ٹیگور کی افسانہ نگاری اور سماجی مسائل

بیسویں صدی کے آغاز کو اردو افسانے کی ابتدا قرار دیا جاتا ہے جبکہ بنگلہ میں انیسویں صدی کے اختتام تک رابندر ناتھ ٹیگور (1861 – 1941) کے پچاس افسانے منظر عام پر آچکے تھے۔ ان افسانوں میں زندگی کے حقائق کو پیش کیا گیا تھا۔ گاؤں کے ماحول ، اس کے سماجی، سیاسی اورمعاشی حالات کے علاوہ سماج میں رائج غلط رسم و رواج کو افسانوں کا موضوع بنایا گیا تھا۔ٹیگور نے اپنی افسانہ نگاری کا آغاز اس وقت کیا جب وہ اپنی زمینداری کی دیکھ بھال کے لیے پدماندی کے کنارے بسے گاؤں کا دورہ کرنے گئے ۔ وہاں کی آب و ہوا کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رہن سہن اور رسم و رواج نے ان کے ذہن کو کافی متاثر کیا۔ خواہ وہ قدرتی مناظر ہوں یا سماجی و معاشرتی مسائل دونوں کا عکس ا ن کے افسانوں میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ تین جلدوں پر مشتمل کلیات ’گلپ گچھ‘  میں ان کے 84  افسانے ہیں بعد میں چوتھی جلد میں بھی ان کی کئی کہانیاں شامل ہوئیں۔ نوکا ڈوبی، سنگ تراش، شعلۂ آب، آزادی کا دیوتا، خونی سماج، وطن پرست اور کابلی والا ان کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔ٹیگور کے مشہور افسانوں میں کابلی والا، پوسٹ ماسٹر، ایک رات ، اتیتھی، دولہا دلہن، زندہ و مردہ، مظلوم ، دولت کا نشہ، لین دین، پڑوسن، ناآشنا، وصیت نامہ، خانہ بدوش، آزمائش کی رات، بیوی کا خط، پوشیدہ دولت،ناکام محبت اورخاموش حسن کا نام لیا جاسکتا ہے۔

رابندر ناتھ ٹیگورکے افسانوں کا تعلق جن موضوعات سے ہے وہ معاشرے میں بکھرے ہوئے وہ سنگین مسائل ہیں جو زندگی کے حقائق کو بیان کرتے ہیں۔ان کے افسانے امیروں کی ٹھاٹ باٹ سے لے کر غریب اور مسکین طبقے کی غربت اور معاشرتی و سماجی بدحالی کی عکاسی کرتے ہیں۔ان کی کہانیوں کو پڑھ کر قاری کا ذہن ان سنگین مسائل سے بغاوت کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ سماج میں پھیلے جادو ٹونے کے ذریعہ سادہ لوح انسانوں کو کس طرح توہم پرست بنایا گیا ہے،لوگ اندھ وشواس میںکس حد تک ڈوبے ہوئے ہیں، ان مسائل کوبھی اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ۔ اس کے علاوہ انھوں نے بچوں کی نفسیات پر کئی کہانیاں تحریر کی اور اپنی کہانیوں میں عورتوں کے سماجی و معاشی اور گھریلومسائل کو بھی بخوبی پیش کیا ۔ ٹیگور کی افسانہ نگاری کے تعلق سے سومناتھ متر لکھتے ہیں:

’’۔۔ ان کی کہانیوں میں دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان میں ٹیگور کے گرد و پیش کے حالات اور ماحول کا عکس پایا جاتا ہے۔ ان پر جو تصورات اور احساسات غالب تھے ان کا پتہ چلتا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سے مسائل تھے جو زندگی میں ان کو اکثر پریشان کیا کرتے تھے۔‘‘   (اکیس کہانیاں (رابندر ناتھ ٹیگور) مترجم ابو الحیات بردوانی،تمہید ص 11ساہتیہ اکادمی، دہلی1981)

 ٹیگور نے افسانوں کے علاوہ کئی ناول بھی تحریر کیے جن میں کرونا، ٹھاکرانی کی ہاٹ، راج رشی، چوکھیر بالی، گورا، چتورنگا، گھرے بائرے، جوگا جوگ، دوئی بون، مالنچہ، چاراُدھیہ وغیرہ اہم ہیں مگر ان میں ان کا ناول ’گوراـ ـ‘ فکری اور فنی اعتبار سے نہایت چست و درست ہے۔ٹیگور ایک حقیقت نگار، ماہر نفسیات اور غیر معمولی واقعات کو تاریخ بنانے کے فن سے واقف تھے۔ ان کی کہانیاں سیدھے دل میں اترتی ہیں۔ان کے کردار انسانیت اور انسانی نفسیات کے آئینہ دار ہیں۔ جن میں مرد ، عورت، بچے، بوڑھے ، غریب و امیر اپنے مخصوص نفسیات کے ساتھ ہمارے سامنے جیتے جاگتے نظر آتے ہیں۔ جو مبالغہ اور تصنع سے دور حقیقت کے عکاس ہیں۔ ٹیگور کے ناولوں اور افسانوں میں کردار نگاری پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر صغیر افراہیم لکھتے ہیں:

’’ٹیگور کے ناولوں اور افسانوں کے نمائندہ کرداروں میں سوبھاشنی، منی، مہندر، آشا، لکشمی، سری بلاس، آنند پرشاد، شیوتوش، لیلا نند سوامی، رتن ، تاراپد، مرنمئی ، بنودنی، دامنی، رحمت، سندیپ، بملا، آیلا وغیرہ ہیں جنھیں قاری ان کی عادات و اطوار، حرکات و سکنات کی وجہ سے فوری پہچان لیتا ہے۔۔۔‘‘ (ٹیگور کا افسانوی ادب- ایک مطالعہ، از پروفیسر صغیر افراہیم، مشمولہ رابندر ناتھ ٹیگور: فکر و فن۔مرتبہ خالد محمود، شہزاد انجم،ص 450 مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی2012 )

’کابلی والا‘ ٹیگور کا سب سے زیادہ مقبول افسانہ ہے۔ جس پر فلم بھی بن چکی ہے۔ اس افسانے میں ٹیگور نے انسانی نفسیات کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار رحمت ڈرائی فروٹ بیچنے والا ہے۔جسے ایک پانچ برس کی بچی مینی اپنی بھولی بھالی باتوںسے اپنا دوست بنا لیتی ہے۔ وہ اس قدر متاثر کرتی ہے کہ اس میں اسے اپنی بیٹی کا عکس نظر آنے لگتا ہے۔مینی کے کردار میں ٹیگور نے بچے کی معصوم نفسیات کو بڑی خوبی کے ساتھ ابھارا ہے۔ جس میں امیر غریب کی تفریق کوئی معنی نہیں رکھتی۔کہانی میں اس وقت موڑ آتا ہے جب لمبے عرصے کے بعد کابلی والا مینی سے ملنے آتا ہے اور اس کا والد ملنے کو منع کردیتا ہے۔ مگر جب اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ مینی میں کابلی والے کو اپنی بیٹی نظر آتی ہے اسی لیے ملنے آتا ہے تو اسے ملنے سے نہیں روک پاتا۔اس پوری کہانی میں نفسیات کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ سرحدوں سے دور، الگ ملک، الگ سماج اورالگ رسم و رواج ہونے کے باوجود دونوںکہیں نا کہیں ایک ہیں وہ ہے باپ ہونے کی حیثیت۔ ٹیگور نے اس میں دکھایا ہے کہ خواہ کوئی کہیں کا بھی باشندہ ہو مگر وہ کہیں نا کہیں ایک ضرور ہے ۔ ان کی نفسیات اور سوچ ایک ہی طرح ہیں۔ٹیگور نے اس کہانی کے کردار کو اپنی تخیل کے مطابق گڑھا ہے اور ان سے ایسی ہمدردی جتائی ہے گویا یہ حقیقی واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کہانی کے پڑھنے کے بعد قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

 ’ناآشنا‘ بھی بہت دلچسپ کہانی ہے جس میں ٹیگور نے سماج میں پھیلے غلط رسم و رواج کوابھارا ہے۔ خاص کر جہیز کو سماج کے لیے ناسور بناکر پیش کیا ہے۔ٹیگور نے اس کہانی میں معاشرے میں پل رہے جہیز جیسے ناسور پر ایک ماہر جراح کا کام کیا ہے۔ لڑکے والوں کی بے جا مانگ کے پیش نظر بارات کو لوٹانا لالچی معاشرے کے منہ پر ایک ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ ایک ترقی پسند نظریے کو پیش کرتا ہے۔اس افسانے کا اہم کردار لڑکے کا مامو ں ہے جس کے اشاروں پر لڑکا کٹھ پتلی کی طرح ناچتا ہے۔ اس کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہے۔ اس کے برعکس لڑکی کے باپ کا کردار متحرک او رجیتا جاگتا ہے جو سماج کے جھوٹے رسم و رواج سے بے خوف جہیز کے لالچی بارات کو لوٹاکر معاشرے کو ایک نئی راہ دکھاتا ہے۔ ٹیگور نے اس وقت اس موضوع کو ابھارا جس وقت کسی میں اس طرح کافیصلہ لینے کی ہمت نہیں تھی۔جہیز اور لڑکی کے مسائل پر تنقید کرتے ہوئے قاری کو اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ بھی ان برائیوں کے خلاف آواز اٹھائے اور اس برائی کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔

’پوسٹ ماسٹر‘ بھی ایک مقبول کہانی ہے جس میں قدرتی مناظر کی خوب عکاسی کی گئی ہے۔ کہانی میں ڈاک بابو کو شہر سے دور ایک چھوٹے سے دیہات میں نوکری ملتی ہے۔ وہیں پر رتن نامی ایک چھوٹی اور مسکین لڑکی رہتی ہے جو ڈاک بابو کے کام کاج میں ہاتھ بٹا دیتی ہے جس کے بدلے اسے کھانا مل جاتا ہے۔ ڈاک بابو جب بیمار ہوتا ہے تو وہی لڑکی اس کی تیمارداری کرتی ہے۔ مگر ڈاک بابو کا دل اس بستی میں نہیں لگتا اور وہ بستی چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ ٹیگور نے اس میں بتایا ہے کہ ساتھ رہتے رہتے ڈاک بابو سے لڑکی کی انسیت کیسے بڑھ جاتی ہے۔ پوسٹ ماسٹر کے بیمار ہونے پرایک چھوٹی سی لڑکی اس کی کیسی تیمار داری کرتی ہے، وہ راتوں رات کس طرح ایک عورت کی طرح خیال رکھنے لگتی ہے جسے ٹھیک طرح اپنا شعور بھی نہیں تھا۔ کہانی کے اخیر میں جب ڈاکیہ اپنی جگہ چھوڑ کر جانے لگتا ہے اور وہ لڑکی اس کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے تو اس کے جذبات کا خیال کیے بغیر فوراً انکار کردیتا ہے ۔اس سے کہانی میں اچانک موڑ آجاتا ہے۔ آخرکار ڈاک ماسٹر گاؤں چھوڑ کر کہیں دور چلا جاتا ہے اور واپس کبھی نہیں آتا۔ مگر لڑکی اس کے آنے کا انتظار کرتی رہتی ہے۔یہ پوری کہانی کئی جگہ نئے موڑلیتی نظر آتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ لڑکی کو اپنے ساتھ لے جائے یا اپنے راستے سے واپس آجائے ۔ مگر ٹیگور نے اپنی کہانی میں یہ پیش نہیں کیا۔ لڑکی کو ڈاک ماسٹر کے ساتھ رہتے رہتے اتنی انسیت ہوجاتی ہے کہ جب وہ چلا جاتا ہے او رکبھی واپس نہیں آتا، تب بھی وہ اس کا انتظار کر تی ہے۔ ٹیگور نے جہاں یہ دکھایا ہے کہ عورت کے مقابل مرد ذات جذبات سے عاری ہوتا ہے وہیں اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو انتظار میں اپنی زندگی گزارسکتے ہیں۔

ٹیگور نے اپنی کہانیوں کا موضوع سماج میں پھیلے غلط عقائد کو بھی بنایا ہے۔ کہانی ’زندہ و مردہ‘ میں جب کادمبنی نامی بیوہ کی حرکت قلب بند ہوجاتی ہے اور اسے مردہ سمجھ کر جلانے لے جاتے ہیں کہ شمشان گھاٹ پر اس کو ہوش آجاتا ہے اور وہ وہاں سے فرار ہوجاتی ہے۔ کچھ دنوں بعد جب وہ سماج میں آتی ہے تو سماج اسے قبول نہیں کرتا ۔ اس کو انسانی سایہ کہہ کر اس سے بھاگتا ہے۔ وہ لاکھ کہتی ہے کہ میں زندہ ہوں ، میں زندہ ہوں مگر سماج نہیں مانتا۔ آخر کار وہ اپنی جان دے کرثابت کرتی ہے کہ وہ مری نہ تھی زندہ تھی۔ ٹیگور نے اس کہانی میں بتایا ہے کہ سماج میں کیسے کیسے غلط خیالات پنپ رہے ہیں۔ غلط عقائد کی وجہ سے ماں اپنے بیٹے کو بلی چڑھا دیتی ہے۔ بیوہ سے لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں اور اس کے سائے سے بھاگتے ہیں۔ سماج میں پھیلے اس غلط توہم پرستی اور رسم ورواج کے سبب عورتوں کوکن کن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہاں تک کہ کبھی کبھی انہیں اپنی جان بھی گنوانی پڑجاتی ہے۔

اتیتھی (مہمان) ٹیگور کا ایک مختلف انداز کا افسانہ میں جس میں تاراپدو نامی بچے کو تمام صلاحیتوں کا مالک بناکر پیش کیا گیا ہے۔ اسے تقریباً ہر چیز کے بارے میں علم ہے اور اگر کسی بات کو نہیں جانتا تو اسے سیکھنے میں دیر نہیں لگتی۔ وہ جس شخص سے ملتا اسے اپنا بنالیتا۔ مگر وہ کہیں بھی مستقل نہیں ٹھہرتا۔ گھر چھوڑنے کے بعد مختلف اوقات میں مختلف قافلہ کے ساتھ رہتا ہے۔ کہانی کا انجام بڑا ڈرامائی ہے۔ چاروششی کا باپ اپنی بیٹی کی شادی اس کے ساتھ کرنے کے لیے مکمل انتظامات کرنے کے علاوہ اس کے والدین کو بھی بلالیتا ہے ۔اگلے دن اس کی شادی ہونی ہے کہ اسی دن تاراپدو کہیں نکل جاتا ہے۔ گویا اسے بندھن برداشت نہیں۔منظر کشی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس افسانے میں قدرتی ماحول کی حسین عکاسی کی گئی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’۔۔۔۔ ہریالی سے ڈھکے ہوئے ڈھلواں کنارے ، پانی سے بھرے ہوئے پٹسن کے کھیت، دھان کی مٹیالی بالیوں کا ہوا میں جھومنا، ندی کے گھاٹ سے دیہات تک جاتی ہوئے پگڈنڈی، گھنے جنگل سے گھرے اور سایہ سے ڈھکے ہوئے گاؤں، یہ سب باری باری اس کی آنکھوں کے سامنے گذرتے جارہے تھے۔۔۔‘‘ (اکیس کہانیاں(رابندر ناتھ ٹیگور) مترجم ابو الحیات بردوانی،ص 160,ساہتیہ اکادمی، دہلی1981)

ٹیگور نے اپنی تخلیقات بنگلہ زبان میں پیش کیں۔ مگر ان کی تخلیقات کے تراجم بڑے پیمانے پر دیگر زبانوں میں بھی ہوئے۔نرائن دت سہگل اینڈ سنز ، لاہور اور مکتبہ شاہر اہ، دہلی نے ان کی کئی کہانیوں کے اردو تراجم شائع کیے۔ ساہتیہ اکادمی نے ٹیگور کی تصانیف کا اردو میں ترجمہ کرایا۔ ان کی تصانیف کے ترجمے پروفیسر مجیب، فراق گورکھپوری، سجاد ظہیر ، پریم چند، ابو الحیات بردوانی اور دوسرے ادیبوں نے کیے۔ ٹیگور کی تخلیقات جب دوسری زبانوں میں پہنچیں تو دوسری زبانوں کی طرح اردو بھی ان کی تخلیقات سے متاثر ہوئی اور ان کی کہانیوں کا اردو زبان و ادب پر کئی اعتبار سے اثر پڑا۔ پریم چند، مجنوں گورکھپوری، سجاد ظہیر وغیرہ ٹیگور کے افسانوںکے پلاٹ ،موضوعات اورکرداروںسے متاثر نظر آتے ہیں۔

 ٹیگور نے اپنی تخلیقات میں مغرب کی تقلیدنہیں کی اور نہ ہی اسے پسندکیا۔ اس کا انہوں نے خود اعتراف کیا ہے۔ گیتانجلی کا انگریزی ترجمہ خود کرکے یورپ میں پیش کیا۔ ان کی اسی تخلیق پر انہیں نوبل انعام برائے ادب بھی ملا۔ اس وقت ان کی تعریف و توصیف وہ لوگ بھی کرنے لگے جو ٹیگور پر تنقید کرتے نہیں تھکتے تھے۔ افسوس کی بات ہے کہ ٹیگور کی تخلیقات پر اس وقت توجہ دی گئی جب اسے یورپ نے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ ورنہ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ بنگالی زبان میں ایسی نادر تخلیقات موجود ہیں۔ آج بھی ہندوستان کے مختلف زبانوں میں کئی اہم تخلیقات موجود ہیں مگر ان پر کم توجہ دی جارہی ہے۔ کیونکہ ہمیں مغرب کی تقلید کرنے کی ایک عادت سی ہوگئی ہے۔ٹیگور نے ہمارے اسی نظریے پر تنقید کی ہے کیونکہ انہیں ایسا کبھی پسند نہیں تھا۔

 ٹیگور کی کہانیوں میں اکثر کردار نچلے طبقے کے لوگ نظر آتے ہیں جن سے ٹیگور کو گاؤںمیں رہنے کے دوران ملنے کا موقع ملا تھا۔ اور انہوں نے اپنی کہانیوں میں انہیں واقعات کو جگہ دی جو انہیں اس دیہات میں محسوس ہوئے یا ایسے واقعات جو غریب گھرانوں میں ہوتے رہتے ہیں جیسے پوسٹ ماسٹر، کابلی والا، نا آشنا اور زندہ مردہ وغیرہ۔ ٹیگور کی کہانیوں میں غریب اور نچلے طبقے کے لوگوں کے مسائل کو اٹھایا گیا ۔ وہ بھی پوری ہمدردی اور واقفیت حاصل کرنے کے بعد کہانی میں جگہ دی گئی۔ٹیگور اور دوسرے افسانہ نگاروںمیں فرق یہ ہے کہ ٹیگور نے خود دیہاتی زندگی دیکھی ، ان کے ساتھ رہ کر ان کے دکھ درد کو قریب سے دیکھا پھر انہیں واقعات کو کہانی کی شکل  دی۔ لہٰذا ٹیگور کی کہانیاں حقیقی زندگی و سماجی مسائل پر مبنی ہیں۔ ٹیگور کی شخصیت کو صرف ان کی تحریروں سے نہیں پرکھا جاسکتا بلکہ ان کی ذات کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ بقول سومناتھ متر:

’’رابندر ناتھ ٹیگور کے تصانیف کی رنگا رنگی اور گہرائی سے ان کی اعلیٰ اور رفیع الشان شخصیت کا انکشاف ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہا ہے کہ شہنشاہ شاہ جہاں اپنی تخلیق سے ارفع و اعلیٰ تھا۔ وہی بات خود رابندر ناتھ پر بدرجہ اتم صادق آتی ہے۔۔۔‘‘ (اکیس کہانیاں (رابندر ناتھ ٹیگور) مترجم ابو الحیات بردوانی، ص 8ساہتیہ اکادمی، دہلی1981)

حوالہ جات

اکیس کہانیاں (رابندر ناتھ ٹیگور) مترجم ابو الحیات بردوانی، ساہتیہ اکادمی، دہلی1981

ٹیگور شناسی، شمیم طارق، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی ۔ جون 2013

رابندر ناتھ ٹیگور : فکن و فن کے ہزار رنگ، مرتبین: وہاج الدین علوی، شہزاد انجم،جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، ستمبر 2013

رابندر ناتھ ٹیگور: شاعر اور دانشور، مرتبین: وہاج الدین علوی، شہزاد انجم،جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، نومبر 2013

 رابندر ناتھ ٹیگور: فکر و فن۔مرتبہ خالد محمود، شہزاد انجم، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی2012

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 محمد شمس الدین

اسسٹنٹ ریجنل ڈائرکٹر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد

موبائل: 9911487568، ای میل: mshamsdu@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.