‘ادب اور احتساب’

میرے سامنے ڈاکٹر شاذیہ عمیر کی نئی کتاب  ‘ادب اوراحتساب’ کی سنہری تحریریں آنکھوں کے دوش پر سوار ہو کر دل ودماغ تک رسائی حاصل کررہی  ہیں۔ اس کتاب کا نام ہی اس کے اندر موجود تحریروں کا ترجمان اورعکاس  ہے۔ یہ کتاب حقیقت میں ان لائق وفائق ادیبوں کی تحریروں کا ‘احتساب ’ کررہی ہے جنہیں دنیائے ادب کا سرمائے افتخار کہا جاتا ہے ۔اس کتاب میں احتساب کے نقطہ نظر سے کئی اصناف کااحاطہ مضامین کی شکل میں کیا گیا ہے،جس  کی ابتدا مصنف نے شاعری سےکی ہے ، اس کے بعد فکشن کا احاطہ کرتے ہوئے اپنے احتساب کو‘ دیار نقد’ کے وسیع دامن تک کشادہ کردیاہے۔

ڈاکٹر شاذیہ عمیر نے اپنی اس تخلیق کو اپنے رفیق و دمساز ڈاکٹر علاءالدین خان کے نام منسوب کرتے ہوءے لکھا ہے

ترے وجودسے میری زباں کو گویائی                تیرے ہی دم  سے ہے آنکھوں میں میری بینائی

            جو تو نہیں تومری شام کیا سویراکیا                تیری ہی ذات سے روشن جہان زیبائی

ڈاکٹر شاذیہ عمیر نے کتاب میں سب سے پہلے‘دیارشاعری’ کو پیش کیا ہے،جس کی ابتدا انہوں نے اس شاعرسے کی جس کودلی کے ساتھ اردو ادب میں ‘مرزانوشہ’ کےنام سے بھی جانا جاتا ہے  اوران کی قدرومنزلت کااندازہ بھی ان کے چلے جانے کے بعدہوااسی طرح ان کی شاعری کاحال ہوا۔ حالانکہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اس جانب اشارہ کردیا تھا

نغمہ ہائے غم کوبھی اے دل غنیمت جانیئے                بے صدا ہوجائے گا یہ سازہستی ایک دن

اس مضمون میں مصنف نے مرزاغالب کی شاعری اورشخصیت کے تمام پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ اوران کے محاسن و معائب پراحباب کی محبتیں اوردشمنوں کی دشنام طرازیوں کا بھی ذکر بہت خوبصورت انداز میں کیا ہے اوراس کےلئے حسب ضرورت دلیل سے اپنی بات ثابت بھی کی ہے۔ مرزا غالب کےحوالے سے انہوں نےان کے ان مداحوں اورقدردانوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ان کی تحریروں کو ادب کے پروانوں تک پہنچایا۔ ان کی تحریروں میں یہ دعویٰ بھی اپنی  جگہ مسلم ہے کہ  اگر ‘یاد گار غالب’، ‘ذکرغالب’، ‘محاسن کلام غالب’، ‘رموز غالب’، ‘نقد غالب’ وجود میں نہ آتے تو شاید غالب بھی اغلب نہ ہوتے بلکہ ان کی شاعری بھی یاد ماضی کی طرح قصہ پارینہ بن کر رہ جاتی۔

دوسرا مضمون‘نئی غزل اورتانیثی حسیت’ہے، جس میں بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کےبعد کی غزل کوسمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ جس میں ابتدا تو ماہ لقا چندا بائی سے ہوئی ہے اور یہ سفر ادا جعفری،زہرہ نگاہ، کشور ناہید،فہمیدہ ریاض،پروین شاکر،نسیم سید ، شاہد حسن اورشہناز نبی تک جاری رہا۔اس مضمون میں مصنف نے شاعرات کی اس  فکر کی عکاسی کی ہے ، جو ان کے یہاں مردوں کے ظلم و جور کے حوالے قائم ہے۔اس  سماج کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو پدری نظام پرعمل پیرا ہے۔

مصنف اپنے دوسرے مضمون میں  پروین شاکر کو‘محبت کاتوانا سلہجہ’ قرار دیتے ہو یہ شعر  پیش کیا ہے:

جو خواب دینے پہ قادرتھا میری آنکھوں کو                عذاب دیتے ہوئے بھی مجھے خدا ہی لگا

حالانکہ یہ مضمو ن تو پروین شاکر کے نام ہے لیکن اس میں موضوع کی مناسبت سے کہیں کہیں دوسری شاعرات بھی درآئی ہیں جیسے کہ فہمیدہ ریاض اورکشورناہید وغیرہ ۔

اس کے آگے مضمون میں مصنف نے جاں نثار اختر کی اس عورت کو پیش کیا جس کو جاں نثار اختر نے ایک مخصوص لب و لہجے میں پیش کیا ہے۔ جاں نثا ری کی تحریروں میں نثر (خط) اور نظم دونوں میں عورت کے وجود کوتلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے کہ جتنے خوبصورت خیال عورت کے متعلق جاں نثار اختر نے شاعری میں پیش کئے ہیں اس سے بہتر خیال ان کے خطوط میں پائے جاتے ہیں۔ایک جگہ لکھتے ہیں‘‘آو مجھ میں زندگی کی روح پھونک دو’’۔

ناصرکاظمی کی شاعری  کے رنگ کوپیش کرنے کے لئے انہوں نے ایک مضمون ‘‘سفرمسلسل کااستعارہ: ناصر کاظمی’’ باندھا ہے۔  جس میں انہوں نے ناصر کاظمی کی یاسیت کو پیش کیا ہے مضمون کی ابتدا میں انہوں نے ناصر کاظمی کا وہ شعر پیش کیا ہےجو خودناصرکاظمی نے اپنے پہلے شعری مجموعے ‘‘برگ نے’’ میں پیش کیا ہے۔

تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا                گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی

اس مضمون میں انہوں نے ناصر کاظمی کی تمام شعری محاسن کو پیش کیا ہے۔جس میں زیادہ تر تنہائیوں کا ماتم ہے۔مصنف نے اس میں ناصرکاظمی کی شاعری کی کسک، دکھ،اداسی، اورتنہائی کو پیش کرتےہوئے یہ اشعار قلم بند کئے ہیں

چہکتے بولتے شہروں کو کیا ہوا ناصر

کہ دن کو بھی مرے گھر میں وہی اداسی ہے

یوں ہی اداس رہا میں تو دیکھنا ایک دن

تمام شہر میں تنہائیاں بچھا دوں گا

اس مضمون کے اختتام پر مصنف نے بہت اچھا سماں باندھتے ہوئے ناصرکاظمی کا یہ شعر پیش کیا ہے:

وہ کوئی اپنے سو اہوتو اس کا شکوہ کروں                 جدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے

اس شعر کے ساتھ ہی مصنف نے اپنے پہلے باب( حصہ) کومکمل کرلیا۔

کتاب کا دوسرا حصہ ‘‘دیار فکشن’’ کے نام سے منسوب ہے۔  اس مضمون میں ڈاکٹرشاذیہ عمیر نے اردو داستان کے آخری آدمی (انتظار حسین) کو سب سے مقدم رکھا ہے۔ اس حصے کے پہلے مضمون کانام ‘‘آخری آدمی: روحانی زوال کا رزمیہ’’ہے۔ اس میں انتظار حسین کے افسانوی مجموعے‘‘آخر ی آدمی’’ کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے اورانتظارحسین کے ساتھ چلتے چلتے  انہوں نے بھی خیالات کے ساتھ ان تمام جگہوں کی سیر کی جس میں وہ سرگرداں رہے۔  اس افسانو ی مجموعے کے تمام افسانوں پر مصنف نے اچھے تجزیئے پیش کیے ہیں۔

 اس کے بعد ایک الگ مضمون ‘‘الیاس احمد گدی: ایک منفرد فنکار’’  میں شخص وعکس کا جائزہ لیا ہے۔ اس مضمون میں الیاس احمد گدی کی ناولوں اور افسانوں کی قدروقیمت متعین کرنے کی کوشش  کی گئی ہے۔ان کے پہلے افسانوی مجموعے‘‘آدمی 1983’’ کی رومانی اورنیم رومانی کہانیوں کو اپنے تجزیئے کی چاشنی سے گوندھ دیا ہے۔ اس کے بعد مصنف نے ‘‘تھکا ہوا دن’’کو موضوع بنایا ہے ۔اس میں مصنف نےمحنت کشوں کے شب و روز کے اس تاریک پہلو کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس سے دنیا منور ہوتی ہے۔ پھر ناول ‘‘فائر ایریا’’ کو پیش کیا گیا ہے،جس کا تجزیہ کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ زندگی چاہے جس طرح سے گزری جائے وہ زندھ رہنے کے ساتھ محبت کے رنگ ڈھنگ سیکھ ہی لیتی ہے۔حسن کے ساتھ ناول کی قباحت کوبھی پیش کیا گیا ہے۔  کہ کچھ جزوی باتوں پر توجہ دیتے ہوئے ناول کو مزید اچھے انداز میں پیش کیا جا سکتاتھا۔

اگلا مضمون انہوں نے ‘‘فرات کے کردار: ایک تجزیاتی مطالعہ’’ کے مضمون کے نام سے پیش کیا ہے۔ڈاکٹر شاذیہ عمیرحسین الحق کے ناول ‘‘فرات’’ کاتجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ‘‘یہ ناول اپنے اپنے محدود زمان و مکان کے باوجودایک وسیع پس منظر کو اپنے اندرسمیٹے ہوئے ہے’’۔

اگلے مضمون میں مصنف نے ‘‘علی باقر کے افسانوں میں انسانی رشتے’’ کی تلاش کو موضوع بنایا ہے۔ اور یہ بات بہت پروثوق انداز میں کہی جاسکتی ہے کہ وہ اس تلاش میں سرفراز ہوئی ہیں۔ اس طرح انسانی رشتوں کوتلاش کرتے کرتے فکشن کا یہ باب مکمل ہو گیا۔

اگلے باب کو ڈاکٹر شاذیہ عمیر نے‘‘دیارنقد’’ کانام دیا ہے۔ اس باب میں انہوں نےنظم ونثر دونوں کوشامل کیا ہے۔اس باب میں  سب سے پہلے اردو ادب کے سب سے خشک موضوع کو جگہ دی ہے۔ پہلے مضمون کو‘‘اردو کے اہم خاکہ نگار: آزادی کے بعد’’ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اس  میں انہوں نے خاکہ نگاری کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے اہم خاکہ نگاروں کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان کے خاکہ نگاروں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ جواس لحاظ سے اہم ہے کہ ہمارے سامنے خاکہ نگاری کاایک نیا افق روشن ہوا ہے۔

دوسرے مضمون کو باندھتے ہوئے انہوں  نے اس کا نام‘‘مغربی تنقید: آغاز وارتقا’’ رکھا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ادب چاہے وہ جس طرح اورجس زبان کا  ہواس کے تارپود مغرب سے ہی جڑ ے ہیں۔ اس مضمون میں انہوں نے اس کے آغاز و ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی موجودہ شکل کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس کے بعد انہوں نے‘‘اردو تنقیدکاسیاسی و سماجی پس منظر’’ کے مضمون کو جگہ دی ہے۔ اس کی ابتدا انہوں نے مغل دورحکومت سے کی ہے  اور اس کو بیسویں صدی کی پانچویں دہے تک پہنچایا ہے۔ اور یہ رائے قائم کی  ہے ‘‘ آج اردو تنقید مختلف حد بندیوں سے آزاد ہوکر امتزاجی رویے کو بروئے کار لاتے ہوئے ادب کی آبیاری میں مصروف ہے جویقینا ایک مسرت آفریں عمل ہے’’۔

اگلے مضمون میں شاعری کوموضوع بناتے ہوئے مضمون کا نام‘‘اردو شاعری کا مزاج اوروزیر آغا’’ منتخب کیا ہے۔ اس مضمون کی ابتدا  ہی مصنف نے وزیر آغاسے اپنی ملاقات کے حوالے سے کی ہے۔ اس کے بعد مضمون میں سماں باندھنے کے لئے حالی ؔکوبھی شامل کرلیا اور  اس طرح سے  انہوں نے ماحول  سازگار بناتے ہوئے وزیر آغا کی شاعری نوازی اور شاعری کے مزاج ، جس میں گیت، غزل اور نظم موجود ہیں کو بہت عمدہ طریقے سے جانچا اورپرکھا ہے۔

باب اورکتاب دونوں کے آخر میں ایسا مضمون  منتخب کیا ہے جو دونوں کی تکمیل کااعلان کرتاہے۔اس مضمون کانام‘‘اے خستہ بدن!اب سفر تمام ہوا’’ ہے۔  اس مضمون میں بھی وزیر آغا کے دنیا چھوڑنے کاماتم ہے۔ لیکن اس مضمون میں اس ہستی کا ذکر خیربھی ہے جس کی انگلی پکڑ کر وزیر آغا تک رسائی ہوئی تھی ،وہ ہستی جس کے ہونے کو‘آسمان ’ کہتے ہیں اورنہ ہونے کو‘دنیا ویران’ کہتے ہیں۔یعنی مصنف نے اپنے والد محترم کا بھی ذکر کیا ہے۔ جوکہ اپنی میٹھی میٹھی باتوں سےتو وزیر آغا کی محبت دل میں بٹھا گئے لیکن خود وزیر آغا کی طرح ہی اکیلے زندہ رہنے کا درس دے کر چلے گئے۔  علاوہ ازیں اس مضمون میں انہوں نے وزیر آغاکی ان تمام تحریروں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے جو کہ ان کی دسترس میں آئیں۔

یہ کتاب  کئی لحاظ سے منفرد  ہے ۔جیسے کہ اس کتاب میں حسب روایت کوئی تعارفی تحریرنہیں ہے ۔کتاب اورموضوع کے پیش نظر کسی بھی ادیب کی تحریر کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔بالفاظ دگر

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ                جس دیئے میں جان ہوگی وہ دیارہ جائے گا

دوسرے اس کتاب میں احتساب کے پیش نظر  نظم،نظر اورنقد غرض سب کچھ موجود ہے ، یہ بھی ایک طرح سے اس کی انفرادیت ہے۔ ایک ادب کے قاری کے لئے یہ کتاب بہت مفید ہے۔ اس لئے کہ اس میں شاعری کا بحر بیکراں‘غالب’، افسانے کا لازاول آدمی‘انتظارحسین’ اور تنقید کانوشیرواں عادل(تنقید میں انصاف)‘وزیر آغا’موجودہیں اوریہ تینوں اردو ادب کے عناصرثلاثہ ہیں۔

آخرمیں اس کتاب کو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس نے شائع کرکےاعتبار کاایک اور تمغہ عطا کردیاہے۔

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.