حیات اللہ انصاری اور ان کے  چند افسانے

پروفیسر علی احمد فاطمی

شعبۂ اردو

یونی ورسٹی آف الہ آباد،  الہ آباد

پروفیسر علی احمد فاطمی

عابد سہیل نے  حیات اللہ انصاری کا خاکہ لکھتے  ہوئے  ایک جگہ لکھا :

’’گاندھیائی فکر و نظر اورنقطۂ نظر سے  ان کے  شغف کو ترقی پسندی کی مخالفت تک پہنچا دیا تھا اور وہ اردو حلقوں  میں  انجمن دشمنی کی علامت بن گئے  تھے۔‘‘

  (کھلی کتاب )

یہ صورت صرف حیات اللہ انصاری کے  ساتھ نہ تھی بلکہ منٹو، بیدی وغیرہ کے  ساتھ بھی تھی(یہ الگ بحث ہے )۔اس کے  باوجود میں  منٹو، بیدی اور

حیات اللہ انصاری

حیات اللہ انصاری کو ترقی پسند افسانہ نگار، مفکر اور فنکار مانتا ہوں  اس لیے  کہ وقت نے  فیصلہ کردیا ہے  کہ ترقی پسندی نہ صرف مارکسزم کا نام نہیں  صرف گاندھی ازم کا نام بھی نہیں  جس کا پرچم انصاری اٹھائے  ہوئے  تھے  اور ترقی پسندوں  کی محفلوں  میں  سکہّ بند ترقی پسندی کی مخالفت کرتے  رہتے  تھے۔سچ پوچھئے  تو ترقی پسندی ہیومنزم کا نام ہے  جس کا راست تعلق مارکسزم سے  بھی ہے  اور گاندھی ازم سے  بھی اور حیات اللہ انصاری سے  بھیـ۔اس کے  ثبوت میں  میں  ان کے  چند ایسے  افسانوں اور ان کے  مرکزی کرداروں  کا ذکر کروں  گا جو راست طور پر نچلے  طبقہ سے  تعلق رکھتے  ہیں۔ اور حیات اللہ انصاری کی ترقی پسندی اور انسان دوستی کے  تعلق سے  چند معروضات پیش کروں  گا۔ ضمناًیہ عرض کرتا چلوں  کہ کمیونزم کی مخالفت کے  باوجودکبھی وہ کمیونسٹ تھے  جس کی ابتدا علی گڑھ میں  ہو چکی تھی لیکن آزادی کی تحریک اور گاندھی جی قربت اور قیادت نے  انھیں  کچھ دنوں  تک کشمکش میں  رکھا ایک جگہ اپنی غیر مطبوعہ خود نوشت میں  لکھا ہے :

’’علی گڑھ میں  میرا رجحان کمیونزم کی طرف زیادہ ہوگیا تھا اور کبھی کبھی ایسا بھی لگتا تھا کہ میں  نے  اس کے  حق میں  فیصلہ کر لیا ہے  لیکن پھر نمک ستیہ گرہ کے  وہ اثرات یاد آتے  جو میں  نے  لوگوں  کے  دلوں  پر محسوس کیے  تھے۔دل کہتا کہ یہ اثرات باطل نہیں  ہو سکتے۔ اس کشمکش سے  مجھے  دو تجربوں  نے  نکالا۔ ایک گاندھی جی کی ستیہ گرہ نے  دوسرے  میرے  مزدوروں  کی طاقت کے  مطالعہ نے۔‘‘

 (بحوالہ کھلی کتاب ص ۲۶)

خود عابد سہیل نے  خاکے  میں لکھا ہے  :

’’کمیونزم کی طرف حیات اللہ صاحب کے  جھکاؤ کا ذکر آچکا ہے۔ایک زمانے  میں  وہ خاصے  پکّے  کمیونسٹ تھے  اور اپنے  ان ہی خیالات کی وجہ سے  انھیں  فرنگی محل کی سکونت ترک کرنا پڑی تھی۔ ’’ڈھائی سیر آٹا ‘‘نام کا افسانہ جو ماہنامہ جامعہ میں  شائع ہوا تھا اس زمانے  کی یادگار ہے  اور اسے  پریم چند کے  سوا سیر گیہوں  پر زمانی تقدم حاصل کیا ہے۔‘‘

      (کھلی کتاب ص۳۱)

یہ دو ایک باتیں  مختصراًکرنی ضروری تھیں  تاکہ ان کا فکری اور نظریاتی پس منظر ظاہر ہوتا چلے۔ایک کمٹیڈ قسم کے  تخلیق کار کی تخلیقات میں  اگرچہ فکرو نظر نا گزیر ہوا کرتی ہے  تا ہم تخلیقی ناگذیریت اور سماجی صداقت کے  مابین تخیل و تصور کی کارفرمائی کی اہمیت سے  بھی انکار نہیں  کیا جا سکتا ہے۔

عام خیال ہے  کہ حیات اللہ انصاری نے  اپنا پہلا افسانہ بڈھا سودخور ۱۹۳۰ء میں  لکھا جب وہ محض اٹھارہ سال کے  نوجوان تھے۔علی گڑھ میں  طالب علم تھے  اور اس زمانے  کے  علی گڑھ میں  اشتراکیت کا زور تھا حیات اللہ بھی متاثر ہوئے  اور عین عالم شباب میں  رومانی و عشقیہ کہانی لکھنے  کے  بجائے  سماجی نوعیت کی کہانی لکھی۔ یہ بات بھی غور طلب ہے  کہ اس وقت تک پریم چند کا شہرت یافتہ مضمون مہاجنی تہذیب نہیں  شائع ہوا تھا لیکن ان کے  افسانے  برابر دیہات و قصبات کے  معاشی و مہاجنی نظام پر لکھے  جارہے  تھے  ان کا غیر معمولی افسانہ پوس کی رات ٹھیک اسی برس (۱۹۳۰ئ)شائع ہوکر غیر معمولی شہرت حاصل کر رہا تھااور جو نئے  لکھنے  والوں  کو متاثر کر رہا تھا۔ حیات اللہ کا متاثر ہونابھی فطری تھا۔پریم چند اور حیات اللہ میں  اشتراک کا پہلو بھی ابھر رہا تھا کہ دونوں  گاندھی جی کے  خیالات سے  متاثر تھے۔پریم چند ہوچکے  تھے  اور حیات اللہ ہو رہے  تھے۔اسی لیے  اس کہانی میں اگر ایک طرف سودخور اسدھامل ہے  تودوسری طرف۔ سندری۔ گوپال۔ رام چرن وغیرہ عام سے  کردار جو پریم چند کے  عمومی کرداروں  کے  آس پاس نظر آتے  ہیں۔ لیکن جلد ہی دوسرے  سال ۱۹۳۱ء میں  دوسری کہانی بیوقوف شائع ہوتی ہے۔ اس کا رنگ و آہنگ قدرے  مختلف تھا۔ روایتی اور حکایتی اسلوب کی اس کہانی میں  بھی بہرحال ایک درس ہے  اور بیوقوف کے  عمل میں  ایک درک۔برنا ڈشا نے  ایک جگہ لکھا ہے  کی دنیا میں  دو طرح کے  لوگ ہوتے  ہیں۔ اول وہ جو نہایت ہوشیار، چالاک اور خود غرض ہوتے  ہیں  جو صرف اپنے  بارے  میں  ہی سوچتے  ہیں  اور دوسرے  وہ بیوقوف جو صرف دوسروں  کے  لیے  سوچتے  ہیں  اپنے  لیے  نہیں  بعد میں  برناڈشا نے  یہ بھی لکھا کہ یہ بچی کھچی دنیا انھیں  بیوقوفوں  کی وجہ سے  ہی چل رہی ہے۔ کہانی کے  آخر میں  نئی نسل نے  بیوقوف کا تتبع کیا۔ سمجھدار لوگوں  کا نہیں۔

اگلی کہانی ’’انوکھی مصیبت‘ ‘نے  حیات اللہ کا اصل تعارف کرایا۔ بحیثیت افسانہ نگار کوئی کہہ سکتا ہے  کہ مصیبت تو مصیبت ہوتی ہے  وہ انوکھی کیسے  ہو سکتی ہے  لیکن کہانی میں  انوکھا پن ہے  جو اس عہد کے  قارئین اور ناقدین کو متوجہ کرگیا۔

چار منفرد کرداروں  کے  مکالموں  سے  کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔انھیں  مکالموں  اور قہقہوں  کے  درمیان زندگی کی بعض مصیبتوں  کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن ان میں  انوکھا کیا ہے۔ ایک روزمرہ کی ضرورت لیکن اسی ضرورت سے  سماج کی صورت ظاہر ہوتی چلتی ہے۔مولوی صاحب کام نہ آئے۔تمنبولی کام نہ آیااور کام آیا تو ایک بھنگی۔ انشائیہ نما ا س افسانہ میں  ایک فطری حاجت کے  حوالے  سے  جو کرب و بے  چارگی ظاہر کی گئی ہے  وہ بیحد دلچسپ ہے  اور کچھ جملوں  میں  تو معنویت بھی:

’’بھنگی نے  پٹ کھول کر دکھلایا تو اندر خاصاصاف تھا۔ میں  نے  سوچا کہ آخر جو لوگ یہاں  جایاکرتے  ہیں  وہ بھی آدمی ہوتے  ہیں۔ انسان انسان سب برابر ہوتے  ہیں۔ ‘‘

اور بھنگی کے  یہ جملے :

’’حضور بڑے  لوگ جب بھی ضرورت پڑتی ہے  تو یہیں  آتے  ہیں  ہم لوگ کیا کہتے  پھرتے  ہیں۔ ‘‘

غور طلب بات یہ ہے  کہ کم عمری میں  لکھے  گئے  اس افسانہ میں  مشاہدے  کی جو تمازت ہے  اور گرمی و بے  چینی ہے  اس نے  تخلیقیت کو نہ صرف گرم بلکہ بامعنی بنا دیا ہے  یہ جملے  بھی دیکھئے  :

’’اس وقت بھنگی کی اسی ہمدردی سے  میری طبیعت بہت متاثر ہوئی۔ ایک حکیم صاحب کو دیکھ اور اس غریب بھائی کو دیکھ پھر بھنگی ہماری کتنی خدمت کرتے  ہیں۔ اگر یہ لوگ کام نہ کریں  تو ہمارے  پاٹ کبھی صاف نہ ہو ں۔ ‘‘

خیال یہ ہے  کہ حیات اللہ کا یہ افسانہ کرشن چندر کے  افسانہ کالو بھنگی سے  قبل کا ہے۔گاندھی جی کے  ہریجن سے  متعلق پاکیزہ خیالات اور پریم چند کے  دلت نظریات و جذبات کا آمیز ے نکلا ہواخاکہ اور گورکی کا یہ نظریہ کہ۔’’عوام کی زندگی اور ان کے  حالات کی سچی پیش کش ہی حقیقت نگاری ہے۔‘‘

نئی بات یہ ہے  کہ اس افسانہ میں یہ حقیقت ایک ضلع کلکٹر پیش کر رہا ہے۔ کوئی کلکٹر ہو یا چمار مہتر۔ بعض انسانی ضرورتیں  حاجتیں  یکساں  ہوا کرتی ہیں  اور بعض مصیبتیں  بھی یکساں  لیکن کلکٹر کے  عہدے  نے  اس مصیبت کو انوکھی مصیبت بنا دیا اور اسی ایک موہوم نکتہ کو حیات اللہ نے  ایک حسین مرقع بنا دیا۔

اگلے  افسانہ میں  زندگی کی سب سے  بڑی ضرورت جو اکثر مصیبت بھی بنتی ہے  وہ ہے  آٹا دال افسانہ کا عنوان ہے  ڈھائی سیر آٹا۔ (خیال ہے  کہ پریم چند نے  سواسیر گیہوں  کے  عنوان سے  افسانہ لکھا تھا )

مرکزی کردار مولا، ایک مزدور،  دن بھر کی مزدوری، ساڑھے  چار آنے  کی کمائی، ایک آنہ مکان کا کرایہ، ایک آنہ بنیے  کا قرض، آٹا دال، چاول، آلو، لکڑی اور تنگ گلی، یہ صرف مولا کا حساب نہیں  بلکہ ایک عام مزدور کی زندگی کی کتاب ہے  مزدور اور مزدورانہ زندگی کو دردمندی سے  سمجھے  بغیر نہیں  پیش کیا جاسکتا اور غریبی و مفلسی کا یہ منظر تو درد مندی کے  آگے  کا منظر ہے :

’’  بیوی چولھے  کے  پاس گئی جو اسی کوٹھری میں  ایک طرف بنا ہوا تھا۔ آگ سلگائی اور دال چاول پکنے  کو چڑھا دیئے۔ لڑکے  اور لڑکیاں  چولھے  کو گھیر کر بیٹھ گئے  اور دال چاول پکنے  کی دل خوش کن کھدر کھدر سننے  لگے۔ان لوگوں  کے  لئے  اس سے  بہتر کوئی راگنی نہیں  ہوسکتی۔‘‘

دیکھیے  حیات اللہ نے  زندگی کی مشکل ترین راگنی کو کتنی آسانی سے  پیش کردیا۔ اس موقع پر پریم چند کے  وہ جملے  یاد آتے  ہیں  جو انھوں  نے  ایک مضمون میں  لکھے  تھے۔’’تلخ تجربوں ، مشکل حادثوں  کو آسانی اور پراثر طریقہ سے  کہہ دینا ہی ادب کی کیمیا گری ہے  جس سے  مردہ لفظ جی اٹھتا ہے۔‘‘چلئے  مان لیا جائے  کہ پریم چند کی اس کیمیاگری کو بعد کے  مقلدین نے  اپنایا لیکن پریم چند نے  تو صرف بنیاد رکھی تھی، عمارت کی تعمیر اور رنگ وروغن تو سب نے  اپنے  اپنے  کئے۔بڑا فنکار تو وہی ہے  جس کی مکمل تقلید نہ ہو، اس لیے  بس جھلکیاں  ہیں  جسے  پورے  ترقی پسند افسانوی ادب میں  بطور خاص دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر بدصورتی میں  خوبصورتی دیکھنے  اور دکھانے  کے  اپنے  اپنے  انداز ہوا کرتے  ہیں۔ حیات اللہ کا اپنا انداز یہ ہے :

’’مولا ایک پرانی دری اوڑھے  تھا جس میں  سیکڑوں  چھید تھے۔‘‘

یہ چھید دری کے  نہیں  بلکہ زندگی کے  تھے  جو ایک کچی ہانڈی میں  چاول کی طرح ابل رہے  تھے۔ایسی ہانڈی جو بھرکے  بھی کبھی نہیں  بھرتی اس لیے  کہ پیٹ کبھی نہیں  بھرتا اور غریبی و مفلسی میں نیند نہیں  آتی اور جب مفلسی و بے  گھری کا خوف ہو تو وسوسے  اور غصے  واجب ہو اکرتے  ہیں۔ غربت کا ایک غصہ بھی ہوتا ہے  اور نشہ بھی۔ بیوی نے  کوٹھری کے  کرایہ کی بات چھیڑی تو مولا کا غصہ دیکھئے :

’’ہوا کرے  وہ بڑے  آدمی۔ ہم تو نہیں  نکلیں  گے۔ کہہ دو جب کرایہ جمع ہو جائے  گا دیدیں گے۔بڑے  آئے  نکالنے  والے۔‘‘

ملاحظہ کیجئے  مولا کا یہ غصہ اور اب پوس کی رات کی منّی کا غصہ ذہن میں  لائیے۔ وہاں  بھی تقاضا ہے  تو منی بپھر کر بولتی ہے :

’’مرمر کر کام کرو۔۔پیدا وار ہو تو باقی ادا کرو۔۔باقی چکا نے  کے  لیے  ہی تو ہمارا جنم ہوا ہے  ایسی کھیتی سے  تو باز آئے۔ میں  روپئے  نہ دوں  گی نہ دوں  گی۔ ‘‘

فرق بس اتنا ہے  کہ وہاں  مرد کا احتجاج ہے  یہاں  عورت کا۔ احتجاج دونوں  جگہ مشترک ہے  اور زندگی کا درد بھی مشترک۔ مقام، ماحول، کردار، تو بس حوالے  ہوا کرتے  ہیں۔ اتفاق سے  منّی کا کردار دونوں  افسانوں  میں  ہے  لیکن حیات اللہ کی منّی کا یہ لہجہ دیکھئے :

’’میں  کہتی ہوں  کہ جوان لڑکی کو کیسے  بھیج دوں۔ اس موئی کا دیدہ ہوائی ہے  پانی بھرنے  جاتی ہے  تو ٹھٹھا کرتی ہوئی۔‘‘

یہاں  یہ پریم چند کے  آگے  کی کہانی ہو جاتی ہے۔منٹو، عصمت کے  دور کی کہانی لیکن حیات اللہ نے  ہر جگہ اپنا الگ رنگ دکھایاہے  تاہم معاصرین کا اثر ایک نظری عمل ہوتا ہے  جس سے  مفر ممکن نہیں  اور یہ ایسی کوئی بڑی بات نہیں  لیکن حیات اللہ ہر مقام پر اپنا نقش چھوڑنے  میں  بہرحال کامیاب ہوتے  ہیں۔ زن وشو کے  مکالمات حالات وحادثات، زندگی کی عبارت لکھتے  چلے  جاتے  ہیں  اور پھر گہری خاموشی جس میں  ایک اتھاہ صبر وبے  بسی جذب تھی۔افسانہ میں  اگر خاموشی بولنے  لگے  تو فنکار کا جادو سر چڑھ کر بولنے  لگتا ہے۔ عام انسان پگھلنے  لگتا ہے  یوں  بھی روحانیت اور فلسفہ تو عالموں  کے  لیے  ہوا ہے  لیکن ادب کی خاموشی اور ادب کاشور دونوں  کا تعلق بنی نوع انسان سے  ہوتا ہے۔کسی نے  سچ کہا ہے  کہ افسانہ ایک ایسی خاموشی ہوتا ہے  جس میں  بہت بڑا شور پوشیدہ رہتا ہے  اور ایک ایسا شور جس میں  خاموشی دربدر بھٹکتی رہتی ہے۔اس کہانی میں  بچہ ماں  سے  کہتا ہے :

’’ماں  رے  بھوک لگی ہے !‘‘

منی ویسے  ہی باتوں  میں  مشغول رہی۔ گویا سننے  والی بات ہی نہ تھی تھوڑی دیر کے  بعد ببو آیا اس نے  بھی اس فقرے  کو سنایا مگر منی نے  ادھر بھی توجہ نہ دی۔ اس وقت وہ کسی شریف گھرانے  کی عورتوں  کی بدچلنی بہت جوش وخروش سے  بیان کر رہی تھی۔‘‘

ماں  کی بے  توجہی زندگی کی ایک بے  رحم حقیقت سے  روپوشی ہے۔شریف عورتوں  کی بدچلنی ایک طرح طبقاتی نوعیت کی انتقامی کاروائی۔ جو ایک خاص نفسیات میں  ڈھل کر آپ کو ایک انجان سی فراریت اور ایک بے  نام سی آسودگی کے  شرارے  بکھیرتی ہے  لیکن جلد ہی شرارے  دھواں  بن کر ڈھائی سیر آٹے  کی تلاش میں  لگ جاتے  ہیں  پھر سڑک پر پڑا ہوا ڈھائی سیر آٹے  کا اچانک مل جانا۔ مولا کی نیت۔ نیت میں  کشمکش اور پھر ایک فیصلہ اور یہ جملہ:

’’مولا کے  قدم اتنی جوانمردی سے  آٹے  کی طرف بڑھ رہے  تھے  گویا کسی ڈوبتے  لڑکے  کو دریا سے  نکالنے  جا رہا ہے۔ آٹے  کے  پاس پہنچ کر اطمینان سے  بیٹھ گیا۔ اپنا انگوچھا پھیلا دیا اور آٹا اٹھا نے  لگا۔‘‘

 پھر آٹے  کی ایک اور کہانی۔ اس کے  برعکس آٹے  کی بے  قدری ذرا سے  شک میں  ڈھائی سیر آٹے  کو سڑک پر پھینک دیا گیا وہی پھینکے  ہوئے  آٹے  کا غریب کی جھونپڑی میں  بھر پور استعمال ہوتا ہے  جیسے  زندگی کی مانگی مراد پوری ہوگئی ہو۔ بچوں  کی سدا’’ گیہوں  کا آٹا۔ گیہوں  کا آٹا۔ ‘‘نعرۂ حیات بن کر کہانی میں  گونجنے  لگتی ہے۔ کڑھائی میں  کڑوے  تیل کے  دو قطرے خون بن کر رگ جاں  میں  دوڑنے  لگے۔ آدھی ادھوری پوریاں  سیاہ کو ٹھری میں  پوری زندگی کو روشن کر جاتی ہیں اور دل سے  دعا نکلتی ہے۔’’خدا ایسا ہی روز پیٹ بھر دے  ‘‘اور کہانی کا پیٹ بھر جاتا ہے۔حیات اللہ انصاری نے  اپنے  تخلیقی سفر میں غیر معمولی کہانی کے  ذریعہ ایک بڑی جست لگائی اس لیے  نہیں  کہ اس میں  انوکھا پن تھا یا اسلوب اور برتاؤ اچھا تھا۔اس سے  زیادہ یہ کہ انھوں  نے  بھوک اورغریبی جسے  دائمی اور عالمی اقدار کو موضوع افسانہ بنایا اور بڑے  فنکارانہ و دردمندانہ انداز میں  پیش کیا۔ اصل حیات اور طبقۂ حیات کی یہ رنگارنگی اور عبرت آموزی ہی فکشن کو فلسفہ بنا دیتی ہے  تبھی تو لارنس نے  کہا تھا کہ فکشن جب تک فلسفہ نہ بن جائے  بڑا فکشن کہلائے  جانے  کا مستحق نہیں  ہوتا اور یہ بھی کہ افسانہ صرف واقعہ نہیں  پیش کرتابلکہ فلسفہ بھی جذب کرتا ہے  فلسفۂ حیات سے  لے  کر فلسفۂ نجات تک۔

’’بھرے  بازار ‘‘میں  حیات اللہ انصاری کا فن بے  باکی، جرأت مندی اور برہنہ شعور تصویر کشی کا ایک اور لازوال نمونہ پیش کرتا ہے۔ رکھی ایک عام سی غریب عورت جو بیمار ی سے  اٹھ کر غسل کرنا چاہتی ہے۔پوری کہانی غسل پر ٹکی ہوئی ہے۔تنگ کھولی میں  غسل خانہ نہ ہونے  کی وجہ سے  وہ سر بازار غسل کرنے  پر مجبور ہے۔اس لیے  کہ وہ اپنے  بدن کا میل چھڑانا چاہتی ہے  لیکن سماج کی نگاہوں  میں  جو حریصانہ میل ہے  اس سے  وہ اپنے  آپ کو کیسے  محفوظ رکھے۔ کہانی کا تانا بانا اسی پر ٹکا ہے  جو بیحد معنی خیز ہے  اور لطیف طنزیہ پیرائے  میں  پیش کیا گیا ہے۔یہ جملے  دیکھئے :

’’بارہ روز بیماری رہی اچھے  لوگ بری عورت کے  قریب کیا پھٹکتے۔ برے  لوگوں  نے  ہی اس کی خبر لی۔۔۔خیر برے  دن کٹ گئے۔ دوچار روز میں  پھر گالوں  پررونق آجائے  گی اور وہی پارک کی تفریحیں  ہوں  گی اور نگاہوں  کو رجحانا۔‘‘

اب وہ نہانا چاہتی ہے۔بیماری اور بے  رونقی دور کرنا چاہتی ہے  لیکن سوال یہ ہے  کہ کہاں  چل کر نہایا جائے  ؟جہاں  جاتی ہے  ایک مردانی نفرت اور گھناؤنی ہوس اس کو گھیر لیتی ہے۔اول مقام پر تو اسے  عورتوں  کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے  دوئم مقام پر مردوں  کا۔ انھیں  دونوں  کے  درمیان ہے  رکھی۔رکھی کی جوانی اصل کہانی بن جاتی ہے۔ اجلے  کرتے  پہنے  لوگ۔ تاجر۔ دوکاندار، وغیرہ اس کا نہانا کیا جینا دوبھر کردیتے  ہیں۔ حیات اللہ نے  بھرے  بازار کا کیا منظر پیش کیا ہے :

’’ہائیں  ہائیں۔ بازار میں  نہانے  گئی۔ اری اوبے  حیا کیاکرتی ہے ‘‘

 سب بے  تحاشا چلانے  لگے۔۔۔مستانی ہے۔۔مستانی ہے !‘‘

کپڑے  کے  دوکان کے  میاں  صاحب بھاؤ تاؤ چھوڑ کر دوڑ پڑے۔ پاس آکر انھوں  نے  رکھی کی انگلیوں  پر چھڑی ماری۔رکھی کے  ہاتھ سے  نل کا کھٹکا چھوٹ گیا۔ نل بند ہو گیا۔

اب انھوں  نے  رکھی کے  پیٹھ میں  چھڑی چبھوئی اور چلائے۔

’’چل ہٹ سڑک پر سے۔۔بڑی آئی ہے  نہانے !‘‘

نل کے  گرد میلہ لگ گیا۔ ‘‘

ملاحظہ کیجئے  کہ برہنہ عورت پر سب سے  زیادہ قہر نازل ہے  کپڑے  کے  تاجر کا جس کا کام ہے  تن ڈھانکنااور پھر پھر نل کے  گرد میلہ کا لگ جانا۔ ایک سے  ایک شریف لوگوں  کے  جملے  نکلتے  ہیں  :

’’کیا یہاں  نہائے  گی ؟

کلکتہ میں  کتنی بے  حیائی ہے  رام رام اور ساری دیکھو تو کیسی مہین ہے

شکل دیکھو تو چڑیلوں  کی طرح مزاج پریوں  کا۔ آئی ہے  نہانے۔‘‘

 یہ ہے  زندگی کا اصل منظر۔ اندر کا میل باہر کے  عارضی میل کا دشمن ہے  جو نہانے  بھی نہیں  دینا چاہتا اور بھگانا بھی نہیں  چاہتا۔ تبھی تو پولس والے  نے  کہا۔ ’’ایک عورت کو نہیں  بھگا سکتے  !‘‘اس میں  بھی ایک پولسیہ شان ہے۔صرف غریب رکشہ والا کہتا ہے۔’’نہا لینے  دیجئے  بیچاری کو۔ ‘‘

یہ سب کس قدر دلسوز ہے  جو زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے  اور یہ سچی تصویر تضاد سے  ابھرتی ہے  اور زندگی کی طرح کہانی بھی تضاد سے  ابھرتی ہے  اور تصادم میں  ڈوب جاتی ہے۔اصل قصہ رکھی کے  غسل کا نہیں ہے  بلکہ اس میل کا ہے  جو رکھی کے  ظاہری جسم پر ہے  اور شریف لوگوں  کے  باطن میں  ہے۔رکھی کا میل تو ایک غسل میں  پاک ہو سکتا ہے  لیکن شریف زادوں  اور پاکبازوں  کے  باطنی میل کو تو اکثر ہزار سجدے  بھی پاک نہیں  کر پاتے۔ تبھی تو اقبال نے  کہا تھا۔

’’من اپنا پرانا پاپی ہے  برسوں  میں  نمازی بن نہ سکا۔ ‘‘

کہانی کے  آبدار مکالمے  اور دھاردار مناظر سب کہ سب بڑے  جاندار ہیں  جو کہانی کے  مرکزی خیال یا مرکزی عمل کی تخلیق معاونت کرتے  ہیں  اور دیکھتے  دیکھتے  ایک عورت کا غسل سماج کا غسل بن جاتا ہے  کہ افسانہ نگار کی نظر میں  عورت کے  میل سے  زیادہ سماج کے  میل کو پاک کرنے  کی ضرورت ہے۔مولوی صاحب لاحول اور سپاہی کے  پر ہول ماحول سے  نکل کر بھی رکھی کو غسل نصیب نہ ہوا۔ پر اس نے  انتقاماً وہ آخری حربہ استعمال کیا کہ جس کو دیکھ کر وضو کرنے  والوں  نے  گردن جھکا لیں۔ پولس والا عورت کو پاگل سمجھ کر اس کی حرکتیں  لطف کے  ساتھ دیکھنے  لگا۔ سارا کہ سارا سماج ایک نیم برہنہ اور نیم بیمار عورت کے  اس اچوک حملہ سے  ڈر گئے  اور کہانی اس جملہ پر ختم ہوتی ہے :

’’پولیس والا سوچتا ہی رہا کہ اس پاگل کو پکڑوں  یا نہ پکڑوں  مرد گھوم گھوم دیکھ رہے  تھے  کہ کہیں  یہ پگلی ایسا تونہیں  کہ اپنی ساری نچوڑ کر سوکھنے  کو پھیلا دے۔‘‘

اب قارئین بہ آسانی فیصلہ کرلیں  گے  کہ ناپاک رکھی کا بدن ہے  یا سماج کا ذہن۔ بیمار رکھی ہے  یا معاشرہ۔ جو نہانے  بھی نہیں  دیتا اور جینے  بھی نہیں  دیتا۔ تضاد رکھی میں ہے  یا زندگی میں۔ کہانی بولڈ اور بڑی حقیقت کو نہ صرف چھوتی ہے  بلکہ مخفی حقیقت کو آشکار کرتی ہے  اور یہی ہے  حیات اللہ کا فن اور فکر جہاں  رکھی تو رکھی جاتی ہے ، زندگی اٹھ کھڑی ہوتی ہے  اور جرأت مندی دردمندی اور فنکاری کے  ساتھ سب کچھ سامنے  آجاتا ہے۔ بر نیڈر میتھیوز نے  ایک جگہ لکھا ہے  کہ ایک ایسا شخص جس کے  یہاں  اختراع کی صلاحیت، جامعیت اور کاریگری نہیں  ہے  کبھی افسانہ نگارکی حیثیت سے  کامیاب نہیں  ہو سکتا۔ حیات اللہ کے  یہاں  جو مشاہدہ ہے  اس میں  غیر معمولی اپج اور کاریگری دکھائی دیتی ہے۔کچھ لوگ یہ سمجھتے  ہیں کہ معنی صرف واقعہ میں  ہوتے  ہیں  باقی چیزیں  صرف حوالہ ہوتی ہیں  جبکہ سچ یہ کہ ان حوالوں  میں  بھی معنی ہوتے  ہیں  اشارے  تو ہوتے  ہی ہیں۔ ان اشاروں  کا تعلق اگر نفس افسانہ سے  ہے  تو معنی میں  گہرائی اور تہہ داری پیدا ہوتی ہے  اور یہ گہرائی اس وقت مزید دبازت پیدا کردیتی ہے  جب موضوع کا تعلق انسانی و اخلاقی اقدار سے  ہو زندگی کے  خارزار سے  ہو۔ حیات اللہ انھیں  خارزاروں  سے  تخلیق کے  کنول کھلاتے  ہیں۔

 اب میں  ان کے  ایک اور شاہکار افسانہ آخری کوشش کا ذکر کرکے  کلام کو آخرتک پہنچاؤں  گا۔ کہانی کا مرکزی کردار گھسیٹے  کا ہے۔ نام سے  ہی ظاہر ہے  ایک معمولی اور غریب کردار جو ریل کے  سفر میں  ٹکٹ لینے  کی سکت نہیں  رکھتا۔ اتارا جاتا ہے  ڈھکیلا جاتا ہے  بارے  کسی طرح پچیس برس کے  بعد اپنے  وطن واپس آتا ہے  ا حساس کے  ساتھ:

’’اپنا گھر !اپنے  لوگ !وہ نعمتیں  جن کا پچیس سال سے  مزہ نہیں  دیکھا، کلکتہ میں  گھر کے  نام کو سڑک تھی یا دوکانوں  کے  تختے  یا پھر شہر سے  میلوں  اور ٹھیکیداروں  کی جھوپڑیاں  جس کی زمین پر اتنے  آدمی ہوتے  کہ کروٹ لینے  بھر کو جگہ نہ تھی۔ رہے  اپنے  لوگ سو وہاں  اپنا کون تھا ؟سب غرض کے  بندے۔ بے  ایمان۔ حرام زادے۔‘‘

کلکتہ تو سمجھ میں  آگیا اس لیے  کہ وہ بڑا شہر ہے  اور بڑے  شہر کا اپنا ایک بے  مروت و بے  رحم مزاج ہوتا ہے  لیکن اپنے  گھر اور اپنے  گاؤں  میں  تو سبھی اپنے  ہوتے  ہیں  جہاں  پہنچ کر بقول مصنف۔’’گھسیٹے  کے  دل کو یقین تھا کہ پچیس سال کی تھکی ماندی آتماکو گھر پہنچتے  ہی سکھ مل جائے  گا۔ ‘‘معصوم اور بے  خبر گھسیٹے  کو جد و جہد سے  بھری ایک سی زندگی گزارتے  ہوئے  خبر ہی نہ ہوئی کہ زندگی خود اس کے  گاؤں  میں  کس قدر بدل گئی ہے۔وہ گاؤں  پہنچ کر بھونچکا سا ہوگیا :

’’یہاں  کی دنیا ہی اب اور تھی۔ کجھیتوں  اور باگوں  کی جگہ ایک شکر مل کھڑی دھواں  اڑا رہی تھی۔جس کی عمارتیں  یہاں  سے  وہاں  تک نظر آتی ہیں۔ کچی سڑک کی جگہ اب پکی سڑک تھی اور اس کے  برابر مل تک ریل کی پٹریاں  بچھی ہوئی تھیں۔  سڑک خوب آباد تھی غرضکہ جغرافیہ اتنا بدل گیا تھا کہ راستہ پہچاننا بس سے  باہر تھا۔‘‘

لیکن دیہات تو پھر بھی دیہات ہے  جس کے  بارے  یہ خوش فہمی آج بھی برقرار ہے :

’’معلوم ہوتا تھا کہ ساری دنیا ایک بہت بڑا گھر ہے  جس کے  رہنے  والے  کھیت۔ درخت۔ ہوا۔آنے  والی صدائیں  اور خوشبو سب قریبی رشتہ دار ہیں  اور خوش خوش مل جل کر رہتے  ہیں۔ ‘‘

یہ ایک طرح کے  تمہیدی کلمات ہیں  جو آگے  چل کر کلائمکس کو اینٹی کلائمکس میں  تبدیل کر دیتے  ہیں۔ ایسا اس لئے  بھی ہوتا ہے  کہ کہانی صرف واقعہ نہیں  ہوتی بلکہ سماج کا ٓئینہ ہوتی ہے۔آئینہ سے  بھی آگے  اس  لیے  کہ آئینہ تو وہی دکھاتا ہے  جو دیکھتا ہے  لیکن سماج کا آئینہ تہہ دار ہوتا ہے  اور پیچیدہ بھی، اس لیے  زندگی کی کہانی صرف کہانی نہیں  ہوتی بلکہ حقیقت کا وہ عکس ہوتی ہے  جہاں  حقیقت در حقیقت باہم متصادم ہوکر ایک نئی حقیقت کو جنم دیتی ہے  اور ایک نیا رویہ جنم لیتا ہے۔ جیسا کہ اس کہانی میں  نظر آتا ہے۔ اگرچہ اس کا دارومدار برتاؤ(Treatment)پر ہوتا ہے  لیکن برتاؤ بے  معنی اور بے  اثر رہتا ہے  جب تک زندگی کا پھیلاؤ اور الجھاؤ نہ ہو۔ ہینری جیمس نے  اچھی بات کہی ہے۔۔’’بحث سے ، تجربے  سے ، شوق و تجسس سے۔ کوششوں  کی رنگا رنگی سے ، تبادلۂ خیال اور نقطۂ نظر کے  مقابلے  ہی سے  فن زندہ ہوتا ہے۔ ‘‘اور جب اس فن میں  زندگی کی حرارت۔ دیہات کی ثقافت اور شام کی ملاحت شیر و شکر ہوجائیں  تو ایسے  دلکش مناظر ابھرتے  ہیں  :

’’ادھر سورج افق کے  دامن میں  چھپا اور ادھر قصبہ آگیا۔    اس کا نشان ایک اکل کھرّا تاڑ تھا جس سے  کچھ دور ہٹ کر آم کے  دوچار بوڑھے  درخت شام کا دھندلکا اور بوڑھے  کسی کی یاد میں  کھوئے  کھوئے  تھے۔‘‘

اور یہ جملے  بھی :

’’شروع کی تاریخوں  کی اوس کی ماری بیمار چاندنی میں  اندھیرا اجالے  کا ایک ڈھیر تھا۔ ادھر جو کھڑا تھا اس پر ایک ٹوٹا پھوٹا چھپر تھا۔ جس کا پھونس دھواں  کھائے  ہوئے  مکڑی کے  جالے  کی طرح ہر طرف جھول رہا تھا۔ چھپر کے  سامنے  کی طرف چوحدی کی جگہ جھانکڑوں  تاڑ کے  پتوں  اور کسی سوکھی جل کا ملا جلا ایک اڑم تھا جن کے  پتلے  پتلے  ٹیڑھے  ٹیڑھے  سائے  کیچوؤں۔  کنکھجوروں  کی طرح زمین پر بجبجا رہے  ہیں۔ ‘‘

یہ اسلوب نگاری اور فنکاری افسانہ کی دمداری میں  اضافہ کرتی ہے  اس لیے  کہ افسانہ نگاری  محض واقعہ نگاری نہیں  ہوتی۔وہ تہذیب و ثقافت اور معاشرت کی آئینہ داری بھی ہوتی ہے  اور اسی سے  فن چمکدار ہوتا ہے  اور فنکار بھی۔ خواہ اس میں  نابدان کی سڑاند ہو یا بکری کی کھراہند۔ اسی میں  ایک مانوسیت کی خوشبو ہوتی ہے  اور زمین کا اپنا پن بھی لیکن زندگی کے  انج و محن کو کوئی کہاں  لے  جائے ؟ نام ہی ہے  گھسیٹا اور فقیرا اور چیتھڑے  کی ڈھیر میں  ایک بوڑھا انسانی پنجر۔ دونوں  کی لاغر ماں۔

اب ذرا ماں  کی حالت دیکھئے :

’’چیتھڑوں  کے  انبار میں  دفن ایک انسانی پنجر پڑا تھا جس پر مرجھائی ہوئی بدرنگ گندگی کھال ڈھیلے  کپڑوں  کی طرح جھول

 رہی تھی۔سر کے  بال بیمار بکری کی دم کے  نیچے  کے  بالوں  کی طرح میل کچیل میں  لتھڑ کر جم گئے  تھے۔آنکھیں  دھول میں  سوندی کوڑیوں  کی طرح بے  رنگ اپنے  ویران حلقوں  میں  ڈگر ڈگر کر رہی رتھیں۔ ان کے  کوئے  کیچڑ اور آنسوؤں  میں  لت پت تھے۔گال کی جگہ ایک ایک پتلی سی کھال رہ گئی تھی۔جو دانتوں  کے  غائب ہونے  سے  کئی تہوں  میں  ہوکر جبڑوں  کے  نیچے  آگئی تھی۔‘‘

گاؤں  کے  صبح و شام کے  دلکش فطرت مناظر تو سب کو اچھے  لگتے  ہیں  لیکن گردش صبح و شام میں  گزرتی انسانی زندگی کا یہ ہولناک منظر پیش کرنا ہر ایک کے  بس کی بات نہیں۔۔۔لیکن زندگی کے  ان کرب ناک اور اذیتناک مناظر کودیکھنا اور دکھانا ہی درد مندی ہے  اور ترقی پسندی بھی جسے  حیات اللہ نے  کس قدر ہنر مندی کے  ساتھ پیش کیا ہے  کہ فکر وفن کا ہالہ بد صورت ہوتے  ہوئے  بھی خوبصورتی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔بوڑھی ماں۔ گونگی ماں  کا کردار زندگی کے  بے  شمار تلخ سچائیوں  اور بھوک و غریبی کی سفاکیوں  کو بہ زبان خاموشی پیش کیے  دیتا ہے۔ اس کردار میں  بوڑھی کاکی افسانہ کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے  بلکہ اگر یہ کہا جائے  کہ یہ بوڑھی کاکی سے  بھی آگے  کی کہانی ہے  تو غلط نہ ہوگا۔

بھائیوں  کی محبت اور پھر عداوت۔ پیٹ بھرنے  کی اذیت۔ ماں  کی لاچاری۔مفلسی اور غربت کہانی میں  سمٹ آتی ہے۔ جاتے  جاتے  یہی لاچاری دونوں  بھائیوں  کی مکاری اور دوزخ بھرائی کا سامان کرتی ہے۔مسجد کے  زینے  پر زندہ لاش کا ڈھیر اور یہ جملہ۔’’خدا کے  گھر کے  سامنے  انسانی کوڑے  کا ڈھیر لگا تھا۔‘‘نمازی باہرنکلنے  لگے۔ فقیروں  کے  نعرے  بلند ہونے  لگے  سب کی نظروں  میں  ماؤں  کے  مقدس چہرے  گھوم گئے  اور بڑھیا کی لاچاری انسانی کمزوری کا سامان کر گئی۔پیسوں  کے  ڈھیر لگ گئے۔ اس کے  بعد کا منظر تو پریم چند کی کہانی کفن سے  بھی دلچسپ اور معنی خیز ہے  فرق صرف اتنا ہے  کہ کفن میں  مرے  ہوئے  کے  لیے  کفن کی ضرورت ہے  اس کہانی میں  زندہ درگور ماں  کے  ذریعہ کمائی ہوئی اشیا ء پر عیش ہے۔کہانی اسی مقام پر ختم ہو سکتی تھی لیکن حیات اللہ نے  ا س میں  انسانی کمزوری کا ایک اور پہلو جوڑا وہ یہ کہ خالی پیٹ تو متحد تھے  لیکن بھرے  پیٹ میں  اختلاف پیدا ہوگیا۔ بات بٹوارے  پر نکل آئی۔ اس ماں  کا بٹوارا جس کے  ذریعہ کمائی ہوئی تھی اور پھر جھگڑا۔ ہاتھا پائی۔بھائی اور ماں  کی موت اور گھسیٹے  کی بے  بس تنہائی۔ اس بے  مثال کہانی کی تمام ناقدوں  نے  تعریف کی۔ میں  یہاں  ڈاکٹر صادق کے  جملے  پیش کروں  گا :

’’حیات اللہ انصاری کے  افسانے  کاسما جی حقیقت نگاری کے  بہترین مرقعے  ہیں۔ ان ان میں  سماج کے  دبے  کچلے  طبقے  کے  افراد اپنے  مخصوص منظر اور حقیقی خدو خال میں  سانس لیتے  نظر آتے  ہیں  لیکن آخری کوشش میں  حیات اللہ انصاری کا فن حقیقت نگاری کی ان بلندیوں  پر پہنچ گیا ہے  جہاں  پریم چند کی رسائی نہیں  ہو سکتی ہے۔کفن اردو کا مکمل اور شاہکار افسانہ کہلانے  کے  باوجود حقیقت نگاری کے  معاملے  میں  آخری کوشش سے  کہیں  پیچھے  ہے۔‘‘ (اردو افسانے  کا سفر ص ۳۹۴)

ڈاکٹر صادق کے  خیالات سے  اتفاق کرنے  کا جی چاہتا ہے  لیکن اس خواہش سے  کفن کی عظمت میں  کمی نہیں  آتی البتہ آخری کوشش کی عظمت ظاہر ہوتی چلے  جو اب تک مخفی رہی۔حیات اللہ انصاری کے  اور بھی عمدہ افسانے  ہیں  جن پر گفتگو کی جاسکتی ہے  اور کی جانی چاہئے  اس لیے  کہ ان کے  افسانے  معمولی نہیں  بلکہ غیر معمولی ہیں  پتہ نہیں  کیوں  ان پر توجہ نہیں  دی گئی جب کہ وہ توجہ اور گفتگو کے  حق دار ہیں۔ مثلاً موزوں  کا کارخانہ، شکستہ کنگورے، ماں  بیٹا، پرواز وغیرہ۔ یہاں  میں  بھی مضمون کی طوالت کی وجہ سے  گفتگو نہیں  کر پارہا ہوں  لیکن ان پر عدم توجہی کے  تعلق سے  نوجوان ناقد ڈاکٹر مولا بخش کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے  جب وہ یہ کہتے  ہیں  :

’’جدیدیت نے  ۱۹۶۰ء تا ۱۹۸۰ء ایسے  ہر ادیب اور اس کی تخلیق کو پڑھنا گوارا نہیں  کیا جس میں  انسانی سماج اور ثقافت کے  مسائل کا تجزیہ کیا ہو گا کیوں  کہ انھیں  سماج اور تہذیب کے  نام سے  خدا واسطے  کا بیر تھا۔ پھر حیات اللہ انصاری نے  تو سیدھے  ان پر وار کیا تھا اور ان کی قلعی اس وقت کھول دی تھی جب وہ آخری سنبھالا لے  رہے  تھے۔‘‘

فکشن کو کچھ لوگ جھوٹ کا فن گردانتے  ہیں  عین ممکن ہے  کہ یہ سچ ہو۔ یہ تو سچ ہے  کہ ادب میں  استعارہ سازی اور علامت نگاری فن پارے  کو بہر حال فن کے  قریب لے  جاتی ہے  (ان کے  بغیر بھی فن پارہ بلند و بالا ہوسکتا ہے )لیکن استعارہ۔ علامت وغیرہ بھی زندگی سے  الگ تھلگ نہیں  ہوتے۔ ادب ایک استعارہ ہے  لیکن زندگی کا استعارہ۔اصل مسئلہ یہ تھا کہ دوسرے  ترقی پسند افسانہ نگاروں  کی طرح حیات اللہ انصاری کے  افسانوں  کے  ذریعہ بھی ان افسانہ نگاروں  اور فنکاروں  کو چوٹ پہنچی جو زندگی کی حقیقتوں  کو ریشمی رومال یا کڑھے  ہوئے  ریشمی تکئے  کے  نیچے  دبا رکھتے  تھے۔ حیات اللہ انصاری نے  ان سب کو بے  نقاب کیا اوراور پورے  استدلال کے  ساتھ (حیات اللہ انصاری نے  نثر نگاری اور افسانہ نگاری کے  لیے  منطقی استدلال کو سب سے  زیادہ ترجیح دی ہے  ملاحظہ کیجئے  ان کا ایک مضمون افسانوی ادب کا مرتبہ)بے  باکی حقیقت نگاری اور جذبات نگاری کی ایک مثال قائم کی اور ان جید افسانہ نگاروں ، ہم عصروں  کے  درمیان اپنی منفرد پہچان بنائی جن کا ان دنوں  طوطی بول رہا تھا۔ منٹو، بیدی کرشن، عصمت وغیریہ کے  سامنے  بڑے  بڑوں  کے  چراغ روشن نہیں  ہو پارہے  تھے  لیکن حیات اللہ کے  افسانوں  نے  اس شور و غل اور آندھی میں  بھی اپنی تخلیقی حیات قائم کی۔اس سے  ان کے  فکر وفن کی دمداری اور فنکاری واضح ہوتی ہے۔ آخر کوئی تو بات ہے  کہ فکشن کے  پرانے  لیکن بڑے  ناقد وقار عظیم نے  اپنے  ایک مضمون میں  یہ اعتراف کیا:

’’کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور حیات اللہ انصاری۔۔۔ان تینوں  افسانہ نگاروں  میں  کچھ ایسی بات ہے  کہ اردو کے  نئے  افسانے  کی تاریخ میں  ان میں  سے  ہر ایک کسی نہ کسی نئی منزل کا نشان بن کر ہمارے  سامنے  آتا ہے۔‘‘ (نیا افسانہ ص ۱۰۵)

حیات اللہ انصاری صحافی بھی تھے  لیکن اخبار کے  کم زندگی کے  زیادہ۔ پروفیشنل صحافی تو سڑک کے  حادثوں کو خبر بناتے  ہیں  لیکن حیات اللہ انصاری اس خبر کوپہلے  نظر اس کے  بعدنظریہ میں  تبدیل کر دیتے  ہیں۔ یہ نظریہ ان کی کہانیوں  تحلیل ہو جاتا ہے  اور تحریر و تخلیق کی بے  مثال ہیئت اختیار کر لیتا ہے۔ صحافت ایک پروفیشنل کورس ہوتا ہے۔محدود نصاب اور کتاب لیکن افسانہ نگار کا کوئی کورس نہیں  ہوتا۔ کوئی کلاس نہیں  ہوتا اس کی کلاس زندگی ہے  اور اس کا نصاب زندگی کے  تجربات اور مشاہدات ہیں۔ اب ان تجربات میں  نظریہ کا انجذاب تجربہ کو فلسفہ میں  بدل دیتا ہے۔ فلسفہ ٔ حیات جس میں  بھوک اور غریبی کو سب سے  زیادہ اہمیت حاصل ہے  کیونکہ یہی بنیادی عناصر ہیں  جو آدمی کو انسان بناتی ہیں  اور کبھی کبھی انسان کو جانور جہاں  وہ سارے  احساس وشعور کو بھول کر کفن کے  بہانے  مے  خانے  چلاجاتا ہے  اور بوڑھی ماں  کو مسجد کے  زینے  پر لاکر ڈھیر کر دیتا ہے۔ جہاں  بھوک کی عظمت رشتوں  کی عظمت کو فراموش کر کے  ایک غیر انسانی و غیر اخلاقی ستم ظریفی (Irony)میں  از خود تبدیل ہو جاتی ہے۔ زندگی کا یہ کراس (cross )ہی کہانی کو بڑا بناتی ہے۔ یہی وہ احساس و اضطراب ہے  جس کے  ذریعہ فنکار اپنے  فن پارے  کو تخلیقی شان عطا کرتا ہے  جس کا احساس پڑھنے  کے  بعد ہوتا ہے۔ صاف لگنے  لگتا ہے  کہ وہ مارکسزم۔ فرائڈزم یا کسی دوسرے  مستعار رجحان کی عبارت نہیں  بلکہ زندگی کی عبارت ہے۔ اک تخلیق تضاد اور تصادم کے  ساتھ۔۔آخری کوشش میں  گھسیٹا جو قاتل ہے  لیکن کس قدر مظلوم اور بے  بس نظر آتا ہے۔ کم و بیش یہی کیفیت کفن کے  گھیسو اور مادھو کی ہے۔ یہ دکھانا آسان نہیں۔ اس کے  لیے  بڑے  وژن کے  ساتھ سماج کی کیفیت اور انسان کی جبلت کو تخلیقی وحدت میں  ڈھالنا پڑتا ہے  ساتھ ہی انسانی انبوہ کا گہرا مطالعہ بھی ضروری ہوا کرتا ہے۔ حیات اللہ سیاسی کارکن بھی تھے  اور کامیاب کمیٹیڈ صحافی بھی۔ دونوں  ہی صورتوں  میں  انھوں  نے  سماج اور سیاست بہ الفاظ دیگر زندگی کے  بڑے  نشیب و فراز دیکھے۔ وہ گہرا انسانی شعوررکھتے  تھے۔ان کے  اندر تاریخی بصیرت بھی تھی۔ اسی لیے  اپنے  ہم عصروں  کے  مقابلے  ان کا ذہن و وژن پختہ و بالیدہ تھا۔ اسی لیے  ان کے  یہاں  زندگی کا بڑا حصہ دھڑکتا ہے۔ عام کردار پتلون کی طرح نہیں  بلکہ انسانی جبر ومجبور۔ ظلم ومظالم کے  بلکتے  ہوئے  وہ مرقعے  ہیں  جو صرف ایک کہانی نہیں  کرتے  بلکہ سماج کی وہ آلودہ  اذیتناک حقیقت بھی پیش کرتے  ہیں  جن میں  سماجی،  سیاسی، تہذیبی اقدار بھی ہچکولے  کھانے  لگتے  ہیں۔ گردوپیش کی آلودہ زندگی، ان میں  جیتا مرتا انسان، چھوٹی چھوٹی روزمرہ کی ضرورتیں ، گھر، سڑک کھیت، باغ وغیرہ ان سب کو حیات اللہ اپنے  مشاہدہ کی گرفت میں  لیتے  ہیں  اس کے  بعد اپنے  تخیل و تفکر سے  ایک نئی حقیقی دنیا آباد کردیتے  ہیں۔ ترقی پسند فسانہ نگاروں  پر یہ الزام ہے  کہ ان کے  یہاں خارجی کشمکش زیادہ ہوتی ہے  ہو سکتا ہے  یہ بات سچ ہو لیکن راقم کو اس سچ کو قبول کرنے  میں  تامل ہے  اس لیے  کہ ہم نے  ان کشمکش اور ان میں  ڈوبے  جیتے  مرتے  کردوروں  کی باطنی دنیا میں  جھاکنے  کی کوشش ہی نہیں  کی۔منٹو کی طوائف ہو یا کرشن کا بھنگی۔ بیدی کی لاجونتی ہو یا عصمت کی نانی، کرشن کی تائی ایسری، آنندی، آپا، رضو باجی اور حیات اللہ انصاری کا گھسیٹا یا رکھی۔ذرا غور سے  اورہمدردی سے  ان کرداروں  اور ان کی کہانیوں  کو پڑھئے ، دماغ سے  کم دل سے  زیادہ۔ ڈرائینگ روم میں  کم چوپال اور اوسارے  میں  زیادہ۔ آپ کو ان کے  باطن کا کرب، زندگی کا خالی پن اور بھوک کے  جبر وقبر کی ایسی دلدوز و دلسوز کہانی بھری حقیقت نظر آئے  گی جواکثر بھرے  پیٹ اور کافی و سگار پینے  والے  نقادوں  کو نظر نہیں  آتی۔یہی جدیدتنقید کا المیہ ہے  جو خود کتابی و نصابی قیل و قال میں  الجھی خارجیت کا شکار ہے  اور دوسروں  پر خارجیت کا الزام لگاتی ہے۔ میں  نے  عابد سہیل کی آراء سے  مقالہ کا آغاز کیا تھا اور اب انھیں  کی رائے  پر گفتگو تمام کرتا ہوں  :

’’حیات اللہ انصار ی اردو کے  صف اول کے  افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔ان کی تخلیقات کو ان کے  نظریات کا پیمانہ بنایا جائے  تو ان کے  افسانوں  اور دوسرے  ناولوں  پر۔ کمیونسٹ دشمنی کا نہ صرف یہ کہ سایہ تک نہیں  بلکہ ان میں  سے  بیشتر ترقی پسند فکر کے  بہترین نمونے  ہیں۔ ‘‘

(کھلی کتاب ص ۳۲) **

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.