اداریہ
چلیں تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
زندگی کی گوں نہ گوں مصروفیتوں اور ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئےنت نئے افکار ورجحان پیدا کرنےوالے تحقیقی مضامین کی تیاری جوئے شیرلانے سے کم نہیں ۔ لیکن انسانی تاریخ میں کتنے ہی ایسے عظیم الشان معرکے موجودہیں جو ببانگ دہل گواہی دیتے ہیں کہ ہمت، حوصلہ اور استقلال سے مراحل سرکئے گئے ہیں۔یہ رسالہ بھی اسی عزم واستقلال کا ایک نمونہ ہے۔ جس میں مضمون نگاروں کی گل کاری اور مدیر رسالہ کی محنت وآبیاری نے اسے عزت و وقار بخشا ہے۔ میں تمام مضمون نگاروں اور مدیر محترم کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتاہے۔
رسائل وجرائدعموما اشتراک اور تعاون ہی سے ہرے ہوتے ہیں۔جس میں قارئین اور مضمون نگار کے ساتھ معاونین کی مدد یکساں درکار ہوتی ہے۔ماشاء اللہ یہ رسالہ اپنی بساط پر قارئین کی ادبی تشنگی کو دور کرنے میں ہمہ وقت کوشاں ہے۔
گوگل پر اردو ادب کےکسی تحقیقی موضوعسے متعلق مواد تلاش کرتے ہوئے عام طور پر اردو کی دوتین بڑی سائٹوں کے ساتھ اردو ریسرچ جرنل کے مضامین بھی سامنے آتے ہیں جس سے ثابت ہوتاہے کہ یہ رسالہ اپنے مواد کی موجودگی کی بنا پر اردو ڈیجیٹل فلیٹ فارموں سے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ اس کے بقا اور اس کی ترقی کہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔
آن لائن پورٹل یا ویب سائٹ کے تقاضوں سے آگاہ لوگ بخوبی واقف ہیں کہ اتنی بڑی ویب سائٹ چلانے اور اس کی دیکھ بھال کے لیے مالی اخراجات در آتے ہیں۔ جن میں ویب سائٹ انجینئر کی فیس،سرور اسپیس کی خریداری، ڈی ٹی پی اور دیگر عملہ کے اخراجات اہم ہیں۔لیکن ڈاکٹر عزیر اسرائیل صاحب کا یہ حوصلہ لائق فخروتحسین ہے کہ نہ صرف اپنے ذاتی اخراجات سے ان ضرورتوں کو پورا کرتے ہیںبلکہ مختلف النوع مصروفیتوں کے باوجود اس رسالے کی بروقت اشاعت اور اس کی تکنیکی اصلاح وتصحیح کرتے ہیں۔
میں اپنی وابستگی کے اول دن سے محسوس کررہاہوں کہ اگر محبان اردو کے ذریعہ اس رسالے کی کچھ مالی تعاون ہوجائے تو ان شاء اللہ! یہ رسالہ دنیا کے چند اہم رسالوں میں سے ایک ہوسکتاہے۔ محبان اردو سے رسالے کے بہتر مستقبل اور بقا کے لیے مالی تعاون کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے مشورہ چاہتا ہوں۔ احباب اپنے مشورے ہمارے آفیشیل ایمیل پرارسال کرسکتے ہیں۔
اس شمارےکو بنیادی طور پر تحقیقی و تنقیدی، اقبالیات،تعلیم وتربیت ، جدید ٹکنالوجی اور ابلاغ عامہ جیسے گوشوں سے مزین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ کچھ ایسے مضامین ہیں جن کی تخصیص کے لیے کچھ اور گوشے بنائے جاسکتے تھے لیکن اشاعتی کام وقت پر ہوسکے اس لیے تزئین کاری سے احتراز کرتے ہوئے رسالےکی بر وقت اشاعت کو فوقیت دی گئی ہے۔
امید کرتاہوں رسالہ اپنے مواد اور رنگا رنگ مضامین کی وجہ سے قارئین میں بنگاہ پسند مقبول ہوگا۔
والسلام
ڈاکٹر عبدالرحمن
(معاون مدیر)


Leave a Reply
Be the First to Comment!