علی سردار جعفری کے افسانے

شمالی ہندوستان میں اردو زبان و ادب کے لیے گزشتہ تین صدیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں مغلیہ سلطنت کی بنیادیں ہلنے لگی تھیں، لیکن اردو شاعری کے زرّیں دور کا آغاز ہوگیا تھا۔ انیسویں صدی میں مغلیہ سلطنت کا ٹمٹماتا ہوا چراغ گل ہوگیا۔ برطانوی حکومت قائم ہوئی۔ اسی صدی میں اردو نثر کو وقار حاصل ہوا، مختلف نثری اصناف اردو میں آئیں۔ افسانوی ادب داستان سے نکل کر ناول اور افسانے تک پہنچا۔ بیسویں صدی میں نثر کو اس قدر فروغ ملا کہ وہ شاعری کے برابر آکر کھڑی ہوگئی بلکہ کہیں کہیں آگے جاتی ہوئی دکھائی دی۔ اسی صدی کی پہلی دہائی میں افسانہ کی ابتدا ہوئی اور دو تین دہائیوں میں ہی اظہار کی ایک اہم ادبی صنف بن گئی۔ بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں پوری دنیا انتشار کا شکار تھی۔ عالمی سطح پر جنگیں ہورہی تھیں، انقلابات آرہے تھے، جن سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر تھا۔ ہندوستان میں برطانوی سامراج کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی تھیں، آزادی کی جنگ تیز ہورہی تھی۔ اس دور کے نوجوانوں میں بے چینی بڑھتی جارہی تھی۔ نتیجتاً اس دور کے ادیب اور شاعر بھی اس جدوجہد میں شامل ہوگئے۔ ایسے ہی نوجوانوں نے انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بنیاد ڈالی۔ سردار جعفری جن کی عمر اس وقت بائیس تیئس سال تھی اور جو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، روایت سے بغاوت کرکے اس انجمن کا حصہ بن گئے۔ ابتدا ہی سے ادب سے دلچسپی تھی، اپنے جذبات کا اظہار شاعری میں بھی کیا، ڈرامے بھی لکھے اور افسانے بھی، لیکن چند افسانے لکھنے کے بعد ہی شاید یہ احساس ہوگیا کہ شاعری ان کے لیے بہتر ذریعۂ اظہار ہے۔

سردار جعفری نے صرف بارہ افسانے لکھے۔ صرف ’’چہرہ مانجھی‘‘ کو چھوڑکر سبھی طالب علمی کے زمانے میں لکھے گئے۔ ’’آتشیں قمیص‘‘، ’’لالۂ صحرائی‘‘، ’’ہجوم و تنہائی‘‘ اور ’’تین پاؤ گندھا ہوا آٹا‘‘ بالکل ابتدائی افسانے ہیں۔ ۱۹۳۷ء میں ’’لچھمی‘‘ لکھا۔ اس کے بعد ۱۹۳۸ء یا ۱۹۳۹ء میں حلقۂ ادب لکھنؤ سے ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ’’منزل‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں ایک ڈرامہ کے علاوہ پانچ افسانے شامل ہیں۔ ’’چہرہ مانجھی‘‘ ۱۹۴۹ء میں شائع ہونے والے ’’نیا ادب‘‘ کے خاص نمبر میں طبع ہوا۔ ایک افسانہ جنوری ۱۹۳۶ء کے علی گڑھ میگزین میں ’’شمع تفاول‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔

سردار جعفری ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ شاعر، افسانہ نگار، صحافی، ڈرامہ نویس اور ہدایت کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مفکر اور دانشور بھی تھے۔ ابتدا ہی سے وہ اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی نظام کے خلاف تھے۔ انھوں نے جس وقت لکھنا شروع کیا یا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا اس وقت آزادی کی جدوجہد شباب پر تھی۔ ہر نوجوان برطانوی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اردو افسانہ اپنی عمر کی قریب تین دہائیاں مکمل کرچکا تھا۔ پریم چند کی تخلیقات نے اردو افسانوی ادب کے موضوعات میں نیا انقلاب لادیا تھا اور ترقی پسند انجمن کی ابتدا نے نوجوان تخلیق کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ سردار جعفری کا مزاج رومانی کم انقلابی زیادہ تھا۔ شاید بچپن ہی سے مرثیوں کے مطالعہ نے انھیں ظلم اور ظالم کے خلاف آواز اٹھانا سکھادیا تھا، یہی وجہ ہے کہ طالب علمی اور نوجوانی کے زمانے میں لکھے گئے ان کے افسانوں میں رومانی فضا نہ کے برابر ہے۔ سماج کی ناانصافیاں اور برطانوی حکومت سے نجات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ خود ’’منزل‘‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:

’’ایک افسانے کو چھوڑکر باقی تمام افسانوں کے کردار اس طبقہ سے لیے گئے ہیں جو زندگی کی راحتوں سے محروم ہے۔ ان میں دہقان کے لہو کی حرارت، مزدور کی آنکھوں کی تھکن، مفلس کے چہرے کی اداسی اور زندگی کے ہونٹوں کا زہریلا تبسم ہے۔‘‘

سردار جعفری کو اس وقت کے ہندوستانی سماج میں عورت سب سے کمزور اور مظلوم نظر آتی ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں عورت کا دکھ درد بیان کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ساتھ ہی چاہتے ہیں کہ عورت اپنے آنچل کو پرچم بناکر میدان عمل میں کود پڑے۔ ’’منزل‘‘ کی فاطمہ میں جعفری کے تصور کی عورت کا عکس نظر آتا ہے۔ فاطمہ انگریزی حکومت کے خلاف ہے، وہ سوچتی ہے کہ ’’ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کیوں ہے۔ ولادیت میں ہندوستانیوں کی حکومت کیوں نہیں؟‘‘ وہ انگریزوں کے خلاف لڑنا چاہتی ہے، لیکن سماجی روایتوں کی بندشوں میں جکڑی ہوئی ہے، جہاں ’’لڑکی کی زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ پہلے ماں باپ کی خدمت کرے۔ پھر شوہر کی جوتیاں سیدھی کرتے کرتے مرجائے۔ چند بیمار بچوں کی ماں بن کر اُسے رہنا ہے۔‘‘ فاطمہ کی انگریزوں سے نفرت سردار جعفری کی انگریزی حکومت سے نفرت کا اظہار ہے۔ اس کے گھر کے افراد اور اس کا شوہر برطانوی حکومت کے ملازم اور حمایتی ہیں۔ وہ گاندھی جی، جواہر لال نہرو اور ان جیسے لیڈروں سے سخت ناراض رہتے ہیں۔ فاطمہ کو یہ ناگوار گزرتا ہے۔ سردار جعفری کو یقین تھا کہ عورت اگر عزم کرلے تو اس کے ’’رخساروں کی لپٹ اور خون کی گرمی حدود جنسی سے باہر نکل کر ساری کائنات کو اپنے شعلوں میں لپیٹ سکتی ہے۔‘‘ فاطمہ کی بے خوفی اس کی قوت اور آہنی ارادے کو ظاہر کرتی ہے۔ ’’منزل‘‘ ۱۹۳۷ء میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ اس طویل افسانے میں سردار جعفری کے اشتراکی نظریہ کا اظہار بھی ہے۔ ہندوستان میں پھیلی فرقہ واریت کا درد بھی ہے۔ ہندوؤں کے ذریعہ مسجد کا ڈھانا جس کے ردّعمل میں احتجاج کے دوران نہتے لوگوں پر گولیاں چلانا، بابری مسجد کے حادثہ کو یاد دلاتا ہے۔ منزل میں سردار جعفری انگریزوں کی Divide & Rule کی پالیسی کو بھی بیان کردیتے ہیں:

’’ہندوستان کی آزادی کا راز ہندو مسلم اتحاد میں مضمر ہے۔ مسجد کا تو صرف بہانہ ہے ورنہ حکومت کا سارا مقصد یہ ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کو لڑاکر ان کی قوت کم کردی جائے۔ یہی نہیں بلکہ اتحاد کے امکانات بھی ختم کردیئے جائیں۔‘‘ (منزل)

سردار جعفری نے اپنے افسانوں میں عورت کی مختلف شکلوں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہر کہانی میں اُن کے اشتراکی نظریات کا غلبہ محسوس ہوتا ہے۔ ’’منزل‘‘ میں جگہ جگہ اس کا اظہار ہے۔ ’’لچھمی‘‘ ایک بیوہ کی کہانی ہے لیکن مزدوروں کی آہیں اس میں سنائی دیتی ہیں۔ ’’لچھمی‘‘ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کی ’’بیوگی بھی غربت کے ساتھ سرمائے کی بھاری چکی میں پیس ڈالی گئی۔‘‘ لچھمی کی بے بسی اور غربت کی کہانی میں سردار جعفری نے مزدوروں کی غربت اور بے بسی کو بیان کیا ہے۔ افسانہ کی ابتدا ہی اس جملے سے ہوتی ہے:

’’کارخانوں کی لمبی اور بھدّی چمنیوں سے دھواں مزدوروں کی آہوں کی طرح باہر آرہاتھا۔‘‘

یہ جملے بھی اسی افسانہ کا حصہ ہیں:

’’یہ دنیا کا انوکھا دستور ہے جنھیں خدا نے ہاتھ پاؤں دیئے ہیں وہ مشینوں پر دوڑتے پھرتے ہیں اور جنھیں سواری کی ضرورت ہے انھیں ایک ٹوٹا ہوا یکّہ بھی نصیب نہیں۔‘‘ (لچھمی)

’’بارہ آنے‘‘ میں بھی عورت کی ایک ایسی شکل پیش کی گئی ہے جو باپ کا قرض اور چھوٹے بہن بھائیوں کو پالنے کے لیے جسم بیچنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ کہانی دراصل مجبور جمنا کی نہیں بلکہ گھناؤنے سماج کی ہے جو اس دلدل میں اُسے گھسیٹ کر لاکھڑا کرتا ہے:

’’اس کا نام جمنا ہے۔ ایک کسان کی لڑکی ہے۔ قریب کے دیہات میں رہتی ہے۔‘‘

’’تجھے کہاں سے مل گئی؟‘‘

’’تین دن سے اس کی فکر میں تھی۔‘‘ رامی نے ہنس کر کہا۔ ’’سڑک پر ماری ماری پھررہی تھی، کہیں مزدوری نہیں مل رہی تھی۔ میں نے کہا چلو میں پیسے کموادوں۔ پہلے دن راضی نہیں ہوئی۔ آخر آج آئی اور آج نہ آتی تو کل آجاتی۔‘‘

’’تو اب راضی ہے؟‘‘ کباڑیے نے پوچھا۔

’’راضی نہ ہوتی تو یہاں آتی ہی کیوں؟‘‘

’’پھر اسے روز یہاں آنے پر راضی کرو۔‘‘

’’ایک دن آنے کے بعد پھر کہاں جاسکتی ہے؟‘‘ (بارہ آنے)

ظاہر ہے اس دلدل میں پھنسنے کے بعد نکلنا مشکل ہوجاتا ہے، لیکن اس قیمتی چیز کے گنوانے کی اُجرت اُسے صرف ’’بارہ آنے‘‘ یہ کہہ کر ملتی ہے کہ

جمنا نے پیسے ہاتھ میں لے کر گنے اور کہنے لگی ’’بس بارہ آنے؟‘‘

’’اور کیا اتنی دیر میں کوئی بارہ روپے ملیں گے۔‘‘ (بارہ آنے)

’’پاپ‘‘ اور ’’آدم زاد‘‘ بھی جنسی استحصال کی کہانیاں ہیں۔ سماج کا ہر طبقہ عورت کو صرف ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے، یہاں تک کہ باپ بیٹی کے مقدس رشتے بھی پامال ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’پاپ‘‘ کی ’’اندرا‘‘ اپنے دادو کی ہوس کا شکار ہوکر ماں بن جاتی ہے اور پھر جینے کی آس لیے ایک غیرقوم کے شخص کے بستر کی زینت بنتی ہے، لیکن یہ رشتہ بھی صرف ہوس پرستی تک محدود رہتا ہے۔ ’’پاپ‘‘ کی ’اندرا‘ یا ’آدم زاد‘ کی جھناکا کی کہانی بھی لچھمی کی طرح ہے کہ ہر عزت دار شخص اپنا پہلو تو گرم کرنا چاہتا ہے یا کرتا ہے لیکن اپنے آنگن کی تلسی بنانے سے دامن بچاتا ہے:

’’مجھے خاموش دیکھ کر اس نے کہا:

’’بولو! اب میرے لیے کہتے ہو؟‘‘ آنسوؤں کے موٹے موٹے قطرے اس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ میں نے جلدی سے مذہب کی آڑ لی اور کہا:

’’میں تو مسلمان ہوں۔‘‘

’’اب میں برہمنی کب ہوں۔‘‘

’’مگر ہمارا مذہب اجازت نہیں دیتا۔‘‘

اندرا کانپ اُٹھی اور آنسو اور بھی تیزی کے ساتھ بہنے لگے۔‘‘ (پاپ)

جھناکا وہ مجبور عورت ہے جس کا شوہر جنگ میں کام آجاتا ہے اور وہ تنہا زندگی گزارتی ہے۔ تنہا عورت کو ہر سفید پوش ہوس پرست اپنی جاگیر سمجھتا ہے، لیکن اُسے عزت دینا پسند نہیں کرتا۔ سردار جعفری نے اس افسانہ میں ایسے ہی سفید پوشوں کے لباس کے سیاہ دھبّوں کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ جھناکا جب ایک ناجائز بچے کو جنم دیتی ہے تو گاؤں میں پنچایت بیٹھ جاتی ہے، ہر وہ شخص اس پر لعن طعن کرتا ہے جو اُس پر بری نظر رکھتا تھا:

’’شام کو چوپال میں سارا گاؤں جمع تھا۔ جھناکا کا مقدمہ پیش ہونے والا تھا۔ ہر شخص اپنی اپنی رائے دے رہا تھا۔

’’چھنال ہے چھنال۔‘‘ گھسیٹے نے کہا۔

عیدو بولا ’’کیسا آنکھیں مٹکاکے بات کرتی ہے۔‘‘

فقیرے نے سوچا، مجھے بھی کچھ رائے دینی چاہئے نہیں تو سب بے وقوف سمجھیں گے، کہنے لگا ’’ایک بات کرتی ہے اور دس بل کھاتی ہے۔‘‘

مولوی عنایت محمد جو مومن کانفرنس سے ابھی لوٹ کر آئے تھے، بولے ’’گاؤں میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘

گھرؤ پاسی نے ناک بھوں چڑھاکر کہا ’’ہاں ہاں مولی صاحب! ای کل جگ ہے۔‘‘

پنڈت کیدار ناتھ جو کھدر کی ٹوپی پہنے ہوئے تھے اور ذرا الگ ہٹ کر بیٹھے تھے، فرمانے لگے ’’رام رام، ای مہاپاپ ہے۔‘‘

چودھری نے فیصلہ کن انداز میں کہا ’’ایسی عورت گاؤں میں رکھنے کے قابل نہیں۔‘‘

سردار جعفری کے یہاں عورت کا کردار کمزور نہیں دکھائی دیتا۔ وہ عورت کو سماج میں باوقار طریقے سے زندگی گزارتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو پنچایت جھناکا کو گاؤں سے نکالنے کا فیصلہ سناتی ہے تو وہ شرمندہ نہیں ہوتی یا روتی گڑگڑاتی نہیں بلکہ پنچوں کو شرمندہ کرتی ہے:

’’جھناکا نے مغرور نگاہوں سے سارے مجمع کودیکھا اور کہنے لگی ’’چودھری یہاں کون ہے جو گنگا نہیں نہایا۔‘‘ (آدم زاد)

’’مسجد کے زیر سایہ‘‘ میں بھی عورت ہی مرکزی کردار ہے۔ یہ غربت و افلاس کی ماری ایک بیوہ بھکارن کی کہانی ہے، جو اپنا اور اپنے بچے کا پیٹ بھیک مانگ کر بھرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن ناکام رہتی ہے۔ کھانا اٹھاکر کھانا چاہتی ہے لیکن اس کے منھ سے نکال لیا جاتا ہے۔ اس مختصر افسانہ میں سردار جعفری نے اس سماجی نابرابری پر بھرپور طنز کیا ہے، جس نے غریب اور امیر کے بیچ ایک مضبوط اور بلند دیوار کھڑی کردی ہے۔

’’چہرو مانجھی‘‘ کا بھی مرکزی کردار عورت ہے، یہ ایک طویل افسانہ ہے۔ چہرو ایک خوبصورت لڑکی ہے، تنہا ہونے کے سبب سب اُسے للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ تیرہ دن کا فاقہ برداشت کرنے کے بعد وہ اپنے جسم کو ایک سیر چاول کے لئے بیچ دیتی ہے اور بکتی ہی رہتی ہے، لیکن سماج نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ وہ اس پر شرمندہ نہیں ہوتی:

’’جانتے ہو میں کیا کرتی ہوں؟‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا ’’میں اپنا جسم بیچتی ہوں۔۔۔ میں بہت خوبصورت ہوں۔ مجھے بھی اپنی صورت اور اپنا جسم بہت اچھا لگتا ہے اور میں اُسے بیچتی ہوں۔ ایک دن کے تیس روپے لیتی ہوں اور فوجی افسر مجھے اس سے زیادہ روپے دیتے ہیں۔ تم سمجھتے ہوگے کہ یہ میرا خاندانی پیشہ ہے۔ نہیں، میں تو کسان کی بیٹی ہوں دھرتی کی طرح پاک۔ میں نے یہ پیشہ کبھی نہیں کیا تھا لیکن جب میرے ماں باپ مرگئے اور سارا گاؤں اُجڑگیا اور میں ہزاروں لاشوں کے بیچ میں اکیلی رہ گئی اور لاشوں کو نوچ نوچ کر کھانے والے کتّے مجھے دیکھ کر اپنے دانت پیستے تھے تو گیارہ دن کے فاقوں کے بعد میں لڑکھڑاتی ہوئی اپنے گاؤں کے زمیندار کے پاس گئی، مٹھّی بھر چاول کی بھیک مانگنے کے لیے…۔‘‘ (چہرہ مانجھی)

اس افسانہ میں سردار جعفری نے بنگال کے ساحلی علاقوں کا ماحول پیش کیا ہے، کسان غربت و افلاس کے سبب اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے ہیں یا ان سے پیشہ کراتے ہیں۔ چہرو جسم فروشی کو حالات کی مجبوری کہہ کر سرمایہ داروں کو اپنے سے بدتر کہتی ہے:

’’وہ کہتے ہیں چہرو مانجھی بدمعاش ہے، چہرو مانجھی آوارہ ہے، چہرو مانجھی بیسوا ہے، لیکن بھدر لوگ مجھ سے زیادہ بدمعاش ہیں، مجھ سے زیادہ آوارہ ہیں۔ وہ سب بیسوا ہیں، دلال ہیں، ان کی عزت، ان کا مذہب، ان کا دیوتا سب کچھ روپیہ ہے۔ اس کے لیے وہ اپنی ماؤں کو بیچ ڈالیں۔ اپنی بیٹیوں کو بیچ ڈالیں۔ ان کی عزت اور شرافت صرف ان کے سفید کپڑوں میں ہے۔‘‘

سردار جعفری نے مستقل طور پر افسانے کو اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا، لیکن جتنے افسانے لکھے اُن میں فن سے زیادہ موضوع پر توجہ دی۔ انھوں نے ہر افسانے میں سماج کے گھناؤنے چہرے کی کوئی نہ کوئی تصویر پیش کی ہے۔ اُن کے افسانے فنی اعتبار سے معیاری نہ سہی لیکن ان کی زبان قابل توجہ ہے۔ ان کی نثر میں شاعرانہ لطف آتا ہے۔ وہ تشبیہات و استعارات سے اپنی نثر کو سجا سنوارکر پیش کرتے ہیں۔ ان کی افسانوی نثر پر کہیں کہیں داستان کے پرشکوہ اسلوب کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں:

’’سورج غروب ہوچکا تھا اور رات کی پروقار دیوی اس طرح آگے بڑھ رہی تھی جیسے ریگستانوں کی ویران فضاؤں میں حدی خوانوں کے نغمے دور تک کانپتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔‘‘ (منزل)

’’شباب کی وہ تمام رنگینیاں اس میں موجود تھیں جو ایک عورت کی حشرانگیز تباہیوں کا باعث ہوسکتی ہیں اور اس کے حسن کو گناہوں کی لطیف ترین آلودگیوں کی آغوش میں سونپ سکتی ہیں۔‘‘ (لچھمی)

’’دماغ کے اُفق پر گزرے ہوئے زمانے کی دھندلی دھندلی تصویریں ایک ساتھ اُبھر آئیں۔ کچھ دلکش مناظر، کچھ غمگین یادیں۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں لٹکے ہوئے بچّے کو اوپر اُٹھالیا۔ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔ آنسوؤں کا ایک طوفان امڈ آیا۔ اس کے ہاتھ کانپے اور بچہ زمین پر پھر گرپڑا اور رات کے اندھیرے میں بکھری ہوئی بجلی کی روشنی اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔ اس نے جھک کر بچہ کو دیکھا۔ نفرت کا ایک احساس اُبھر اُبھرکر دل کے نرم گوشوں سے محبت اور مامتا کو دھکّے دے کر باہر نکال دینا چاہتا تھا۔‘‘ (مسجد کے زیر سایہ)

سردار جعفری کے افسانوں کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اگرچہ افسانہ نگار کی حیثیت سے انھیں کوئی نمایاں مقام حاصل نہ ہوسکا، یوں بھی افسانہ نگاری کا سلسلہ چند افسانوں کے بعد منقطع ہوگیا۔ شاعری کو انھوں نے اظہار کا ذریعہ بنایا، لیکن اتنا ضروری ہے کہ نثر لکھنے پر انھیں قدرت حاصل تھی، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے نثر میں بھی قابل ذکر کام انجام دیئے۔ سردار جعفری کے بیشتر افسانے ترقی پسند انجمن سے وابستگی کے بعد لکھے گئے، اس لیے ان میں ترقی پسند نظریات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ’’منزل‘‘ کے پیش لفظ میں انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’’یہ افسانے ہندوستان کی اس تحریک کی پیداوار ہیں جس نے زندگی کا تصور بدل دیا ہے، اس لیے ان میں تلخی کا احساس باعث تعجب نہیں جو درمیانی طبقہ کی طبع نازک پر گراں گزرے گی، مگر اس کو کیا کیا جائے کہ ہمارا موجودہ نظام زندگی کچھ ایسا ہی ہے۔‘‘ دراصل ترقی پسندی کی ابتدا تھی نوجوان ترقی ترقی پسندوں میں ایک جوش تھا، ہر شکل میں اپنے نظریات کو پیش کرنا چاہتے تھے، اسی لیے کہیں کہیں نظریات فن پر حاوی ہوجاتے تھے۔ سردار جعفری کا مقصد افسانہ نگاری نہیں تھا بلکہ انھوں نے اپنی بات کہنے کے لیے ایک طرز اختیار کیا تھا، وہ اپنی منزل پانے کے لیے کوشاں تھے۔ افسانوی مجموعہ کا نام ’’منزل‘‘ رکھنے کے پیچھے یہی بات پوشیدہ تھی۔ انھوں نے مجموعہ کا نام ’’منزل‘‘ اس لیے نہیں رکھا کہ اس میں ’’منزل‘‘ نام کا ایک افسانہ تھا بلکہ اس لیے کہ وہ ایک انقلابی دور سے گزر رہے تھے۔ ان کے پیش نظر ایک ایسی دنیا تھی جو موجودہ دنیا سے مختلف ہے۔ وہ وہاں تک ہر چیز کو روندکر پہنچنا چاہتے تھے۔ سردار جعفری نے اپنے ایک انشائیہ ’’آؤ ہم اس دنیا سے نکل چلیں‘‘ میں اس عزم و خواہش کا اظہار کیا ہے:

’’آؤ ہم اس دنیا ہی سے نکل چلیں جہاں قسمت کی چیرہ دستیوں نے ہمیں پریشان کردیا ہے۔۔۔ آؤ، ہم بیہودگیوں کے اس جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں جس کے اندر دنیا والوں نے مذہب کی روح کو قید کررکھا ہے۔ آؤ ہم اس بھاری پتھر کو ہٹادیں جو انسانیت کے سینے کو کچلے ڈال رہا ہے۔ پھر ہم آزاد ہوں گے۔ جس طرح چاہیں گے پیار کریں گے۔۔۔ آؤ ہم اس آلام اور مصائب کی زندگی کا خاتمہ ہی کیوں نہ کردیں اور ایک نئی زندگی کی ابتدا کریں، ہماری محبت کا آفتاب پہلی بار آسمان پر چمکے گا اور تمام اجرام فلکی اس کے سجدے کے لیے جھک جائیں گے۔‘‘

سردار جعفری کی تحریروں میں اس عہد کے سیاسی اور سماجی نظام سے نفرت کے اظہار کے ساتھ نئے ہندوستان کو دیکھنے کی خواہش نظر آتی ہے۔ اُن کے پاس عزم و استقلال کی کشتی ہے جس پر محبت اور وفا کے بادبان چڑھے ہوئے ہیں جس پر سوار ہوکر وہ آگے کے دریار کو پار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ سردار جعفری کا ہر افسانہ اُن کے ذہنی کرب و انتشار کو ظاہر کرتا ہے۔ اُن کے افسانوں کو اُن کی ابتدائی تخلیقات کے طور پر دیکھنا چاہئے، تبھی ہم کچھ انصاف کرسکیں گے۔

۔۔۔۔۔

پروفیسر ابن کنول،

صدر شعبہ اردو، دہلی یونی ورسٹی، دہلی۔ انڈیا۔

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.