اردو مثنوی اور جدید شاعری

     ۱۸۵۷ کے انقلاب میں سیاسی طور پر شکست کھانے کے بعد قوم و ملت نفسیاتی طور پر الجھن کی شکار ہو گئی۔ مغربی اور مشرقی اقدار کے ٹکراؤ سے سیاسی، سماجی اور معاشی توازن بگڑنے لگا۔ سارے مُسلّمات، روایات، نظریات اور تصورات میں بکھراؤ پیدا ہوا۔ اِس ہمہ گیر تغیر و تبدل نے ہندوستانیوں میں خود احتسابی اور سماجی اصلاح و ترقی کے رحجان کو فروغ دینا شروع کیا۔ ملکی معاملات میں حصہ لینے کا احساس پیدا ہو گیا۔ ایک نئے معاشرے کی بنیاد پڑی اور ایک نئی تہذیب کے خدو خال ابھرنے لگے۔ نئے علوم و فنون کی تعلیم عام ہو گئی ۔ اس تبدیلی نے جہاں زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کیا، وہاں اردو ادب کے سینکڑوں برسوں کے جمود میں حرکت پیدا کر دی۔ اردوشاعری ہئیت ، اسلوب، موضوع اور مواد کے لحاظ سے یکسر بدل گئی، اور جدید روایات، طرزِ تعقل، نئے خیالات و موضوعات کی رنگا رنگی سے اردو شاعری کا دامن وسیع تر ہو گیا۔ اردو شاعری اب محض تفننِ طبع کا ذریعہ نہیں رہ گئی بلکہ اس کے ذریعے سیاسی، سماجی، اصلاحی، معاشی اور ملکی مسائل کی عکاسی بھی ہونے لگی۔جس سے جدید نظم کے نقوش ابھرنے لگے۔ جدید اردو شاعری کے آغاز اور نشو و نما کے سلسلے میں انجمن پنجاب لاہور کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔ محمد حسین آزاد انجمن کے روح رواں تھے ۔ انہوں نے انجمن کے پلیٹ فارم ( جس کی تنظیم و ترتیب ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹز نے کی تھی ) پر اہلِ علم کو جدید ادب کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرانے کی کامیاب تحریک چلائی۔ انجمن نے سماجی ، اخلاقی ، علمی اور ادبی موضوعات پر تبادلہ خیال کے لیے جلسو ں کا اہتمام کیا۔اس میں متعدد اہل علم نے کئی مضامین پڑھے۔ جن میں محمد حسین آزاد بھی تھے۔ ان جلسوں میں آزادؔ کے مضامین کو خوب سراہا گیا اور انجمن کے خرچہ پر انھیں مستقل طور پر لیکچر ار مقرر کیا گیا۔ انہوں نے انجمن میں ایک نئی روح پھونکی اور اپنے ۳۶ مضامین پیش کیے ،خاص کر اگست ۱۸۶۷ میں پڑھا گیا مقالہ ’’خیالات درباب نظم اور کلام موزوں ‘‘ قابل ذکر ہے ۔جو بعد میں نظمِ آزاد کے مقدمے کے طور پر شائع ہوا۔ اس مقدمے کو نظم نگاری کے سلسلے میں ایک منشور کی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ انجمن کے جلسوں میں پڑھے گئے مقالوں پر بحث و نظرکی عام اجازت تھی ۔اس سے شرکائے جلسہ کو بحث میں حصہ لینے اور علمی نکات بیان کرنے کا براہ راست موقعہ مل جاتا تھا۔اس طریقہ کار نے اردو میںصحت مند تنقید کو برداشت کرنے کی نئی روایت نے جنم لیا۔

                انجمن پنجاب کے ادبی منظر نامے پر آزادؔ بتدریج نمایاں ہونے لگے اور کرنل ہالرائڈ اور دیگر اہل قلم انتظامی امور کے پسِ منظر میں اوجھل ہونے لگے۔ آزادؔ نے ۱۸۷۴ میں کرنل ہالرائڈ کے ایما پر قدیم طرز کے مشاعروں کے برخلاف جدیدطرز کے نظمیہ مشاعرے کی بنیاد رکھی جس میں مصرعہ طرح کے بجائے کسی ایک عنوان پر نظم پڑھی جاتی تھی۔ یہ مشاعرہ سکھشا سبھا ہال میں قائم کیا گیا۔ جس میں آزادؔ، حالیؔ، انور حسین ہماؔ، ولی ؔدہلوی، منشی الٰہی بخش رفیقؔ وغیرہ نے شرکت کی ۔آزادؔ شاعری کے عام مواد سے مطمئن نہیں تھے ۔ وہ اردو شاعری کی تطہیر اور اصلاح چاہتے تھے ۔ اس کا احساس انھیں بہت پہلے ہی سے تھا۔ چنانچہ اگست ۱۸۶۷ کے مضمون ’’خیالات درباب نظم اور کلام موزوں ‘‘ میں اس کا اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ شعر سے وہ کلام مراد ہے جو جوش خروش خیالات سنجیدہ سے پیدا ہوا ہے اور اسی قوتِ قدسیہ الٰہی سے ایک سلسلہ خاص ہے ۔ خیالات پاک جوں جوںبلند ہوتے جاتے ہیں مرتبۂ شاعری کو پہنچتے جاتے ہیں ۔ ۔۔۔ابتدا میں شعر گوئی حکما اور علمائے متبحرکے کمالات میں شمار ہوتی تھی اور اُن تصانیف میں اور حال کی تصانیف میں فرق بھی زمین و آسمان کا ہے ۔ البتہ فصاحت اور بلاغت اب زیادہ ہے مگر خیالات خراب ہو گئے ۔ سبب اس کا سلاطین و حکام کی قباحت ہے انہوں نے جن جن چیزوں کی قدر دانی کی لوگ اس میں ترقی کرتے گئے ورنہ اسی نظم شعر میں شعرائے اہل کمال نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں ۔ جن کی بنا فقط پندو اُندرز پر ہے اور ان سے ہدایت ظاہر و باطن کی حاصل ہوتی ہے ۔ چنانچہ بعض کلام سعدی و مولوی روم و حکیم سنائی و ناصر خسرو اسی قبیل سے ہیں ۔ امید ہے کہ جہاں اور محاسن و قبائح کی ترویج و اصلاح پر نظرہوگی ۔ فن شعر کی اس قباحت پر بھی نظر رہے گو آج نہیں مگر امید قوی ہے کہ انشاء اللہ کبھی نہ کبھی اس کا ثمرۂ نیک حاصل ہو۔‘‘ ۱؎

                                جدید شاعری نے اپنے لیے مثنوی کی ہئیت کو اختیار کیا۔ حالیؔ جدید مثنوی کے بانی ہیں ان کی مثنوی ’’جواں مردی کا کام ‘‘ اردو کی پہلی مثنوی ہے جو انگریزی حکایت سے ماخوذ ہے ۔ یہ مثنوی ۱۸۷۲ میں لکھی گئی ہے البتہ جدید مثنوی نگاری کا باقاعدہ آغاز انجمن پنجاب کے مشاعرے ۱۸۷۴ سے ہوا۔جس کے روحِ رواں محمد حسین آزاد تھے ۔ آزادؔ نے انجمن کے مشاعرے میں جو مثنویاں پڑھیں ان کی ترتیب میں محققین کو اختلاف ہے ۔ ڈاکٹرگیان چند کے مطابق ان کی ترتیب اس طرح سے ہے (۱) برکھارت(۲ ) زمستان (۳) امید ( ۴) حب الوطن (۵) امن ( ۶) انصاف (۷) مروت یا شرافت ( ۸) صبر ( ۹) تہذیب ۔ڈاکٹر منظر اعظمی کے مطابق آزاد کی مثنویوں کی فہرست یوں ہے ۔(۱) شبِ قدر ( ۲) زمستان(۳) صبح ِ امید(۴) حبِ وطن ( ۵) خوابِ امن ( ۶) دادِ انصاف ( ۷) وداع انصاف ( ۸ )گنج قناعت  ( ۹) تہذیب ۔ذیل میں آزاد کی چند مثنویوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے ۔

                 شبِ قدر آزادؔ کی سب سے اہم مثنوی ہے جو ۱۱۵ اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں ربط و      تسلسل بھی ہے اورقافیہ کی پابندی بھی ۔مثنوی کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ رات کی آمد اور پھر رات میں مختلف پیشوں سے وابستہ لوگوں کی مصروفیات کا نقشہ کھینچتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مزدور، مسافر ، طالب علم، نجومی ، شاعر، اہل جہاز، ماں اور اس کے بیمار بچے، چور وغیرہ کے مشاغلِ شب کی متنوع تصویریں پیش کرتے ہیں ۔ وہ مختلف لوگوں کے مشاغل کے ساتھ ساتھ شاعر کا بھی ذکر کرتے ہیں اور ان کے ذکر کو اس خوبصورت شعرپرختم کرتے ہیں ۔

یا رب یہ التجا ہے کرم تو اگر کرے

وہ بات دے زبان پہ کہ دل میں اثر کرے

۲؎

        اس شعر پر نظم ختم ہونی چاہی لیکن آزادؔ نظم کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید ۲۴ اشعار رقم کرتے ہیں ۔ جس سے نظم کے تسلسل اور اثر میںفرق آتا ہے ۔مذکورہ شعر اگر نظم کا آخری شعر ہوتا تو قاری کے ذہن پر ایک لطیف تاثر دیر تک قائم رہتا مگر شاعر نے اس تاثر کو مزید اشعار سے ختم کر دیا ہے البتہ نظم کے بعض حصّے قابلِ توجہ ہیں خاص کر یہ چند اشعار جن میں آزادؔ کا تخیل بلندیوں کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے ۔

سوتا گدا ہے خاک پہ اور شاہ تخت پر

ماہی بزیر آب ہے طائر درخت پر

ہے بیخبر پڑا جو بچھونوں پہ گھر میں ہے

دامان دشت پرکوئی سوتا سفر میں ہے

گھوڑے پر اپنے اونگ گیا ہے سوار بھی

 چوکا ہے بلکہ راہزنِ نابکار بھی

القصّہ ہے امیر کوئی یا فقیر ہے

عورت ہے یا کہ مرد جواں ہے کہ پیر ہے

بچہ کہ ماں کی گودمیں ہے بلکہ پیٹ میں

سب آگئے ہیں نیند کی اس دم لپیٹ میں

جس کو پکارو وہ سوئے خواب عدم گیا

دریا بھی اب تو چلنے سے شاید ہو تھم گیا

۳؎

                آزادؔ نے اپنے مشاہدات کو تصنع اور مبالغے کے بغیر فطری انداز میں بیان کیا ہے ۔ چنانچہ اس سے پہلے تخیل کی اڑان شاعر کو اکثر مبالغہ آرائی پر مجبور کرتی تھی۔ جس کے لیے مبالغہ کی زبان ہی استعمال کی جاتی تھی۔ جدیدشاعری نے اردو شاعری کا دامن عربی وفارسی الفاظ اور تشبیہات و استعارات کی گراں باری سے پاک کرنے کی بڑی اچھی کوشش کی ۔

                مثنوی زمستان آزادؔ کی وہ مثنوی ہے جو انہوں نے انجمن پنجاب کے دوسرے مشاعرے منعقدہ ۳۰؍ جون میں پیش کی ۔ اس میں ۱۴۳ اشعار ہیں ۔ اس مثنوی میں سردی میں مختلف لوگوں کے حالات و کیفیات کی منظر کشی کی گئی ہے ۔ برف سے ڈھکی پہاڑیاں ، برف پر پھسلنا، قطبین کی یخ بستہ فضاؤں کا نقشہ، گانے بجانے ، پان کھانے اور چبانے ، معمر عورتوں کا یاد ماضی سے لطف اٹھانے کے رنگ برنگین نقشے نظم کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد شاعر اسپِ تخیل پر سوار ہو کر ایران اور ہند کی تاریخ کی ورق گردانی کرتا ہے

                مثنوی حبِ وطن ۱۹۵ اشعار پر مشتمل ہے ۔ مثنوی کی ابتدا ان اشعار سے ہوتی ہے۔

ہے قول جملہ تجربہ کارانِ فارسی

اور کہتے ہیں یہ نظم نگارانِ فارسی

حبِ وطن ز ملک سلیماں نکو تر است

خار وطن ز سنبل و ریحان نکو تر است

۴؎

                مذکورہ اشعار میںوطن کے تعلق سے جس طرح کے خیلات کا اظہار کیا گیا ہے وہ جذباتیت پر مبنی ہے ۔ اہنوں نے اس نظم کی تخلیق اُسی ذہنی کیفیت سے کی ہے جولاہور میں قیام کے دوران اپنے آبائی وطن سے دور ہونے کے باعث ان پر چھائی ہوئی تھی۔اس میں حب وطن کے جذبے کی نوعیت انفرادی ہے لیکن پھر بھی کہیں کہیں اس میں حب وطن کا اجتماعی تصور ابھرتا ہے۔وہ نظم کو اس نفسیاتی نکتے سے شروع کرتے ہیںکہ ایک غریب الوطن کے لئے مناظر فطرت میں وہ دلکشی نہیں رہتی جواپنے وطن میں محسوس ہوتی ہے۔آگے چل کر وہ حبِ وطن کے قدیم نظرئیے کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

حبِ وطن اسے نہیں کہتے کہ باغ سے

نکلے جو گل تو خاک ہو فرقت کے داغ سے

حبِ وطن اسے بھی نہیں کہتے اہلِ ہوش

یاد وطن میںہووے گے جوش وگہ خروش

حبِ وطن اسے نہیں کہتے کہ گھر رہیں

بچوں کے منہ کو چومتے آٹھوں پہر رہیں

ہے کوئی گود میں کوئی گردن کا ہار ہے

بی بی کہیں میاں کو بہت مجھ سے پیار ہے

۵؎

                آزاد کا نظریۂ حبِ وطن مادی اور سیاسی تصور پر مبنی ہے ان کا یہ تصور اہلِ مغرب سے مستعار ہے ۔ جہاں کا ہر ایک فرد حبِ وطن کے جذبے سے سرشار نظر آتا ہے جو ہر وقت وطن پر مر مٹنے کو تیار رہتا ہے وہاں کا ہر فرد وطن کی فلاح و بہبود اور نام و نمود کے لیے ساری کوششیں کرتا رہتا ہے ۔ وہ حب الوطنی کے جدید تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :

اب میں تمہیں بتاؤں کہ حب وطن ہے کیا

وہ کیا چمن ہے اور وہ ہواے چمن ہے کیا

آورۂ سفر ہو کہ موجود گھر میں ہو

ہاتھ اپنا جیب نفع میں ہو یا ضرر میں ہو

ہر حال میں رہیں اسے اہل وطن عزیز

اور ہوویں نیک و بد روش جان و تن عزیز

حب وطن کے ملک میں فرمانروا ہے وہ

تاج و سریر ہو کہ نہو بادشاہ ہے وہ

۶؎

                خواب امن آزاد کی ایک طویل مثنوی ہے ۔ جو متنوع مرقعوں سے مزین ہے ۔ اس میں                امن،علم،زراعت،تجارت،صنعت ودستکاری،دولت اور فتنہ انگیزی کوتجسیم(personify) کرکے پیش کیا ہے ۔ انہوں نے یہ اسلوب انگریزی ادیبوں سے مستعار لیاہے۔ یہ ایک تمثیلی مثنوی ہے جس کی ابتدا سورج کے ڈوبنے اور ایک دشتِ پُر بہار سے ہوتی ہے جہاں کے پتے پتے پر امن و امان رقم ہے اور جہاں شیر و بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے۔ خسرو امن کے دربار میں علم، زراعت، تجارت، صنعت و دستکاری ، اوردولت شکریہ ادا کرتی ہے لیکن دوسری جانب کوہ پر ایک مردِ دلاور، آشوبِ جہاں کھڑا تھا جس نے شہرِ امن کے بندوں کو اپنی طرف بلایا اور انہیں مکاری سے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر کے امن و امان کو درہم برہم کیا۔ اسی نظم میں جہاں ایک طرف امن کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے وہاں دوسری طرف بے عملی، جہالت، کہالت اور بے امنی کے مضر اثرات کو بیان کیاگیا ہے ۔ آزادؔ کی نظموں میں کوئی بھی نظم خوابِ امن کی خوبی کو نہیں پہنچ سکتی۔ اس میں ان کا تخیل بہت ہی بلند ہو گیا ہے  ۔الفاظ کا صحیح انتخاب ، استعاروں کی خوبی کی وجہ سے یہ نظم آزاد کی مخصوص ذہنیت اور ان کے آرٹ کا معراج ہے ۔

                آزادؔ نے اردو شاعری کو نئی روایتوں اور نئی اقدار سے روشناس کرایا۔ ان کی مثنویوں میں لفاظی، مبالغہ آرائی اورصنائع و بدائع کی کثرت نہیں ہے بلکہ سادہ اور عام فہم اسلوب پایا جاتا ہے ۔ ان مثنویوں میں فطرت نگاری، اخلاق کی درستگی اور قومی فلاح و بہبودکا درس ملتا ہے ۔ ان کالب و لہجہ خطابیہ ہے جس سے ان کی شاعری میں آورد کا عنصر زیادہ ہو گیا ہے ۔ وہ بطور شاعر کے غیر معمولی صلاحیت کے مالک نہیں ہیں البتہ جدید نظم نگاری کی تحریک ان کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس نے اردو شاعری کو ایک نئی راہ عطا کی ۔ انہوں نے قدیم اصناف میں نئے تجربوں کو آزمایا اور مثنوی کے امکانات کا دائرہ وسیع کر دیا۔ انہوں نے مثنوی کو بندوں میں تقسیم کر کے ایک نئے طریقے کی بنیاد رکھی ۔

                اردو شاعری کی اصلاح اور جدید شاعری کی تحریک کے حامیوں میں حالیؔ کا نام سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے انجمن پنجاب کے قیام سے دو سال پہلے ہی جدید مثنوی کی خشتِ اول رکھی تھی جب انہوں نے انگریزی سے ماخوذ ایک مثنوی جواں مردی کا کام پیش کی۔ انہوں نے انجمن پنجاب اور سرسید تحریک سے وابستہ ہو کر کئی مثنویاں لکھیں ۔ سرسید تحریک سے متاثر ہو کر تعصب و انصاف، کلمہ الحق ، مناجات بیوہ، جھوٹ اور ایکے کا مناظرہ، اور حقوق اولاد جیسی مثنویاں لکھیں ۔ اُن کی اِن مثنویوں میں سماجی شعور کی جو پختگی نظر آتی ہے وہ انجمن پنجاب کی مثنویوں میں نہیں ملتی ہے ۔ ذیل میں ان کی چند مثنویوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا جاتا ہے ۔

                حالی ؔ کی مثنوی ’’جواں مردی کا کام ‘‘ کو پہلی جدید مثنوی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس لیے اس کا مختصر جائزہ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ یہ ایک مختصر سی مثنوی ہے جو ستر (۷۰) اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں باپ اپنے تین بیٹوں سے کوئی نمایاں کارنامہ انجام دینے کو کہتا ہے تاکہ وہ اس کے عوض میں گراں مایہ جواہر حاصل کر سکیں ۔ بڑا بیٹا ایک انجانے شخص کی امانت واپس کرتا ہے ۔ منجلا بیٹا دریا کی تیز و تند لہروں سے ایک چھوٹے بچے کو نکال کر اس کی ماں کے گود میں ڈال دیتا ہے اور چھوٹا بیٹا منہ پر نقاب ڈال کر اپنے دشمن کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ شرمندہ نہ ہوجائے ۔باپ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور وہ گراں مایہ جواہر اسے عطا کیئے۔

                اس مثنوی کا اخلاقی پہلو، سادہ انداز بیان نہ صرف حالی کے بلکہ اردو شاعری کے بھی ذہنی انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے ۔ یوں تو یہ ایک چھوٹی سی حکایت ہے لیکن اس میں ایک بہت بڑی نصیحت پوشیدہ ہے ۔ تحریک انجمن پنجاب سے قبل حالیؔ کا اس طرح کی مثنوی کہنا ان کی بصیرت اور اہلِ نظر ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔

                برکھارت حالیؔ کی پہلی وہ مثنوی ہے جوانہوں نے انجمن پنجاب کے مشاعرے میں پڑھی۔ یہ ۱۴۵ اشعار پر مبنی ہے ۔ اس میں حالیؔ نے پہلے گرمی کی شدت اور اس کی ساری جزئیات کا ذکر کیا ہے ۔ بن میں آگ لگنا، جانداروں کا تڑپنا، آندھیوں کے طوفان، بچوں کا کھملانا، زبانوں پر العطش العطش کی صدائیں جیسے کیفیات کا ذکر ملتا ہے ۔ اس کے بعد ابر کی کیفیت، بجلی کی چمک، گھنگھور گھٹاؤں کا عالم، جنت کی ہوائیں ، کھیتوں کا سرسبز ہونا، پانی سے جل تھل کابھرنا، کوئل کی کوک، مور کی چنگھاڑ ، انسانوں کی خوشی اور اس خوشی میں خدا کا شکر ادا کرنا سب کی حالی نے ایسی خوبصورت تصویریں کھینچی ہیں کہ پڑھنے والا ان تصویروں میں اپنے آپ کو کھو دیتا ہے

اور صبح سے شام تک برابر

تھا العطش العطش زبان پر

بچوں کا ہوا تھا حال بے حال

کملائے ہوئے تھے پھول سے گال

آنکھوں میں تھا ان کا پیاس سے دم

تھے پانی کو دیکھ کرتے ’’مم مم‘‘

ہر بار پکارتے تھے ماں کو

ہونٹوں پہ تھے پھرتے زبان کو

پانی دیا گر کسی نے لا کر

پھر چھوڑتے تھے نہ منھ لگا کر

بچے ہی نہ پیاس سے تھے مضطر

تھا حال بڑوں کا ان سے بدتر

تخصیص تھی کچھ نہ میری تیری

پانی سے نہ تھی کسی کو سیری

۷؎

                اس کے بعد حالیؔ نے برسات کے موسم کی تعریف کی ہے اور اس بات کو واضح کیا ہے کہ برسات کا موسم دنیا کو نئی زندگی عطا کرتا ہے ۔ باغوں میں نکھار آ جاتا ہے ۔ زمین سونا اُگلنے لگتی ہے ۔مور ناچنے لگتی ہے اور کوئل کی میٹھی کو کو کانوں میں رس گھول دیتی ہے ۔ہواؤں میں مستی پیدا ہو جاتی ہے ۔ندی نالے، جھیل اوردریا چڑھنے لگتے ہیںاور لڑکیاںباغوںمیں جھولا جھولتی ہیں۔ انہوں نے ان مناظرِ فطرت کی ایسی تصویریں پیش کی ہیں کہ اُن سے پہلے اردو نظم میں اس طرح کی مثالیں نظیر اکبر آبادی کے سِوا اور کہیں نہیں ملتیں ۔ انہیں منظر نگاری پر کامل دسترس تھی ۔نظم آگے چل کر داخلی آہنگ اختیار کر لیتی ہے جب حالیؔ کو برسات کے موسم میں وطن کی یاد آتی ہے توانہیں غریب الوطنی کا احساس ستانے لگتا ہے۔ ان کی یہ جذباتی کیفیت آفاقی نوعیت کی ہے کیوں کہ غریب الوطنی میں ہر کوئی اسی طرح کے احساس سے دو چار ہو جاتا ہے ۔

پردیس میں سچ ہے کیا ہو جی شاد

جب جی میں بھری ہو دیس کی یاد

۸؎

        حالیؔ نیچرل شاعری کے علمبردار تھے۔ ان کے یہاں نیچرل شاعری کا مفہوم وسیع ہے ۔ نیچرل شاعری سے مراد وہ شاعری ہے جو لفظاً اور معناً دونوں اعتبار سے نیچرل یعنی فطرت کے مطابق ہو۔ مثنوی برکھارت نیچرل شاعری کی عمدہ مثال ہے ۔ انہوں نے یہ مثنوی شعوری طور پر ایک نئی تحریک کی ترجمانی کے لئے لکھی تھی اور وہ اپنی اس مساعی میں کامیاب بھی ہوئے۔ انہوں نے اس میں برسات کی خوبصورت منظر نگاری کی ہے اور اس منظر نگاری کے ڈانڈے حب الوطنی سے ملائے ہیں ۔ حب الوطن اور قومی مسائل میں ان کا نقطۂ نظر وہی ہے جو سرسید کا ہے۔ اس طرح انہوں نے شاعری کو افادی اور تعمیری مقصد کے لیے استعمال کیا۔

                مثنوی برکھارت کا موضوع جدید نظم کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے ۔ اس نظم کا موضوع نیا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس میں ایک اچھوتا پن ہے ۔ اس موضوع پر اکبرؔ پہلے لکھ چکے تھے مگر حالیؔ نے اس میں وہ تاثیر پیدا کر دی کہ یہ ہر دل کی دوا بن گئی ۔ انہوں نے منظرنگاری، واقعہ نگاری، جذبات نگاری اور جزئیات نگاری سے کام لے کر نیچر اور انسانی جذبات و معاملات کو بے ساختگی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ البتہ نظم کی بے جا طوالت کھٹکتی ہے ۔ حالیؔ کی سادگی ، اصلیت جوش اور واقعیت نگاری اس نظم کی جان ہے ۔

                نشاط امید حالیؔ کی دوسری مثنوی ہے جو انہوں نے انجمن پنجاب کے مشاعرے میں پڑھی۔ یہ مثنوی ۹۲ اشعار پر مشتمل ہے۔ اس نظم پر سرسید کے مضمون امید کی خوشی کا واضح اثر نظر آتاہے ۔ اس مثنوی میں انہوں نے امید کے فوائد اورکارنامے بیان کئے ہیں ۔ شاعر مختلف بزرگوں ، پیغمبروں اور مشہور آدمیوں کے حوالے دیتا ہے جن کو مایوسی اور ناکامی میں صرف امید کا سہارا تھا۔ حالیؔ کے اس موضوع میں آفاقیت ہے ۔ زندگی کی عام حقیقت اس میں نمایاں ہے ۔ اس حقیقت کو پیش کرنے کے لیے انہوں نے کہیں تاریخ کا سہارا لیا ہے ۔کہیں مذہب کا دامن تھاما ہے اور کہیں معاشرے سے کام لیا ہے ۔ غرض کہ حالیؔ مختلف طریقوں سے اُمیدکے فلسفے کو ذہن نشین کراتے ہیں ۔

                حالیؔ نے اس نظم میں بیانیہ انداز اختیار کیا ہے لیکن اس بیانیہ رنگ میں انہوں نے اپنی جذباتی اور نفسیاتی حقیقت نگاری سے ایک نئی جان ڈال دی ہے ۔ خاص کر ناامیدی اور امید کی کشمکش کے بیان میں ان کی یہ خصوصیت اپنے معراج پر نظر آتی ہے ۔

ہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجوم

آتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوم

لگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنے

حوصلہ کا لگتا ہے  جی چھوٹنے

ہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگ

عرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگ

جی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیے

پھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیے

کان میں پہنچی تری آہٹ جوہیں

رختِ سفر یاس نے باندھا وہیں

ساتھ گئی یاس کے پژمردگی

ہو گئی کافور سب  افسردگی

تجھ میں چھپا  راحتِ جان کا ہے بھید

چھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید

۹؎

                                حُبِ وطن حالیؔ کی تیسری مثنوی ہے جو انہوں نے لاہور کے مشاعرے میں پڑھی ۔یہ ایک طویل مثنوی ہے جو ۲۱۵ اشعار پر مبنی ہے ۔ حبِ وطن اس زمانے کا عام موضوع تھا اور یہ حالی کا بھی خاص موضوع ہے ۔ ان کی ساری شاعری اِسی ایک محور کے گرد گھومتی ہے ۔ نظم کا آغاز نیچرل شاعری سے ہوتا ہے جس میں شاعر اپنے وطن کی سر زمین، اس کے آسمان، موسم، مناظر، چاند، سورج، چرند و پرند، دشت و دریا، کوہ وصحرا، اور چمن زار وغیرہ کا نہایت والہانہ انداز میں ذکر کرتے ہیں ۔انہیںوطن کی مشتِ خاک بہشت سے بڑھ کر نظر آتی ہے ۔ وہ ان مناظرِ فطرت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مناظرِ فطرت اگرچہ حسین ہوتے ہیں لیکن ایک غریب الوطن کے لیے ان میں وہ دلکشی نہیں رہتی جو اپنے وطن میں محسوس ہوتی ہے ۔ یہ نظم حالیؔکی نفسیانی کشمکش کی آئینہ دار ہے ۔ اس نظم کی تخلیق کے وقت وہ بذاتِ خود وطن سے دور لاہور میں مقیم تھے۔ اس میں ان کی ذہنی کیفیت اورجذبات کی شدت محسوس کی جاتی ہے ۔

                آزادؔ کی طرح حالیؔ کی مثنوی میں حبِ وطن اور قومیت کے قدیم و جدید دونوں نظریات ملتے ہیں۔حالیؔ نے مثنوی کی ابتدا میں جس حبِ وطن کا ذکر کیا ہے ۔ وہ قدیم اور روایتی نوعیت کا ہے ۔ اس سلسلے میں وہ بعض تاریخی واقعات سے حب وطن کی اہمیت کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن جلد ہی وہ اس روایتی تصور سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور حبِ وطن کے اجتماعی اور جدید تصور کا نظریہ پیش کرتے ہیں ۔

                انجمن پنجاب کے مشاعرے میں حالیؔ نے جو آخری مثنوی پیش کی وہ مثنوی مناظرِ رحم و انصاف تھی جو ۱۱۹ اشعار پر مشتمل ہے ۔ یہ ایک مکالماتی نظم ہے جس میں رحم اور انصاف مناظرہ کر کے ایک دوسرے کی خوبیاں اور خامیاں بیان کرتے ہیں ۔ یہ اردو شاعری میںایک نئے طرز کی ایجاد ہے ۔ سب سے پہلے رحم بتیس شعروں میں انصاف کی برائی اور اپنی تعریف کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ دنیا میں تیری وجہ سے فتنوں اور جنگوں کا سماں بندھا ہوا ہے ۔ سینکڑوں سولی پر چڑھ جاتے ہیں ، کروڑوں سر تن سے جدا کئے جاتے ہیں اور بے شمار لوگ قید خانوں میں دم توڑ بیٹھے ہیں ۔ پھر اپنی تعریف میں کہتا ہے کہ میرے دربار میں سب کے عذر قبول ہوتے ہیں اور میرے سامنے غم شاد ی میں بدل جاتے ہیں ۔ میں نے ہی حضرت یوسف اور حضرت ایوب  کو غم سے نکالا اور میں ہی یتیموں کا آسراہوں ۔ انصاف ۶۴ اشعار میں جواب دیتا ہے اور رحم کی خامیوں کو نمایاں کرنا شروع کرتاہے کہ تیرے باعث رہزنوں اور قزاقوں کی ہمت بڑھ جاتی ہے اورتیرے ہی باعث دنیا میں بے باکی اور بے ادبی پید اہو جاتی ہے ۔ رشوت اور ظلم کا بازار گرم ہے ۔ دغا بازی اور دھوکہ دہی عام ہے ۔ پھراپنے اوصاف بیان کرنا شروع کرتا ہے کہ راست بازی میری طبعیت ہے ، عدالت میری عادت ہے ۔ میرا مزاج متعدل ہے۔ میں نے ہی ویرانوں کو آباد کیا۔اخباروں کو آزادی دی۔ جمہوریت کا نظام قائم کیا۔غلامی کا خاتمہ کیا اورامن و امان کی نوید ہر سُو سنائی۔ اس مناظرہ کے عالم میں عقل کا گزر وہاں سے ہوتاہے اور وہ دونوں کی تقریر سن کر انہیں صحیح راہ دکھاتی ہے۔ عقل سے انہیں یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دنیا کی بہتری کے لیے ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا لازمی ہے ۔عقل کی تقریر سُن کر دونوں ایک ساتھ اس طرح مل گئے جیسے دودریا آپس میں مل جاتے ہیں ۔ بظاہر یہ ایک خشک موضوع معلوم ہوتا ہے لیکن عملی زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ حالی ؔ نے اسے محسوس کیا اوراس کو ایک نئے انداز میں دوسروں تک پہنچایا۔ اتنی طویل نظم ہونے کے باوجود انہوںنے اسے اس خوبی سے نبھایا ہے کہ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے

                مناجات بیوہ حالیؔ کی ایک اہم مثنوی ہے جس میںانہوں نے ایک سماجی مسئلے کو موضوع بنایا ۔ یہ مسئلہ بیوہ کا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے اس میںایک نو عمر بیوہ کے حال زار کو جس کمال اور جگر سوزی سے بیان کیاہے وہ ان کے مشاہدہ کا ہی نہیں بلکہ ان کے ماہر نفسیات ہونے پر بھی دلالت کرتاہے ۔ یہ نظم سماج کے جھوٹے خداؤں خصوصاً ہندو پروہتوں کے نظریات پر ایک کاری ضرب تھی جو بیوہ کو سفید کپڑا اوڑھا کے اس کی رہی سہی زندگی کوکلبئہ تاریک میںدھکیل دینے پر تلے ہوئے تھے ۔ تو ہم پرست اُسے منحوس سمجھتے تھے ۔ اُسے راحت وآرام اور خوشیوں سے کوسوں دور رکھتے تھے۔ اسی لیے اس زمانے میں ایشور چندر ودیا ساگر نے برہمو سماج کی تحریک چلا کر بیواؤں کی دوسری شادی کی وکالت کی ۔ حالیؔ نے اس تحریک سے متاثر ہو کر مناجاتِ بیوہ پیش کی۔ یہ اردو کی پہلی مثنوی ہے جس میں عورت کے مسائل کو درد مندی سے پیش کیاگیا ہے ۔ اس مثنوی کے بعد عورت کے تعلق سے ہمارے شعرا کے رحجان میں تبدیلی آئی  اور انہوں نے بھی عورتوں کے مسائل کی عکاسی کرنی شروع کی۔

                مثنوی کے آغاز میں نو عمر بیوہ ذاتِ باری اور اس کے مرتبے کی تعریفیں کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اﷲتعالیٰ کی ذات قدیم ہے ۔ وہ سب سے بالا اوراعلیٰ ہے اسی سے رحمت کی امید ہے ۔ وہی غریبوں اور مسکینوں کا ماوا و ملجا ہے ۔ وہی ایک کو غم اور دوسرے کو خوشی عطا کرتا ہے ۔ دنیا میں خوشی اور غم کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اور ہر کسی کے دل میں اُمید کی شمع وہی روشن کرتا ہے ۔ لیکن دنیامیں ایک ایسی مخلوق بھی ہے جو غموں اورمصیبتوں سے نکل نہیں پاتی۔غم جس کامقدر بن چکا ہے جس کے دروازے پر خوشی نے کبھی دستک نہیں دی اورجس کے گھر میں کبھی بہار نہیں آئی۔ اس کا گھراس طرح اجڑ ا کہ کبھی آباد نہیں ہوسکا ۔اس کے دل کی مرجھائی ہوئی کلی کبھی کھِل نہ سکی ۔ وہ لاچار اور مظلوم مخلوق کوئی اور نہیں بلکہ ایک بیوہ ہے جو اپنی

زندگی سے تنگ آکر اپنی جان کی دشمن بن گئی ہے ۔وہ اپنی ذہنی کیفیت، اپنی پریشانی بے بسی، بے کسی ،لاچارگی اورزندگی کے بنیادی مسائل کو بارگاہِ خدا وندی میں تفصیل سے بیان کرتی ہے اور خدا سے مدد چاہتی ہے کہ اُسے زندگی سے مطابقت پیدا کرنے کی طاقت حاصل ہو۔

                حالیؔ نے اس موضوع کو بڑے جذباتی انداز میں پیش کیاہے لیکن اس حقیقت کو بیان کرنے میں وہ بالکل ہی جذباتی نہیں ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے عقل و شعور سے کام لے کر ایک بیوہ کے مسائل کی صحیح ترجمانی کی ہے ۔ جوخدا سے اپنی زندی کے سارے مدوجزر کہتی ہے ۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔

تیرے سوا اے رحم کے بانی

کون سُنے یہ رام کہانی

ایک کہانی ہو تو کہوں میں

ایک مصیبت ہو تو سہوں میں

حال نہ ہو دشمن کا ایسا

میرا نازک حال ہے جیسا

مل جاؤں گر خاک میں بھی میں

بچ نہ سکوں طعنوں سے کبھی میں

۱۰؎

                اس مسلسل عذاب اور کرب و بلا میں مبتلا بیوہ کو اس بات کابھی احساس ہے کہ وہ سماج کی طرف سے کی گئی زیادتیوں کو برادشت کر رہی ہے ۔ ورنہ مذہب کی طرف سے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ مذہب نے تو روزِ ازل ہی سے اسے عزت اور وقار بخشا ہے ۔ مذہب اس کی اس حالت کا ذمہ دار کیسے ہو سکتا ہے ۔وہ جانتی ہے کہ اس کی اِس بدتر حالت کا ذمہ دار غلط رسم و رواج ، سماج اورخاندان کی جھوٹی آن بان ہے ۔ وہ خدا سے اس کی فریاد یوں کرتی ہے ۔

حکم پہ چلتی تیرے اگر میں

چین سے کرتی عمر بسر میں

مانتی گر میں عقل کا کہنا

مجھ کو نہ پڑتا رنج یہ سہنا

کچھ نہ عدالت کا تھا ڈراوا

اور نہ مذہب کا اٹکاوا

لیکن ہٹ پیاروں کی یہی تھی

مرضی غم خواروں کی یہی تھی

اپنے بڑوں کی رِیت نہ چھُوٹے

قوم کی باندھی رسم نہ ٹوٹے

ہو نہ کسی سے ہم کو ندامت

ناک رہے کنبے کی سلامت

جان کسی کی جائے تو جائے

آن میں اپنی فرق نہ آئے

مرمٹوں اور کچھ منہ پہ نہ لاؤں

جل بُجھوں اور اُف کرنے نہ پاؤں

گُھٹ گُھٹ کر دم اپنا گنوا دوں

جل جل کر آپے کو بجھا دوں

تجھ پہ ہے روشن اے مرے مولا

وقت یہ کیسا مجھ پہ پڑا تھا

نفس سے تھی دن رات لڑائی

دور تھی نیکی پاس برائی

جان تھی میری آن کی دشمن

آن تھی میری جان کی دشمن

آن سنبھالے جان تھی جاتی

جان بچائے آن تھی جاتی

۱۱؎

                حالیؔ نے اس نظم میں جذبات کی جو تصویریں پیش کی ہیں ان میں ہندوستانی رنگ بھرا ہوا ہے ۔ انہوںنے جذبات نگاری کو اپنے کمال پر پہنچا دیاہے ۔ اس میں حقیقت اور واقعیت ہر جگہ نمایاں ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے اس بات کا صاف صاف اظہار کیا ہے کہ انسان اپنے افعال پر قابو حاصل کرسکتاہے لیکن جذبات کو قابو کرنا آسان کام نہیں ہے اور ایک دکھی بیوہ بھی جذبات سے عاری نہیں ہوتی جن کو آسودہ کرنے کی اسے سماجی خداؤں کی طرف سے اجازت نہیںمل پاتی  ہے۔شاعر نے بیوہ کی زبانی اس مسلے کی طرف نہایت مہذب الفاظ میں اشارہ کیا ہے کہ ایک بیوہ نا آسودہ جذبات کی شدت میں کس طرح لمحہ بہ لمحہ تڑپتی رہتی ہے مگر اپنی عزت کی فکر اُسے ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے۔ جو ایک پاک دامن ہندوستانی عورت کا شعار ہے ۔

                یہ پوری نظم بیوہ کی زندگی کے دکھ درد اور محرومی کی آئینہ دار ہے ۔ اور اتنی طویل ہونے کے باوجود کہیں بھی درد کی شدت میں کمی نہیں آنے پاتی۔ مظلوم بیوہ خداسے دعا کرتی ہے کہ اے اللہ ! تو جو چاہے کر مگر کسی کو بیوہ نہ کر۔ وہ خدا سے سماج کے اس ظالمانہ رسم و رواج کے خاتمے کی دعا کرتی ہے جس میں بیوہ کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور جس میں بیوہ کو خوش رہنے کا حق نہیں دیا جاتا ۔

تو یہ کسی کو داغ نہ دیجو

کسی کو بے وارث مت کیجو

کیجو جو کچھ تیری خوشی ہو

رانڈ مگر کیجو نہ کسی کو

جس دکھیا پر پڑے پہ بپتا

کر اُسے تو پیوند زمین کا

یا عورت کو پہلے بلاے

یا دونوں کو ساتھ اٹھالے

یا یہ نِنادیں ریت جہاں کی

جس سے گئی پرتیت یہاں کی

قوم سے تو یہ ریت چھُڑا دے

بندیوں کی بیڑی یہ تڑا دے

۱۲؎

                نظم کے خاتمے پربیوہ خود کو تسلی دیتی ہے کہ دنیا فانی ہے ۔ یہاں کی ریت یہی ہے کہ ایک آتا ہے اور دوسرا جاتا ہے ۔ یہاں غم اور خوشی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔اس عالمِ فانی میں وہ خدا کی محبت میں سرشار ہونے کی دعا کرتی ہے اور محبت خدا وندی کے سِوا کسی اور کی محبت نہیں چاہتی۔ دراصل وہ ایک کمزور

مخلوق ہے وہ اس سے زیادہ سوچنے کی ، اپنی حالت بدلنے کی ، اور سماج کے رسم و رواج سے ٹکر لینے کی سوچ بھی نہیں سکتی کیوں کہ وہ خدا کے بغیر کسی اور سے رحم و انصاف کی امید نہیں رکھتی ہے ۔

اے عزت اور عظمت واے

رحمت اور عدالت والے

دُکھڑا تجھ سے یہ کہنا دل کا

اک بشریت کا ہے تقاضا

دل پہ ہے جب برچھی کوئی چلتی

آہ کلیجے سے ہے نکلتی

جب کوئی دکھ یاد آجاتا ہے

جی بے ساختہ بھر آتا ہے

ورنہ ہے اس دنیا میں دَھرا کیا

خواب کا سا اک ہے یہ تماشا

اب نہ مجھے کچھ رنج کی پروا

اور نہ آسائش کی تمنا

چاہتی ہوں اک تیری محبت

اور نہیں رکھتی کوئی حاجت

گھونٹ اک ایسا مجھ کو پلا دے

تیرے سوا جو سب کو بھُلا دے

۱۳؎

                مناجات بیوہ جذبات نگاری کی معراج کہی جا سکتی ہے اور جذبات نگاری کے علاوہ اس میں جزئیات نگاری بھی اپنے کمال پر ہے ۔ یہ سب عناصر بیوہ کی حالت کے بیان میں شدت پیدا کرتے ہیں ۔ اس کا آہنگ نہایت ہی در ر انگیزہے ۔ اس میں بیواؤں کے جن مسائل کا ذکر ہوا ہے اس کا تعلق حقیقت سے ہے ۔ حالیؔ انسانیت کا درد رکھنے والے شاعر تھے اور انسانیت کے تئیں ان کی درد مندی کا جذبہ اس مثنوی میں واضح طور پر نمایاں ہے ۔ صالحہ عابد حسین لکھتی ہے:

’’ مجھے اس نظم کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ حالیؔ مرد ہوتے ہوئے بھی ایسا درد ، ایسا حساس، اتنا نازک دل کہاں سے لائے جس نے کم سن بدنصیب بیوہ کے ہر ہر جذبہ اور ہر ہر دکھ کو بالکل اس طرح محسوس کیا جیسے وہ اس پر بیت رہا ہو ۔‘‘۱۴؎

                حالیؔ اردو شاعری کے مطلع پر آفتاب نصف النہار کی حیثیت سے طلوع ہوئے جس کی شعاعیں ہر سمت پھیلیں ۔ انہوں نے مواد کے لحاظ سے اردو شاعری کا دامن موتیوں سے بھر دیا ہے البتہ ہئیت کے تجروں سے گریز ہی کیا ہے۔ دراصل وہ اس تکنیک سے مطمعن تھے جو مختلف اصناف سخن کے لیے اردو میں رائج تھی۔

حوالہ جات

۱۔محمد حسین آزاد، نظم آزاد، مفید عام پریس لاہور ،۱۸۹۹ ، ص ۸

۲۔ ایضاََ  ص ۱۴

۳۔ایضاََ  ص ۱۱

۴۔ایضاََ  ص ۲۴

۵۔ایضاََ   ص  ۲۴-۲۵

۶۔ص  ۲۶-۲۷

۷۔ الطاف حسین حالی، مجموعہ نظم حالی، ایجوکیشنل بک ہاوس علی گڑھ ، ۲۰۱۴ ص  ۳۹

۸۔ایضاََ  ص ۴۴

۹۔ایضاََ  ص۴۸-۴۹

۱۰۔ الطاف حسین حالی ، مثنوی مناجات بیوہ، حالی بک ڈپو، پانی پت، ۱۹۳۷ ، ص ۱۴-۱۶

۱۱۔ایضاََ  ص ۱۷-۱۸

۱۲۔ایضاََ  ص ۵

۱۳۔ایضاََ  ص ۲۶، ۲۹

۱۴۔ ڈاکٹر گیان چند جین، اردو مثنوی شمالی ہند میں ، انجمن ترقی اردو نئی دلی ، ۱۹۸۷، ص ۳۴۵۔

۔۔۔۔

 محمد یعقوب راتھر

 ریسرچ اسکالر ادارۂ اقبالیات برائے ثقافت و فلسفہ    کشمیر یونیورسٹی ،حضرت بل سری نگر۔۱۹۰۰۰۶

       Email:yaqoobrather121@gmail.com

Ph no.9018458181

              Urdu Mathnavi Aur Jadeed Shairy by Mohammad Yaqoob  Rather

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.