اخترالایمان کے آباد خرابے میں
اخترالایمان کے آباد خرابے میں
)پ۱۲نومبر ۱۹۱۵ء ۔م ۹مارچ ۱۹۹۶ء(
ڈاکٹر فوزیہ خانم
گیسٹ ٹیچر ،ویمنس کالج
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
فون نمبر 9359724598
Email.fauziaga4787@gmail.com
اخترالایمان کی پیدائش ان کے ننھیال قلعہ پتھر گڑھ ضلع نجیب آبا د میں ہوئی ۔ان کے والدحافظ فتح محمد امامت کرتے تھے ،اور مسجد کے صحن میں مکتب بھی چلاتے تھے۔ وہ عربی، فارسی اردو ،ہندی کے ماہر تھے اور طب کی معلومات بھی رکھتے تھے ۔ اخترالایمان سے چھوٹے دو بھائی اورچار بہنیں تھیں ،ان کا بچپن مفلسی ومحرومی میں بسر ہوا ۔اخترالایمان کے د اداکی چھ اولادیں تھیں چار لڑکے دو لڑکیاں ۔ان کا ذریعہ معاش کپڑے کا کاروبارتھا ۔ابھی بچے سن شعور کو نہیں پہنچے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا ۔ دونوں بڑے بیٹوں نے ساری زمین اور دکان مکان پرقبضہ کر لیا ۔ اخترالایمان کے والد گھر چھوڑ کر سہارن پورچلے گئے ۔خیراتی ادارے سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد امامت کا پیشہ اختیار کیا،اوراپنے چھوٹے بھائی یامین کواپنے پاس رکھ کر مذہبی تعلیم دلائی ۔
اخترالایمان کا شمار اردو ادب کے مقبول شعرا میں ہوتا ہے ۔انھوں نے زندگی کے تلخ وشیریں حقائق کواپنے کلام میںبڑی خوبصورتی سے پیش کیاہے ۔شاعری کے علاوہ اخترالایمان کے نثری اثاثے جن میں مقدمے ، تقریظات ،مضامین اور آپ بیتی ’اس آباد خرابے میں‘شامل ہیں۔ ان کی تحریروں کی اہم خصوصیات زبان کی برجستگی ،بے ساختگی ،حقیقت نگاری ،سادگی، لہجہ کا دھیمااور کھردرا پن ہے ،اسلوب ومواد کے اعتبار سے بھی اپنی انفرادی شان رکھتی ہیں ۔زیر نظر مضمون میں ان کی خودنوشت کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا جارہا ہے ۔
اخترالایمان نے اپنی خودنوشت مروجہ فنی اصول وتکنک سے ہٹ کر نئے انداز میں لکھی ہے ۔جس زمانے میں انھوںنے آپ بیتی لکھی وہ زمانہ جوش اور قدرت اللہ شہاب جیسے فن کاروں کی داستانوی طرز کی خودنوشتوں کا چلن تھا ۔پھر بھی اخترالایمان نے حقائق کے ساتھ سادہ وسلیس لب ولہجہ اختیار کیا ۔جوش کی طرح نہ تو انھوں نے اپنے قاری کے لیے جنسی تلذذکا سامان فراہم کیا اور نہ ہی شہاب کی طرح داستانوی انداز اختیار کیا ۔اخترالایمان نے اپنے جذبات واحساسات ،خواہشات اورترجیحات کو قاری پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی ،بلکہ سیدھے اور سپاٹ لہجے میںاہم ترین واقعات کو پیش کر دیا ہے ۔اخترالایمان نے خودنوشت کو پندرہ ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔خودنوشت لکھنے کی وجہ’ پیش لفظ‘ میں وہ یوں بیان کرتے ہیں ۔
’’یہ خود نوشت کسی خاص پلان کے تحت وجود میں نہیں آئی ۔ایسے ہی ایک مرتبہ خالی الذہن بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا کہانیاں کیا ہوتی ہیں ؟گذرے ہوئے واقعات کی بازگشت ،یادداشت کی شکل میں انھیں کاغذ پر محفوظ کرنے کی نیت ؟پھر یہ کہ کہانی تو خیالی ورزش یاکدوکاوش ہے مگر جو کچھ آدمی پرگزرتی ہے وہ تو خیالی نہیں ۔اگر اس کو قلم بند کیا جائے تو کیا وہ کہانی نہیں بن جائے گی؟…میں نے اس خود نوشت میں جیسی مجھ پر گزری ہے سب لکھ دیا ۔روکھے پھیکے واقعات ہیں ۔ان میں کوئی جی لبھانے والی بات نہیں ۔اگر کسی کو خودنوشت کا پڑھنا تضیع اوقات معلوم ہو تو میں سرمشار ہوں…میری زندگی میں کوئی چمک دمک یاافراط وتفریط بھی نظر نہیں آتی بہت کچھ ایسا ہے کہ اسے لکھوں گا یا اس کے بارے میں لکھوں گا تو افسانہ طرازی یاخود ساختہ بات محسوس ہوگی ۔‘‘۱؎
اخترالایمان کی آپ بیتی میں واقعات کی تکرارنے فنی عیب پیداکردیا ہے ۔ سلطانہ ایمان ’ ’اس آباد خرابے میں‘ ‘ کے ’’مقدمہ ‘‘ میں واقعات کی تکرار کی وجہ یوں بیان کرتی ہیں ۔
’’اختر صاحب اپنی سوانح پر کوئی پانچ چھ سال سے کام کر رہے تھے مگر یہ کام مسلسل نہیں تھا ۔سوانح قسط وارــ’’سوغات‘‘میں چھپ رہی تھی جس کے ایڈیٹر محمود ایاز کے تقاضے پر ایک یا ایک سے زیادہ باب لکھ کر بھیج دیا کرتے تھے ۔اور پھر دوسرے کاموں میں مصروف ہوجاتے تھے ’’سو غات‘‘سال میں دو بار چھپتا ہے مختلف ابواب کے لکھنے میں فاصلے کی وجہ سے بعض دفعہ ایک ہی بات دہرائی گئی ہے۔‘‘۲؎
اخترالایمان کی خودنوشت کا مطالعہ ان کے قائم کردہ ابواب کے مطابق کیا جارہاہے ۔
پہلا باب: اس باب میں اختر الایمان نے اپنے بچپن کی یادوں، اپنے والدین کی خانہ بدوشی اورخود پر گزرے ہوئے نامساعد حالات کو پیش کیا ہے ۔ والد کے منصب امامت کے باعث ان کا قیام مختلف دیہاتوں میں رہا تاہم والدین کی ازدواجی زندگی ناخوشگوار تھی۔ جس کی وجہ سے اخترالایمان خود کو تنہا ،بے بس اور بے سہارا محسوس کرتے تھے ۔جب ان کی ماں میکے چلی جاتیں تو انھیں اپنے والد کے ساتھ ہی رہنا پڑتا ،تاکہ پڑھائی کا نقصان نہ ہو ۔کئی سالوں تک ان کی تعلیم کا کوئی باضابطہ انتظام نہ تھا ،کبھی حفظ قرآن تو کبھی اسکول بھیج دئیے جاتے تھے ۔اختر الایمان نے دیہی زندگی وہاں کے رہن سہن ،طورطریقے وغیرہ کا تذکرہ بڑی تفصیل سے کیا ہے ۔جن جن گاوں میں اخترالایمان نے اپنا بچپن گزارا ان سبھی کا ذکر کیا ہے،اپنے والدین کے آپسی اختلاف کی وجہ وہ یوں بیان کرتے ہیں ۔
’’میرے والد امامت کاپیشہ کرتے تھے ۔انھوں نے مذہبی تعلیم سہارنپور میں حاصل کی تھی ۔بہت اچھے قاری تھے ۔انھیں دیہات بہت پسند تھے ۔امامت کے علاوہ مسجد کے صحن میں مکتب کھولتے تھے جہاں دیہات کے ہر عمر کے لڑکے لڑکیا ں پڑھنے آتے تھے۔ کمباسی میں جمیلہ نام کی ایک لڑکی ان کے پاس پڑھنے آتی تھی ۔گورا رنگ ،لانبا قد ،چھریرا بدن ،دل آویز ناک نقشہ ۔ابا اس میں بڑی دلچسپی لیتے تھے ۔کچھ دن بعد جمیلہ نے آنا بند کر دیا اور ابا نے یہ گاؤں چھوڑ دیا ۔میرا خیال ہے کہ کم وبیش ایسا ہی واقعہ ہر جگہ پیش آیا تھا ۔اباگھر میں سوتے بھی نہیں تھے ۔مسجد کے ہجرے میں رہا کرتے تھے …ابا اور اماں میں ایک دوری تھی ۔وہ زیادہ تر اپنے میکے میں رہتی تھی اماں ان پڑھ تھیں ۔ابا کے مزاج میں تھوڑی رنگینی تھی ۔شاید یہ دو باتیں اس دوری کا سبب تھیں ۔‘‘۳؎
مذکورہ تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخترالایمان نے حق گوئی ،بے باکی کا عمدہ ثبوت پیش کیا ہے ۔انھوں نے کسی بھی واقعے کی پردہ پوشی نہیں کی یہاں تک کہ اپنے والد کی رنگین مزاجی جیسے واقعات کوبھی سیدھے اور سپاٹ انداز میں بیا ن کر دیا ہے۔
دوسرا باب:اس باب میں اخترالایمان نے اپنے خانگی حالات ،مالی دشواریوں ،سگھ بستی ،جگادھری،بوڑیہ کی عمارتوں ،سڑکوں،اینٹوں جوقدیم تہذیب کی آئینہ دار ہیں ، فطری مناظر ،دوستوں ، اپنی اسکولی تعلیم ، بوعلی شاہ قلندر کے مزار پر لگنے والے بھادوں کے میلے ، تیوہاروں ،شادی بیاہ وغیرہ جیسی مذہبی ،ثقافتی ،تہذ یبی روایات واقدار کی منظر کشی بڑے خوبصورت انداز میں کی ہے ۔ اخترالایمان کی والدہ بہت خوددار تھیں ،وہ اپنے شوہر کے رحم وکرم پر کبھی نہ رہیں بلکہ جس گاؤں میں رہتیں گائے ،بھینس پال لیتیں یا پھرسلائی کرکے اپنا خرچہ خود اٹھاتیں ۔ اخترلایمان کی والدہ کو شک تھا کہ ان کے شوہر نے دوسری شادی کر رکھی ہے۔ اخترالایمان اپنے والدین کے مزاج کے متعلق لکھتے ہیں ۔
’’میر ی والدہ کے مزاج میں خوداعتمادی اور ضد بہت تھی ۔وہ ناخواندہ تھیں ۔اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا تھامگر انھو ں نے کبھی اپنے کومعذور یا میرے والد کا دست نگر نہیں سمجھا وہ اپنی گزر بسر کے لیے کچھ نہ کچھ کر لیتی تھیں بھینس پال لیتی تھیں یاپھر کپڑے سینے شروع کر دیتی تھیں ۔وہ مرتے مر گئیں مگر ان کے ذہن سے یہ بات نہیں نکلی کہ میرے والد کی دوسری بیوی ہے جبکہ آج تک اس کاکوئی ثبوت نہیں ملا …جو ضد میری والدہ کے مزاج میں تھی وہی والد کے مزاج میں تھی…اس طرح کے لوگ جو خود ساختہ ہوتے ہیںزندگی کی صعوبتیں انھیں کبھی ضدی اور ہیکڑ بنا دیتی ہیں اور کبھی منکسرالمزاج ۔‘‘۴؎
اخترالایمان تنہارہتے رہتے تنہائی پسند ہوگئے تھے، وہ گھنٹوں تنہابیٹھے رہتے ۔اکثر وہ جنگلوں ،کھیتوں میںتنہا گھومتے رہتے ۔ جب وہ سگھ بستی میں رہتے تھے مستقبل کے بارے میں ان کا نہ کوئی خواب تھا نہ ہی کوئی منصوبہ وہ لکھتے ہیں ۔
’’…میں بنیادی طور پرخواب کار ہوں۔گھنٹوں بلکہ دنوں تنہا بیٹھا اپنے آپ میں گم رہ سکتا ہوں ۔جب میں سگھ بستی میں رہتا تھااپنی گائیں چراتا تھا ۔اور ایک طرح سے کھیت مزدور کی زندگی گزاررہا تھا …اپنی نہاد اور گرد وپیش کی وجہ سے میرے ذہن میں زندگی کا کوئی ارفع واعلی تصور نہ تھا ۔میں آج جو زندہ ہوں یہ بھی محض اتفاق ہے… ان جنگلوں میں تنہا گھومتا پھرتا تھا۔جس میں بھیڑیے لکڑبگھے تھے ۔۵؎
تیسرا باب :اس باب میں انھوں نے اپنی منظوم سوانح لکھنے کا ذکر کیا ہے ۔نمونے کے لیے کچھ اشعار بھی درج کیے ہیں۔ اخترالایمان نے اپنی ننھیال پتھڑ گڑھ کے قلعہ جسے نجیب الدولہ نے بنوایاتھا، اس کی وجہ تسمیہ اور وہاں کے تاریخی واقعات ،سلطانہ ڈاکو کے پکڑے جانے کے بعد قلعہ خالی ہوناوغیرہ کا ذکر کیاہے۔ایک دن اخترالایمان اپنے والد کے پیسے چراکر اپنی والدہ کے پاس گئے ،ان کی والدہ پریشان ہوگئیں۔اخترالایمان اپنے والد کے پاس نہیں جانا چاہتے تھے اس لیے ان کے ماموںنے ان کا داخلہ مدرسہ میں کرا دیا جہاں وہ حفظ کرنے لگے ۔اختر الایمان اپنی والدہ کی پریشانی کا ذکریو ں کرتے ہیں ۔
’’محمد اختر تم ؟اماں مجھے ہمیشہ محمد اختر کہا کرتی تھیں ۔میں نے انھیں بتا دیا ۔جگادھری سے بھاگ آیاہوں اور واپس نہیں جاوں گا ۔اماں کومیری عادت معلوم تھی ۔جب مجھے کوئی بات لگ جاتی ہے تو میںاپنا ارادہ نہیں بدلتا ۔انھوں نے ہاتھ پکڑ کر مجھے پاس بٹھا لیا اور سوچنے لگیں ۔سوچنا کیا پریشان ہوئی ہوں گی اب میرے بیٹے کا کیا ہوگا ۔سوا تن بہ تقدیر کے مستقبل تو میرے جیسے لوگوں کا ویسے بھی کچھ نہیں ہوتا ۔جہاں بیٹھ گئے وہی اپنی زمین ہے جہاں رات ہوگئی وہی محل سرائے!‘‘۶؎
کچھ دنوں بعد اخترا لایمان کے والد انھیں اپنے بھائی یامین کے پاس دہلی بھیج دیتے ہیں۔
چوتھا باب:اس میں اخترالایمان نے دہلی جانے اورتعلیم حاصل کرنے کی تفصیلات بیان کی ہے ۔ان کے چچا نے انھیں تین چار دن اپنے پاس رکھ کر یتیم خانہ میں داخل کرا دیا جہاں رہ کر چار سال تک انھوں نے تعلیم حاصل کی وہ لکھتے ہیں ۔
’’میرا اگلا قدم دلی شہر تھا ۔یہ ۱۹۳۰ء کی بات ہے ۔دلی میں جہاں میں نے ابتدائی چار سال گزارے اس جگہ کا نام مؤیدالاسلا م تھا ۔یہ ایک ریفارمیٹری اسکول اور یتیم خانہ تھا ۔یہ دریا گنج میں واقع تھا ۔‘‘۷؎
اخترالایمان نے مؤیدالاسلا م کی عمارتوں ،طلبہ ،اساتذہ اور بطور خاص معذور طلبہ کاتذکرہ بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ مؤیدالاسلا م میں داخلے کے بعدکا پہلا تجربہ انھوں نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
’’…جیسے جیسے رات بڑھی لڑکے سوگئے ۔ میں ایسے ہی بیٹھا رہا ۔نیند نہیں آئی ۔پھر جانے کیوں مجھے رونا آگیا ۔ایسی اپنی ذات میں تنہائی کی زندگی تو میں بچپن سے گزار رہاتھا۔پندرہ سال پرانی عادت تھی مگر اس رات مجھے محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے ساتھ چھل کیا ہے اور روتے روتے سو گیا ۔‘‘۸؎
مؤیدالاسلا م میں اخترالایمان کا داخلہ چوتھی جماعت میں ہوا۔یہاں انھیں دوتین بہت اچھے استاد مل گئے جن کا ذکر انھوں نے محبت اور عقیدت سے کیا ہے ۔ان اساتذہ کی شفقت اور سرپرستی کی وجہ سے اخترالایمان کا علمی وادبی ذوق پروان چڑھنے لگا ۔انھوں نے مؤیدالاسلا م کے اساتذہ و طلبہ کے رہن سہن ،اور معاشرے میں پھیلی امرد پرستی جیسی لعنت وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے ۔جس کے شکار مؤیدالاسلام کے کچھ بچے اور اساتذہ بھی تھے ۔ان میں سے کچھ بچے مر بھی گئے تھے ۔مرنے والوںمیں اخترالایمان کا ایک دوست بھی تھا اس کی موت کا انھیں بے حد افسوس تھا۔
مؤیدالاسلا م کا آخری سال تھا اخترالایمان کو نمونیہ ہوگیا انھیں ایک خیراتی اسپتال میں داخل کراد یاگیا۔ ان کے چچا اسپتال میں ان سے ملنے آئے حالت زیادہ خراب دیکھ کر انھوںنے اختر کی والدہ کو خبر کر دی۔ان کی والدہ کو معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا یتیم خانہ میںرہتا ہے ،توبہن سے بہت ناراض ہوئیں۔ مؤیدالاسلا م کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اخترالایمان مستقبل کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں ۔
’’۱۹۳۴ء میں میری مؤیدالاسلا م کی زندگی ختم ہوگئی۔وہاں سے انگریزی کے ساتھ آٹھویں جماعت پاس کر لی تھی ۔میرے پاس ایک ٹین کا صندوق تھا ۔جس کی ساخت ایسی تھی جیسے جسم پر آبلے پڑجاتے ہیں ۔جب میں خالہ کے ساتھ دلی جارہا تھا اماں نے وہ صندوق میرے ساتھ کر دیا تھا ۔چچا نے وہی صندوق مؤیدالاسلا م میں میرے پاس پہنچا دیا تھا جس روز مؤیدالاسلا م چھوڑا وہی صندوق میرے سر پر تھا اورمیں مستقبل کی تلاش میں دلی کی سڑکوں پر سے گذر رہا تھا۔‘‘۹؎
پانچواں باب : مؤیدالاسلا م چھوڑنے کے بعد اخترالایمان اپنے چچا کے گھر رہنے لگے ۔ان کاگھر بہت چھوٹا تھا۔ اخترالایمان کے والد بھی دلی آگئے تھے،لیکن وہ مسجد کے ہجرے میں رہتے تھے ۔اخترالایمان کو ہجرے کی زندگی پسند نہیں تھی ،اس لیے وہ اپنے والد کے پاس نہیں رہتے تھے۔مجبوری میں اپنے چچا کے گھر رہتے تھے ۔وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے مگر وسائل نہیں تھے ۔وسائل کے فقدان اور اپنی بے بسی کا اظہار انھوں نے اس طرح کیا ہے ۔
’’…میں چچا کے یہاں نہیں رہنا چاہتا تھا ۔مگر میری خواہش اپنی جگہ اور صورتحال اپنی جگہ ۔اسی طرح کی مجبوریوں میں انسان جیتے ہیں ،جیتے کیا ہیں ــــ’’گزران‘‘کرتے ہیں ۔صبح کی شام اورشام کی صبح کرتے ہیں…ان میں تھوڑے تھوڑے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جوزندگی کا مقصد جانناچاہتے ہیں ۔کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتا تو اسے مقصد دینا چاہتے ہیں ۔میرا شمار کن لوگوں میں ہوسکتا ہے نہیں کہہ سکتا ۔مگر میں بے چین رہتا تھا۔میرا خون گر م اور آنکھیں جلتی رہتی تھیں جڑا ہوا بھی انسانوں کے اس طبقہ سے تھا جو پیٹ بھرنے کو زندگی سمجھتے تھے …خواب ایسے دیکھتا تھاجیسے بازؤں میں پر نکل آئے ہیں ۔لوگ مجھے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور میں اڑ کر کبھی اس ڈال کبھی اس ڈال پر ۔ذہن میں ایک ہی بات بیٹھی ہوئی تھی اڑنے کے لیے پر چاہیے توعلم حاصل کرو ۔مگر کیسے وسائل کہاں ہیں ۔‘‘ ۱۰؎
؎ اپنے خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں اخترالایمان دہلی کی گلیوں میں بے مقصد بھٹکاکرتے تھے ۔ایک دن ان کی نظر ’فتح پورمسلم ہائی اسکول‘کے بورڈ پر پڑی۔دیکھتے ہی ان کے قدم خود بخوداسکول کی طرف اٹھ گئے،اور ہیڈ ماسٹر سے ملنے پہنچ گئے۔دیکھا تو وہ کام میں مصروف تھے جب ان کی نظر اختر پر پڑی تو انھوں نے آنے کی وجہ دریافت کی ۔اخترنے اپنے اور ان کے درمیان ہوئے مکالمے کویوں بیان کیا ہے۔
’’کون چاہیے تمہیں ؟کس سے ملنا ہے ؟میں نے اپنا نام بتایا ’’میں اخترالایمان ہوں ‘‘…’’انھوں نے ٹوکا’’نام تو غلط ہے تمہارا‘‘ ’’مگر کام غلط نہیں کرتا‘‘میرے منھ سے نکل گیا ۔وہ سن کر مسکرائے میں نے مدعا بتایا اور پورا اتا پتہ دیا ۔موئد الاسلام سے مڈل پاس کیا ہے چار سال وہیں گذارے ہیں ۔آگے پڑھنا چاہتا ہوں مگر میرے پاس وسائل نہیں ہیں …۱۱؎
اس طرح اخترالایمان کا داخلہ فتح پور مسلم ہائی اسکول میں ہوگیا ۔ہیڈ ماسٹر صاحب نے فیس معاف کر دی لیکن کھیل کی فیس انھیںادا کرنی تھی، اخترالایمان نے ٹیوشن پڑھا کر اسے ادا کیا۔اب وہ چچاکا گھر چھوڑ کر ایک کمرہ کرایہ پر لے لیا۔ اخترالایمان پڑھائی کے علاوہ اسکول کی دوسری سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے ۔تعلیم ختم ہونے کے بعد ہیڈ ماسٹر نے ایک سرٹیفیکیٹ دیا جس میں لکھا تھا’’ محمد اخترالایمان بہت ہونہار، اچھے اخلاق اور عادات کالڑکا ہے ۔ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے بہت صحت مند اور خوش بیان مقرر ہے ۔ بدقسمتی سے یہ غریب ہے ۔اسکول میں اس کی فیس معاف تھی کالج یایونیورسٹی میں جہاں یہ پڑھنا چاہے وہاں اسے مد د نہ ملی تو اس کا ترقی کرنا مشکل ہے۔ میں بڑے پرز ور الفاظ میں اس کی سفارش کرتا ہوں۔ ‘‘اخترالایمان کو یہ سرٹیفیکیٹ دکھا کر اینگلو عربک کالج میں داخلہ مل گیا ۔
چھٹواں باب :اس میں انھوں نے اینگلو عربک کالج میں داخلہ لینے اورپاس ہونے کی خوشی میں دوستوں کے ساتھ پکنک منانے کے پروگرام کو ایک سانحہ کے طور پر یاد کیا ہے ۔جمنا ندی میں نہانے کے دوران دودوستوں کی ڈوب کرموت ہوگئی اس کا انھیں بہت افسوس تھا۔ اخترالایمان نے کالج کی طالب علمی کے زمانے میں بھی ٹیوشن پڑھانا جاری رکھا ۔فرق اتنا تھا کہ اب بچے ان کے پاس آکر پڑھتے تھے۔شام کے وقت ایک مسجد میں اسکول کھول کر بڑے عمر کے لوگوں کو بھی پڑھایا کرتے تھے۔ اخترالایمان جس مکان میں رہتے تھے وہاں کے پڑوسیوں کا بھی ذکر کیا ہے ۔اخترالایمان کے پڑوسی رحمن صاحب بھی تھے ،ان کی ایک عزیزہ جس کا نام چھنو تھا اخترالایمان کے پاس انگریزی پڑھنے آتی تھی۔کچھ دن کے بعد قیصر نام کی ایک لڑکی بھی ملنے آنے لگی اخترالایمان اور قیصر میں دھیرے دھیرے قربت بڑھتی گئی ۔اپنے نوخیز عشق کی داستان کو اخترالایمان نے بڑی سادگی اور سپاٹ لہجے میں یوں بیان کیا ہے ۔
’’…معلوم نہیں کہنا ٹھیک ہے یا نہیں مگر تم مجھے اچھی لگتی ہو ۔‘‘اس نے اس بات کا برا نہیں مانا ۔جیسے جیسے ملاقات بڑھی چھنو پس منظر میں چلی گئی میں نے اپنی پڑھائی کا بہانہ کر کے اسے بلانا بند کر دیا ۔مگر قیصر آتی رہی اور یہ پسندیدگی آہستہ آہستہ قربت میں بدل گئی ۔اس سے پہلے میں کسی لڑکی کے اتنا قریب نہیں آیا تھا ۔ہم دن دن بھر گھر سے نہیں نکلتے تھے ۔بس باتیں کرتے تھے ۔کیا باتیں کرتے تھے یہ بتانا مشکل ہے ۔لڑکا لڑکی جنھیں ایک دوسرے سے تعلق خاطر ہو اگر ان کی گفتگو نقل کی جائے یاریکارڈ کرکے سنی جائے تو سو فیصد لایعنی اور بے معنی ہوگی۔یہ بے معنی پن ہی ان باتوں کا حسن ہے ۔قیصر کا نہیں معلوم اپنی کہہ سکتا ہوں ۔ان دنوں میرا اس کے سوا اور کوئی موضوع نہیں تھا۔قیصر شادی شدہ ہے یہ مجھے شروع میں نہیں معلوم تھا ۔‘‘۱۲؎
ساتواں باب:اس میں اخترالایمان نے اپنے ددھیال ، ننھیال اور اپنے بھائی بہنوں سے متعلق اہم باتوں کا تذکرہ تفصیل سے کیا ہے ۔اخترالایمان کی چھوٹی بہن کا رشتہ ان کے تایا نے اپنے بڑے بیٹے کے لیے مانگا۔ظاہری وجہ یہ تھی کہ پرانی آپسی رنجش ختم ہوجائے۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان کے لڑکے کی شادی بہت پہلے ہوچکی تھی ،لیکن گھر والوںنے مل کر اس کی بیوی کو کسی گاؤں میںبیچ دیا تھا۔اسی وجہ سے دوسری شادی نہیں ہوپارہی تھی ۔اخترالایمان کے والد اور تایا کے باہم مشورے سے شادی ہوگئی ۔شادی کے بعد ان کے تایا نے اپنے دونوں بھائیوں کو مقبوضہ جائدات واپس کردی تھی ۔اب اخترالایمان کی والدہ مستقل راوکھیڑی میں رہنے لگیں ۔ اخترالایمان چھٹیوں میں اپنی والدہ سے ملنے وہیں جایا کرتے تھے ۔اخترالایمان کی والدہ کو اپنے بیٹے کی شادی کی فکر ہوئی ،انھوں نے لڑکی کی تلاش شروع کردی ،اخترالایمان کچھ دن تک ٹال مٹول کر تے رہے ،لیکن ایف اے کادوسرا سال تھا اخترالایمان داخلہ لے کر گھر پہنچے تو معلوم ہوا ان کی شادی طے ہوچکی ہے ۔ انھوں نے بہت ہاتھ پیر مارا مگرکچھ بس نہ چلا اورآخر کار شادی ہوگئی ۔
کچھ دنوں بعد ان کی والدہ اپنی بہو سلمہ کو لے کر اخترا لایمان کے پاس دہلی آگئیں ۔بیوی پڑھی لکھی نہ تھی وہ اسے پڑھانا چاہتے تھے۔ سلمہ کے مزاج میں ضد تھی ،اس نے پڑھنے سے انکار کر دیا ۔اخترالایمان نے اپنی والدہ کو سمجھایا اسے راوکھیڑی لے جائیں اور وہ وہیں آجایا کریں گے ۔اخترا لایما ن اکثر گاؤں جاتے رہتے تھے ،لیکن بیوی سے رفاقت قائم نہ ہو سکی۔بار بار گھر جانے کی وجہ سے وہ پڑھائی پرخاص توجہ نہ دے سکے اور فیل ہوگئے ۔کالج میں جو مراعات ملی تھیں ختم ہوگئیں ۔ پھر انھوں نے سب کچھ بھول کر پڑھائی پر توجہ دینی شروع کر دی ۔بیوی اور ماں دونوں کے ناخواندہ ہونے کی وجہ سے خط وکتابت کا سلسلہ بھی نہ ہوسکا۔ اس طرح ایک سال کی دوری نے میاں بیوی کے بیچ اور فاصلہ پیدا کر دیا ۔بی اے میں داخلہ کے بعد جب اخترالایمان گھر گئے تو ان کی بیوی میکے سے آگئی ،مگر واپس جانے کی ضد کرنے لگی ۔اخترالایمان نے بھی اسے جانے دیا۔وہ اپنی تعلیم کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہتے تھے ۔مالی حالت بھی اتنی اچھی نہیں تھی کہ بیوی کو ساتھ میں رکھتے اس لیے حالات جیسے چل رہے تھے چلنے دیا، جب چھٹیاں ختم ہوگئیں تووہ دہلی واپس آگئے ۔
آٹھواں باب :بی اے میں داخلہ کے بعد اخترالایمان کا تعلق گھر سے برائے نام ہی رہ گیا ۔وہ اچھے مقرر بھی تھے، اکثر علی گڑھ ،کانپور ،آگرہ، لاہور ،دلی ،لکھنو کے مقابلے میں شریک ہوتے تھے اورہمیشہ پہلا انعام لے کرآتے تھے۔اخترالایمان کبھی اپنی تقریر رٹ کر یا لکھ کر نہیں بولتے تھے ۔وہ کالج کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ کالج کے زمانے کی ان کی کوئی تصنیف ،شاعری ،افسانہ،ناول وغیرہ محفوظ نہ رہ سکی ۔انھوں نے کالج کے احباب اور اساتذہ کاذکر کیا ہے جن کا ان کی زندگی میں اہم رول رہا ۔اپنے ذاتی مسائل سے متعلق بھی وہ اپنے اساتذہ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ آفتاب نام کے ایک استاد کا ذکر انھوں نے اس طرح کیا ہے۔
’’مجھ پر ایک دور ایسا بھی آیا کہ میں جینے سے بددل ہوگیا ۔کہیں کوئی روشنی دکھائی ہی نہیں دیتی تھی۔سخت احساس محرومی کا شکار تھا۔ان دنوں میں نے اپنے اندر کئی تبدیلیاں پیدا کر لیں ۔جن میں کچھ ایسی باتیں بھی تھیں جنھیں اس وقت خرابیاں کہا جاسکتا تھا۔مثلا شراب نوشی شروع کردی اور اس درجہ کہ دن میں بھی پینے لگا ۔یہاں تک کہ پی کرکلاس میں آجاتا تھا ۔آفتاب صاحب کو کچھ اس کا اندازہ ہوگیا تھا شاید۔وہ جب مجھے اس حالت میں دیکھتے توکلاس چھوڑ دیتے تھے اور ساتھ لے کر اپنے کمرے میں چلے جاتے تھے ۔چائے پلاتے تھے ،بسکٹ کھلاتے تھے۔ادھر ادھر کی باتیں کرتے تھے ۔مگر کبھی یہ نہیں کہا ۔پی کر کیوں آئے ہو۔ایسی باتیں کرتے تھے جس سے مجھے احساس ہو۔غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے۔ ‘‘۱۳؎
اسی طرح ایک بار اخترالایمان پر کئی مہینے کی فیس واجب ہوگئی تھی ۔آفتاب صاحب نے انھیںکمرے پر بلایا اورادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد پوچھا’ کلکتہ اور آگرہ کے بارے میں کچھ جانتے ہو ‘؟پھر انھوں نے اخترالایمان کو پڑھنے کے لیے ایک گائیڈ بک دی جس میں کلکتہ اور آگرہ کے بارے میں اہم معلومات تھیں ،جب وہ پڑھ چکے توانھوں نے پوچھا دونوں شہروں کے بارے میں چھوٹے چھوٹے ڈرامے لکھ سکتے ہو بیس پچیس منٹ کے ریڈیو پر پڑھنے کے لیے ۔اخترالایمان نے کہا ہاں لکھ سکتا ہوں ۔آفتاب صاحب نے انھیںکمرے میں بند کردیا ۔اخترالایمان نے وعدہ کیاکہ کل لکھ کرلے آؤں گا مگر آفتاب صاحب نے دروازہ نہیں کھولا ،اور کہا کام پورا کرلوگے دروازہ کھل جائے گا۔اخترالایمان نے ایک ہی نشست میں دونوں ڈرمے لکھ ڈالے اس بات پر انھیں خود بھی حیرت ہوئی۔آفتاب صاحب نے دونوں ڈرامے دہلی ریڈیو اسٹیشن بھیجوا دیے ،اور وہاں سے جو روپے ملے اس سے اخترالایمان کی فیس ادا کر دی ۔ ُٓں کے پاس کلکتہ اورآگرہ کے موضوع پرریڈیو پر بولنے کے لیے الایمان کو ایسے اساتذہ ملے جن کی صحبت شفقت اور سر پرستی نے اخترالایمان کے مستقبل کو تابناک وتابندہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ کالج کے دوستوں کا بھی بھی ذکر کیاہے جن میںبہت سے ادیب وشاعر بھی ہیں جیسے جمیل الدین عالی،حسن عسکری ،بشیر بٹ وغیرہ ۔کالج کے زمانے میںاخترالایمان کی شہرت شاعر او رمقرر کی حیثیت سے ہوچکی تھی ۔ان کے حلقہ احباب میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے ۔لڑکیوں سے دوستی کا ذکر غیر جذباتی انداز میں کیاہے ۔عورتوں سے متعلق اپنے نقطہ نظر کی وضاحت اخترالایمان نے ان الفاظ میں کی ہے ۔ ے باتیں کرتے وقت میرے ذہن میں جنس نہیں آتی ایک ذہنی آسودگی کا احساس ہوتا ہے ۔میرا ہمیشہ
اختر الایمان کو ایسے اساتذہ ملے جن کی صحبت ،شفقت اور سر پرستی نے ان کے مستقبل کو تابناک وتابندہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔انھوں نے کالج کے دوستوں کا بھی ذکر کیا ہے جن میں بہت سے ادیب وشاعر بھی ہیں جیسے جمیل الدین عالی،حسن عسکری ،بشیر بٹ وغیرہ ۔کالج کے زمانے میں اخترالایمان کی شہرت شاعر اور مقرر کی حیثیت سے ہوچکی تھی۔ ان کے حلقہ احبا ب میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں تھے ۔عورتوں سے متعلق اپنے نقطہ نظر کی وضاحت اخترالایمان نے ان الفاظ میں کی ہے ۔
’’ عورتوں سے باتیں کرتے وقت میرے ذہن میں جنس نہیں آتی ایک ذہنی آسودگی کااحساس ہوتا ہے ۔میراہمیشہ سے خیال ہے۔ عورت زندگی میںتوازن پیدا کرتی ہے ۔‘‘۱۴؎
اخترالایمان اوران کے دوستوں نے گرمی کی چھٹیاں پہاڑ پرگذارنے کا ارادہ کیا۔بائیس دنوں تک انھوں نے پہاڑ ی چٹانوں اور خوبصورت مناظر کی سیرکی۔اس سفر میں انھوںنے ڈائری بھی لکھی ،جس میں انھوںنے فطری مناظر اورمقامی لوگوں کی تہذیب وتمدن وغیرہ کا ذکرتفصیل سے کیا ہے ۔
سیرو تفریح سے واپس آکر اخترالایمان کالج اور ادبی وثقافتی سرگرمیوں میں اس قدر منہمک ہوگئے کہ بیوی ان کے ذہن سے بالکل غائب ہوگئی ۔چچا کے یہاں سے گاؤں کی خیریت ملتی رہتی تھی ۔ایک بار اپنے چچا کے گھر گئے تو معلوم ہوا کہ بیوی سرکش ہوچکی ہے وہ لکھتے ہیں ۔
’’کالج کی ان مصروفیتوں اور ادبی کاوشوں کے درمیان بیوی بالکل ذہن سے نکل گئی ۔خط وکتابت ہوتی رہتی تورابطہ رہتا مگر بیوی بھی جاہل تھی اور ماں بھی ناخواندہ ۔رابطہ رہتا بھی تو کیسے مگر گھر کی خبریں ضرور ملتی رہتی تھیں ۔چچا ابھی تک نیاریوں کے محلے میں رہتے تھے ۔جو عربک کالج سے بہت قریب تھا۔وقت ملتا تو وہاں چلا جاتا تھا ۔ایک مرتبہ گیا تو معلوم ہوا بیوی تھوڑی سرکش ہوگئی ہے ۔اماں سے پوچھے بغیر ادھر ادھر چلی جاتی ہے ۔اماں منع کرتی ہیں توزبان چلاتی ہے ۔پھر پتہ چلا ہمارے یہاں ظہور نے بہت آنا جانا شروع کر دیا ہے اور سلمہ سے بہت باتیں کرتا ہے۔‘‘۱۵؎
ظہور اخترالایمان کے تایا کابڑا بیٹا تھا ۔اس کی پہلی بیوی کا انتقال ہوچکا تھا دوسری بیوی کو طلاق دینے کی فکر میں تھا۔ ظہور چال چلن کا ٹھیک نہیں تھا ۔ اخترالایمان جب گھر گئے تو بیوی میکے چلی گئی اس کے جانے سے اخترا لایمان بہت بددل تھے۔ لیکن بیوی سے الگ ہونے کا خیال ان کے ذہن میں نہیں تھا،پھر بھی ظہور کے متعلق سن کر انھوں نے خاموشی اختیارکی،اور اپنی پڑھائی میں لگے رہے ۔
کالج کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اخترالایمان نے سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا تھا ۔عربک کالج مسلم سیاست کامرکز تھا ،اکثر وبیشتر یہاںپرمسلم لیگ کے جلسے ہوتے رہتے تھے ۔اخترالایمان مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن میں شامل ہوگئے۔ ڈاکٹرذاکر حسین اور لیاقت علی خاں جیسی شخصیات سے انھیں قربت حاصل تھی ۔ایک بار ناگپور میں فیڈریشن کا جلسہ تھا اخترالایمان نے انگریزوں کے خلاف دھواں دھار تقریر کی جناح صاحب صدر جلسہ تھے انھوں نے اخترالایمان کی تقریر کو ایک شاعر کا زور بیان کہہ کر اڑا دیا۔اخترالایمان ان کے ساتھ جالندھر کے جلسے میںبھی شامل ہوئے۔مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن کے عہدے داروں میں بہت سے لڑکے لڑکیاں شامل تھیں ان میں ایک لڑکی عارف تھی سب لوگ اخترالایمان اور عارف کو لیلی مجنو کا قصہ بناکر چھیڑتے تھے ۔اخترالایمان نے عارف پر ایک نظم لکھی جو کالج میگزین میں شائع بھی ہوئی،اس پر خوب ہنگامہ ہوا۔اخترالایمان لکھتے ہیں کہ جب مجھے عارف سے شادی کاخیال آیا تو میںنے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ اخترالایمان کی شادی سلطانہ سے ہوئی ۔شادی میں عارف بھی شریک تھی ،وہ سلطانہ کے بہن کی دوست تھی اس نے اخترالایمان سے کہا ۔’’تم نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے ،یہ لڑکی تمہیں خوش رکھے گی ۔‘‘
کالج کے آخری دنوں میں انتظامیہ سے اخترالایمان کے تعلقات خراب ہوگئے تھے ۔وہ فلسفہ اور تاریخ میں ایم اے کرنا چاہتے تھے لیکن کالج کے پرنسپل فاروقی صاحب اخترالایمان کے خلاف بہت کچھ لکھ کر گئے تھے اس لیے انھیں یہ کالج ہمیشہ کے لیے چھوڑنا پڑا ۔
نواں باب:اس باب میں انھوں نے دہلی کے مشہور ومقبول شاعروں اور ادیبوں کا ذکر کیا ہے ۔اخترالایمان بھی ان کے ادبی جلسوںمیں کبھی کبھی شریک ہوتے ،اور اپناکلام بھی پیش کرتے تھے ۔انھوںنے حلقہ میں شریک ادیبوں وشاعروں کے عادات واطوار کا بھی ذکر کیا ہے ۔ان شاعروںمیں پنڈت امیر چند،ساحر،خواجہ حسن نظامی ،استاد بے خود ،خواجہ شفیع ،نخشب جارچوی،صابر دہلوی فیض جھنجھانوی وغیرہ شامل ہیں ۔ ان شعرا وادبا کا اپنا اپنا حلقہ تھا، اخترالایمان لکھتے ہیں۔
’’جس زاویہ نگاہ سے میں شاعری کو دیکھتا تھا یادیکھنا چاہتا تھا اس وقت تک دلی لکھنو میں اس کا کوئی رواج نہ تھا ۔دلی کے وہ اساتذہ جن کے نام میں نے کہیں پیچھے لیے ان کے اپنے حلقے تھے ۔اور ان کی شاعری کاسارا زور وہیں ختم ہوجاتا تھا ۔میں جب اپنی نظمیں پڑھتا تھا تو سننے والوں کی آنکھوں میں اس پر اعتبار اور اس کا وقار کم اور استفسارزیادہ نظر آتا تھا ۔‘‘۱۶؎
جی ٹی روڈ پر طوائفوں کا بازارتھا، بہت سے شاعر وہاں جایا کرتے تھے۔یہاں طوائفوں کوپیشہ کرنا ممنوع تھا ،صر ف گانے بجانے کی اجازت تھی ،لیکن اس کی آڑ میں پیشہ بھی جاری تھا ۔اخترالایمان بھی وہاںگئے،لکشمی نام کی ایک لڑکی سے بات چلی لیکن بات نہ بن سکی توانھوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا ۔اخترالایمان نے طوائفوں کی مروجہ رسم ورواج کا بھی ذکر کیا ہے ۔
گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اخترالایمان نے نوکری کرنے کا فیصلہ کیا ۔سپلائی محکمہ میں ایک مہینہ نوکری کی پھر دل اچاٹ ہوگیا ۔ انھیں ایک دن ساغر نظامی مل گئے وہ اخترالایمان کی نظمیں اور افسانے رسالہ’ ’ ساقی‘‘ میں پڑھ چکے تھے ۔ساغر نظامی میرٹھ سے ماہ نا مہ ’’ ایشیا ‘‘ نکالتے تھے اخترالایمان کو اس میں کام کرنے کی دعوت دی ،قیام وطعام اور ۳۵روپیہ ماہانہ دینے کا وعدہ کیا ۔اخترالایمان کلرکی کا پیشہ چھوڑ کر میرٹھ چلے گئے اوراپنا کام بخوبی انجام دیتے رہے۔ ساتھ ہی میرٹھ کالج میں فارسی میں داخلہ لے لیا ،لیکن کچھ دنوں کے بعد میرٹھ سے بھی بیزار ہوگئے اور دہلی واپس چلے آئے ۔دہلی واپس آنے کی اصل وجہ سلطانہ تھی ۔کالج میں سلطانہ کے بھائی سے ملاقات ہوئی اور ان کے ساتھ اخترالایمان ان کے گھر جانے لگے ،سلطانہ سے بھی ملاقات ہوئی ۔سلطانہ کے متعلق اخترالایمان لکھتے ہیں ۔’’جتنی لڑکیوں سے تھوڑی بہت قربت ہوئی تھی ،بیوی کا تصور ذہن میں نہیں آیا تھا ۔ سلطانہ سے مسلسل ملاقاتوں کے بعد آیا مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ گھر کے بزرگوں کے سامنے ایسی تجو یز حماقت ہوگی ۔‘‘ دراصل اخترالایمان کا خود کاکوئی ٹھکانہ نہ تھا دوسرے وہ شادی شدہ بھی تھے ۔اس لیے وہ اپنا مدعا زبان پر لائے بغیر سلطانہ کے خاندان سے رابطہ قائم رکھا۔
اخترالایمان کی بیوی سلمہ اور ظہورکے تعلقات دن بندن بڑھتے گئے ۔یہ سب سن کر بھی اخترالایمان گھرجانے کے بجائے ایم ۔اے کرنے علی گڑھ آ گئے ۔انھوں نے ایم ۔اے میں داخلہ لینے ،علی گڑھ میں اپنے قیام ،اور وہاںکے جلسوں میں تقریر کے وقت ہوٹنگ کرنے ،طلبہ اور اساتذہ وغیرہ کا ذ کرکیا ہے ۔اس باب کے مطالعہ سے علی گڑھ کی قدیم روایات ،تہذیب واقدار سے آگاہی حاصل ہوتی ہے ۔اخترا لایمان نے علی گڑھ کے اساتذہ میںرشید احمد صدیقی ،ابواللیث صدیقی ،ظہیر صاحب کا خاص طور سے ذکر کیا ہے ۔ایم ۔اے کا پہلا سال تھا حیدرآباد میں ایک ادبی کانفرنس منعقد ہوئی آل احمدسرور کے ساتھ اور بھی اساتذہ جارہے تھے سرور صاحب کے کہنے پر لڑکوں کی طرف سے اخترالایمان بھی ساتھ گئے ۔
دسواں باب :اس میں اخترالایمان نے ۱۹۴۴ء کی حیدرآبادکانفرنس اورساتھ ہی ۱۹۶۷ءکی ایشائی کانفرنس کی روداد تفصیل سے پیش کی ہے ۔حیدرآباد کانفرنس کے انعقادکامقصد حلقہ ارباب ذوق کی مخالفت تھی۔اس وقت پوری ادبی دنیا دو حصوں میں تقسیم تھی ، ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق ۔اخترالایمان نے ان تحریکوں کی ادبی اہمیت ،ان کے دستورالعمل، ادبی منظر ناموں ،سماجی ،ادبی وتہذیبی نشیب وفراز کاذکر تفصیل سے کیا ہے ۔
افریقی ایشیائی ادیبوں کی کانفرنس میں اخترالایمان بھی شامل تھے ۔اس کانفرنس کا مقصد فلسطینیوں اور عربوں کی حمایت تھی اس جلسہ کی کاروائی میں ہر ملک سے آنے والے مندوبین کو اپنے ملک کی ادبی صورت حال پیش کرنی تھی ۔جس سے ہر ملک کے ادبی رجحان کا اندازہ لگایا جا سکے ۔ ہندوستان کی نمائندگی ملک راج آنند اور سجاد ظہیر نے امرت رائے بچن کے سپردکر دی،جو اردوزبان سے ناواقف تھے۔اس وجہ سے نہ توہندوستان کی ادبی صورت حال کا بھر پور جائزہ لیا جاسکا اور نہ ہی فلسطینیوں اور عربوں کی حمایت کاحق ادا ہوا ۔جتنے ممالک کے نمائندے آئے تھے وہ سب ہندوستان سے بہت مایوس اور بد ظن ہوگئے ،خاص طور سے عرب اور فلسطین ممالک کے لوگ ۔ کانفرنس کے اختتام کے بعد ہندوستانی نمائندے کانفرنس کی ناکامی کے تجزیے میں مصروف تھے لیکن اخترالایمان خاموش تھے سجاد ظہیر نے ان کے خاموشی کی وجہ دریافت کی ۔اخترالایمان نے ناکامی کی جو وجہ بتائی اسے من وعن پیش کیا جاتا ہے ۔
’’ بنے بھائی نے مجھ سے پوچھا تم کیوں چپ ہو کچھ بولو ۔میں نے کہا بنے بھائی ملک کی نمائندگی کے وقت نظریہ کا خیال رکھا جائے گا تو یہی ہوگا نہ ملک کا بھلا ہوگانہ نظریہ کا ۔’’کیا مطلب ہے تمہارا‘‘؟ـ میں نے کہا بچن تو خیر ہندی کے آدمی ہیں اردو کے تمام موجودہ رجحانات سے واقف نہ ہونا کوئی ایسی بات نہیں مگر آپ تو اردو کے آدمی ہیں مگر اشتراکی ادیبوں شاعروں کے علاوہ آپ کسی کا ذکر کرنا پسند نہیں کرتے ۔ایسا نہیں کہ آپ منٹو، بیدی،راشد،میراجی وغیرہ سے واقف نہیں مگر جب ان کا نام لینے کو آپ اصول بنالیں گے تو ادب کی نمائندگی کیسے کریں گے ؟جن ادیبوں کا ذکر آپ کرتے ہیں وہ واجبی ہیں ۔ہندوستان کی پوری تصویر آپ کے ذہن میں صاف نہیں تو آپ پیش کیا کریں گے ۔میری بات سن کر کوئی خوش نہیں ہوا۔‘‘۱۷؎
اخترالایمان حیدرآباد کی کانفرنس کے بعدعلی گڑھ کے بجائے ممبئی آگئے۔یہاں ان کی ملاقات فلم انڈسٹری سے وابستہ لوگوں سے ہوئی ۔شالیمارپکچرس کے مینیجر حبیب احمد نے ان کوشالیمار میں کام کرنے کی دعوت دی ۔تنخواہ ڈیڑھ سوروپیہ اور کام پسند آنے پر تنخوہ بڑھانے کاوعدہ بھی کیا ۔ اخترالایمان اپنے حالات سے تنگ آچکے تھے ۔پڑھائی چھوڑ کر یہ پیش کش قبول کر لی اوراپنی والدہ کو خط لکھ کر اطلاع دے دی کہ میں علی گڑھ سے پونا آگیا ہوں، کچھ دنوںکے بعد ان کی والدہ کا خط آیاجس میں سلمہ کی شکایت تھی ۔اخترالایمان شالیمار سے چھٹی لے کر گھر گئے ۔ظہور سے بات کرکے سلمہ کو طلاق دے دیا ۔ اخترالایمان لکھتے ہیں ۔
’’ظہور کوبلایا اور پوچھا وہ سلمہ سے شادی کے لیے تیار ہے ؟اس نے رضامندی ظاہر کی ۔سلمہ نے بھی صاد کیا۔میں نے ایک وکیل بلوایا ۔ظہور ہی لے کر آیا ۔طلاق کے کاغذات بنوائے اور جو سلمہ کا سامان اور زیور تھا دے کررخصت کر دیا ۔وہ ظہور کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی ۔میرے رشتہ داروں میں والد سمیت کوئی اس بات سے خوش نہیںہوا۔‘‘۱۸؎
قدامت پرستی اور مذہبی شدت پسند ی کے اس زمانے میں پورے خاندان کی مخالفت کے باوجود اپنی بیوی کو اس کی مرضی کے لڑکے سے شادی کرنے کاموقع فراہم کرانا بہت ہمت اور جرات کی بات ہے ۔اخترالایمان ایک بڑے فن کار ہی نہیں ایک عظیم انسان بھی تھے۔
گیارہواں باب:اس میں انھوں نے ممبئی جانے اور فلم انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ اخترالایمان نے منصوبہ بندی کے تحت کبھی کوئی کام نہیں کیا۔جدھر اللہ لے جائے چل پڑتے تھے ۔ اخترالایمان کے ممبئی جانے کی اصل وجہ مدھوسودن کی دوستی تھی ۔دہلی میں دونوں پڑوسی تھے ،لیکن کچھ ہی عرصہ میں ان کی ہمسائیگی گہری دوستی میں بدل گئی ۔مدھوسودن کو لکھنے کا شوق تھا افسانے لکھا کرتے تھے بعد میں ممبئی میں آکر فلموں سے وابستہ ہوگئے ۔اخترالایمان انھیں کے پاس کچھ دن تک رہے ۔پھر پونا چلے گئے وہاں ان کی ملاقات مشہورومعروف شخصیات جوش ،کرشن چند اور ساغر نظامی سے ہوئی جواس وقت شالیمار سے منسلک تھے ۔انھیں کے توسط سے اخترالایمان کا تعلق فلم انڈسڑی سے ہوگیا ۔اخترالایمان نے شالیمار پکچر س سے جڑے شاعر وں ادیبوں کے رہن سہن عادات واطوار ،اور اس دور کے فلم اداکاروںکے آپسی تعلقات ،شاعروں ،ادیبوں اورفلمی ادا کاراؤںسے اپنی بے تکلفانہ وابستگی کو مخصوص لہجے میں پیش کیا ہے ۔جوش اور کرشن چند کے متعلق اپنا نظریہ بھی پیش کیا ہے ۔جوش کے متعلق لکھتے ہیں ’’ان کے بارے میں قطعی کوئی رائے قائم کرنا مشکل ہے ۔بحیثیت مجموعی میں انھیں معصوم انسان تصور کرتا ہوں ۔‘‘کرشن چندر کے متعلق لکھتے ہیں ۔’’میں ان کا بھی شمار اچھے لوگوں میں کرتا ہوں دوستوں کے دوست ہمدرد قسم کے انسان تھے کسی کے لیے جوکچھ کر سکتے تھے کر دیتے تھے ۔‘‘
تقسیم کی وجہ سے پورے ملک میں بدامنی ،انتشار ،لوٹ مار ،قتل وغارت کابازار گرم تھا ۔اس زمانے میں اخترالایمان ڈائری لکھتے تھے ۔ ڈائری میں لکھے اہم واقعات ،تجربات ومشاہدات کو من وعن پیش کیا ہے ۔اس حصہ کے مطالعہ سے تقسیم ہند کے تاریخی شواہد، ملک کے حالات ،فلم انڈسٹری اور شالیمار کے حالات کابھی اندازہ ہوتا ہے۔
بارہواں باب: اس میں انھوں نے سلطانہ سے نکاح کرنے اور د ہلی کی تباہی وبربادی کے منظر کوپیش کیا ہے ۔سلمہ کوطلاق دینے کے بعد اخترالایمان دہلی آگئے ۔۳مئی ۱۹۴۷ء کو ان کا نکاح سلطانہ سے ہوگیا ۔اس نکاح میں ان کے والد اور چچا بھی شریک تھے ۔رخصتی کسی بہتر وقت پر ملتوی کر دی گئی اور اخترالایمان پونا چلے گئے ۔کچھ دنوں کے بعدشالیمار کازوال ہونے لگا اور ملک بھی تقسیم ہوگیا ۔دہلی سے سلطانہ کی بڑی بہن امجدی بیگم نے اطلاع دی کہ گھر لٹ چکاہے سب لوگ لاہور جارہے ہیں ۔امجدی بیگم جواے بھوشن سے شادی کرنا چاہتی تھیں اور سلطانہ جن کانکاح اخترالایمان سے ہوچکا تھا دونوں دہلی ہی میں تھیں ۔ سلطانہ ممبئی آگئیں اور اخترالایمان کی ازدواجی زندگی کاآغاز ہوگیا ۔ کچھ دنوں بعد امجدی بیگم اور اے بھوشن اخترالایمان کے گھر آئے۔ اخترالایمان نے دونوں کی شادی کرادی ۔امجدی بیگم لڑکیوں کے ایک اسکول میں ملازم ہوگئیں ۔
دونوں اخترالایمان کے ساتھ ہی رہتے تھے ۔اے بھوشن اچھے کردار کا آدمی نہ تھا،اسے مسلمانوں سے نفرت تھی ۔وہ مسلمانوں کوپھنسا کر گرفتار کرواتا تھا ۔اخترالایمان کوبھی پھنسا دیا پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا ،اور دوسرے دن رہا کر دیا ۔ جو انسپکٹر اخترا لایمان کو آرتھرڈ جیل میں لایا تھا، اسی نے بتایا کہ جوآدمی آپ کے ساتھ رہتا ہے وہ آپ کادشمن ہے۔ ہیڈ کوارٹر میں ایک کمشنر کے پاس آتا ہے اور آپ کے خلاف شکایتیں کرتا ہے ۔ آپ کو ہندوستان سے نکالنا چاہتا ہے تاکہ آپ کا مکان اسے مل جائے ۔اخترالایمان کو جب بھوشن کی حقیقت معلوم ہوئی توانھوں نے بھوشن کو اپنے گھر سے نکال دیا ۔
اخترالایمان نے خودنوشت میں جنسی موضوعات پر لکھتے وقت ایسا غیر جذباتی اندز اختیار کیا ہے ،جس کے مطالعہ سے قاری کا ذہن جنسی حظ کے بجائے تطہیر حاصل کرتا ہے ۔مثا ل کے لیے اخترالایمان کے گھر کی ملازمہ اور اے بھوشن کے جسمانی تعلقات کے متعلق ان کی یہ تحریرپیش کی جاتی ہے ۔
’’ایک دن دیون میرے پاس آئی اور رونے لگی ۔صاحب یہ تم نے کیا کیا ؟اس کا مرد تو اسے گھر میں نہیں رکھے گا ،کسے؟ میں نے پوچھا ۔آئیڈا کو ،کیاہواآئیڈا کو ؟اور اس نے بتا یا آئیڈا حاملہ ہے اور وہ بچہ اے بھوشن کا ہے ۔میں نے بھوشن سے کہا توڈھٹائی کرنے لگا ۔گوچھچھی سے بچنے کاایک ہی طریقہ تھا کہ میں چپ ہوجاؤں ۔میں نے دیون کوسمجھایا اور کچھ لے دے کے معاملہ رفع دفعہ کر دیا۔مگر پریشان ضرور ہوا ۔‘‘ ۱۹؎
اخترالایمان نے اسی باب میں میرا جی سے اپنے تعلقات ، اپنی دونوں بیٹیوںشہلا اور اسماء کے بارے میں تفصیلات اور اپنے پڑوسیوں سے اپنے تعلقات ،فلم انڈسٹری کے ایکٹرس کی نجی زندگی اور کچھ فلموں کی اسٹوری وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے ۔ میرا جی جب بیمار ہوئے تو اخترالایمان کے گھر آگئے ۔اخترالایمان اور ان کی بیگم نے ان کی دیکھ بھال کی ،بعد میں ڈاکٹر کے مشورے سے انھیںاسپتال میں داخل کرادیا وہیں میرا جی کا انتقال ہوگیا۔
تیرہواں باب:اس میں انھوں نے نیا مکان خریدنے اس میں منتقل ہونے اور اپنی مالی خوشحالی وغیرہ کے بارے میں تفصیلات پیش کی ہے ۔یہ باب ان کی ذاتی ڈائری سے ماخوذ ہے ،۔ڈائری میں ایک جنوری ۱۹۶۷ءسے ۲۷اپریل ۱۹۶۷ءتک کے واقعات درج ہیں ۔انھوں نے ۱۹۶۷ء میں باقاعدہ ڈائری لکھنے کامعمول بنالیا تھا۔اس ڈائری میں تین مہینہ ۲۶ دن کے روزانہ کی تفصیلات درج ہیں جن میں تقریبا ایک ماہ بیروت کے قیام کی تفصیلات بھی شامل ہے۔ان تحریروں میںاخترالایمان اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے ہوئے اور ساتھ ہی جذبات و احساسات کے ابھرنے کی وجہ تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔وہ اپنے ادبی کارناموں سے اداس تھے۔ انھیں ادب میں بہت کچھ اضافہ کرنے کی خواہش بے چین کرتی ہے۔کبھی وہ زندگی کی الجھنوں کو سلجھانے میں مضطرب نظر آتے ہیں ۔وقت گذرنے کے ساتھ اخترالایمان کی ادبی ،سماجی مصروفیات نے انھیں چڑچڑا بنا دیا تھا۔ وہ سوچتے ہیںکاش کوئی میری ذہنی الجھن کو سمجھے اور مجھے ذہنی سکون دے ۔ لیکن جب ان کی اس کیفیت کاکسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ،تو انھیں بیوی بچے سب بے حس نظر آتے ۔وہ لکھتے ہیں۔
’’سوچتا ہوں مہاتمہ بدھ کی طرح دنیا چھوڑ کر چلاجاؤں مگر مہاتمہ بدھ کے سامنے تو ایک آدرش تھا ۔کوئی الجھا ہوا مسئلہ یا کوئی لگن انسان اور انسان کی زندگی سے متعلق ۔ میرے سامنے کیا ہے کنواں کھودنا اور پانی پینا ۔۲۰؎
اخترالایمان نے اپنی مطالعہ کردہ کتابوں کے بارے میں بھی اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں ۔انسانی جذبات واحساسات کے متعلق ان کا اپنا نظریہ ہے وہ لکھتے ہیں ۔’’انسان تمام اختیارات کے باوجود بے بس ہوتا ہے ۔اپنی خواہش پسند وناپسند پر قدرت ہونے کے باوجود مکمل اختیار نہیں رکھتا۔یہی بے بسی غصہ اورچڑچڑا ہٹ بن کرردعمل کے طور پر ظاہر ہوتی ہے ۔‘‘اپنے ایک دن کے تجربے کی مثال بھی پیش کی ہے ۔ ۶جنوری ۱۹۶۷ء کو دن بھروہ جھنجھلاہٹ اورغصے میںرہے ،اپناغصہ انھوں نے گاڑی ،مکینک ،درزی،ٹیلیفون،اور اپنے کتے پولی وغیرہ پر نکالا ۔ ’’آخر میں جب جائزہ لیا تو محسوس ہوا یہ غصہ مجھے اپنے اوپر تھا ۔کوئی چیز میرے قبضہ میں نہیں۔‘‘
اخترالایمان کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے ،کہ وہ ایک عظیم فن کار کے ساتھ ساتھ ایک عظیم انسان بھی تھے ۔انھوں نے کبھی کسی پر اپنی مرضی نہیں تھوپی بلکہ سبھی کے عزت نفس کا خیال رکھا ۔وہ فلسفیانہ ذہن بھی رکھتے تھے اسی لیے وہ اپنے تمام ردعمل کامنطقی اورنفسیاتی وجہ تلاش کر لیا کرتے تھے ۔
چودھواں باب:اس باب میں ایشیائی کانفرنس سے واپس آکر وہ اپنے ادھورے کاموں کوپورا کرنے میں لگ گئے تھے ۔اسی درمیان ایک نئے فلم سازجو افریقہ کے موضوع پر فلم بنانا چاہتے تھے ،انھوں نے اخترالایمان سے اس کی کہانی لکھنے کی پیش کش کی انھوں نے قبول کر لی اورافریقہ روانہ ہوگئے ۔ اخترالایمان نے افریقہ کے جنگلات اور ان میں رہنے والے مختلف جانوروں ، پہاڑوں،جھیلوں،ہوٹلوں ،وہاں کی تہذیب وتمدن کوبڑے خوبصورت انداز میںپیش کیا ہے۔اخترالایمان جب اپنے گاؤںسگھ بستی میں رہتے تھے تو وہ اکثر جنگلوں سے گزر کر ہی اسکول جایاکرتے تھے وہاں بھی جانوررہتے تھے لیکن افریقہ کے جنگل انھیں بے پناہ چیز نظر آئے ، وہاں کے فطری مناظر اخترالایمان کوبہت پسند تھے ،اس کے علاوہ بھی انھوں نے فلم سازی کے سلسلے میں کئی ممالک کے سفر کیے جس کاتذکرہ بھی انھوں نے کیا ہے۔
مظلوم وبے بس انسانوں کے لیے اخترالایمان کا دل کڑھتاتھا ۔سماج میں انسانی رشتوں کی ناقدری انھیں بے چین کرتی تھی ۔وہ لکھتے ہیں ۔’’مرد اور عورت کو ایک ساتھ رہتے ہوئے قرنہائے قرن گذر گئے مگر کبھی عورت بیچارگی کاشکار ہوتی ہے کبھی آدمی اس کے ہاتھوں بے چارگی کاشکار ہے سماج اور معاشرہ میں ایک دوسرے کی ٹھیک جگہ کیا ہے ‘ابھی تک اس کاتعین نہیں ہوا ۔‘‘
انسانی زندگی اور اس کے مسائل پر اخترالایمان صوفیانہ اور فلسفیانہ نقطہ نظر سے غور وفکر کرتے تھے ۔ان کا ماننا تھا کہ ہماری زندگیوں میں توازن اور اعتدال ہونا چاہیے۔
پندرہواں باب:اس میں انھوں نے خودنوشت لکھنے اور اس کے نام کا تعین کرنے کا ذکر کیا ہے ۔ان کی خودنوشت’’اس آباد خرابے میں‘ ‘ کانام رسالہ’’سوغات ‘‘کے مدیر محمود ایاز نے رکھا تھا ۔یہ مصرع اخترالایمان کی مشہور نظم ’’یادیں‘‘کے اس مصرعے ’’دیکھوہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں ِ‘‘سے لیا گیا ہے ۔اپنی سوانح لکھنے کی وجہ اخترالایمان یوںبیان کرتے ہیں۔
’’…ایک نشست میں شہریار نے کسی بات پر کہا :اختر بھائی اپنی سوانح کیوں نہیں لکھتے آپ ۔بہت دن کہیں اور ایسا اجتماع تھا کہ وارث علوی نے یہی بات دہرائی ۔بنگلور جانا ہوا تو محمود ایاز نے اسی طرح کی بات کی ایک بار کچھ لکھنے کی رو آئی تو میں نے قلم برداشتہ کچھ نثر کے صفحات لکھے۔پھر یہ سوچ کر قلم روک لیا ’’سرگذشت تواہم لوگوں کی ہوتی ہے‘‘میرا ایک مصرع ہے ’’زندگی بھیک ہے جوجبر مشیت سے ملی ‘‘بھکاری کی سرگذشت کیا ایک شاعری ہے جس میں عمر کھپا دی معلوم نہیں اس کا کیا حشر ہوتا ہے ۔‘‘۲۱؎
اسی باب میں اخترالایمان نے اپنی رودادزندگی پیدائش، ابتدائی تعلیم ،شعروشاعری کا آغاز ،فلمی دنیا سے وابستگی، مکالمہ نویسی وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے ۔ممبئی میں اپنے قیام کی تفصیلات اوربچوں کی تعلیم وتربیت وغیرہ کابھی ذکر کیا ہے ۔ لڑکیوں کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان کو پڑھا لکھا کر خود کفیل بنانا چاہیے۔اخترالایمان کی چار اولادیں تھیں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔لڑکے کی طرف سے وہ فکر مند رہتے تھے کونکہ وہ پڑھائی پر توجہ نہیں دیتا تھا ۔فلم میں جانا چاہتا تھا ،لیکن اخترالایمان کی فلمی زندگی کا زوال شروع ہوچکا تھا ۔
تینوں بیٹیوں کی شادیاں ہوچکیں تھیں ۔وقت کے ساتھ اخترالایمان کی صحت بھی گرتی جارہی تھی ۔بڑی بیٹی شہلا کے شوہر کا انتقال ہوگیاتھا ۔ اب ان کا بیٹا رامش ذمہ داراورسمجھ دار ہوگیاتھا ،اس کی بھی شادی ہوچکی تھی ۔اخترالایمان زندگی کے تمام مصائب اور ذہنی الجھنوں کے باوجود کافی حد تک مطمئن نظر آتے ہیں ۔اپنی زندگی کے متعلق لکھتے ہیں ۔
’’مجھے اپنی زندگی سے کوئی شکایت بھی نہیں ۔میرے بچے اپنے اپنے گھر خوش ہیں ۔سلطانہ کے لیے اتنا چھوڑ دیا ہے کہ آرام سے رہ سکیں ۔میرے لڑکے رامش کی بھی پچھلے سال شادی ہوگئی ۔اس کی بیوی گلڈا آرمینین ماں اور عیسائی باپ کی اکلوتی اولاد ہے ۔بہت سلجھی ہوئی لڑکی ہے ۔بمبئی کے مشہور صوفیہ کالج میں لکچرار ہے۔رامش بچپن میں جتناشریر اور ضدی تھا اب اتنا ہی ذمہ دار اور سنجیدہ ہوگیا ہے …جی جان سے میری دیکھ بھال میں لگا رہتا ہے۔میں اپنی شاعری کے بارے میں کیا لکھوں ۔میری عادت ہے کہ میں صرف کام کرتا ہوںاور نتیجہ وقت پہ چھوڑدیتا ہوں۔یہ کام وقت ہی کرے گا۔‘‘۲۲؎
حوالاجات:
۱۔ اس آباد خرابے میں :پیش لفظ :ص:۷
۲۔ اس آباد خرابے میں :مقدمہ :صـ:۹
۳۔ اس آباد خرابے میں : ص:۱۳۔۱۴
۴۔ اس آباد خرابے میں : ص:۲۴۔۲۵
۵۔ اس آباد خرابے میں : ص:۲۷۔۲۹
۶۔ اس آباد خرابے میں : ص:۳۴۔۳۵
۷۔ اس آباد خرابے میں : ص:۳۷
۸۔ اس آباد خرابے میں : ص:۴۰
۹۔ اس آباد خرابے میں : ص:۴۶
۱۰۔ اس آباد خرابے میں : ص:۴۷۔۴۸
۱۱۔ اس آباد خرابے میں : ص:۴۸۔۴۹
۱۲۔ اس آباد خرابے میں : ص:۵۹
۱۳۔ اس آباد خرابے میں : ص:۷۲
۱۴۔ اس آباد خرابے میں : ص:۷۶۔۷۷
۱۵۔ اس آباد خرابے میں : ص:۸۲
۱۶۔ اس آباد خرابے میں : ص:۹۲
۱۷۔ اس آباد خرابے میں : ص:۱۱۵۔۱۱۷
۱۸۔ اس آباد خرابے میں : ص:۱۱۸
۱۹۔ اس آباد خرابے میں : ص:۱۵۵
۲۰۔ اس آباد خرابے میں : ص:۱۷۵
۲۱۔ اس آباد خرابے میں : ص:۲۱۹
۲۲۔ اس آباد خرابے میں : ص:۲۴۴


Leave a Reply
Be the First to Comment!