عصمت چغتائی کا فکری ارتقا اور ان کے افسانے

آدمی جس ماحول میں پیدا ہوتا اور اس کی پرورش ہوتی ہے اس کی فکر کی تربیت اسی سماج اور ماحول میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فنکار اپنے فن میں سماج کی مثبت اور منفی دونوں طرح کی عکاسی کرتا ہے۔ہم سب واقف ہیں کہ انسان کی فکر کی تعمیر وتشکیل میں اس کی خاندانی وراثت، ماحول، معاشرہ اور سماجی وسیاسی حالات کا  عمل دخل ہونا لازمی جز ہے ۔ اس لیے ادیب کے فکری ارتقا کا مطالعہ ان نکات کو سامنے رکھے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔

اسی مانند عصمت چغتائی کے فکری ارتقا کی تعمیر وتشکیل میں بھی ان کے ارد گرد کے ماحول اور معاشرے کا بڑا دخل رہا ہے۔ عصمت چغتائی نے آنکھ کھولی تو ایک معزز اوراعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانہ پایا۔ عصمت کی تعلیم وتربیت  میں ان کے بڑے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا اہم حصہ رہا۔ عصمت کو بچپن ہی سے تمام طرح کا آرام اور آسائشیں ملیں لیکن عصمت چغتائی کی پرورش وپرداخت  میں کمی کی ایک بڑی وجہ ان کے بہت سارے بھائی اور بہن کا ہونا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اسے بچپن میں جو پیار ملنا چاہیے تھا اس سے وہ محروم رہیں۔ہاں نوکرو چاکر کی شکل میں ان کے ارد گرد لوگ ضرور رہے۔

والدین کے تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے انھیں ذہنی اور فکری آزادی ضرور ملی۔یہی وجہ ہے کہ گھر کے اس آزادانہ ماحول نے جس میں عصمت کی تربیت ہوئی ان کی فطرت میں شروع ہی سے بے باکی، خودسری اور باغی پن کو فروغ دیا۔ پھر گرد وپیش کے حالات اور زندگی کے گہرے مشاہدے نے بھی ان کی فکر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ  خودکہتی ہیں:

’’آگرہ کی ان مردہ گلیوں میں پہلی بار مجھے اپنے لڑکی ہونے کا صدمہ ہوا۔ عورت خدا نے کیوں پیدا کی۔ مری پٹی، مجبور و محکوم ہستی کی کیا ضرورت، دھوبن روز رات کو پٹتی تھی۔ مہترانی کے آئے دن جوتے پڑا کرتے تھے، پاس پڑوس کی تمام ہی عورتیں آئے دن اپنے شوہروں کے جوتا کھایا کرتی تھیں اورمیں خدا سے گڑگڑاکر دعامانگتی۔ اے اللہ پاک مجھے لڑکا بنا دے۔‘’

یہ وہ صورت حال تھی، جس کا مشاہدہ وہ بچپن سے ہی کر رہی تھیں۔ عورتوں کی مجبوری ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی، ان پر ہونے والے ظلم اور زیادتیاں ان سب کا ان کے لاشعور پر ایک گہرا نقش ثبت ہوچکا تھا۔ یہی منظرنامہ آگے چل کر ان کی فکر کا ایک اہم جز بن گیا۔

نہ صرف گھر بلکہ تعلیم گاہ اور دانشگاہ میں بھی اس کے اس ذہن کو مزید بالیدہ ہونے کا موقع ملا۔ ہاسٹل کی زندگی کے دوران وہ مختلف قسم کے تجربات و مشاہدات سے دوچار ہوئیں۔ یہیں انھیں انسانی نفسیات کاایک نیا تجربہ اپنی روم میٹ رسول فاطمہ کی ذات سے ہوا۔ جو آگے چل کر ان کی فکر کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ جس کا اظہار ان کی بعض تخلیقات میں نمایاں طورپر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بورڈنگ کی زندگی میں اور بہت سے تجربے ہوئے۔ جن کے ذریعے ان کو انسانی زندگی کے بہت سے اسرار و رموز سمجھنے میں مدد ملی اور اس طرح عصمت کو زندگی کی پوشیدہ حقیقتوں کا ادراک ہوا جس نے ان کی شخصیت میںبانکپن پیدا کیااور ان کی فکر کو جلا بخشی۔ عصمت لکھتی ہیں:

’’وہ آزادی اور روشنی جو اس ماحول میں مل رہی تھی میرا دماغ تیزی سے جذب کرنے میں غرق تھا۔ نئے نئے دروازے اور کھڑکیاں دماغ میں کھل رہی تھیں۔ علم ودانش کے اس بے پناہ طوفان میں چند بوندیں بھی انسان سمیٹ لے تو راہیں روشن ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ میں نے فولادی دیواروں سے سر ٹکرایاتھا اور سر میں کوئی دراڑ نہیں پڑی تھی۔ دن بدن مجھے اپنے شعور کا قد بلند ہوتا دکھائی دے رہا تھا… لکھنو میں پہلی مرتبہ آزادی سے بازاروں میں گھومنے کے مواقع کے ساتھ لڑکوں سے بھی واسطہ پڑا… علی گڑھ میں تو کالج کے لڑکے دور فاصلے پر ایک گنجلک کاسا خواب تھے۔ لڑکی کے دل میں جو خوف جنس مخالف کے لیے بچپن سے بٹھایا جاتا ہے اس کی جڑیں بڑی گہری اور مضبوط ہوتی ہیں۔ میں چونکہ بھائیوںکی صحبت میں پلی تھی۔ باپ کا سر پر سایہ نہیں قرب میسر ہوا تھا۔ رشتہ کے بھائیوںکوبھگتا تھا۔ لہٰذا لڑکے مجھے ہوا نہیں لگتے تھے۔‘‘

حصول تعلیم کے دوران نصابی کتابوں کے علاوہ عصمت نے دنیا کے اور بہت سے نامور مفکرین مثلاً شیکسپیئر، برنارڈشا، ورڈز ورتھ، میتھو آرنلڈ، بائرن، شیلی، کیٹس، ملٹن، برونئے، سسٹرس، چیخوف، ٹالسٹائے، گورکی، دستووسکی، چارلس ڈکنس، ایملی زولا، بالزاک، مام، ہیسنگ وے، وغیرہ کا بھی مطالعہ کیا جس نے ان کی فکر ونظر کونہ صرف وسعت عطا کی بلکہ انھیں سوچنے سمجھنے کا نیا انداز بھی دیا۔ ان مفکرین میں برناڈشا اور چیخوف نے عصمت کو کچھ زیادہ ہی متاثرکیا تھا۔ برناڈشا سے متاثر ہوکر عصمت نے اپنا پہلا ڈرامہ ’فسادی‘ لکھاجس کے بارے میں عصمت کہتی ہیں کہ ’’میں نے اپنا پہلا ڈرامہ ’فسادی‘ برناڈشا سے حد درجہ متاثر ہوکر لکھا۔ چیخوف کے بارے میں بھی عصمت کا کہنا ہے کہ میں چیخوف کی کتابوں کا مطالعہ تقریباً ہر سال ایمان تازہ کرنے کے لیے کرتی تھی۔ اس طرح عصمت نے فکرکی سطح پر چیخوف سے بھی گہرا اثر قبول کیا۔ گویا ان کے ہاں فکر وفن کی سطح پر جو نت نئے تجربات ملتے ہیں ان میں ان ادیبوں کی تخلیقات کا بھی بہت دخل رہا ہے۔ ان مفکرین یا ادیبوں کے علاوہ عصمت کو متاثر کرنے والے بہت سے اور دوسرے ادیب، شاعر اور دیگرافراد بھی تھے۔ جن کی تفصیل عصمت یوں بیان کرتی ہیں:

’’ہزاروں لاکھوں انسانوں نے مجھے متاثر کیا ہے۔ گنتی، ناپ تول  ناممکن ہے۔ اپنے والد میرزا قسیم بیگ چغتائی سے روشن خیالی کی وجہ سے متاثر تھی۔ انھوں نے کوئی دبا ؤ نہیں ڈالا۔ ان کی حمایت سے میں نے آزادی حاصل کی۔ اپنا راستہ بنایا بگاڑا۔ دوسرے میرے بھائی عظیم بیگ چغتائی جو مجھ سے محبت کرتے تھے میری تعلیم ان کی مدد سے پوری ہوئی۔ انھوںنے کتابوں سے محبت کا درس دیا۔ شیخ عبداللہ بیگم عبداللہ اور ان کی بڑی بیٹی رشید جہاں سے متاثر تھی۔ زندگی کیا ہے اس سلسلے میں رہنمائی کی۔میرا دوست یوسف اور میری چہیتی سلطانہ جعفری میرے عزیز دوست ہمعصر ادیب، شاعر، میری بھانجیاں بھانجے بھائیوں کی اولاد اور میری بیٹیاں میرا لاڈلا نواسہ اشیش میری زندگی کی راہوں میں روشنی ثابت ہوا۔‘‘

اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کے بعد اگر اردو ادب کی کسی شخصیت نے عصمت کے ذہن پر اپنا گہر اثر مرتب کیا تو وہ تھیں رشید جہاں۔ عصمت کے ذہن کے اندر بغاوت اورانحراف کا جو طوفان موجیں مار رہا تھا اس کو مزید تقویت رشید جہاں کی شخصیت اور ان کی تحریروں سے ملی۔ رشید جہاں کی بے باک اور پراعتماد شخصیت نے عصمت کے اندر خود اعتمادی پیدا کی اورعصمت پر ان کے خیالات براہ راست اثرانداز ہوئے جس کا اعتراف عصمت ان لفظوں میں کرتی ہیں:

’’اور زندگی کے اس دور میں مجھے ایک طوفانی ہستی سے ملنے کا موقع ملا۔ جس کے وجود نے مجھے ہلاکر رکھ دیا۔ 1938 میں رشید ہ آپا انگاروں والی رشیدہ  آپا بن چکی تھیں۔ اب ان کی سلگتی ہوئی باتیں پلے بھی پڑنے لگی تھیں۔ اور پھر وہ میرا حسین ڈاکٹر ہیرو ’شمعی، نارنگی کے شگوفے اور قرمزی لبادے چھو ہوگئے۔ مٹی سے بنی ہوئی رشیدہ  آپا نے سنگ مرمر کے سارے بت منہدم کردیے… جب غور سے اپنی کہانیوں کے بارے میںسوچتی ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے صرف ان کی بے باکی اور صاف گوئی کو گرفت میں لیا اور ان کی بھرپور سیمابی شخصیت میرے قابو میں نہ آئی۔ مجھے روتی بسورتی حرام کے بچے جنتی ماتم کرتی نسوانیت سے ہمیشہ سے نفرت تھی خواہ مخواہ کی وفا اور جملہ خوبیاں جو مشرقی عورت کا زیو ر سمجھی جاتی ہیں مجھے لعنت معلوم ہوتی ہیں… یہ سب میں نے رشید  آپا سے سیکھا۔‘‘

ایک دوسری جگہ عصمت رشید جہاں سے متاثرہونے کا اعتراف اس طرح کرتی ہیں:

’’پھر میں نے چوری چھپے انگارے پڑھی۔ رشیدہ آپا ہی مجھے ایک ہستی نظر آ ئیں جنھوں نے مجھ میں خوداعتمادی پیدا کی۔ میں نے انھیں اپنا گرو مان لیا۔ علی گڑھ کی جھوٹی زہرآلود فضا میں وہ بڑی بدنام تھیں۔ میری صاف گوئی کو انھوں نے سراہا اور پھر میں نے ان کی بتائی ہوئی کتابیں چاٹ ڈالیں۔‘‘

ایک اورجگہ وہ لکھتی ہیں:

’’رشیدہ آپا سے ملاقات ہوئی تو جو سبق ہم نے پہلا سیکھا وہ یہی تھا کہ مشاہدات اور تجربات کو زمانے کی جھوٹی اخلاقی اقدار سے خوف زدہ کرنے کے بجائے دل کی بات بیباکی سے کہہ دو۔‘‘

رشید جہاں کی شخصیت اور ان کی بے باک فکر نے عصمت کے فکروخیال میں انقلاب برپا کردیا، جس سے عصمت کے سوچنے سمجھنے کے انداز میں نمایاں تبدیلی ہونے لگی۔ رشید جہاں نے خود بھی عصمت کی بے حد حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے عصمت میں خوداعتمادی کی قوت اور مستحکم ہوئی ان کے حوصلے پہلے سے زیادہ بلند ہوئے اور ان پر فکر وخیال کے نت نئے در وا ہوئے۔

رشیدجہاں کے ساتھ ساتھ عصمت کی فکر ’انگارے‘ کے دوسرے مصنفین سے بھی متاثر ہوئی۔ عصمت نے اس سے نہ صرف اثر قبول کیا بلکہ ’انگارے‘ کے تصورات کو اپنی فکر کی بنیاد میں شامل کرلیا۔ ’انگارے‘ میں دو بنیادی تصورات تھے۔ ایک سوشلزم کا تصور اور دوسرے تحلیل نفسی اورجنسی زندگی پر کھل کر اظہار خیال۔ عصمت نے ان دونوں تصورات کو اپنی فکر کا محور ومرکز بنایا۔

چونکہ ’انگارے‘ کی اشاعت کھوکھلے اور فرسودہ نظام پر کاری ضرب تھی۔ لہٰذا اس کی اشاعت پر کافی واویلا مچا۔ عصمت اس سے بھی براہ راست متاثر ہوئی تھیں۔ کتاب کی مخالفت ہی نے عصمت کے اندر اس کے مطالعے کی خواہش پیدا کردی تھی اورانھوں نے یہ کتاب کسی نہ کسی طرح حاصل کرکے پڑھی لیکن اس کتاب پر ہونے والے ہنگامے کا کوئی جواز ان کی سمجھ میں نہ آیا۔ گندگی اور فحاشی کا جو سنگین الزام اس کتاب پر عائد کیا گیاتھا وہ عصمت کو بہت تلاش کے بعد بھی نہیں ملا۔ پھر عصمت نے اس کتاب کی مخالفت میںہونے والے ہنگامے کا دفاع اپنے ایک مضمون میں کیا۔ جس کے نتیجے میں علی گڑھ میںاس مخالف تحریک کے روح رواں ملا احراری کو یونیورسٹی چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اس واقعہ کی تفصیل کا مقصد محض اتنا ہے کہ ’انگارے‘ کے مصنفین فکر وشعور کی جس سطح سے اپنے معاشرے کا محاسبہ کر رہے تھے اورجس نہج پر اسے اپنی تخلیقات کا موضوع بنا رہے تھے نوجوان عصمت کی فکر بھی مشاہدات کی بنا پر اس سطح تک پہلے ہی رسائی حاصل کرچکی تھی۔ یہی سبب ہے کہ عصمت ’انگارے‘ کے مخالفین سے نہ صرف اختلاف کرتی ہیں بلکہ ’انگارے‘ میں شائع شدہ افسانوں کی حمایت کرتے ہوئے اسے فحاشی کی بجائے معاشرے میں موجود ناہمواریوں کی سرزنش قرار دیتی ہیں۔ یہ دراصل نوجوان عصمت کی فکری پختگی کی پہلی منزل تھی۔ بالفاظ دیگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ عصمت چغتائی کے فکری دھارے پہلے سے ہی جس سمت میں بہہ رہے تھے ’انگارے‘ نے اسی سمت میں ان کے بہا ؤ کو اور تیز کردیا۔

اس کے بعد ترقی پسند تحریک وجود میں  آئی جس نے ادیبوں کے فکر وشعور کا مرکز ومحور بدل کر رکھ دیا۔ اس نے ادب کے ذریعے نہ صرف انسانی غلامی، سماجی نابرابری، عدم مساوات، بیرونی تسلط اور فاشزم کے خلاف  آواز بلند کی بلکہ ادب کی سماجی معنویت، حقیقت نگاری، اورانقلاب کا نعرہ دیا۔

اس تحریک کی بنیاد مارکسی حقیقت نگاری، سوشلزم اور اشتراکیت پر تھی اس لیے اس تحریک نے سماجی اور سیاسی مسائل کو مارکس کے معاشی نظریات کی روشنی میں دیکھنے کا رجحان عام کیا۔ اس تحریک نے ادیب اور شاعر کو اپنے ذاتی نہاں خانے سے نکال کر اجتماعی مفاد اور تہذیب و ثقافت کی اعلیٰ اقدار کے تحفظ کے لیے رجعت پسند قوتوں کے مقابل آنے اور اپنے فن کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردینے کی اپیل کی۔ ادیبوں کا ایک بڑا گروہ اس نظام فکر سے گہرے طورپر متاثر ہوا اور نتیجتاً افادی ادب کی تخلیق کا کام شروع ہوا۔ عصمت اس تحریک کی فکری جہات سے نہ صرف متاثر ہوئیں بلکہ باضابطہ طورپر وہ اس تحریک سے وابستہ بھی ہوگئیں۔ اور وہ تمام باتیں جو ترقی پسند تحریک کی اساس تھیں وہ عصمت کی فکر کا حصہ بن گئیں اور ان کی تخلیقات میں نمایاں طورپر اجاگر ہوئیں۔

فکر و شعور کی اس منزل پر عصمت کے سامنے ہندوستان کے منظرنامے میں زبردست تبدیلیاں ہورہی تھیں۔ایک پورا سماجی نظام تھا جو بدل رہا تھا۔ جاگیردارانہ تہذیب و تمدن روبہ زوال تھی اوراس کی جگہ مغربی تہذیب وتمدن کا چراغ پوری آب وتاب کے ساتھ روشن ہورہا تھا۔ عصمت نے جہاں ایک طرف اس نظام کو ٹوٹتے اور پرانی قدروںکو بکھرتے ہوئے دیکھا تھا وہیں دوسری طرف ایک نئے نظام اور نئی اقدار کو پروان چڑھتے ہوئے بھی دیکھا… اسی دوران ہندوستان میں آزادی کی تحریک اپنے شباب پر پہنچ چکی تھی۔ پھر ملک آزاد ہوا، تقسیم کا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں فسادات ہوئے۔ مشترکہ کلچر تباہ وبرباد ہوا۔ میل ملاپ اور بھائی چارگی کی فضا مسموم ہوگئی۔ مدت سے ایک ساتھ رہنے والی دو قوموں کے درمیان منافرت پیدا ہوگئی۔ سماجی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گیا اور نفرت و تعصب پر مبنی ایک نئے سماج کا وجود عمل میںا ٓیا۔ پورا ملک اس اندوہناک اور دردناک تاریخی سانحے سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طورپر دوچار ہوا۔ پھرآزادی کے بعد ملک میں چوربازاری، لوٹ کھسوٹ، رشوت خوری اور کرپشن کا بازار گرم ہوا گویا سیاسیآزادی تومل گئی تھی لیکن سماجی اور اقتصادی غلامی پھر بھی قائم رہی۔ ان تمام واقعات و حادثات کا عصمت نے گہرے طورپر مشاہدہ کیا جس کے بارے میں وہ اس طرح لکھتی ہیں:

’’ہم نے جب آنکھ کھولی توہندوستان غلامی کی بیڑیاں توڑ رہا تھا۔ زندگی کے ہر شعبے میں غلامانہ اقدار اورذہنیت دم توڑ رہی تھی اس ابھرتے ہوئے ہندوستان سے ہم نے جر آت، بہادری اور قربانیاں دینے کا ادراک حاصل کیا۔

ہم نے دو دور دیکھے۔ آزادی سے پہلے اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کوآزادی کی خاطر قوم ملک کی خاطر قربان کردینا اور پھرآزادی کے بعد بنیوں کی لوٹ کھسوٹ، دھاندلی، چوربازاری دیکھی۔‘‘

یہ تمام تبدیلیاںاس وقت وجود میں  آرہی تھیں جب عصمت چغتائی عقل و شعور کی پختگی کی منزلوں میں قدم رکھ رہی تھیں اور ان کے فکر کی راہیں متعین ہورہی تھیں۔ لہٰذا اس طرح کے اس دوہرے سماجی نظام واقدار کے تصادم نے جوہر عبوری دور کی خصوصیت ہوتا ہے زندگی کو ہر سطح پر پیچیدہ بنا دیا لیکن ان پیچیدگیوں کا ایک مثبت نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ذہن ان پیچیدگیوں پر غور کرنے اور سلجھانے کی کوشش کا عادی ہوجاتا ہے۔ جیسا عام حالات میں کم ہوتا ہے۔ عصمت نے بھی اپنے آپ کو انہی پیچیدگیوں کے جال میں پھنساکرپھر اس میں سے نکلنے کی کوشش کی ہے۔ اس اعتبار سے انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں شاید ان کا سب سے محبوب موضوع رہا ہے۔ یہاں پہنچ کر کرشن چندر جیسے فنکاروں کی فکر بھی عصمت کے مقابلے کچھ سپاٹ سی دکھائی دیتی ہے اور خود بمبئی جیسے بڑے شہر کی ہنگامہ آرائیوں میں عصمت کی فکر نئے افق چھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اب ان کے فکر وفن کے دائرے میں محض مسلم متوسط طبقے کی دبی، پسی اور گھٹن کی شکار عورتیں اور ان کے مسائل ہی نہیں تھے بلکہ اب یہ فکر زندگی کے گوناگوں معاملات و مسائل سے ہم کنار تھی۔ اس نئے مشاہدے اور تجربے نے اب ان کے اندر زندگی کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ وہ خود فرماتی ہیں:

’’بمبئی آکر میرا رنگ بدلا اور جوں جوں میری عمر بڑھتی گئی میری کہانیوں کے مسئلے بڑھتے گئے۔‘‘

گرچہ عصمت کے فکری رویے میں اقدار زمانہ کے ساتھ ساتھ وسعت، تنوع اور بالیدگی آتی گئی لیکن جن بنیادی خطوط پر ان کے فکر کی تعمیر و تشکیل ہوئی تھی وہ خطوطآخری دم تک ان کے فکر وشخصیت کا حصہ رہے اور وہی ان کے فکری جوہر کی شناخت کی بنیاد بھی قرار پائے۔

عصمت چغتائی 1938 میں اپنی پہلی کہانی ’بچپن‘ کے ساتھ ادبی افق پر نمودار ہوئیں۔ اس کے بعد ان کی دوسری کہانی ’گیندا‘ شائع ہوئی اور پھر باضابطہ طورپر عصمت کا ادبی سفر شروع ہوگیا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’کلیاں‘ 1941 میں منظرعام پر  آیا۔ انھوں نے اپنی پہلی مطبوعہ کہانی ’بچپن‘ میں جس میں حقیقت کا ذکر کیا ہے وہ تلخ ضرور ہے لیکن اس میں جھوٹ اور ریاکاری بالکل نہیں۔ عصمت نے جس طرح کا بچپن گزارا تھا اس کو انھوں نے من وعن تحریر کردیا۔ متوسط طبقے میںبچوں کی پرورش میں جو دشواریاں اور پریشانیاں پیش آتی ہیں عصمت نے ان کو حقیقی انداز میں اجاگر کیا ہے۔ ذیل کے اقتباسات ملاحظہ ہوں:

’’اب کھیلنے کہاں جائیں‘ پلنگوں پر مت کھیلو جھولا ہوجائیںگے، ’تختوں پر مت کودو، دھڑدھڑ سے کان اڑے جاتے ہیں‘ چبوترے پر تل دھرنے کو جگہ نہیں، انگنائی میں میری شوقینآپا کی کیاریاں مت کھوندو ورنہ ٹانگیں توڑ دیںگی۔ کبھی سل سے ٹھوکر لگتی ہے تو کبھی لوٹا اوندھا ہوجاتا ہے۔ کبھی سینی میں پیر ہوتا ہے توکبھی بچے کے پالنے میں الجھے جاتے ہیں۔ کچھ نہیں تو کونے میں کھڑا ہوا بانس ہی ذرا سے بہانے سے دھڑام سے سر پرآن پڑا۔ ساتھ ساتھ صابن موری پرلڑھک گئی اور جاکر سوئے ہوئے کتے پر گرے۔ کیا  آفت ہے، الٰہی یا تو ان بچوںکو اٹھالے یا میری مٹی عزیز کردے۔‘‘

اس حوالے سے وہ مزید کہتی ہیں:

’’رات کو بستروں کے سپرد کردیے گئے کہ ’لومرو‘ خیر مرنے سے پہلے ہنسی ہے کہ قابو میں ہی نہیںآتی۔ چلے آتے ہیں کھوں کھوں کھی کھی… حکم ملا کہ اب کے اگر سانس بھی لی تو گلا گھونٹ دیا جائے گا… جو روئیں تو آواز  آئی ’اے ہے رات کو بھی چین نہیں… چپ نہیں تو دے دوںگی کتے کو اٹھاکر۔‘‘

مسلم متوسط گھرانوں میں بچوں کی اچھل کود، شور وغل اور ان کی شرارتیں اورپھر ان سب پر گھر کے بڑوں کی ان پر جو ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہے اس کا پورا نقشہ عصمت نے بڑے حقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کہانی میں عصمت کی وہ فطری بے باکی اور حقیقت پسندی منعکس دکھائی دیتی ہے جو ان کی ادبی شخصیت کا جوہر ہیں۔ عصمت کی دوسری مطبوعہ کہانی ’گیندا‘ اپنے موضوع کے لحاظ سے ہمارے معاشرے کے طبقاتی فرق، فرسودہ رسم ورواج اور نوخیز بچیوں کی جنس اورنفسیاتی احوال و کوائف کا بھرپور تجزیہ ہے۔ یہاں بھی عصمت کی فکر تصنع سے پاک اور حقیقت پر مبنی ہے۔

ان دونوں ابتدائی تحریروں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عصمت کا رجحان شروع ہی سے نئی قدروں کو اجاگرکرنا، فرسودہ رسم و رواج اور اقدار سے انحراف کرنا اورمسائل کو حقیقی انداز میں پیش کرنا رہا ہے۔ ان کی یہی فکر اوران کا یہی انداز اپنی ترقی یافتہ شکل میں بعد کی تحریروں میں تسلسل کے ساتھ ملتا ہے۔

پہلے افسانوی مجموعہ ’کلیاں‘ کی بیشترکہانیوں میں عصمت کی ایسی فکر کی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ مجموعہ 1938 سے 1941 کے درمیان لکھی ہوئی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے بیشتر افسانے متوسط طبقے کے افراد خصوصاً عورتوں اور لڑکیوں کی جنسی اور نفسیاتی پیچیدگیوں، ان کی کشمکش اور گھٹن کے تجزیے پر مبنی ہے۔ لیکن اس تجزیے میں فکر کی سنجیدگی اور پختہ شعور کی کمی کا احساس جابجا محسوس ہوتا ہے۔ عورتوں کی جنسی اورنفسیاتی پیچیدگیوں کی پیشکش میں عصمت اکثر مقام پر جذباتی ہوگئی ہیں۔ ان کے فکر و فن پر ان کے عورت ہونے کی چھاپ بہآسانی محسوس کی جاسکتی ہے۔ فکر وفن کی وہ بالیدگی اس افسانوی مجموعے میں اس نہج پر نہیں ملتی جو بعد کے افسانوںاور ناولوں میں عصمت کا طرئہ امتیاز بنی ہے۔ اس کی بڑی وجہ عصمت کے فکر وخیال پر عمر کی اس منزل کے اثرات کا ہونا ہے جس میں عصمت نے اپنا افسانوی سفر شروع کیا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوانی کی اس عمر میں جذباتیت فکر وخیال پر غالب ہوتی ہے۔ عصمت کے ہاں جذباتیت کی شدت تو نہیں پھر بھی اس کے کچھ اثرات ضرور درآئے ہیں۔ حالانکہ عصمت نے اس پر بہت حد تک قابو پانے کی کوشش کی ہے مگر مکمل طورپر وہ اس کوشش میں کامیاب نہیںہوسکی ہیں۔ فکر وشعور میں جو کچاپن نظر آتا ہے وہ شایداس عمر کی دین ہے لیکن اس کے باوجود بھی انھوں نے عورتوں کی جنسی اورنفسیاتی الجھنوں کی گرہ کشائی بڑی فکر انگیزی کے ساتھ کی ہے۔ اس مجموعے کی مختلف کہانیوں کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

’’گیندا نے اپنی بدبودار سرخ اوڑھنی کا لمبا سا گھونگھٹ مار لیا اور گڑی مڑی ہوکر بیٹھ گئی۔ میں نے آہستہ سے گھونگھٹ اٹھاکر ’دلہن‘ کا منہ دیکھا۔ گیندا کا گول مٹول چہرہ خون کے ایک دم دوڑ جانے کی وجہ سے بیربہوٹی کی طرح لال ہورہا تھا۔ آنکھوں کے پپوٹے بے چینی سے پھڑپھڑا رہے تھے اور وہ بہ مشکل اپنی ہنسی کودبائے ہوئے تھی۔‘‘

’’اب ہم… گیندا بھئی اب ہم‘ میں نے رشک سے تڑپ کر کہا‘‘

’’گیندا‘‘ بھیا نے اس کے قریب سرک کر کہا ’’بیاہ کرے گی؟‘‘ ’ہٹ‘ وہ شرما گئی۔

میں بھی حرص میں شرمانے کی کوشش کرنے لگی۔ (گیندا)

’’گیندافرش پر بیٹھی کپڑے گن کر الگ کر رہی تھی۔ بھیا کونے میں کھڑے سر کھجا رہے تھے۔ ’ہٹ‘ غلط گن رہی ہے‘ بھیا نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا۔ اس نے ایک نظر بھیا کو دیکھا اور تیوری پر بل ڈال کر ہنس دی۔ انھوں نے اسے کھینچا تو وہ سکڑ کر دری پر اوندھے منہ لیٹ گئی اور کسی طرح نہ اٹھی۔ بھیا نے جب اس کی کمر میں گدگدی کی تو وہ تڑپ اٹھی۔ بھیا جو آگے آئے تو اس نے ایک تھپڑ ان کے گال پر رسید کیا۔‘‘ (گیندا)

’’گیندا نے اپنے دبلے پتلے ہاتھوں سے بچے کو اٹھالیا اور تھوڑی ہی دیر میں اسے کلیجہ سے چمٹا لیا اور ساڑی میں منہ چھپاکر ہنستی رہی۔

میں بڑے شوق سے ننھے للو کے پتلے پتلے ہونٹوں کو دیکھتی رہی اور وہ لمبی لمبی سانسوں سے دودھ پیتا رہا۔ ننھی سی ماں پھوہڑ پنے سے اسے سنبھال رہی تھی۔ (گیندا)

’’شادی! وہ ہنسے یہ بے وقوفی تومیں بھی کرچکا…‘‘ میں مجسم سوال بن کر رہ گئی۔ وہ خود ہی بولے۔

’’ڈیڑھ مہینہ ہوا… مجبوراً… نیلی سے…‘‘

وہ اداسی سے ہنسے۔

اورپھر پرانا محل گرتا ہے۔ بڑھیا اپنے برتن بھانڈے اٹھالے، اڑا اڑا اڑا دھم۔ میرے تخیل کا بے بنیاد گھروندہ ڈھے پڑا۔ ایک دم پھک سے ساری بجلیاں بجھ گئیں۔ اوراس مکروہ اندھیرے میں مجھے ایک ننھے سے بچے کی خاموش چیخیں سنائی دیں جس کے بال اور ہونٹ تاریکی کی وجہ سے صاف نظر نہ آتے تھے۔

اب ان سیاہ بدصورت بچوں کی کوڑی میں… مجھے اکثر وہی ننھا سا گھنے گھومے ہوئے بالوں اور بھرے ہوئے خوش رنگ ہونٹوں والا بچہ اپنے سے بہت قریب محسوس ہوتا… مگر مختار صاحب کو یہ کیا معلوم۔     (شادی)

’’مگر جنوں کو خوب معلوم ہوگیا کہ سینے پر کتنے ہی بال ہوںاور بغل سے کیسی سرانڈ  آئے جی بالکل نہیں گھبراتا، موری کا کیڑا کیچڑ میں کیا مزے سے لوٹتا ہے اوراس میں بات ہی ایسی کیا تھی۔‘‘ (جوانی)

’جنوں‘ ماں کی چنگھاڑیں سنتی رہی۔ اس کا کلیجہ ہلا جاتا تھا معلوم ہوتا ہے کوئی ماں کو کاٹے ڈال رہا ہے… صبح کو وہ ایک سرخ گوشت کے لوتھڑے کو گودڑ میں رکھا دیکھ کر قطعی فیصلہ نہ کرسکی کہ اس مصیبت اور دکھ کا معقول صلہ ہے یا نہیں جو ماں نے گزشتہ شب جھیلا تھا… اسے چیلوں کے کھانے کے لیے کوڑے کے ڈھیر پر رکھنے کے بجائے اپنے کلیجے سے کیوں لگا رکھا تھا۔‘‘(جوانی)

’’خدا غارت کرے اس ڈائن قطامہ کو جو میری بچی کا گھر بگاڑے۔ میرے اللہ! خدا کی مار اس پیاروں بیٹی پر جو منیر دلہا کا دل میری بچی کی طرف سے پھیرے یا اللہ میرے۔‘‘ (ڈائن)

’’وہ: لا حول ولاقوۃ توبہ ہے یہ آج تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔ حد ہے بے شرمی کی۔‘‘

میں: کیا گڑبڑی ہوئی وہی جو تم ہمیشہ کرتے ہو۔ آج جو میں کہتی ہوں تو جلے مرتے ہو۔‘‘ (ڈھیٹ)

’’تم ہی لوگ توکہتے ہو کہ ہندوستانی دوشیزہ برے سے برے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی نباہ کرسکتی ہے۔ وہ شوہرکو دیوتا سمجھتی ہے۔ ایک دیوتا کے لیے ضروری نہیں کہ وہ عقل مند ہی ہو۔ ہندوستانی دوشیزہ توایک مرکھنے بیل کے ساتھ بھی سکھ سے رہ سکتی ہے۔ پوجا تم… وہ جیسا بھی ہو پھر مجازی خدا ہے۔ اگر سجدہ سوائے خدا کے جائزہوتا تو وہ اسی دیوتا کے حضور میں پیش کیا جاتا۔ عورتیں وہی پارسا اور نیک ہیں جو برے شوہروںکو نباہ رہی ہیں۔ ہماری بخشش شوہر کی فرمانبرداری ہی ہے۔‘‘ (ڈھیٹ)

’’نیرا نہ روئی نہ پیٹی اس نے خاموش ہوکر ایک طرف سر ڈال دیا وہ اسے دیر تک چمکارتا رہا۔

’’میں سال بھر تمہیں روپیہ بھیج دیا کروںگا تم بڑی سکھی رہوگی۔‘‘

’’سکھی‘‘ سکھی، تو وہ کبھی رہی نہ رہے گی… اسے لچھمی کا خیال آیا۔ دھتکاری کتیا کی طرح اپنے بچے کو لٹکائے کونے کونے منہ چھپاتی پھرتی۔ کہنے کو تویہ گنوار بڑے غریب ہیں پر ایسی باتوں میں نہ جانے کدھر سے شرم آنے لگی۔ کچھ نہیں تو ’عزت عزت‘ ہی پکارنا شروع کردیا۔

’’گا ؤں تو نہ جائے گی۔ پھر کہاں؟

روپا کی سرد ہوئی دکان چل نکلی اور نیرا اس کی ہوگئی۔ تندرست جسم اور چمکے ہوئے گالوں سے اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔(نیرا)

تحلیل نفسی اور جنسی حقیقت نگاری کے علاوہ اسی مجموعے کا ایک افسانہ ’کافر‘ انقلابی حقیقت نگاری پر بھی مبنی ہے جس میں عصمت نے مذہبی تعصب اور امتیاز کی جگہ انسانی اقدار کو افضیلت دی ہے اور مذہب انسانیت کی تبلیغ کی ہے۔ سماج اور مذہبی بندشوں کی پروا کیے بغیر مختلف مذاہب کو ماننے والے دو لوگوں کے درمیان رشتہ ازدواج کی وہ نہ صرف وکالت کرتے ہیں بلکہ اسے انسانیت کی فلاح وبہبود اوراتحاد کی فضا کو مستحکم بنانے میں اہم قرار دیتی ہیں۔ یہاں عصمت کا سماجی روش سے انحراف نہ صرف جذباتی بغاوت پر مبنی ہے بلکہ اس میں ایک نئے اور صحت مند معاشرے کے ان خطوط کی نشان دہی ہے جو دو قوموں اور دو مذہبوں کے اتحاد سے عمل میں آسکتا ہے۔ یہاں فکر کی ایک نئی راہ ہے جو عصمت کے اس مجموعے کے دوسرے افسانوں سے الگ ہے۔ ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو:

’’پشکر یہ تو سوچو کہ ہم اور تم کس قدر معیوب بات کر رہے ہیں۔ ہمارے درمیان ایک خلیج حائل ہے۔ مذہب!‘’

’’اجی گولی مارو اس مذہب کو۔ مذہب ہمارے فائدے کے لیے ہے نہ کہ ہم اس کی قربانی کے لیے۔‘‘

غیرمذہب میں شادی کرنا جرم ہی نہیں بلکہ ایک  آفت ہے۔ ہماری قوم کے لڑکوں کو یہ اجازت ہے وہ ہندو عیسائی جس سے چاہیں شادی کرلیں۔ لیکن لڑکیوںکو نہیں اور آج تک فخر سے کہا جاتا ہے کہ مسلمان لڑکی کو کبھی عیسائی سے شادی نہیں کرنی چاہیے نہ معلوم کہاں تک یہ فخر بجا ہے۔… ’’ہم غلام ہیں پشکر ہماری کوئی چیز ہماری کہلائی جانے کے مستحق نہیں۔ ہم سوسائٹی کی ملکیت ہیں، وہ جو کچھ چاہے ہمارے ساتھ کرسکتی ہے، ہم اگرچاہیں تب بھی کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘

’’یہ سب واہیات ہے میں کچھ نہیں جانتا…‘‘

’’تو تو سچ مچ پاگل ہی ہے سوچنے تو دے۔ شاید خدا کوئی راہ بتا دے۔‘‘

’’اب بتا چکا خدا راستہ، میں جو بتارہا ہوں۔ کوتوالی کے قریب سے ہوتے ہوئے داہنے ہاتھ کو نکل چلو…‘‘

’’تویہ مشہور ہوجائے گا کہ میں بھاگ گئی‘‘

’’نہیں بلکہ میں تیرے ساتھ بھاگ گیا۔ اٹھ جلدی، ہاں تجھے کچھ مہروہر کیا ہوتا ہے وہ چاہیے میں رجسٹری کرا دوں گا۔‘‘

’’مہر میں تجھے خود دوں گی، میری تنخواہ تجھ سے ذرا سی ہی تو کم ہے۔‘‘ (کافر)

اسی مجموعے میںایک افسانہ ’خدمت گار‘ بھی ہے جس میں عصمت نے نہ صرف طبقاتی تفریق کی صورت حال کو پیش کیا ہے بلکہ انقلابی حقیقت نگاری کے فکری رجحان کے تحت اس میں طبقاتی فرق کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی ہے کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس کے سامنے طبقاتی حدبندی کوئی اہمیت نہیں رکھتی، اور نہ اس پر کسی کا اجارہ ہے۔ یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’بہادر‘‘ میں نے کہا

اور وہ میرے قریب گرپڑا اور اپنا سر میری گود میں رکھ دیا۔

بڑی دیر تک وہ گہری سبکیاں لیتا رہا۔

’’تمہیں رنجیدہ دیکھ کر میرا دل دکھتا ہے، بہادر‘‘

میں نے اس کے سر کو سہارا دے کر کہا… آقا اورخادم کا رشتہ کبھی کا ٹوٹ چکا تھا۔‘‘

 (خدمت گار)

اس مجموعے کے دو افسانے ’بڑی شرم کی بات‘ اور ’اف یہ بچے‘ معاشرتی حقیقت نگاری کی فکری رجحان کے تحت لکھے گئے ہیں۔ افسانہ ’بڑ ی شرم کی بات‘ میں عصمت نے مردوں کے ذریعے عورتوںپر ظلم اور استبداد روا رکھنا اور سماج میں عورت کو مرد سے کم تر سمجھنے کو موضوع بنایا ہے۔ افسانہ ’اف یہ بچے‘ کثیرالعیالی سے پیدا طرح طرح کی الجھنوں پر مشتمل ہے۔ عصمت نے بڑھتی ہوئی  آبادی کے مسئلے پر اس کہانی کا تانا بانا بنا ہے۔ لیکن ان افسانوں میں بھی عصمت کے غالب رجحان نفس و جنس کا عمل دخل نظرآتا ہے۔ فکر میں سنجیدگی اور پختگی اس نہج پر نہیں ملتی جو عصمت کا خاصہ ہے۔ البتہ موضوع اور فکر میں تنا ؤ موجود ہے۔ لیکن فکر کا غالب رجحان جنسی اور نفسیاتی مسئلہ ہی ہے۔

عصمت کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’ایک بات‘ 1942 میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ ’کلیاں‘ کے ایک سال بعد ہی منظر عام پرآگیا تھا۔ اس لیے اس میں مسائل کی نوعیت زیادہ تر وہی ہے جو ’کلیاں‘ میں موجود ہے۔ یہاں فکر وشعور کی سطح پر کوئی بہت بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ لیکن یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ عصمت کے فکر وشعور میں تھوڑی سی بیداری ضرور آئی ہے۔ اورسماجی مسئلوں کی جانب ان کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں جنسی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ چند سماجی مسئلوں پر بھی روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سماجی مسئلوں میں طبقاتی تفریق اورطوائف کا مسئلہ اس مجموعے کے اہم اضافی موضوع ہیں جن پر عصمت نے تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ طبقاتی تفریق کا پہلو افسانہ ’ہیرو‘ میں اورطوائف کا مسئلہ افسانہ ’پیشہ‘ میں بھرپورطریقے سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’نگار نے نئے توڑے سیکھ لیے ہیں۔‘’ اگرمجھے کسی وقت رنڈی پر پیار آتا ہے تواس وقت جب کہ وہ ناچ رہی ہو۔ اس وقت وہ اس محنتی مزدور کی طرح معلوم ہوتی ہے جو پیٹ کی خاطر سرمایہ داری کے کولہو میں بیل کی طرح جتا ہوا ہو یا جیسے کوئی گرہستن چکی پیس رہی ہو۔ رقص کرنا مذاق نہیں بوٹی بوٹی ہل جاتی ہے۔ جیسے دس سیر اناج پیس لیا۔ مگرمجھے طوائف کی زندگی کے دوسرے رخ سے گھن اس لیے نہیں کہ وہ کچھ مختلف ہے۔ بالکل نہیں، بلکہ کچھ ضرورت سے زیادہ مشکل ہے۔ یہ بات نہیں بلکہ یونہی۔‘‘ (پیشہ)

’’دنیا میں عورت کے پاس یہ عصمت ہی تو ایک شئے ہے جسے کوئی پیٹ کی خاطر لٹاتی ہے توکوئی اس پر جان لٹا دیتی ہے۔ لے دے کے یہی ایک ترپ کا  آلہ ہے جو ہر دا ؤ پر مار سکتی ہے… صبح اٹھ کر جب میں نیچے جانے لگی تو سیٹھانی پھل والے سے کھڑی الجھ رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر غیروں کی طرح منہ پھیر لیا۔ فخر سے میرا سر اونچا ہوگیا۔ آخر کو اسے معلوم ہوہی گیا کہ میں شریف ہوں۔‘‘ (پیشہ)

عورتوں کی نفسیات پر اس مجموعے میں ’کلیاں‘ کی بہ نسبت عصمت کی گرفت کچھ زیادہ مضبوط نظرآتی ہے۔ افسانہ ’جال‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’فیتوں کا مختصر سا جال اس کی انگلیوں میں الجھنے لگا۔ اس نے دونوں ہاتھ سے بھینچا اور پھر چھوڑ دیا۔ سر سانپ کی کیچولی کی طرح مچل کر بکھر گیا۔ دوسرے لمحہ پر پرزوں سے آزاد ہوکر ٹھنڈے اوس میں بھیگے ہوئے پھولوں کے جال میں بکھر گئی۔ ایسا معلوم ہواوہ اوپر اٹھنے لگی اور بہت اوپر اٹھنے لگی اور بہت اوپر ہلکی پھلکی مہکتی ہوئی تیزی کی طرح۔ سانس زور زور سے چلنے لگی۔ آنسو ؤں کی چلمن میں پھولوں کے تختوں کو جھومتے دیکھا۔ بیٹھے بیٹھے تشنج سے انگلیاں اینٹھنے لگیں ہنسی ہنسی سوئیاں کھٹکنے لگیں۔‘‘

اس افسانے میں دو معصوم بچیوں کے ذہن کا نفسیاتی تجزیہ کیا گیا ہے جن میںسے ایک خفیہ وقفے سے گزررہی ہے اور دوسری سن بلوغت کے قریب ہے۔ ان دونوں کے اندر جنسی جذبے کے اٹھان کو عصمت نے جس طرح پیش کیا ہے وہ ان کی نفسیاتی بصیرت اور فکری بالیدگی کی عکاس ہے۔

اس طرح ’کلیاں‘ سے ’ایک بات‘ تک عصمت کا افسانوی سفرنہ صرف ان کے فکری ارتقا کے تسلسل کو پیش کرتا ہے بلکہ ان کے فکر وشعور میں ہونے والی تبدیلیوں کی بھی واضح طورپر نشان دہی کرتا ہے۔

تیسرا مجموعہ ’چوٹیں‘ (1943) عصمت کے فکری اورفنی ارتقا میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گرچہ یہاں مسائل کی نوعیت کم وپیش وہی ہے جو ایک ’کلیاں‘ اور ’ایک بات‘ میں ہے لیکن یہاں فکر وشعور میں ایک ارتقا اور پختگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ گویا اس مجموعے کے افسانوں میں فکری سطح پر نہ صرف وسعت اور گہرائی پائی جاتی ہے بلکہ سماجی مسئلوں کی جانب عصمت کی بیداری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تحلیل نفسی اور جنسی گرہ کشائی میں بالیدگی، فکر نمایاں طورپر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اسی مجموعے میں ان کا مشہور افسانہ ’لحاف‘ جو ان کے فکر وفن کی معراج سمجھا جاتا ہے، شامل ہے۔ لحاف میں عصمت کا فن جن بلندیوں کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے وہ عصمت کی فکری بالیدگی کی عمدہ مثال ہے۔ یہاں جنسی اور نفسیاتی تجزیے میں جو گہرائی ہے وہ اس سے قبل کے افسانوں میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ہم جنسی کے موضوع پر اردو افسانہ نگاری میں یہ افسانہ ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ عصمت نے عورت ہوتے ہوئے اس مسئلے کو جس فکرانگیزی کے ساتھ اجاگر کیا ہے وہ اپنی مثال  آپ ہے۔ انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں لحاف کے تخلیقی محرکات یا اسباب کا ذکرکچھ اس طر کیا ہے:

’’ہندوستانی گھرانے میں جاگیری معاشرے میں عورتوںکو اتنا پابند بنا دیا گیا تھا کہ وہ اپنی خواہشات، محسوسات اور سوچ کی غلام ہوگئی تھیں۔ ان ہی عورتوں کی نفسیاتی الجھنوں اور تضادات کو میں نے اپنے افسانوں میں کھل کر بیان کیا۔ ’لحاف‘ ان ہی کی کہانیوںمیں ایک تھی۔ ایک طوفان کھڑا ہوا۔ نوبت تھانوںاور مقدموںتک پہنچی۔ معاشرے کے ٹھیکیداروں کو اس سے بڑا شاک لگا لیکن عورتیں ہی میرے افسانے سے زیادہ متاثر ہوئی تھیں۔‘‘

عصمت کے اب تک کے افسانوی مجموعوں کے بیشتر افسانوں میں ہندوستانی گھرانے کے اس طبقے کی عورتوںکی نفسیاتی الجھنوں اور تضادات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ عصمت نے اس موضوع پر اس قدر بے باکی اورجرآت مندی کے ساتھ گفتگو کی کہ نتیجتاً یہ موضوع ان کی مخصوص پہچان بن گیا۔

اس مجموعے میں جنسیات و نفسیات کے علاوہ عصمت نے عورت کے استحصال اور ہندو مسلم اتحادکو بھی موضوع بنایا ہے۔ اس مجموعے کے نمائندہ افسانوں کی چند مثالیں ملاحظہ کریں:

’’ہوں… صلو کا چہرہ دیکھنے کے قابل تھا۔ کچھ کھوئی ہوئی سی کھسیانی صورت‘‘

’’جی گھبرا رہا ہے؟‘‘ میں نے چھیڑا۔

اوران کی رنگت بدلی… ’’بے چارہ بچہ مر گیا اس کا باپ شاید‘‘

تلخی سے کہا…

’’خاک تمہارے منہ میں، خدا نہ کرے‘‘ میں نے ننھے کو کلیجے سے لگا لیا۔‘‘

’’ٹھائیں…‘‘ ننھے نے موقع دیکھ کر بندوق چلائی۔

’’ٹھائیں… باجی… ابا کو مارتا ہے‘‘ میں نے بندوق چھین لی اور پھرآنکھوں میں وہی شرارت تڑپی… پھر بلاکی گہری ہوگئیں…

کچھ پاگل!… عجیب سی… ٹٹولنے کے باوجود اس بھول بھلیاں میں راستہ نہ ملا۔

 (بھول بھلیاں)

’’ہندوستانی ایسے جنگجو واقع ہوتے ہیں کہ بس بات بے بات جوتم پیزار، مسجد کے سامنے کافروں نے ڈھول پیٹے، مسلمانوںنے ڈھول پیٹنے والوں کو پیٹ ڈالا۔ مندر کے آگے تعزیے نکلے اور لٹھ چلا۔ دراصل ہم لوگ حساس بہت واقع ہوئے ہیں۔‘‘(35) (میرابچہ)

’’ہر کروٹ پر لحاف نئی نئی صورتیں بناکر دیوارپر سایہ ڈالتا مگر کوئی بھی سایہ ایسا نہ تھا جو انھیں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہو مگر کیوں جیئے پھر کوئی؟زندگی! بیگم جان کی زندگی جو تھی۔ جینا برا تھا نصیبوںمیں، وہ پھر جینے لگیں اور خوب جئیں۔‘‘

ربو نے انھیں نیچے گرتے گرتے سنبھال لیا۔ چٹ پٹ دیکھتے دیکھتے ان کا سوکھا جسم بھرنا شروع ہوا۔ گال چمک اٹھے اور حسن پھوٹ نکلا۔ ایک عجیب و غریب تیل کی مالش سے بیگم جان میں زندگی کی جھلک  آئی۔ (لحاف)

عصمت کے فکر میں نمایاں تبدیلی ان کے چوتھے افسانوی مجموعے ’دوہاتھ‘ (1952) سے دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس مجموعے کے افسانوں میں عصمت نے انسانیت کے دکھ درد کو پیش کیا ہے اور حیات انسانی کو درپیش مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ جنس اور نفسیات کا غلبہ اس افسانوی مجموعے سے کم ہوتا نظرآتا ہے۔ اورسماجی اور سیاسی مسائل اب ان کی فکر میں در آئے ہیں۔ یہاں محنت کش طبقے کا استحصال، عورت کی معاشی مجبوری اوراس کا استحصال، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے راہ روی، ان کی فکر کا حصہ بنتی ہے۔ ذیل میں چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’خوب قہقہے چلتے ریکارڈ لگاکر ڈانس کیے جاتے۔ چوما چاٹی سے  آگے بات نہ بڑھتی۔ یہ اور بات تھی کہ کبھی کوئی جوڑا اٹھ کر تھوڑی دیر کے لیے غائب ہوجاتا۔‘‘ (نیند)

’’سرکار لونڈا بڑا ہوجاوے گا، اپنا کام سمیٹے گا وہ دو ہاتھ لگائے گا، سو اپنا بڑھاپا تیر ہوجائے گا۔‘‘ (دوہاتھ)

’مدن سمجھ گئی۔ اونچے گھر کا پوت ایک بیسوا سے بدتر عورت کو کیسے بیاہ سکتا ہے۔ وہ خود ہزاروں عورتوں کے ساتھ رہ کر بھی کنوارا ہے۔ اس کنواری سے بھی زیادہ پاک اور مقدس جس کا کنوارپن کسی حادثہ کا شکار ہوگیا ہو۔ مرد سدا کنوارا ہی رہتا ہے۔ سونے کے کٹورے کی طرح جس میں کوڑھی بھی پانی پی لے تو گندا نہیں ہوتا اور مدن توکچا سکورا تھی۔ جو سائے سے بھی ناپاک ہوجاتا ہے۔‘‘ (کنواری)

اپنے افسانوی مجموعے ’چھوئی موئی‘ (1952) تک پہنچتے پہنچتے عصمت کے فکر وشعور میں کافی تنوع اور وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کا فکری کینوس بڑھ کر عالم گیر نوعیت اختیار کرلیتا ہے۔ یہاں جدید دور کے افسانوں کے پیچیدہ مسائل زیادہ ہیں۔ مفلسی اور غربت کا مسئلہ ہے۔ محنت کش طبقوں کے استحصال کی کہانی ہے، سیاسی موضوع پرستی ہے، بڑھتی ہوئی آبادی اور تعلیم کا مسئلہ ہے۔ سامراجی نظام کے مسئلے ہیں۔ قحط، بھوک مری اور مہنگائی جیسے موضوعات ہیں۔ فساد کا مسئلہ ہے، تقسیم ہند اور ہجرتوں کے احوال ہیں۔ انسانی رشتوں کی شکست وریخت کی کہانی ہے۔ جہیز کا مسئلہ اور لعنتیں ہیں۔ توہم پرستی اور لاتعداد ایسے مسائل ہیں جن سے اس وقت کا سماج گزر رہا تھا۔ ان تمام موضوعات ومسائل کا تجزیہ عصمت نے نہ صرف بصیرت کے ساتھ کیا بلکہ ان کی پیشکش میں سماج کے مثبت رویے کے لیے وکالت بھی وہ بڑی فن کاری سے کرتی ہیں۔ ان افسانوں میں عصمت کا فکری ارتقا اپنے عروج پر نظرآتا ہے۔ عصمت نے جس جسارت اور بصیرت کے ساتھ زندگی کے ان مسئلوں کو پیش کیا ہے اردو فکشن میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’انگریز چلے گئے اور چلتے چلتے ایسا گہرا گھا ؤ مار گئے جوبرسوں رسے گا۔ ہندوستان پر عمل جراحی کچھ ایسے لنجے ہاتھوں اور گھٹل نشتروں سے ہوا ہے کہ ہزاروں شریانیں کٹ گئی ہیں۔ خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں کسی میں اتنی سکت نہیں کہ ٹانکا لگا سکے۔‘‘ (جڑیں)

’’جس مٹی میں جنم لیا، جس میں لوٹ پوٹ کر بڑھے پلے، وہی اپنا وطن نہ ہوا توپھر جہاں چار دن کو جاکر بس جا ؤ وہ کیسے اپنا وطن ہوجائے گا اور پھر کون جانے وہاں سے کوئی بھی نکال دے۔‘‘ (جڑیں)

’’امریکہ کے بچے وہاں کے سامراجی نظام کی پیداوار ہیں۔ جو والدین تجارتی منڈیوں اور سیاسی اسٹیج پر کر رہے ہیں۔ بچے وہی اسکولوں اور کالجوں میںکر رہے ہیں۔ وہی لوٹ مار، وہی منہ زوری اور غنڈہ گردی…  آج وہ غنڈوں کے سردار ہیں۔ کل انھیں فرموں اور ملوں کا مالک بن کر ہی کھیل کو حقیقت بنانا ہے۔ وہی رنگ و نسل کی تفریق، ایٹم بم کی دھمکیاں ان کھیلوںمیں رچی نظرآتی ہیں۔‘‘(یہ بچے)

’’آپ پردے کی قید میں گرفتار ہیں۔  آپ کی بہنیں جاہل ہیں۔ آپ کے ملک کے بچے بھوکے ہیں، ننگے ہیں۔ نوجوان بے روزگار ہیں، بیمار ہیں۔ یہ پردہ جہالت یہ بھوک اور افلاس یہ سب ہی ایک پیڑ کے پھول پتے ہیں۔ یہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیںآپ اگر ان پھول پتیوں کو ایک بار نوچ بھی ڈالیں تو ان میں نئے پتے پھوٹ آئیںگے۔ جن میں اس سے زیادہ گھنا ؤنے پھل پھول کھلیںگے۔ اس لیے ہمیں جڑوں کے خلاف جنگ کرنی چاہیے۔‘‘ (بمبئی سے بھوپال تک)

’’ملک کے طالب علم الٹی جبریہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں توان پر لاٹھی چارج ہوتے ہیں، گولیاں چلتی ہیں اورانھیں سزائیں دی جاتی ہیں۔ اسکول میں داخل ہی نہیں کیا جاتا۔ اب تو نام نہاد تعلیم کے دروازے بھی بند ہوتے جارہے ہیں۔‘‘ (یہ بچے)

عصمت کے فکر وشعورمیں پختگی اور بالیدگی کا جو ارتقائی عمل ان کے افسانوی مجموعے ’دو ہاتھ‘ سے شروع ہوتا ہے وہ مجموعہ ’چھوئی موئی‘، ’بدن کی خوشبو‘ (1979) اورآخری افسانوی مجموعہ ’لحاف‘ تک پہنچتے پہنچتے پختہ تر ہوتا ہوا نظرآتا ہے۔ سیاسی اور سماجی بصیرت نے ان کے فکری رجحان میں تنوع، وسعت اور گہرائی پیدا کردی۔ یہاں عصمت کی سیاسی اور سماجی فکر پہلے کے مقابلے زیادہ گہری نظرآتی ہے۔ ان افسانوی مجموعوں میں جنسی اورنفسیاتی مسئلہ سماجی اور سیاسی مسائل کے سامنے وہ اہمیت اور شدت نہیں رکھتا جو قبل کے افسانوں میں عصمت کی فکر کا غالب رجحان تھا۔ سماجی اور سیاسی مسائل کے تئیں عصمت کی ذہنی بیداری ان کے پختہ سماجی اور سیاسی شعور کا نتیجہ ہے۔ عصمت نے جس وقت افسانہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا تھا اس وقت کے مسائل اور اب کے مسائل میں زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بہت فرق پیدا ہوگیا ہے۔ خود عصمت کا ماحول بدل گیا۔ پہلے عصمت گھر کی چہاردیواری کے اندر ایک قصبہ میں بیٹھ کر لکھ رہی تھیں۔ اس وقت معاشرتی اور زندگی کے مسائل کا انھوں نے جو مشاہدہ اور تجربہ کیا تھا انہی کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ ایک قصبہ اور وہ بھی گھر کی چہاردیواری کے اندر محدود مشاہدات و تجربات کی روشنی میں ان کے ذہن کی جس حد تک نشوونما ہوئی ظاہر ہے وہی محدود تجربات ان کی فکر کا حصہ بنے اوران کی اولین تخلیقات میں یہ مسائل اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ لیکن جب عصمت قصبہ کی محدود زندگی سے باہر نکلیں اور بمبئی جیسے بڑے شہر میں پہنچیں تو ان کے فکر وشعورمیں نت نئے تجربات ومشاہدات نے وسعت اور تنوع پیدا کردیا۔ گویا بمبئی کی فلمی، صنعتی اور شہری زندگی کے گوناگوں مسائل اور حالات وواقعات نے ان کے فکر وشعور میں انقلاب برپا کردیا۔ یہاں عصمت کے سامنے جو مسائل تھے وہ بالکل مختلف نوعیت کے تھے۔ انسانی جنسیات و نفسیات کے مسئلے بھی قصبہ کے جنسیاتی ونفسیاتی مسائل سے بالکل الگ نوعیت کے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جنسی مسائل کے سلسلے میں ابتدا میں عصمت کے ہاںجو اشاریت وکنایت پائی جاتی ہے وہ بعد کی تحریروں میں اس حد تک باقی نہ رہی۔ ان دو طرح کے ماحول کے فرق سے پڑنے والے اثرات اوران کے نتیجے میں فکر وشعور پر ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر اپنے ایک انٹرویو میں عصمت یوں کرتی ہیں:

’’میری ابتدائی کہانیاں گھر کی چہاردیواری میں بیٹھ کر لکھی گئی ہیں… جنس کا موضوع گھٹے ہوئے ماحول اور پردے میں رہنے والی بی بیوں کے لیے بہت اہم ہے۔ وہ اس پر بہت بات چیت کیا کرتی ہیں۔ میری افسانہ نگاری اس گھٹے ہوئے ماحول کی عکاسی ہے۔ فوٹو گرافی ہے۔‘‘

ایک دوسرے سوال کے جواب میں فرماتی ہیں:

’’میں نے ابتدا میں گھریلو الجھنوں پر، لڑکیوں پر، بال بچوں پر، بہت کچھ لکھا۔ جب میں بمبئی آئی تومجھ پر کمیونسٹ پارٹی کا اثر ہوا اورمیں نے لال جھنڈے کی طاقت سے مرعوب ہوکر بہت سی ایسی کہانیاں لکھیں جس کا رنگ میری پرانی کہانیوں سے مختلف تھا۔ پھر میں فلم میں غرق ہوگئی اور میں نے فلمی ماحول پر کہانیاں اور ناولیں لکھیں۔‘‘

جنسی مسائل کی پیش کش میں کنائیت کے ترک کرنے پر کہتی ہیں:

’’ایسا میرے ماحول کے فرق سے ہوا۔ پہلے میںگھٹے ہوئے ماحول کے بارے میں اور چھوٹے قصبوں میں بیٹھ کر لکھا کرتی تھی اور اب بمبئی میں ہوں۔ جہاں زبان پراتنی پابندیاں نہیں ہیں اور اب زمانہ بدل گیا ہے۔ اب تو چھوٹے چھوٹے بچے وہ باتیں جانتے ہیں جو میں لکھتی ہوں بلکہ اس سے زیادہ جانتے ہیں۔ بمبئی جیسے شہر میں بیٹھ کے کنائے اور اشارے سے کام نہیں چلتا۔ یہاںصفائی سے بات ہوتی ہے۔‘‘

پہلے کی طرح اب جنسی مسائل کی اہمیت باقی نہیں رہنے کے بارے میں وہ کہتی ہیں:

’’بمبئی میں ان مسائل کو زیادہ اہمیت بھی حاصل نہیں ہے۔ ویسے یہاں آنے کے بعد کمیونسٹ پارٹی سے واسطہ پڑا اورمجھے سیاست اوراکنامکس کا بھی تجربہ ہوا۔ پتہ چلا کہ سیکس اور اسکی گھٹن ہی اتنا ہی اہم موضوع نہیں ہے بلکہ اور بہت سے موضوع ہیں اورپھر میںنے ان موضوعات کو چھونے کی کوشش کی۔ بمبئی کے ماحول کو پیش کیا۔‘‘

بمبئی کی زندگی میں موضوعات ومسائل میں جو وسعت تنوع اور فکر وشعور میں جو گہرائی پیدا ہوتی ہے اس کا اعتراف مذکورہ بالا اقتباسات میں عصمت خود بھی کرتی نظر آتی ہیں۔ بمبئی کی زندگی کے دوران وہ زندگی کے مختلف النوع تجربات و مشاہدات سے دوچار ہوتی ہیں۔ شہر کے اعلیٰ سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملتا ہے۔ فلمی زندگی کے ماحول سے واسطہ ہوتا ہے اور طرح طرح کے افراد سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ تمام ماحول اور اس ماحول کی تمام پیچیدگیاں، الجھنیں اور مسائل عصمت کے فکروشعور پر براہ راست اثرڈالتے ہیں جن سے عصمت کے سوچنے اور سمجھنے کے انداز میں نہ صرف تبدیلی رونما ہوتی ہے بلکہ ان کی فکر ارتقائی بلندیوںکو چھوتی چلی جاتی ہے۔ باالفاظ دیگر فکری اور فنی سطح پر ان میں بالیدگی اورپختگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پھر عصمت پر بمبئی ہی کی زندگی کے دوران جنگ عظیم، تحریک آزادی، تقسم ہند اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے اثرات بھی پڑتے ہیں۔ ملک گیر بلکہ عالم گیر پیمانے پر سماجی اور سیاسی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیاں عصمت کی فکر کو براہ راست اور بالواسطہ طورپر متاثر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام موضوعات ومسائل عصمت کی فکر کا نہ صرف حصہ بن گئیں بلکہ وہ ان کی پیشکش کی اولین بنیاد بھی ثابت ہوئیں۔اس طرح اولین افسانوی مجموعے سے آخری افسانوی مجموعے تک عصمت کا فکری سفر زمانے کے ساتھ ساتھان کی ذہنی بالیدگی اور  ارتقاکا نمونہ پیش کرتا ہے اوراس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نقوش واضح طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

٭٭٭

ڈاکٹرمحمد توحید خان

ایسوسی ایٹ پروفیسر،  جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، نئی دہلی۔ انڈیا

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.