انتظارحسین ایک عہدساز افسانہ نگار 

حامد رضا صدیقی 

شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ 

7895674316 

hamizrazaamu@gmail.com 

  

(Intezar Hussain ek Ahad saaz afsana Nigar by Dr. Hamid Reza Siddiqui) 

انتظارحسین اردوفکشن کی ایک ایسی قدآور شخصیت ہیں، جن کے ادبی کارنامے ایک طویل عرصے کا احاطہ کیے ہوئے ہیں جو ان کے گہرے مشاہدے، تجربات اور ژرف نگاہی کا بین ثبوت ہیں۔ وہ اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کی بنا پر جامع الصفات اور کثیرالجہات شخصیت کے مالک ہیں۔ انتطارحسین کی تخلیقات اردو فکشن کے ارتقا میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ اردو کے عہدساز افسانہ نگار، رجھان ساز ناول نگار، ممتاز ڈرامہ نگار، اعلیٰ پائے کے کالم نگا راورمشہور ومعروف دانشور ہیں۔ ان کے افسانے ،ناول، ڈرامے، کالم، تراجم، سفرنامے، خاکے اور ان کی تنقید، خودنوشت، یادیں اور ادبی صحافت ہمارے عصری ادبی سرمائے کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔ 

آزادی کے بعد ہندوپاک کے جدید افسانہ نگاروں میں ان کا قدبہت بلند ہے۔ انھوں نے کہانی کے فن اور قدیم روایت کو اس طرح بام عروج تک پہنچایا ہے کہ انھیں اب افسانوی ادب کا باعظمت اور باوقار معمار ہی تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ تمام ادبی حلقوں میں ان کا احترام کیاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو قومی اوربین الاقوامی سطح پر فکشن نگار کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ 

انتظارحسین اردو ادب میں اس وقت نمودار ہوئے جب اردو افسانہ ارتقا کی کئی منازل طے کرچکا تھا۔ رومانی ادیب جو زندگی کی کھردری حقیقتوں سے چشم پوشی کرکے رومانی دنیا میں نئے گلہائے رنگا رنگ کھلارہے تھے، رومانی تخلیق کاروں کا آفتاب شہرت نصف النہار پر تھا جن میں نیاز فتحپوری، حجاب امتیازعلی، مجنوں گورکھپوری اورمیرزاادیب وغیرہ شامل تھے، لیکن دوسری طرف ترقی پسند تحریک اورحلقہ ارباب ذوق کے تجدد پسند افسانہ نگاروں نے ادبی افق پر دو متوازی کہکشائیں استوار کرنی شروع کردی تھیں۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، خواجہ احمدعباس، ملک راج آنند، اخترحسین رائے پوری، عصمت چغتائی، احمدعلی اوربلونت سنگھ اپنے افسانوں میں اپنے دور کی حقیقت پسندانہ تصویر پیش کررہے تھے جبکہ حلقہ ارباب ذوق میں امجدالطاف، محمد حسن عسکری، سیدفیاض محمود اورعاشق بٹالوی جسے افسانہ نگاروں کو غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ جس طرح سعادت حسن منٹو جو باقاعدہ طو رپر کسی تحریک سے وابستہ نہ ہونے کے باوجود اپنا الگ سے چراغ روشن کیے ہوئے تھے تو دوسری طرف ممتاز مفتی تحلیل نفسی کے وسیلے سے شعوری پرتیں کھولنے اور لاشعور کو سطح پر لانے میں منہمک تھے۔ خواتین افسانہ نگاروں نے ایک بڑا ادب تخلیق کیا تھا۔ ان خواتین میں عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، جیلانی بانو،ممتاز شیریں، واجدہ تبسم، خدیجہ مستور،بانو قدسیہ اورجمیلہ ہاشمی کے نام نمایاں ہیں۔ اس لیے یہ دور اردو افسانے کا دورزریں کہلاتا ہے۔ ایسے دورمیں انتظارحسین نے اپنا پہلا افسانہ ’’قیوما کی دکان‘‘ لکھ کر اردو افسانے کے افق پر نئے قطبی ستارے کے طلوع ہونے کی خبردی۔ 

انتظارحسین ۲۱؍دسمبر ۱۹۲۵ء کوعلی گڑھ کے نواحی ضلع بلند شہر بمقام ڈبائی اترپردیش میں پیداہوئے۔ انتظارحسین کی تاریخ پیدائش سے متعلق کچھ گمراہیاں رہی ہیں۔ ان کے یوم پیدائش کی تاریخ ۱۲؍دسمبر ۱۹۲۲ء بھی بتائی جاتی ہے جو کہ درست نہیں ہے اس لیے کہ اس کا کوئی صحیح ماخذ موجود نہیں۔ آصف فرخی لکھتے ہیں: 

’’تاریخ پیدائش کا اندراج اکثرجگہوں پر ۲۱؍دسمبر ۱۹۲۵ء بمقام ڈبائی، ضلع بلند شہر، صوبہ اترپردیش، ہندوستان ہے۔ طاہرمسعود کے مرتب کردہ انٹرویوز ’’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘ نگارپاکستان کے افسانہ نمبر وسال نامہ ۱۹۸۱ء مرتبہ فرمان فتحپوری اور ڈاکٹر انوار احمد کی کتاب ’’اردو افسانہ میں یہی تاریخ درج ہے۔ ان کتابوں کے حوالے سے الگ ہٹ کر ڈاکٹر مرزاحامدبیگ نے اپنی تالیف ’’اردو افسانے کی روایت ۱۹۰۳-۱۹۹۰ء‘‘ میں ۱۲؍دسمبر ۱۹۲۲ء کی تاریخ درج کی ہے لیکن اس کا ماخذ ظاہر نہیں کیا۔‘‘۱؎ 

انتظارحسین کے والدکا نام منظرعلی تھا، وہ نئی تعلیم کو ناپسند کرتے تھے لہٰذا ان کی ابتدائی تعلیم کا انتظام گھر پر ہی کیا گیا۔ ان کے والد مذہبی مبلغ او رواعظ تھے اوران کی والدہ ماجدہ صغریٰ بیگم بھی ایک مذہبی اور گھریلو عورت تھیں۔ ان کے دادا کا نام امجدعلی تھا اور نانا کا نام وصیت علی تھا۔ ان کے والد ڈبائی میں زراعت و تجارت کرتے تھے۔ آصف فرخی لکھتے ہیں: 

’’ان کے والد مختلف کاروبار کرتے رہے۔ کچھ عرصے ایک عزیز کی زمینوں کی نگرانی بھی کی۔ جنت البقیع میں مزارات کے انہدام کے خلاف ہندوستان میں مہم چلائی گئی تو اس سے وابستہ ہوگئے اور یوپی کے مختلف شہروں کا دورہ کرتے رہے۔ اسی دورا ن عربی میں اتنی استعداد بہم پہنچائی کہ جب انتظارحسین نے ایم اے کے دوسری زبان کے طور پر عربی کا انتخاب کیا تو عربی زبان ان سے یہی پڑھی۔‘‘۲؎ 

ان کے والد جدید تعلیم/انگریزی تعلیم کے حق میں کبھی نہیں تھے۔ وہ خود واعظ اور اپنے بیٹے کو بھی مذہبی تعلیم دلاکر واعظ بنانا چاہتے تھے۔ بقول انتظارحسین: 

’’میرے والد تعلیم کی جو قبامجھے پہنانے کے درپے تھے، ا سکی وجہ سے یہ سوال اٹھنا ہی تھا۔ اصل میں میرے والد اپنے اسلامی مطالعے کے زور پر مولویوں سے بڑ ھ کر مولوی توبن ہی چکے تھے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ کسی بھلے وقت میں وہ شیعہ کانفرنس کی شروع کی ہوئی ایک تحریک میں بھی سرگرم عمل رہے تھے۔… وہیں سے شاید یہ جذبہ لے کر واپس آئے کہ اپنے فرزنددلبند کو ابتدائی عربی پڑھاسکھاکر مدرسۃ الواعظین میں داخل کرادیاجائے کہ وہاں سے عالم فاضل بن کر نکلے اورمجتہد بن جائے۔ تو ابھی میںتختی پر ا، ب، ت لکھ رہا تھا اور بغدادی قاعدہ ختم کرچکا تھا کہ انھوں نے مجھے ایک کتاب ’’الصرف‘‘ نام کی  مجھے پکڑادی۔‘‘ ۳؎ 

اس طرح عربی کے ذریعہ انتظارحسین کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ہوا۔ ان کے خاندان میں اگرکسی ایک آدمی نے کہا بھی کہ لڑکے کو کسی اسکول میں داخل کرادو تو ان کے والد نے صاف انکا رکردیا کیونکہ ان کے والد کو نہ اسکول کے پڑھنے والے لڑکوں پر بھروسہ تھا اور نہ ہی اسکول کی تعلیم پرکوئی اعتماد تھا۔ ان کے والد کا ماننا تھا کہ اسکول کی تعلیم اور وہاں کے لڑکوں کی صحبت انتظارحسین کوخراب کردے گی۔ اس لیے ان کے والد نے گھر پر ہی عربی، انگریزی اور ساتھ میں میٹرک کے تمام مضامین پڑھانا شروع کردیے۔ دس بارہ سال ڈبائی میں گزارنے کے بعد انھوںنے باقاعدہ تعلیم کی غرض سے ہاپوڑ کی طرف ہجرت کی۔ ہاپوڑ میں کمرشیل اینڈ انڈسٹریل ہائی اسکول کے آٹھویں کلاس میں داخلہ لیا۔ تین سال انتظارحسین نے بڑی دلچسپی سے پڑھائی کی اورفرسٹ ڈویژن کے ساتھ میٹرک پاس کیا۔ انتظارحسین نے اپنی میٹرک کی تعلیم ختم کرنے کے بعد میرٹھ کا رخ کیا اورمیرٹھ کالج میں داخلہ لیا اور اپنے رشتے کے چچا اور (دوسرے رشتے سے بہنوئی) فضل الرحمن کے گھر میں رہنے لگے۔ میٹرک فرسٹ ڈویژن کرنے کے بعد ان کی بڑی بہن ان کو ڈپٹی کلکٹر بنانا چاہتی تھیں کہ انتظارحسین آئی سی ایس کے امتحان میں بیٹھے اور بڑ احاکم بنے مگر انتظارحسین کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میرٹھ میں انتظارحسین محلہ پوروا فیض علی میں رہتے تھے۔ 

انتظارحسین نے اپنے خاندان اورشجرۂ نسب کی بازیافت کے بارے میں عمر کے آخری حصے میںاپنے ذاتی حالات و تفصیلات اور خاندانی وراثت اور اس کی جڑوں کو بڑے تفصیلی اندازمیں ’’جستجو کیا ہے‘‘ میں بیان کیا ہے۔ بقول انتظارحسین: 

’’ابھی چند برس پہلے اسی گھرانے کے ایک بزرگ کہ اب کراچی میں رہتے ہیں، میرے غریب خانے تشریف لائے۔ تشریف آوری کا مقصد یہ کھلا کہ خاندان کے شجرۂ نسب کی تکمیل کے سلسلے میں انھیں میرے والد مرحوم منظرعلی کے خاندان کی تفصیلات مطلوب ہیں۔ 

میں نے بتایا کہ پانچ بہنیں اورایک بھائی، یہ کل خاندان ہے۔ چاربہنیں کہ مجھ سے بڑی تھیں، اللہ کو پیاری ہوگئیں، ایک بہن کہ مجھ سے چھوٹی ہے اور ابھی تک بقیدحیات ہے۔ 

باتوں باتوں میںکہا کہ ہم لوگ سید ہیں۔ اس پر میں چونکا، عرض کیا کہ میرے والد نے اپنے نام کے ساتھ کبھی سید نہیں لکھا۔ میں بھی نہیں لکھتا۔ بولے کہ اس وقت ہمارا شجرۂ نسب ہماری دسترس میں نہیں تھا۔ اب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم سید ہیں۔ میں اس وقت چپ چاپ رہا لیکن جب انھوں نے چند سال بعد خاندان کے سلسلہ میں مزید وضاحت کی غرض سے خاندان کے دونوجوانوں کو بھیجا، اور انھوں نے سادات کادعویٰ کیا تو میں نے جھرجھری لی اور لینی ہی تھی۔ اگرمیرے والد نے سید ہونے کے دعویٰ سے احتراز کیا تو میرے لیے یہ دعویٰ کرنے کی گنجائش پیداہوگئی کہ میں اسی برصغیر کی مٹی ہوں یعنی ہندآریائی ہوں۔ ارے جب ہم سادات نہیں ہیں تو کسی دوسرے عرب قبیلہ سے رشتہ کیوں جوڑیں اور خاندان رسالت کو بیچ میں سے نکال دیں توپھر عربوں میں کون سے لعل ٹنکے ہوئے ہیں کہ ہم آڑے ترچھے راستوں سے ان سے رشتہ جوڑنے کا جتن کریں مگر ان نوجوانوں کو اصرار تھا کہ ہماراشجرۂ نسب یہ کہتا ہے توپھر ہم کیوں یہ دعویٰ نہ کریں۔ میں نے پوچھا اچھا یہ بات ہے تو یہ بتائیے کہ شجرہ نسب ہمیں کسی امام کی اولاد بتاتا ہے۔ بولے ’’ہم سیدنا حضرت امام حسین کی اولاد ہیں۔‘‘تب میں ٹھٹکا،ارے یہ تو خاک مدینہ و نجف میں کربلا کی خاک بھی آن ملی۔ اب میں کیسے انکار کروں اور میرے سنی عزیز حسینی ہونے پر مصر ہیں تو میں کس خوشی میں پہلو بچارہا ہوں۔ 

سو اے دوستو! میں نے عالی نسبی کادعویٰ نہیں کیا مگر میرے اہل خاندان شجرہ لیے کھڑے ہیں اورکہہ رہے ہیں کہ کربلا کی خاک سے بہنے والے خون سے جو چھینٹے اڑے، انہیں میں سے ایک چھینٹا ہم بھی ہیں۔ 

اصل میں ہماراخاندان چتکبرا ہے۔ چتکبرا بھی ایسا کہ ایک رنگ کچھ زیادہ گہرا ہوگیا ہے۔ بس یہ سمجھ لو کہ شیعہ تو بس آٹے میں نمک کی نسبت سے بلکہ تنک اس سے بھی کم ۔ باقی سب اہل سنت ہیں یہ سب والد کی طرف سے جو ہمارا خاندان ہے، اس کا ذکر کررہاہوں والدہ کی طرف سب یک رنگ تھے یعنی خالص جولائی۔ مگر میں ذکرکررہا ہوں اپنے پدری خاندان کا جس نے اب خیر سے اپنا شجرہ نسب بھی برآمد کرلیا تھا اور اس کے طفیل امام حسین سے اپنی نسبت بھی دریافت کرلی تھی مگر اس سے آٹے اور نمک کے تناسب میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ ‘‘۴؎ 

انتظارحسین کا خاندان دو فرقوں میں بٹاہوا تھا سنی اورشیعہ۔ ان کے والد منظرعالی ایک شیعہ تحریک کے مبلغ تھے۔ ان کے والد کی طرف سے سب شیعہ تھے اور والدہ کی طرف سے سب سنی تھے۔ ان کے دادا امجد علی ان کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔ ہاں انھوں نے اپنے دادا کے دو بھائی صادق علی اور دلشاد علی کو دیکھا اور ان کے سایے میں برسوں رہے۔ ا ن کے دادا دلشاد علی ڈبائی سے کچھ فاصلے کے دوری پر دانپور میں رہتے تھے۔ دانپور میں ان کے اسلاف کی جڑیں اور خانوادے موجود ہیں۔ انتظارحسین کے دوسرے جدامجد صادق علی ترقی کرکے خان بہادر صادق ہوگئے تھے، وہ ایک غیرمذہبی قسم کے آدمی تھے اور یہ سنی حنفی تھے مگر محرم کا اہتمام وانصرام بڑے عقیدت مندی سے کرتے تھے۔ میلاد، شب برات، بارہ وفات وغیرہ کابھی وہ بڑا اہتمام کرتے تھے۔ ڈبائی انتظارحسین کا ننیہال تھا اور ان کا پورا خاندان ان کے نانا وصیت علی کے دیے ہوئے مکان میں رہتا تھا۔ انتظارحسین اس ضمن میں خودلکھتے ہیں: 

’’دراصل میں ہمارے نانا نے کسی وقت بھلے وقت میں یہ مکان بنوایا تھا۔ ان کے بعد ان کی اولاد ہی کو اس گھر میں شاد آباد ہونا تھا۔ اولاد کون سی لمبی چوڑی تھی، ایک بیٹا یعنی ہمارے ماموں زمرد حسین، ایک خالہ ایک ہماری والدہ اللہ اللہ خیرصلا۔‘‘۵؎ 

آصف فرخی نے بھی انتظارحسین کے خاندان کو چتکبرا کہا ہے اس کی تفصیل بڑی وضاحت سے پیش کی ہے اور ان کے خاندان کے مذہبی اعتقادات کو واضح کردیا ہے کہ ان کا خاندان کس طرح سے شیعہ سنی تھا اور چتکبرا تھا، ۔ملاحظہ ہو: 

’’ایک گفتگو کے دوران انھوں نے (انتظارحسین) اس اجمال کی تفصیل مجھے بتائی۔ ان کے والد کے تین ماموں تھے اورانھو ںنے دو کو دیکھا ہے کیوں کہ ایک ماموں کا انتقال ان کے ہوش سنبھلانے سے پہلے ہوگیا تھا۔ دونوں ماموں الگ مزاج رکھتے تھے۔ بڑے ماموں صوفی تھے اور پورے علاقے میں شہرت تھی کہ جن اتارنے کے ماہر ہیں۔ انھو ں نے بتایا کہ میرے والد کہتے تھے یہ سنی نہیں تھے، تفضیلی ہیں، یعنی روحانی طو رپر حضرت علی کو افضل مانتے تھے وہ خاندان کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے انگریزحکمرانوں سے سفارش کردیتے تھے او راس وجہ سے خاندان میں ان کواہمیت حاصل تھی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ والدہ کے دونوں بھائی سنی تھے۔ انھوں نے کہا کہ میری والدہ کے خاندان والے سنی تھے۔ بیچ بیچ میں کوئی شیعہ ہوجاتا تھا اور اس وجہ سے خاندان کی فضاملی جلی تھی۔ لیکن عزاداری میں سب شامل ہوتے تھے اور خاندان کے سنی افرادبھی محرم کے دوران عزاداری کے لیے پیسے بھیجتے تھے۔ ‘‘۶؎ 

تقسیم ہند کے بعد انتظارحسین کے ساتھ ان کے والد بھی پاکستان تشریف لے گئے تھے۔ زندگی کے آخری لمحات ان کے ساتھ گزارے اور تقریباً ۱۹۶۳ء میں ان کا انتقال ہوگیا اور لاہور میں تجہیز وتدفین ہوئی۔ انتظارحسین کی والدہ پاکستان آنے کے بعد زیادہ تر ان کے ہی ساتھ رہیں۔ مگر آخری زمانے میں وہ اپنی چھوٹی بیٹی سائرہ خاتون کے پاس کراچی آگئی تھیں اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ آصف فرخی نے لکھا ہے: 

’’ ان کی والدہ نے قریب قریب سو سال کے قریب عمر پائی۔ نسیم زہرہ صاحبہ نے اپنی نانی یعنی انتظارحسین کی والدہ کے بارے میں مجھ سے بیان کیا کہ وہ بہت نفیس مزاج خاتون تھیں اوریہ نفاست انتظارحسین کو ان ہی سے ورثے میں ملی۔ مگر ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انتظارحسین اپنی والدہ کو بہت چاہتے تھے مگر اس کا اپنی تحریروں میں اظہار کم کیا ہے۔‘‘۷؎ 

انتظارحسین کا خاندان یعنی منظرعلی اور صغریٰ بیگم کی کل اولاد پانچ بیٹیوں او رایک بیٹے پر مشتمل تھی۔ انتظارحسین اپنی پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ اس بات کی وضاحت ان کے نام سے بھی ہوتی ہے کہ ان کے والدین نے بیٹے کے انتطارکے بعد ان کا نام انتظارحسین رکھا ہے۔ یہ چار بہنوں کے بعد پیداہوئے تھے اور خاندان میں سب کی خواہش تھی کہ بیٹا پیدا ہو۔ انتظارحسین کی سب سے بڑی بہن کا نام حسنین فاطمہ تھا اور ان کی شادی شمشاد حسین سے ہوئی تھی۔ یہ بہن چونکہ گھر میں ساری بہنوں او ربھائی سے بڑی تھیں اس لیے خاندانی معاملات میں ان کی اور ان کے شوہر کی رائے کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ چنانچہ دینی تعلیم کے بجائے اسکول میں داخلے اور جدید تعلیم کی طرف رغبت اور انتظارحسین کا اسکول میں داخلہ والد کی مرضی کے خلاف دراصل ان کی بڑی بہن کی خواہش اور فیصلے کے مطابق کیا گیا تھا۔ انتظارحسین کی شادی اور لڑکی پسند کرنے کا فریضہ بھی ان کے ہی ذمہ تھا۔  ان کی بہن شادی کے معاملے میں لڑکیوں کی بہت چھان بین کرتی تھیں جس کی وجہ سے بہت دیرہوجاتی تھی۔ 

انتظارحسین کی بڑی بہن حسنین فاطمہ کے بعد دوسری بہن کا نام سیدہ فاطمہ تھا۔ یہ ہجرت کے بعد ملتان چلی گئی تھیں اور وہیں بس گئیں۔ ان کو صوفیا کرام اور ان کے مزارات کی زیارت سے خاص عقیدت تھی۔ ان کا ایک بیٹا بعد میں کراچی آکر رہنے لگا مگروالدہ کی وصیت تھی کہ ان کو ملتان میں دفن کیاجائے۔ اس لیے ان کی تدفین ملتان ہی میں ہوئی۔ تیسری بہن کا نام زہرا تھا، ان کی شادی ان کے چچا کے خاندان میں ہوئی تھی۔ چوتھی بہن کا نام کنیزفاطمہ تھا۔ ان کی شادی ان کے کنبے میں ہوئی تھی اور ان کے شوہر گوالیار میں ملازمت کرتے تھے۔ ان کا انتقال تقسیم ہند سے پہلے ہوگیا تھا۔ چاربہنوں کے بعد انتظارحسین خود اور ان سے چھوٹی بہن سائرہ خاتون جو اپنے بچوں کے ساتھ پی ای سی ایچ ایس کراچی میں مقیم تھے۔ 

انتظارحسین نے اپنے گھرمیں موجود اردو کی مختلف کتابوں اور رسالوں کے مطالعہ سے دلچسپی پیداکرلی تھی۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہی تھی۔ ان کے والد ان کو عربی اور مذہبی کتابوں کو پڑھانے کی کوششیں کرتے رہے مگر یہ چھپ چھپ کر اردو کے رسالے اورکتابیں پڑھتے رہے۔ ان کو ڈبائی اور میرٹھ کے کچھ کھیل کا بھی بہت شوق تھا۔ جیسے گلی ڈنڈا، پتنگ بازی وغیرہ کا۔ انھوں نے اپنے بچپن میں فطری اورقدرتی مناظر سے خوب لطف لیا۔ علاقے اور گاؤں کے جنگلوں اور باغوں میں جاکر آم، املی، جامن، بیر، نیم کی کٹار کو توڑتے تھے اور دوستوں کے ساتھ خوب دھماچوکڑی مچاتے تھے۔ انھوں نے اپنے مطالعہ کی ابتدا اپنے ہی گھر میں موجود ’’الف لیلیٰ‘‘ اور والد کے کتب خانے سے مذہبی کتابیں پڑھ کر کی۔ بقول انتظارحسین: 

’’گھرمیں جب آتا تھا تو ایک کتاب تھی پیلے ورقوں والی، اور اس میں کچھ جادوگروں کی تصویریںِ کچھ جنوں، تووہ میں نے پڑھنی شروع کردی۔ رفتہ رفتہ پتہ چلا کہ اسے ’الف لیلیٰ‘ کہتے ہیں۔ کچھ میرے والد کا کتب خانہ تھا چھوٹا سا اس میں مذہبی کتابیں بہت رکھی تھیں۔ میں نے وہ مذہبی کتابیں بھی پڑھ ڈالیں۔‘‘۸؎ 

اس طرح سے انتظارحسین نے اپنے ابتدائی دور میں اردو کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ چوں کہ ان کے گھر کا ماحول مذہبی زیادہ اور ادبی کم تھا پھر بھی ان کے یہاں پرانے رسائل وجرائد رہتے تھے، جن کا مطالعہ انھوں نے بڑی گہرائی سے شروع کردیا تھا۔ انتظارحسین کو اردو پڑھنے کا شوق کیسے ہوا اور اردوان کے مطالعہ میں کیسے آئی۔ اس ضمن میں خود رقم طراز ہیں: 

’’ہماری ایک ماموں زاد بہن تھیں، جن کے نام دلی کا رسالہ ’عصمت‘ بڑی باقاعدگی سے آتا تھا۔ اس رسالہ میں تھوڑی تاک جھانک میں بھی کرتا تھا۔ مصور غم کی آنسوؤں میں ڈوبی تحریریں شغف سے پڑھتااور ان کی تصویر کو بڑے احترام سے دیکھتا اور سوچتا کہ ارے یہ تو بالکل ہمارے دادا کی طرح ہیں اور دادا آتے تو انھیں دیکھ کر حیران ہوتا کہ ارے یہ تو بنے بنائے مصورغم راشدالخیری ہیں۔ ویسے ان کی طبیعت میں بھی تھوڑی غم کی چاشنی تو تھی۔‘‘۹؎ 

انتظارحسین کی اس ماموں زاد بہن کو چھوٹے بچے بی بی آپا کہتے تھے۔ ان کے نام سے ماہنامہ ’عصمت‘ آتا تھا اور اس کے جلو میں علامہ راشدالخیری کے نا ول بھی آنا شروع ہوگئے تھے۔ اس لیے انتظارحسین نے صبح زندگی، شام زندگی، شب زندگی، نانی عشو کی کہانی، عصمتی دسترخوان، وغیرہ جیسی کتابیں پڑھ لی تھیں۔ آصف فرخی لکھتے ہیں: 

’’انتظارحسین نے ایک ملاقات میں خاندان کے بزرگوں کا تذکرہ کیا اوربتایا کہ یہ ان کے ماموں ڈبائی آتے رہتے تھے۔ ان کی بڑی بیٹی کے پاس ڈاک سے رسالہ عصمت آیا کرتا تھا اور ان کے پاس راشدالخیری کی کتابیں موجود تھیں۔ یہ کتابیں ان سے لے کر پڑھنا شروع کیں۔ میرامطالعہ شروع ہوا راشدالخیری سے انھوں نے ہنستے ہوئے مجھے بتایا، وہیں انھوں نے راشدالخیری کی تصویر دیکھی اور وہ ان کو ’’خاندان کے بزرگ معلوم ہوئے‘‘ ’’عصمت‘‘ کا کسی گھر میں آنا کس نوعیت کا واقع ہوتا تھا، اس کا اندازہ افسانے ’’احسان منزل‘‘ سے کیاجاسکتا ہے۔ 

یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب علامہ راشدالخیری ابھی زندہ تھے اور رسالہ ’’عصمت‘‘ ہر مہینے باقاعدگی سے احسان منزل میں پہنچتا تھا۔ ’’عصمت‘‘ کی خریداری بھی دراصل احسان منزل کی تاریخ کا بہت اہم واقعہ ہے۔ یہ پرچہ جب پہلی مرتبہ احسان منزل میں پہنچا تو سارے محلے میں ایک شورپڑگیا۔ جس نے سنا دانتوں میں انگلیاں دابیں اور قرب قیامت کی پیشین گوئی کی۔ اس روز مولوی مہربان علی اپنے بیٹے کی منی آرڈر کی امید میں ڈاک خانے گئے تھے۔ ڈاکیے اس وقت ڈاک چھانٹ رہے تھے۔ مولوی صاحب کیا دیکھتے ہیں کہ ایک پیکٹ پہ ماہنامہ ’’عصمت‘‘ دہلی چھپاہواہے، اور اس کے نیچے سرخ روشنائی سے شیخ عرفان الحق کی بیٹی کا پتہ لکھاہوا ہے۔‘‘۱۰؎ 

انتظارحسین نے میرٹھ کالج میں داخل ہونے کے بعد سے اپنے آپ کو اردو زبان وادب کے مطالعہ میں مصروف کرلیا تھا۔ انھوںنے میراجی کی ’ماورا‘ فیض احمدفیض کی ’نقش فریادی‘ اور میراجی کی دیگرنظمیں پڑھنا شروع کردی تھیں۔ انھوں نے رتن ناتھ سرشار کے ’فسانۂ آزاد‘ کو پڑھنے کے بعد غلام عباس اور کرشن چندر کو خوب پڑھا اور پوری طرح سے اپنے آپ کو اردو زبان وادب کے مطالعہ میںمنہمک کرلیا۔ آٹھویں جماعت میں ہاپوڑ کے کمرشیل اینڈ انڈسٹریل ہائی اسکول میں ان کو داخلہ ملا اور یہیں سے ۱۹۴۰ء کے آس پاس میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔ آصف فرخی اس حوالے سے رقم طراز ہیں: 

’’انتظارحسین نے ۱۹۴۲ء میں آرٹس کے مضامین کے ساتھ انٹرمیڈیٹ اور ۱۹۴۴ء میں بی اے کی سند حاصل کی۔ بی اے کرنے کے بعد انھوں نے فوری طور پر آگے بڑھنے کے لیے داخلہ نہیں لیا بلکہ یہ وقت گھر پر گزارا۔ تقریباً ایک سال بعد انھوں نے میرٹھ کالج میں داخلہ لیا۔ شاعر اور نقاد احمد ہمدانی جو بعد میں ریڈیو پاکستان، کراچی میں سینئر پروڈیوسر بھی رہے، بتاتے تھے کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ انتظارحسین ان سے ایک آدھ سال سینئر تھے اور لمبی لمبی نظمیں لکھاکرتے تھے۔ انتظارحسین نے ۱۹۴۶ء میں میرٹھ کالج سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ‘‘ ۱۱؎ 

انتظارحسین دوران طالب علمی میرٹھ کالج کے میگزین ایڈیٹر رہے اور دیگر تقریری مقابلہ میں حصہ لیتے تھے۔ ان کے میرٹھ کے اساتذہ میں پروفیسر جھاجو تقریری مقابلہ کرانے کے انچارج تھے اور پروفیسر مظہری جو کالج میگزین کے نگران تھے ان سے انتظارحسین کے اچھے مراسم تھے۔ میرٹھ کالج میں انتظارحسین کے دوستوں میں سلیم احمد، خلیق احمدنظامی، جمیل جالبی، عاصم سبزواری اورشفیق احمد وغیرہ تھے۔ اساتذہ میں پروفیسر مظہری، پروفیسر شریف، پروفیسر جھا، پروفیسر جیلانی اور پروفیسر کرارحسین تھے۔ 

انتظارحسین نے اپنے اساتذہ میں پروفیسر کرارحسین کا ذکرخصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔ انھوں نے ان سے گہرا اثر بھی قبول کیا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ان کے علاقے کے تھے اور رشتے دار بھی۔ لہٰذا انتظارحسین کے کالج آنے سے پہلے ہی کرارحسین سے کئی بارملاقاتیں ہوچکی تھیں۔ بقول انتظارحسین: 

’’مجھے اگر کسی استاد سے صحیح معنوںمیں قرب حاصل ہوسکا تو وہ بس کرارصاحب تھے۔ ان سے تو قرب ہونا ہی تھا۔ خاندانی قرب جو چلا آتا تھا، بچپن سے دیکھ رہا تھا، اگرچہ دور دور سے دیکھتا تھا اور حیران ہوتا تھا۔ سب سے الگ ہی ادا تھی…قریب سے دیکھنے کا اس وقت موقع ملا جب میرامیرٹھ کالج میں داخلہ ہوا۔ پہلے تو میں بس اپنے داخلہ کے فارم پر ان سے سفارشی دستخط کرانے کے لیے گیا تھا۔ بس پھر تو گھر دیکھ لیا۔ لڑکے نے نام خداکالج میں نیا نیا قدم رکھاہو تو اس اجنبی ماحول میں یہ جان کر اسے کتنی ڈھارس ہوتی ہے یہاں ایک ایسا استاد بھی ہے جس سے وہ بوقت ضرورت بلاتکلف رجوع کرسکتا ہے۔ گھرجاکر ان سے پڑھنے پڑھانے کے معاملہ میں اس سے ہدایات بھی لے سکتا ہے۔‘‘۱۲؎ 

انتظارحسین کے معنوی اساتذہ میں ایک بہت معروف ومشہور نام محمدحسن عسکری کا ہے۔ عسکری صاحب سے انتظارحسین کی پہلی ملاقات میرٹھ میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات کی روداد کو انتظارحسین نے بڑی تفصیل کے ساتھ ’’جستجوکیا ہے‘‘ میں قلم بند کیا ہے۔ تقسیم کے بعد عسکری کے بلانے پرہی جب انتظارحسین پاکستان گئے تھے توعسکری صاحب نے ہی ان کو ملازمت دلوائی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم انتظارحسین کے ابتدائی اور تشکیلی دور کا کوئی بھی مضمون، تنقیدیا تخلیق دیکھتے ہیں تو اس میں محمد حسن عسکری کا اثر بہت گہرائی سے نظر آتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے خلاف جو انتظارحسین کے رویے یا مضامین ہیں یا پھر فسادات سے متعلق افسانوں پر ان کا جو بے لاگ تبصرہ اور نقطۂ نظر ہے، اس کے علاوہ جب ہم پاکستانی ادب کے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں تو اس میں انتظارحسین عسکری صاحب کے شدید مقلد نظر آتے ہیں۔ انتظارحسین جب تک لاہور میں مقیم رہے، عسکری صاحب کے ساتھ کام کرتے رہے۔ تمام واقعات کی تفصیل کو انھوں نے ’’چراغوں کادھواں‘‘ میں بیان کیا ہے۔ عسکری صاحب کے توسل وتوسط سے ہی وہ ناصرکاظمی سے ملے اورپھر ان کے ایک اچھے دوست ہوگئے۔ 

انتظارحسین نے اپنی بی اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کرنی شروع کردی تھی۔ بی اے سال آخر میں آنے کے بعد ہی سے انھوں نے ملازمت تلا ش کرنا شروع کردی تھی۔ ایم اے اردو انھوں نے اس عزم سے کیا تھا کہ اب گھر سے مدد نہیں لینی ہے۔ وہ دفتروں میں کام بھی کرتے تھے اور اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھ رہے تھے۔ انھوں نے بھی ایک دو دفتروں میں تاک جھانک کی اور پھرانھیں ایک راشننگ کے شعبہ میں ملازمت مل گئی۔ بقول انتظارحسین: 

’’مجھے یہ ملازمت اس حساب سے را س آئی کہ خودکرنا دھرنا کچھ نہیں، باہر کی دوڑبھاگ، انکوائری انسپکٹر کریں گے، دفتر کے اندر فائلوں پر لکھاپڑھی کلرک کریں گے۔ تمہاری معاونت ہیڈکلکرک کرے گا۔ دفتر میں ڈیڑھ گھنٹہ گزارو۔ فائلوں پر دستخط کرو۔ کلرکوں، انسپکٹروں سے تھوڑی پوچھ گچھ کرو گھرچلے آؤ۔ شام پڑے توتم بھی دوسرے یاروں کے ساتھ استاد گرامی کرار صاحب کے ڈیرے پر حاضری دو اورسمجھو کہ ایم اے اردو کی کلاس میں بیٹھے ہو۔آخر تم ایف اے، بی اے کی پڑھائی تونہیں کررہے کہ خالی نصاب کو اوڑھنا بچھونا سمجھو۔ تم ایم اے کے طالب علم ہو۔ تمہیں اپنے مضمون کے سوا بھی مضامین کا پتہ ہونا چاہیے۔‘‘۱۳؎ 

انتظارحسین ایک شاعر اورنقادبننا چاہتے تھے اورشاعری کرتے بھی تھے، وہ اقبال اورن۔ م۔ راشد سے کافی متاثر تھے اس لیے انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغازبھی شاعری سے کیا۔ ان کی شاعری کا کوئی مجموعہ دستیاب نہیں ہے۔ آصف فرخی اس ضمن میں لکھتے ہیں: 

’’انتظارحسین نے اپنی ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی۔ ن۔م۔ راشد کی ’ماورا‘ سے گہرااثر قبول کیا اور اس انداز میں آزادنظمیں لکھنے کا آغاز کیا لیکن وہ جلد ہی شاعری سے افسانہ کی طرف آگئے۔ان کی شاعری کاایک نمونہ اتفاق سے محفوظ رہ گیا اور وہ بھی ایک ناول نگار کی توسط سے۔ اپنے زمانے کے مقبول عام بسیار نویس ایم اسلم (جنھوں نے فسادات کے حوالے سے ناول ’رقص ابلیس‘ لکھا اور اس پر محمدحسن عسکری نے دیباچہ قلم بند کیا) اپنے مختلف ناولوں کے ہر باب کے سرآغاز کے طور پر چند اشعار یا نظموں کے ٹکڑے درج کردیاکرتے تھے۔ایسے ہی ایک ناول میں انھوں نے انتظارحسین کی نظم کا اقتباس درج کیا ہے جو کالج کے رسالے سے نقل کیا گیا تھا۔ مصنف کی شاعری کے دوسرے آثاردست برد زمانہ سے محفوظ نہ رہ سکے۔‘‘۱۴؎ 

انتظارحسین نے کچھ آزاد طویل نظمیں لکھیں لیکن جلد ہی وہ شاعری سے افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوگئے۔ انتظارحسین نے اپنی پہلی کتاب تقسیم ہند سے قبل مکمل کرلی تھی اس کا موضوع لسانیات تھا۔ ایم اے کرنے کے دوران پروفیسر کرارحسین جو لکچر دیتے تھے ان سے وہ کافی متاثر ہوئے اورلسانیات میں اپنی دلچسپی پیدا کرلی تھی۔ اس لیے انھوں نے لسانیات سے متعلق ایک مسودہ تیار کیا اور اس کو مولوی عبدالحق کے پاس لے کر گئے توانھوں نے مشورہ دیا کہ اس مسودہ کو ریاض الحسن کو دکھالو۔ ریاض الحسن نے مسودے کو دیکھ کر اس میں کچھ اضافے کرنے کی تلقین کی۔ مگر انتظارحسین کی یہ کتاب بھی زیورطباعت سے آراستہ نہ ہوسکی۔آصف فرخی اس حوالے سے رقم طراز ہیں: 

’’ایک گفتگو کے دوران انتظارحسین نے مجھے بتایا کہ ایم اے کی تکمیل کے دوران ایک مضمون لسانیات کا بھی تھا اور کرارحسین کے لکچرز سے متاثرہوکر ان کو اس مضمون میں خاص طو رپر دلچسپی پیدا ہوگئی۔ لیکچرز کے دوران جن کتابوں کے حوالے آئے، ان میں سے کئی کتابیں میں نے پڑھ ڈالیں۔ خاص طور پر میکس مولر کی کتابیں۔ اس مطالعہ کے دوران خیال آیا کہ اس بارے میں اردو میں کچھ نہیں لکھاگیا۔ چناں چہ انھوں نے لسانیات کے بارے میں ایک تعارفی کتاب تحریر کردی۔ کتاب مکمل کرنے کے بعد وہ اس کے مسودے کے ساتھ دہلی میں باباے اردو مولوی عبدالحق کے پاس گئے، جن سے ان کی وطنی نسبت بھی تھی اور اسی حوالے سے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ مولوی عبدالحق نے یہ مسودہ ڈاکٹر ریاض الحسن کو دکھاکر ان سے مشورے کرنے کے لیے کہا۔ ڈاکٹر ریاض الحسن نے مسودہ دیکھ کر اس میں اضافے کی رائے دی اور یہ کہا کہ اضافے و ترمیم کے بعد اس کی اشاعت کی نوبت آسکتی ہے۔‘‘ ۱۵؎ 

انتظارحسین کی کتاب تومنظرعام پرنہیں آسکی مگر اس کتاب میں شامل مواد میں سے انھوں  نے دومضامین لکھے جس کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رسالے’جامعہ‘ دہلی نے بعنوان ’قواعد کی ابتدا، جامعہ۴۱/۷، اپریل ۱۹۴۶ء میں شائع کیا، اس کے علاوہ دوسرا ’تقابلی لسانیات کا نیا طریقہ کار‘ جامعہ ۴۲/۲؍اگست ۱۹۴۶ء میں شائع کیا۔ انتظارحسین نے اس مواد کو اپنے کسی رجسٹر میں محفوظ کیا تھا مگر وہ اب محفوظ بھی ہے یا نہیں اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ انتظارحسین کو اس سے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ انھوں نے مضمون نگاری کا آغاز چھوٹے چھوٹے مضامین سے کیا اور ان کے مضامین مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہے ان پر بھی کوئی حوالہ یا دستاویزی کتاب موجود نہیں ہے۔ انتظارحسین کے دیگرمضامین جن کو انھوں نے اپنی زندگی کے زمانہ عروج میں رقم کیا ہے وہ تو ’’ علامتوں کا زوال‘‘ میں محفوظ ہیں۔ ابتدائی طور پر انتظارحسین نے پروفیسر کرارحسین کے ہفت روزہ اخبار ’الامین‘ میں خامہ فرسائی کرنی شروع کردی تھی۔ انھوں نے کرشن چندر کے چھوٹے بھائی مہندرناتھ کے افسانوی مجموعہ ’’چاندی کے تار‘‘ پر اپنا پہلا تنقیدی مضمون لکھا، جو ہفتہ وار پرچہ ’’نظام‘‘ میں شائع ہوا۔ یہیں سے انتظارحسین کو پڑھنے لکھنے کا شغف پیداہوا۔ نظام جو ترقی پسندوں کابڑا اہم رسالہ تھا، اس میں انتظارحسین مستقل لکھتے تھے۔ انتظارحسین جو آج اردو فکشن کے ایک لیجنڈ ہیں، وہ ابتدائی طو رپرایک نقادبننا چاہتے تھے اور افسانے کامیدان اپنے دوست ریوتی سرن شرما کے لیے چھوڑرکھاتھا۔ بقول انتظارحسین: 

’’صاحب بات یہ ہے کہ جب میں کالج کی زندگی گزارہا تھا تو میرے یہاں ایک خواہش، ادیب بننے کی ضرور تھی اور میں اس اعتبار سے مطالعہ بھی کررہا تھا لیکن اس میں یعنی افسانہ نگار بننے کا یعنی میرے ذہن میں کوئی خیال نہیں تھا اورمیں یہاں آپ کو زندگی کا ایک اورواقعہ سناؤں کہ میرا ایک بہت بچپن کا دوست تھا۔ بچپن سے میری مراد یہ ہے کہ ہاپوڑ میں میری دوستی اس سے قائم ہوئی۔اسکول سے اوروہ جب تک میںنے ہجرت کی اس وقت تک قائم رہی۔اس کانام ریوتی سرن شرما ہے۔ تو اس کے یہاں افسانہ نگار بننے کی خواہش شدید تھی۔ اورمیںنے گویا یہ طے کرلیا تھا کہ افسانہ نگار تو اسے بننا ہے اورمیں اگر کچھ بنوں گا تو نقاد بنوں گا۔‘‘۱۶؎ 

۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان سے لوگ جوق در جوق پاکستان روانہ ہونے لگے تو شہر کا شہرخالی ہوگیا، جس سے ہاپوڑ ، میرٹھ او ردیگر علاقے بھی متاثر ہوئے، یہ الگ بات  ہے کہ دیہات اور گاؤں میں اس کا اثر ذرا دیر سے ہوا۔ دھیرے دھیرے دیہاتوں اور گلی کوچوں اور چوک چوراہوں پر سناٹے چھانے لگے۔ اور گھروں میں تالے پڑنے لگے۔ گاؤں کے گاؤں میں ایک ہو کا عالم ہوگیا۔ تقسیم ہند کے بعد ہجرت سے انتظارحسین کو بھی دوچار ہونا پڑا جس کرب کو وہ پوری زندگی نہیں فراموش کرپائے۔ ہجرت کے اس کرب کو انتظارحسین نے ’’جستجو کیا ہے‘‘ میں تفصیل کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ 

’’ادھرپاکستان جانے کا سان نہ گمان مگر عسکری صاحب کا پیغام جیسے کسی نے خاموش حوض میں اینٹ پھینک دی ، دبدا میں پڑگیا پھر سوچاکہ نقد دم تو نہیں ہوں، کوئی آگا پیچھا بھی تو ہے۔ گھر جاؤں سوال ڈالوں دیکھوں کیا جواب آتا ہے۔ سو ہاپوڑ کی راہ لی…… گھر واپس آیا تو دیکھا کہ سلیم احمد نے بھی اپنے خاندان کے ساتھ رخت سفر باندھ رکھا ہے۔اس کی امتمیں جو نوخیز شامل ہوئے تھے، ادھرعسکری صاحب کے اہل خاندان بھی کوچ کے لیے مستعد ہوبیٹھے تھے۔ مجھ سے پوچھا جارہا تھا کہ چل رہے ہو یا نہیں اور میں حق دق کہ کیا کہیں کوچ کا نقارہ بجا ہے کہ سب چھوٹے بڑے عازم سفر ہیں۔ اس چل چلاؤ میں بس میں بھی چل کھڑا ہوا۔‘‘۱۷؎ 

انتظارحسین نے ۱۹۴۷ء کی اس ہجرت اور اس کے دردوسوز اور پرآشوب ماحول، زندگی اورمعاشرے کی تیزی سے بدلتے ہوئے رویے کو انھوں نے بہت قریب سے دیکھا اوراس کا بہترین تجزیہ کیا۔ میرٹھ سے لاہور لانے والے محرک محمدحسن عسکری ہیں۔ انھوں نے لاہور آکر ریڈیو پاکستان سے پیغام بھیجا تھا اور ان کو لاہور آنے کی دعوت دی تھی۔ محمدحسن عسکری کی اسی دعوت پر انتظارحسین ایک نئے وطن اور زندگی کی ایک نئی روش پر چل کر پاکستان آگئے۔ انتظارحسین کے لیے یہ ہجرت کتنی دردناک اورکتنی اضطراری ہے، اس کے نتیجے کتنے دور رس ہوں گے اس کا انتظارحسین کو بھی گمان نہیں تھا۔ انتظارحسین کے ایک رفیق سفر سلیم احمدبھی تھے جس کا ذکر انھوں نے اپنی طویل نظم مشرق میں بڑی وضاحت کے ساتھ کیا ہے۔ ۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو انتظارحسین پاکستان لاہور میں پہنچتے ہیں اوریہیں پر تاحیات اپنا مسکن بنالیتے ہیں اس کے بعد انتظارحسین لاہور اور لاہور انتظارحسین کی پہچان بن جاتا ہے۔ ہجرت کو انتظارحسین ایک ادبی تجربے کی حیثیت سے اپناتے ہیں۔ اور یہ ہجرت ہی ہے جو ان کی زندگی کے آخری وقت تک ایک محرک بن کر ان سے ہجرت کے توسل سے مختلف الجہات کہانیاں لکھواتی رہی ہے۔ ۱۹۴۷ء میں لوگ اپنے گھروں، اپنے آبا واجداد کی قبرستانوں کوچھوڑ کر پاکستان جارہے تھے،اس وقت محلے اورعلاقے میں ایک عجیب دہشتکی فضا تھی۔ اس پورے ماحول کو دیکھ کر انتظارحسین نے قلم اٹھایا، جس کی تفصیل وہ خودبتاتے ہیں۔ 

’’اردگرد یہ فضادیکھ کر ایک روز میںنے قلم سنبھالا لکھنے بیٹھ گیا، جب لکھ چکا تو میں نے اپنی تحریر کو اک اک کراپنی تحریر کو پڑھا۔ ارے یہ تومیں نے افسانہ لکھا ہے۔ جب مجھے احساس ہوا کہ میں ادب میں کہاں کہاں منہ مارر ہا ہوں۔ میں اگرکچھ لکھ سکتا ہوں تو وہ افسانہ ہے۔‘‘۱۸؎ 

انتظارحسین نے اپنا پہلا افسانہ ۱۹۴۷ء میں میرٹھ اپنے آبائی وطن میں بیٹھ کر تحریر کیا۔ اس ابتدائی افسانے کا نام ’’قیوما کی دکان‘‘ ہے۔ جوادب لطیف لاہور کے دسمبر۱۹۴۸ء کے شمارے میں شائع ہوا۔یہیں سے ان کی ادبی زندگی کا آغاز پوری طرح سے ہوجاتا ہے۔ انتظارحسین پاکستان ہجرت کرتے وقت کوئی خاص سازوسامان نہیں لے جاسکے تھے، سوائے ایک صندوق اوربستر کے اور ٹرین میں وہ بھی چھوٹ ہی جاتا ہے۔ پاکستان آنے کے بعد انتظارحسین محمد حسن عسکری کے مہمان ہوئے اور یہیں بسیرا کرلیا۔ ملازمت کے لیے محمدحسن عسکری نے انتظارحسین کے آنے سے قبل ہی آفتاب صاحب کو خبرکردی تھی کہ انتظارحسین کے لیے ملازمت کا کوئی بندوبست کرنا ہے۔ ملازمت کے سلسلے میں انھوں نے اپنا پہلا انٹرویوفیض احمدفیض کو دیا، فیض احمد اس وقت ’امروز‘ کے چیف ایڈیٹر تھے ۔اس میں انتظارحسین کوملازمت نہیں ملی۔ اس کے فوراً بعد ان کو ایک ہفت روزہ اخبار میں ملازمت مل گئی۔ پاکستان میں قیام کے بعد انھو ںنے پہلی ملازمت ہفت روزہ ’’نظام‘‘ میں بحیثیت مدیر کے شروع کی، اس کے بعد ان کا ذریعہ معاش ہمیشہ کے لیے صحافت ہی رہا۔ 

لاہور میں قیام کرنے کے بعد انتظارحسین نے لاہو رکو میرٹھ سے بڑھ کر اپنے ادبی مشغلے کا حصہ بنالیا۔ اپنے احباب کے حلقے کے بارے میں انھوں نے بڑی تفصیل سے ’’چراغوں کا دھواں‘‘ میں بیان کیا ہے۔ اس کے لکھنے کے بعد وہ پاکستان کے بڑے وقائع نگار بن گئے اوریہاں کے بدلتے ادبی رویے اوردوستوں ادیبوں کے جم گھٹے کا ایک حسین گلدستہ اور ایک بہترین ادبی نگارخانہ تیار کردیا۔ پاکستان میں حلقہ ارباب ذوق میں شامل ہونے کے بعد بطور اسسٹنٹ سکریٹری کے کام بھی کیا۔ اس طرح انھو ںنے وہاں کے نقادوں اور تخلیق کاروں کے درمیان اپنی شخصیت کو نکھارا اور اپنی ادبی صلاحیت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ وہاں ان کو ادیبوں کی ایسی جماعت مل گئی جو اس عہد کے ادبی رجحان اور رویوں پر کھل کربحث ومباحثہ کرتے تھے۔ اس طرح سے انتظارحسین وہاں کے مشہور ادباو نقاد کی ادبی جماعت سے منسلک ہوگئے اور ادبی رجحان سے پوری طرح آشنا ہوگئے۔ انتظارحسین کے سینئر احباب میں قیوم نظر، سراج صاحب، شہرت بخاری، انجم رومانی ، اعجاز بٹالوی، یوسف ظفر، مختا رصدیقی، ضیاجالندھری، امجد الطاف، شیرمحمد اختر وغیرہ تھے۔ پھر اس کے بعد ان کے ہم عصروں کی ایک کھیپ نکل کر سامنے آئی، جن میں ناصرکاظمی، مظفرعلی سید، احمدمشتاق، غالب احمد، شاہدحمید، حنیف رامے، صلاح الدین ، شاکر علی، سعیدمحمود، ظفرہمدانی،سجادباقر رضوی وغیرہ تھے۔ اس طرح انھوں نے پاکستان میں اپنا ایک ادبی حلقہ بنالیا۔ انتظارحسین نے سہیل احمد سے گفتگو میں اس کی تفصیل پیش کی ہے، اس کی تفصیل ملاحظہ ہو: 

’’اسی زمانے میںناصر سے ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات اتنی بڑھی کہ رفتہ رفتہ یہ احساس ہوا کہ اس ملک میں میرا اصل ہم سفر ناصرکاظمی ہے۔اسی زمانے میں ناصر کے توسط سے بعض اور لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ حنیف رامے سے ملاقات ہوئی۔ شیخ صلاح الدین سے ملاقات ہوئی۔ شاکر علی سے ملے، مظفرعلی سیدسے، احمد مشتاق سے اورپھر ہم نے رفتہ رفتہ یہ محسوس کیا ہم پوری ایک ایک نسل ہیں۔ گویا اس ملک میں ایک تخلیقی جزیرہ نمودار ہوگیا اورہم نے یہ محسوس کیا کہ اب جو تخلیقی روشنی پورے ملک میں پھیلے گی وہ اس جزیرے سے پھیلے گی۔ اس احساس کے ساتھ ہمارے ہاں پچھلی نسلوں سے بغاوت اورانحراف کے اعلان کا جوش بھی پیدا ہوا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میںپہلا اعلان بغاوت تھا جو ہم نے بلند کیا کیونکہ اس وقت تک یہ صورت تھی کہ ۳۶ء کی نسل کے خلاف لوگوں کو دم مارنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ لیکن ہم نے پاک ٹی ہاؤس اورکافی ہاؤس کے گم نام گوشوں سے اللہ کا نام لے کر اعلان بغاوت کیا۔ جو ہماری نئی نسل تھی اس میںمصور بھی تھے اورلکھنے والے بھی۔بعد میں کچھ اختلافات بھی پیدا ہوئے،رفتہ رفتہ چار پانچ آدمی بالکل الگ نظر آنے لگے جن کا ابھی آپ نے ذکر کیا ہے حنیف رامے، ناصر،شیخ صلاح الدینہیں، احمد مشتاق، غالب احمد(جو بعد میںاپنی ملازمت وغیرہ کے چکر میںپڑگئے) تو یہ ایک جزیرے کے اندر ایک چھوٹا سا جزیرہ نمودار ہوا۔‘‘۱۹؎ 

انتظارحسین کی شادی ۲۳؍مارچ ۱۹۶۶ء کو عالیہ بیگم سے لاہور میں ہوئی۔ شادی کے لیے لڑکی کا انتخاب ان کی والدہ اور بڑی بہن حسنین فاطمہ نے کیا تھا۔ ’’عالیہ بیگم کے والد آغاحسن علی ولد آغا لطافت علی تھے اور والدہ کا نام کریم النساء بیگم بنت نواب محمد علی تھا۔ ان کے بھائی آغا غلام رضا آئی سی ایس آفیسر تھے، اور اے جی رضا کے نام سے معروف تھے اور ان کی ملازمت کی وجہ سے یہ خاندان تقسیم سے پہلے ہی لاہور آکر بس گیا تھا۔ عالیہ بیگم کے سن پیدائش کا علم نہ ہوسکا مگر ان کی بھانجی بیگم نیلوفر ریاض بٹالوی کے انداز کے مطابق وہ ۱۹۳۰ء -۱۹۳۵ کے درمیان پیداہوئی ہوں گی۔‘‘۲۰؎ 

انظارحسین کا آنگن ہمیشہ بچوں کی کلکاریوں سے محروم رہا یعنی ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ عالیہ بیگم ایک گھریلو خاتون تھیں۔ انھوں نے انتظارحسین کے کالم شادی سے پہلے پڑھ لئے تھے۔ وہ انتظارحسین کی ادبی زندگی کو کامیاب وکامران بنانے میں بہت دلچسپی لیتی تھیں، جس کا ذکرانتظارحسین نے اپنے کالموں میں بارہا کیا ہے۔ عالیہ بیگم کا مختصرعلالت کے بعد ۲۰۰۵ء میں انتقال ہوگیا اور ان کی تجہیز وتکفین لاہو رمیں ہوئی۔ 

صحافت اور کالم نگاری 

(۱)پاکستان میں آنے کے بعد پہلی ملازمت ہفت روزہ ’’نظام‘‘ میں مدیر کے طور پر کام کیا۔ 

(۲)روزنامہ ’’امروز‘‘ لاہو ربحیثیت سب ایڈیٹر ۱۹۴۹ء تا ۱۹۵۳ء 

(۳)روزنامہ ’’آفاق‘‘، لاہور بحیثیت سب ایڈیٹر اورکالم نگار ۱۹۵۵ء تا ۱۹۵۷ء 

(۴)روزنامہ ’’مشرق‘‘ لاہور بحیثیت کالم نگار ۱۹۶۳ء تا ۱۹۸۸ء 

(۵)ماہنامہ ’’خیال‘‘ میں شریک ایڈیٹر کے کام کیا۔ 

(۶)’’نوائے وقت‘‘ میں بحیثیت کالم نگار کام کیا۔ 

(۷)’’ادب لطیف‘‘ مدیر کے طورپر کام کیا۔ 

انتظارحسین کی طویل وابستگی روزنامہ ’’مشرق‘‘ سے رہی، جہاں وہ شہر کے حوالے سے مستقل کالم اور ادبی فیچر لکھتے رہے۔ انتظارحسین مشرق میں ’’ملاقاتیں‘‘ کے عنوان سے نامور شخصیات کے انٹرویوز اور ادبی فیچر اپنے مخصوص انداز میں لکھتے تھے۔ انتظارحسین نے روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں ’’لاہورنامہ‘‘ کے عنوان سے بھی مستقل کالم لکھے ہیں۔ انھوں نے اپنے ادبی اور صحافتی وژن سے ’’آفاق‘‘ کے وقار کو بلند توکیا ہی ساتھ ہی ساتھ اس کے لیے جو کالم لکھتے تھے بعنوان ’’حوادث و افکار‘‘ اس سے ان کو بھی کافی شہرت ملی۔’’آفاق‘‘ کے ایڈیٹر مولانا غلام رسول  مہر اور مینیجنگ ایڈیٹر میرنور صاحب تھے، اس طرح سے انھوں نے صحافتی دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کرلی تھی۔ بقول انتظارحسین: 

’’اس سے پہلے میں ایک ہفتہ وار ادبی کالم ’’محفلیں‘‘ کے عنوان سے انہیں ’’آفاق‘‘ کے صفحوں پر ضرور لکھتا رہا تھا۔ یہ کالم ’’خنداں‘‘ کے قلمی نام سے لکھاجاتا تھا۔‘‘ ۲۱؎ 

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتظارحسین نے متعدد روزناموں میں کالم لکھے۔ ان کے کالموں کا انتخاب کتابی شکل میں ’’ذرے‘‘ ۱۹۷۶ء میں ڈاکٹرسہیل احمد کے دیباچے کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ دوسرا انتخاب کالم ’’ملاقاتیں‘‘ کے عنوان سے نیازاحمد نے ۲۰۰۱ء میں شائع کیا ہے۔ تیسرا انتخاب ’’بوندبوند‘‘ ۲۰۰۴ء میں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ان کا آخری انتخاب ’’قطرے میں دریا‘‘، ۲۰۱۰ء میں سنگ میل پبلی کیشنزلاہور سے شائع ہوا ہے۔ ۱۹۸۸ء سے روزنامہ مشرق سے ریٹائر ہونے کے بعد یہ ایک آزاد صحافی اور کالم نگار کے طور پر مستقل کالم لکھتے رہے۔ آصف فرخی اس ضمن میں رقم طراز ہیں: 

’’روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ میں ان کا پہلا کالم ۲۴؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو شائع ہوا۔ ’’ڈان‘‘ کے انگریزی کالم انھوںنے خود ہی روک دیا تھا، لیکن روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ کے لیے برابرلکھتے رہے۔ ان کا آخری کالم ’’عربی زبان کے شناور خورشید رضوی‘‘ تھا جو انھوںنے اپنے معمول کے مطابق ہفتے کے دن لکھ کر ایکسپریس کے دفتربھجوادیا تھا۔ یہ کالم ۲۵؍جنوری ۲۰۱۶ء کو پیر کے دن شائع ہوا جب وہ بیمار ہوکر اسپتال جانے کے لیے تیار تھے۔ مگر لکھنے سے اپنا کمٹ منٹ پوراکرکے رخصت ہوئے۔ ان کی تحریرمیں اس کالم کے ایک حصے کا عکس روزنامہ ایکسپریس میں ۳؍فروری ۲۰۱۶ء کی تعزیتی اشاعت میں شائع ہوا۔ کالم ان کے مخصوص اور مربوط اسلوب میں ہے۔ اس میں موت کی دستک کہیں سنائی نہیں دیتی۔‘‘۲۲؎ 

انتظارحسین نے ایک طویل عمر پائی۔ عمر کے آخری وقت میں جب وہ ۹۱ سال کے ہوچکے تو نمونیہ کی شکایت ہونے کے سبب لاہور کے نیشنل ہاسپٹل میں زیرعلاج رہے لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا۔ چند روززیرعلاج رہنے کے بعد ۲؍فروری ۲۰۱۶ء بروز پیردوپہر کے دوبج کر ۴۵منٹ پر خالق حقیقی سے جاملے۔ ۳؍فروری ۲۰۱۶ء کو قومی مرکز خواجگان شادمان ٹاؤن لاہور میں نماز جنازہ اداکی گئی اورانھیں فردوسیہ قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ 

انگریزی کالم نگاری: 

انتظارحسین نے اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی خوب کالم لکھے ہیں۔ انھوں نے سب سے پہلے انگریزی کالم نویسی کا آغاز ۱۹۶۲ء میں لاہور کے مشہور روزنامہ “Civil and Military Gazzette” میں ’دیوجانس ‘(Diogenes) کے نام سے کیا۔ روزنامہ ’’مشرق‘‘ سے علیحدہ ہونے کے بعد وہ لاہور کے روزنامہ Frontier Post میں ۱۹۸۹ء سے فروری ۱۹۹۴ء تک ہفتہ وار کالم لکھتے رہے۔ اس روزنامے میں وہ کالم Point Caunter Point کے نام سے ہوتا تھا۔ ۱۹۹۴ء سے وہ کراچی کے مشہور روزنامہ “Dawn” کی ہفتہ وا راشاعت کے لیے Point of view کے عنوان سے متواتر کالم لکھتے رہے۔ یہ سلسلہ Literary notes کے نام سے جاری رہا۔ اس عنوان کے تحت وہ موجودہ ادبی مسائل نئی کتابیں اور اہم شخصیات کے حوالے سے گفتگو کرتے تھے۔ اس کالم میں انتظارحسین ادب کے عصری مسائل، نئی کتابوں پر تبصرے اس طرح کرتے تھے کہ جس سے کتاب او رمصنف دونوں کی شہرت میں چارچاند لگ جاتے تھے۔ ان کا کالم ڈان کے ہفتہ وار میگزین میں اندرونی ورق پر شائع ہوتا رہا اور اس کے بعد ہفتہ وار خصوصی ضمیمے ’’بکس اینڈ آتھرز‘‘ کے صفحات پر منتقل ہوگیا۔ ان کیا یہکالم ۴؍اکتوبر۲۰۱۵ء تک جاری رہا مگر کسی اعلان کے بغیر اچانک ختم ہوگیا۔ان کا آخری انگریزی کالم کشورناہید کی یادوں کے مجموعے پر تھا۔ بقول آصف فرخی: 

’’ان کا آخری کالم جس کا نام A Galaxy of Charming Souls تھا۔ کشورناہید کی یادوں کے مجموعے ’’مٹھی بھریادیں‘‘ کے بارے میں تھا۔ اس کا اختتام کہانی جاری رہنے کی توقع پر ہوا ہے۔ 

  But I dont think that this is the end of the strong so many of us are in a queue waiting for their number be counted.” 

واقعی، کہانی کا انجام یوں تو نہ ہونا تھا۔ اس وقت کسے خبر تھی کہ ان الفاظ کا لکھنے والا مصنف بھی اسی قطار میں کھڑاہوا ہے جو فنا کی منزل کی طرف گامزن ہے۔‘‘ ۲۳؎ 

انتظارحسین اردو کے ان معتبر افسانہ نگاروں میں سے ہیں جنھوں نے تقسیم ہند کے بعد لکھنا شروع کیا اورہر اعتبار سے اپنی انفرادیت قائم کی۔ انھوںنے ہجرت سے قبل ہندوستان کے قدیم جاگیردارانہ نظام کی باقیات او رتہذیب و روایت سے خود کو وابستہ رکھا، اس کے علاوہ ہجرت کے درد اور تقسیمِ ہند کے اس المیے نے ا ن کو اپنی گرفت میں لے لیا جس کی وجہ سے ہجرت ان کے لیے ایک بڑا تجربہ بن گیا جو کسی طرح سے بھی ان کے حافظے سے محو نہیں ہوسکا۔ چنانچہ ہجرت کے اس تجربے کی شدت نے ہجرت کے سانحے کو ان کے فکروفن کی اساس بنادیا ہے۔ جس کے نقوش ان کے افسانوں میں بڑے گہرے اور ہمہ گیر ہیں۔ انتظارحسین کبھی مغربی فکشن کی روایت سے متاثر نہیں ہوئے اورنہ انھوں نے کبھی اپنے آپ کو مغرب تک محدود رکھا بلکہ قدیم عربی داستانوں، حکایتوں اور عجمی روایتوں اور فکشن کے جو تجربات ہیں چھوٹے بڑے ان سے بھرپور استفادہ کیا اور ادھر قدیم ہندوستان کی کتھاکہانیوں کی روایت کتھاسرت ساگر، مہابھارت، بودھ جاتک کتھاؤں سے بھی کسب فیض کیا۔ انتظارحسین نے اپنے آپ کو ہندوستان کی قدیم تہذیبی روایت سے منسلک رکھا کیوں کہ ہمارا ہندوستان اپنے پیچھے ایک قدیم ہندوستان اور ایک شاندار ماضی کی تاریخ رکھتا ہے۔ انتظارحسین نے ابتدا میں رومانی کہانیاں لکھیں پھر اس کے بعد مذہبی استعاراتی کہانیاں لکھیں کیوں کہ ان کا خاندان بہت مذہبی تھا جس سے متاثر ہونا لازمی تھا۔ پھر اس کے بعد ہندوستان کی ہندودیومالائی کہانیوں کی طرف مائل ہوئے جو اردو کے شاہکار افسانے ہیں۔ انتظارحسین کے گھر کی دیواریں ہندوہمسایوں سے ملی ہوئی تھیں۔ مسجدومندر کے درمیان ان کا گھرتھا اس لیے انھوں نے قدیم ہندوستانی اساطیر، عرب وعجم کی داستان گوئی، جدید مغربی روایت کی عقلیت پسندی،حقیقت نگاری اور استعارے کے بہترین استعمال سے عرب وعجم اور مغربی اور ہندوستان کے اساطیری کہانیوں کی روح کو اپنے منفرد اسلوب میں برتا جو اپنی مثال آپ ہے۔ 

انتظارحسین کے نو افسانوی مجموعے اور پانچ ناول شائع ہوچکے ہیں۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے: 

(۱)گلی کوچے (بارہ افسانے) شاہین پبلشرز لاہور۱۹۵۲ء 

(۲)کنکری (پندرہ افسانے ) مکتبہ جدید لاہور۱۹۵۵ء 

(۳)آخری آدمی (گیارہ افسانے) کتابیات، لاہور۱۹۶۷ء 

(۴)شہرافسوس (اٹھارہ افسانے) مکتبہ کارواں، لاہور۱۹۷۲ء 

(۵)کچھوے (سترہ افسانے) مطبوعات ، لاہور۱۹۸۱ء 

(۶) خیمے سے دور (سترہ افسانے) سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور۱۹۸۶ء 

(۷)خالی پنجرہ (سترہ افسانے) سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور۱۹۹۳ء 

(۸)شہرزاد کے نام (سولہ افسانے)سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور۲۰۰۲ء 

(۹)نئی پرانی کہانیاں (انتالیس افسانے) سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور۲۰۰۶ء 

٭ 

حواشی: 

(۱) ڈاکٹر آصف فرخی ’چراغ شب‘ افسانہ انتظارحسین کا جہاں فن، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ص:۱۴، ۲۰۱۶ء 

(۲) ایضاً،ص:۱۶ 

(۳) انتظارحسین ’جستجوکیا ہے‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۲۰۱۲ء،ص:۵۸-۵۹ 

(۴) انتظارحسین ’جستجوکیا ہے‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۲۰۱۲ء،ص:۲۱-۲۲ 

(۵) ایضاً،ص:۲۱-۲۲ 

(۶) آصف فرخی، چراغ شب افسانہ انتظارحسین کا جہان فن، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۱۶ء،ص:۱۷-۱۸ 

(۷) آصف فرخی، چراغ شب افسانہ انتظارحسین کا جہان فن، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۱۶ء 

(۸) انتظارحسین/ محمدعمرمیمن (ایک بات چیت مشمولہ انتظارحسین: ایک دبستان) مرتب ڈاکٹر ارتضیٰ کریم،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۱۹۹۹ء، ص:۴۸ 

(۹) انتظارحسین ’جستجوکیا ہے‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۲۰۱۲ء،ص:۲۱-۲۲ 

(۱۰) آصف فرخی، چراغ شب افسانہ انتظارحسین کا جہان فن، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۱۶ء،ص:۱۸ 

(۱۱) آصف فرخی، چراغ شب افسانہ انتظارحسین کا جہان فن، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۱۶ء 

(۱۲) انتظارحسین ’جستجوکیا ہے‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۲۰۱۲ء،ص:۲۱-۲۲ 

(۱۳) ایضاً،ص:۷۳ (۱۴) چراغ شب، ص:۲۶-۲۷ 

(۱۵) آصف فرخی، چراغ شب افسانہ انتظارحسین کا جہان فن، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۱۶ء، ص:۲۲-۲۳ 

(۱۶) انتظارحسین/ محمدعمرمیمن (ایک بات چیت مشمولہ انتظارحسین: ایک دبستان) مرتب ڈاکٹر ارتضیٰ کریم،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۱۹۹۹ء، ص:۵۱ 

(۱۷) جستجو کیا ہے،ص:۸۸ (۱۸) جستجو کیا ہے،ص:۸۷ 

(۱۹) انتظارحسین/سہیل احمد (ایک بات چیت مشمولہ انتظارحسین: ایک دبستان) مرتب ڈاکٹر ارتضیٰ کریم،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۱۹۹۹ء، ص:۱۰۴ 

(۲۰) چراغ شب افسانہ، انتظارحسین کا جہان افسانہ، آصف فرخی،ص:۳۸، ۲۰۱۶ء، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور 

(۲۱) انتظارحسین ’جستجوکیا ہے‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۲۰۱۲ء،ص:۱۲۵ 

(۲۲) آصف فرخی، چراغ شب افسانہ انتظارحسین کا جہان فن، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۱۶ء، ص:۲۹ 

(۲۳)آصف فرخی، چراغ شب افسانہ انتظارحسین کا جہان فن، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۱۶ء، ص:۳۰ 

**** 

عزیر احمد کی اہم کتاب 

اقبال تنقید 

جس کو  

ایم آر پبلی کیشنز نئی دہلی نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے۔  

اس کتاب میں اقبال کے اہم ناقدین کی تنقیدی آرا کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اقبالیاتی ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیےخوب صورت تحفہ 

صفحات: 352 قیمت مجلد: 300 

رابطہ: 9810784549 

 

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.