اپنی بات

انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی نے طرز زندگی کے علاوہ درس وتدریس کے روایتی طور طریقوں  کو بھی بدل دیا ہے۔ اب ایک ہی شخص کسی بھی ملک میں بیٹھ کر دنیا کے کسی بھی دوردراز ملک میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ تعلیم دے سکتا ہے۔ آج سے پہلے ہم اس کا تصور نہیں کرسکتے تھے۔ دیگر فنون کے علاوہ زبانوں کی تدریس میں یہ جدید ٹکنالوجی زیادہ معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ ہمیشہ سے زبان کی تعلیم اہل زبان سے حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی ادارے کے لیے یہ بہت بڑی چیز مانی جاتی ہے کہ اس کے یہاں غیر ملکی زبانوں کی تدریس  اہل زبان کے ذریعہ دی جاتی ہے۔  بڑے ادارے ہی اس خرچ کو برداشت کرسکتے ہیں کہ وہ ہر زبان کی تعلیم اہل زبان سے دلا سکیں۔ لیکن اطلاعاتی ٹکنالوجی نے چھوٹے اور درمیانی اداروں کے لیے بھی یہ سہولت فراہم کردی ہے۔

اردو ہماری مادری زبان ہے لیکن غیر ملکوں میں بیٹھے ہزاروں اردو کے طلبا کے لیے یہ ایک غیر ملکی زبان ہے ۔ وہ اس کو غیر ملکی زبان کی حیثیت سے سیکھ رہے ہیں۔ اس ٹکنالوجی کے ذریعہ یورپ امریکہ ، عرب اور افریقی ممالک کے اردو طلبا کو اردو کی مؤثر اور کفایتی تعلیم کا نظم  کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان سے غیرممالک میں بسنے والی اردو آبادی کے سامنے اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دلانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ ان جگہوں پر اردو کے ٹیچر کی دستیابی ایک مشکل امر ہے۔ یہ کمی ٹکنالوجی کے ذریعہ پر کی جاسکتی ہے۔ راقم نے ایسی کئی ویب سائٹوں کو دیکھا ہے جس میں  اسکائپ کے ذریعہ معمولی فیس لے  کرغیر ممالک میں بیٹھے بچوں کو قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس پیشہ سے وابستہ لوگوں کی بات پر یقین کریں تو غیر ممالک میں ان کے سیکڑوں طالب علم انفرادی اور اجتماعی طور اسکائپ پر قرآن اور دین سیکھ رہے ہیں۔  یہ کام ہم اردو زبان کی تدریس کے لئے کیوں نہیں کرسکتے۔ اردو زبان کی بھی ایک بڑی مارکیٹ ہے ہم کو اس کا فائدہ اٹھاکر اردو خواندگی کا کوئی آن لائن مرکز قائم کرنا چاہئے۔ کوئی ضروری نہیں کہ یہ کام کوئی ادارہ کرے۔ اداروں کی اپنی پالیسیاں اور مجبوریاں ہیں۔ انفرادی طور پر کوئی بھی جدید ٹکنالوجی کی مہارت رکھنے والا  یہ کام کرسکتا ہے۔

ابھی حال ہی میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کی آن لائن اردو لرننگ ڈاٹ کام سے آگاہی ہوئی۔ یہ ایک اچھی پہل ہے۔  اسی طرز پر مزید ویب سائٹوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بات اور بھی ضروری ہے کہ کوئی بھی پروگرام بنایا جائے اس کی واجبی فیس طے ہو۔ مفت چیز کی ناقدری ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اردو والوں کو بھی مفت کی عادت چھوڑ دینی چاہئے۔

یہ اردو ریسرچ جرنل کا دسواں شمارہ ہے۔ اس رسالے کااجرا 2014 میں عمل میں آیاتھا۔ بے سروسامانی کے عالم میں اٹھائے گئے اس قدم کی ادبی دنیا میں خاطر خواہ پذیرائی ملی۔یہ سب قارئین اور قلم کاروں کی محبتوں  کے ساتھ جرنل کے سرپرست پروفیسر ابن کنول کی مربیانہ شفقت کا نتیجہ ہے۔  یہ شمارہ کیسا لگا۔ آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔

عزیر اسرائیل

ایڈیٹر

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.