گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں سوشل میڈیا کا کردار
گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں سوشل میڈیا کا کردار
راحت عمران نامی
ریسرچ اسکالر، شعبہ تعلیم و تربیت، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد، انڈیا
ڈاکٹر صمد تاژے وڈکئیل
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ تعلیم و تربیت، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد، انڈیا
ہم ایک ایسے خوبصورت ملک ہندوستان میں رہتے ہیں جہاں مختلف انواع واقسام کے باشندے اپنے زندگی کے قیمتی لمحات کو گزارتے ہیں۔ اور یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ تمام مذہبی،تہذیبی،ثقافتی اور لسانی روایات سے پوری طرح آراستہ وپےراستہ ہیں۔اگر ہم اس کی خوبصورتی کی بات کریں تو یہاں مختلف طرح کے تہوار اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے،جو کہ طرح طرح کے تہذیب وثقافت کو بیان کرتا ہے۔
اصل میں گنگا اور جمنا دو مختلف ندیوں کے نام ہے۔ جو کہ مختلف ریاستوں سے ہوکر گزرتی ہے،جس میں کہ مختلف ندیوں کا سنگم ہوتا ہے۔جس طرح یہ دونوں ندیاں مختلف ریاستوں سے ہو کر گزرتی ہے ،ٹھیک اسی طرح گنگا جمنی تہذیب بھی ہندوستان کے مختلف تہذیب وثقافت کو بھی بیان کرتی ہے۔ یہ صرف کہنےاور بولنے کی بات نہیں ہے بلکہ بارہاں ملک ہندوستان اس بات کا گواہ ہے کہ جہاں کہیں بھی ہندوستانی تہذیب وثقافت کو تار تار کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئی ہیں ،وہیں دوسری طرف اپنی تہذیبی ثقافت کو برقرار رکھنے کے لئے اور امن وامان قائم رکھنے کے لئے گنگا جمنی تہذیب وثقافت کے علمبرداروں نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور باطل طاقتوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔
اگرمیں یہ کہوں تو شاید غلط نہیں ہوگا کہ دراصل ہندوستان کا نام ہی گنگا جمنی تہذیب ہے۔کیوں کہ یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کا اثر ہم سب کو بڑے بڑے شہر وں سے لیکر چھوٹے چھوٹے قریوں میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔
گنگا جمنی تہذیب وثقافت کا مقصد عموماً درج ذیل باتوں پر مبنی ہوتا ہے
- 1. مذہبی امن:-
گنگا جمنی تہذیب مذہبی تعصب کو کم کرتی ہے اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان تعامل کرتی ہےاور امن وامان برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔
- 2. زبانی تبادلہ:-
کہا یہ جاتا ہے کہ ہر دو سے پانچ کلو میٹر کی دوڑی پر آپس میں بول چال اور کھان پان میں تبدیلی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مختلف تہذیب وثقافت کے لوگ آپس میں اپنی زبان کو دوسروں تک اور دوسرے کی زبان کو اپنے تک لینے کی بھرپور کوشش کرتی ہے ،اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی ضرورت کو اور دکھ درد کو آسانی سے سمجھ پاتے ہیں اور گنگا جمنی تہذیب کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
- 3. فن ثقافت اور رسومات کا تبادلہ:-
گنگا جمنی تہذیب مختلف فنون ،ثقافتی وراثت اور رسومات کے تبادلے کو عروج بخشا ہے،جس سے مختلف ریاستوں کے کلچر کو ایک دوسرے میں تعامل پیدا کر گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیتا ہے۔
- 4. معاشرتی تعاملات:-
اس میں مختلف ریاستوں کے تہذیب وثقافت کے درمیان معاشرتی تعاملات کو بڑھاتی ہے،جس سے ایک معاشرہ دوسرے معاشرے کو جانتا اور سمجھتا ہے،اس کی بنا پر اپنے تہذیب وثقافت کو فروغ دیتا ہے اور مختلف ریاستوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دیتا ہےاور اسکی ترویج واشاعت کرتا ہے ۔
- 5. تعلیمی تبادلہ :-
گنگا جمنی تہذیب میں تعلیمی تبادلہ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے،جس کے تحت طلباءو اساتذہ مختلف ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم اور تعلیمی تجربات کو مشترک کرتاہے۔
گنگا جمنی تہذیب کی اہمیت وافادیت
گنگا جمنی تہذیب کی اہمیت اس کے مذھبی فرھنگ اور سماجی پہلوؤں سے منسلک ہے۔
- 1. مذہبی اہمیت:-
کسی بھی شخص کی زندگی میں مذہب بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے،یہ ان کے اخلاقی اصولوں، اقوامی تشہیر کی مدد، ان کی زندگی کی راہ چلتے وقت اراکین عبادت اور مخصوص مواقع پر عمل کرنے کا طریقہ تعین کرتی ہے. اس کے علاوہ، مذہبی اہمیت انسان کی روحانی تسلی اور خوشی کا ذریعہ بھی ہوتی ہے. یہ ان کی زندگی میں معنوں کو دینے میں مدد فراہم کرتی ہے اور ان کو ایک متعادل اور اصولی طرز زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرتی ہے.
- 2. فرہنگی اہمیت:-
فرہنگ کی اہمیت زندگی میں بہت بڑی ہوتی ہے کیونکہ یہ شخص کی شناخت اور تصویر کو متاثر کرتی ہے اور ان کی روزمرہ عملی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔دراصل گنگا جمنی تہذیب بذاتِ خود ایک مخصوص فرھنگ پیدا کیا ہے۔ خو مختلف علاقے کی خصوصیات اور رنگوں کو ظاہر کرتا ہے ۔اس کا حصہ ہندوستان کی روایات قدیم تاریخ اور علاقے کی زندگی بن چکا ہے۔
- 3. سماجی اہمیت:-
گنگا جمنی تہذیب کی روایات کا اثر سماجی حیثیت پر بھی پڑتا ہے۔ یہ تہذیب لوگوں کے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اثر انداز ہوتی ہے،جیسے کہ شادیوںمیں ،میت اور دیگر مخصوص مواقع پر منعقد ہونے والے تقویمی اور روسومی تعطیلات کی شکل میں۔
- 4. سیاسی اہمیت:-
گنگا جمنی تہذیب وثقافت کا اثر ہمیں سیاست میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یہ اس معنیٰ میں خاص ہے کہ جب ہم الیکشن کی بات کریں اس میں ہر علاقے کی شمولیت کی یقینی بناتا ہے اور جب حلف نامہ کا وقت آتا ہے تو اس میں بالکل صاف وشفاف انداز میں تہذیب وثقافت جھلکتی ہے۔
- 5. پر اسراری :-
گنگا جمنی تہذیب کے ساتھ منسلک قصص اور لوک کہانیاں بھی تہذیب کو ایک پراسرار اور دلچسپ بناتی ہے،جو کہ ان کی تاریخی واقعات کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔دراصل گنگا جمنی تہذیب ہندوستان کی تنوع اور ثقافتی ویرانی کا اہم حصہ ہے اور اسکا مذہبی اور سماجی اثر وسیع حد تک محسوس کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا
اگر ہم دور حاضر کی بات کریں تو یہ دور Artificial Intelligence کا دور ہے۔اس دور میں جو کچھ ہمارے دماغ میں چلتا ہے یا یہ کہ ہم کچھ بھی انٹرنیٹ پر تلاش کرتے ہیں تو بعینہ وہی چیز ہمیں دوسرے پلیٹ فارم پر Automatic دستیاب ملتا ہے۔ہم جس دور میں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات گزارتے ہیں وہ ترسیل اور ذراعت کا دور ہے،اس دور میں ہم سب اپنی باتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ مراسلت میں معاون ومددگار ثابت ہوتے ہیں ۔
دورحاضر میں سوشل میڈیا ایک ایسا آلہ ہے جو کہ مختلف پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں تک ہر وہ چیز دستیاب کراتی ہے جس کے ذریعہ ہندوستان کی کلچر ،ثقافت،رنگ روپ ،کھان پان بولی چالی ،رہن سہن کا پتہ چلتا ہے ۔ان سب کو ایک دوسرے میں پروئے رکھنے کا کام سوشل میڈیا کرتی ہے ۔کیونکہ سوشل میڈیا ہمیں اس بات کا قطعی اجازت نہیں دیتا ہے کہ ہم کسی خاص چیزوں کی ترسیل کریں جس سے دیگر افراد کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے اور ہم اپنی گنگا جمنی تہذیب کو تار تار کریں۔بلکہ وہ ہمیں ایک ایسا پلیٹ فارم دیتا ہے کہ ہم سب اپنی تہذیب وثقافت کو دوسروں تک پہنچائیں اور اس میں اگر کوئی چیز Adopt کرنے والی ہو تو ہم اس کو بلا کسی تکلف اس کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔
دراصل ترسیل یعنی Communication لاطینی لفظ Communis سے ماخوذ ہے،جس کے معنی اطلاع یا معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے۔اس طرح سے چیزوں یا انسانی جذبات واحساسات یا پھر معلومات کو دوسروں تک پہنچانے کے عمل کو ترسیل کہا جاتا ہے ۔ میڈیا یا ترسیل کے اس عمل نے انسانی سماج اور زندگی میں ایک زبردست انقلاب برپا کر دیا ہے۔
ترسیل وابلاغ کےسلسلے میں پہلے اخبارات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے بعد 1840ء میں ٹیلی گراف کی ایجاد ہوئی ۔1896 میں مارکونی نے وائرلیس ٹیلی گراف ایجاد کر کے لفظوں اور اشارات کے رذریعہ پیغام رسائی کی سہولت کو عام کیا ۔اس کے بعد آواز کے ذریعہ سے پیغامات کو پہنچانے کا کام کیا گیا ۔ مارکونی نے ریڈیو ایجاد کر کے ایک طاقت ور میڈیا فراہم کیا۔ عوامی ترسیل وابلاغ کی میڈیا میں نئے عہد کا آغاز اس وقت ہوا جب آواز کی ساتھ ساتھ تصاویر کی ترسیل سنیما ،ٹیلی ویژن کے ذریعہ نشر کی جانی لگیں۔ ٹیلی فون فیکس کمپیوٹر ،انٹرنیٹ سٹیلائیٹ اور موبائل کی ایجاد نے میڈیا/ترسیل کے میدان میں غیر معمولی انقلاب برپا کر دیا ۔
عام طور پر ہم میڈیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا ، یہ دونوں شعبے صحافت کے دائرے میں آتے ہیں ۔ پرنٹ میڈیا کاسب سے اہم ذریعہ اخبارات ہے،جب کہ الیکٹرانک میڈیا کے ذرائع میں ٹیلی ویژن ،ریڈیو ،فلم اور انٹرنیٹ شامل ہے۔ ان دنوں ان دونوں ذرائع کے اندر اتنی وسعت پیدا ہو گئی ہے کہ انہیں عوامی ذرائع ابلاغ یعنی ماس میڈیا کا نام دے دیا ہے ۔ ماس میڈیا یا عوامی ترسیل محض خبریں ،اطلاعات ،پیغامات ہی عام لوگوں تک نہیں پہچاتے ہیں بلکہ مختلف علوم و فنون ،اشتہارات وتفریحات اور کھیل کود وغیرہ سے متعلق معلومات کو بھی عوام تک پہنچاتے ہیں ۔ہمآری آج کی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ترسیل سے دستبردار نہیں ہے ۔آج کے عہد کا انسان ان ہی عوامی ذرائع ابلاغ کا تابع ہو کر رہ گیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ یا میڈیا کی نشرواشاعت اور اس کے فروغ کے ساتھ گنگا جمنی تہذیب و ثقافت کو بھی عروج بخشنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے ۔
سوشل میڈیا کی اہمیت وافادیت
- 1. باہمی روابط بنانا:-
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم کے ذریعہ ہم سب ایک دوسرے سے جڑتے ہیں اور باہمی تعلقات قائم کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مختلف چیزوں کو ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں اس سے ہمارا آپس کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے اور ہم سب بہت ساری معلومات سے آشنا ہوتے ہیں ۔
- 2. خود کو بہتر پیش کرنا:-
ہم اپنی مہارت کی بنیاد پر ،تعلیم کی بنیاد پر اور تجربات کی بنیاد پر کچھ ایسی چیزیں سوشل میڈیا پرشیئرکرتے ہیں جو کہ ہمیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے اور ہم خود کو بہتر طریقے سے پیش کرتے ہیں۔
- 3. تعلیم وتربیت:-
سوشل میڈیا پر تعلیمی مواد اور رہنمائی ہمیں آسانی سے مل جاتی ہے کیوں کہ مختلف ایسے پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعہ ہم دور حاضر میں تعلیم میں بہت آگے تک جا سکتے ہیں ،یا یوں کہیں کہ اگر کسی شخص کی مالی حالت بہتر نہ ہو تو وہ بھی مناسب اور کم ذریعہ معاش میں اعلیٰ درجے کا تعلیم حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ سوشل میڈیا کا موزوں استعمال کیا جائے ۔
- 4. معلومات کا تبادلہ:-
Artificial Intelligence کی وجہ سے بسا اوقات اگر ہم سوشل میڈیا پر کوئی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دیگر پلیٹ فارم پر بھی وہ ہمیں خودبخود دستیاب مل جاتا ہے ۔ ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا کے جڑے دیگر افراد اگر کوئی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ بھی معلومات دیگر سوشل میڈیا پر جاننے والے تک خودبخود دستیاب ہو جاتا ہے۔ اس سے ہم آپس میں تبادلہ خیال کر کے معلومات میں اضافہ کرتے ہیں ۔
- 5. سماجی ضروریات کو مکمل کرنا:-
سوشل میڈیا کے ذریعے ہم ایک دوسرے کی مدد اور اصلاح بھی کر سکتے ہیں ۔بسا اوقات ہمیں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ مختلف پلیٹ فارم ذریعہ ہمیں معلومات حاصل ہوتی ہے کہ فلاں شخص بہت مصیبت سے دوچار ہے انکو فلاں چیز کی ضرورت ہے ۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ انسانی ضروریات کی تکمیل بہت کم وقت میں بڑے پیمانے پر ہو جاتی ہے ۔
- 6. تجارت کو فروغ:-
سوشل میڈیا کے ذریعے ہم بڑے پیمانے پر تجارت کرتے ہیں اس سے وقت بھی بچ جاتے ہے اور سہل طریقہ سے ضروریات کے سامان دستیاب بھی ہو جاتا ہے ۔ دور حاضر میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعہ ہم اپنی ضروریات کے تمام چیزوں کو آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں نیز تجارت کو فروغ بھی دے سکتے ہیں۔
گنگا جمنی تہذیب اور سوشل میڈیا
گنگا جمنی تہذیب اور سوشل میڈیا کے مابین تعلق کا ذکر کرنا ہو تو مختلف پہلوؤں سے متعلق ہو سکتا ہے۔ گنگا جمنی تہذیب کا مقصد معاشرتی اصولوں ،اخلاقی اقدار اور رسومات کی تعلیم دینا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ،دنیا بھر میں لوگوں کے درمیان مواصلات کا اہم ذریعہ ہے جس میں ویڈیوز ،تصاویر اور پیغامات شامل ہوتے ہیں۔
گنگا جمنی تہذیب کے متعلق معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کر کے لوگوں تک تہذیب کو پہچاتے ہیں اور ان کے اصولوں پر بحث کرتے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور مواد کے ذریعہ گنگا جمنی تہذیب وثقافت کے پہلوؤں کو بیش کیا جا سکتا ہے تا کہ لوگ انہیں سمجھ سکیں اور زندگی میں عمل کر سکیں ۔ اس کے علاوہ گنگا جمنی تہذیب کو بحث کا مواد فراہم کرتاہے ،اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خیالات سننے اور مشورہ دینے کا موقع ملتا ہےیہ ایک اہم طریقہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ اجتماعی اصولوں اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ایسے تعلقات میں گنگا جمنی تہذیب وثقافت کو مادی اور روحانی طور پر بھر پور طریقے سے سوشل میڈیا کے ذریعہ فروغ دیا جا سکتا ہے جو اجتماعی ترقی اور تفکری ترقی کی راہ میں مدد فراہم کرتا ہے۔گنگا جمنی تہذیب کو سوشل میڈیا کے ذریعہ ہم مختلف طریقوں سے فروغ دےسکتے ہیں
- 1. مواد کی تیاری اور تشہیر:-
گنگا جمنی تہذیب کو فروغ کرنے کے لئے معلوماتی اور دلچسپ مواد تیار کریں ،جس سے کہ گنگا جمنی تہذیب وثقافت کو مزید تقویت ملے اور اس سے ہمارا معاشرہ اس بات کا اہل ہو پائے کہ ہم کس طرح اپنی تہذیب وثقافت کو زندہ رکھ سکتے ہیں ۔یہ مواد ویڈیوز کی شکل میں مضامین کی شکل میں تصاویر کی شکل میں اور گرافکس کی شکل میں ہم سوشل میڈیا پر اشاعت کر سکتے ہیں۔
- 2. سوشل میڈیا کمیونٹی:-
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہم مختلف طرح کے گروپس اور کمیونٹی بنا کر ہم اپنی تہذیب کو آگے آنے والی نسلوں کے لیےبچا کر بھی رکھ سکتے ہیں اور اس کی ترویج واشاعت بھی کر سکتے ہیں ۔
- 3. ہیش ٹیگ کا استعمال:-
مواد کو سوشل میڈیا پر نشر کرتے وقت مخصوص قسم کے ہیش ٹیگ (Ganga-Jamuni Civilization) کا استعمال کریں تاکہ وہ آسانی سے تلاش کی جا سکے اور لوگ اس کا بھرپور فائدہ بھی اٹھا سکے۔
- 4. ویڈیو ڈاکیومنٹریز اور ورکشاپ:- وقتاً فوقتاً ویڈیو ڈاکیومنٹری اور ان لائن ورکشاپ کا انعقاد جس میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑا جا سکے تاکہ لوگ گنگا جمنی تہذیب وثقافت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر سکے۔
- 5. ریڈیو اور ٹی وی کا استعمال:-
گنگا جمنی تہذیب وثقافت کے علمبرداروں کو اور معتبر شخصیات کو ہم سوشل میڈیا ریڈیو اور ٹی وی پر انکے خیالات کو نشر کریں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کو زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے تک پہنچانے کی کو شش کریں۔
خلاصہ کلام
گنگا جمنی تہذیب وثقافت کا دور حاضر میں سوشل میڈیا کے ساتھ ایک اٹوٹ رشتہ بن گیا ہے ۔ہم ان دونوں کو دو نظریے سے کبھی دیکھ نہیں سکتے ،کیوںکہ دور حاضر میں سوشل میڈیا ہر وہ کام میں شامل ہے جسکا کہ ہمیں 10 سال پہلے ہم اس توقع بھی نہیں کئے ہوں گے ۔ ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب وثقافت کا عکس ہمیں ملک کے گوشے گوشے میں نظر آتا ہے اور سوشل میڈیا بھی اپنی پہنچ بنانے میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہے ۔ وہ گنگا جمنی تہذیب وثقافت کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر ہر وقت کھڑا رہتاہے ۔
گنگا جمنی تہذیب وثقافت کو تقویت دینے میں سوشل میڈیا کا کردار اس لئےبھی اہم ہے کہ سوشل میڈیا میں مختلف ریاستوں کے درمیان تہذیب وثقافت کے تانے بانے بنے جاتے ہیں اور ہر کوئی اپنی تہذیب وثقافت کو روشناس کرانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس وجہ سے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آج کل انسانی ضروریات کی جتنی بھی چیزیں ہو اس کو ہم انٹرنیٹ کے ذریعہ حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور اس میں ہم کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ان سب باتوں کی بنا پر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ گنگا جمنی تہذیب وثقافت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭


Leave a Reply
Be the First to Comment!