے لگی انسان موت سے اتنا ڈرتا ہے جب کہ موت تو برحق ہے آپ ریل میں ہوں یا جہاز میں اپنے آرام دہ کمرے میں ہوں یا شہر کی گلیوں میں کہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے رفیع گنج کا پل گزرنے کے بعد سارے مسافر لمبی تان کر سو گئے گویا حادثہ صرف رفیع گنج کے پل پر ہی ہوسکتا تھا”
(یادوں کے جگنو،نعیم انیس، نیو ایشین پرنٹرز،کولکاتا،2003 ،صفحہ نمبر 15)
خوف کی اپنی ایک منفرد جمالیات ہوتی ہے۔مصنف کے دلی سفر کے ایک ہفتہ پہلے یہ ٹرین حادثے کا شکار ہوئی تھی اور جس جگہ یہ حادثہ ہوا تھا وہ یہی رفیع گنج کا پل تھا۔اور شاید اس حادثے کے بعد سے ہر روز جب بھی یہ ٹرین اس پل پر سے گزرتی ہوگی خوف کا ایک دہشت ناک لہر ہر مسافر کو اسی طرح اپنے حصار میں لے لیتا ہوگا۔اس پل سے متعلق کئی ایک افواہیں بھی عام ہو گئی ہوں گی کہ یہ پل آسیبی ہے، یا یہاں اکثر حادثے ہوتے رہتے ہیں،یا یہ کہ کسی نے یہاں خود کشی کر لی تھی اور اس کی آتما یہاں بھٹکتی رہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ٹرین پہ سوار ہر ایک کا ذہن اسی خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں پھر سے ٹرین اس پل پر سے گزرتے ہوئے کسی روحانی آفت کا شکار نہ ہوجائے۔جوں ہی ٹرین پل کراس کر جاتی ہے سب مطمئن ہوجاتے ہیں کہ چلو اب بلا ٹلی اور انہیں لگتا ہے کہ اب ٹرین محفوظ ہاتھوں میں ہے۔اب کوئی حادثہ نہیں ہوگا۔یہ حقیقت تو نہیںہے،ہاںمگر مکمل نفسیاتی کھیل ہے،جوکہ انسان حقیقت کا ادراک رکھنے کے باوجود ایسا سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔نعیم انیس نے ایک عام سے دیکھے جانے والے واقعہ کو قلم بند کر کے ایک بڑی نفسیاتی حقیقت کو پیش کردیا ہے۔جس سے انکار ممکن نہیں۔
21 تاریخ کو سبھی لوگ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اکاڈمک اسٹاف کالج میں جمع ہو چکے تھے پہلے اجلاس کی شروعات عام اردو پروگراموں کی طرح دیر سے ہوئی جس کی شکایت انہوں نے اپنے رپورتاژ میں اس انداز میں کی:
” میں سمجھتا تھا کہ پابندیٔ وقت کا خیال نہ رکھنا صرف مغربی بنگال کے اردو والوں کی عادت ہے لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ آ کر یہ حقیقت کھلی کہ اردو والے دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہوں وہ اس شاہانہ عادت کے شکار ہیں ”
(یادوں کے جگنو،نعیم انیس، نیو ایشین پرنٹرز،کولکاتا،2003 ،صفحہ نمبر 19)
یہ بھی ایک بڑی اور تلخ حقیقت ہے جس کی شاید اب عادت سی ہو چکی ہے۔پوری دنیا کا تو نہیں پتہ ہاں مگرگاندھی جی کو آئڈیل تسلیم کرنے والے ہر ہندوستانی کی یہ ایک شاہانہ عادت بن چکی ہے جسے اب بڑے لوگوں کا معیار سمجھا جانے لگا ہے۔فلم ڈائرکٹر اور پروڈیوسر کرن جوہر نے ایک انٹریو میں کہا تھا کہ شاہ رخ خان کبھی سیٹ پر وقت سے نہیں پہنچتے۔اس قول کے آخر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ارے وہ شاہ رخ خان ہیں ان کے لیے انتظار تو بنتا ہے۔یہاں نعیم انیس نے اس شاہی عادت کو اردو والوں کے ساتھ مخصوص کر کے اسے اور مہذب بنا دیا ہے جس کی باتمیز طنزیہ کاٹ ہر ایک کے حس میں کھرچن تو پیدا کر رہی ہے جس سے چہرے پر شرمندگی کی ایک ہلکی سی مسکان بکھر جاتی ہے،بس اور کچھ نہیں۔
یہاں ان اقتباسات کو پیش کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ایک تو نعیم انیس کے اسلوب کی ایک نمایاں جھلک ہمارے سامنے آجائے جس کے ذریعہ انہوں نے ایسی عام حقیقتوں کو آشکار کرنے کی کوشش کی ہے جس کا شعور تو ہر کوئی رکھتا ہے مگر شاید اس طرح سے اسلوب کی مزیدار چاشنی میں لپیٹ کر پیش کرنے کی اہلیت ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ دوسرے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اس ریفریشر کورس میں شمولیت سے پہلے مصنف کے ذہنی اتار چڑھاؤ کا اندازہ پاکر آگے کے رپورتاژ ی سفر کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے کہ اس رپورتاژمیں نعیم انیس نے جن تاثرات کا اظہار کیا ہے وہ بالعموم جذباتی اور رومانی انداز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں اور ساتھ ہی زمینی حقائق سے بھی ان کا رشتہ منقطع نہیں ہونے پاتا ۔اس کے ساتھ ساتھ اس رپورتاژ کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں خوبصورتی یا رومانیت پیدا کرنے کے لیے نعیم انیس نے کوئی واقعات الگ سے گڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جو ہے وہ آپ کے سامنے ہے ، حقیقت پر مبنی ہے، آنکھوں دیکھی ہے۔ رپورتاژ نگار بنیا دی طور پر ظرافت نگار نہیں ہے مگر زندہ دل انسان ہے اور ان کی رگ ظرافت قدم قدم پر پھڑکتی رہتی ہے۔
’’یادوں کے جگنو ‘‘کا جائزہ اگر رپورتاژ نگاری کے فنی حوالے سے لیا جائے تو اس میں اس فن کے بیشتر اوصاف واضح طور پر نظر آتے ہیں اس کی ضخامت ایک بھرپور اور مکمل رپورتاژ جتنی ہے نہ اتنی مختصر کہ اس پر کسی مختصر افسانے کا گمان ہو نہ اس قدر طویل کہ ناول بن جائے ۔اس میں سفر کی مکمل تفصیلات بہت ہی روچک انداز میں آغاز سے انجام تلک موجود ہیں۔ اس میں سفر کا حال بھی ہے ، اس میں حقیقت و واقعیت کے دامن کو پوری طرح تھامے رکھنے کی کی کوشش بھی موجود ہے۔ جو کچھ ہے حقیقت ہے ، صداقت پر مبنی ہے۔
اس کورس کے دوران جو کچھ ہوتا رہا اس کا تذکرہ مصنف نے بہت تفصیل سے کیا ہے۔ جتنے بھی مقررین آئے اور انہوں نے کیا کہا اس کا خلاصہ بہت ہی خوبصورت انداز میں مصنف نے پیش کیا ہے اس بیچ ہونے والے مشاعرے، شام افسانہ، اور ہونے والی دعوتوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے البتہ دہلی درشن والے حصے کی تفصیل مصنف نے قصدا ًچھوڑ دی ہے یا بھول گئے ہیں ۔ایک اچھے رپورتاژ کی طرح اس میں بہت سے کرداروں کا ذکر ہے جو اس ریفریشر کورس کا حصہ تھے جس میں معروف ادیبوں اور شاعروں کے کرداروں اور مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں سے آئے ہوئے اساتذہ کے کرداروں اور اقوال پر طرح طرح کے تبصرے بھی کیے گئے ہیں تاہم اس میں کردار نگاری اور خاکہ نگاری کے گہرے رنگ نہیں ملتے اس میں طنز و مزاح کی ہلکی پھلکی لہریں بھی موجود ہیں۔ اس کے عنوان سے ظاہر ہے کہ اس سفر کے یادگار لمحوں کو مصنف نے اپنے لفظی کینوس میں قید کر لیا ہے اور یادوں کے اس جگنو کو زندگی کا اثاثہ بنالیا ہے اور ان یادوں میں رومانیت بھرنے کی کہیں کہیں شعوری کوشش بھی کی ہے۔ نعیم انیس کا اسلوب بے تکلف اور کھلا ہوا ہے اس لیے لطف اور مزاح شروع سے آخری دم تک قائم رہتا ہے اس حوالے سے یہ رپورتاژ تخلیقی حسن کا نمونہ بن جاتی ہے اور اسے افسانے، ڈرامے اور سفر نامے کی طرح پوری دلچسپی سے پڑھا جا سکتا ہے۔کہیں بھی غیر ضروری بحثیں اور واقعات نہیں ہیں کہیں بیزار کن کیفیات نہیں ہیں ۔ پوری طرح سے کمپیکٹ ہے۔ تحریر میں مصنف کی پوری شخصیت جھلکتی ہے مصنف کا نظریہ اور نقطۂ نظر مالے کے دھاگے کی طرح اندر ہی اندر پرویا نظر آتا ہے۔
اس رپورتاژ کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ چونکہ یہ ایک رفریشر کورس پر مبنی ہے جس کاThrust Areaاردوفکشن تھا،اس میں جتنے بھی اردو کے نامور ادیبوںنے بحیثیت ریسورس پرسن اپنے لیکچرس دیے ہیں،اور جس طرح نعیم انیس نے ان لیکچرس کا نچوڑ اس رپورتاژ میں پیش کیا ہے، اگر انہیں بالترتیب اکٹھا کر دیا جائے تو شاید فکشن تنقید پر ایک ایسی تحریر منظر عام پرآ سکتی ہے جو اس میدان کے اسکالرس کے لیے راہیں ہموار کر نے میں مدد گار بن سکتی ہے۔جس طرح پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے قرۃالعین حیدر کے عہد ساز ناول’’آگ کا دریا‘‘پر محاکمہ کرتے ہوئے کہاکہ:
’’آگ کا دریا ہندوستان کی تقسیم، کلچر کی تقسیم،زبان کی تقسیم،روایات کی تقسیم،رشتوں کی تقسیم اور پڑوسیوں کی تقسیم کے حوالے سے ایک غیر معمولی جمالیات کا تجربہ ہے جو زندگی کے نئے راستوں کو کھولتا ہے۔’’آگ کا دریا‘‘کی اشاعت کے 25،30سال بعدجتنے بھی ناول لکھے گئے وہ آگ کے دریا کے تاریخی عنصر سے ماخوذ ہیں۔‘‘
(یادوں کے جگنو،نعیم انیس، نیو ایشین پرنٹرز،کولکاتا،2003 ،صفحہ نمبر 29)
ناول کی زبان پر گفتگو کرتے ہوئے قاضی افضال حسین نے فرمایا:
’’ہماری زندگی میں جو چیز سب سے زیادہ دخیل ہے وہ زبان ہے اور اسے ہی ہم نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ زبان کو ہم اپنا خادم سمجھتے ہیں جب کہ ہم اس کے خادم ہیں۔‘‘
(یادوں کے جگنو،نعیم انیس، نیو ایشین پرنٹرز،کولکاتا،2003 ،صفحہ نمبر45)
قاضی جمال حسین نے’’ایک چادر میلی سی کا تنقیدی تجزیہ‘‘پیش کرتے ہوئے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ:
’’کسی چیز کا ہونا اور واقعہ کا ظہورپذیر ہونا ایک نہیں۔فن کا مطالبہ اور حقیقی زندگی کا مطالبہ مختلف ہے۔کہانی اور ناول میں ہماری زندگی کا مطالبہ مختلف ہے۔کہانی اور ناول میں ہماری زندگی،ہمارا عہد،ہمارا سماج اور ہمارے گرد و پیش کے مسائل کا عرفان ہمیںفن کار کے وسیلے سے ہوتا ہے۔۔۔بیدی نے اپنے ارد گرد بکھری ہوئی چیزوں کو فکشن میں سمیٹنے کی کامیاب کوشش کی۔’’ایک چادر میلی‘‘سی میں تلوکے کے کردار کے ذریعہ ایک عام انسان کے زندگی کی محرومیاں اور حسرتیں دکھائی ہیں جس میں فنکارانہ جزئیات نگاری اور حقیقت پسندانہ روایات کی پاسداری نظر آتی ہے۔‘‘
(یادوں کے جگنو،نعیم انیس، نیو ایشین پرنٹرز،کولکاتا،2003 ،صفحہ نمبر46 )
اس طرح اس رپورتاژ میں موجود اردو کے نامور ادیبوںکے فکشن کے متعلق گراں قدر نظریے قاری کی معلومات میں گراں مایہ اضافے کے ضامن بن سکتے ہیں۔
مصنف نے اس رپورتاژ میں متذکرہ کورس سے متعلق چھوٹے چھوٹے واقعات کو ان واقعات کی روح کو مجروح کئے بنا اس طرح پیش کیا ہے کہ کبھی معلوماتی خزانہ آپ کے شعوری کشکول میں چھناکا پیدا کرتا ہے تو کبھی مزاحیہ انداز اور اس طرح کے کورسس کی خوشنما حقیقتیں دل کو گدگداجاتی ہیں۔ اس طرح کے کورسس میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کئی ایک مقرر اپنی طویل اور بے رس تقریروں سے پورے ماحول میں اتنی بوریت پیدا کردیتے ہیں کہ صرف جسم وہاں موجود ہوتا ہے مگر ذہن کہیں اور گشت لگا رہا ہوتا ہے،یا پھر سامنے کی سیٹوں پر بیٹھے افراد خود پر ظلم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں مگر پیچھے سے ہنسی اورچہ میگوئیوں کی دبی دبی آوازیں رہ رہ کر سنائی دینے لگتی ہیں۔ نتیجتاً سامنے سے سینیرس پیچھے مُڑ کر بڑی بڑی آنکھیں دکھانے لگتے ہیں۔یہاں بھی مصنف نے ایسے ماحول کے بیان میں ظریفانہ کوٹنگ کے ذریعہ ایک خوش گوار تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے:
’’یہ اور بات ہے کہ اس طرح کے لکچر میںلکچر پر دھیان کم اور دوستوں کی گفتگو زیادہ سنی جا تی تھی۔ستم بالائے ستم یہ کہ جب دو لکچر ایک ساتھ ہو جاتے یعنی ساڑھے نو سے ساڑھے بارہ تک تو ہم خود کو نہایت مظلوم اور ڈاکٹر خالد محمود کو سخت ظالم تصور کرتے تھے لیکن لکچر تو ہر حال میں سننا پڑتا تھا ایسے میں ڈاکٹر محمد کاظم کی آمد کسی نعمت سے کم نہ ہوتی تھی اور ہم سب آخری صف میں محمود و ایاز کی طرح ایک ہو جایا کرتے تھے۔یعنی کاظم،ایوب،نیّر،ڈاکٹر رفیع،تبسم ناز،رئیس،احمد محفوظ اور دیگر۔ ایسے میں مشترکہ گفتگو کا بڑا لطف آتا۔۔۔ایوب اور نیّر کی پُر لطف گفتگو سے بعض دفعہ نوبت یہ آتی کہ ہزار ضبط کے باوجود ہم سبھوں کی بے ساختہ ہنسی نکل جاتی جس پر پہلی صف میں بیٹھے ڈاکٹر فرید پربتی، ڈاکٹر فاروق بخشی خفگی سے ہماری طرف دیکھتے لیکن ہم بھی تو بے بس تھے کیا کرتے اکثر یہ بھی ہوتا کہ پہلی صف سے ڈاکٹر ناشر نقوی ہماری سمت چلے آتے گویا ہم جہاں بیٹھے تھے وہ ایک گوشۂ عافیت تھا۔۔۔۔آگے بیٹھے احباب مُڑ مُڑ کر ہماری طرف دیکھتے اور ان کے چہروں سے ظاہر ہوتا تھاکہ وہ بھی اس جبر اور قہر سے نکل کر ہمارے پاس آنا چاہتے ہیں لیکن آگے بیٹھنے کی خطا جھیل رہے ہیں۔ان کی بے بسی پر ترس کھا کر ناشر نقوی نے یہ طریقہ ایجاد کیا کہ وہ ہماری گفتگو کے مخصوص جملے کوپرچی پر لکھ کر آگے بڑھا دیتے اور اس طرح سارے شرکاء ہماری گفتگو سے لطف اندوز ہوتے ۔ان کے ساتھ مجبوری یہ تھی کہ وہ کھل کر ہنس نہیں سکتے تھے۔البتہ ان کے ہلتے ہوئے جسم اس بات کے گواہ تھے کہ جملے کی اصلیت ان پر آشکار ہو چکی ہے اور وہ ہنسی کو لبوں پر دبائے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘‘
(یادوں کے جگنو،نعیم انیس، نیو ایشین پرنٹرز،کولکاتا،2003 ،صفحہ نمبر 33-34)
اس پوری عبارت میں ایسا کون سا پہلو ہے جہاں مبالغے سے کام لیا گیا ہے۔جوکوئی بھی ایسے کورسس کا ذاتی تجربہ رکھتا ہے وہ اس سے انکار نہیں کر سکتا۔اس کے ساتھ بھی ایسے واقعات شاید تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ رونما ہوئے ہوں گے۔نعیم انیس نے ایسے لیکچرس کے دوران پورے ہال کی دبی دبی حرکتوں کے ایک ایک جز کے بیان میںکتنی خوبصورتی اور سلیقہ مندی سے لفظوں کے موتی پروئے ہیںجہاں مبالغے کا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا،لائق تحسین ہے۔
اس رپورتاژ کے ایک ٹکڑے کو مصنف نے شعر و شاعری کے رنگارنگ گلدستوں سے مزین کیا ہے جس نے قاری کی دلچسپی میں بہتے دریا کی سی روانی پیدا کر دی ہے۔بھارت بند کی وجہ سے پروفیسر قاضی افضال حسین کا لیکچر ملتوی ہو گیا تھا۔ڈاکٹر خالد محمود نے شرکاء کی تھکاوٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نششت کوشعر و شاعری کی نششت میں منتقل کر دیا۔جس میں وہاں موجود شاعروں کی شاعری نے تمام شرکاء کی ذہنی تھکن کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں عطر شاعری کی خوشبو گھول دی۔اسی طرح جیسے نعیم انیس صاحب نے بھی اس خوشنما حادثے کو اپنے رپورتاژ میں شامل کرکے قاری کی دلچسپی کا سامان مہیا کر دیا ہے۔چند اشعار ملاحظہ ہو:
ڈاکٹر محمد رفیع:
کھٹک رہی تھی بے حجابیاں سب کی
کسی کو کہتے بھی کیا بے لباس ہم بھی تھے
ڈاکٹر احمد محفوظ:
چراغ درد روشن ہو اُدھر بھی
مرا ہی زخم کیوں تازہ ہوا ہے
ڈاکٹر ناشر نقوی:
اب اترتے ہی نہیں مہماں پرندے جھیل پر
بہتے دریا تھم گئے پانی نے کائی چھوڑ دی
ڈاکٹر فاروق بخشی:
لکھ رہی ہے دھوپ میرے جسم پر اپنی کتاب
سب پڑھیں گے جس کو شوق سے وہی قصّہ ہوں میں
فرحت احساس:
وہ سارے غیر لوگ تھے ہلاک کر دئیے گئے
لہو سے دھوکے سب مکان پاک کر دئیے گئے
رپورتاژ نگاری موضوعاتی سطح پر کئی منزلیں طے کر چکی ہے پھر بھی کئی موضوعات ایسے ہیں جن پر رپورتاژ لکھنا باقی ہے ایسا ہی ایک منفرد موضوع اس رپورتاژ میں برتا گیا ہے ۔غالباً ریفریشر کورس سے متعلق یہ پہلا رپورتاژ ہے، اس طرح کے کورسز کی مکمل داخلی اور تخلیقی کہانی اور کسی ذریعے سے ادب کا حصہ نہیں بنی ۔یہ رپورتاژ ادیبوں کے اس اجتماع کو تاریخ ادب میں ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنے کا ایک خوبصورت وسیلہ بن گیاہے۔
بحیثیت مجموعی’’ یادوں کے جگنو‘‘ ایک دلچسپ رپورتاژ ہے جس میں واقعہ نگاری، منظر نگاری، جذبات نگاری، کردار نگاری، جزئیات نگاری، حقیقت بیان اور صحت واقعہ سبھی کچھ بدرجہ اتم موجود ہیں ان کی شگفتہ بیانی اور رومانی انداز بیان رپورتاژ کو مزید دلچسپ بناتے ہیں اردو فکشن کے حوالے سے یہ رپورتاژ معلومات کا مخزن ہے اس لیے یہ ادبی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک دستاویزی حیثیت کا بھی حامل ہے۔ 21 ویں صدی کی پہلی دہائی کے پانچ اچھے رپورتاژ کی اگر فہرست بنائی جائے تو اس میں نعیم انیس کے رپورتاژ ’’یادوں کے جگنو ‘‘کی شمولیت ناگزیر ہوگی۔ مصنف کا اسلوب اتنا جان دار اور دلآویزہے کہ قاری اس کی انگلی تھامے پورے ریفریشر کورس میں شریک رہتا ہے اور جب رپورتاژ ختم ہوتا ہے تو قاری کا نظامِ حس مکمل سیراب ہو اٹھتا ہے،ایک وقت تک قاری اس کے سحر سے نکل نہیں پاتا ہے۔اس رپورتاژ کے دیرپا تاثر کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اپنے اس مقالے کا اختتام اسی رپورتاژ کی زینت بنے عباس رضا نیرکے اس شعر سے کرنا چاہتا ہوں:
آج تک روشنی ہے کمرے میں
شمع کچھ دیر تلک جلائی تھی
٭٭٭


Leave a Reply
Be the First to Comment!