اندر سبھا کا یہود-اردومخطوطہ

          یہود- اردو :

        31 جولائی 2007 ء کو ڈاکٹر نور سو برس خان نے برٹش لائبریری کی ویب سائٹ پہ اس کے مخطوطہ نمبر Or. 13287 کے حوالے سے ایک نوٹ پیش کیا تھا۔ اس کا تعلق امانت لکھنوی کے ڈرامہ ’ ـاندر سبھا‘ کے اس متن سے ہے جسے عبرانی رسم خط میں لکھا گیاتھا۔ اس مخطوطہ کی زبان کو Judaeo-Urdu  (یہود۔اردو) کہا گیا ہے، یعنی عبرانی میں لکھی ہوئی اردو، یا وہ اردو جسے ہندوستان کے یہود عبرانی رسم خط میں استعمال کرتے تھے۔ اس طریقۂ کار کا استعمال ہندوستان میں رہنے والے وہ یہودی حضرات کرتے تھے جنہیں بغدادی یہودی کہا جاتا ہے، جو اردو رسم خط سے نا آشنا تھے لیکن زبان اردوسے واقفیت رکھتے تھے۔ برٹش لائبریری کے ذریعہ اسے پبلک ڈومین میں شامل کرنے سے قبل بھی اس کے سلسلے میںتفصیلات پیش کی گئی تھیں جن میں Kathryn Hansen  کی تحریریں بطور خاص اہم ہیں۔

        ہندوستان کے بغدادی یہودی:

        ہندوستان میں یہودیوں کی قدیم ترین آبادی بنی/بن اسرائیل کہلاتی ہے ۔ بغدادی یہودیوں سے مراد وہ یہودی ہیں جنہوں نے اٹھارہویں صدی کے اواخر میں بغداد، بصری، حلب اور عثمانی سلطنت کے دیگر حصوں سے تجارت کے لیے یاپھر بعد ازاں، نازیوں کے مظالم سے بچتے ہوئے ہندوستان آنے کے بعد بمبئی اور کلکتہ میں قیام کیا اور رفتہ رفتہ ہندوستانی معاشرت کا حصہ بنتے گئے۔ابتداء ً وہ بنی اسرائیلیوں سے مراسم استوار رکھتے ہوئے ہندوستانی معاشرت میں ضم ہونے کی کوششیں کرتے رہے لیکن رفتہ رفتہ نسلی برتری کے احساس کی وجہ سے اپنی الگ مذہبی اور لسانی شناخت کو زیادہ اہمیت دینے لگے۔ انیسویں صدی کے وسط سے انہوں نے ہندوستانیت کی بجائے اپنی علاحدہ شناخت کو زیادہ فوقیت دی اور اس لیے کسی ہندوستانی زبان کو اپنانے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے یہود۔عربی زبانوں کے استعمال کو ہی ترجیح دی۔جماعتی سرگرمیوں سے ایک دوسرے کو باخبر رکھنے کے لیے، تجارتی معاملات، تفریح اور مذہبی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کلکتہ اور بمبئی میں انہوں نے اپنے چھاپہ خانے قائم کیے جہاں سے ایک سلسلہ وار عبرانی گزٹ کے علاوہ تاریخی، پراسرار، رومانی ناولوں کی اشاعت بھی ہوئی۔برٹش لائبریری کے عبرانی اور عیسائی مطالعات شرقی کی نگران اعلی، Ilana Tahan ، نے یہ صراحت پیش کی ہے کہ۱۸۵۶ء سے ۱۸۶۶ء تک بمبئی سے شائع ہونے والے سلسلہ وار گزٹ (Doresh tov le-‘amo)کے ہر شمارہ میں معلومات کا ایک خزانہ ہوتا تھا جس میں بمبئی سے جہازوں کی روانگی سے لے کر بغدادی برادی کی معاشرتی سرگرمیوں ، مقامی اور بیرون ملکی خبروںکے ساتھ ہی مذہبی تعلیمات بھی موجود رہتی تھیں۔اس گزٹ کی زبان یہود۔عربی تھی اور اسے بغدادی یہودیوں کی مخصوص شکستہ خط عبرانی میں لکھا جاتا تھا۔ یہودی خواتین اپنی برادری کے علاوہ کسی اور سے راہ و رسم نہیں رکھتی تھیں۔ گھروں میں انہیں توریت اور عبرانی کی تعلیم دی جاتی تھی اور آموزشوں کے لیے بنیادی طور پہ عربی استعمال کی جاتی تھی۔ان کے اپنے کلب ہوا کرتے تھے جس کی سرگرمیوں میں صرف اسی برادری کے لوگ شامل ہوتے تھے۔ان کلبوں میں موسیقی کی محفلیں آراستہ کی جاتی تھیں، ناٹک بھی کھیلے جاتے تھے۔ ان کے موسیقار، ہدایت کار، اداکار، اور ناظرین سبھی اسی برادری کے ہوتے تھے۔ ان میں انگریزی کے علاوہ اردو ڈرامے بھی پیش کیے جاتے تھے۔

        بغدادی یہودی جہاں بھی رہے وہاں کی مقامی زبانوں سے واقف بھی ہوا کرتے تھے۔تجارتی معاملات کی وجہ سے وہ مراٹھی، بنگلہ اور اردو کی بول چال پہ دسترس رکھتے تھے۔یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ اسی لسانی تعلق کی وجہ سے عبرانی میں اردوکے دخیل الفاظ بھی موجود ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں اپنی تجارتی سرگرمیوں، بے پناہ دولت، تکنیکی مہارتوں اور تعلیم کی وجہ سے جلد ہی اپنی منفرد شناخت بھی قائم کر لی۔ بظاہر عربی، ہندوستانی یا برطانوی ماحول میں جذب ہونے کی شعوری کوششوں کے باوجود یہ لوگ اپنی یہودیت پر سختی کے ساتھ قائم رہے اور انیسویں صدی کے اواخر سے بیسویں صدی کی ابتدائی چند دہائیوں کے دوران ہندوستان میں قومیت پسندی کے رجحانات کے فروغ کے ساتھ ہی انہوں نے ہندوستان سے ہجرت شروع کر دی۔ ان میں سے جو چند خاندان ہندوستان میں رہ گئے ان کے مردوخواتین نے ہندوستانی سینما میں پارسیوں کی ہی مانند اہم کردار ادا کیے۔ ان میں نامور ہدایت کار بھی ہوئے اور چندخواتین تو ازمنۂ پارینہ کی ناقابل فراموش اداکاراؤں میں بھی شامل ہیں (مثلاً، سلوچنا، نادرہ، پرمیلا،رومیلا، عذرا میر، آرتی، روز، آشا بھِنڈے، پرل پدمسی، فیروزہ بیگم وغیرہ)۔بیسویں صدی کے اولین دہوں میں جب ان بغدادی یہودیوں نے فلموں کی ہدایت کاری اور اداکاری میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا تو ظاہر ہے کہ اداکاری کی روایتیں ان کے درمیان اس زمانے سے قبل سے ہی موجود رہی ہوں گی۔

        ’اندر سبھاـ ـ‘ اور یہود ہدایت کار واداکار:

        اردو ڈراما کے ارتقا اور فروغ میں ’اندر سبھا‘ کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس مخطوطہ سے اس کی مَسرَحی (تھیٹریکل) پیشکشوں کے سلسلے میں بعض نئی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔انیسویں صدی میں اسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ اردو میں اس کی مختلف اشاعتوں کے ساتھ ہی اسے ہندی،سندھی، گورمکھی، گجراتی یہاں تک کہ عبرانی رسم خط میں بھی محفوظ کیا گیا ۔ یہی نہیں،کنڑ، تمل، تلگو،سنہالی، ملائے اور جرمن زبانوں میں اس کے ترجمے بھی شائع کیے گئے۔الفرڈ ناٹک منڈلی کے ذریعہ بمبئی میں ۱۸۶۴ ء میں اس کی اولین پیشکش کے بعد پارسی تھیٹریکل کمپنیوں کے مخزن نمائش کے اہم ترین ڈراما کی حیثیت سے اس نے بر صغیر سے باہر بھی اپنی کامیابی کی نمایاں مثالیں پیش کیں یہاں تک کہ جنوبی ایشیا کی مقبول عام ثقافت کے فروغ میں اسے کلیدی اہمیت حاصل ہو گئی(Hansen, p. 79) اور مَسرح عوامی میں اسے ایک رجحان کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ ۱۸۶۴ء میں اس کی اولین پیشکش کے بعد اس کی دوسری یادگار پیشکش بمبئی میں ہی الفنسٹن ڈریماٹک کلب کے ذریعہ ۱۸۷۳ء میں ہوئی تھی۔اس کمپنی کے مالک و مختار کنور جی سہراب جی ناظر نے ۱۸۷۴ء میں اسے کلکتہ میں پیش کیا اور تب تک اس کے تمام اداکار مرد حضرات ہی ہوتے تھے لیکن ۱۸۷۰ء کے بعد سے اس کام کے لیے نوخیز خوبرو لڑکوں کا استعمال کیا جانے لگا۔اسی دوران اینگلو انڈین خواتین بھی ڈراموں میں اداکاری کے سلسلے میں دلچسپی کا مظاہرہ کرنے لگی تھیں ۔پارسی ناٹک منڈلی نے ۱۸۷۴ء میں ایک طوائف لطیفہ بیگم کو سبز پری کے کردار میں پیش کیا تھا۔پھر امیر جان اور موتی جان نام کی دو پنجابی بہنیں بھی ’اندر سبھا‘ کی پیشکشوں میں اداکاری کرنے لگیں۔ ایمپرس وکٹوریہ ناٹک منڈلی اور بعد ازاں الفرڈ کمپنی کی مِس میری فِنٹَن بھی ’اندر سبھا‘ کی مقبول اداکارہ رہی ہے۔بمبئی کی انڈین لیڈیز تھیٹریکل کمپنی سے وابستہ ایک یہودی اداکارہ جمیلہ کا ذکر بھی موجود ہے جو سبز پری کا کردار ادا کرتی تھی۔لیکن کلکتہ میں تیار کیے گئے اس مخطوطہ پہ درج تاریخ کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انیسویں صدی کے آخری دو دہوں کے دوران اور اس کے بعد بھی بغدادی یہودیوں نے نہ صرف بمبئی بلکہ کلکتہ میں بھی اس کی پیشکش میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہوگااور اس کے اداکاروں نیز اداکاراؤں میں بمبئی کی جمیلہ کے علاوہ کلکتہ کی یہودی برادری کے افراد بھی شامل رہے ہونگے۔

ٍ        ’اندر سبھا‘ کی یہودی اداکارہ جمیلہ بیگم:

        جمیلہ بیگم پارسی تھیٹر سے وابستہ اولین یہودی اداکاراؤں میں سے تھی اور Navroji Golvala کے Ladies and Gentlemen Theatrical Clubسے وابستہ تھی۔ اس لحاظ سے اس کا زمانہ انیسویں صدی کی آٹھویں دہائی کا تھا۔سبز پری کے اپنے کردار میں بے پناہ شہرت حاصل کرنے کے بعد اس نے اپنی تھیٹریکل کمپنی قائم کر لی تھی جس میں ڈوسا بھائی ہتھی رام مینیجر اور ڈائرکٹر کے طور پہ کام کرتا تھا۔وہ خود ایک اعلی درجے کا فنکار بھی تھا۔ اس کی وجاہت کی وجہ سے جمیلہ اس پہ فریفتہ تھی اور دونوں ساتھ ہی رہتے بھی تھے۔ ان دونوں نے بمبئی کو خیرباد کہہ کر رنگون کو اپنا مستقر بنا لیا تھا اور وہاں ان کی کاوشوں سے ہی اردو ڈراموں پہ مبنی پارسی تھیٹر متعارف ہوا۔ لیکن چند برسوں میں ہی ان کے درمیان تلخیاں پیدا ہونے لگیں یہاں تک کہ ڈوسا بھائی کو جمیلہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔اردو کتب میں جمیلہ کا تذکرہ عبدالعلیم نامی(اردو تھیٹر، جلد ۴، انجمن ترقی اردو، کراچی) اور ان کے حوالے سے ابراہیم یوسف (اندر سبھا اور اندر سبھائیں، نظامی پریس ، لکھنٔو۔۱۹۸۰ئ) نے بھی کیا ہے ۔جمیلہ کے متعلق معلومات کا ماخذ پٹیل کی گجراتی تصنیف ’ پارسی ناٹک‘ ہے۔ ہندی میں سومناتھ گپت نے بھی اپنی کتاب ’پارسی تھیٹر‘ میں اسی کی بنیاد پہ جمیلہ کا ذکر کیا ہے۔Hansen (2018) نے دیگر بنیادی ماخذ کی روشنی میں یہ صراحت پیش کی ہے کہ ۱۸۸۴ء یا اس کے آس پاس جمیلہ اور ڈوسا بھائی رنگون چلے گئے تھے جہاں چند برسوں کے اندر ہی کسی پیشہ ورانہ یا ذاتی رنجش کی وجہ سے ڈوسا بھائی نے جمیلہ کا قتل کر دیا ۔اسے سزا بھی ملی لیکن چند ماہ میں ہی رہا بھی کر دیا گیا۔جمیلہ کے کلکتہ کے سفر کے سلسلے میں شواہد دستیاب نہیں ہیں۔ اس بنا پر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کلکتہ میں لکھے گئے اس مخطوطہ کا تعلق بمبئی کی جمیلہ سے نہیں ہے ۔

         ’اندر سبھا‘ کا یہود-اردو مخطوطہ:

        ’اندر سبھا‘ کے جو قدیم نسخے دستیاب ہیں ان کے بماقبلہ اس مخطوطہ کے نقش ونگاررنگین اور جاذب نظرہیں۔ انیسویں صدی میں ہندوستان میںجو نو ٹنکیاں اور ڈرامے مقبول ہوتے تھے ان کے نسخے خواص کے لیے اہتمام کے ساتھ تیار کیے جاتے تھے۔مارچ ۱۸۸۷ ء میں کلکتہ میں لکھا گیا یہ نسخہ اپنی خطاطی اور تزئین و آرائش کی وجہ سے اسی سلسلے کی کڑی محسوس ہوتا ہے (Hansen, p. 103) ۔ ممکن ہے کہ خطاط نے اردو نسخہ سے یا اگر اردو سے نا واقف رہا ہو تو اس کے متن کو کسی سے پڑھوا کر عبرانی میں نقل کیا ہو۔ بمبئی کے ساتھ ہی کلکتہ بھی بغدادی یہودیوں کا اہم مرکز تھا۔وکٹوریہ تھیٹریکل کمپنی کے ذریعہ ۱۸۷۴ ء میں کلکتہ میں ’اندر سبھا‘ کی پیشکش نے اسے وہاں کے ثقافتی بازار کا ایک اہم حصہ بنا دیا تھا۔ بعید نہیں کہ اپنے تجارتی مزاج کی وجہ سے بغدادی یہودی فرقہ کے ذی حیثیت افراد نے اس کی پیشکش میں خاطر خواہ دلچسپی لی ہو۔ اس کی پر اہتمام خطاطی (خط شکستہ عبرانی) اور ترتیب و تزئین سے بھی اس ڈراما کے تئیںکلکتہ کے یہودی بغدادیوں کے ذوق و شوق کا اظہار ہوتا ہے۔ دراصل ’اندر سبھا‘ میں غیرمعمولی دلچسپی نے اسے رفتہ رفتہ انیسویں صدی کے ہندوستان کے تہذیبی مراکز کے ساتھ ہی بیرون ملک میں بھی اردو ثقافت کی نمائندگی کرنے والے ڈرامہ یا اوپیرا کی حیثیت عطا کر دی تھی۔

        ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ کلکتہ میں موجود بغدادی یہودی فرقہ نے ’اندر سبھا‘ کی بے مثل شہرت کی وجہ سے ۱۸۸۵ ء سے ۱۸۹۰ء کے دوران اس کی پیشکش میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہوگا۔ڈاکٹر نور نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ مخطوطہ بغدادی یہودی فرقہ کے ہی کسی اداکار یا اداکارہ کے لیے یا اس کے ہی ذریعہ یا اس فرقہ کے کسی ہدایت کار نے تیار کیا ہوگا۔یہ مخطوطہ انیسویں صدی کے اواخر سے عبرانی میں پائے جانے والے ہندوستانی یہودی ادب کا حصہ بھی ہے۔ اس قسم کے دودیگر متون میں’ اندر سبھا‘ کا ایک منقش لیتھو گراف (مطبوعہ ۱۸۸۰ء یا اس سے قبل) ہے جو یروشلم میں ساسون (Sassoon) خانوادے کی ملکیت ہے اور دوسرا عبرانی رسم خط میں لکھا ہوا اردو ڈراما ’لیلی مجنوں‘ کا ایک نسخہ ہے جو یروشلم کے  Jewish National and University Library میں محفوظ ہے(Hansen, p. 103)۔ساسون خانوادہ کا تعلق بمبئی سے تھا جس کا مورث اعلی David Sassoonبغداد میں سلطنت عثمانیہ کا خزانچی تھا۔ہندوستان میں ہجرت کے بعد اس نے بمبئی میں سکونت اختیار کی اورجلد ہی وہاں کے مشہورومعروف اور امیرترین سوداگر کی حیثیت سے اس کی شناخت قائم ہو گئی۔ وہ ہندوستان میں بغدادی یہودی فرقہ کا روح رواں بھی تھا۔ اس کا بیٹا David Solomon Sassoonمسودوں اور مخطوطات کا شوقین تھا۔ اس کے ذاتی کتب خانہ میں بارہ سو سے زیادہ مخطوطے موجود تھے۔ اب تک کُل چار یہود-اردو مخطوطوں کی نشاندہی کی گئی ہے (Rubin, 2016, p.1)جن میں ۵۴ صفحات پہ مبنی ’اندر سبھا‘ کے متذکرہ مخطوطہ کے علاوہ ۳۳ صفحات پر مبنی اس کا ۱۸۸۰ء کا لیتھو گرافک ایڈیشن، ۱۸۸۸ء میں بمبئی میں طبع ہونے والی ’لیلی مجنوں‘ کا عبرانی میں لیتھو گرافک ایڈیشن، ۳۱ متفرق صفحات پہ مبنی ’بول‘ کے عنوان سے شائع لیتھو گرافک پرچہ، اور ۳۱ ہی صفحات پر مبنی ایک ہزار الفاظ کی ’عبرانی-یہود-اردو فرہنگ‘ شامل ہیں۔ ہندوستان میں عبرانی طباعت کی روایتوں کے ذکر کے دوران موخرالذکر کو ’عبرانی-ہندوستانی فرہنگ‘ کے طور پہ متعارف کیا گیا ہے ۔اس کے جو صفحات موجود ہیں ان میں کسی قسم کی ترتیب نہیں ہے لیکن ان میں پائے جانے والے الفاظ اور جملوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے زبان اردو سے ناآشنا یہودیوں کے لیے تیار

کیا گیاتھا۔بعید نہیںکہ ’اندرسبھا‘سے دلچسپی رکھنے والے بغدادی یہودی فرقہ کے کسی فرد نے اسے اپنے فرقہ کے اداکاروں کے لیے ہی تیار کیا ہو۔ Rubin نے اس فرہنگ کے تفصیلی مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں بمبئی اور کلکتہ میں بسنے والے بغدادی یہودیوں اور مقامی افراد سے ربط و ضبط کے پیش نظر بھی اس کی اہمیت مسلم ہے ۔ اس کتاب کی تحریر سے یہ بھی باور ہوتا ہے کہ اس کا کاتب اردو اور عبرانی سے بہت اچھی طرح واقف نہیں تھا۔اس پہلو سے دیکھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسے تعلیم یافتہ اردو یا عبرانی داں کے ذریعہ نہیں لکھا گیا تھا بلکہ اس کا مقصد کاروباری تھا، یعنی کسی طرح بغدادی یہود اردو پڑھنا اور بولنا سیکھ لیں۔ غالبا ً یہی وجہ ہے کہ اس میں الفاظ کے ساتھ ہی مختلف فقروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

        منفرد یہود-اردو مخطوطہ Or. 13287 (تحریر: ڈاکٹر نور سو برس خان)

        (تعارف: ڈاکٹرنور سوبرس خان برٹش لائبریری کے مشرقی ایشیائی بخش کی نگران اعلی ہیں ۔ انہوں نے عربی اور فارسی میں گریجویشن کی تعلیم کی تکمیل کے بعدیو نی ورسٹی آف کیمبرج سے ۲۰۱۲ ء میں سلطنت عثمانیہ کے دوران غلامی کے معاشرتی اور ثقافتی تناظر پر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی اور اس دوران لندن کی ہی سنٹ میری یو نی ورسٹی کے شعبۂ دینیات، فلسفہ و تاریخ میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دیتی رہیں۔سلجوقی اور عثمانی سلطنتوں کا سیاسی فلسفہ، مغلیہ ہندوستان، صفوی ایران، جدید مشرق وسطی، تصوف، اسلامی قوانین آپ کی دلچسپی کے خاص موضوعات ہیں۔دوحہ کے میوزیم آف اسلامک آرٹ کی منتظمہ ہونے کے علاوہ  انہوں نے برٹش لائبریری سے وابستہ ہونے کے بعد وہاں موجوداردو، فارسی اور عربی مخطوطات کی فہرست بندی اور ڈیجیٹلا ئزیشن میں نمایاں کار کردگی کا مظاہرہ کیا، دلی ۔فارسی مجموعوں کی نئی درجہ بندی کرتے ہوئے اس کے برقی دادہ و سوابق کو مکمل کیااور فی الحال وہاں’فارسی ۔عربی‘ اور’ یہود۔ عربی‘ رسم خط میں محفوظ ارد و اور دیگر مشرقی ایشیائی زبانوں کے مخطوطات اور کتابوں سے متعلق تمام امور کی نگراں ہیں۔نور سوبرس خان کی تحریر کا ترجمہ ان کی اجازت سے کیا گیا ہے جبکہ تصاویر برٹش لائبریری کی ملک خالصہ کا حصہ ہیں۔ترجمہ کی اجازت اور تصاویر کے لیے ڈاکٹر نور سوبرس خان اور برٹش لائبریری کا مشکور ہوں)۔

        اودھ کے نواب واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ شاعر آغا سید حسن امانت کے مشہور و معروف ڈراما ’اندر سبھا‘ کا عبرانی رسم خط میں لکھا ہوا ایک نسخہ برٹش لائبریری کا واحد ’یہود۔اردو‘ اثاثہ ہے۔  ہمارے مخطوطہ میں ایک ترقیمہ بھی ہے جسے غالباً ہندوستان کے بغدادی یہودی فرقہ کے کسی شخص نے لکھا ہوگا۔ اس کے مطابق اس کا سال تحریر ۱۸۸۷ء ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے عربی گو علاقوں سے اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہندوستان میں سکونت اختیار کرنے والے یہ لوگ بنیادی طور پر دو بڑے شہروں، کلکتہ اور بمبئی، میں آباد تھے۔ دونوں ہی شہروں میں ان کی مذہبی ضروریات کی تکمیل، تجارتی، معاشری سرگرمیوں اور باخبر رہنے کی ان کی جودت طبع نیز تفریح کے لیے ’یہود۔عربی‘  چھاپہ خانے قائم کیے گئے جہاں سے مذہبی ضروریات کے تحت پرچوں کے علاوہ تاریخی ،پر اسرار اور رومانی ناولوں کی اشاعت بھی ہوئی (Musleah, p. 522-531)۔ان مطبوعات اور ہندوستان کے بغدادی یہودی فرقہ کی تاریخ کے سلسلے میںمعلومات کے لیے برٹش لائبریری میں قیمتی مواد موجود ہیں۔ عبرانی حصہ کے ہمارے نگراں نے بمبئی میں ایک یہودی۔عربی سلسلہ وارگزٹ کے متعلق بھی ہمارے بلاگ کے لیے مضمون لکھا تھا(Ilana Tahan, 2013)۔

        جہاں تک مخطوطہ کے متن کا معاملہ ہے، ڈراما کے بہت سے عناصر شاندار اردو داستانوں ، مثلاً، ’سحرالبیان ‘ از میر حسن (۸۶۔۱۷۲۷ئ)، کی یاد دلاتے ہیں ۔ اس کا پلاٹ نسبتاً سادہ ہے اور اس میں پیشنیان کی مانند قصہ درون قصہ کی ساخت کو نہیں اپنایا گیا ہے۔ڈراما کی ابتدا دیوتاؤں کے راجا اندر کے دربار کی لذت آمیز تصویر کشی سے ہوتی ہے جس میں جواہرات (Emerald, Topaz, Sapphire and Ruby)کے نام کی پریاں موجود ہیں۔

        داستانوں کی ہی مانند اس میں عشق ممنوعہ کا قصہ بیان کیا گیا ہے جس کی ابتدا سبز پری کے ایک انسان، شہزادہ گلفام، کے عشق میں مبتلا ہو جانے سے ہوتی ہے۔وہ کالا دیو کی مدد سے اسے راجا اندر کے دربار کا نظارہ دیکھنے کے لیے وہاں چھپا دیتی ہے۔اس بے ادبی اور گستاخی کی خبر عام ہوتے ہی سبز پری کے بال وپر کاٹ دیئے جاتے ہیں، اسے اندر کے دربار سے نکال دیا جاتا ہے اور وہ خطۂ ارض پہ گر جاتی ہے جبکہ اس کا معشوق ایک کنویں میں قید کر دیا جاتا ہے  (Hansen, 2001, p. 83)۔

        داستانوں کے علاوہ ان رنگ برنگی پریوں سے نظامی کے ’  ہفت پیکر‘ ، خاص طور پہ اس کے مرکزی کردار کی خیالی مہم جوئی اور امیر خسرو کی مثنوی ’ ہشت بہشت‘کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ وہیں عشق ممنوعہ کی پاداش میں کنویں میں قید بد نصیب شہزادہ ’ شاہنامہ‘ کے بیژن و منیژہ کی تصویر نظر آتا ہے۔ انیسویں صدی کی اردو شاعری جن فارسی رزمیوں سے متاثر تھی، اس ڈراما میں ان سے ماخوذ بصری عناصر کے انطباق اور بین المتونیت کے ضمن میں ایک نئی سطح موجود ہے۔قصے کو تب ایک ہندی رنگ عطا کر دیا جاتا ہے جب اندر کے دربار سے نکال دیے جانے کے بعد سبز پری جوگن بن کرمستیٔ عشق میں رقص کرتی ہوئی عشقیہ گیت الاپتی ہوئی بھٹکتی رہتی ہے۔ اس کی رسائی پھر اندر کے دربار تک ہو جاتی ہے جہاں پہنچ جانے کے بعد وہ راجا کی مراعات حاصل کرتی ہے اور اپنے معشوق کو قید سے آزاد کروا لیتی ہے۔

        بغدادی یہودی فرقہ اور ’اندرسبھا‘ کی مَسرَحی پیشکش کے براہ راست تعلق پہ کچھ کہنا شاید قبل از وقت ہوگا لیکن بغدادی یہودی فرقہ کے گزٹ کے مطابق بیسویں صدی کے اوائل سے ہی کلکتہ اور بمبئی دونوں ہی شہروں میں انہوں نے اپنے کلب قائم کر رکھے تھے جہاں ان کے ہی فرقہ کے افراد کے ذریعہ مختلف تقریبات ہوا کرتی تھیں جن میں موسیقی کی محفلوں کے انعقاد کے علاوہ فلموں کی نمائش ہوتی تھی، ڈرامے پیش کیے جاتے تھے اور یہ کلب مسرحی اداروں کی سرپرستی بھی کرتے تھے۔ان سب کا تعلق صرف بغدادی یہودیوں سے ہوتا تھا (The Jewish Advocate, 1932, p. 425; 1933, p. 9)۔ایسے آثار و قرائن بھی موجود ہیں جن سے علم ہوتا ہے کہ بغدادی یہودی خواتین نے اس ڈراما کے علاوہ اردو کی دیگر مسرحی پیشکشوں میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے۔اس کی وجہ سے ’اندر سبھا‘ اور یہودی فرقہ کے درمیان ایک براہ راست ربط کا موجود ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اس مقام پہ یہ شاید صرف ایک خام خیالی ہو لیکن یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ یہ مخطوطہ بغدادی یہودی فرقہ کے ہی کسی اداکار یا اداکارہ کے لیے یا اس کے ہی ذریعہ یا اس فرقہ کے کسی ہدایت کار نے تیار کیا ہو۔

تصاویر (بشکریہ برٹش لائبریری وڈاکٹر نور سوبرس خان)

۱۔ اندر سبھا کا ابتدائی صفحہ

۲۔راجا اندر کے دربار میں سبز پری

۳۔سبز پری اور کالا دیو

۴۔سبز پری اور شہزادہ گلفام

۵۔سبز پری کے بال و پر کترنے کا منظر

۶۔راجا اندر کے دربار میں داخل ہونے کی پاداش میں کنویں میں قید شہزادہ گلفام

        منابع:

Hansen, Kathryn: ‘The Indar Sabha Phenomenon: Public Theatre and Consumption in

India (1853-1956)’ in Pleasure and the Nation: The History, Politics and Consumption of

Public Culture in India, edited by Rachel Dwyer and Christopher Pinney (Oxford, 2001): 76-

114.

—: Parsi theatrical networks in Southeast Asia: The contrary case of Burma in Journal of Southeast Asian Studies, 49 (1), pp 4-33. doi: 10.1017/S0022463417000662

Musleah, Rabbi Ezekiel : On the Banks of the Ganga: The Sojourn of the Jews in Calcutta

(North Quincy, Massachusetts: Christopher Publishing House, 1975).

Rubin, Aaron D : A Unique Hebrew Glossary from India: An Analysis of Judaeo-Urdu

(Piscataway, NJ: Gorgias Press, 2016).

Tahan, Ilana : A Judeo-Arabic serial issued in Bombay, 2013.

http://britishlibrary.typepad.co.uk/asian-and-african/2013/06/a-judeo-arabic-serial-issued-in-bombay.html

The Jewish Advocate, Boston, 1932, p. 425; 1933, p. 9

۔۔۔۔۔

ارشد مسعود ہاشمی

پروفیسر وصدر شعبۂ اردو،

جئے پرکاش یو نی ورسٹی، چھپرہ۔841 302

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.