محسن اردو محسن قوم حیات اللہ انصاری

ہندوستا ن شروع سے ہی کثیر المذاہب اور مختلف لسانیات کا مرکز رہا ہے،ہر دور میں ہمارے ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور الگ الگ زبانیں بو لنے والے لوگ رہے ہیں ،دنیا بھر میں یہی اس کی نمایا ں خصوصیت اور منفردشناخت رہی ہے۔لیکن لسانی سطح پر اردو اور ہندی کے درمیان اختلاف،انیسویں صدی میں پریم ساگر کے مصنف للًو لال جی کے ذریعہ شروع کیا گیا۔لیکن اردو دشمنی میں شدت آزادی کے بعد ضرور آئی ہے۔حالانکہ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں اردو اخبارات نے کھل کر انگریزوں کے خلاف لکھا،اور ہندوستانی قوم پرستی کی حمایت کی،غدر کی نا کامی کے بعد اسی جرم کے پاداش میں مولوی محمد باقر کو پھانسی ہو ئی۔اس ؎طرح وطن کی خاطر پھا نسی کے پھندے کو گلے لگانے کا اعزاز اردو ایڈیٹر کو ہے۔پھر تو آگے ڈیڑھ سو برس کی تاریخ اردو صحافت کے نڈر اور بے باک صحافیوں کی تاریخ ہے۔لیکن آزادی کے بعد یہاں کی مذہبی آزادی اور لسانی یکجہتی کو بڑا خطرہ در پیش ہو گیا،مذہب کے نام پر امتیاز اور زبان کے نام پر نفرت بر تا جانے لگا۔سرکاری محکمو ں سے لے کر عام زندگی میں انسانیت اور ہندو ستا نیت کے بجائے مذہب اور زبان کی عینک لگا کر دیکھا جانے لگا،ہندو مسلم اور زبان کے نام پر لکیر کھینچ دی گئی۔ اس سلسلے میں گر بچن چندن لکھتے ہیں :

’’سیاست نے ایسے مسائل پیدا کر دیے جو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ۱۸۵۷کی فرنگی اقتدار کے خلاف عظیم بغاوت کی ناکامی اور ۱۹۲۴ کے خلافت کے خاتمے کے اعلان سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی زیادہ سنگین تھے۔‘‘

     (گربچن چندن :اردو صحافت کا سفر،ایجو کیشنل بک ہا ؤس،دہلی ۲۰۰۷ص:۱۹۶)

ایسے پر آشوب دور میں محب وطن حیات اللہ انصاری نے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، لسانی یکجہتی اور اردو زبان کی بقا اور اس کے آئینی حقوق کی باز یابی کے لئے قلمی اور عملی جدو جہد کی اور اسے عوامی تحریک میں بدل دیا۔یہ وہ دور تھا جب اکثر ادیب اور شاعر اردو زبان کے مستقبل سے مایوس ہو چکے تھے،ایسے نازک دور میں حیات اللہ انصاری نے ہمت نہیں ہاری اور ثابت قدم رہے۔حالانکہ اردو کی حمایت نے ان کی سیاسی حیثیت پر منفی اثرات مرتب کئے اور فرقہ پرستوں نے ان پر قاتلا نہ حملے بھی کئے مگر انھوں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

حیات اللہ انصاری نے اس بات کی پر زور وکالت کی کہ اردو زبان جسے آزادی سے قبل سرکاری حیثیت حاصل تھی اسے بر قرار رکھا جائے لیکن ڈاکڑ سمپورنا نند جو اس وقت اتر پردیش کے وزیر تعلیم تھے اور پھربعد میں وزیر اعلا بھی بنے۔ انھوں نے لکھنا شروع کر دیا کہ اردو کوئی زبان ہی نہیں ہے۔وہ تو ہندی کی شیلی ہے حیات اللہ انصاری نے قومی آواز کے ذریعے اردو کی حمایت میں متعدد مضامین لکھے۔

۱۹۵۰ میں جب ڈاکڑ راجندر پرشاد صدر جمہو ریہ ہند بنائے گئے اور اردو کو سہ لسانی فارمولے میں شمو لیت کے لئے انجمن ترقی اردو والوں سے کہا گیا کہ اگر اتر پر دیش کے بیس لاکھ اردو والے اپنی دستخطوں سے مرکزی حکو مت کو درخواست دیں تو اردو کو علاقائی زبان کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔جن لو گوں نے یہ تجویز رکھی تھی۔انھیں شاید یہ گمان نہ تھا کہ یہ شکستہ لوگ ۲۰ لاکھ دستخطوں کے ساتھ محضـر نامہ دے سکیں گے۔لیکن حیات اللہ انصاری اور ان کی اہلیہ نے اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لئے ڈاکڑ ذاکر حسین کے ساتھ دستخطی مہم چلائی۔اور قومی آواز کے ذریعے اسے عوامی تحریک کی شکل دی اور عوام نے جوش وخروش کے ساتھ اس میں حصہ لیا۔حیات ا للہ انصاری بلا شبہ اس تحریک کے میر کارواں بن کر ابھرے اور تمام مجاہدین اردو میں نمایا ں نظر آئے۔اس محضر نامہ کو صدر جمہو ریہ کے سامنے پیش کیا گیا۔لیکن حیف کہ راشٹر پتی بھون میں اس دستا ویز کو دیمک چاٹ گئی ہو یا ردی میں بک گیا ہو۔اس کے آئینی حق سے اردو داں اب بھی محروم ہیں ۔محروم اس لئے کہ اب اردو کے سوداگر تو ہیں لیکن مخلص اور بے لوث خدمت کرنے والے نہیں ۔

حیات اللہ انصاری نے قومی آواز کے ذریعے اردو کے حق میں عام رائے پیدا کرنے کے لئے سر حد پار سے آنے والے پناہ گزینوں اور مقامی لو گوں میں ہم آہنگی اور بھائی چارگی پیدا کی کہ لکھنؤ میں کو ئی بھی ہندو مسلم تصادم نہیں ہوا۔اپنے اخبار کے کالم ’اندھیر نگریوں ‘انہیں پناہ گزینوں کے لئے شروع کیا تھا۔جو بہت مقبول ہوا۔اس کالم نے عوام کویہ پیغام دیا کہ یہ مہاجرین ہمارے بھا ئی ہیں ۔ان سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ ان کی مدد کی ضرورت ہے۔چونکہ ان لو گوں کی زبان بھی اردو تھی اور وہ اس کی اہمیت سے واقف تھے اس لئے انھو ں نے ہندوستان میں اس کے جا ئز حقوق کے لئے حیات اللہ انصاری کی اردو تحریک سے جڑکر اس کی بازیابی کے لئے سر گرمی کے ساتھ حصہ لیا۔

اردو کے ساتھ سوتیلا بر تاو ٔاور حکومت کے مایوس کن رویہ کے خلاف حیات اللہ انصاری نے عوام سے جدو جہد کرنے کی تلقین کی قومی آواز کے ۸ستمبر ۱۹۶۳ء کے شمارے میں لکھتے ہیں :

’’ہم کو جدو جہد کرنا ہے تین رخوں سے ایک طرف مسلسل حکو مت سے تقا ضے کرنا ہے کہ وہ اپنی مبہم گشتیوں کو واضع کرے اردو کو سہ لسانی فارمولے میں مناسب جگہ دلائے،دوسری عوام کو قائل کرنا ہے کہ ہمارا مطالبہ حق پر ہے اور حکو مت نے واقعی ہمارے ساتھ نا انصافی کی ہے،اور تیسری طرف جہاں اور جس اسکول میں ممکن ہو اردو کو رائج کرنا ہے۔یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں جو بغیر طاقت اور عوامی جدو جہد کے ممکن نہیں ہیں ۔ہم کو سہ لسانی فارمولے میں بھی اسی طرح کی لڑائی لڑ نا ہو گی یعنی استقلال سے انتھک جدو جہد کرنا ہو گا۔‘‘    (قومی آواز،مورخہ ۸ ستمبر ۱۹۶۳)

 حیا ت اللہ انصاری اردو کی باز یابی کے لئے صرف عوامی سطح پر ہی سر گرداں نہیں رہے بلکہ لجسلیٹوکو نسل ایوان بالا(راجیہ سبھا )میں بھی اردو کی باز یابی اور فرقہ وارانہ فسادات کے تدارک کے لئے مسلسل آواز اٹھا تے رہے۔اس سلسلے میں حسن عباس فطرت لکھتے ہیں :

’’۵۵۔۱۹۵۴ء میں انفلو ئنزا پھیلا ہوا تھا اور حکو مت اس کے تدارک اور احتیاط کے لئے ہر طرح کے طریقے استعمال کر رہی تھی۔حکو مت نے اشتہار کے ذریعے بھی عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا مگر ہندی ز بان میں ۔اس وقت اسمبلی میں حیات اللہ انصاری نے آواز اٹھائی اور کہا کہ کیا اردو و الو ں کو انفلو ائنزا نہیں ہو تا ہے ؟جب مرکز میں اندرا گاندھی وزیر اطلاعات و نشریات ہو ئیں تو انصاری صاحب نے اردو کا مسئلہ نئے سرے سے پیش کیا اور کامیاب رہے۔اسی وقت سے اردو کو اخباروں میں جگہ ملی اسے ایک موضوع و ایشو بنا یاگیااور سنجیدگی سے اس پر غور و فکر ہو نے لگا۔ارد وکی حمایت و وکالت نے ان کی سیا سی پو زیشن پر منفی اثرات مرتب کئے مگر انھو ں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔وہ اپنی روش پر ثابت و قائم رہے،ایک بار اردو کی حمایت کا انعام مخالفوں نے ا نھیں زخمی کر کے دیا مگر اس کا اثر ان کی مخا لفت پر با لکل نہیں پڑا۔یہ وا قعہ میری آنکھو ں کے سامنے ہوا تھا۔‘‘

   (حسن عباس فطرت:یادگاری مجلہ،حیات اللہ انصاری،مسرور ایجو کیشنل سو سائٹی،لکھنؤ،۲۰۱۴ئ،ص:۲۵)

چنانچہ کو ئی معمو لی سے معمولی مو قع ہی کیوں نہ ہو اردو کی وکالت کرنے سے نہیں چو کتے تھے۔انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس،انجمن ترقی اردو کا کو ئی اجلاس یا ۱۹۷۲ء میں لکھنؤ میں اردو ایڈیڑس کا نفرنس جس کی صدارت حیا ت اللہ انصاری نے کی تھی اور مہمان خصوصی اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی شریک تھیں ۔اس مو قع کا انھوں نے بھر پور فا ئدہ اٹھا یا اور اردو کے مسئلے کو شدت کے ساتھ اٹھا یا۔۱۹۷۵میں کلکتہ میں اردو ایڈیڑس کے دو سرے اجلاس کا انعقاد کیا گیا اس میں انصاری صاحب نے جو صدارتی تقریر کی وہ بھی ملک میں اردو کی صورت حال اور اس کی ترقی پرمبنی تھی۔

حکو مت ہند کی وزارت تعلیم کے سہ لسانی فارمولے میں اردو کی شمو لیت کا حیا ت االلہ انصاری کا خواب آج بھی ادھورا ہے۔۱۵ فرری ۱۹۵۴کو محبان اردو کے بائیس لاکھ دستخطو ں پرمشتمل عرض داشت صدر ہند کو سونپے جانے کے بعد بھی حیا ت اللہ انصاری نا خواندگی کوملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ مانتے تھے۔اس کو دور کرنے کے لئے انھوں نے ’دس دن میں اردو ‘ قاعدہ تر تیب دیا بلکہ پسماندہ بستیوں میں تعلیم بالغا ں کے لئے لکھنؤ (۱۹۳۴)میں اردو تعلیم گھر قائم کیا۔ان کی اس مہم پر رو شنی ڈالتے ہو ئے حسن عباس فطرت لکھتے ہیں :

’’دس دن میں اردو لکھنے کے بعد وہ عام مصنفین کی طرح خا موش نہیں بیٹھے بلکہ محلے محلے،گلیوں گلیوں کا دورہ کر کے ان پڑھ با لغوں کو ڈھونڈھ نکا لتے۔اپنی لالٹین ان کے ساتھ ہو تی۔لکھنؤکے مشہور ماڈل جیل میں بھی مدت تک کلاس چلاتے رہے۔اکثر راقم الحروف بھی ان کے ہمراہ ہو تا اور ان کا ہاتھ بٹا تا۔مجھ کو لینے کے لئے وہ میرے ٹھکانے پر پہنچ جا یا کر تے تھے۔‘‘

  (حسن عباس فطرت:یادگاری مجلہ،حیات اللہ انصاری،مسرور ایجو کیشنل سو سائٹی،لکھنؤ،۲۰۱۴ئ،ص:۲۶)

اس سلسلے میں حیات اللہ انصاری ’قومی آواز ‘ کے ۲۷ نومبر ۱۹۶۳ کے اداریے میں طلبا کو اس کا ر خیر میں تعاون کی تلقین کرتے ہو ئے لکھتے ہیں :

’’شہروں اور دیہاتوں میں ان پڑھ لوگ نظر آتے ہیں نو جوان طا لب علم کو شش کریں تو ۶۔۵سال میں نا خواندگی کو ملک سے دور کر سکتے ہیں ۔کتنی بڑی چیز ہو گی نا خواندگی کا دور ہو جانا اس ملک کے لئے ذرا سو چئے تو!۔‘‘

          (قومی آواز ۲۷نومبر ۱۹۶۳)

حیات اللہ انصاری نے اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لئے عملی کو شش کے ساتھ ساتھ قلم کے ذریعے بھی اس تحریک کو تقویت پہنچا ئی۔ناول ’مدار‘(۱۹۸۱)اردو فکشن میں مو ضو عاتی اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے۔یہ انفرادیت ناول نگار کے مادری زبان کے متعلق نفسیاتی اور جذباتی کرب کا مظہر ہے۔جس میں مصنف نے دو کر داروں فو جی افسر اور روزؔ کی داستان محبت کے آئینے میں ما دری زبان کی اہمیت کو پر اثر انداز میں پیش کیا ہے۔

یہ مو ضو ع حیات اللہ انصاری کے کردار،فکر اور مادری زبان کے متعلق خلوص کاامین ہے۔اپنی عملی زندگی میں بھی انہوں نے اردو زبان کی ترویج واشاعت اور اس کی تہذیب وثقافت کے تحفظ، خصوصاًآزادی کے بعدہندوستان میں اس مشترکہ زبان کی مٹتی ہوئی شناخت کو سیاسی اور سماجی سطح پر باز یابی کے لئے ایک ان تھک سپاہی کی طرح سرگرداں رہے۔جس کا اعتراف پروفیسر محمد حسن نے اس طرح کیا ہے:

’’اردو والوں کو بھی ہندوستان میں یہی صورت حال در پیش ہے۔ان کی مادری زبان چھین لی گئی۔روزؔکو بالآخراس کا ہم وطن اور ہم زبان مل گیا،اردووالے ابھی اس کی تلاش میں باتیں کرتے کرتے کسی ایسے لفظ کی تلاش میں کھو جاتے ہیں جوان کی اپنی زبان میں مو جود ہے،جسے ان کے ہم کلام ہم وطنوں نے سمجھنے سے انکار کردیا‘‘۔

      (ڈاکڑ محمد حسن :معلم اردو،حیات اللہ انصاری نمبر۲،۱۹۸۶)

ناول’مدار‘ مو جودہ ہندوستان میں مادری زبان کے وسیلے سے عموماََ اور اردو تحریک کے تعلق سے خصوصاً ایک متحرک فن پارہ ہے۔ہماری مادری زبان کے حوالے سے مصنف کے دلی جذبات کو ناول کے انتساب ’پہلی بات ‘کے عنوان سے ان کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے:

’’میں سوچنے لگا کہ اتنا سب کچھ بھرا ہوا تھا میرے اندر مادری زبان کے بارے میں ۔ ہاں !تھا بھرا ہوا۔اور کیوں نہ ہوتا؟کیاکیا نہیں بھگتا اردو نے اس زمانے میں ۔یہاں تک کہ لوگوں نے مشورہ دے ڈالاکہ آئو اس جیتی جاگتی قومی دولت کو چِتا میں پھونک دیں اورہاں آگ وہی لگائیں جو اس کی محبت میں دیوانے ہو رہے ہیں ۔غیروں کی بات چھوڑیے خود اپنوں نے کسر اٹھا رکھی ہے۔جب دل میں ایسے گھائو لگتے ہیں تو دوسروں کا درد بھی اپنا درد معلوم ہو نے لگتاہے۔۔۔۔۔۔‘‘

      (حیات اللہ انصاری :مدار،کتاب داں ،لکھنؤ،۱۹۸۱ئ،ص:۹)

نو جوانی میں اردو کے ایک ادیب نے مجھ سے کہا تھا:

’’یار! اردوچلنے والی چیز نہیں ہے،اس لئے اب اپنی زبان بدلو۔۔۔۔۔۔۔۔تب سے لے کر جب تک میرے بچے تعلیم کے قابل نہیں ہوئے۔یعنی پندرہ سال تک میں اس سوال پر بہت سنجیدگی سے غور کرتارہاکہ کیا کوئی شخص اپنی زبان بھی بدل سکتا ہے ؟اس سوا ل نے اپنے اندر ان سوتوں کو تلاش کرنے پر مجبور کر دیا جہاں سے الفاظ اُبل اُبل کر میرے لب اور قلم پر آتے تھے۔جوں جوں غور کرتا گیا یقین ہوتا گیا کہ ان سوتوں پر اپنا کوئی قابو نہیں ہے۔ان کا تعلق لا شعور سے ہے۔جو بچپن میں تکمیل تک پہنچ جاتا ہے اور پھر اس پر شعور کا قابو بہت کم رہتا ہے۔یوں

دیکھو کہ نہ جاگتے کے خوابوں کی زبان پر اپنا بس ہے اور نہ سوتے کے خوابوں کی زبان پر‘‘۔ (حیات ا للہ انصاری :مدار،کتاب داں ،لکھنؤ،۱۹۸۱،ص:۱۰)

  ناول’مدار‘ کا اگر ہم باریک بینی سے مطالعہ کریں تو زبان کے تعلق سے حیات اللہ انصاری کے نظریۂ تعلیم کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ۔وہ یہ ہے کہ نہ صرف اردو بلکہ ہر زبان کے بولنے والے افراد کوان کی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہی دی جانی چاہئے۔اس سلسلے میں ماہرین تعلیم اور متعدد تعلیمی کمیشنوں نے اپنی تجا ویزات حکومت ِہندکو پیش کی ہیں ۔

حیات اللہ انصاری محب وطن اور قوم پرست رہنما تھے۔اردو سے انھیں سچی محبت تھی،یہی وجہ ہے اس کا جائز مقام دلانے کے لئے زندگی بھر کو شاں رہے اور اس کی تا ریخی،تہذیبی اور سماجی اہمیت سے عوام کو با خبر کرتے رہے۔مگر افسوس کے خود ان کی پارٹی کانگریس نے اس کی باز یابی کے لئے ایمانداری کے ساتھ کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ہاں کبھی کبھی اردو کے حق میں کچھ نہ کچھ کرنے کا یقین ضرور دلاتے رہے۔لیکن انھوں نے عملی یا قانونی طور پر کو ئی اقدام نہیں کیے۔۔حیات اللہ انصاری کی کو شش جزوی طور پر اس وقت بار آور ہوتی ہوئی نظر آئی،جب ۱۹۸۴میں اتر پردیش کے وزیر اعلا نارائن دت تیواری نے ریاستی اسمبلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے لئے بل پاس کروایا۔ حیات اللہ انصاری نے اس بل کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے اردو کو جلا ملے گی اور اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو جائے گی۔اتر پر دیش میں اردو کو قانونی حیثیت ملنے کے ۳۳سال گزر جانے کے بعد ہم اس پر عمل در آمد نہیں کرا سکے یہ ہمارے لئے انتہائی غیرت اور افسوس کا مقام ہے۔

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.