قیدی کا کمبل۔۔۔۔اور۔۔۔۔احمد فرازؔ

انصاری شاہین عبدالحکیم

الاتحاد جونیئر کالج آف آرٹس ، سائنس اینڈ کامرس (برائے طالبات)،

بہرام باغ، جوگیشوری (مغرب)،

ممبئی،۱۰۲ ۴۰۰۔

 Qaidi ka Kambal aur Ahmad Faraz by Ansari Abdul Hakim

’’قیدی کا کمبل ‘‘اس عنوان سے ذہن کے کسی گوشے میں یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی افسانہ ہوسکتا ہے یا کوئی کہانی ہوسکتی ہے، گوکہ یہ عنوان ایک شعر سے ماخوذ ہے جواردو ادب کے ایک اہم اور معروف شاعر احمد فرازؔکا پہلا شعر ہے۔

سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے

لائے ہیں میرے لیے قیدی کا کمبل جیل سے

 اس شعر میں ایک بچے کی اپنے والدین سے شکایت ہے ،وہ بچہ کہتا ہے کہ’’آپ نے سب کہ لیے عمدہ دُکان سے کپڑے لائے ہیں اورمیرے لیے ایسے کپڑے لائے ہیں جیسے یہ کسی قیدی کا کمبل ہے جواسے اوڑھنے کے لیے جیلر دیتا ہے۔‘‘ اکثر بچے ایسی شکایتیں اپنے والدین سے کرتے ہی ہیں ۔مگر کچھ خاص اپنی شکایت اشعار میں ڈھال کر کرتے ہیں تو یہی بچے مستقبل میں کسی اعلا مقام پر پہنچنے والے ہوتے ہیں۔مندرجہ بالا شعر احمد فراز ؔ نے اپنی کم عمری میں کہا تھا،اور یہی شعر ان کی زندگی کا پہلا شعر قرار پایا۔

 احمد فرازؔ ۱۲؍جنوری ۱۹۳۱ء میںکوہاٹ ،پاکستان میں پیدا ہوئے۔ان کا نام سید احمد شاہ تھا، فرازؔ ان کا تخلص ہے۔انھوں نے ایڈورڈز کالج (پاکستان) سے تعلیم حاصل کی، اردو اور فارسی میں ایم۔اے۔ کیا ۔ دورانِ تعلیم انھوں نے پاکستان ریڈیو کے لیے فیچرز لکھے۔ ان کا پہلامجموعۂ کلام’’تنہا تنہا‘‘ اُس وقت شائع ہوا جب وہ بی۔اے۔ میں زیرِ تعلیم تھے۔ اس کم عمری میں پہلا مجموعۂ کلام شائع ہونا اپنے آپ میں ایک بہت بڑی بات ہے۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی انھیں یونی ورسٹی میں لیکچرر کی ملازمت کرنے کا موقع فراہم ہوا۔ دورانِ ملازمت ان کا دوسرا شعری مجموعہ’’دردِ آشوب‘‘ شائع ہوا۔ یونی ورسٹی کی ملازمت کے بعد’’ پاکستان نیشنل سینٹر‘‘ پشاور،کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ 1976میں’’اکادمی ادبیات ِ پاکستان‘‘ وجود میں آئی تھی،اس اکادمی میں انھیں پہلا منتظم ِ اعلاہونے کا شرف حاصل ہوا۔1989میں ’’پاکستان اکادمی ‘‘ کے چیرمین مقرر ہوئے۔ 1991میں ’’لوک ورثہ ‘‘ اور 2006میں’’ نیشنل بک فائونڈیشن ‘‘ کے سربراہ کے بطور اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

 احمد فراز ؔ کو پہلا ایوارڈ 1966میں پاکستان رائٹرزگلڈذ کی جانب سے دستیاب ہوا۔’’آدم جی ادبی ایوارڈ‘‘ ان کے دوسرے شعری مجموعہ ’’درد ِ آشوب‘‘ کے لیے دیا گیا۔ بعدازاں انھیں 1988میں ’’فراق گورکھپوری ایوارڈ‘‘ سے بھارت نے نوازا۔ 1990میں ’’اباسین ایوارڈ‘‘، 1991میں اکیڈمی آف اردو لٹریچر (کینیڈا) کی جانب سے ملا۔ 1992میں ’’ٹاٹا ایوارڈ‘‘( بھارت)سے سرفراز کیاگیا۔

 احمد فرازؔ کی تخلیقات کو پشاور یونی ورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی (بھارت) نے اپنے نصاب ِ تعلیم میں شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے فن اور ان کی شخصیت پر Ph.D.کے مقالے بھی لکھے گئے ۔جامعہ ملیہ یونی ورسٹی میں ’’احمد فراز کی غزل‘‘ اور بہاولپور میں ’’احمد فراز ۔۔فن اور شخصیت ‘‘ کے عنوان سے مقالے تحریر کیے گئے ہیں۔ انھیں ’’ہلالِ امتیاز، ستارہِ امتیاز، نگارایواڑز‘‘ سے بھی سرفراز کیا گیا۔ احمد فراز ؔ وہ خوش بخت شاعر ہیں جن کی بیش تر شاعری کا ترجمہ انگریزی، ہندی، پنجابی، فرانسیسی، روسی، جرمنی اور یوگوسلاوی زبانوں میں کیا گیا۔

 احمد فرازؔ نے فوج میں بھی ملازمت کی تھی، جس کے دوران ان کی شاعری عروج پر تھی۔ فوج میں رہتے ہوئے انھوںنے سیاست بازی اورآمرانہ رویوں کے خلاف خوب شعر کہے تھے جس کی پاداش میں احمد فراز کو جلاوطنی کے کرب سے بھی گزرنا پڑا تھا۔انھوں نے ضیاالحق کے مارشل لا کے خلاف بھی نظمیں لکھیں جوکافی حد تک ان کی مقبولیت کا سبب بنیں۔

 احمد فرازؔ نے صنف ِ غزل میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی شاعری کے موضوعات روایتی،جدید اور جدید تررہے ہیں۔ ان کے ۱۴؍ مجموعہ کلام شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے مجموعۂ کلام میں ’’تنہا تنہا،دردِ آشوب، شب خون، نایافت، میرے خواب ریزہ ریزہ، بے آوازگلی کوچوں میں، نابینا شہرمیں آئینہ، پسِ اندازِ موسم، سب آوازیں میری ہیں، خوابِ گُل پریشاں ہے، بودلک، غزل بہانہ کروں، جاناںجاناں اور اے عشق جنوں پیشہ‘‘وغیرہ۔

 احمد فرازؔ کا بہت مشہور شعر ہے جسے پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ تغزل کا شعر ہے لیکن اُس شعر کی گہرائی میں مجھے یہ تجربہ اور مشاہدہ نظر آتا ہے کہ انسان فرصت کے ا وقات میں کتابوں کے مطالعے کے بعد ایک کھِلا ہوا پھول جو ہتھّے (Book Mark)کے طور پر استعمال ہوا ہو، اور پھر اپنی مصروفیات کے سبب اُس کتاب کو کہیں رکھ کر بھول جائے اور وہ کتاب جب دوبارہ کھُلے گی تو یقینا وہ پھول مُرجھایا ہوا ملے گا ، اِسی طرح کسی شخص کے ساتھ ایک طویل وقت گزارنے کے بعدجب وہ بچھڑ جاتا ہے تووہ شخص بھی اُسی مرجھائے ہوئے پھول کی طرح خوابوں میں یاد آجاتا ہے،دراصل اس شعر میں یہی ملاقات کا تصور نظر آتا ہے۔آپ بھی غور فرمائیں:

؎             اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

                جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

 انسانی زندگی میں خوشی اور غم کے لمحات موسموںکی طرح آتے جاتے ہیں، انھیں لمحات کی وجہ سے اُس کے حوصلے بلند بھی ہوتے ہیں اور پست بھی۔یہ لمحات انسان کو حسّاس بنا دیتے ہیں۔ جب کبھی وہ تنہا ہوتا ہے تو ان لمحات کو یاد کرکے کبھی مسکراتا ہے، کبھی خود ہی اِن یادوں کو مثالوں کی طرح سُناتا ہے اورکبھی خودہی شکایتوں کا انبار لگا دیتا ہے،لیکن اِس کے باوجود اپنی ہی ذات میں سِمٹ کر رہ جاتا ہے۔کچھ لوگ دوسروں سے اپنی خوشیوں کا ، اپنے کرب کا اظہار لفظوں میں یا اشاروں میں بیان کر تے ہیں کچھ بد نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جو اظہار نہیں کر پاتے یاانھیں موقع فراہم نہیں ہوتا ،مگر احمد فرازؔ اُن خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنھوںنے اپنی تخلیقات کے ذریعے اپنی زندگی کی فرحتیں، حکایتیں ،شکایتیںاورساعتیں سبھی کو بیان کر تے ہوئے اپنی نظمیں اورغزلیں کسی کے نام کردی ہیں۔ یہ بات اُن کی نظم ’’یہ میری غزلیں،یہ میری نظمیں ‘‘ سے واضح ہوتی ہے۔

یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں، تمام تیری حکایتیں ہیں

یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں، یہ شعر تیری شکایتیں ہیں

میں سب تیری نذر کررہا ہوں، یہ اُن زمانوں کی ساعتیں ہیں

 احمد فرازؔ کی نظم ’’خواب مرتے نہیں‘‘ ایک ایسی نظم ہے جو نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ خواب ہم دیکھتے تو ہیں مگر اُن خوابوں کی تکمیل کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔جب کوئی اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اُسے اکثر وبیش تر مختلف مسائل ومصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،ایسے مصائب پُل صراط کی مانند ہوتے ہیں جنھیں پار کرکے خوابوں کی تکمیل ممکن ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کے ساتھ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اِن مصائب کا سامنا کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر حالات انھیں اِن خوابوں کو ترک کرنے پر مجبور کردیتے ہیں ،نیز یہ خواب اِنسان کے ذہن ودل میں کہیں نہ کہیں ضرورموجود ہوتے ہیں ۔وہ سوچتا ہے کہ اگر میرے خواب میری ذات سے اور میرے لیے مکمل نہیں ہوئے تو کیا ہوا،میرے خوابوں کو میرے ہم عصر یا میری نسلیں پورا کریں گی۔خواب ایک ایسا عمل ہے جس کو پورا کرنے کی جستجو میںانسان ہر وقت لگا رہتا ہے، موت اگر اس کے قریب بھی آجائے تو خواب اُس کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے ،نظر آتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ خوابوں کے ذریعے ہی مقصد کی تکمیل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ابوالکلام نے کہا تھا:

’’خواب وہ نہیں ہیں جو تم سوتے وقت دیکھتے ہو، خواب تو وہ ہے جو تمہیں سونے نہ دیں۔‘‘

 ’’خواب مرتے نہیں‘‘ اس نظم میں احمد فراز ؔ کہتے ہیں کہ خواب جسم کا کوئی حصہ نہیں ہیں جو ریزہ ریزہ ہوجائیں ، موت، جسم کو آتی ہے ،خوابوں کو موت نہیں آتی، خواب کسی آندھی، طوفان، ظلم، آفت سے نہیں رکتے۔ خوابوں کونور کے مانندقرار دیا گیاہے۔اسی مناسبت سے ایک قطعہ یہاں یاد آرہا ہے:

ہر گھڑی ٹوٹنا ہے، بکھرنا ہے

کام مشکل ہے ،مگر کرنا ہے

راستے میں ہے کانچ کی دیوار

نور بن کر مگر گزرنا ہے

 احمد فراز ؔکہتے ہیں کہ خواب حرف، نور، سقراط اور منصور سبھی کچھ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خواب کبھی مرتے نہیں۔اسی بات کے پیش نظر نظم کے کچھ مصرعے ملاحظہ فرمائیے:

خواب مرتے نہیں

خواب دل ہیں نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو

ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے

جسم کی موت سے یہ بھی مرجائیں گے

خواب مرتے نہیں خواب تو حرف ہیں

خواب تو نور ہے خواب سقراط ہے        خواب منصور ہے

 احمدفرازؔ کی شاعری میں رومانیت، انقلابیت، جمالیت اوراشتراکیت وغیرہ جابہ جا ملتے ہیں۔ اُن کے اشعار کے ذریعے روح مضطرب ہوجاتی ہے، دل تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے اور دماغ منتشر الخیال رہتا ہے۔ ان کے اشعار معاشرے کی حقیقت کھول دیتے ہیںاورجھوٹ کا پردہ خود بہ خود اُٹھ جاتا ہے۔ دل و دماغ ایک دوسرے سے مخاطب ہوکر کہنے لگتے ہیں کہ:

؎             تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز ؔ

                دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

؎             اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

                لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا

؎             ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتا

                کون دریا کو الٹتا کون گوہر دیکھتا

؎             جب بھی دل کھول کے روتے ہوں گے

                لوگ آرام سے سوتے ہو ں گے

؎             زندگی سے یہی گِلا ہے مجھے

                تو بہت دیر سے مِلا ہے مجھے

 انھیں اشعار کے مدنظر ’’پروفیسر لطف الرحمٰن ‘‘ لکھتے ہیں کہ:

’’بیدل ؔاور اقبالؔ کے بعد فرازؔ کی شعریات کی تشکیل و ارتقا میں فیضؔ کی رومانی انقلابیت نے بے حد اہم کردار ادا کیا ہے۔ فیض ؔکی اشتراکی و رومانی روایات کے تخلیقی شعور نے فرازؔ کو داخلی واردات کی جمالیاتی مصوری اور عصری حیات کی تخیلی پیکر تراشی میں رنگ و نور اور نکہت و نغمگی کے امتزاجی قرینوں کی آگہی بخشی ہے جس نے اس کی شاعری کو زندہ دھڑکتا ہوا، حساس تجربہ بنا دیا ہے۔‘‘

 احمد فرازؔ نہ صرف ہندوپاک میں مقبول ہوئے ہیں بلکہ پوری دنیا میں ان کی مقبولیت کاشہرہ ہوا۔ ۲۰۰۸ء وہ سال ہے جس نے فرازؔ کی سانسوں پر قدغن لگادیا،ان کا انتقال ہوگیا ۔اس طرح ایک بڑا،سچ مچ ایک فن کار اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔

؎             میرا قلم تو امانت مرے لہو کی ہے

                میرا قلم تو امانت مرے ضمیر کی ہے

٭٭٭٭٭

Ansari Shahin Abdul Hakim

Al-Ittehad Jr.College, R.M.Road, Gulshan Nagar, Jogeshwari(West), Mumbai – 400 102.

+91 9820775198

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.