دیباچے سے فلیپ تک : تحقیقی  و تنقیدی مطالعہ

(From preface to flap) Prof.saifullah Khalid’s book;From preface to flap, is in a way startling writing to the literary circles.this book is a whip for those poets and writers who literarily dishonest, and it is performing the duty of a compass.some poets and writers of low stature become the cause of a badmane, just for thesake of rising their literary stature.Prof.saifullah Khalid is the creater of poetic collections like; Rasham jaise khawab, Kabhi to chaand niklay ga,and important prose like; Pakistan main urdu adab ke pachass saal.Mehrab and Shahab be naqab. where in, from preface to flap, negative trends have been pointed out, positive trends have also been eulogized.

سیف اللہ خا لد فو ر ٹ عبا س،ضلع بہاول نگرکی پہچا ن ہے۔ جہا ں روہی ، جھلسا دینے والی گر می، گرم و خشک ہو ا ، ریت ، پیاس ، خو درو جھا ڑیا ں ، چر وا ہے اور با ر ش کے انتظار میں سال ہا سال تک خشک سا لی کا سا منا کر نے والے پر عز م لو گ اپنی مثال آپ ہیں ۔ بحیثیت شا عر سیف اللہ خا لد کے دو مجمو عے ’’ریشم جیسے خواب ‘‘ اور ’’کبھی توچا ند نکلے گا ‘‘ منظر عا م پر آئے ۔ اُن کی نثری کاوشوں میں’’پاکستان میں اُردو ادب کے پچاس سال‘‘،’’مہراب(ریڈیو پاکستان پر نشر ی تقاریر کا مجموعہ)اور ’’شہاب بے نقاب! شامل ہیں۔ ’’دیپا چے سے فلیپ تک ‘‘ سیف اللہ خا لد کی ایسی روا یت شکن کا وش ہے جس نے آ نکھیں بند کر کے دیپا چے اور فلیپ لکھنے والو ں اور درو غ گو ئی سے لکھوانے والو ں کو نہ صر ف جھنجھو ڑا ہے بلکہ آ ئند ہ کے لئے اس ادبی ناانصا فی کا را ستہ بھی روکا ہے ۔ اُن کو یہ بڑی خو بی سے با ور کرا یا گیا ہے کہ ابھی اہل نظر زندہ ہیں ۔ ادب تو سچی روا یا ت کا امین ہو تا ہے ۔ یو ںچو ر دروازے سے مقبو لیت کا تا ج چُرا نا کہا ں کی ادبیت ہے۔ ’’دیبا چے سے فلیپ تک ‘‘ اپنی نو عیت کی انو کھی تالیف ہے جس نے جہا ں بڑ ے بڑ ے ادیبوں کی مجر ما نہ غفلت کا پر دہ چا ک کیا ہے وہاں نئے لکھا ریو ں کو بھی سو چ سمجھ کر قد م اٹھا نے کی طرف تو جہ دلا ئی گئی ہے۔کتاب کا آغاز بھی موضوع کی طرح دلچسپ ہے اور ’’آوازہ ‘‘ کے عنوان سے صدائے احتجاج بلند کرتا ہے۔

نسخۂ کو نین را ، دیباجہ اوست

جملہ عالم بندگان و خواجہ اوست

علامہ اقبال نے اپنی تصنیف ، اسرار خو دی (1915)کے نعتیہ اشعار میں درجِ بالا شعر لکھا ہے ۔اسی طرح دیباچہ کی وضاحت کر تے ہوئے عہد تیموری کے عظیم شاعر مولانا عبد الر حمن جامی (1414۔1492) نے پیغمبر آخر الزمان حضر ت محمد ﷺ کو دو عالم کی کتا ب کا دیباچہ قرار دیا ہے ۔

سیف اللہ خالد کی تالیف ’’دیباچے سے فلیپ تک ‘‘ 1998ء میں شائع ہو ئی ۔ اشاعتِ دوم 1999ء میں ہوئی ۔ اس کتاب کا مقدمہ بھی خو د سیف اللہ خالد نے لکھا ہے اور فلیپ بھی ۔ ۔ یہ تحقیقی مضمون دو حصوں میں منقسم ہے ۔پہلے حصے میں کتاب کا تعارف اور دوسرے حصے میں ماہرینِ نقد و فن کی آراء اور گرفت سے متعلق گفتگوشامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ سیف اللہ خالد کی ادبی کاوش کی اہمیت بھی زیرِ بحث ہے۔

مقدمہ ’’آوازہ ‘‘ میں سیف اللہ خالد کتا ب کے جوازِ تخلیق پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں: ۔

’’ اگست 1998ء ۔۔۔۔عمران نقوی نے ایک انوکھی قرار داد پیش کی ۔۔’’دیباچے اور فلیپ ۔۔ تاریخ میں شاید پہلی بار ، ادیب ایک غیر معمولی ادبی صنف پر مکا لمہ آرا ہوئے ۔ یہ مذاکرہ اپنے لیے تو مہمیز ٹھہرا ، دِل و دما غ کے روزن منور ہونے لگے ۔ اور ایک نشاط بخش اضطراب نے حصار باندھ دیا ۔ بے کلی ایک دِن کشاں کشاں پنجاب یو نی ورسٹی اور یئنٹل کالج  لائبر یر ی لے گئی ۔ جہا ں محترمہ اِرم سلیم کا مقالہ ’’اُردو میں مقدمہ نگاری کی روایت‘‘ نظر نواز ہوا ۔ ڈاکٹر سلیم اختر جیسے بصیر ت مند کی دختر خو ش اختر کی یہ کاوش ایسی وجد ان کشا ثابت ہوئی کہ کا غذ قلم کی رفاقت نے طلسم باند ھ دیا اور دیباچے سے فلیپ تک ، کے سفر کا آغا ز ہو گیا ‘‘۔ (1)

سیف اللہ خالد نے اس ٓئینہ نما تالیف کو چار موضوعات (ابواب ) میں تقسیم کیا ہے اور ایک ضمیمہ بھی شامل ہے جو روز نامہ نوائے وقت لاہور میں شائع ہو نے والے تاثرات ہیں اور جو ’’دیباچے اور فلیپ ‘‘ سے متعلق آراء پر مبنی ہے ۔ کتا ب میں شامل ابواب کے نا م ہی چونکا دینے والے ہیں ۔ ملاحظہ ہو ں ۔

   من چہ سرایم و طبنو رہ ٔ من چہ می سراید ،ادبی کمر شلزم ، اپنا دوش اور اپنی صلیب اور مر ی تعمیر میں مضمر ہے اِک صورت خرابی کی

ضمیمہ فلیپ اور دیبا چے ۔۔قاری کے نا م سفارشی رقعے کے نام سے شاملِ کتاب ہیں۔

سیف اللہ خالد نے کتا ب کے عنوان کے مطابق دیباچہ ، تقریظ ، پیش لفظ ، مقدمہ اور فلیپ کی تعریف بھی مختصراً شامل کتاب کی ہے اور چند نقادان ادب کی رائے سے وضاحت بھی فرمائی ہے ۔ ’’

دیباچہ ، فارسی زبان میں ، دیبا ، کا اسم تصغیر ہے جو عر بی زبان میں ’’دیباج ‘‘ کا ہم معنی ہے یہ ایساریشمی کپڑا ہے جو بیرونی دروازے پر لٹکا یا جا تاہے ۔ ایک قیمتی کپڑ ے ، کم خواب کو بھی دیباج کہتے ہیں جو شاہی لبا س میں استعمال ہو تا ہے ۔ اس پر مو تی ٹنکے ہو تے ہیں ۔ عر بی ادب کی ایک مشہور کتا ب کا نا م ’’الد یبا ج المذہب یعنی طلا کار سنہر ی پر د ہ ہے ۔ شاید اسی لیے انگریز ی میں اسے Prefaceکہا جاتا ہے ۔ اس کے لیے Preludeاور Introductionکے الفاظ بھی استعمال کیے جا تے ہیں ۔

سید قدرت نقوی اپنے مقالے ’’دیباچہ ۔ ایک صنف سخن ‘‘ میں لکھتے ہیں ۔

’’ کسی کتا ب کا ابتدائیہ ، عر ف عام میں ’’دیباچہ ‘‘ کہلا تا ہے جس میں کتاب سے متعلق کچھ امور بطورتعارف لکھے جا تے ہیں ۔ کتب کے علاوہ رسائل یا کتا بچو ں کے شروع میں بھی اسی قسم کی عبارت ہو تی ہے دیباچے کا مقصد تصنیف کے مراحل ، مقاصد اور مشکلات وغیر ہ کو ظاہر کرناہوتا ہے ‘‘۔ (2)

   دیباچہ کتاب کا وہ ابتدائی حصہ جس میں کتاب کے مندرجات اور مصنف کی شخصیت کے خط و خال نِکھر کر سامنے آئیں ۔ دیبا چے کے لغوی اور اصطلا حی معنوں کے امتزاج سے کھلتا ہے کہ جب ہم دیباچہ لکھنے کے لیے کسی لکھاری کو دعوت دیتے ہیں تو در اصل اپنی کتاب کا چہر ہ یا رخسار اسے سونپ دیتے ہیں کہ وہ اس پر خو ب میک اپ کر دے اور ہماری تخلیقات کو اس درجہ بڑ ھا چڑھا کر بیا ن کرے کہ کتاب کے دید ہ دنا دیدہ اوصاف نِکھر کر سامنے آجائیں اور اس کا حُسن دوبالا ہو جائے ۔ تنقیدی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ پیو ند کاری کا ایسا عمل ہے جس میں چہرہ کسی کا ہو تا ہے اور وجو د کسی کا ۔

فارسی ۔ انگلش ڈکشنری میں دیباچہ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے ۔

“Dibaja dibacha, The prepace, exordium or preamble to a book as being generally written in an ornamental style, and andorned with gilding and other decorations_ A face. (3)

    عصرِ حاضر کے معروف محقق مشفق خواجہ مرحوم اپنے خاص انداز میں دیباچے لکھنے کی مشکلات کے حوالے سے فرماتے ہیں۔

       ’’دیباچہ لکھنا ، کتاب کے لکھنے سے زیادہ مشکل کام ہے ۔ دیباچہ نگار کو بڑی محنت سے کتاب کی خو بیا ں تلاش کر نی پڑتی ہیں اور بعض اوقات موجو د نہ ہو نے کے باوجو د تلاش کر لی جا تی ہیں۔ لیکن خو د مصنف کو اپنی تصنیف میں خوبیاں پیدا کر نے کے لئے کسی قسم کی محنت نہیں کرنی پڑ تی ۔ اس لئے کہ اتفاقی حادثات میں نیت یا ارادہ کو دخل نہیں ہوتا‘‘۔(4)

تقریظ کیاہے ؟ تقریظ ، عر بی زبان کا لفظ ہے جو تعریف و توصیف کے معنی میں آتا ہے اور اس کے ڈانڈے عر بی ادبیات کے کلاسیکی دور سے جامِلتے ہیں ۔ اہل عر ب عکاظ ، محبنہ اور ذوالمجاز کے میلو ں میں اطراف و جوانب سے آآکر جمع ہو تے ۔جہاں معاشی کاروبار کے پہلو بہ پہلو ادبی محفلیں بھی گرم ہو تیں ۔ شعراء اپنا کلام   سنا تے ۔ صدرِ مجلس کو ئی منجھا ہوا بزرگ شاعر ہو تا جو شعرا کے کلام کو فِکر و خیا ل اور اسلوب کی میزان پر جانچتا ۔ اس مواز نے کے دوران میں وہ جس شاعر کو دوسروں پر ترجیح دیتا اس کے حق میں دلا ئل دیتا ، یہ تحسینی انتقاد اور تو صیفی تقریر تقریظ کہلاتی ۔یو ں کسی ادب پارے کے محاسن کا فنی تجزیہ تقریظ کہلاتا ہے ۔ تقریظ کسی ادب پارے کی تعریف و تحسین ہے ۔ سیف اللہ خالد نے لفظ مقدمہ کی وضاحت کر تے ہوئے لکھا ہے: ۔

’’مقدمہ ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کامفہوم ہے کسی چیز کا اوّل شروع کا حصہ ، اس حوالے سے ایک عسکر ی اصطلاح ’’مقدمتہ الجیش ‘‘ (vanguard)ہے ۔ یہ فوج کے آگے آگے چلنے والا حفاظتی دستہ ہوتا ہے جو راستے کی دشواریو ں ، کوائف سفر اور دشمن کے محاذ وغیر ہ کے بارے میں اپنی فوج کی رہنمائی کر تا ہے ۔ اسی سے ’’ مقدمتہ الکتاب‘‘استعارہ کیا گیا ہے ۔ اصطلا حی طور پر ’’مقدمہ ‘‘ کتاب کا وہ ابتدائی حصہ ہے جس میں متن کے موضو عا ت کا تعار ف کرایا جائے ۔ اس کو پیش لفظ Foreword)یا Prolegomenonبھی کہا جا تا ہے۔ چونکہ مقدمے میں تقدیم اور تقدم (Development)کا عنصر بھی شامل ہے ۔اس لئے اس تحریر میں متن کے تعارف کے علاوہ یہ بھی تبایا جا سکتا ہے کہ پیش نظر کاوش سے آگے کیا ہونا چاہیے ۔‘‘ (5)

اسی طرح سیف اللہ خالد نے فلیپ کی وضاحت یوںکی ہے ۔

’’فلیپ ‘‘ لغوی طور پر ’’ دامن ‘‘ کا معنی دیتا ہے جس میں کنارے آنچل یا پلو کا مفہوم پو شید ہ ہے ۔ دامن کوہ ، دامنِ دِل ، پاک دامن اور تر دامن سے یہ سارے مطالب نکلتے ہیں ۔ اصطلا ح میں یہ ایسی انتقادی تحر یر ہے جو تخلیق کار اور تخلیق سے متعلق اجمالی تاثر پر مبنی ہو تی ہے ۔ چنا نچہ فلیپ نگار سمندر کو کو زے میں بند کر نے کا ہنر آزماتا ہے ۔ یہ دورِ جدید کی عطا خاص ہے ۔ ایک اعلیٰ فلیپ چہرہ نما ہو کر ، ادنیٰ لکھاری کی ساری لغز شیں اپنے دامن میں چھپانے کا کر شمہ دکھاتا ہے‘‘ ۔ (6)

 ڈاکٹر گیان چند جین فلیپ لکھنے سے متعلق رجحان پر تبصرہ کرتے ہوے ماہنامہ ،،شب خون ،، میں یوں رقم طراز ہیں:

’’اگر کسی اہل الرائے کو مقدمہ لکھنے کی فرصت یا رجحان نہیں ہوتا تو وہ اپنی مختصر رائے دے دیتا ہے جو کتاب کے فلیپ یعنی گرد وپیش کے اندرونی حصے پر درج کر دی جا تی ہے ‘‘۔ (7)

اور اسی طرح ڈاکٹر عبادت بریلوی مقدمہ نگاری کے فن اور حیثیت سے متعلق یوں گویا ہوتے ہیں:

’’ مقدمہ نگاری ایک فن ضرورہے ۔ اس کے کچھ بنیادی اُصول بھی ہیں۔ اس کے باوجو د مقدمہ نگاری کی حیثیت کسی مستقل تصنیف کی نہیں ہے ۔ کسی زبان کے ادب میں بھی اس کو ادب کی ایک باقاعد ہ شاخ نہیں سمجھا گیا ہے ۔ کیو نکہ مقدمے تو کسی مصنف یا کتا ب کے بارے میں مصنف کی طرف سے پیش کردہ کچھ محض تعارف کے طور پر لکھے جا تے ہیں اور عام طور پر ان کا انداز کچھ رسمی سا ہو تا ہے ، اکثر تو وہ کسی کے کہنے سے یا کسی کی فرمائش پر لکھے جاتے ہیں ‘‘۔ (8)

 قدیم و جدید دور میں سے کچھ اہم مقدمات اور مقدمہ نگار درجِ ذیل ہیں۔ اولین دیباچہ و مقدمہ ساز ۔۔۔فضل علی فضلی فضل علی فضلی کی ، کر بل کتھا ، عہد محمد شاہ (1719ء ۔ 1748ء) میں لکھی گئی۔ اس کتاب کے ابتدائی دو اشعار سے دیباچے اورمقد مے کا سراغ ملتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں جیسا کہ متن (دیباچے سے فلیپ تک) میں لکھا ہے۔

اللہ کی اگر جو مدد شامل حال ہے

 دیباچۂ کتاب کا دِل نوں خیال ہے

 ہیں اس مقدمے میں احادیث رونے کی

 ان پرعمل کرے جو وہ بے شک نہال ہے  ) 9 (

’’اولین باقاعدہ دیباچہ نویس ۔ عبدالولی عزلت ‘‘اُردو شاعری کے دیوان کا دیباچہ سب سے پہلے سید عبدالولی (1104ھ ، 1697ھ ، 14 اگست 1775ء ) نے لکھا ، دیوان عزلت کا صر ف ایک نسخہ انڈیا آفس لائبریر ی لند ن میں محفوظ ہے ۔

اولین انتقادی دیباچہ نگار۔ؔ مرزا محمد رفیع سودا کے ’’ دیوان مر ثیہ ‘‘ کا دیباچہ (1766ء) اگر چہ مسجع و مقفیٰ عبارت آرائی کا نمونہ ہے لیکن اپنی اہمیت کے لحاظ سے قابل قدر ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس میںپہلی مر تبہ چند تنقید ی نکا ت کا سراغ ملتا ہے ۔ اس دیبا چے میں وہی کلاسیکی شان نظر آتی ہے جو اس دور کی معرب ومفرس تحریر و ں کی ہوتی تھی ۔ اولین تذ کرے کا دیبا چہ نگار ۔ میر تقی میر نکا ت الشعرأ کا پہلا تذکرہ ہے جسے امام الشعراء میر تقی میر نے لکھاتاہم انہوں نے اس کا دیباچہ فارسی میں تحریر کیا ۔

اولین منضبط دیباچہ و تقریظ نگار۔ غالب ‘‘ غالب ایک منضبط دیباچہ نو یس کی حیثیت سے اہم ہیں ۔ انہو ں نے اپنے اور اپنے متعلقین کی فارسی ، اُردو تصانیف پر دیباچے رقم کیے ان میں سے اٹھارہ اُن کی اپنی تصانیف پر اور گیارہ دوسروں کی تصانیف پر ہیں ۔ جن کی تفصیل کتاب میں درج ہے ) اور ’’آئین اکبر ی‘‘ کی تقریظ (غالب ) کو انتقادی ادب کی اساس قرار دیا ہے ۔ سیف اللہ خالد نے اسلو ب کے عنوان سے تنقید کی شستہ روایت پر مختصر ا ً تفصیلا ت فراہم کر تے ہوئے مقدمہ ،، کشف کا در،، کے تحت اہم مقدمات کا ذکر کیا ہے لکھتے ہیں ۔

’’ ادب میں مقدمہ نگاری کی روایت ، صدیوں سے آن بان کے ساتھ (کم کم ہی سہی ) ہمیشہ موجو د رہی ہے تاہم عصری شکست و ریخت نے دانشوروں کو رفتہ رفتہ وہ راستہ ترک کر نے پر مجبور کر دیا جہا ں مقدمہ کھڑا تھا ۔ یہ ادبی ، تنقید ی اور تحقیقی کم ہمتی کے شاخسانوں میں سے ایک شاخسانہ ہی توہے کہ آج مقدمہ نگاری تقریبا ناپید ہو چکی ہے ۔ کتنے  بڑ ے بڑ ے محقق ، نقاد اور مبصر اس سے آنکھیں بچاتے اور جی چراتے ہیں ‘‘۔(10)

   ’’من چہ سرایم و طنبو رہ ٔ من چہ می سراید‘‘ کے عنوان کے تحت سیف اللہ خالد نے دیباچے یا فلیپ لکھوانے والے فنکاروں کی چال باز ی کا پو ل کھو لا ہے کہ دیباچہ لکھواتے وقت تالیفی مواد اور ہو تا ہے اور دیباچہ لکھے جانے کے بعد اس میںسطحی مواد شامل کر کے خو د اپنی اور دیباچہ یا مقدمہ لکھنے والے کی رسوائی کا ساما ن فراہم کیا جا تا ہے ۔ اس باب میں سیف اللہ خالد نے بہت سی مثالیں پیش کی ہیں کہ اگر ان شعرا کے اشعار کو عر وض کی سان پر چڑ ھایا جائے تو ان کی کجیا ں واضح ہو  جا تی ہیں۔ مگر صاحب دیباچہ و مقدمہ اُن کو بڑ ی شان سے عروضی اغلاط سے مبّرا قراردے دیتے ہیں ۔

   ’’ ادبی کمر شلزم ‘‘ کے تحت سیف اللہ خالد نے ادیبو ں ، شاعروں اور پبلشروں کی مفا د اتی گروہ بند یو ں کا ذکر کیا ہے ۔ جس میں معاصرانہ چشمک کی وجہ سے کبھی ایک فنکار اعلیٰ پائے کا قرار دیاجاتا ہے اور کبھی وہی مردود ہو جا تاہے ۔ سیف اللہ خالد نے دیباچوں اور فلیپو ں کے سر قے کو بھی ثبوت کے ساتھ شاملِ کتاب کیا ہے ۔ جنہیں ادبی سرقے قلمی دھند ے اور دید ہ دلیر ی کی افسو س ناک صورت حا ل کہا گیا ہے ۔

’’اپنا دوش اور اپنی صلیب ‘‘ کے عنوان کے تحت سیف اللہ خالد نے ادباء و شعر ا ء کو تر غیب دی ہے کہ وہ اپنی تخلیقا ت کا دیباچہ یا فلیپ خو د لکھیں ،لکھتے ہیں :

’’ جس طر ح والد ین کو اپنی اولا د پر نا ز ہو تا ہے اور وہ ان گنت زاویو ں سے اس کی مدلل مداحی کر تے نہیں تھکتے اسی طر ح وہ ان کے نقائص کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ان کی اصلا ح پر بھی آما دہ رہتے ہیں ۔ دوسر وں کے کندھوں پر بند وق رکھ کر داغنے سے بہتر ہے کہ مصنف اپنی تخلیق کے محاسن و قبح کو نظر میں رکھتے ہوئے دیبا چہ یا فلیپ خو د سپر د قلم کرے ۔ یوں ایک تو اغیار کی ہمہ جہتی پیش دستی سے نجا ت مل جا تی ہے ۔ دوسرے ایسا کر نا لکھاری کااستحقاق بھی ہے کہ خالق سے بڑ ھ کر تخلیق کا نبض شناس اور کو ن ہو سکتا ہے ؟ ‘‘۔(11)

   اس باب میں مصنف نے بہت سے اہم اہل قلم کا ذکر کیا ہے ۔ جنہوں نے بقلم خو د دیباچے اور فلیپ لکھے ۔ ان میں علامہ اقبال ’’پیا م مشر ق ‘‘ ابو الکلام آزاد ،’’ غبار خاطر‘‘ فیض احمد فیض ’’میزان ‘‘ ڈاکٹر جمیل جالبی’’ ارسطو سے ایلیٹ تک ‘‘قدرت اللہ شہاب ’’شہاب نامہ ‘‘ ڈاکٹر عبدالسلا م ‘‘ ارما ن اور حقیقت ‘‘ممتا ز مفتی ، ’’اوکھے اولڑ ے‘‘ ، قتیل شفائی ’’ انتخاب ‘‘ حبیب جالب ’’ حرف سر دار ‘‘محسن نقوی ’’ردائے خواب ‘‘ ڈاکٹر طارق عزیز ’’ سکڑ تا ہوا آدمی ‘‘، ڈاکٹر محمد زکریا ’ؔ’آشوب‘‘ اور چنددیگر ادیب اور کتابیں شامل ہیں ۔

’’مر ی تعمیر میں مضمر ہے اِک صور ت خرابی کی ‘‘ اس عنوان کے تحت باب کا زیادہ حصہ غالب کے دیباچہ اور تقر یظ سے متعلق ہے ۔خو د نو شت دیباچے کی روایت کلا سیکی سرمائے میں بھی آب و تاب کے ساتھ موجو د ہے ۔اس کی ایک دستا ویز غالب نے فراہم کی ہے جو ان کے اُردو دیوان کی ابتداء میں شامل ہے۔ غالب کا یہ مختصر سادیباچہ کلاسیکی فارسی کا شاہکار ہے اور اس کی زبان انتہائی گنجلک ہے ۔ بہت سے الفاظ اپنی لغوی ہیئت میں ہی جد ید فارسی دانو ں کے لیے کھلا چیلنج ہیں جبکہ معانی کی ساحری قدیم فارسی کے شناوروں کو بھی چکرا کے رکھ دیتی ہے۔

سیف اللہ خالد نے دیباچے سے فلیپ تک ‘‘ کے جواز تخلیق پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے ۔

        ’’ زمانِ موجو د میں شہرادب کا منظر نامہ بھی نرالاہے ۔ یہا ں صغیر سر تاجدار ، چو بدار سپہ سالا ر خواجہ سر ا ذوی العد ل اور ابجد خواں مسند نشین ہیں ۔ ایسے میں بغاوت لا زم ہے ۔ ۔یہ کتاب ایک دید بان ہے جہا ں سے غنیم کی   خو ش فعلیا ں نگا ہ کا ہدف ہیں ۔ ۔۔۔آپ بھی اپنی زنبیل میں ہا تھ ڈالیے ! کوئی دستاویز نکا لیے تا کہ دنیا دیکھے! کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی ! ‘‘۔(12)

    یوں سیف اللہ خالد نے یہ کتاب کھلے چیلنج کے طور پر پیش کی ہے اور اس میں مقدور بھر حصہ ڈالنے کا اذنِ عام بھی دیا ہے ڈاکٹر عبدالخالق تنویر کا ایک تبصر ہ بعنوان    دیباچہ ، فلیپ اور تنقید ی معیارات’’ سہہ ماہی معاصر‘‘(2003)ء میں شائع ہو ا ۔ یہ تبصر ہ اس لحاظ سے بڑ ی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں دیباچے سے فلیپ تک ،کے علاوہ سیف اللہ خالد پر بھی بھر پور تنقید کی گئی ہے اور سیف کی خو بیو ں اور خامیو ں کو مد لل انداز میں اُجا گر کیا گیا ہے ۔ زیر بحث کتا ب میں ان کے اختصار اور طوالت پر بحث کر تے ہوئے ڈاکٹر عبدالخالق تنو یر رقم طر از ہیں ۔

’’سیف اللہ خالد کی نثر پر ان کی شاعری کے اثرات بڑ ے نما یا ں ہیں ۔ ایک واضح اثر یہ ہے کہ وہ اختصار سے کا م لیتے ہیں اور اکثر مقاما ت پر اشارہ کر کے آگے بڑ ھ جا تے ہیں۔ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انہیں اپنے قاری پر اعتما د ہے ۔ انہو ں نے اپنی پہلی نثری تصنیف ’’پاکستان میں اُردو اد ب کے پچا س سال‘‘ میں بھی یہی انداز اختیار کیا تھا۔ زیر بحث کتا ب میں انہو ں نے تفاصیل سے گریز کر تے ہوئے کم سے کم الفاظ میں اپنا مد عا بیا ن کیا ہے ۔ تاہم دو تین جگہو ں پر بے جا طوالت نے ان کے عمومی اسلو ب کو جہا ں متاثر کیا ہے وہا ں یہ غیر ضروری تفصیل قار ی کو بھی کھٹکنے لگتی ہے ۔ غیر ضروری حوالے کسی تحقیقی کتا ب کے حُسن کو متاثر کر نے کا باعت بھی بنتے ہیں ۔کسی علمی اور تحقیقی تصنیف کو غیر دلچسپ اور ناقابل مطالعہ بنانے کا آسان اور آزمودہ نسخہ یہی ہے کہ حوالو ں کی بھر ما ر کر دی جائے ‘‘۔ (13)

     اس طرح ڈاکٹر تنویر نے کتاب کی نوعیت کے مطابق مواد کی بے جا طوالت کو اہم خامی قرار دیا ہے۔ جب کہ دوسری جانب ڈاکٹر عبدالخالق تنویر نے   سیف اللہ خالد کی اس تصنیف کو اس لحاظ سے قابل تحسین کہا ہے کہ اس میں چند ادبی مغالطوںکی نشاندہی کی گئی ہے۔ڈاکٹر تنویر نے لکھا ہے ۔

’’ سیف اللہ خالد نے اپنی اس تحقیقی کا وش کے ذریعے ہمارے مروجہ تنقید ی رویو ں کا تجز یہ و احتساب کر نے کے ساتھ ساتھ بعض ادبی مغالطوں کی نشان دہی کر کے تاریخ ادب کا ریکارڈ درست کر نے کی عمدہ سعی کی ہے ۔ اُمید ہے کہ ایسی گرفت محققین کے لیے بہتر ی کا باعث ہو گی اور وہ آئند ہ تحقیقی کا م کر تے ہوئے ایسی غلطیو ں سے اجتناب بر تیں گے ‘‘۔ (14)

سیف اللہ خالد کا ایک انٹرویو ، ماہنامہ، روزن انٹر نیشنل ،جو ن، 2003ء میں شائع ہوا ۔ انٹر ویو کر نے والے عرفان احمد خان نے پو چھا کہ آپ کی تنقید کا انداز جارحانہ کیو ں ہے اس پر سیف اللہ خالد نے کہا: ۔

        ’’جارحانہ تنقید در اصل آتش بازی کا عمل ہے اور اس عمل کو سرانجا م دینے کے لیے آتش باز سے لے کر آتش بازی کا کھیل کھیلنے والے تک قدم قدم پر جرأ ت اوراندھیر وں میں چراغ جلا نے کی بصیر ت کا کا م کر تی ہے ۔یہ سلسلہ اندھیروں کا راستہ روکنے اور بے بصیر تی کے سنا ٹو ں کا جگر چاک کر نے کے لئے نہا یت ضروری ہے ۔(15)

    ایسی کھری تنقید کا رویہ پذیرائی کی منازل طے کر رہا ہے۔ گویا سیف اللہ خالد یہ سمجھتے ہیں کہ اب اُن کے اندازِ تنقید کے حامی اور ماہرین بھی ہیں اور  سیف کے نقطہ نظر کے مطابق  اس کے حامیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ ایک نہ ایک دن اپنی کوششوں میںضرور کامیاب ہوں گے ۔سیف اللہ خالد کا ایک انٹرویو ’’دیباچہ سے فلیپ تک ‘‘ کے حوالے سے ماہنامہ ’’ حرف ملاقا ت ‘‘ لاہور ،جولائی 2001ء میں شائع ہوا ۔ عمران نقوی نے سیف اللہ خالد سے دریا فت کیا کہ جار حانہ تنقید ی انداز کیو ں اختیار کیا گیا تو سیف اللہ خالد نے کہا :

’’ روشنی کو روشنی اور تاریکی کو تاریکی قرار دینا جارحانہ تنقید کا اساسی نقطہ ہے کیونکہ سماج میں روشنی کو تاریکی اور تاریکی کو روشنی سمجھنے اور کہنے کی روش عام ہو گئی ہے ‘‘۔ (16)

   ڈاکٹر عبدالخالق تنویر نے سیف اللہ خالد کے سخت اور کھرُ درے لہجے پر بحث کر تے ہوئے  سہہ ماہی ’’معاصر‘‘ میں لکھا ہے ۔

’’ سیف اللہ خالد نے بعض دیباچوں کا تذکر ہ کر تے ہوئے قدرے سخت زبان استعمال کی ہے ۔ یہ چیز ان کی داخلی کیفیا ت کی غماز ہے ۔ ان دیباچہ نگاروں سے وابستہ تو قعات کی شکست نے ان کے اندر اُبال کی جو کیفیت پیدا کی وہ سخت الفاظ کی شکل میں ظاہر ہوئی ۔ مثلا ً اس طبقے نے فی الواقع منافقت کا پر چار کیا اور ادب دشمنو ں کو کمک فراہم کی ۔ڈاکٹر تحسین فراقی نے ایسے ادبی بینو ں اور انتقادی رسہ گیر وں کو کٹہر ے میں لا کھڑاکیا ۔ اس کھر در ے اور سخت لب ولہجے کے لیے کسی کے پاس کیسے ہی قو ی دلا ئل ہو ں یہ بات ضرور پیش نظر رکھنی چاہیے کہ نقاد سے بجا طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس کے داخلی تموّ جا ت اظہار پر غالب نہ آنے پائیں ۔ (17)

سیف اللہ خالد کے دو ٹوک اور کھردرے لب و لہجے پر تقریباً سبھی ماہرین ِفن نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے ان میں سے ایک ڈاکٹر عبدالخالق تنویربھی ہیں۔   سیف اللہ خالد کا ایک انٹرویو روز نامہ ’’چٹا ن‘‘ 22جولائی 1999کے لیے عامر بن علی ، ابرار اسحر نے کیا جس کو’’گفتگو ،،کے عنوان سے شائع کیا گیا ۔ دیبا چہ اور فلیپ نگا ری کی ادبی حیثیت پر بات کر تے ہوئے سیف اللہ خالد نے کہا :

’’باقی ادبی اصناف کی طرح دیباچہ اور فلیپ اصنافِ ادب نہیں بلکہ ادب کو پروموٹ کرنے کے وسیلے ہیں۔ اردو کی ایک بد نصیبی یہ بھی ہے کہ اس میں دیباچے اور فلیپ نگاری کا غلط استعمال کیا گیا ہے اور انہیں سفارشی رقعے بنا دیا گیا ہے‘‘۔(18)

ابرار اسحر کوانٹرویودیتے ہوے ایک سوال کے جواب میں کہ ، دیباچے سے فلیپ تک ، کے موضوع پر لکھنے کی ضرورت کیو ں محسو س ہوئی اور عام روش سے ہٹ کر جارحانہ اندازِ تحریر اختیا کرنے کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے فرمایا :

’’ میں مزاجا ً غیر مفاہمت پسند واقع ہوا ہوں ۔دھا ندلی جیسی بھی ہو میرے تن بد ن میں آگ لگا دیتی ہے۔ ادب تو میر ی زند گی ہے اور ادب سے کھیلنے والو ں کو میں کسی صورت معا ف نہیں کر سکتا ۔ دیباچے سے فلیپ تک ‘‘ کی شان ِ نزولی میرا یہی مزاج ہے۔ عرصہ دراز سے ادب میں نام نہا د ادیبوں اور ان کے بزرگو ں نے جو دھاند لی شروع کر رکھی تھی اس نے مجھے کتاب کو قلم بند کر نے پر اکسایا ۔ میر ی زند گی میں کچھ بھی مقد س نہیں ۔ لہذا بڑ ی سے بڑ ی شخصیت بھی میرے قلم کے نشانے پر رہتی ہے ۔ میں اقوال زرین کو نہ سنتا ہو ں اور نہ انہیں حوالے کے طور پر استعما ل کر نا گوارہ کر تا ہو ں۔۔۔ ۔ میں جانتا ہو ں یہ تار پر چلنے کا عمل تھا لیکن اس عمل کو میں نے بڑے توازن کے ساتھ سرانجا م دیا ہے ‘‘۔ (19)

   سیف اللہ خالد کا خیال ہے کہ جس طرح لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے بالکل اسی طرح جو لوگ غیر معیاری تحریروں کو زبردستی ادب کا درجہ دلانے پر تُلے ہوئے ہیں اُن کا راستہ ایسی ہی ہٹ دھرمی اور سخت لہجے سے روکا جا سکتا ہے ۔

   احمد ندیم قاسمی کا ایک تبصرہ غیر معیاری ادباء کے بارے میں فنو ن شمارہ 109میں شائع ہوا ، ڈاکٹر عبدالخالق تنو یر نے اس تبصرے کاکچھ حصہ اپنے تبصرے ’’ دیباچے سے فلیپ تک ‘‘ میں شامل کیا ہے ۔ اس صورت حال کے بارے میں احمد ندیم قاسمی کی رائے ملاحظہ کیجئے:

،، میڈ یا کی وساطت سے نہا یت غیرمعروف اور مبتد ی اصحاب کو عظیم شاعر اور بڑ ے افسانہ نگار ادب پڑ ھنے والی مخلوق کو گمراہ کر نے کا سلسلہ صر ف اس لیے جاری ہے کہ یہ اصحاب غیر ملکی مشاعر وں وغیر ہ میں مد د گار ثابت ہو سکتے ہیں ۔ غر ض معیار اس حد تک گر چکے ہیں کہ اگر انہیں بر وقت نہ سنبھالا گیا تو نتیجہ عام بد ذوقی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا ۔ (فنون ۔ شمار ہ 109ص 10) ۔احمد ندیم قاسمی کی اس رائے سے اختلاف کی گنجائش سرے سے موجو د نہیں ۔ میڈ یا سے وابستہ ادیب نما لو گو ں نے ادب کے ساتھ جو ہا تھ کیا ہے وہ بڑ ی تکلیف دہ کہا نی ہے۔ ان لو گو ں نے بونو ں کو قد آور شعرأ و ادباء کے برابر لاکھڑا کیا ہے۔ ۔۔۔۔اور اس  طر ح انہو ں نے بھی وہی کام انجام دیا جو میڈ یا کی وساطت سے غیر معروف اصحاب کو بڑ ے ادیب قرار دینے والو ں نے انجام دیا تھا ۔ (20)

   ڈاکٹر عبدالخالق تنویر کے درج بالا بیا ن کی تو ضیح بڑی حد تک سیف اللہ خالد کے ’’ فلیپ ‘‘ سے ہو تی ہے۔ وہ لکھتے ہیں ۔

’’ اس عہد کم سوادمیں 1990ء کے آس پاس ’’ کا تا اورلے دوڑی ‘‘ کے رحجان نے پرورش پائی اور کتا ب ساز ی کا وائر س پھیل گیا۔ یہ قانون قدرت اور آئین فطر ت سے کھلی بغاوت تھی جس کی رو سے ہر بچہ کئی ماہ تک رحم مادر میں نشو و نما پا کر چہر ہ نما ہو تا ہے ۔ مگر یہا ں تو کچ بچ پیدا ہونے لگے اور کچر بچر سے ماحول   پر اگند ہ ہو گیا ۔ ستم بالا ئے ستم کہ ان متشا عروں کی پشت پناہی کو مر غ باد نما قسم کے نقاد اِستا دہ ہو گئے۔ (21)

   سیف اللہ خالد اس جانب خصوصی توجہ چاہتے ہیں کہ ادب جو سچائی کا دعوے دار ہے اس کا معیاربر قرار رکھا جائے۔ دیباچے اور فلیپ لکھنے اور لکھوانے میں محتاط رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔پندرہ روزہ ، احساس نو ، جولائی 1999ء میں مبصر ’’ جمیل احمد عدیل ‘‘ نے ’’ دیبا چے سے فلیپ تک ‘‘ پر تبصر ہ کیا ہے ۔ انہو ں نے  زیر بحث تالیف اور سیف اللہ خالد کے تنقید ی رویے پر بحث کر تے ہوئے لکھا ہے۔

’’ پروفیسر سیف اللہ خالد نے اپنی کتا ب ’’پاکستان میں اُردو ادب کے پچا س سال ‘‘میں جن ادباء و شعراء کا حوالہ دیا ہے ان سب نے مصنف کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ اپنی نئی تالیف ’’ دیباچے سے فلیپ تک ‘‘ میں انہوں نے جن لکھنے والو ں کا حوالہ نہیں دیا ۔ انہو ں نے شکر یہ ادا کیا ہے‘‘۔ (22)

گویا اس کتاب کی اشاعت سے اُن ادباء نے سکھ کا سانس لیا جن کا ذکر سیف اس کتاب میں نہیں کرتے۔جمیل احمد عدیل نے کتا ب کی نو عیت پر بحث کر تے ہوئے لکھا ہے ۔

’’ سیف اللہ خالد کی شمشیر برہنہ ’’دیباچے سے فلیپ تک ‘‘ ہمارے پیش نظر ہے ۔ اس کتا ب میں انہوںنے ایک جرأت مند ، نڈر، بے باک ، ذی ہو ش اور کھر ے نقاد کا کر دار ادا کیا ہے۔ کسی ایک مقام پر بھی مصلحت کوشی سے کا م نہیں لیا ۔ فی الحقیقت ان کی اس کتا ب کا موضو ع ہی ادبی مصلحت پسند و ں کے خلا ف بھر پور صد ائے احتجا ج ہے ۔ دیباچہ اور فلیپ نگاری کی حشر سامانیا ں بڑا ناز ک موضوع ہے ۔ بلکہ موجو دہ صورت حال میں تو اسے دکھتی رگ سے تعبیر کر نا چاہیے ۔ خو د ستائی عام فر د سے کہیں زیا دہ ایک فن کار کا مسئلہ ہے ۔ ایک تخلیقی فن کا ر طبعاً اور فطر تاً اپنے ہنر کی تحسین کا طالب ہوتاہے ۔ موصوف نے براہین کے ساتھ واضح کیا ہے کہ آج کسی بھی کتا ب پر کسی ادیب کی رائے بلکہ من پسند ادیب کی رائے لی جا سکتی ہے ۔ اس رائے میں افضل التفصیل کے صیغو ں کو چھوتی ہوئی ایسی عبارت دمک رہی ہو تی ہے کہ اگر اس پر یقین کر لیا جائے تو ایک ہی مفہوم متعین ہو تا ہے ۔ کہ صاحبِ کتا ب صاحب ِاعجا ز ہے ۔ اس نے وہ ادبِ  عالیہ تخلیق کر ڈالا ہے جس کی روئے زمین پر مثال نہیںملتی ۔ (23)

   ڈاکٹر عبدالخالق تنو یر نے سیف اللہ خالد کی اس تالیف میں اختیار کردہ اندازِ تحریر کی خو بی اور خامی کا ذِکر کر تے ہوئے لکھا ہے۔

’’ سیف اللہ خالد نے جو انداز بیا ن اختیار کیا ہے اس پر بحث کی کا فی گنجائش موجو د ہے ۔مشکل اور آرائشی ، اسلو ب کا زمانہ ابو الکلام آزاد کے ساتھ ختم ہو چکا ۔یورپی نثر نے عرصہ پہلے ہمیں یہ بات سمجھا دی تھی کہ  بے جاتز ئین و آرائش اظہار مد عا میں رکاو ٹ بنتی ہے اور سادہ اسلوب ترسیل کو موثر اور سہل بنانے کے ساتھ ساتھ نثر کو دلآویزی بھی عطا کر تا ہے ۔ سیف اللہ خالد کی یہ کتا ب ہر لحاظ سے معر کتہ الا ٓ را تصنیف ہے۔اس نے ادب کے سلگتے ہوئے معاملا ت و مسائل پر سنجیدگی سے غور کر نے کی راہ سمجھائی ہے‘‘ ۔ (24)

سچی اور دو ٹوک بات لکھنا ہر زمانے میں مشکل رہا ہے اور اپنے مخالفین پیدا کرنے کا آزمودہ نسخہ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے ہر ایک کی ترش و تند تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر یار لوگوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔سیف اللہ خالد کی اس جرأت رندانہ پر تبصر ہ کر تے ہوئے ڈاکٹر عبدالخالق تنو یر لکھتے ہیں ۔

’’ سیف اللہ خالد نے ، دیباچے سے فلیپ تک لکھ کر بھڑوں کے چھتے میں ہا تھ ڈالا ہے اور اب اس کے ما بعد اثرات بھگت رہا ہو گا ۔ یہ بات ضرور غور طلب ہے کہ اس نے چو مکھی لڑائی لڑ نے والے ادباء ، شعراء کی صف میں شامل ہو نا کیو ں پسند کیا ؟ اس کی وجو ہ کچھ بھی ہو ں ۔ بہرحال طے شد ہ ہے کہ اس نے ایک اہم اور اچھوتے مو ضوع پر قلم اُٹھا کر لطف و انبساط اور عبر ت و آگہی کے سامان بہم پہنچا دئیے ہیں ۔ اس کتاب پر تبصرہ کر نے والے بعض مبصرین نے ناپسند ید ہ شاعروں ، ادیبو ں اور تقریظ نگاروں کا تذکرہ بہ انداز حدیث دیگراں چٹخار ے لے کر کیا ہے اوروہ جو کچھ کہنے کی حسر ت رکھتے تھے لیکن حوصلہ نہیں تھا وہ کہہ گزرنے کے لیے سیف اللہ خالد نے ان کی مشکل بھی آسان کر دی اور لطف کا سامان بھی فراہم کر دیا‘‘۔(25)

ڈاکٹر عبدالخالق تنویر کے مطابق سیف اللہ خالد کی زیرِ بحث تالیف میں جہاں کچھ خامیاں ہیں وہاں خوبیاں بھی ہیں۔ کہ اس کتاب نے بہت سے بے سمت ادباء کوادبی راہ کی قدر و قیمت کا احساس دلایا ہے۔ معروف تجزیہ نگارطارق اسد ’’دیباچے سے فلیپ تک ‘‘ لکھے جا نے کے مقصد پر سہ ماہی بارش میں یوں رقم طراز ہیں ۔

’’ دیباچے سے فلیپ تک ‘‘ ایک ایسی دستاویز ہے جس میں دیباچو ں اور فلیپو ں کے عمل کا بھی ذکر ہے اور دیباچو ں کے نا م پر لکھی جا نے والی تعلقاتی تنقید کا بھی ۔ دیباچہ نو یسی قدیم عمل سہی مگر ہم یہ کا م پوری صداقت سے کیو ں نہیں کر تے ؟ کیا دیبا چہ یا تقریظ محض تعریف کے لیے رہ گئے ہیں ؟ ادب کی تقریباً تمام اصناف نے عہد ِ موجو د میں ترقی کی ہے کیا دیباچے کا فن ترقی نہیں کر سکتا َ؟  (26)

   اس طرح سیف اللہ خالد کی یہ کتاب ’’دیباچے سے فلیپ تک‘‘ اپنی تمام کمیوں کجیوں کے باوصف ایک اہم کتاب ہے اور اس میں حقائق اس انداز سے جمع کیے گئے ہیں کہ یہ عبرت خیز ہیں۔ اپنی کتاب’’ دیباچے سے فلیپ تک‘‘ میں سیف اللہ خالد فلیپ اوردیباچہ لکھنے والوں پر خوب برسے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات وہ اپنے موقف کے اعتبار سے درست بھی نظر آتے ہیں۔لیکن مشکل اس وقت پیداہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی نقاد از خود یہ بات نہیں جان سکتا کہ کسی مصنف نے کوئی تصنیف مرتب کی ہے۔ لہذا میں اٹھوں اور مصنف کے پاس جا کر اس کی کتاب پر دیباچہ یا فلیپ لکھوں۔ اس کے بر عکس ہوتا یہ ہے کہ نئے مصنف خود بڑے مصنفوں کو سیڑھی بنا کر استعمال کرنے کے شوق میں اپنی کتاب پر مقدمہ لکھنے کی خواہش کے ساتھ پیش ہوتے ہیں۔ اور اسرار کے ساتھ دیباچہ لکھواتے ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ اگر کوئی دیباچہ نگار حقائق کے مطابق دیباچہ لکھ دے تو مصنف ناراض بھی ہوجاتاہے۔ اور اس طرح سماجی تعلقات پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔ لہذا دیباچہ نگار کو طوعاً کرہاًاچھا برا مقدمہ لکھنا ہی پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ دیباچہ لکھوانے کا موقع بھی کتاب کے مصنف کے پاس ہوتا ہے مقدمہ لکھنے والے کے پاس نہیں ۔ اور بہت سے لوگوں میں سے انتخاب کا فیصلہ خود مصنف کرتا ہے۔

   ہمارے ہاں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کسی شاعر و ادیب نے اپنی کتاب مرتب کرکے کسی کو دیباچہ لکھنے کے لیے دی ۔ دیباچہ لکھنے والے نے کتاب کا مطالعہ کیا اور اپنے دیباچے میں اغلاط کی نشاندہی کر دی۔ دیباچے میں شاعر نے اپنی غلطیاں دیکھ کر یا تو دیباچہ ہی شائع نہیں کیا یا پھر مواد تبدیل کردیا۔ اور یوں دیباچہ نگار کو اپنے موقف سے ہٹنا پڑا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی تو بہت اہم ہے کہ سارے مقدمے اور دیباچے نکمے اور بے کار نہیں ہوتے بلکہ بڑی محنت اور جانکاہی سے لکھے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا الطاف حسین حالی نے اپنے دیوان کا مقدمہ خود لکھاجو الگ سے ایک کتاب کی صور ت اختیارکر گیا جو اردو تنقید کی کتابوں میں اوّلیت کے مقام پر ہے۔ جبکہ علامہ اقبال نے بانگ درا کادیباچہ اپنے دوست شیخ عبد القادر سے لکھوایااور اس کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ دیباچہ موجود نہ ہوتو بانگ درا کی اس طرح تفہیم بھی ممکن نہ ہو۔ اسی طرح کلیات میر کے مقدمات قابل توجہ ہیں۔ اور اسی طرح کے دیباچے مشفق خواجہ نے بھی لکھے ہیں۔لہٰذا سیف اللہ خالد نے تمام دیباچہ نگاروں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا جو رویہ اختیار کیا وہ بڑی حدتک نامناسب ہے۔ ہاں ! یہ کہا جاسکتا ہے کہ فرمائشی مقدمے نہ کسی نقاد کو لکھنے چاہیے اور نہ ہی کسی شاعر و ادیب کو یہ لکھوانے چاہیے۔مگر یہ کہنا بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ سیف اللہ خالد کی یہ کاوش غیر اہم ہے۔ انہوں نے بہت سے حقائق، شواہد اور براہین سے یہ ثابت کیا ہے کہ دیباچے، مقدمے اور فلیپ کی ادبی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوے اس کا درست انداز میں مصرف نہیں کیا جاتا۔کیوں کہ بالخصوص قاری کو گمراہ کرنے والے مقدمے،دیباچے اور فلیپ کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔اس طرح سیف اللہ خالد کی یہ انوکھی تحریر اگر کھردرے پن کی حامل ہے تو کچھ غیر حقیقی اور غیر اہم بھی نہیں ہے۔دیگر وجوہ کے علاوہ منفی رجحان کو پرورش پانے سے روکنے کی روش بھی تو عام نہیں ہے۔

حوالہ جات

1۔ سیف اللہ خالد، مقدمہ (آوازہ )، دیباچے سے فلیپ تک ، شفیق پبلی کیشنز، لاہور، اشاعت دوم، 1999ء

2۔            سید قدرت نقوی ، دیباچہ ایک صنف سنحن ، ماہنامہ ، قومی زبان ،کراچی ،اکتو بر ،1981ء

3۔            سیف اللہ خالد ، دیباچے سے فلیپ تک ،سٹینڈرڈ بُک سنٹر،اردو بازار، لاہور،اشاعت دوم ،  1999 ء ص 130

4۔            مشفق خواجہ،           ہفت روزہ تکبیر، کراچی ،  16جولائی،1987ء

5۔           ڈاکٹر سید عبداللہ ، انتخاب اصغر، مرتبہ جمیل نقوی ، اردو مرکز، لاہور

6۔           سیف اللہ خالد ، دیباچے سے فلیپ تک ،        ص  130

7۔           ڈاکٹر گیان چند ، ماہنامہ شب خون ،اٰلہ آباد ، بھارت، دسمبر، 1986ء

8۔           ڈٖاکٹر عبادت بریلوی ، مقدمہ ، مقدمات عبد الحق، اردو مرکز ،لاہور،   1964ء

9۔           سیف اللہ خالد، دیباچے سے فلیپ تک ،اشاعت دوم ،1999  ص 28

10۔         سیف اللہ خالد، دیباچہ (آوازہ ) دیباچے سے فلیپ تک ،اشاعت دوم ، ص 10

11۔           ایضاً ،ص 10

12۔          عمران نقوی ، ماہنامہ ، حرف ملاقات ، علم و عرفان پبلیشر ز ،لو ئر مال روڈ لاہور ،جولائی 2001ء ،ص 363

13۔         ڈاکٹر عبدالخالق تنویر معاصر (سہہ ماہی ) تبصر ہ ،دیباچے سے فلیپ تک ،شمارہ 3جوالائی تا ستمبر، 2003 ء  ص21-20

14۔           ایضاً

15۔          عرفان احمد خان ، ماہنامہ روزن انٹر نیشنل ، گجر ات ، جو ن ،2003ء       ص20

16۔          عمران نقوی ، ماہنامہ ، حرف ِملاقات ، علم و عرفان پبلیشر ز ،لو ئر مال روڈ لاہور ،جولائی 2001ء ص 363

17۔          ڈاکٹر عبدالخالق تنویر ، سہہ ماہی ، معاصر ، تبصر ہ ، دیباچے سے فلیپ تک ، 2003ء ص 25.24

18۔          ابرار اسحر، ماہنا مہ ، چٹان ،          جو لا ئی،  1999ء

19۔           ایضاً

20۔           ایضاً

21۔          ڈاکٹر عبدالخالق تنو یر ، سہہ ماہی ،معاصر،         2003ء   ص 25

22۔          سیف اللہ خالد ، فلیپ ، دیباچے سے فلیپ تک ،اشاعت دوم، 1999ء

23۔          جمیل احمد عدیل ، تبصرہ ،پندرہ روزہ، احساسِ نو ، لاہور،        جولائی ،    1999ء

24۔         طارق اسد ، امر ت ،غیر مطبوعہ ، سیف اللہ خالد ،(لفظیا ت ، شخصیت )، ص52

25۔         ڈاکٹر عبدالخالق تنو یر ، سہہ ماہی ،معاصر،        2003ء    ص 25

26۔         طارق اسد ، سہہ ماہی ،بارش ، لاہور، فروری ،  2011ء

٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.