کعبؓ بن زہیرکی قصیدہ گوئی کا تجزیاتی مطالعہ ’’قصیدہ بردہ کے حوالے سے

یوسف رامپوری*
دورِجاہلیت اورد ورِ اسلام کے مشہورشعرا کے درمیان کعب بن زہیر کا نام احترام وعقیدت کے ساتھ لیاجاتا ہے۔بعض محققین وناقدین نے کعب کو ان کے شاندار قصائد کی وجہ سے دورِجاہلی کے دوسرے طبقے کے ممتاز شعرامیں شمار کیا ہے۔بعض ناقدین نے کعب کا موازنہ نابغہ اور لبید سے بھی کیا ہے۔لبید متفقہ طورپر اصحاب المعلقات کے شاعر تھے ،لیکن نابغہ کے بارے میں اختلاف ہے ، بعض نے نابغہ کو بھی اصحاب المعلقات میں شامل کیا ہے اور بعض نے نہیں ،لیکن اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ نابغہ استادشاعر تھا اوراس کا شمار طبقۂ اولی میں امرؤ القیس اور زہیر بن ابی سُلمیٰ کے ساتھ ہوتاتھا۔ عکاظ کے میلے میں اس کا خیمہ الگ لگایاجاتا تھا اور اسے خصوصی اہمیت دی جاتی تھی،ایسے معروف شعرا کے ساتھ کعب کا نام لیاجانا کعب کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہے ۔
کعب کواہم اورمعروف شاعر بنانے میں کچھ ان کی فطری ذہانت کو دخل تھا ، کچھ ان کی محنت وریاضت کو اور کچھ گھراورکچھ گِردوپیش کے ماحول کو۔کعبؓ کے والد زہیر بن ابی سلمیٰ اس دور کے بڑے شاعر تھے ،ان کے قصیدے کو خانہ کعبہ میں آویزاں ہونے کا شرف حاصل ہوچکاتھا۔چوں کہ کعب کوشاعری وراثت میں ملی تھی ،اس لیے کم عمری ہی میں انھوں نے شاعری شروع کردی تھی ۔زہیر بن ابی سلمیٰ نے اپنے بیٹے کعب کے شاعرانہ رجحان کو دیکھتے ہوئے انھیں اشعار کہنے سے باز رکھنے کی کوشش کی، اس لیے کہ انھیں خوف تھا کہ اگر کعب نے غیر معیاری اشعار کہہ ڈالے تو سارے خاندان کی عزت خاک میں مل جائے گی لیکن کعب نے اپنے شوق کو جاری رکھا۔بیٹے کی ضد کے آگے زہیر مجبور ہوگئے اورکعب کی شاعرانہ تربیت کرنے لگے۔اس سے کعب کو بڑا فائدہ ہوا کہ ان کے قصائد پر باپ کی شاعری کے اثرا ت نظر آنے لگے۔
کعب بن زہیر کو زمانۂ جاہلیت سے زیادہ شہرت دورِاسلامی میں حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوکر حسانؓ بن ثابت کی طرح رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہوگئے تھے۔انھوں نے آپؐ کی شان میں ایسے قصائد کہے جنھیں نہ صرف اس زمانے میں شوق سے پڑھاگیا بلکہ آج بھی اہلِ عرب کعبؓ بن زہیر کے قصیدوں کو پڑھتے اور سنتے ہیں۔جب کعب نے’قصید�ۂ بردہ‘ حضوراکرمؐ کی خدمت میں پیش کیا تو آپؐ نے خوشی میں اپنی چادر اتارکرکعب کو اوڑھادی تھی۔پیغمبراسلام ؐ کی طرف سے کعب کو یہ اعزاز ایسے وقت حاصل ہوا جب کہ کعب اپنی زندگی سے مایوس ،احساسِ کمتری سے دوچاراور زمانے کی نگاہوں میں بدبخت بنے ہوئے تھے۔آنحضرتؐ نے ان کا خون مباح کردیا تھا، یعنی ان کے قتل کا حکم صادر کردیا گیا تھا۔ہوا یوں تھا کہ جب اسلام کی چمک سے پورا عرب منور ہونے لگا اور بڑی تعداد میں لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے تو کعب نے اپنے بھائی بُحیر کو داعیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جانکاری لینے کے لیے بھیجاکہ وہ کیسے ہیں؟ اورکیا کہتے ہیں؟بحیرحصولِ معلومات کے لیے چلے تو گئے مگر واپس نہ آئے۔کعب بڑے پریشان ہوئے ۔ جب انھیں پتہ چلا کہ بھائی اسلام میں داخل ہوگیا ہے تو آگ بگولہ ہوگئے اور آنحضرت ؐ اور آپؐ کے صحابہ کی ہجو کرنے لگے۔آنحضرتؐ نے جب کعب کا ہجویہ قصیدہ سنا تو آپؐ نے کعب کا خون بدر کردیا اور اعلان کردیا کہ جو کعب کو پائے، قتل کردے۔یہ زمانہ ۷؍ہجری کا تھا ،اب اسلا م کا بول بالا ہوچکاتھا۔مسلمانوں کی حالت میں قدرے استحکام بھی آگیا تھا۔ آنحضرتؐ کے مذکورہ اعلان کے بعد عرب کی زمین کعب پر تنگ ہوگئی۔وہ پناہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹکنے لگے مگر کہیں امان حاصل نہ ہوئی۔بالآخر انھیں یقین ہوگیا کہ اب جان بچانے کی اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں ہے کہ معذرت کرلی جائے۔اس لیے ۹ھ میں ایک رات چپکے سے مدینہ پہنچ گئے اور آپؐ کے پاس حاضر ہوکر معافی چاہی اور اپنا وہ مشہور قصیدہ پیش کیا جس میں بڑے پُرسوز انداز میں معذرت خواہی تھی اور آپؐ کی شان میں بہترین اشعار تھے۔ آپؐ کعب کی معذرت سے بہت خوش ہوئے ، ان کے قصیدے کو آپؐ نے پسند فرمایا ۔کعب نے حضور ؐ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ؂
ان الرسول لسیف لیستاء بہ
مہند من سیوفِ اللّٰہِ مسلول
’’آپ اللہ کی وہ تلوار ہیں جو اپنی روشنی اور نور میں ہندوستان کی آبدار اور چمکیلی تلوار کی طرح ہے۔‘‘
آنحضرت ؐ کی شان میں اس قصیدے کے مدحیہ اشعار اتنے خوبصورت ، شاندار اور عمدہ انداز میں ہیں کہ روایات میں آتا ہے کہ جب کعب وہ اشعار پڑھ رہے تھے تو آپ جھوم اٹھے ، بعض اشعار پر سامعین کی توجہ بھی مبذول کرائی اور اپنی چادر کعب کو اوڑھادی۔یہ ایک ایسا اعزاز تھا جس سے پورے عرب میں کعب کو عزت حاصل ہو گئی اور بعد کے ادوار میں بھی انھیں احترام وعقیدت کے ساتھ یا د کیاجانے لگا۔اس چادر کو کعبؓ نے سنبھال کر رکھا۔کعبؓ کے انتقال کے بعد ان کے خاندان والوں نے بھی اس کی حفاظت کی۔بعد میں حضرت معاویہؓ نے یہ چادر چالیس ہزار درہم میں خریدلی جسے وہ جمعہ اور عیدین کے موقع پر تبرکاً پہنتے تھے۔بعد میں یہ چادر خلفائے عباسی کے پاس پہنچ گئی۔وہ بھی تہواروں کے موقع پر اسے تبرکاً پہنتے تھے۔
اس قصیدے کو ’’قصیدۂ بردہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قصیدے کا آغاز کعب نے زمان�ۂ جاہلیت کی روایت کے مطابق کیاہے۔یعنی تشبیب میں وہی انداز اختیارکیاگیاہے جو جاہلی شعرا کے یہاں رائج تھا۔قصیدے کا مطلع ہے ؂
بَانَتْ سُعَادُ فَقَلبِی الےَوم مَقبُولُ
مُتَیَّمٌ اِثرہا کم ےُخبِر مَکءُولُ
’’سعاد تومجھے چھوڑکر چلی گئی تو آج میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگاجارہے، اس قیدی کی طرح جس کو فدیہ دے کر چھڑایانہیں گیا تو وہ اپنے قید کرنے والے کے پیچھے لاچار ومجبورہوکرچلنے پر مجبورہے۔‘‘
تشبیب میں کعب نے تقریباً ایک درجن اشعار کہے ہیں جن میں پرشکوہ الفاظ وتشبیہات کو خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔اس کے بعد کعب جاہلی ریت کے مطابق اونٹنی کی تعریف وتوصیف کرتے ہیں۔قصیدے کے اس حصے میں بھی کعب اپنے باپ زہیر کے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں بلکہ ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں۔اس کے بعد وہ عذر خواہی کی طرف آتے ہیں اور ایسے اشعار کہتے ہیں جو عربی ادب میں نمایاں مقام حاصل کرلیتے ہیں ۔اس کے بعد انھوں نے بیان کیا کہ کس طرح عرب کی وسیع زمین ان کے لیے تنگ ہوگئی تھی،کوئی ان کو امان دینے کے لیے تیار نہ تھا۔اس حالت کے بیان کے بعد کعب کے وہ اشعار ملاحظہ کیجیے جو عذرخواہی پر مبنی ہیں ۔کہتے ہیں ؂
’’میں اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں عذرخواہ ہوکر پہنچا اور معافی ودرگذر اللہ کے رسول ؐ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ میں اس مقام پر کھڑا تھا کہ اگر وہاں ہاتھی بھی کھڑا ہوتا اور ہاتھی وہ دیکھتا اور سنتا جو میں دیکھ اور سن رہا تھا تو یقیناًکانپنے لگتا۔اگر اللہ کے حکم سے رسول اللہ کی طرف سے جو دوسخا، اور بخشش وعطا نہ ہوتی ،یہاں تک کہ میں نے اپنا داہنا ہاتھ بغیر کسی مناقشے کے اس ہاتھ میں دے دیا جو کہے کی سزادے سکتا تھا اور جس کا قول قولِ فیصل تھا ۔بے شک رسول اللہ وہ سیف ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک کھینچی ہوئی تلوار ہیں۔‘‘ (نقوش ، رسول نمر، ۲۳۶، جلد نمبر ۱ ، شمار ۱۳۰، اشاعت ، ۱۹۸۴ء)
اسلام کی بعثت کے بعد عرب شاعری بعض تبدیلیوں سے گزری ۔ کیوں کہ اب جاہلی ماحول ختم ہورہا تھا اور اسلام کی روشنی ہر طرف پھیل رہی تھی ۔سماج کی تغیرپذیر اس صورت حال نے شعرا کی سوچ میں بھی تبدیلی پیدا کی۔اس تبدیلی سے کعب بھی متاثر ہوئے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے زمانۂ اسلام کے قصیدے جاہلی دورکے قصیدو ں سے بہت حد تک بدلے ہوئے نظرآتے ہیں ۔وہ اس دور کے قصیدوں میں شراب وشباب ، حسن وجمال کے بجائے ان مسائل کو موضوعِ شاعری بناتے ہیں جو زندگی سے زیادہ مربوط ہوتے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال اٹھتاہے کہ جو ’قصیدہ بردہ‘ کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہا ہے اس کی تشبیب میں محبوبہ کے حسن وجمال کی تعریف وسراپاکھینچا گیا اور اس تشبیب میں پوری طرح سے جاہلی رنگ نمایاں ہے تواس کی وجہ یہ تھی کہ یہ قصیدہ دورِجاہلی اور دورِاسلام دونوں زمانوں کا احاطہ کرتا ہے ۔تشبیب کے اشعار کعب نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کہے تھے ۔گویا قصیدے کا تشبیب والاحصہ دورِجاہلی میں شروع ہوا اور دورِاسلامی میں مکمل ہوا۔کعب نے دورِاسلام میں حسانؓ بن ثابت سے کم شاعری کی ہے ،لیکن جو کچھ کہا ہے وہ بڑے وقیع انداز میں کہا ہے۔اس دورمیں وہ شاعر کم، دین کے مخلص خادم اور مبلغ زیادہ نظر آتے ہیں۔
بجاطورپر کہا جاسکتاہے کہ مخضرمی شعرامیں کعب بن زہیر صفِ اول کے شاعروں میں ہیں ۔کعب کے قصیدوں میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں ۔جیساکہ وہ بعض مقامات پر تراکیب کو پیچیدہ بنادیتے ہیں اور بعض اوقات طوالت سے بھی کام لیتے ہیں، جس کی طرف احمد حسن زیات نے بھی اپنی کتاب ’’تاریخ عربی ادب ‘‘میں اشارہ کیاہے لیکن یہ کمزوریاں اور خامیاں کعب کے ’قصیدہ بردہ‘ میں نظرنہیں آتیں۔اس قصیدے کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ دوسرے شعرا نے بھی قصید�ۂ بردہ کے نام سے متعدد قصیدے لکھے۔جیسا کہ مصر کے امام البصیری نے ’قصید�ۂ بردہ‘ لکھاجو خاصا مقبول ہوا،لیکن قصائد بردہ میں اولیت وافضلیت کعب کے قصیدۂ بردہ کوہی حاصل ہے۔کیونکہ یہ براہ راست پیغمبراسلام ؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا اور اس پر آپ ؐ نے اپنی چادر کعب کو پیش کردی تھی۔
***

Kab bin Zuhair ki Qaseeda Goi …. by Yousuf Rampuri, P. NO. 87 to 88

*ریسرچ اسکالر ، دہلی یونیورسٹی

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.