علامہ اقبال کی نعتیہ شاعری

نعت رسول مقبول ﷺ کا وجود اور اس کی روایت ہر زبان وادب میں ہے، ہر مذہب کے پیروکاروں نے نعت گوئی کی ہے اور جس شاعر نے بھی وصف نبی لکھاہے اس کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھا اور اسے شعری سرمایے کا قیمتی حصہ تصور کیا۔ اور یہ امر بھی طے شدہ ہے کہ کوئی بھی بشر حضور کی مدحت اور توصیف وثناکا حق ادا نہیں کرسکتا باوجود اس کے نعت گو شعرا کی ایک طویل فہرست ہے۔ البتہ یہ ضرور کہاجاسکتاہے کہ بعض کو اس صنف سے شغف اور لگائو تھا، تو انہوں نے تواتر اور اہتمام کے ساتھ اس امر کو انجام دیا اور کسی نے محض تفنن طبع کے لئے اس میدان میں طبع آزمائی کی۔ اور بعض وہ نامور شعرا بھی ہیں جنہوں نے خود کو اس قابل نہیں جاناکہ وہ وصف پیمبر کرسکیں، اس طرح  انہوں نے خود کو مشکل میں ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ شعری اصناف میں نعت گوئی، ذات رسول کے محاسن وخصائص کا بیان کرنا اور پیغمبر اعظم کی صفات، اخلاق وکردار کو شعری جامہ پہنانا اور حضور کی منظوم پیکر تراشی ایک دشوار اور مشکل کام ہے۔ کیونکہ ہرشخص اور ہر شاعر کا اس فن میں خود کو ثابت کرنا اور اس موضوع سے عہدہ برآ ہونا آسان نہیں ہے۔ صنف نعت کی نزاکت اور اس کی مشکلات کا احساس اور اندازہ ان شعرا کو ہے جنھوں نے نعت گوئی میں اس کے لوازمات اور مقتضیات کو ملحوظ رکھاہے اور جو نبی کے مقام ومرتبہ اور دربار رسول کے ادب واحترام سے بخوبی واقف ہیں۔ کیونکہ نعتیہ شاعری کا فن تلوار کی دھار پر چلنے جیسا ہے، اگر شاعر مدح سے بڑھا تو حمد میں پہنچ جاتاہے اور تعریف وتوصیف میں کمی کی تو تنقیص ممدوح لازم آتاہے اور یہ دونوں عیب میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اقبال کے شعری سرمایے میں ایسے اشعار ملتے ہیں جو حضور کی سیرت وسوانح،اخلاق وکردار اور آپ کے خصائل واوصاف سے متعلق ہیں۔ البتہ نعت نبی، مدح پیمبر، یا نعت رسول مقبول کے عنوان کے تحت کوئی بھی منظوم کلام ان کے یہاں نہیں ملتاہے جیساکہ دیگر رسمی نعت گو شعرا کے یہاں نعت کا عنوان دیکھنے کو ملتاہے۔ اس طرح اقبال رسمی معنوں میں نعت گو شعرا کی فہرست سے خارج ہوجاتے ہیں۔ مگر ان کے متفرق منظوم کلام میں نعت کے موضوع پر اتنے اشعار اور قطعات دستیاب ہوجاتے ہیں کہ نعت گو شعرامیں ان کا شمار کیاجائے ،اس طرح اردو نعتیہ شاعری کی تاریخ میں ان کا ذکر کرنا ناگزیر ہوجاتاہے۔ یہ امر مسلم ہے کہ ان کے یہاں نعتیہ اشعار بہت کم ہیں اور ایک بھی مکمل نعتیہ کلام نہیں ہے۔ مگر جتنے بھی اشعار پیغمبر اعظم کی نعت سے متعلق ہیں ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ فکری اور فنی اعتبار سے اعلیٰ ومعیاری نعتیہ شاعری کے نمونے ہیں اور وہ اشعار یہ باور کراتے ہیں کہ مشہور اور معروف نعت گو شعرا کے یہاں اس طرح کی شاعری کا مزاج نہیں ہے اور نہ ہی ان کی فکروخیال کا پرندہ وہاں تک پرواز ہی کرسکاہے۔ کیونکہ اقبال کے نعتیہ اشعار ذات وصفات رسول کے ذکر کے ساتھ ساتھ دین مصطفیٰ ﷺکے اساسی پہلوئوں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔  اقبال نے براہ راست مدحت رسول کرنے کے بجائے بالواسطہ اپنے مختلف نظموں میں چند اشعار یا ایک دوایسے اشعار کہے ہیں جو مدح رسول، سیرت نبی، پیغام رسول سے متعلق ہیں اور یہ تمام اشعار حقیقت ومعرفت، توحید ورسالت، اسلام کے آفاقی پیغام۔ غافل مسلمانوں کو جھنجھوڑنے ، انہیں اپنے رسول کے پیغام کا پاس ولحاظ رکھنے اور مسلمان ہونے کا احساس دلانے اور حضور سے وفا کرنے جیسے موضوعات پر مشتمل ہیں۔دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے اقبال کے یہاں تخلیق کائنات کی غرض وغایت ذات مصطفوی ہے اور یہ غرض وغایت لولاک لما خلقت الدنیا سے کشیدہے۔ نیز سارا عالم امکان اسی مرکز ومحور کے گرد گردش کرتاہے انہوں نے اردو نعت گوئی کو فکری وفنی طور پر وسعت دی، نعت کے موضوع کو قوم وملک کی سیاسی وتمدنی زندگی سے ہم آہنگ کرکے اسے ایک نیا روپ دیا اور ایک نئی شکل دی۔ نعت گوئی کے قدیم اسالیب اور معروف طریقۂ کار کو نظرانداز کرکے نظم کی جدید ہیئتوں اور اسالیب کو نعت کے موضوع کا متحمل بنایا اور نظم میں نعت کہنے کی نئی طرح ڈالی اور اسے فروغ دیا اور اس کو اکثر ناقدوں نے سراہا اور قدر کی نگاہوں سے دیکھا۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے ان کے کلام میں نعتیہ عناصر کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے:’’ان کی پوری شاعری کا حقیقی محور سیرت محمدی اور اسوۂ رسول ہے۔ حتی کہ ان کے فلسفہ خودی کا اصل الاصول بھی یہی ہے۔ اسرار خودی سے لے کر جاوید نامہ تک ان کا کلام دیکھ جائیے، اس محور سے انحراف مشکل سے کہیں ملے گا۔ ان کا کلام صاف بتاتاہے کہ ان کے فکروفن کا نقطۂ آغاز بھی رسالت ہے اور نقطۂ ارتقا واتمام بھی رسالت ہے۔ ان کی شاعری رسمی انداز کے نعتیہ شاعری نہیں بلکہ ذات وصفات محمدی کے بیان کے ساتھ ساتھ دین مصطفوی کے اساسی پہلوئوں کی بھی مظہر بن گئی ہے۔ ان پہلوئوں کی تشریح وتوضیح میں اکثر جگہ آنحضرت کے اخلاق وسیرت کا ذکر آیاہے اور اقبال کی طبع عاشقانہ اور مزاج شاعرانہ نے ہر جگہ اس ذکر میں ایک خاص قسم کا لطف سمودیاہے۔ چنانچہ اس ذکر میں اقبال کے یہاں بہت سے اشعار، بہت سے ٹکڑے اور بہت سے ایسے قطعات مل جاتے ہیں جو اقبال کو ایک بلند پایہ نعت نگار ثابت کرتے ہیں۔‘‘(اردو کی نعتیہ شاعری ،فرمان فتحپوری،ص:۷۵،۷۷) اقبال کی وہ شہرہ آفاق نظمیں جن میں نعت گوئی کے عمدہ نمونے ملتے ہیں، ذوق وشوق، بلال حضور رسول مآب میں، شفا خانۂ حجاز، بلال روح محمد سے ہیں۔ کسی میں مؤذن رسول کی تعریف وتوصیف بیان کی ہے اور کسی میں حضرت بلال کا تقابل اسکندر رومی سے کرتے ہوے دولت و ثروت ،طاقت و قوت ،اقتدارو سلطنت اور ہوس حکمرانی وملک گیری پر محبت رسول اور چاہت نبی کا غلبہ اور فتح دکھانے کی سعی کی ہے:اقبال کس کے عشق کا یہ فیض عام ہےرومی فنا  ہوا حبشی  کو دوام ہے (کلیات اقبال اردو،ص:۱۶۳)اسی طرح کسی نظم میں شہدائے طرابلس کا ذکر ہے تو کسی میں اصحاب رسول کی حضور سے وابستگی وتعلق اور جذبۂ جاں نثاری کو موضوع نعت بنایاہے۔ ان نظموں کا گرچہ نعت رسول سے راست تعلق نہیں مگر ان میں سرفروشی کا جذبہ، جام شہادت نوش کرنے کی تمنا وآرزو اور ذات رسالت مآب ﷺسے آپ کے جاں نثارصحابہ کی والہانہ عقیدت ومحبت کو پیش کیاہے اوریہ نعت کی انتہا ہے۔اقبال کا یہ امتیاز ہے کہ حضور سے خطاب کیے بغیر انتہائی سلیقے اور ہنرمندی سے حب نبی اور مدح رسول کا اظہار کیاہے۔ یہ انداز اقبال کا نرالا اور انوکھاہے جس کی مثال نعتیہ شاعری میں نہیں ملتی۔ اسی لیے ’’ممتاز حسن‘‘ نے اقبال کے بالواسطہ نعتیہ کلام کی پذیرائی اور ان کی انفرادیت کو ثابت کرتے ہوئے لکھاہے:’’اس طرح کی بالواسطہ نعت ایک فنی نزاکت اور شاعرانہ بلاغت کی حامل ہے جو براہ راست مدح رسول میں مشکل سے ملتی ہے۔ براہ راست اور بلاواسطہ نعتیہ خطاب ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔ اقبال نے جناب بلال کے واسطے سے بھی رسول کو دیکھاہے اور خود بھی حضور رسالت مآب میں باریابی کی سعادت حاصل کی ہے۔‘‘ اقبال کے نزدیک چار حرفی لفظ ’’محمد‘‘ ایک لفظ یا اسم گرامی رسول نہیں بلکہ ایک ایسا اسم اعظم، ایک ایسا متبرک اور ستودہ نام اور ایک ایسی حرارت ایمانی اور ایک ایسی نورسبحانی ہے جس کے سبب خانۂ دل کی ویرانی کو آباد کیاجاسکتاہے، اس سیہ خاک عناصر اربع کو منورومجلی کیاجاسکتاہے بلکہ اس حرکی قوت سے نظام دہر اور اس کائنات کو تہ وبالا اور متحرک وفعال بنایاجاسکتاہے۔ اقبال کے کلام میں رسول معظم کی شخصیت تخلیق کائنات کاباعث اور سبب ہے اور عالم امکان کا مبدا ومنتہیٰ آپ ہیں۔ نیز یہ سلسلۂ روز وشب آپ کا صدقہ ہے:نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخروہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وطٰہٰ شکوہ وجواب شکوہ میں بھی اقبال نے اپنے مافی الضمیر کی ترجمانی حضور کے ذات عالی کے وسیلے سے کی ہے اور طرز اظہار بھی لاجواب ہے۔ ان دو نظموں کے باطن میں جھانکنے سے ایک اور حقیقت تک رسائی ملتی ہے وہ یہ کہ ذات باری تعالیٰ اور انسان کے مابین صرف حضور ہی ایک ذریعہ اور وسیلہ ہیں اور نبی کی ذات بنی نوع انسان کے لئے نہ صرف سرمایہ افتخار ہے بلکہ ان کی محبت ایک اسفل انسا ن کو افضل اور اس کا فقدان افضل کو اسفل کردیتاہے۔ حدیث قدسی لولاک لماخلقت الافلاک کی تفسیر اور نعت رسول کا خوبصورت اظہار اقبال کے شعری پیرایے میں اس طرح ملتاہے:ہونہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے (کلیات اقبال اردو،ص:۲۰۷،۲۰۶)
کلام اقبال میں یہ مختصر بند کوزے میں سمندر کو سمویاہوا بند ہے جو اپنی سادگی، پرکاری اور معنویت کے اعتبار سے ایک مکمل اور بہترین اور آخری پیغمبر کی طرف اشارہ کیاہے۔ یہ ان کی نعت گوئی میں بنیادی مضامین کا درجہ رکھتے ہیں۔ نیز آخر الزماں کے سبب سلسلۂ کن فیکون کا قائم ودائم رہنا اور آپ کا وجود باری پر گواہ ہونا بھی اسی سے ہویدا اور ظاہر ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کی وجود باری پر شہادت دینے کے ساتھ خود اللہ عزوجل کی طرف اتباع رسول کے مضامین بھی آپ کے یہاں موجود ہیں۔قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںقوت عشق سے ہر پست کو بالا کردےدہر میں اسم محمد سے اجالاکردےچشم اقوام یہ نظارہ ابدتک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےکی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں (کلیات اقبال اردو،ص:۳۱۷)
نبی کی ذات سے مسلمانوں کی عقیدت ووابستگی اور قوم مسلم پر حضور کے فیضان واکرام کا اظہار ہر دور اور ہر زمانے میں نعت گوئی کا موضوع اور محور رہاہے مگر حضور کی شخصیت پوری انسانیت کے لئے جن فیوض وبرکات اور رحمت ورأفت کا سرچشمہ بنی اس کا پہلا واضح نظریہ اور اظہار اقبال کی شاعری ہی میں نظرآتاہے۔ سنائی کے مزار کی زیارت کے موقع جو اشعار آپ نے کہاہے اس سے پیش رو سطر کی توضیح وتلویح ہوجاتی ہے۔ سنائی کے مزار پر کہی گئی نظم تین بند پر مشتمل ہے اور تینوں بند میں الگ الگ اور علاحدہ مضمون کو شعری جامہ پہنایاہے۔ یعنی قوت عشق، قوم مسلم کے اخلاقی زوال اور اقدار حیات کے زوال کا سبب۔ پھر ہمیں یہ تلقین کی ہے کہ حضور کی ذات سے ہم رجوع کریں۔ یہ مقام اور نعت گوئی کا یہ انداز نعت گوئی کی معراج ہے:عجب کیاگرمہ وپر دیں مرے نچھر ہوجائیںکہ برفتراک صاحب دولتے بستم سرخودراوہ دانائے سبل، مولائے کل، ختم الرسل جس نےغبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا (کلیات اقبال اردو،ص:۴۰۵،۴۰۶)
مذکورہ بالا اشعار میں اقبال کاجولب ولہجہ ہے اس نے وفور جذبات اور شدت عشق کے اظہار کے لیے ایک وسیع شعری فضا اور ایک موثر ماحول پیدا کردیاہے۔اقبال کی نظم ذوق وشوق ان کے نعتیہ کلام کی انتہاہے ۔ یہ وہ اشعار ہیں جن میں عشق رسول اور محبت رسالت کا بحربیکراں ٹھاٹھیں مارتا نظر آتاہے۔ اس نظم میں جذب وکیف اور محبت وشیفتگی رسول کا اظہار بلیغ انداز میں کیاگیاہے۔ بال جبریل میں بھی چند مقام ایسے ہیں جہاں شاعر دربار رسول میں حاضر ہے اور جذبۂ دل کو الفاظ کا جامہ پہناکر اعلیٰ واولیٰ نبی کی بارگاہ میں لب کشائی کررہاہے مگر مذکورہ بالا نظم راست حضور کی خطاب کی عمدہ مثال ہے:لوح بھی تو، قلم بھی تو،تیرا وجود الکتابگنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حبابعالم آب وخاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تونے طلوع آفتابشوکت سنجر وسلیم تیرے جلال کی نمود فقرجنید وبایزید تیرا جمال بے نقاب اقبال کے نعتیہ اشعار میں اضطراب حب رسول اورملت اسلامیہ کی زبوں حالی وبدحالی کا ذکر بڑے دردمندانہ لہجے میں ملتاہے اور جہاں بھی اسم محمد یا حضور کا ذکر آتاہے وہاں اقبال کے بے تابی، وارفتگی، شیفتگی، جاں نثاری اور والہانہ پن کا اظہار ملتاہے اور اخیر میں یہی کہنا پڑتاہے کہ اقبال اپنی نوعیت کا ایک منفرد نعت گو ہے جس کی ہم پلہ نعت دوسروں کے یہاں نہیں ملتی۔ اور قارئین بھی عشق رسول میں جھوم اٹھتے ہیں۔

محمد محسن رضا مصباحی

MOHAMMAD MOHSIN RAZAROOM NO 126,

JHELUM HOSTELJNU NEW DELHI ,110067

mob. 8506928945

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.