اردو فکشن میں تانیثیت کی منفرد آواز: عصمت چغتائی

عصمت چغتائی

 اردو فکشن پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات عیاں ہو تی ہے کہ اردو میں تانیثیت کے ا ثرات انیسوی صدی کی آخری دہائی سے ہی پڑنے لگے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خواتین کے لیے حصول تعلیم کومعیوب سمجھا جا تاتھااورمرد معاشرے میں خواتین کو مقید کرنا ہی بہادری کا ثبوت مانا جاتاتھا ۔اگرچہ اس کے کئی وجوہات تھے لیکن اس کی ایک وجہ جاگیر دارانہ نظام کا ہونا بھی تھا کیوں کہ اس نظام میں عورتوں کو صرف جنسی تسکین اور دل بہلانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اوران کوگھر کی چاردیواری کے اندر ہی مقید کیا جاتا تھاجس کی وجہ سے وہ باہر کی دنیا سے ناواقف تھیں۔ لیکن وقت نے آہستہ آہستہ اپنا رخ بدلنا شروع کردیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرد سماج نے خواتین کی تعلیم کی اہمیت و ضرورت کو محسوس کیا اور انھیں نہ صرف جدید تعلیم کی طرف گامزن کرنے کی سعی کی بلکہ آنے والی رکاوٹیں بھی دور کردیں ۔

     ڈپٹی نذیر احمد تقریباًپہلے ایسے مصنف ہیں جنھوں نے عورتوں کی نا خواندگی کو محسوس کیا اورانھیں اس تاریکی سے نکالنے کی خاطر ایک نئی صنف کی بنیاد ڈال دی۔ ان کا مقصد اپنی لڑکیوں کو تعلیم و تربیت تھااور یہی مقصد انھیں طبقہ نسواں میں مقبولیت دلانے کا باعث بنا۔اس وجہ سے اردو فکشن میں تانیثیت باضابطہ نہ سہی لیکن اولاً ڈپٹی نذیر احمد کی تخلیق میں ہی ملتی ہیں جنھوں نے اس وقت باقاعدہ اور باضابطہ عورتوں کی اصلاح و تربیت کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنایا ۔ اگر چہ ان کاانداز خالص مشرقی تھا لیکن مغربی تعلیم کی تبلیغ کرتے ہوئے وہ کہیں نظر نہیں آتے مگر پھر بھی سرسید کی تحریک اور پوری ہندوستانی تناظر میں ان کے ناولوں نے بڑاکام کیااور عورتوں کی جماعت پر براہ راست اثرڈالا ،ان کے بعد رتن ناتھ سرشار، راشدالخیری، مرزا رسوا، پریم چند اور کئی خواتین بھی اس میدان میں سرگرم رہیںاور اپنی بیداری اور حقوق سے شناسائی کا برملا اظہار کیا اور اپنے اپنے زاویہ نظر سے عورت پر ہورہے ظلم و ستم اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ان ادیبوں کی نظروں میں گھر کے مسائل تو تھے لیکن گھر کے باہر کا کوئی تصور نہیں تھا، یہ سب مسائل کہاں سے جنم لے رہے ہیںاور ان کے سماجی و معاشرتی اسباب کیا ہیں، زمیندارانہ و جاگیردارانہ ماحول کی کیا نفسیات ہوتی ہے، طاقت و طبقات کے کیا پیچ و خم ہوتے ہیں ان سب کے حوالے سے کوئی واضح نظریہ نہیں تھااور نہ کوئی منضبط فکر اور اس دور میں اتنی جلدی ایسا ممکن بھی نہ تھااس لیے یہ سب محض روایاتی داستان غم اور مظلومیت کی یک رخی کہانیاں بن کر رہ گئے۔

      دیکھا جائے تو اردوفکشن میں تانیثیت کا باقاعدہ آغاز ۱۹۳۲؁ میں انگارے کی اشاعت کو مانا جاتاہے ۔یہ بڑی اہم بات تو یہ ہے کہ ان افسانوں میں سماجی اقتصادی اور جنسی مسائل کے علاوہ مرد حضرات کی جانب سے عورتوں پر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف آواز اُٹھائی گئی۔انگارے کی اشاعت نے تانیثی تحریک کو مقبولِ عام کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیاہیں۔ اس دور میں جس مسلم عورت نے پہلے اس حد کو توڑا اور روایت سے بغاوت کرکے عالمگیر نظریات کو سمجھتے ہوئے ملک گیر مسائل کو چھوا اور چھیڑا، وہ ڈاکٹر رشید جہاں ہے۔ان کے بعد جو مصنفین تانیثیت کے حوالے سے ہمارے سامنے آئے ان میں عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی ، کرشن چندر ، خدیجہ مستور، قرۃالعین حیدر ،وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔ان فکشن نگاروں کی وجہ سے اردو ادب میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہیں۔

     غرض اردو فکشن میںتانیثیت کے ابتدائی نقوش جس عورت کے یہاں ملتے ہیں وہ ڈاکٹر رشید جہاں ہیں جنھوں نے ان تمام فرسودہ اور استحصالی طرز ِ نظام کے حصار کو ڈھادیا۔بعد میں اسی روایت کو عصمت چغتائی اور دوسرے فکشن نگاروں نے آگے بڑھایا۔لیکن عصمت چغتائی نے اس میدان میںاپنا ایک الگ راستہ بنایا ۔انھوں نے اپنی تحریروںکو ایک خاص میدان کے لیے منتخب کیا جس میں انھوں نے متوسط گھرانوں کی لڑکوں اور لڑکیوں کو موضوع بنالیا۔ان کی تخلیق میں متوسط طبقے کے گھرانوں کی اخلاقی ، معاشی، معاشرتی اور ذہنی زندگی کا اظہار دیکھنے کو ملتا ہیں۔ جس کو انھوں نے بڑی بے باکی اور ہنر مندی سے پیش کیا۔ ان کے یہاں بے جھجک عورت کی جذباتی زندگی کا اظہاربھی دیکھنے کو ملتا ہے انھوں نے ہندوستان کے متوسط طبقوں اور خاندانوں بالخصوص مسلم پردہ نشین لڑکیوں کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے رونما ہونے والے مسائل کو نئی جہت سے روشناس کرایا۔انھوں نے عورت کے جنسی مسائل کو جس انداز میں پیش کیا ہے اُس میں ایک طرح کی انقلابی حقیقت پسندی نظر آتی ہے جس کو نسوانیت ( فیمنزم ) سے متعلق ایک سوچ  بھی کہا جاتا ہیں۔ جس میں عورتوں کے جذبات کو پیروں تلے روند دیا جاتا تھا۔ اس کو احتجاج کی ایک آوازسمجھا جاتا ہیں  ۔ عصمت اردو فکشن نگاروں میں غالباً پہلی خاتو ن ہیں جنھوں نے اپنی تحریروں سے ایسی آواز بلند کی، جسکی وجہ سے اردو فکشن میں ایک نیا اور منفرد پہلو وجود میں آگیا جس کی وجہ سے تانیثیت کے اثرات مرتب ہوئے۔  بقول مجنون گورکھپوری :

’’ عصمت نے جس بے باکی اور جرأت کے ساتھ پردوں کو فاش کرنا شروع کیا ہے، ہمارے ادب میں اس کی کمی تھی اور اس کی ایک حد تک ضرورت تھی۔ لوگ کہتے ہے کہ عصمت نے بے باکی اور عریانی میں مردوں کے بھی کان  کاٹے ہیں مگر کچھ ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ اس انداز کی  جنسیاتی بے باکی ( جس کو عریانیت کہنا تو خیر غلط بیانی ہے ، اس لیے عصمت کا فن اشاریت ہے ) مردوں کے  محکمہ کی چیز ہی نہیں ہے۔ غور کیجئے تو ماننا پڑے کا کہ ایسی جرأت ایک طناز عورت ہی کر سکتی تھی جو باغی ہوگی۔ ‘‘

(دوماہی سھیل ، عصمت چغتائی نمبر ، جلد؛۳ ، شمارہ ۸-۵ ، ص ، ۸۰ ، مئی – اگست ۲۰۱۵)

     جس دور میں عصمت چغتائی نے لکھنا شروع کیا اس دور میں شریف گھرانوں کی بہو بٹیاں پردے میں رہتی تھیںاور گھر کے چاردیواری سے باہر قدم رکھنا ان کے لیے شجر ممنوع سمجھا جاتا تھا لیکن جب انھوں نے افسانے لکھنے شروع کیں تو لوگ کہنے لگے بقول کرشن چندر:ـ۔

          ’’ اجی کوئی مرد لکھ رہا ہے ان افسانوں کو ، ہماری شریف بہو بٹیاں        کیا جانیں افسانے کیسے لکھے جاتے ہیں لیکن جب عصمت برابر  افسانے لکھنے پر مصر رہیں تو ارشاد ہوا !

          ’’اجی ہٹاؤ بھی وہ کیا لکھیں گی سڑن کہیں کی ۔ بس جب دیکھو جلی کٹی سناتی ہے لاحول و لاقوۃ ایسی بھی کیا عریانی‘‘

(کرشن چندر ،  عصمت چغتائی کے افسانے ایک نئی فکری جہت،مشمولہ، عصمت چغتائی نقد کی کسوٹی پر، ص ۲۴۷ )

     عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں اور اپنے ناولوں میں اپنے ماحول کی بھرپور عکاسی کی دراصل یہ وہ زمانہ تھا جب خواتین ادیبائیں عورت کے جذبات اور ان کی نفسیات کے بیان میں مردوں جیسا روپ استعمال کرتیں تھیں اور مردوں کی طرح ہی لکھتیں تھیں، لیکن عصمت چغتائی نے سب سے پہلے خاتون ادیبوں کو عورت پن کو محسوس کرنا اور دوسری عورتوں کے احساسات کو سچائی کے ساتھ قلم بند کرنا سکھایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عورتوں کے جذبات اور ان کی مسرتوں اور محرومیوں کے اظہار کا فریضہ مرد شاعروں اور ادیبوں نے سنبھال رکھا تھا۔ لیکن عصمت چغتائی نے ان سب سے یہ اُجارہ داری واپس لے لی اور عورت کی زندگی کے چھپے ہوئے گوشوں کوبے نقاب کردیا۔

     اردو فکشن میں تانیثیت کے حوالے سے عصمت کا مرتبہ بڑی اہمیت کا حامل ہیں ۔ عصمت چغتائی شروع سے ہی ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستہ رہیں ہیں ، انھوں نے انتہائی بے باکی سے سماجی برائیوں اور مردانہ تسلط اور ظلم و زیادتی کے خلاف اپنا قلمی جہاد تادم حیات جاری رکھا ۔ ان کی تخلیقات عورتوں کے تئیں تاریخی جبر اور استحصال کے خلاف احتجاج ہی نہیں بلکہ باضابطہ اس ظلم و زیادتی کی بنیادوں کو توڑنے کا اعلان جنگ بھی تھاوہ ایک مدت سے سماج اور معاشرے کے رہتے ہوئے ناسور کو بھرنے کی سعی میں لگی رہیںاور مصلح سماج اورملک و قوم کی رہنما کی صورت میں سدا کسی نہ کسی سماجی نکتہ کوپیش کرتی رہی ہیں۔ان کے فکشن کا خاص طریقِ کار’’ حقیقت نگاری ‘‘ ہے۔ اس حقیقت نگاری میں انھوں نے مختلف موضوعات کوجگہ دی ہے جس میں جنسی اور سماجی حقیقت نگاری کو زیادہ اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ عصمت کے افسانے کی ابتداء جنسی حقیقت نگاری سے ہوئی اور اس موضوع پر انھوں نے خوبصورت کہانیاں لکھیں اور انھوں نے ان مسائل پرسے نقاب اُٹھایاہیںجو پردہ نشین خواتین کے مخصوص مسائل ہیں۔ ان کے موضوعات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انھوں نے اخلاقی پابندیوں پراحتجاج کیا، جذبات کی ان پیچیدہ گتھیوں کی طرف اشارہ کیا جو اپنے وجود کے باعث سماج کے لیے بوجھ بنی ہوئی تھیں اور ان سے جڑھی ہوئی نفسیاتی اُلجھنوں جنسی بے راہ رویاں ایسے موضوعات تھے جن پر لکھنا بہت ضروری تھا اس لیے عصمت نے طبقائی کشمکش ، نفسیاتی اور ذہنی اُلجھنوںاور رومانی مسائل کو بے باکی کے ساتھ پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ جب تک چور بھاگتے نہیں وہ چکا چوند کرنے والی کہانیاں لکھتی رہیں گی۔

     انھوںنے اپنے کرداروں کو زیادہ توانا،بیباک اور متحرک دکھایا ہے جن کے یہاں مردانہ بالادستی والے معاشرے میں عورت کی ازلی مسائل ، دکھ درد ، احساسات و خواہشات ایک سنہرے خواب کی شکل میں نمودار نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے جذبات و احساسات کی بے باکانہ تکمیل کرتی ہیں۔ وہ روایتی سوچ و فکر کی غلام نہیں ہیں۔ ان کے تخلیقات کے کردار ہمارے سامنے جدید عورت کی علامت بن کر اُبھرتے ہیں کیوں کہ ان کے اندر روایت سے بغاوت کے ساتھ ساتھ اپنی پسند کے مطابق زندگی جینے کا جذبہ و صلاحیت ہے۔ وہ اپنی زندگی کی راہ خود طے کرتی ہیںجسے اپنے لیے مثبت آمیز تصور کرتی ہیں۔انھوں نے سماج کے بدلتے رجحانات اور عورت کی نظر اور نظریہ سے مردانہ سماج کی بالادستیوں اور ظلم و استحصال کی جو داستان غم انگیز مختلف پیرایوں میں پیش کی ہے وہ گذشتہ صدی کی سماجی پیچیدگیوں اور عورت کی بیداری شعور اور ذہنی اُڑان کی غمازی کرتی ہیں۔

     دراصل عصمت چغتائی نے اپنے معاشرے میں عورت کی حیثیت ، اس کے مسائل اور اس کے دبے کچلے ارمانوں اور اس کی محرومیوں کوپیش کرکے مردوں کے غلبے والے سماج میں نہ صرف ہلچل مچادی بلکہ نئے طرز پر سوچنے کی راہ بھی دکھائی ۔انھوں نے تقسیم ہند کا مسئلہ ، فسادات ، سماجی نابرابری ،عورتوں کی نفسیاتی اور جنسی مسائل ، متوسط طبقے اور نچلے طبقے کی کشمکش اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل ، شہری زندگی بالخصوص فلمی زندگی کے معاملات وغیرہ کو خاص طور پر موضوع بنایا ہیں۔انھوںنے سماج کی ناہمواریوں سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا ہیں۔وہ مردوں کے غلبے والے سماج میں عورتوں کی بدحالی پر خاموش تماشائی بن کر رہنا پسند نہیں کرتی بلکہ وہ اپنے معاشرے میں عورتوں اور مردوں کو شانہ بہ شانہ دیکھنے کی قائل ہیں ۔ لہذا وہ عورتوں کی بدحالی ان کے ساتھ روا ناانصافی پر آنسوں بہانے کے بجائے انھیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے بغاوت پر اُکساتی ہیں۔وہ عورتوں کی پسماندگی اور جہالت کی ذمہ داری خود عورتوں پر بھی عائد کرتی ہیں جو کہ صحیح بھی ہے جو کہ ان کے افسانوں اور ناولوںمیں بھی قدم قدم پر نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سماج میں مرد اور عورت کے لیے جو علحٰیدہ قسم کی معیار بندی ہے اس پر بھی وہ نالا ہیں ۔ اس کے خلاف بھی وہ اپنا قلم اٹھاتی ہیں۔ عورتوں کے تئیں مردانہ سماج کا امتیازی رویہ ، قدم قدم پر اس کا مختلف طریقوں سے استحصال ، لڑکے کے مقابلے میں لڑکی کی پیدائش کو منحوس اور بوجھ سمجھنا، پیدائش سے ہی صنف نازک اور کمزور ہونے کااحساس دلانا، پرورش و پرداخت کے عمل میں اس کے دل پر محکومیت کا احساس ثبت کرنا ، شوہر کو مجازی خدا ماننا اوراسی طرح کی دوسری باتیں عورتوں کی پستی ، مظلومی ،محکومی اور بے چارگی کا باعث بنتی رہیںہیں ۔مردانہ سماج کے اس استحصال پسندانہ روئیے کے ساتھ ساتھ خود عورتوں کے اندر خود سپردگی کا جذبہ اور اپنی ثانویت کو بہ رضا و رعب قبول کرنے کا رجحان بھی ان کی بد حالی کا سبب بنا ہے۔

      غرض انھوں نے اپنی تخلیقات میں عورتوں سے متعلق تمام مسائل پر بڑے موثر انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کے یہاں عورتوں کے مسائل کی سچی اور حقیقی تصویر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انھوں نے زندگی کو جس انداز میںدیکھا اُسی انداز میں پیش بھی کیااور عورت کا نمایاںروپ دکھانے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں عورت کا استحصال اور اس پر ہونے والے ظلم کے خلاف شدید احتجاج ملتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ عصمت چغتائی اردو کی واحد ایسی خواتین فکشن نگار ہیں جنھوں نے مسئلہ تانیثیت کو بڑی مضبوطی کے ساتھ پیش کیااورعورت کو صرف حسن و عشق اور محبت و رومان کی چیز نہیں سمجھا بلکہ اس کی خصوصیات کو بیان کرکے اس کو  اپنی اہمیت کا احساس دلانے کی کوشش کی تاکہ اسے سماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

     ان کے یہاں عورت کا غالب روپ اسکی زبر دست فعالیت ہے ۔ اگر عصمت نے عورت کی مظلومیت کا ذکر کیاہیں جو اس سے گھر ،اسکول ، کالج ، سسرال غرض کہ ہر جگہ اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی جینے پر مجبور کرتی ہے تو اس مظلومیت کے خلاف عصمت چغتائی کے یہاں جو احتجاج ملتا ہے اسے اردو ادب میں نسوانی تحریک یا تانیثی تحریک بھی کہہ سکتے ہے ۔غرض اردو فکشن کی تاریخ میں عصمت چغتائی وہ پہلی خاتون ہیں جنھوں نے مردانہ سماج و معاشرے کو بڑی بے باکی اور جوانمردی کے ساتھ اپنی تنقید کا ہدف بنایا۔ وہ اپنی تخلیق میں تانیثیت کی عکاسی جس انداز میں کرتی ہیں کوئی دوسری خاتون اب تک اس معاملے میں ان کی مثال نہیں بن پائی ۔ ان کا لب و لہجہ اور انداز بیان خالص تانیثی ہے، انھوں نے عورت کے احساسات ، جذبات اور سماج میں اس کی حیثیت اور عکس بندی کو پہلی دفعہ اردو ادب میں جگہ دی ۔ بقول ترنم ریاض:

’’ عصمت چغتائی کا لب و لہجہ ، ان کا آہنگ ان کا انداز تحریر خالص تانیثی ہے۔ خواتین اردو ادب میں ان کی تحریرں تانیثی حسّیت اور تانیثی شعور کے اظہار کا پہلا تجربہ ہیں۔ عصمت کے موضوعات منفرد ہے، سماجی حالات پر ان کا رد عمل بھی جُدا گانہ ہے ان کے لہجے میں کوئی بناوٹ یا سجاوٹ نظر نہیں آتی ۔ ‘‘

(اردو ادب میں تانیثی رجحان ’’مغربی تانیثیت کے پس منظر میں ‘‘ مشمولہ،  اردو میں نسائی ادب کا منظر نامہ ، قیصر جہاں  ، ص ۸۴۔۸۳ )

     غرض عصمت کے ان موضوعات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ آج بھی ہمارے معاشرے میں کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی شکل میں اپنی موجود گی کا احساس دلاتے ہیں جس کی بنا پر اکیسویں صدی کی اس دوسری دہائی میں عصمت کی تحریروں کی اہمیت اور افادیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔انھوں نے زندگی کو جس انداز سے دیکھا اسی انداز میں پیش کیا ہیںاورشروع سے ہی سماج کی نابرابری اور ناہمواری کے خلاف آواز بلند کرنی شروع کردی اور سماج کو ان مسائل سے مبذول کرائی۔ یہ وہ مسائل تھے جن سے بیش تر ادیبوں نے چشم پوشی کر رکھی تھی اور سماجی و اخلاقی اقدار کی پابندیوںکی وجہ سے ان مسائل کے اظہار کی جرأت نہیں کر پائے تھے ۔ عصمت نے ان اخلاقی اقدار کی بے جا پابندیوں کو توڑ کرعورتوں کے مسائل پر کھلے عام اظہار خیال کیا۔ جس کی وجہ سے عصمت کو باغی عورت کا نام بھی دیا گیا۔ لیکن عصمت کا حوصلہ پست نہیں ہوا بلکہ زندگی کے آخری آیام تک بے باکانہ اظہار کرتی رہیں۔ان تحریروں سے جو تصویر عصمت کی اُبھرتی ہے وہ ایک حقیقت پسند فکشن نگار کی ہے اور یہی عصمت کی عظمت بھی ہے اور ان کی شہرت و مقبولیت بھی۔آخر میں وہ اردو فکشن کی اس دنیاسے ۲۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء ؁ کو اس دارفانی سے کوچ کر گئیںاور ان کی خواہش کے مطابق انھیں نذر آتش کر دیا گیا اور آخر میں بھی عصمت نے اپنے باغیانہ مزاج کا مظاہرہ کیا۔

٭٭٭

غوثُ النساء

ریسرچ اسکالر، ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، دہلی

nissajnu@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.