اردوناول میں شہری محنت کش طبقہ کے مسائل کی عکاسی ـ ممبئی کے حوالے سے

      ہندستان میں انگریزی حکومت کے قابض ہوتے ہی ایک طرف زمیندارطبقہ کوفروغ ملاتودوسری طرف محنت کش طبقہ وجود میں آ یا۔ تقسیم ہندکے بعدمحنت کش طبقہ کومزیدبڑھاوادینے میں سرمایہ دارانہ نظام کاہاتھ رہاہے۔ سرمایہ داروں نے ان مزدوروں کاجنسی، جسمانی، اخلاقی اورمعاشی طورپراستحصال  کیا ۔ ظلم وستم کی ما ر اور سماجی وقومی بیداری نے ان کے دلوں میں انگریزو ں کے خلاف قومی انقلاب میں حصہ لینے کے جذبے میں مزیداشتعال پیداکیا۔ اس حقیقت کوفراموش نہیں کیاجاسکتاکہ قومی انقلاب میں اس طبقہ نے یکجاہوکردلجمعی کے ساتھ حصہ لیا۔ بھلے ہی یہ طبقہ تعلیم وتربیت سے محروم رہاہومگراتحادواتفاق ان کے یہاں سب سے زیادہ دیکھنے کوملتاہے۔شہری ودیہی ہرجگہ اس طبقہ کے ساتھ استحصالی رویہ اپنایا  گیا ۔ ادب نے ان کی سرپرستی کی اوران کے مسائل کوعوام تک پہنچایا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو ادب میں ان موضوعات کے حوالے سے ناول اورافسانے کثیر تعداد میں تخلیق کیے گئے۔ فکشن نگاروں نے اس طبقہ کے مسائل کوبہت دلچسپی کے ساتھ اپنی تخلیقات میں پیش کیاہے۔

      آزادی کے بعداردوناولوں میں اعلی طبقہ کے مظالم ومحنت کش طبقہ کے مسائل کی عکاسی بہت باریک بینی سے کی گئی ہے۔ ان ناولوں میں ایک طرف دیہی علاقوں کے مسائل کاذکرملتاہے تودوسری طرف شہری زندگی کے تضادات کوبھی پیش کیاگیاہے۔ اردوناولوں میں بڑے شہروں خاص طورپرممبئی میں فٹ پاتھ کی زندگی، تین بتی کاعلاقہ، جنسی جرائم، غیراخلاقی کاروبار،غریبوں کی جھگیوں اورمتمول گھرانوں  میں کام کرنے والے رامائوں )خادموں( کی زندگی کے تلخ حقائق کوپیش کیا گیاہے۔ ان موضوعات پر لکھنے والوں میں کرشن چندر)سڑک واپس جاتی ہے، پانچ لوفرایک ہیروئن، دادرپل کے بچے ، باون پتے اورچاندی کے گھاؤ(، عصمت چغتائی )معصومہ(، اورعلی امام نقوی) تین بتی کے راما( وغیرہ قابل ذکر   ہیں ۔ ناول نگاروں نے محنت کش طبقہ سے متعلق موضوعات کواس فن کاری کے ساتھ پیش کیاہے کہ ہمیں مزدور طبقہ سے ہمدردی کااحساس ہوتاہے۔

      محنت کش طبقہ کے مسائل کی عکاسی اردوافسانے میں بھی کی گئی ہے۔ شہری زندگی خاص طور سے ممبئی کی گھٹن غربت، جسم کاکاروباراورمزدوروں کاجنسی وجسمانی استحصال جیسے اہم موضوعات کو افسانوں  میں بڑی بیباکی کے ساتھ پیش کیا گیاہے۔ ان افسانوں میں کرشن چندر کے افسانے ‘کچرابابا’،’ مہالکشمی کاپل’،’ دانی ‘ الیاس احمدگدی کا’آدمی ‘ سلام بن رزاق کا’انجام کار‘ اورعلی امام نقوی کے افسانے’دیوث اورریپ‘وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔

      صنعتی انقلاب نے جہاں بیش بہاسہولیات کوفراہم کرایا وہیں دوسری طرف معاشرے میں بیجا مسائل کوبھی پیداکیا۔ شہرکی زندگی مشین کی مانندہوگئی ہے جس کے سبب اخلاقی رشتے ختم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پیزّا، برگر، نوڈل جیسے فاسٹ فوڈکی طرح شہری زندگی فاسٹ ہوگئی ہے۔کوئی کسی کاپرسان حال نہیں، ایسا محسوس ہونے لگاہے کہ اس دنیاسے انسانیت ختم ہورہی ہے۔ پارٹی، پکنک، بار، پب اور واٹرپارک جیسی جگہوں پرسکون و اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خاص بات یہ کہ لوگ ملازموں کو ہرجااپنے ساتھ لے جاتے ہیں اوراپنی ضرورت کے مطابق ان کواستعمال کرتے ہیں۔ نوکروں کی زبان، رومان، جذبات اوراحساسات کوضبط کرلیاجاتاہے۔ہمیں ان کے یہاں رومان تونظر آتا ہے مگرغربت، لاچاری اوربے بسی کے سبب تشنئہ محبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

      کرشن چندرنے کثیرتعدادمیں  ناول تخلیق کیے۔ ان کے یہاں موضوعات میں تنوع پایا جا تا   ہے ۔ ناول شکست ان کے بہترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے ممبئی کی سماجی زندگی ومحنت کش طبقہ کے مسائل کو اپنے ناولوں میں پیش کیا ہے۔ ‘سڑک واپس جاتی ہے’،’پانچ لوفرایک ہیروئن’، ‘چاندی کے گھاؤ’، ‘دادرپل کے بچے ‘اور ‘باون پتے’ اس کی بہترین مثالیں  ہیں ۔

      ‘دادر پل کے بچے’ میں کرشن چندر نے ممبئی کوسرمایہ دارانہ نظام کی علامت کے طورپرپیش کیا   ہے ۔ جہاں غیراخلاقی اورغیرانسانی عمل کوہروقت انجام دیاجاتاہے۔ ‘پانچ لوفراورایک ہیروئن’ میں  انھوں  نے ایک طوائف کومرکزمیں رکھ کرفٹ پاتھ اوراس کے اطراف کی حقیقی زندگی کوپیش کیاہے۔ اس کے علاوہ ‘باون پتے ‘ایک بہترین ناول ہے جس میں ممبئی کی سماجی زندگی خاص طورپرفلم انڈسٹری میں کام کرنے والی لڑکیوں کی دردناک داستان بیان کی گئی ہے۔ اس ناول میں جمناایک طوائف کی زندگی گزارنے پرمجبورہے۔ اس کے بیٹے کے باربار ضدکرنے پر وہ بہت ہی درد بھری آواز میں ایک طوائف کی زندگی کویوں بیان کرتی ہے:

بیٹاایک طوائف چمگادڑکی طرح ہوتی ہے وہ دن کوسوتی ہے رات کوجاگتی ہے بیس برس تک رات کومسلسل جاگنے سے اب نیندآنکھوں سے اڑگئی ہے اب مجھے رات کونیندنہیں آتی، زندگی کے دن پورے ہونے کوآئے پھربھی اب عادت بن چکی ہے۔ میں رات کوجاگتی ہوں ، دن کوسوتی ہوں ۔ مجھے معلوم نہیں دن کیساہوتاہے بھورکیسی ہوتی ہے سورج کدھرسے نکلتاہے تم میری فکر نہ کروبیٹا، سوجاؤ آرام سے سوجاؤ۔

      (باون پتے ، ص 251-)

      جمناجوکسی زمانے میں ایک کسان کی بیٹی تھی مگروقت اورحالات نے اسے ممبئی کی ایک مشہور طوائف بننے پرمجبورکیا۔

      ان ناولوں  میں  انہوں  نے فٹ پاتھ پرمقیم جیب کتروں  ، فلم انڈسٹری کی بدعنوانی، غیراخلاقی کاموں میں ملوث مزدوراور طوائفوں  سے جسمانی تعلقات رکھنے والے متمول گھرانوں کے افرادکی قلعی کھولی ہے۔اس کے علاوہ ممبئی کے ان معصوم بچوں  کے جرائم کوموضوع بنایاہے جوسرمایہ دارانہ نظام کے زیراثرپورے ملک میں وائرس کی طرح پھیلاہواہے۔ آج بھی ہندستان کے بڑے شہروں میں خاص طور پرتین بتی کے اطراف میں معصوم بچوں کے ذریعہ غیراخلاقی وغیرقانونی طورپرایسے ایسے کام لیے جاتے ہیں جسے ہم تصوربھی نہیں کرسکتے۔

      عصمت چغتائی نے’معصومہ‘ میں ایک معصوم لڑکی کے طوائف بننے کے پیچھے سرمایہ دارانہ نظام کو قصوروار ٹھہرایاہے جوروپیوں ، زیورات وقیمتی لباس کالالچ دے کرمعصوم لڑکیوں کاجنسی وجذباتی استحصال کرتے ہیں  اور انہیں  کال گرل بننے پرمجبورکرتے ہیں ۔ وہ غلاظت کے دلدل میں اس قدرپھنس جاتی ہیں  کہ انہیں شرم وحیا، عزت واحترام اوراخلاقی رشتے ایک معمولی شے نظرآنے لگتے ہیں ۔ احمد بھائی، سورج مل، راجہ صاحب ، احسان صاحب اوردیگرکرداروں کے ذریعہ عصمت نے اس ماحول کوپیش کیاہے جہاں  معصوم لڑکیوں کاذہنی وجنسی استحصال کیاجاتاہے۔ عورت کو ذریعہء تجارت سمجھاجاتاہے۔ روزگار کالالچ دے کران کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ معاصرعہدمیں ممبئی، دہلی و دیگربڑے شہروں میں حقوق نسواں  و تحفظ زن کانام دے کراس زہریلی بیماری کو مزیدبڑھاوادیاجارہاہے۔

      ’تین بتی کے راما‘ علی امام نقوی کا ایک شاہکارناول ہے۔ یہ ناول ممبئی کے متمول گھرانوں  میں  کام کرنے والے راماؤں کی زندگی پرمبنی ہے۔ ان کی زندگی کے نشیب وفرازاور روزمرہ کے حالات پرمبنی یہ ناول بہت ہی خوبصورتی سے اعلی اورادنی طبقہ کی زندگی کوپیش کرتاہے۔ انھوں نے ایک ایسے موضوع کو پیش کیاجوآج نہ صرف ممبئی بلکہ ہندستان کے مختلف شہروں میں بڑی تیزی کے ساتھ اپنی جڑیں مضبوط کر رہاہے۔ اس ناول میں زندگی کے تاجرانہ رویے، استحصال، دولت اور غریب وافلاس کی نفسیات اورسرمایہ داروں کی حقیقت کاپردہ فاش کیاہے۔ ناول میں جوسماجی نظام پیش کیاگیاہے وہ صرف ہندستان ہی نہیں  بلکہ تھوڑے فرق کے ساتھ سارے جہاں کاہے۔ کیوں کہ ممبئی کے راماجس طرح کی پریشانیوں اورنفسیاتی الجھنوں کے شکار ہیں وہی مسائل دنیامیں پھیلے ہوئی تمام مزدوروں کے ہیں ۔ جسمانی، جنسی، اخلاقی اور معاشی طورپرمزدوروں کااستحصال کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ایک ایسے سماج میں جہاں مساوی حقوق رکھتا ہے اس میں بھی سرمایہ دارانہ اورزمیندارانہ ذہنیت کی موجودگی ہمیں ماضی کے سماجی نظام کی یاد دلاتاہے۔ اس میں  بڑے شہروں  اورمادیت زدہ معاشرے کی خوبیاں  اور خامیاں  یکجا نظرآتی ہیں ۔ تمام سہولیات کے باوجوداعلی طبقہ نفسیاتی اور روحانی سطح پربالکل بے چین ہے۔ یہ لوگ سکون واطمینان تلاش کرنے کے لیے شراب جیسی اشیاء کااستعمال کرتے ہیں ۔ جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے کبھی کبھی ملازموں کا استعمال کرتے ہیں مگر اس سے ان کی شرافت و اسٹیٹس کو کوئی گزند نہیں پہنچتی۔ مگرجب ان کے گھناؤنے کارنامے منظر عام پر آنے لگتے ہیں  تو اچانک انہیں  اپنے اعلی سماجی مرتبہ اور طبقاتی وقار کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ناول کایہ اقتباس اس کی مکمل ترجمانی کرتاہے:

’’کچھ تو اسٹیٹس کا خیال کرتے … وہ دو کوڑی کا ڈرائیور۔ ہمارے گھر آکر ہمیں  گالیاں  دے گیا۔ اس نے تمھارے سامنے مجھے اپنے ساتھ سلانے کی بات کی۔ کیونکہ تم نے اس کی دو کوڑی کی پریمیکا کو اپنے بیڈ پر بلایا تھا۔ اسے اپنے ساتھ سلایا تھا۔ مجھے … مجھے تمھاری حرکت پر نہیں ، تمھاری چوائس پر اعتراض ہے۔ کتنا گھٹ گیا ہے تمھارا ٹیسٹ جھاڑو کٹکا کرنے والی، سکو بائی، چھی چھی چھی …‘        ( تین بتی کے راما، ص: 145)

       ممبئی ایک بڑا شہرہے جہاں ہندستان کے مختلف علاقوں  سے لوگ ذریعہء معاش کے لیے آتے ہیں اوریہیں ان کی گزربسرہوتی ہے۔ ممبئی کی رونق اورتہذیب انہیں کی بدولت قائم ہے۔ اس ناول میں  تہذیبی تصادم کوبہت خوبصورتی سے پیش کیاگیا ہے۔ ظاہر ہے یہ راما صرف راما یا نو کر نہیں  ہیں  بلکہ  مختلف تہذیبوں  اورزبانوں  کے علمبردارہیں ۔ ناول کاایک کردارچیت نرائن جس کاتعلق پوروانچل سے ہے وہ بھوجپوری بو لتاہے ۔ سکوممبئی کی ہونے کے سبب بمبئی کی لوکل زبان بولتی ہے۔ سیٹھ، سیٹھانی اوران کے بچے ممبئی کے اشرافیہ طبقہ کی زبان استعمال کرتے ہیں ۔ موہن جوـابھی نووارد ہے، تہذیبوں  کی کشاکش اورمختلف سماجی طبقات کی آمیزش سے کبھی پریشان ہوتا ہے توکبھی خودکواسی ماحول کا حصہ بنانے کی کوشش کرتاہے۔ یہ تہذیبی تصادم انہیں  خارجی اورداخلی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ کردار اس طرح کی زندگی گزارنے والوں  کے نمائندہ ہیں  جوممبئی ہی کیا ہر مہانگر میں  کسی نہ کسی روپ میں  نظر آتے ہیں ۔

       علی امام نقوی ناول میں  کسی تہذیب کے ساتھ تعصب یا نرم گوشہ اختیارنہیں کرتے بلکہ ہر کردار کو اس کی تہذیب کے پیرائے میں  دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ رامائوں کومظلوم اورسیٹھوں  کوظالم کے طور پربھی پیش نہیں کرتے بلکہ ہرایک کے اندرانسانی خامیاں اوربشری کمزوریاں خودبخودنظرآتی ہیں ۔راماؤں  کی زندگی کے نشیب وفراز اور روزمرہ کے حالات پرمبنی یہ ناول بہت ہی خوبصورتی سے اعلی اورادنی طبقہ کی زندگی کوپیش کرتا ہے۔ قبل آزادی اورٓزادی کے بعداس سرمایہ دارانہ ذہنیت کوپریم چند، کرشن چندر اور دوسرے ناول نگاروں نے اپنے ناولوں میں پیش کیا ہے ، مگرعلی اما م نقوی نے اسے مختلف اندازمیں  دیکھنے کی سعی کی ہے۔ یہاں  راما پریم چند کے بندھوامزورنہیں  ہے جن کا استعمال جائزوناجائزطریقے سے کیا جاتا تھا۔ یہاں  راما اورآیا اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے وہ تمام طریقے اختیارکرتے ہیں  جس سے انھیں  مادی طورپرفائدہ حاصل ہوسکے۔

      کرشن چندرکی’ جمنا‘، عصمت چغتائی کی ’معصومہ‘ اورعلی امام نقوی کی’سکو‘ایسے نسوانی کردار ہیں  جواسی سماج کی زائیدہ ہیں  اس لیے ان کے یہاں بھی حیا، عزت اورغیرت کوئی معنی نہیں  رکھتے۔ لاچاری و بے بسی کے سبب چندروپیوں کے عوض اپنے جسم کاسوداکرتی ہیں ۔  ساتھ ہی ساتھجسمانی حسن برقرار رکھنے کے لیے سیٹھوں  کی ناجائز اولادوں  کوضائع کرانے کی غرض سے اپنے جسم کوبارباراذیت پہنچاتی رہتی ہیں اور بدلے میں  مہنگے کپڑے، عیش وآرام اور روپئے وصول کرتی ہیں ۔ گاؤں  اور شہر کے تضادات کو ناول میں  بڑی فن کاری کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ گاؤں  میں  جو اشیاء ہمارے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ، وہ ممبئی جیسے شہر میں  معمولی شئے یا اقدار سمجھی جاتی ہیں ۔ بڑے شہروں  میں  نام نہاد ترقی یافتہ افراد ان مسائل کو سنجیدگی سے نہیں  لیتے اور ایسا کرکے وہ خود کو ترقی یافتہ کہلانے میں  زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں ۔

      علی امام نقوی کے یہاں طبقاتی کش مکش کوتھوڑامختلف اندازمیں پیش کیاگیا ہے۔ ان کے یہاں  پریم چند، کرشن چندرودیگرناول نگاروں کی طرح سرمایہ دار اورمزدورکے مابین کوئی طبقاتی کشمکش نہیں ہے بلکہ دونوں  کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہوتاہے جس کے تحت ایک دوسرے کواستعمال کرتے ہیں ۔ مگر راماؤں کی جنسی خواہشات کے تکمیل نہ ہونے پرطبقئہ اشرافیہ کونشانہ بنانے سے بھی نہیں چونکتے۔ ناول کایہ اقتباس:

’’سچی بولی توٗ … ایک دم پاگل ہوگیا ہوں  اور … سن … توٗ پن پاگل ہو جائے گی … یہ کتے … دو ٹنگری والے کتے… کچھ سمجھ رہی کیا؟

جا -سوجا۔ پن یاد رکھنا۔ تیری ہڈی پر جب تلک ماس ہے۔ یہ کتے …‘‘

      (تین بتی کے راما، ص: 48)

      علی امام نقوی مبالغے سے انحراف کرتے ہوئے من و عن حقیقتوں  کو پیش کرنے کی سعی کی اور کرداروں  کے ذریعہ معاشرے کی ننگی حقیقتوں و شرم ناک سچائیوں  کو اجاگر کیا ہے۔ایسے موضوعات کے متعلق گفتگوکرناایک جرأت مندانہ قدم ہے۔ ان کی اس بے باکی نے انسانی اقدار کے نام نہاد پاسداروں  کی قلعی کھولی ہے ۔        الغرض ان تمام ناولوں کے جائزے سے یہ بات ظاہرہوتی ہے کہ اردوناولوں کے موضوعات میں تنوع ہے۔ ممبئی کومرکزمیں رکھ کر ہندستان کے دیگرشہروں  کی تہذیبی، سماجی اورمعاشی حقیقتوں کوبخوبی سمجھاجاسکتاہے۔  ملازموں  و مالکوں  کے جسمانی تعلقات، فلم انڈسٹری کی بدعنوانی، غریب مزدوروں کی آرزوئیں او ر ان کا در د و غم ان ناولوں  میں  موجود ہیں ۔ناول نگاروں نے ان موضوعات کوبڑی فن کاری کے ساتھ پیش کیاہے۔ ان ناولوں کے ذریعہ معاشرے کے تقریباسبھی پہلوؤں کوبے نقاب کیاگیاہے۔ یہ تمام ناول محنت کش طبقہ کے ساتھ ساتھ طبقہء اشرافیہ کی سماجی زندگی کی مکمل ترجمانی کرتے ہیں ۔

……….

شاہنوازاحمد

ریسرچ اسکالر

شعبئہ اردو،دہلی یونیورسٹی

           موبائل۔9250830941

      ای۔میل۔shaanfir@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.