عبدالعلیم کی صحافت نگاری کا اجمالی جائزہ

ظفر عالم

ریسرچ اسکالر شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی

ہندوستان کی صحافتی تاریخ میں  کئی شخصیتیں بہت اہم ہیں جنھوں نے ہندوستان کی ترقی کے لیے بہترین کارنامے انجام دیئے ۔ راجارام موہن رائے ، مولانا ابو الکلام آزاد ، مولانا محمد علی جوہر ، ظفر علی خاں ، حسرت موہانی ، عبد الماجد دریا بادی وغیرہ نے اپنی تحریروں کے ذریعہ ہندوستانی عوام کی خوب اصلاح کی ۔ اور اس وقت جب ملک انگریزوں کے زیر اقتدار تھا۔ ہر طرف ظلم و بربریت کی انتہا اپنے عروج پرتھی ۔ ایسے برے وقت میں  ان اشخاص نے اپنی تحریروں کے ذریعہ عوام الناس کے دلوں میں  حب الوطنی کا جذبہ مو جزن کرنے کاکام بخوبی انجام دیا۔بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے ایسے ہی پر خطر ماحول میں عبدالعلیم صحافت سے وابستہ ہوئے ۔ انھوں نے ملک کی خدمت کے لیے سیاست سے وابستگی اختیار کی اور جب نوجوانوں نے ہندوستان میں  ترقی پسند تحریک کی داغ بیل ڈالی تو وہ اس تحریک کے روح رواں بن گئے ۔صحافت سے ان کا تعلق باقاعدہ طورپر جر منی سے پی ۔ ایچ ۔ڈی کرنے کے بعداس وقت قائم ہوا جب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں  بطور استاد خدمت انجام دے رہے تھے ۔ اسی دوران جامعہ کے اہم اراکین نے مل کر یہ فیصلہ لیا کہ ماہنامہ جامعہ کے سال بھر میں  مختلف مو ضوعات پرچار چار شماروں کا اجرا ء کیا جائے ۔ جن میں  اسلامیات اجتما عیات ،اور ادبیا ت سے متعلق عنوانات شامل تھے۔عبدالعلیم کو اسلامیات سے متعلق شمارے کا نگراں بنایا گیا۔وہ حقیقی طور پر تو صرف ان چار شمار وں کے نگر اں تھے لیکن اس کے علاوہ ادب اور اسلام سے متعلق کئی کتابوں پران کے تبصرے بھی شائع ہوتے رہتے تھے ۔مشہور افسانہ’’ انگار ے‘‘ پر ان کا تبصرہ ماہنامہ جامعہ میں  شائع ہوا تھا۔ ’’انگارے‘‘ وہی افسانوی مجموعہ ہے جس پر چو طرفہ تنقید کی گئی تھی ۔ چو نکہ افسانہ نگاروں نے مسلم معاشرے میں  پھیلی ہو ی برا ئی کی بڑی بے باکی سے تصویر کشی کی تھی مگر اندازبیان اتنا سخت تھا کہ افسانے کی پزیر ائی کے بجا ئے پر زور مخالفت کی جانے لگی ۔ عبد العلیم نے افسانہ نگاروں کے طرز بیان کی طرف اشارہ کر تے ہوئے لکھا :-

’’ تنقید کی آزادی نہ ہو تو اصلاح کی گنجا ئش نہیں رہتی اور وہ نخوت اور تکبر جو تنقید کو توہین ، اختلاف کو عدا وت اور خیالا ت کے بے تکلف اظہار کو بد تمیز ی قرار دے ۔ خلوص اور سچی عقیدت کا سب سے کٹر دشمن ہے ۔ لیکن اس پر غور کر نا زندگی کے ہر مصور کا فرض ہے کہ تنقید اور نکتہ چینی کا اس نے جو انداز اختیار کیاہے وہ اس کے مطلب کو پورا کر تاہے یا نہیں ۔ گالی دینابھی خیالات اور جذبات ظاہر کرنے کا ایک طریقہ ہے اور جسے خدا نے زبان دی ہے اس سے ہم گالی دینے کا حق نہیں چھین سکتے مگر یہ سب جانتے ہیں کہ گالیاں دینے سے مطلب کہا ں تک نکلتا ہے ۔ ہنسی اڑانے کے بھی بہت سے طریقے ہیں بعض بات کو اس طرح سے ذہن نشین کر دیتے ہیں کہ کو ئی نا صحانہ انداز ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، بعض آدمی کو اتنا خفا کر دیتے ہیں کہ وہ پھر کو ئی بات سننا گوا را نہیں کر تے یہ ایک مو ٹی سی بات ہے مگر افسوس ہے۔ ’’ انگارے کے مصنفوں کو اس کا خیال نہیں رہا ۔‘‘۱؎

      عبدالعلیم نے ماہنامہ جامعہ میں  جہاں ادبی مو ضوعات پر تبصرہ و تنقید کا فریضہ انجام دیا وہیں انھوں نے ہندوستان کے ساتھ اسلامی مما لک کے سیاسی سماجی صورت حال سے اہل وطن کو روشناس کرایا۔ انھوں نے ترکی ، مصر ، ایران ، شام ، عراق، افغانستان ، سعودی عرب ، فلسطین وغیرہ کے حالات پر بہترین تبصرے کئے ۔ ہندوستان کی صورت حال پران کے شائع ہونے والے مضا مین کابغورمطالعہ کر نے سے  اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اس وقت کی ہندوستانی سیاست کی بہترین ترجمانی کی ہے ۔ کیو نکہ وہ اپنے سن شعور سے ہی ہندوستان کی آزادی کے لیے فکر مند تھے اور ملک کی سیاسی سر گر میوں میں  حصہ لیتے رہتے تھے ۔

       عبد العلیم نے ماہنامہ جامعہ کے ستمبر1933؁ء تا اکتوبر1933؁ء کے شمارے میں  ’’دنیا کی رفتار‘‘ کے عنوان سے ہندوستان کی سیاسی صورت حال پر روشنی ڈالی ہے ۔مضمون کے مطالعہ سے اس بات کا علم ہو تا ہے کہ اس وقت ہندوستان میں  آزادی کی لہر بہت تیز چل رہی تھی ۔ گاندھی جی انگریزوں کے خلاف تحریک نافرمانی شروع کر چکے تھے لیکن جیل سے رہا ہو نے کے بعد انھوں نے کانگریس کو مشورہ دیا کہ تحریک نافرمانی چھ ہفتے کے لیے مو قوف کر دیں ۔گاندھی جی کو بہت لوگوں نے خطوط لکھ کر تحریک نافرمانی ختم کر نے کی تجویز پیش کی لیکن انھوں نے کوئی حتمی فیصلہ لینے سے انکار کردیا ،اور یہ کہا کہ جب تک ملک کے مختلف صوبوں کے کانگریسیوں سے کوئی مشورہ نہیں کر لیا جاتااس وقت تک آخری فیصلہ لینا بے سود ہے ۔ لہذا12جولا ئی1933؁ ء کو پو نا میں  ہندوستان کے مختلف صو بوں کے قریب دو سو کارکنان کی موجودگی میں  مہا تما گاندھی نے یہ رائے لینی چاہی کہ تحریک نافرمانی کو جاری رکھا جا ئے یا بند کردیا جائے بیشترافرادتحریک نافرمانی کو ملتوی کرنے پر زور دے رہے تھے۔ خاص کر بمبئی کے لوگوں کا خیال تھا کہ تحریک نافرمانی میں  کو ئی زور دیکھائی نہیں دے رہا ہے بلکہ روز بہ روز تحریک کمزور پڑتی جارہی ہے اس لیے بہترہے کہ اس تحریک کو بندکر دیاجائے۔

      عبد العلیم نے پونا کانفرنس کی ایک اور اہم بات پر توجہ دلائی ۔ پو نامیں  تحریک نافرمانی کو ملتوی کرنے کے لیے زیادہ تر نوجوان راضی تھے۔ اور اس کے بر عکس ضعیف العمرکانگریسی اپنی پارٹی کے وقارکو کسی بھی طرح سے مجروح نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔کیونکہ بوڑھوں نے کانگریس پارٹی کی آبیاری کے لیے اپنا پورا وقت صرف کیاتھا جب کہ نو جوان طبقہ نئے اشتراکی رجحان کی طرف منتقل ہو رہا تھا ۔نو جوانوں  کے سیاسی رجحان کا جائزہ لیتے ہوئے عبدالعلیم لکھتے ہیں :-

      ’’ آج کل کے نوجوانوں میں  اشتراکیت کی ہلکی سہی لیکن ایک لہر ضروردوڑ رہی ہے اس میں  شک نہیں کہ ہندوستان میں  بہت کم لو گ ایسے ہیں جنھوں نے اشتراکیت کے نظریوں پر ہرہر پہلو سے غور کیا ہو لیکن ان کے جذبات کو اگر کوئی چیز ابھار تی ہے تو وہ اشتراکی حکو مت کی خوا ہش ہے یہ خواہش ابتدا ئی حالت میں  ہے اور ابھی تک ایک دھندھلی خواب کی سی کیفیت رکھتی ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ پرانی تحریکوں اور پرانے رہنما ؤں کا اثر جوانوں کے دلوں سے کم ہو تا جاتا ہے۔‘‘۲؎

      جب پنڈت جوا ہر لال نہرو نے اردو میں  ایک ہفت روزہ اخبار ’’ ہندستان‘‘ نکالنے کی تجویز پیش کی تو انھوں نے اس کے ذمہ داروں میں  عبدا لعلیم کو شامل کیا ۔ ان کے علا وہ اس اخبار سے منسلک ہو نے والوں میں  آچاریہ نریندر دیو اور رفیع احمد قدوائی مینیجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے شامل ہوئے ۔ عبدالعلیم اور دوسرے منتظمین نے حیات اللہ انصاری کو اس اخبار کا ایڈیٹر منتخب کیا۔ ہفت روزہ ہندستان نے انگریزوں کی مخالفت اور ہندوستانیوں کے اندر جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینے کا بہترین کا رنامہ انجام دیا۔ یہ اخبار لکھنؤ سے عبد العلیم کی رہائش گا ہ سے شائع ہو تا تھا ۔ ہفت روز ہ ہندوستان میں  ادبی موضوعات پربھی مضامین شائع ہوتے تھے ۔ علی سردار جعفری ، جوش ملیح آبادی، جاں نثار اختر، علی جواد زیدی ، جذبی ، مخدوم محی الدین اور مسعود اختر وغیر ہ کے مضامین اکثر شائع ہو تے رہتے تھے ۔ جو ش کی مشہور نظم ’’ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب‘‘ بھی سب سے پہلے اسی اخبار میں  شائع ہو ئی تھی ۔ عبدالعلیم نے ہفت روزہ ہندستان سے وابستہ عملہ کی بہترین رہنمائی کی اور اس اخبار سے فارغ ہو کر حیات اللہ انصاری نے بطور صحافی بہت نام کما یا۔جب وہ قومی آواز سے منسلک ہو ئے تو انھوں نے عبدالعلیم کے مشورے کو ہمیشہ ملحوظ رکھا ۔ اس سلسلے کی وضاحت کر تے ہوئے مشہور صحافی عابد سہیل رقم طراز ہیں :-

      ’’ اردو صحافت کو ان کی ایک بڑی دین بعض الفاظ کا وہ املا ہے جس پر ’’ قومی آواز ‘‘ (لکھنؤ) آخر دم تک کا ر بند رہا ۔ ’’ ہندوستان ‘‘ وہ واو کے بغیر لکھتے تھے۔ اور یہی املا ’’ ہفت روزہ ‘‘ کا بھی تھا’’ املا نامہ ‘‘ میں  ’’ ہندوستان‘‘ اور ’’ ہندستانی‘‘ دونوں کو درست کہتے لیکن ’’ ہندستانی ‘‘کو مرجح قرار دیاگیا ہے ۔ وہ ’’پہونچ ‘‘قبیل کے الفاظ واو کے بغیر اور ’’ علیحدہ ‘‘کے بجائے ’’ علاحدہ ‘‘لکھتے تھے ۔حیات اللہ انصاری کے بموجب ’’ قومی آواز ‘‘ میں  Security council کے لیے حفاظتی کو نسل لکھا جاتا تھا ۔ لیکن بعدمیں  عبد العلیم کے مشورہ پر اسے سلامتی کونسل کردیا گیا تھا۔ جوا ٓ ج بھی اردو صحافت میں  مروج ہے۔ حیات اللہ انصاری ہی کے مطابق روزنامہ کی سب سے بڑی خبر (Lead) کی سرخی کے لیے ’’ شاہ سرخی ‘‘ کی ترکیب بھی عبدالعلیم ہی کی ہے ۔‘‘۳؎

      ۱۹۴۲؁ء میں  گاندھی جی کی قیادت میں  بھارت چھوڑو تحریک طول پکڑ تی جارہی تھی ۔ انگریز مخالف جذبے کو فروغ دینے میں  ہفت روزہ ہندستان نے اہم رول اداکیا ۔ جس کے نتیجے میں  انگریز ی حکو مت نے اس اخبار کو بند کر وا دیا ہفت وار ہندستان کی فائل دستیاب نہیں ہے لیکن بقول عابد سہیل عبدالعلیم کے کاغذ ات میں  ان کے دو شائع ہوئے مضامین ملے ہیں پہلا مضمون’’ ہمارا کام ‘‘ کے عنوان سے ہفت وار ہندوستان میں  شائع ہوا دوسرا سید طفیل احمد کی کتاب ’’ مسلمانوں کا روشن مستقبل ‘‘ پر تبصرے کی شکل میں موجود ہے۔

عبدالعلیم کے ’’ ہفت روزہ ہندستان ‘‘ میں شائع مضمون ’’ ہماراکا م‘‘ کے مطالعہ سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت انگریزی حکومت اپنی پرانی مکرانہ چال چل رہی تھی تاکہ ہندوستا ن میں  حکومت آسانی سے کی جاسکے لیکن عبدالعلیم کی دور بین نگاہ برطانوی حکومت کی چال کو سمجھ چکی تھی ۔ دراصل انگریزوں نے کچھ کانگریسیوں کو وزارت کے عہدوں پر فائز کر دیا تھا جس کے سبب ان لوگوں کا رویہ حکومت برطانیہ کے تئیں نرم ہوگیاتھا۔ ملک کے مزدور کسان بد حال ہوتے جا رہے تھے ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ۔ سر مایہ دار اورزمیندار غریبوں پر مظالم کی انتہا کئے ہو ئے تھے۔ اس کے بر عکس حکومت میں  شامل کانگریس وزیرخاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔اس لئے وہ مخلص کانگریسیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ حکومت برطانیہ اور زمیندار ساہو کار وں کے جھانسے میں  نہ آئیں بلکہ مزدوروں اور کسانو ں کو اپنی جماعت میں  شریک ہونے کی دعوت دیں ۔ مضمون کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبدالعلیم مسلم لیگ کے سیاسی رجحان سے متفق نہیں تھے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایسی پارٹی کا وجود ملک میں  فروغ حاصل کرے جس سے فرقہ وارانہ ذہنیت کو تقویت حاصل ہو۔ لہٰذا وہ کانگریسوں کو یہ باور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کانپور کے کانگریسی مزدور کسانوں نے جس طرح سے مذہبی یک جہتی کامظاہر ا کیاا ور ہندومسلم اتحادکو مضبوط کیا ٹھیک اسی طرح پوری کانگریس پارٹی کوسارے ملک میں  متحدہ محاذ قائم کر نے کی تلقین کر تے ہوئے لکھتے ہیں :-

      ’’ کانپور کی مزدور سبھاا س بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ جو ادارہ صحیح معاشی بنیاد پر قائم ہو تا ہے ۔ اس میں  مذہب یا فرقے کی تمیز باقی نہیں رہتی ۔کانپور میں  مسلمان مزدور وں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور باوجود مسلم لیگ اور اتحاد ملت کی کوششوں کے وہ ہندومزدور وں کے ساتھ مل کر مزدور سبھا میں  کام کرتے ہیں تمام کانگریس کمیٹیوں کو چاہیے کہ کانپور کانگریس،کمیٹی کی طرح مزدوروں اور کسانوں کی سبھاؤں کے ساتھ متحدہ محاذ قائم کریں ۔ ‘‘۴؎

      ترقی پسند مصنفین نے اپنے خیالات و افکار کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایک ماہنامہ رسالہ’’ نیا ادب‘‘ کا اجرا کیا ۔ اس رسالے کو جاری کرنے میں  مجاز ،سبت حسن اور سردار جعفری شامل تھے۔ عبدالعلیم اس رسالے کے صلاح کاروں میں  شامل تھے۔ ان کے علاوہ جو ش ملیح آبادی، مجنوں گورکھپوری ،فراق گورکھپوری اور سجاد ظہیر بھی شامل تھے۔ ترقی پسند حلقوں میں  اس رسالے کو خوب سراہاگیا۔ عبدالعلیم کا تعلق اس رسالے سے انجمن ترقی پسند تحریک کے جنرل سکریٹری کے حیثیت سے بھی تھا ۔ انھوں نے اس رسالے میں  کئی ایسے بہترین مضامین لکھے جس کے نتیجے میں  اس وقت کے نو جوان لکھنے والوں کی بہترین رہنما ئی ہو سکی۔ نیا ادب کے لکھنؤ سے شائع شمارہ نمبر۴ کے پیش لفظ میں  انھوں نے لکھا ۔:

      ’’ ترقی پسند مصنفین کی انجمن کے قیام کو ابھی بہت دن نہیں ہو ئے لیکن اس کا اثر خاص طور سے اردو ادیبوں نے بہت تیزی سے قبول کیا ہے نو جوان ادیبوں کی تعداد تو ایسی پیدا ہو گئی ہے جو براہ راست اسی انجمن کی کو ششوں کا نتیجہ ہے پرانے لکھنے والوں میں  جو لوگ ایک عرصے سے کسی ایسے راستے کی تلاش میں  تھے بہت تیزی سے اس تحریک میں  شامل ہو گئے ‘‘۵؎

      عبد العلیم نے نیا ادب کے ستمبر 1941؁ء کے شمارے میں  ایک اور اداریہ لکھا ۔ ان کا یہ اداریہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔کیونکہ اس وقت پوری دنیا کی صورت حال بہت خطر ناک موڑپر تھی ۔ترقی پسند ادیبوں کو فکر لاحق تھی کہ کیا کریں ،کیا نہ کریں اسی طرح کی الجھن و اضطراب کو دور کرنے کے لیے انھوں نے مصنفوں سے فاشزم کے خلاف صف آراہونے کی تلقین کی اور انھیں یہ بات سمجھا نے کی کوشش کی کہ ہندوستان کی صورت حال نہایت ہی خطرناک مرحلے سے گز ررہی ہے اور ملک میں  علا حدگی پسند رجحان فروغ پارہا ہے ۔ اس لیے وہ ادیبوں کو یہ باور کرا رہے تھے کہ اپنی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہوئے لوگوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرائیں تاکہ فاشزم اور امپیریلزم دونوں کا خاتمہ ہو سکے۔ اس کام کوعملی جامہ پہنانے کے لیے انھوں نے قومی حکومت قائم کر نے کی تجویز پیش کی عبد العلیم لکھتے ہیں :-

’’ ہم ادیبوں کا فرض ہے کہ اس پروگرام پر جودہلی میں  بنا یا گیا تھا عمل کریں اوراس کو کامیاب بنانے کے لیے پوری پوری کوشش کریں ساتھ ہی ساتھ ہم اس بات کو بھی واضح کر تے جائیں کہ فاشزم کی مخالفت کے یہ معنی نہیں کہ ہم ہندوستان کو سامراج شاہی کے چنگل سے آزاد کر ا نا نہیں چاہتے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ ہمارے ملک میں  قومی حکومت قائم ہو نی چاہیے اس لیے کہ صرف قومی حکو مت ہی جنتا کے دلوں میں  قومی حفاظت کے لیے کافی جوش پیدا کر سکتی ہے ۔ قومی حکومت قائم کرنے کے لیے قومی اتحاد کی عمارت صحیح بنیاد پر کھڑی کی جائے ۔‘‘۶؎

       ترقی پسند ادیبوں نے ایک سہ ماہی رسالہ’’ نیو انڈین لیٹریچر‘‘ کے نا م سے شائع کیا ۔ اس رسالے کی اشاعت کا مقصد مختلف زبانوں کے ترقی پسند ادب کو انگریزی زبان میں  شائع کر نا تھا ،تاکہ ترقی پسند خیال ملک کے ہر خطے تک آسانی سے پہنچ سکے ۔ ایڈیٹر کے طورپر عبدالعلیم کا انتخاب ہوا۔ ملک راج آنند اور احمد علی بھی رسالے کے ایڈوٹوریل بو رڈ میں  شامل تھے۔ عبد العلیم کے مکان کو نیوانڈین لٹریچر کا دفتر بنا یا گیا۔ ابتدائی شمارے میں  ملک راج آنند کا مقالہ ترقی پسند ادیبوں کی تحریک پر ، ڈی۔ پی ۔مکھر جی کا مضمون جدید بنگالی مصور ی پر منشی پریم چند کا افسانہ کفن شائع ہوا۔ اس رسالے میں  عبد العلیم نے The problem of hindustani کے عنوان سے ایک بہترین مضمون لکھاتھا۔ جس میں  انھوں نے ہندوستانی سماج میں  مقامی زبانوں کے ذریعہ فروغ پانے والے علیحدگی پسند رجہانت کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی اور زبانی انتشار کو ختم کرنے کے لئے ایک مشترکہ قومی زبان کی تجویز پیش کی۔در اصل ان کا ماننا تھا کی ایک قومی زبان سے ہندوستانی عوام کو متحد کیا جا سکتا ہے۔

      نیو انڈین لٹریچر کی مقبو لیت میں  بہت اضافہ ہوا کیونکہ یہ رسالہ اپنے معیار کے حساب سے بہت بلند تھا۔ اس وقت ہندوستان میں  انگریزی زبان میں  اس سے بہتر کوئی دوسرا رسالہ نہیں تھا ۔ پہلے ہی شمارے کا اجرا ہوا تھا کہ ملک راج آنند اور احمد علی میں  نا اتفاقی پیدا ہو گئی ۔ احمد علی نے رسالے سے علیحدگی گی اختیا ر کر لی ۔ ملک راج آنند کسی کام سے انگلینڈ چلے گئے جس کی وجہ سے ساری ذمہ داری عبدالعلیم کے سر آگئی ۔ملک راج آنند کے بر طانیہ جانے کے بعد ستمبر1939؁ ء میں  دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی اور ملک راج آنند واپس نہیں آسکے۔ عبدالعلیم نے نیو انڈین لٹریچر کا دوسرارسالہ تنہا نکا لا اور رسالے کا معیار پہلے سے بہتر تھا۔ نیو انڈین لٹریچر کاتیسرا رسالہ نکالا جاتا کہ اس سے پہلے دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے حکو مت نے پریس قوانین سخت کر دیئے۔ہندوستان میں  ترقی پسند خیا ل رکھنے والوں کو قید کیا جارہا تھا لہٰذا عبد العلیم بھی گرفتار ہوئے جس کی وجہ سے یہ رسالہ بالکل بند ہو گیا ۔عبدالعلیم انگریزوں کی نظر میں  کتنے خطرناک تھے ۔اس کا اندازہ نیا ادب میں  شائع مضامین سے لگا یا جا سکتا ہے۔

 ’’ سید سجاد ظہیر محمود الظفر، سید مطلبی فرید آبادی ، علیم جواد زیدی اور علی سردار جعفری اڈیٹر ’’ نیا ادب ‘‘ ترقی پسند ادیب ہونے کے جرم میں  جیل میں بھر دیے گئے ہیں ۔ ان میں  سے اکثر تو اتنے خطر ناک ٹھہرائے گئے کہ حکومت نے ان پر فرد جرم لگا نے یا باقاعدہ مقدمہ چلانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی ۔ اس سلسلہ کے موجودہ شکار انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبد العلیم سینیر لکچرر لکھنؤ یو نیورسٹی ہیں ‘‘۷؎

      1942۱؁ء کے اختتام پر ’’نیا ادب ‘‘لکھنؤ سے شائع ہو نا بند ہو گیا تو رضا انصاری نے فرنگی محل لکھنؤ سے ’’ منزل ‘‘ نام کے ماہنامہ رسالے کو شا ئع کیا۔ بقول عابد سہیل ’’ رضا انصاری نے مجھے بتایا تھا کہ ’’ منزل ‘‘ کا سارا ادبی کام عبدالعلیم ہی کر تے تھے ْ‘‘ عبد العلیم کا مضمون ’ ’ترقی پسند ادب کے بارے میں  چند غلط فہمیاں ‘ ‘اور مشہور ترقی پسند مصنف مخدوم محی الدین کے شعری مجموعہ ’’ سرخ سویرا ‘‘ پر ان کا تبصرہ منزل کے شمارے میں  شائع ہوا تھا۔ ’’ ترقی پسند ادب کے بارے میں  چند غلط فہمیاں ‘‘ عبد العلیم کا ایک بہترین مضمون ہے جس میں  انھوں نے ترقی پسند تحریک کے لکھنے والوں کی کشمکش کو دور کر نے کی کو شش کی ہے اور اس وقت تحریک پر جو بے جاالزامات لگائے جاتے تھے ان سب اعتراضات کا مدلل انداز میں انھوں نے جواب دیا ہے ۔ اس مضمون کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ جس وقت تحر یک تذبذب کا شکار تھی اور نئے لکھنے والوں میں یہ شک و شبہات پائے جارہے تھے کہ ترقی پسند ادب کس طرح کا ہو ۔ ایسے شبہات کو ختم کرنے کے لیے عبدالعلیم نے یہ مضمون ماہنامہ منزل میں  لکھا جس کی وجہ سے تحریک کے کارکنان کو بہتر طریقہ سے کام کر نے میں  مدد ملی ۔

      عبد العلیم کی صحافتی کاوشوں کو دیکھنے کے بعد یہ معلوم ہو تا ہے کہ انھوں نے اپنے گہر ے مطالعے اور مشاہدے سے صحافت کی دنیا میں  ایک منفرد پہچان بنا ئی جس طرح سے ایک صحافی کو کسی سے مرعوب ہوئے بغیر کام کر نا چاہیے یہ ساری خو بی ان کے اند ر مو جود تھیْ انھوں نے ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر بہترین تبصرے و تجزیے کیئے خاص کر ہندوستانی سیاسی صورت حال پر جامع مضامین لکھے ۔ ان کی تحریروں میں  ملک کی قومی یکجہتی کو قائم رکھنے کی جھلک صاف دیکھائی دیتی ہے ۔ کسانوں اور مزدوروں کے مسائل کو بھی انھوں نے مو ضوع بحث بنا یا تا کہ ہندوستان کی پس ماندہ قوم باعزت زندگی گزار سکے۔ بطور صحافی عبدا لعلیم کی خدمات کو ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔

حواشی

۱۔کلیات عبدالعلیم جلد دوم ،ص168،مرتب عابد سہیل قومی کونسل فروغ برائے اردو زبان نئی دہلی۲۰۱۲ء

۲۔ایضاً،ص،258

۳۔’’عبدالعلیم ‘‘عابد سہیل،ص67،ساہتیہ اکادمی نئی دہلی ۲۰۰۸ء

۴۔کلیات عبدالعلیم جلد دوم ،ص168،مرتب عابد سہیل قومی کونسل فروغ برائے اردو زبان نئی دہلی۲۰۱۲ء

۵۔ایضاًص353

۶۔کلیات عبدالعلیم ،جلد اول، ص108،ایضاً

۷۔کلیات عبدالعلیم،جلددوم،ص440،ایضاً

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.