محمد علی جوہرجنگ ِ آزادی کا ایک عظیم ہیرو

محمد علی جوہرجنگ ِ آزادی کا ایک عظیم ہیرو

ڈاکٹر عبدالسمیع علیگ

آلو تھوک باون چنگی

ضلع۔ ہردوئی

یوپی۔ 241001

موبائل۔9170389242

Email:-abdussami827@gmail.com

 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بہت سے نایاب ہیرے،نامور شخصیتیں اور ملک و قوم کے عظیم خادم پیدا کئے ہیں علی گڑھ کے فارغین میں مولانا محمد علی جوہر اورمحمد اعظم خاںسر زمین رامپور کی مشہور شخصیات ہیں مولانا محمد علی جوہر کے نام سے محمد اعظم خاں نے ایک شاندار یونیورسٹی رامپور میں قائم کی ہے آج کل مولانا محمد علی جوہریونیورسٹی بہت چرچا میں ہے چالیس عمارتوں میں سے اڑتیس عمارتوں کے تعمیر ی نقشے رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے پاس نہیں ہیں اس وجہ سے رامپور انتظامیہ نے اس کی عمارتوں کے انہدام کا نوٹس جاری کیا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو پندرہ دن کا نوٹس دیا ہے تاکہ وہ خود عمارتوں کو منہدم کردیں ورنہ ضلع انتظامیہ بلڈوزر کاروائی کرے گی سماجی کارکنان ، یونیورسٹی کے طلباء ملک کے علم دوست عوام یونیورسٹی کی عمارتوں کے انہدام کی مخالفت میں سرگرم ہیں طلبا ء اور رامپور کی عوام یونیورسٹی کے صدر دروازے پر احتجاج کررہے ہیں ۔پورا ملک سوشل میڈیا کے ذریعہ سرکار سے یونیورسٹی کو انہدامی کاروائی سے بچانے کی اپیل کر رہا ہے۔آج ضرورت ہے کہ ہم اس شخصیت کے بارے میں جانیں ،جس کے نام سے یہ یونیورسٹی منسوب ہے وہ شخصیت مشہور مجاہد ِ آزادی،عظیم ماہر انگیریزی،نامور صحافی،بہترین شاعر،سحرالبیان خطیب مولانا محمد علی جوہر کی ہے اگلی سطور میں اسی عظیم المرتبت شخصیت کی حیات و خدمات خصوصاًجدوجہد ِ آزادی میں مولانا محمد علی جوہر کے کردار پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مولانا محمد علی جوہرایک ایسی عبقری شخصیت کے مالک تھے ،جس کی نظیر ہندوستان کی گزشتہ ڈیڑھ سو سال کی سیاست میں آسانی سے نہیں ملے گی۔وہ رامپورمیں پیداہوئے ،علی گڑھ اور انگلینڈ میں پڑھے۔بڑودہ میں ملازمت کی اور بعد ازاں وہ ہندوستان کی جدو جہد آزادی کا ایسا حصہ بنے کہ انھوں نے اپنی زبان اور قلم سے وہ صور پھونکا کہ جس سے ہندوستان میں برطانوی اقتدار ہل گیا۔مولانا ،زبان ہو یا قلم دونوں کے بھرپور استعمال کے ماہر تھے ۔وہ جرات وہمت کا ایسا پیکر تھے کہ بقول:

 توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

 یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے

 مولانا کی یہ بے باکی ،ان کے نزدیک جو کچھ حق ہوتا ،اس میں کسی کو خاطر میں نہ لاتی۔اس میں ان کے مرشد ہوں یا رفقاء،اصحاب کارہوں یا وادی ٔسیاست کے ہم رکاب۔انھوں نے ہمیشہ جو صحیح سمجھا،وہی کہا۔مصلحت سے انہیں دورتک کوئی علاقہ نہ تھا۔خواجہ حسن نظامی نے ۱۹۲۳؁ء میں ’’مشاہیر ہند‘‘کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا،جس میں مولانا مرحوم کے متعلق یوں لکھتے ہیں۔

 ’’میانہ قد ۔موٹا جسم۔نمکین بشرہ۔گول۔اور خوب بھاری بھرکم چہرہ۔آنکھیں معمولی مگر ان کے اندر کشش دار تیزیاں ۔آواز بلندگرجدار۔لیکن زیادہ بولنے کے بعد تھک کر بیٹھ جاتی ہے۔رامپور کے رہنے والے ہیں۔اور برہمن ۔گشتری۔ویش اور سودر سے بالا تر۔ عمر آج کل چالیس کے قریب ہے۔قیامت تک زندہ رہیں گے۔مگر قیامت کے بوریئے نہیں سمیٹیںگے۔

 تین بھائی ہیں ۔بڑے بھائی شوکت علی ہیں ۔ایک بھائی کا نام ذوالفقار علی ہے۔گویا ماں باپ کی تین یادگاریں ہیں۔اور تینوں دین وقوم وملک پر فدا ہیں۔محمد علی کی انگریزی ترقی تمام مسلمانانِ ہند سے بر تر ہے۔‘‘ ۱؎

 محمد علی جوہر غیر منقسم ہندوستان کے ایک ایسے بطل جلیل اور جامع الکمالات اور اخص الخواص مجاہد ین آزادی وعلمائے ربانیین میں سے تھے جنھوں نے بیسویں صدی کے ابتدائی ۳۰ برسوں میں ملک کی تاریخ کو اپنی متحرک جدو جہد اپنے بے مثل صحافیانہ کار ناموں ، منفرداسلوب خطابت صداقت وبے باکی ،دین حنیف کے رفعت وبلندی کی تڑپ اور صدق گفتاری اور اجتہادی زاویہ ٔ نگاہ کے حوالے سے متاثرو منور کیاخصوصاً تحریک خلافت کے باب میں انکار اور ان کے برادر اکبر مولانا شوکت علی کا نام ہمیشہ جانا اور آب ِ زر لکھا جاتا رہے گا۔

 مولانا محمد علی جوہر کی ولادت باسعادت ۱۰ دسمبر ۱۸۷۸؁ء مطابق ۱۵ ذی الحجہ۱۳۹۵؁ھ ریاست رامپور میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کے مراحل اپنے وطن رامپور ہی میں طے کئے نیز انگریزی تعلیم بریلی کے ایک سرکاری اسکول میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں حاصل کی۔بعد ازاں اپنے عصر کے ایک خاندانی عالم اور مرشد نامور مجاہد مولانا قیام الدین فرنگی محلی کے ہاتھ بیعت ہوگئے نیز اپنے مرشد ہی کے مدرسہ ’’مدرسہ عالیہ نظامیہ‘‘ واقع فرنگی محل سے ۱۹۲۰؁ء میں عالم و فاضل کی اعزازی سند حاصل کرکے علماء کی فہرست میں شمولیت حاصل کی۔

 محمد علی جوہرکی پوری زندگی اس کاثبوت ہے کہ قید وبند کی صعوبتیں ۔اپنے اور غیروں کے دلخراش و دل شکن الزامات و مطاعن احباب کی مفارفت و عناد ۔افلاس اور جان لیوا امراض کوئی بھی اس کو شکار نہ کر سکیں اور اسے اپنے موقف سے ذرہ برابر نہ ہٹا سکیںاور بالآخر اسی راہ میں اس نے اپنی جان دے دی عموماً انسان اپنے ماحول کی پیدا وار ہوتا ہے۔لیکن ایک عظیم شخصیت عزم کی قوت ۔کردار کی طاقت اور مقادمت کا ایسا شدید جذبہ لے کر ابھرتی ہے کہ وہ ماحول کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور حد درجہ ناسازگار حالات کو اپنی بے پناہ قوت عزم و عمل سے مسخر کر لیتی ہے۔محمد علی مرحوم کی ابتدائی زندگی۔ان کی تعلیم ان کی کالج کی دلچسپیاں اور تفریحات کوئی بھی ایسی نہ تھیں جو ان کو’’ مولانا‘‘ محمد علی ’’مجاہد‘‘ محمد علی اور’’ عظیم سیاسی و ملی رہنما‘‘ محمد علی بنا سکتیں۔وہ ماحول کی تراشیدہ شخصیت نہ تھے بلکہ اس پر چھاجانے والے اور اس کو بدل ڈالنے والے انقلابی رہنما تھے۔

 ستمبر ۱۸۹۸؁ء میںمزید تعلیم کے لئے انگلستان تشریف لے گئے۔جنوری ۱۹۰۲؁ء میں آئی ۔سی۔ایس کے امتحان میں ناکامی کے بعد وطن واپس آئے اور ان کے ایک عزیزعظمت اللہ خاں کی صاحبزادی امجد ی بیگم سے مولانا کی شادی ہوئی۔شادی کے بعد لندن واپس گئے۔ ۱۹۰۴؁ء میں ’’گپ‘‘کے نام سے الہ آباد سے ایک پندرہ روزہ انگریزی رسالہ نکالا۔جس کے صرف دو نمبر نکلے۔احمد آباد میں مجوزہ محمڈن یونیورسٹی کی تائید میں تقریر کی۔۱۹۰۶؁ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا پہلا اجلاس ڈھاکہ میں منعقد ہوا۔’’گرین بک‘‘ کے نام سے اجلاس کی روداد مرتب اورشائع کی۔اجلاس میں شرکت کے دوران ان کی پیش کردہ کئی قرار دادیں منظور ہوئیں۔

 ۱۹۰۷؁ء میں موجود بے چینی کے بارے میں Thoughts on Present Dis-continent” “کے عنوان سے ٹائمز آف انڈیامیں ایک سلسلہ ٔ مضامین لکھا جو اسی سال میں بمبئی سے کتابی شکل میں شائع ہوگیا۔ ۲؎

 محمد علی جوہرایک عہد ساز شخصیت تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ کا حصہ بنے بلکہ انھوں نے نئی تاریخ رقم کی۔ہندوستانی سیاست کو گفت و شنید کے دائرے سے نکال کر عوامی تحریک کا مزاج دینے کا سہرا بھی محمد علی جوہر کے سرہے۔ظلم و استبدار کے خلاف ۱۸۵۷؁ء کی پہلی جنگ آزادی کے بعد بلند و بانگ نعرہ بلند کرنے والوں کے قائد محمد علی جوہرتھے۔غاصبانہ حکومت اور حاکموں کے خلاف پہلی عدم ِتعاون تحریک کا خاکہ بھی محمد علی جوہر نے مرتب کیا تھا۔ملک و ملت کے لیے سرفروشی اور جانثاری کا معیار محمد علی جوہر اپنی قربانی اور ایثار سے مرتب کر گئے۔بحیثیت صحافی انھوں نے بیباک ،بے خوف اور مقصدی صحافت کی بنیاد ڈالی۔ ہفت روزہ’’کامریڈ‘‘ اور روزنامہ ’’ہمدرد‘‘ صحافت کی دنیا میں آج بھی اپنی مثال آپ ہیں ۔بحیثیت شاعر محمد علی جوہر ؔ کی اپنی انفرادی حیثیت ہے کہ جو کبھی دھو مل نہ ہوگی۔

 مولانا محمد علی جوہر نے جب اپنی قومی زندگی کا آغاز کیا تو اس وقت مسلمانوں کے مذہبی،سماجی اورسیاسی حالات نا گفتہ بہ تھے علماء کرام دین کی بقا ء اور علوم دینیہ کے تحفظ کے لیے اپنی بساط بھر پور جدوجہد کر رہے تھے لیکن مسلمانوں کا مغربی تعلیم یافتہ طبقہ اسلامی ثقافت اور اسلامی تہذیب و علوم سے متنفر تھا،علی گڑھ تحریک‘‘اگرچہ مغربی علوم جدید ہ کی جانب سے اس وقت امراء وشرفاء کے حلقوں میں مقبولیت حاصل کر رہی تھی لیکن عوامی سطح پر مسلمان مغربی تعلیم سے بھی بیگانہ تھا الغرض آپ نے جس زمانہ میں اپنی سیاسی،سماجی،تہذیبی تگ ودو شروع کی اس وقت ہرمیدان میں ہمہ گیر مقابلہ اور مسابقہ شروع ہو چکا تھا ایسے نامناسب حالات میں آپ نے اپنی سیاسی آواز کو بلند کرنے کا عزم کیا اور مسلمانوں کے شعور کو اپنے نوک قلم سے بیدار کرنے کے لیے کلکتہ سے ۱۹۱۱؁ء میں انگریزی کا ہفتہ وار کامریڈ اور روزنامچہ ہمدرد نکالا جس کے جوشیلے مضامین ذہن کو آمادۂ پیکا ر کر دیتے تھے آزادی ٔ فکر اور آزادیٔ وطن کے نغموں سے پُر یہ الہلال کی طرح ایک نشۂ حریت بن کر تعلیم یافتہ طبقہ کے ذہنوں کو متاثر کرنے لگا لیکن اس کے بعد آپ نے ایسے مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیااور اپنی اپنی سحر انگیز شخصیت کی توانائیوں اور قائدانہ صلاحیتوں کا محور بنا لیا جس کی زمام کار آپ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ملک کے باہر سات سمندر پار ایک ایسی جماعت و افرادکے ہاتھ میں تھی جو آپ کے مشورو ں کا تابع اور آپ کی ہدایتوں کا پابند نہیں تھا یعنی مسئلہ خلافت پھر جب ہندوستان میں آپ کی رہنمائی اور قیادت کا وقت آیا تو آپ اپنی بہترین توانائیاں صرف کر چکے تھے آپ کا دل زخموں سے چور چور تھا۔

 جنگ آزادی کی جدو جہدمیں ملک و قوم پر اپنی جان نچھاورکرنے والے صف ِ اول کے مجاہدین آزادی میں مولانا محمد علی جوہر ممتاز مقام کے حامل تھے ۔انھوں نے ساری زندگی ملک وقوم کے لئے وقف کر دی۔وہ بڑے بے باک جرأ ت مند اور بلند حوصلہ انسان تھے۔ان کی شخصیت بے حد رچی ہوئی ،صاف ستھری اور دلآویز تھی۔خالق ِ کائنات نے انھیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔وہ راست سیاستدان اور بے خوف صحافی تھے۔ان کی نوک قلم سے نکلی انگریزی انشاء کا ایک عالم دیوانہ تھا اور’’ہمدرد ‘‘کے صفحات پر انگڑائی لیتی اردو کے دامن کو لو گ آنکھوں سے لگاتے تھے۔ان کے اخبار’’کامریڈ‘‘اور ’’ہمدرد‘‘ کومثالی مقبولیت حاصل ہوئی۔مولانا غضب کے شاعر بھی تھے۔ان کی شاعری اس عہد کا صاف شفاف آئینہ ہے۔ان کے یہاں ایک طرف غزل کا حسن،شیریں بیانی اور حق گوئی کی رفعتیں ہیں تو دوسری طرف وطن عزیز کے دل کے ڈھڑکنے کی صدائیں صاف سنی جا سکتی ہیں۔مولانا ملک و ملت کے لئے جیتے رہے اور ملک و ملت پر ہی قربان ہوگئے۔ان کی تحریک خلافت نے جنگ آزادی کے متوالوں میں روح پھونکی کہ صرف پچیس برسوں میں ہی ملک آزاد ہو گیا۔ ۳؎

 اللہ نے آپ کو وہ صلاحتیں اورکمالات عطا فرمائے تھے جوایسے قائد ورہنما کے لئے ضروری ہیں جو ملکوں اور قوموں میںانقلاب بر پا کر تے ہوں ،سوتی بستی کو لگاتے ہوں ممولوں کو شہباز سے لڑادیتے ہوں۔خلوص کا ایک دریائے بیکراں پارے کی سیمابی ،خطابت کی جادو گری اور وہ قلندرانہ شان اور مجذوبانہ آن ہو جو حق کہنے میں کبھی بڑے چھوٹے ،دوست دشمن کی پرواہ نہ کرتا ہوکیونکہ ؎

 آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی

 اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

 تاریخ شاہد ہے مولانا محمد علی جوہر نے آزادیِ ہند کے لئے جو کوششیں کیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔گول میز کانفرنس تاریخ آزادی ہند کا ایک ایسا باب ہے جو اگر اپنے تمام نکات کے ساتھ کامیاب ہو جاتی توآزادیِ ہند کا نقشہ کچھ اور ہوتا ۔مولانا محمد علی جوہر نے اپنے مرض کی شدت کے باوجود اس کانفرنس میں شرکت کی اور اپنی تقریر کے دوران بڑے جذباتی انداز میں ہندوستانی رہنماؤں کا موقف پیش کیا،لیکن وہ قبول نہیں کیا گیا۔گول میز کانفرنس کا اہمیت وضرورت محمد علی جوہر کی زبانی ملاحظہ کریں:

 ’’میں سمجھتا ہوں کہ میرا مذہبی فریضہ ہے کہ اس کانفرنس (گول میز کانفرنس)میں شریک ہوں اور وہاں کے سلطان جابر اور رعایا جابر دونوں کے سامنے کلمۂ حق کہہ کرسب سے افضل جہادکروں تاکہ اس کام میں مر جاؤں۔ ایک سپاہی کا یہ فرض ہے کہ جب اس کا مذہب اور ملک خطرہ میں ہوتو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اپنے فرض ِ منصبی کو پورا کرے۔ میں اپنی ساری زندگی کام کے لئے زندہ رہا اور اس وقت آرام کی خاطر کام سے منھ موڑ لینا ایسا مجرمانہ فعل ہوگاجو صرف نامردوں اور بزدلوں کے لئے موزوں ہے۔‘‘۴؎

 مولانا محمد علی سیاسی رہنما اور ملت اسلامیہ کے قائد تھے۔محمد علی شعلے نوا مقرر اور نڈر صحافی تھے۔ان کے یہاں آزادی کی تڑپ اور ملک وقوم کے لئے مر مٹنے کی تمنا اس قدر شدید تھی کہ انھوں نے گول میزکانفرنس لندن میں اپنی تقریر میں فرمایا تھا:

 ’’آج جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ہوں وہ یہی ہے کہ میں اپنے ملک کو اسی حالت میں واپس جاؤں کہ جب آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ میں ہو،میں غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا۔میں ایک غیر ملک میں جب تک وہ آزاد ہے مرنے کو ترجیح دوں گااور اگر آپ مجھے ہندوستان کی آزادی نہیں دیں گے توپھر آپ کو یہاں مجھے قبر کے لئے جگہ دینی پڑے گی۔‘‘۵؎

 دسمبر ۱۹۳۰؁ء کی گول میزکانفرنس میں مولانا محمد علی جوہر کے اس خطاب میں جو گرمی،حرارت،خلوص،صداقت اور جذبہ ٔ حریت ہے اسے ہر محب وطن محسوس کر سکتا ہے۔مولانا محمد علی جوہر نے اپنی ساری زندگی ملک وقوم کی خدمت میں لگادی۔وہ ایثار وقربانی کے پیکر تھے۔ان کی حق گوئی ،حق شعاری اور ہمت وحوصلے کی جس قدر بھی داد دی جائے کم ہے۔ان کے یہاں کسی طرح کی مصلحت کا گزر نہیں تھا۔وہ اعلیٰ عہدے اور مناصب کو اپنی ٹھوکرپر رکھتے تھے کیونکہ مولانا کے یہاں کسی طرح کی طمع ،لالچ اور خوشامد کا گزر تھا ہی نہیں۔محمد علی نے انگریزوں کی شدید مخالفت کی اور ملک کو آزاد کرانے کا خو اب لے کر اس جہاں سے رخصت بھی ہوگئے۔

 آپ کی مضطرب روح اور بے چین طبیعت نے اپنا جوہردکھایا اور اپنے مرکز اصلی کی طرف پرواز کی ۱۹۳۰؁ء کی گول میز کانفرنس لندن میں آپ شہر کی طرح گرجے اور بلبل کی طرح چہکے آپ نے اس وقت تک ہندوستان جانے سے انکارکر دیاجب تک آپ کو اپنے ملک کی آزادی کا مکمل پروانہ نہ مل جائے اسی سرزمین غربت میں ۴ جنوری ۱۹۳۱؁ء کو آپ کے طائرروح نے قفس عنصری سے پرواز کی اورآپ کے جسم خاکی کو سرزمین انبیاء اور معراج نبوی کی پہلی منزل کے ایک گوشہ میں جگہ ملی۔مولانا نے اپنی مختصر زندگی اللہ کے دین کی حفاظت اور اشاعت میں صرف کی اور ملک ہندوستان کی آزادی کی خاطر جان کی بازی لگادی۔

 محمد علی کی موت آپ نے دیکھا کہاں ہوئی؟وطن سے ہزارہامیل دور ۔ہندوستان کے کسی گوشہ میں نہیں۔حجازؔ میں نہیں۔عراقؔ میں نہیں۔مشرق کے کسی حِصہ میں نہیں۔خاص سرزمین انگلستان پر۔فرنگیوں کے دیس میں وطن سے دوری۔اکثرعزیزوں سے مہجوری۔ غریب الوطنی!محمد علی کو تو اپنا وطن نہایت عزیز تھا۔اور اپنے وطن سے بھی بڑھ کر اپنے آقا کا وطن عزیز ومحبوب تھا۔یہ کیا ہوا۔کہ موت ایسے دارالکُفر میں واقعہ ہوئی؟لیکن یہ بھی آپ نے دیکھا ۔کہ مرنے کے بعد کہاں جگہ ملی؟وہ جگہ ملی۔جو ہمارے تمہارے تصورسے بھی بالاتر تھی۔بیت المقدس سلیمان وداؤد کا قبلہ۔موسیٰ و عیسیٰ کا قبلہ۔اور خود نبی القبلتین کا پہلا قبلہ۔صدہا انبیا کا مقام ۔بے شمار پیغمبروں کی سجدہ گاہ! ۶؎

محمد علی جوہر رامپور میں پیدا ہوئے۔علی گڑھ اور آکسفورڈ میں پڑھے،انگریزی سامراجیت کے لئے تیغ بے نیام اور ملک وملت کے لئے سراپا درد مند تھے۔ ۱۹۱۱؁ء سے ۱۹۳۰؁ء تک کی ہندوستانی سیاست جس سے زیادہ عبارت ہے وہ مولانا محمد علی جوہر تھے،مولانا محمد علی جوہر کی عزیمت ان کی فکر کی نمایاں خصوصیات تھیں ان کی زندگی کی بے ترتیبی ،ذوق کی بلندی،مزاج کی سیمابیت،شخصیت کی دل نوازی اور قہر سامانی وغیرہ سے ہروہ شخص بخوبی واقف ہے جس نے محمد علی جوہر کی سیر ت کا مطالعہ کیا ہے ،محمد علی انسان تھے،اس لئے ان میں بشری کمزوریاں بھی تھی۔پروفیسر رشید احمد صدیقی نے اس بارے میں بڑے پتے کی بات لکھی تھی ان کی کمزوریاںایک اچھے شعر کی کمزوریاں تھیں جن سے شعر کے لطف و بے ساختگی میں کوئی فرق نہیں آتا،بدنصیبی سے آزاد ہندوستان میں سب سے زیادہ مظلوم شخصیت انھیں کی رہی۔کیونکہ ہم ان کی یاد کو بھی اس طرح باقی نہ رکھ سکے جس کے وہ کم سے کم مستحق تھی،مجاہد آزادی مشہور شاعر ،اور بے باک صحافی مولانا محمد علی جوہر مرحوم جو ہندوستان کے اپنے وقت کے ان ممتاز اور اچھوتے لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اپنی زندگی ملک وقوم کی تقدیر روشن کرنے کے لئے وقف کردی تھی اور آخری سانسوں تک بھارت کو غیر ملکی طاقتوںسے رہائی دلانے کی جدو جہد کرتے ہوئے اپنی منزل پانے کے لئے جان دے دی تھی۔تاریخ کی یہ عجیب ستم ظریفی اورہندوستانیوں کی بدقسمتی ہے کہ ہم نے ملک پر احسان کرنے والے دیگر لوگوں کی طرح مولانا محمد علی جوہر کو بھی بھلا دیا۔سابق صدرجمہوریہ ہند آنجہانی گیانی ذیل سنگھ نے ’’مولانا محمد علی جوہر‘‘تقسیم ایوارڈ کے جلسے میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ منزل ا نہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا ہوگا اس دیش کے مسلمانوں کا جنھوں نے ملک کے لئے اپنی جانیں قربان کردی اور آج ان کا کوئی نام لینے والا نہیں ہے۔۷؎

 مولانا محمد علی جوہرنے مسلمانوں کو جواب غفلت سے جگایا ۔خودی کی دولت سے ان کے دامن کو مالامال کیا اور بڑے انقلاب کے لئے اپنی قوم کو تیار کردیا۔وہ کمالات علمیہ کا پیکر اور فضائل دینیہ کا مرقع تھے۔انھوں نے شعر وادب کے گہوارے میں آنکھ کھولی تھی،شرافت ونجابت کی گود میں پرورش پائی تھی اور ذہانت و فطانت کے ماحول میں پروان چڑھے تھے ان کی شخصیت کی تعمیر میں بہت سے روشن پہلوؤں نے درپردہ کام کیا تھا۔وہ ایک بے مثل خطیب تھے۔ایک مایہ ناز ادیب تھے ایک بلند پایہ صحافی تھے،ایک نکتہ طراز مزاح نگار تھے۔ایک ایثار قائد تھے اور ایک بے نظیر نقاد تھے۔غرض وہ ایک تاریخ ساز ہستی تھے اور ان کی ایک جامع تاریخ ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ان کی خدمات جاوداںتابندہ و درخشندہ ہیں۔

حوالہ جات

۱۔         محمد علی جوہر ،مصنف چودھری امیرالدین امین،اورینٹ لٹریچر کمپنی ص۔۲۲

۲۔         مولانا محمد علی جوہر ،ڈاکٹرابو سلمان شاہجہاں پوری،مقتدرہ قومی زبان ،اسلام آباد ۱۹۹۲؁ء ص ۔۶

۳۔         مولانا محمد علی جوہر ،مصنف شہزاد انجم، ساہتیہ اکادمی،۲۰۰۵؁ء ص ۔ ۱۱

۴۔         مولانا محمد علی جوہر سیاست صحافت شاعری ،مصنف ڈاکٹر منور حسن کمال،البلیہ آفسیٹ پریس،گلی جامن والی کلاں محل دریا گنج،نئی دہلی،۲۰۱۵؁ء ص۔۲۲

۵۔         مولانا محمد علی جوہر ایک عہد ساز شخصیت ،مصنف معصوم عزیز کاظمی،خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری ،پٹنہ، ۲۰۱۱؁ء ص۔۱

۶۔         محمد علی جوہر ،مصنف چودھری امیرالدین امین ،اورینٹ لٹریچر کمپنی، ص۔ ۴۲

۷۔         مولانا محمد علی جوہر ایوارڈ،مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی، دہلی، ۲۰۰۲؁ء ص۔۸

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.