جیلانی کامران کی نظم گم شدہ تہذیب کا نوحہ کا تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹر ارم صبا، اسلام آباد پاکستان

            نئی شاعری کے شعرا میں اہم نام جیلانی کامران کا ہے۔نئی نظم اور نئی تنقید دونوں حوالوں سے ان کا نام بہت معتبر ہے۔ان کی شاعری کا بنیادی محور انسان اور اس کی زندگی ہے۔بقول ڈاکٹر سعادت سعید:

“۔۔۔۔۔۔انہوں نے  نئی انسانی اقدار کی تخلیق کو احسن جانا۔زندگی کے بارے میں منطقی اور فرارای رویوں کو فروغ دینے کی بجائے وہ مثبت تصورات کی تلاش میں رہے۔ان کا کہنا ہے کہ نئی شاعری کے احساسِ مرگ کی ساری اذیت قومی اور مذہبی شخصیت کی دریافت اور بازیافت سے ختم ہو سکتی ہے۔” [i]

جیلانی کامران نہ صرف انسانی زندگی کے دکھ اور کرب کا احساس رکھتے ہیں بلکہ اس کرب کو بیان کرنے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں۔ جیلانی کا مران نے نئی نظم میں کردار نگاری کی تکنیک کو ایک نئی سمت دی۔نئی نظم کی سمت کے تعین کے ساتھ ساتھ جیلانی کامران نے “ابی نمر”اور “نقشِ کفِ پا” کی صورت میں جدید  اردو نظم میں کردار نگاری کی تکنیک کو بھی ایک نئی جہت عطا کی ہے۔[ii]

            “نقشِ کفِ پا”جیلانی کامران کی طویل نظم ہے۔یہ نظم یورپی اور عجمی روایات کے حسین امتزاج میں  زمینی آشوب کی داستان بیان کرتی ہے۔شاعر فکری اور جذباتی استفسارات کے ذریعے احساسات کی ترسیل کرتا ہے۔نظم میں کردار اور مکالمے کی فضا نظم کی خوب صورتی میں اضافہ کرتی ہے۔تمام کردارعلامتی ہیں۔نظم نگار نے مختلف کرداروں کی داخلی کش مکش کے ذریعےاس کرب کو قاری تک پہنچانے کی کوشش کی ہےجس کا منبع زوال پذیر تہذیبی و معاشرتی اقدار اور صنعتی تہذیب کی جبریت ہے۔[iii]نظم کے آغاز سے پہلے شاعر نے منظر بیان کیا ہے اور پھر نظم میں کرداروں کے مکالمات کا آغاز ہوتا ہے۔

نظم میں قیدی کا کردارروز مرّہ کے جھنجھٹوں میں پھنسے ہوئے معاشرے کے ہر فرد کا کردار ہے۔اندھے مردوں کا کورس صنعتی زندگی کی کشاکش  میں مبتلا انسانوں کی علامت ہے۔لڑکا امید کی کرن ہے۔قیدی کو کردار زندگی کے تقاضوں اور مقاصد سے آشنا ہےلیکن وہ اپنے اردگرد اجنبیت اور بیگانگی کی فضا دیکھتا ہےاور ایک نا معلوم کرب کا شکار ہے۔نظم کا اگلا کردار ایک سائے کا ہے ۔یہ سایہ قیدی کو ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب کا درس دینا چاہتا ہے۔مگر قیدی کہتا ہے الفاظ جھوٹ بولتے ہیں۔میری زندگی راکھ میں ڈھل چکی ہے اور روشنی مجھ سے دور ہے۔قیدی سوال کرتا ہے کہ کیا یہی میرا جینا ہے؟وہ اپنے آپ کو اندھاکر لینا چاہتا ہے۔وہ اپنے حواس کو نوچنے کی اذیت میں مبتلا ہے۔وہ سائے سے کہتا ہے:

میری آنکھیں

درس و تدریس سے بے نور  ہیں!جملے عاری

فہم محروم ہے!پڑھ لوں:اشرف

حق کے اوصاف کی تلقین ہے۔۔۔۔خالی باتیں

محض الفاظ کی تبلیغ ہیں۔بر حق!ناقص

جھوٹ سب جھوٹ ہے!میں نے فقرے

ان گنت لفظ پڑھے،جھوٹ کے لمبے قصّے

جھوٹ کا نام پڑھا

اے میرے جسم،میری آنکھ،مرے دل

میری زندگی راکھ ہے،کالی راتیں

مجھ سے مانوس ہیں۔۔۔۔جینا یہ ہے؟[iv]

علم کا سایہ غائب ہو جاتا ہے۔اور اس منظر پر اندھے مردوں کا کورس نمودار ہوتا ہے۔یہ تاریخ اور انسانی اسرار کی علامتیں ہیں۔قیدی پھرسوالات کرتا ہے۔اندھے مردوںکا کورس آنکھ کے نور سے مخاطب ہو کو سوال کرتا ہےاور کہتا ہے کہ ہم کب سے راستہ ڈھونڈ رہے ہیں ،ہمیں راستہ دکھا۔یہ افراد ہمارے ماحول کے غیر تخلیقی لوگ ہیں۔ان کے باطن کی تاریکی کی وجہ سے روحانی اقدار دم توڑ چکی ہیں۔اندھے مردوں کا گروہ قیدی کے ارد گرد رقص کرتے ہوئے کہتا ہے:

موت کا ذکر کوئی ذکر ہے؟جب تک ہم ہیں

موت موجود نہیں!اس کا /کس لیے تذکرہ کریں

اور دن کے نیک ایام کو منحوس کہیں؟

زندگی موت کی محراب میں کاٹیں ،اپنے ہر سانس

ہر وقت گنیں/موت کا ظلم سہیں

ہم نے پچیس برس لطف میں کاٹے

ناچ اور رنگ میں دن رات گزارے۔ہم نے

لڑکیاں غور سے دیکھیں،ان کے/جسم پہ رات کے

کلمات لکھےاور آخر/یہ کہا۔جسم ہر اک چیز ہے باقی دھوکا

آنکھ اور ہاتھ کا دھوکا!خدا کی شاہی/اصل میں جسم کی شاہی

ہم نے پچیس برس جشن میں کاٹے/دفتر ،رزق اور عیش

میں دن رات گزارے،ہم نے/حادثے غور سے دیکھے

ان کو/اتفاقات کہا

ہم نے جب موت کے عفریت کو دیکھا،ہم نے

لائف کے بانڈ خریدے[v]

            درویشوں کا ایک گروہ  رقص میں مگن ہیں۔سرو کا ایک درخت نمودار ہوتا ہے اس درخت کے سائے میں ایک لڑکا دکھائی دیتا ہے جو قیدی سے کہتا  ہے وہ سرو کے نیچے قیدی کا راستہ دیکھ رہا ہے۔قیدی دکھ درد کا مارا ہے اور یہ لڑکا بہار کی علامت بن کر ابھرا ہے۔لڑکے اور قیدی کا مکالمہ نظم کو ڈرامے کے قریب تر کر دیتا ہے۔کورس قیدی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے:

قیدی ! سن لے

موت کا عمر سے کیا رشتہ ہے؟جیسے منزل

راہ کا راہ کی منزل سے! لیکن

راستہ رہتا ہے،منزل اپنی موت مر جاتی ہے[vi]

قیدی خود کو بد قسمت گردانتا ہے۔لوگ اس سے پناہ مانگتے ہیں،اس کے جسم کو منحوس سمجھتے ہیں۔قیدی کہتا ہے کہ میں گناہ گار ہوں۔لڑکا جو قیدی کا سایہ بھی ہے اور اس کا رہنما بھی وہ اسے سمجھاتا ہے کہ ویرانی کی ہوک اپنی جگہ ہے  لیکن نیکی دکھ کی ہم راز ہے ۔اندھے مرد وں کا کورس اپنا راگ الاپ رہا ہے۔وہ بھی خود کو قیدی کہتے ہیں۔لڑکا قیدی سے کہتا ہے کہ میں مدت سے تجھ سے ملنے کا خواہاں تھا آ ہم دونوں سرو کے نیچے بیٹھیں۔لڑکا  قیدی سے کہتا ہے کہ تمھارے  سوالات کے جوابات سرو کے سائے میں ہی بیٹھ کر دستیاب ہوں گے۔سرو تہذیب کی علامت ہے شاعر بتاتاہے کہ وقت کے مظالم کی داستانیں سرو کے نیچے دفن ہیں۔مردوں کے کورس کا کہنا ہے کہ لڑکا جو اشارہ انہیں سمجھانا چاہتا ہے وہ مشکل ہے۔کیوں کہ ان کی آنکھیں اندھی اور کان بہرے ہیں۔لڑکا کہتا ہے۔

نظم کے اگلے منظر میں قیدی اور کورس  جسم،آنکھ اور خاک کے ساتھ سرو کی تلاش میں ہیں۔لڑکا انہیں سرو اور ریت کے اسرار سے آگاہ کرتا ہے اور پھرسرو کے گرد سات چکر کاٹتا ہےاورعبادت کے انداز میں سرو کر سامنے دو زانو ہو جاتا ہےاور ریت کو سرو کے سائے میں بکھیر دیتا ہے۔قیدی بھی سرو کی حقیقیت کو تسلیم کر تا ہے۔نظم میں ایک نیا کردار رونما ہوتا ہے۔سرو کے سائے میں سے ایک عورت نمودار ہوتی ہے۔اس کا لباس ریتلے رنگ کا ہے اور منہ پر نقاب ہے۔عورت کی آمد سے روشنی پھیل جاتی ہے۔سرو قلبِ ماہیت اختیار کر لیتا ہےلڑکا اس عورت کے لیے سجدے میں گر جاتا ہے۔عورت علامت ہے امن کے شہر کی ۔سب کردار مان لیتے ہیں کہ امن کا شہر یہی ہے جسے ہم نے فراموش کیا تھا۔اندھے مرد بھی درویشوں کے رقص میں شامل ہو جاتے ہیں۔نظم کےاختتام پر شاعر کا  کردار سامنے آتا ہے۔شاعر کے دعائیہ کلمات کے ساتھ نظم اختتام پذیر ہوتی ہے۔

جیلانی کامران نے  “نقشِ کفِ پا”کے پیش لفظ میں اپنی اس نظم کو ڈرامائی نظم کہنے کی بجائے طویل نظم کہا ہے۔جیلانی کامران نظم کے کرداروں کو ڈرامے کے کردار نہیں کہتے ان کا مؤقف ہے کہ ان میں وہ مخصوص رنگ نہیں ہے جو ڈرامے کے چلتے پھرتےاور متحرک کرداروں کا ہوتا ہے۔ان کرداروں کی تخلیق صرف نظم کے مضمون اور موضوع کے مرکزی نکات کی وضاحت کے لیے ہے۔جیلانی کامران کے کردار مکالمات کے ذریعے نظم میں تلخ حقائق پیش کرتے ہیں لیکن یہ کردار منفی رخ اختیار نہیں کرتے ۔اپنے کرداروں کی اسی خوبی کے متعلق جیلانی کامران خود بھی لکھتے ہیں:

“ہم نے اپنی نظموں کے کرداروں کو منفی جذبات کی قید سے آزاد کرانے کی کوشش کی ہےاس لیے کہ ایسے جذبات و احساسات انسانی زندگی پر اپنی گرفت کے باعث بے معنی اور بے مقصد ہوتے ہیں۔ کا خیر مقدم کیا گیا ہے جسے زمانے کی نمائندگی کے لیے مدد گار سمجھا گیا ہے۔” [vii]

نظم “تماشا”میں شاعر اپنے بچے کے ہمراہ سمندر پر جاتا ہے۔اس کا بچہ پانی پر چلنے کا ہنر جانتا ہے۔ایک ہجوم ہے جو اس تماشے کو دیکھنے کے لیے موجود ہے ۔بچے اور اس کے باپ کا مکالمہ نظم میں ڈرامائی تاثٔر دیتا ہے:

“کتابوں کے بدلے اگر ہم سمندر کے پانی پہ چلنے کا انداز سیکھیں تو بہتر نہ ہو گا

یہ بچے نے پوچھا “نہیں ساری دولت سے بہتر کتابوں کی دولت ہے”

میں نے کہا

اور بچہ مجھے ایسے تکنے لگا  جیسے میں مر چکا ہوں[viii]

نظم کا اختتام معنی خیز ہے۔پانی پر چلنے کے فن کی ترکیب وسیع معاشرتی معنی رکھتی ہے۔یہ ایسا ن ہے کہ جسے اپنا کر لوگ اپنے لیے  خوشحالی کے ناجائز ذرائع تلاش کرتے ہیں۔علم و آگہی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔بچہ نئی نسل کا نمائندہ ہے اور شاعر زوال آمادہ تہذیب و تمدن کی علامت ہے۔نظم کا اختتام یوں ہوتا ہے:

وہ روتا رہا

کیوں کہ وہ مجھ سے کہتا تھا ،ہم کس لیے خشک مٹی پہ چلتے ہیں

جب لوگ پانی پہ چلنے کی ترکیب سے آشنا ہیں[ix]

نظم”آخری رائے”انسانی ضمیر پر شیطانی قوتوں کے غلبے کی تصویر ہے۔ابلیس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور معتوب ٹھہرا۔اس نے زمین پر انسان کو بہکایا  ۔انسان اپنے خالقِ باری کو چھوڑ کر اس راستے پر چل نکال جس کا اندیشہ ابلیس نے اس کی تخلیق کے وقت کیا تھا یوں خدا کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ابلیس خوش ہے :

کل رات وہ آسمانوں سے اترا/بہت خوش ہوا

بہت خوش ہوا ۔۔۔۔۔جیسے گہرے سمندر

غضب ناکیوں میں اچھلتے ہیں یا آسماں پہ فرشتے

قبولِ عبادت میں مسرور ہوتے ہیں

اس نے کہا۔۔۔”میں نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوا

جو میں دیکھتا تھا ،وہ میں دیکھتا تھا

جو وہ دیکھتا تھا وہ شیشے میں خود اس کا اپنا ہی چہرہ تھا

ظاہر،نہ مخفی ،نی واضح /فقط ایک ممکن کہ ہوتا نہ ہوتا”

اس نے اپنی ہر ایک کامیابی کی فہرست ترتیب دی

اور آخر میں لکھا۔۔۔زمیں پر خدا کی توقع نہ پوری ہوئی

جسے اس نے آدم کہا تھا وہ مٹی کا بے کار ،بے اصل دھوکا تھا

دھوکا ہی ثابت ہوا [x]

جیلانی کامران کی نظم “ابی نمر”کا کردار “ابی نمر”ایک فرضی کردار ہے۔یہ کرادر ابنِ عمر کے کردار سے متاثر ہے۔ابنِ عمر کا کردارغرناطہ کی شکست کے بعد الحمرا کی بدحالی اور تباہی کے بعد منظوم کیے گئے قصوّں میں سے ایک ہے۔لیکن نظم میں ابی نمر کا زمانہ شاعر نے غرناطہ کی شکست سے قبل کا دیا ہے۔نظم کا پلاٹ عربوں کی فتوحات سے متعلق ہےاوراردو نظم کا رشتہ  عربوں کی عظیم الشان علمی و ادبی روایتوں سے جوڑتا ہے۔

نظم کا آغاز ابی نمر کی موت کے بعد سے ہوتا ہے۔یہ ایک رجائی کردار ہے جو زندگی کے آلام و مصائب میں امید اور حوصلہ سے کام لیتا ہے۔وہ زندگی میں تلخی کے باوجود موت کی جستجو کی بجائے زندگی کی ایک نئی امنگ اور ولولہ تلاشتا ہے۔شاعر داستان گو کی طرح ابی نمر کا قصّہ سناتا ہے۔ابی نمر جس کا تعلق یمن سے ہے وہ اس وقت جنوبی فرانس میں ہے۔اور وہاں اپنے شہر کو یاد کرتا ہےاور اس کے گیت گاتا ہے۔یمن میں اس کی محبوبہ بھی آباد ہے۔ابی نمر کا کردار ایک ایسا شعری رشتہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ کو مغربی یورپ سے منسلک کرتا ہے۔[xi]

“باغِ دنیا”جیلانی کامران کی طویل نظم ہے۔ جیلانی کامران نظم کی کہانی کے متعلق لکھتے ہیں:

“اس نظم میں ذاتی تجربے کی نفی سے ایک ایسی کہانی آشکار کی گئی ہےجس کا بہت کم ذ کر کیا گیا ہے۔نظم لکھنے کے مروجہ آداب کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہر اس طریق کا خیر مقدم کیا گیا ہے جسے زمانے کی نمائندگی کے لیے مدد گار سمجھا گیا ہے۔” [xii]

نظم کل چھے پینلز پرمشتمل ہےاور پینلز کو ساعتوں،واقعات  وتوقعات،خیالات،تاریخ،تہذیب و تمدن اور آدرش نے ایک دوسرے سے ہم آہنگ کیا ہوا ہے۔نظم میں چار کردار(محبوب،ابلیس،ملائکہ اور انسان)ہیں چار ہی شہر وں کا ذکر نظم میں ہے۔شہرِ وفا ،شہرِ محبوب،شہرِ جدائی اور شہرِ شراور چار ہی کیفیات نظم میں بیان کی گئی ہیں تمنا،فرقت ،سفر اور قیام۔ نظم کو چھے منازل میں تقسیم کیا گیا ہے۔منزلِ اوّل میں شاعر اس دنیا کی موجودۂ  صورتِ حال جو انسان کی خواہشِ اقتدار کے ہاتھوں زیر و زبر ہو رہی ہے، پیش کرتے ہیں۔ڈاکٹر ضیا اکحسن نظم کی کہانی کے متعلق لکھتے ہیں:

“غور کیا جائے تو یہ عناصر اسی بنیادی قرآنی قصّے سے ماخوذ ہیں جو آدم ،ہبوطِ آدم اور اس دنیا کی  بنیاد کی  کہانی ہے۔جیلانی کامران کے خیال میں وہی ایک ازلی کہانی ہے۔جو جزئیات کی تبدیلی کے ساتھ بار بار دہرائی جا رہی ہے۔انسان اس دائرے سے اس چکر ویو سے نکلنا چاہتا ہےلیکن راستہ نہیں ملتا۔وہ شعر کہتا ہے فلسفے تراشتا اور نئے نئے نظام وضع کرتا ہے کہ اس دائرے سے نکل سکے۔لیکن دیکھتا ہے تو پھر خود کو اس دائرے میں چکراتا ہوا پاتا ہے۔جیلانی کامران کی مختلف نظموں میں اس کہانی کے مختلف رنگ،مختلف ڈائقے اور مختلف مناظر ہیں۔ لیکن ان کی طویل نظم”باغِ دنیا”میں یہ کہانی زیادہ مربوط فکری انداز میں بیان ہوئی ہے۔”[xiii]

نظم کی خوبی اور خوب صورتی یہ ہے کہ شاعر نے نظم کو جس نقطے سے شروع کیا ہے پوری رودادِ انسانی رقم کرنے کے بعد منطقی انداز میں نظم کا اختتام بھی اسی نقطے پر کیا ہے۔جیلانی کامران نظم کا آغاز واضع،روشن اور شاداب مستقبل کی بشارت سے کرتے ہیں:

آج کے بعد  /  آج کے بعد ،نیا آج

اک نیا آج تمھارے لیے لائے گا مہک

پھول اور پھول میں سوئے ہوئے کچھ خواب / کئی دوست

عشق اور عشق کے انداز / رفت کے بعد گزشت

عمر کے بعد نئی عمر /صبح کے بعد نئی صبح

آج کے بعد نیا آج ،نئے تم ۔

ایک موسم کا مہکتا ہوا موسم۔تم ،تم !

ایک گزری ہوئی دنیا کے مسافر ۔ہم،ہم!

آج کے بعد[xiv]

جیلانی کامران کردار اور مکالمے کے ذریعے انسان کے سفر کے راستے کی نشاندھی کرتے ہیں۔وہ مختلف تہذیبوں کے مطالعے کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ طاقت اور ہوس انسان کو بے راہ کرتے ہیں ۔

            شاعر نظم میں مختلف حکایات بیان کرتا ہے۔”منزلِ تمام”نظم کی آخری منزل ہے ۔نظم کی آخری منزل میں جیلانی کامران دورِ حاضر میں داخل ہوتے ہیں ۔شاعر انسان کی دعا اور کوشش کو اس منزل کے حصول کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔یہ منزلِ احیا ہے جو نظم کا ایک مرکزی کردار بن کر شہرِ قم میں اترتی ہے۔مرشدِ قم اسے خوش آمدید کہتا ہے۔جیلانی کامران احیا کا تعارف نظم میں اس طرح کرواتے ہیں :

احیا  وقت کی آواز میں موجود صدا ہے

احیا رفت کے پردے میں گزرتی ہوئی نسلوں کی دعا ہے!

اہلِ باطن نے کہا ۔۔۔۔۔

احیا لیلائے موجود ہے

احیا دشتِ دل و جان کی مشہود ہے

احیا شاہد و مشہود ہے![xv]

نظم”پنجسورے والا”میں شاعر پنجسورے والے کے کردار کے ذریعے تہذیب اور روحانیت کی اس گنگ آواز کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے جو دورِ حاضر میں گم ہو چکی ہے۔نظم کا مرکزی کردار گلی محلوں میں روحانی رسالے بیچتا ہے۔لیکن یہ شاعر کے ماضی کی آواز ہے آج ان ہی گلیوں میں جہاں پنجسورے والے کی آواز آتی تھی وہاں سکول کی کھڑکیاںاور بجلی کی دفتر کے بورڈ نظر آتے ہیں۔یہ نظم جیلانی کامران کا ناتا عہد کے تجربات سے جوڑتی ہے۔اور ان لکھنے والوں سے ان کا رشتہ قائم کرتی ہے جو اپنی گم روح کو اسلامی روایات میں تلاش کرتے ہیں۔[xvi] نظم”تماشےوالا”میں تماشے والے کا کردار تہذیب کی بازیافت کا حوالہ ہے۔شاعر نے اس کردار ی عکاسی عمدگی سے کی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ تماشے والاہماری آنکھوں کے سامنے گلیوں میں آوازیں لگا رہا ہے۔تماشے والا ایک ایسا کردار ہے جس کی پیش کش سے شاعر ،پاکستانی تہذیب کی جڑیں دجہ و فرات  کے پانیوںمیں ڈھونڈنے کے ساتھ ساتھ مشہد کے دریچوں اور فارس کے باغیچوں میں بھی تلاش کرتا ہے۔[xvii]

نظم”ہمیں آزما”میں وہ مسافروں سے ہم کلام ہیں۔شاعر راہِ زیست پر رواں دواں ہے اور اجنبی لوگوں کو اپنا ہم نوا بناتا ہے۔یوں یہ سارے لوگ ایک ہی منزل کے مسافر بن جاتے ہیں۔یہ منزل مستقبل کی تمناؤں اور خوشحالیوں کی طرف ہے۔نظم “بوڑھا استاد”خود کلامی کی تکنیک پر مبنی نظم ہے۔نظم کا مرکزی کردار مٹتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے۔بوڑھا استاد روحانی اقدار کی نا قدری کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہےاورکرب کا شکار ہے:

تیس برس میں چاند اور سورج /اور زمانے دیکھے

دنیا کی محراب میں چھپ کر

آڑھے ترچھے،الٹے سیدھے

اور افسانے دیکھ رہے ہیں

چشمہ دیکھا گدلا گدلا

میں نے پانی صاف کیا تھا

اپنے خون کی کم یابی سے

دن اور رات کی بے تابی سے

پچھلے روز کے آئینے کو

خود میں نے شفاف کیا تھا[xviii]

 جیلانی کامران کو کردار نگاری کے فن میں مہارت حاصل ہے۔ان کی نظموں میں کردار نگاری کا ڈرامائی عنصر جابجا نظر آتا ہے ۔ان کے کردار علامتی ہیں اور معاشرے سے اخذ کردہ ہیں۔اپنی نظموں کے کرداروں کے متعلق وہ خود لکھتے ہیں:

“ہم نے ہر نظم کے وسط میں جس مرکزی کردار کو پیش کیا ہے وہ مرکزی کردارہمارے معاشرے کے کسی نہ کسی پہلو کا آئینہ دار ہےاور ہماری ملکی و قومی زندگی کا نمائندہ ہے۔یہ کردار کسی نہ کسی طرح اس پیچیدہ کیفیت کا مظہر ہےجو ہمارے ملک میں موجود اور برابر آشکارا ہو رہی ہے۔”[xix]

جیلانی کامران کرداروں کو روحانیت،تہذیب اور امن کے استعاروں کے طور پر پیش کرتے ہیں  اور گم شدہ تہذیبوں کا نوحہ پڑھتے ہیں۔

حوالہ جات

[i]           غوری محمد اظہر ،(مرتب)،جیلانی کامران کے بارے میں،ملٹی میڈیا افیر لاہور،،۲۰۰۳،ص۸۲

[ii]           طارق ہاشمی،جدید نظم کی تیسری جہت،دستاویزمطبوعات لاہور،۲۰۰۳ء،ص۱۳۹

[iii]          احتشام علی،جدید اردو نظم میں عصری حسیّت،سانجھ پبلیکیشنز،لاہور،۲۰۱۵ء،ص۱۱۲

[iv]          جیلانی کامران،جیلانی کامران کی نظمیں(کلیات)رائٹرز ایسوسی ایشنلاہور، ،۲۰۰۲ء،ص۷۹

[v]           جیلانی کامران ،ایضًا             ص۸۳

[vi]          جیلانی کامران، ایضًا             ص۹۷

[vii]         کامران جیلانی،چھوٹی بڑی نظمیں ،دیباچہ،کتابیات لاہور،،۱۹۶۷،ص۱۶

[viii]        جیلانی کامران ،دستاویز،نیا ادارہ لاہور،،۱۹۷۶ء،ص۱۵

[ix]          جیلانی کامران ، ایضًا             ص۱۵

[x]           جیلانی کامران ، جیلانی کامران کی نظمیں،ص۱۵۹

[xi]          کامران جیلانی،نئی نظم کے تقاضے،مکتبہ عالیہ لاہور،،۱۹۶۵ءص۸۴

[xii]         جیلانی کامران،کلیات،ابتدائی کلمات،فیروز پرنٹرز لاہور،،۲۰۰۲،ص۱۹۲

[xiii]        ضیا الحسن،ڈاکٹر،جدید اردو نظم آغاز و ارتقاء،سانجھ پبلی کیشنز لاہور،،۲۰۱۲ء،ص۱۴۴

[xiv]        جیلانی کامران باغ دنیا،مکتبہ عالیہ لاہور،،۱۹۸۷ء،ص۰۱

[xv]         جیلانی کامران ،ایضًا             ص۸۳

[xvi]        سعادت سعید،ڈاکٹر،فن اور خالق،دستاویز مطبوعات لاہور،۱۹۹۸ء،ص۵۱

[xvii]        سعادت سعید،ڈاکٹر،فن اور خالق،ص۵۱

[xviii]       جیلانی کامران ،جیلانی کامران کی نظمیں(کلیات)ص۱۱۸

[xix]        کامران جیلانی،چھوٹی بڑی نظمیں،ص۱۹

٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.