سید محمد جعفری بحیثیت طنز و مزاح نگار

سید محمد جعفری بحیثیت طنز و مزاح نگار

ڈاکٹر مہر فاطمہ

اکبر ؔکے بعد فن طنز و مزاح کی تبسم ریزی اور قہقہہ آوری کوادبیت،فکری جامعیت، عمق نگاہی اور فنی اعتبار عطا کرنے والوں میں سید محمد جعفری کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔اکبر الہ آبادی کی تقلید میں بہت سے لوگوں نے اس میدان میں قدم جمانا چاہا ،لیکن کامیابی کسی کو نہیں ملی ،البتہ اکبر کے بعد مزاحیہ شاعری کے حوالے سے جوسب سے نمایاں اور تواناآوازابھری ،وہ سید محمد جعفری کی تھی۔اردو تنقیدمیں اس بات کا اقرار بھی بارہا کیا جاتا رہا ہے کہ سید محمد جعفری کی طنز یہ ومزاحیہ شاعری اکبر الہ آبادی کی تقلید نہیں، بلکہ اپنے اعتبار سے اس کی توسیع ہے۔سید محمد جعفری کی شاعری کا دائرہ بہت وسیع اور رنگا رنگ ہے۔اس سے انکار ممکن نہیں کہ ان کا اسلوب اور فنکارانہ طرز عمل اکبر الہ آبادی سے ایک حد تک مماثلت رکھتا ہے ۔یہ بھی حیرت انگیز مماثلت ہے کہ دونوں عمر بھر سرکاری ملازم رہے اور دونوں نے ہی سرکارودربار کو اپنا ہدف بنایا۔ساتھ ہی یہ قدر بھی مشترک ہے کہ اکبر نے مشرقی اقدار و تہذیب سے لگائو کے نتیجے میں جن جدید مغربی تمدن اور نئی صنعتی ایجادات کے مضر اور مضحک پہلووں کو نشانہ بنایا،تقریباانہیں پہلووں کی طرف سید محمد جعفری نے بھی اپنی توجہ صرف کی،بس دونوں کے درمیان ایک صدی کا فاصلہ ہے۔اکبر کی شاعری میں انیسویں صدی کی تہذیبی و سماجی ناہمواریاں طنز و ظرافت کا نشانہ بنی ہیں،جبکہ سید محمد جعفری کے یہاں جن بے اعتدالیوں نے جگہ پائی ہے ،ان کا تعلق بیسویں صدی سے ہے۔سید محمد جعفری محکمہ اطلاعات کے اہم منصب پر فائز رہے۔1964میں اسی محکمہ نے انہیں پریس اور کلچرل کونسلر بناکر تہران بھیج دیا۔مشاغل معاش کے یہ متنوع تجربات ان کے بہت کام آئے۔انہیں تجربات نے ان کی شاعری کو سنی سنائی باتوں ،تخیل کی بے جا کارفرمائیوںیا خواب و خیال کی دنیا سے نکال کرحقیقی دنیا سے ہم آہنگ کردیا۔ سید محمد جعفری بنیادی طور پر نظم گو شاعرتھے۔خصوصاپیروڈی کے میدان میں توکوئی ان کے مد مقابل نہیں۔ان کی نظموں میں تضمین اور تحریف کی بیشتر مثالیںموجود ہیں اور ان کو برتنے کا سلیقہ ،روانگی اور بے ساختگی ہی ان کا کمال ہے۔ان کے کلام سے ان کے کلاسیکی شعور کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ سید محمد جعفری کی ان خصوصیات کے مد نظر ہی انہیں اپنے دور کا اکبرالہ آبادی کہا جانے لگا ۔

سید محمد جعفری 1905ء میں راجستھان کی ریاست بھرت پور کے ایک قصبہ پہر سر کے ایک باعزت خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے خانوادے میں علم وفن اور شعر و سخن کی روایت کئی پشتوں سے قائم تھی۔ ان کے والد سید محمد علی جعفری اپنے وقت میں ہندوستان کے سرکردہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں سے تھے۔انہوں نے 1895 میں ایم۔ اے پاس کیا۔ اس کے بعدہسٹری سے ایم۔ اے کیا۔ عرصہ بعد اکنامکس میںتیسری ڈگری حاصل کی اور لاہور کالج میں پرنسپل مقرر ہوئے۔ سید محمد جعفری نے علم و حکمت کے اس سنہرے ماحول میں ہوش سنبھالا۔ذہانت اور علم کا ذوق والد سے ورثہ میں ملا تھا۔ انہوں نے بنیادی تعلیم عربی اور دینیات میں حاصل کی اور پھر اسکول کالج کی جدید تعلیم کے سفر میں وہ اپنے ہم جماعتوں میں بہت آگے رہے۔ انہوںپہلے فارسی اور اس کے بعد انگریزی میں ایم ۔ اے کیا۔ڈبل ایم۔ اے ہونے کی وجہ سے انہیں کالج کی لکچرر شپ حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔لائل پور کالج میں کچھ عرصہ درس و تدریس کے فرائض انجام دئے۔لیکن برٹش حکومت نے1938ء میں انہیں ایک جرنلسٹ کی حیثیت سے محکمہ اطلاعات میں بلا لیا۔ دہلی میں انہوں نے اس برسوں تک خوش اسلوبی سے منصبی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس دور میں ان کی سنجیدہ شاعری کی شہرت ہوئی اور وہ محفلوں اور مشاعروں کی جان سمجھے جانے لگے۔ طنز و مزاح کی شاعری کا آغاز بھی دہلی میں ہی ہوا۔

1947ء میں تقسیم وطن کے بعد وہ پاکستان چلے گئے جہاں کے ماحول کے موضوعات ان کی شاعری کا موضوع بنے۔1966 میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوکر کراچی چلے گئے۔1976ء کو زندگی کے آخری سفر تک انہوں نے طنز و مزاح کے ایسے پھول کھلادئے ،جن کی رنگینی اور خوشبو ہمیشہ تازہ رہے گی۔ 7؍جنوری 1976ء کو یہ آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔

سید محمد جعفری کی دلچسپیاں صرف علم او ادب اور شاعری تک ہی محدود نہیں۔ وہ پینٹنگ اور خطاطی کے ماہر تھے۔ ان فنون کی انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ فن مصوری میں عالمی شہرت یافتہ آرٹسٹ عبدالرحمان چغتائی سے تربیت پائی۔ اپنے اسکول اور کالج کے زمانہ میں وہ جمناسٹک اور سوئمنگ کے چمپئن رہے۔ شارٹ ہینڈ اور ٹائپنگ کے بڑے ماہر ین میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ اس طرح ان کی ہمہ جہت شخصیت تھی اور خوش حلقی مزاج کی حصہ تھی۔ گفتگو میں لطیفے اور چٹکلے کو ہنسانے کے لئے کافی ہوتے تھے۔مذہبی اعتبار سے وہ شیعہ تھے۔ مجالس عزا میں پابندی سے شریک ہوتے تھے لیکن ان کی فطری بذلہ سنجی ہی تھی کہ اکثر احباب کی محفلوں میں یہ شعر پڑھ کر ماحول کو زعفران زار بناکر دیا کرتے تھے:

رفتہ رفتہ واقفِ علم لدنّی ہوگیا

مجلسیں اتنی پڑیں مجھ پر کی سنّی ہوگیا

سید محمد جعفری کی انفرادیت اور شاعرانہ عظمت کی سب سے بڑی دلیل انہوں نے طنزو مزاح کی سخن آرائی میںلفظی صناعی اور مصنحک لب و لہجہ سے کھینچ تان کر ہنسنے ہنسانے والی باتیں نہیں کیں۔ ان کا ظریفانہ کلام ایک فطری شاعرکی اثر آفریں شاعری ہے ،صرف گدگدا کر ہنساتی نہیں بلکہ چٹکی لے کر سوچنے اور ان باتوں کو محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے، جو شاعر کہنا چاہ رہا ہے۔ یہی سید محمد جعفری کا کمال ہے۔ ان کی تصا نیف میں تیر نیم کش اور شوخئی تحریر اہم ہیں۔کلیات سید محمد جعفری کے عنوان سے سارا کلام یکجا بھی مل جاتا ہے۔سید محمد جعفری نے اپنے عہد کی ہر اس چیز پر اپنے ہی انداز میں طبع آزمائی کی ،جو مشرقی اقدار اور روایات سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ اردو شاعری میں مغربی ادب کے اثرات نے جدید ترقی پسند آزاد اور نثری شاعری کو رواج دیا، اس طرح کی شاعری پر سید محمد جعفری کی گلفشانی یا نشنر زنی ملاحظہ ہو:

طرز نو کی شاعری بھی صور اسرافیل ہے

شاعری ہابیل ہے اور طرز نو قابیل ہے

طرز تو شاعری کے دیکھئے موضوع بھی

 حریت نسوانیت، احساس مفلس کا شباب

چاندنی راتیں پپہیا، تو کہاں، سرما یہ دار

مورچہ محفل میں دیکھا آدمی بادام میں

لوئی دریا کی کلائی، زلف الجھی بام میں

طرز نو کی شاعری میں مدوجزر بحروبر

اف عضب!

ایک مصرع فیل ہے رنجیر کی زندہ مثال

دوسرا اشتراکی دم

طرز نو کی شاعری کی کوئی کل سیدھی نہیں

شہر بھر میں اونت بیچارہ عبث بدنام ہے

آہ اونٹ!

سید محمد جعفری نے اپنے دور کے سیاسی و سماجی حالات اور ان میں موجود خامیوں کو اکثر وبیشتر اپنا ہدف بنایا۔اس حوالہ سے ان کی نظم ’’کلرک‘‘اور’’ایگزیکٹو انجینئر‘‘بہت اہم ہیں۔ کلرک کی زندگی اور اس کی ماہئیت پربیشتر لوگوںنے طبع آزمائی کی ہے ،اس موضوع پر میراجی کی بھی مشہور نظم ہے ،لیکن سید محمد جعفری کی یہ چھوٹی سی نظم بہت منفرد معلوم ہوتی ہے جس کی نظیر اردو شاعری میں کمیاب ہے ؎

خالق نے جب ازل میں بنایا کلرک کو

لوح و قلم کا جلوہ دکھایا کلرک کو

کرسی پہ پھر اٹھایا بٹھایا کلرک کو

افسر کے ساتھ پن سے لگایا کلرک کو

مٹی گدھے کی ڈال کے اس کی سرشت میں

داخل مشقتوں کو کیا سر نوشت میں

چپراسی جب خلا میں بلانے گیا اسے

حوروں نے کچھ مذاق کیا کچھ ملک ہنسے

حیران تھے کلرک کہ کیسے برے پھنسے

ہاتف نے دی صدا کہ یہ کچھ دن یہیں بسے

آدم کارف ڈرافٹ ہے کب تک ہنسوگے تم

اپرو وہوکے آیا تو سجدہ کروگے تم

جنت کو گرچہ ناز تھا اپنے مکین پر

تھا ان کی زندگی کا سہارا روئین پر

ٹی اے وصول کرنے کو اترا زمین پر

لفظِ کلرک، لکھا تھا تو لوحِ جبیں پر

ابلیس راستے میں ملا کچھ سکھا دیا

اترا فلک سے ’’تھرڈ‘‘ میں ’’انٹر‘‘لکھا دیا

سید محمد جعفری کے کلام کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا رشتہ اپنی پوری شعری روایت سے بہت پختہ اورمستحکم ہے۔جعفر زٹلی،سودا،نظیر اکبر آبادی،غالب اور اقبال ان سب کا لہجہ ان کے لہجے میں گھل کر ایک منفرد شکل اختیار کرجاتاہے۔اس تعلق سے انظار حسین لکھتے ہیں:

صرف اتنی سی بات نہیں ہے کہ جعفری صاحب نے ان شاعروں کے مصرعوں کو اڑایااور اس خوبصورتی سے اپنے بیان میں ٹانکا کہ دل پھڑک اٹھتا ہے۔مگر بات اس سےبڑھ کر ہے،بالخصوص اقبال کے حوالے سے بلکہ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ جعفری کی شاعری شعر اقبال کا توسعی علاقہ ہے۔اقبال تو فکر کا شاعر ہے اور جعفری کی شاعری یہ کہتی نظر آتی ہے کہ میں بھی سوچ سے عاری نہیں ہوں۔اگرچہ میری سوچ آپ کی فکرسے تھوڑی مختلف ہے۔آپ کی فکر بلندیوںمیں پرواز کرتی ہے۔ادھر میری فکر زمینیحقیقتوں کے دائرے میں حرکت کرتی ہے۔سو جب اقبال کا آئیڈلزم محمد جعفری کی کھری حقیقت نگاری سے ضرب کھاتا ہے تو اس قسم کی شاعری جنم لیتی ہے:

لاہور میں نہیں ہے رہنے کا گو سہارا

’’چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا‘‘

رہتے ہیں اس مکاں میں چھت جس کی آسماں ہے

’’خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا‘‘

جن کو مکاں دئے تھے کہتے تھے ان سے چوہے

 ’’آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا‘‘

دفتر کی شکل یوں ہے جیسے کوئی قفس ہو

’’ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا ‘‘

آئیڈلزم اور زمینی حقیقتوں کے ایسے ہی تصادم کا ایک اور نقشہ دیکھئے:

الا ٹ منٹ ہیں یاروں کی آستینوں میں

نہ ہے زمیں نہ مکاں،لا اللہ ا لہ اللہ

جو مولوی ہیں وہ کھاتے ہیں رات دن حلوے

بہار ہو کہ خزاں ،لا اللہ الہ اللہ

تیر نیم کش،پیش لفظ،انتظار حسین، ص 10

انتظار حسین نے ان چند مصرعوں کے ذر یعہ ہی اقبال کے آئیڈلزم اورسید محمدجعفری کے زمینی حقائق کے درمیان تصادم کا عمدہ نقشہ کھنیچ دیاہے،یہ تصویر سید محمد جعفری کے علاوہ پوری طنزیہ مزاحیہ شاعری میں کہیں اور نہیں مل سکتی۔ یہ سید محمد جعفری کا ہی کمال ہے کہ و ہ کس خوبصورتی سے مشہور اشعار میں گرہ لگاتے اور اپنی بات کو پیش کرتے چلے جاتے ہیں ۔ عام قاری یا سامع کو محسوس تک نہیں وہ روانی میں بہتا چلا جاتا ہے۔ٹھہر کر سنجیدگی سے غور کیجیے تو بہت سی گرہیں کھلتی ہیں،جس کی مثال ان کی نظم ’’حوران بہشت اور اقبال ‘‘بھی ہے۔یہ نظم اقبال کے تصور زن اور سید محمد جعفری کے نظریات سے متعلق ایک مختلف طویل بحث کو سموئے ہوئے ہے۔اس نظم میں سیدمحمد جعفری نے اپنے کردار یعنی حوروں کے ذریعہ سے جو باتیں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ،وہ وہی باتیں ہیں جو تحریک آزادی نسواںکے زیر اثر ہوئیں۔ بقول انتظار حسین کے کہ جس نئے نسائی شعور کا ظہور اب ہمارے یہاں ہوا ہے وہ اب سے پہلے جعفری صاحب کی شاعری میں اپنی جھلک دکھا چکا ہے۔یہیں سے آپ طے کرسکتے ہیں کہ یہ شاعری خالی ہنسوڑپن نہیںہے۔یہ شاعری نئی فکر کی نقیب ہے ،جو ایک طرف نئے سیاسی شعور کی قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر غمازی کر رہی ہے اور دوسری طرف ہمارے روایتی معاشرتی تصورات کو چیلینج کرتی نظر آتی ہے اور یہیں سے اس شاعری اور دیگر مزاحیہ شاعری کے درمیان خط امتیاز قائم ہوتا ہے۔بقیہ مزاحیہ شاعری میں گھوم پھر بیوی کا موضوع ہی آجاتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں مزاحیہ ادب میں بیوی کی جو دقیانوسی شکل ہمیں دکھائی گئی تھی،اب تک اس کی جگالی ہی چل رہی ہے،جبکہ معاشرہ تبدیل ہوچکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ محمدجعفری کے یہاں بیوی سے زیادہ شوہر زیر بحث ہے۔انہوں نے شوہروں کے مضحک اطوار کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ بھی ان کے کلام کی ایک خصوصیت ہے۔

سید محمد جعفری کی شاہکار نظموں میں ساقی نامہ،پرانا کوٹ ،یو این او،کلرک،وزیروں کی نماز،بوفے ڈنر،پرانا کوٹ،جب لاد چلے گا بنجارا اور کاغذ کا مرثیہ وغیرہ ہیں۔ان کی نظم ’’پرانا کوٹ‘‘بھی طنز و ظرافت کا عمدہ نمونہ ہے۔کوٹ کا تعلق کہیں نہ کہیں اس وقت سے جا ملتا ہے ،جب انگریزحکومت کرتے تھے اور یہ کوٹ ان سے قربت کا نشان سمجھا جاتا تھا۔آج بھی دوسروںپررعب جمانے کا اچھا وسیلہ ہے۔موسم سرما میں امیر و غریب سب کواس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اسی لئے گلی گلی میں پرانے کوٹ نیلام ہونے لگتے ہیں۔اس نظم میںاسی صورت حال کی بہترین عکاسی کی گئی ہے :

بنا ہے کوٹ یہ نیلام کی دکاں کے لئے

’’صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے‘‘

بڑا بزرگ ہے یہ آزمودہ کارہے یہ

کسی مرے ہوئے گورے کی یادگار ہے یہ

نہ دیکھ کہنیوں پر اس کی خستہ سامانی

پہن چکے ہیں اسے ترک اور ایرانی

بڑا بزرگ ہے یہ گو قلیل قیمت ہے

میاں!بزرگوں کا سایہ بڑا غنیمت ہے

جو قدردان ہیں وہ جانتے ہیں قیمت کو

کہ آفتاب چرالے گیا ہے رنگت کو

یہ کوٹ کوٹوں کی دنیا کا باوا آدم ہے

اگرچہ ہے وہ نگہ جو ’’نگاہ سے کم ہے‘‘

گزشتہ صدیوں کی تاریخ کا ورق ہے یہ کوٹ

خریدو اس کو کہ عبرت کا اک سبق ہے یہ کوٹ

سید محمد جعفری کی ابتدائی دور کی نظموں میں ’’ساقی نامہ ‘‘بھی شامل ہے۔یہ نظم میر حسن کی مثنوی سحرالبیان اور علامہ اقبال کی نظم ساقی نامہ کے بحر میں ہے لیکن اس کو صرف اقبال کی پیروڈی کہنا نا انصافی ہوگی۔اس نظم میںمحمد جعفری کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے الیکشن سے متعلق تمام متحرک حالات کو اس خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے معلوم ہوتے ہیں۔چند مصرعے:

پلا ساقیا ساغر عقل سوز

الیکشن نہیں آئے گا روز روز

وہ ساغر کہ ووٹر پھنسیں پانچ سات

الیکشن کے چکر میں ہوں شش جہات

وہ ساغر اثر جس کا جنگ و جدل

دماغوں میں ہو ووٹروں کی خلل

اٹھا نغمہ جمہور کے ساز سے

’’لڑا دے ممولے کو شہباز سے‘‘

الیکشن کے رسیا کا دل شاد کر

’’خرد کو غلا می سے آزاد کر ‘‘

جو آیا ہے جلسے میں مرد خطیب

ہے تقریر اس کی عجیب و غریب

حریفوں پہ تہمت لگاتا ہوا

لگاتا ہوا اور بجھاتا ہوا

بظاہربیاں اس کاسلجھا ہو

ا دھڑے بندیوں میں پر پر الجھا ہوا

’’تمدن، تصوف، شریعت ،کلام‘‘

الیکشن کے بت کے پجاری تمام

یہ امت اسی بات میں کھوگئی

’’حقیقت خرافات میں کھو گئی‘‘

سید محمد جعفری کے تعلق سے یہ غلط فہمی ہمیشہ سے رائج رہی کہ انہوں نے اکبر کی تقلید کی ۔ان کی شاعری کا اکبر کی شاعری سے موازنہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ ان کو اپنے دور کا اکبر الہ آبادی بھی کہا جانے لگا۔جیسا کہ اس مضمون کی ابتدا میں بھی ذکر آیا،لیکن اگر دونوں شاعروں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکبر کے موضوعات محمد جعفری کے یہاں ذیلی حیثیت رکھتے ہیں۔انتظار حسین نے بھی اس تعلق سے بھی بڑے واضح انداز میں لکھا ہے کہ:

طنز و مزاح والی شعری روایت کے ذیل میں جعفری صاحب پر لکھنے والوں نے اکبر الہ آبادی کا حوالہ بالعموم دیا ہے۔میں نے بھی دیا ہے۔مگر اس سلسلے میں وضاحتضروری معلوم ہوتی ہے کہ اکبر الہ آبادی سے جعفری کی شاعری کا رشتہ بس اظہار کی سطحتک ہے۔یعنی اکبر نے طنز و مزاح کی شاعری کو جو ہنسی دلگی کی سطح سے اٹھاکر اسےفکر ی سنجیدگی سے روشناس کیا اور شائستگی اظہار سے آشنا کیا اسے ان کے بعد اگر کسینے صحیح معنوں میں اپنا یاوہ محمد جعفری ہیں۔باقی جن معاملات و مسائل سے اس شاعر کو سروکار ہے وہ اکبر کے معاملات و مسائل سے مختلف ہے۔اکبر کوجن معاملات و مسائل سے سروکار ہے وہ تہذیبی ہیں۔مشرقی تہذیب بالخصوص مسلمانوں کی تہذیبی اقدار بمقابلہ مغربی تہذیب جو چھاتی چلی جارہی ہے اکبر نے اس ی تضاد اور تصادم سے غذا حاصل کی ہے۔محمد جعفری کے یہاں یہ موضوع ذیلی حیثیت رکھتا ہے۔ان کا سروکار ان معاملات سے ہے جو سماجی نوعیت کے ہیں۔اہل اقتدار کی کی خود غرضیاںاور فریب کاریاں،ان کی اخلاقی گراوٹ ،ان کی خوشامد پسندی اور ہوس اقتدار۔اس سے پیدا ہونے والی سماجی نا انصا فیاں اور عوامی مصائب و مشکلات۔اس موضوع کیحساب سے دیکھیں تو محمد جعفری کی شاعری کا رشتہ اکبر سے کہیں پیچھے جاکراس شاعر سے جاملتا ہے جو اپنی کھری تنقید کی بدولت اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھا۔میری مراد جعفر زٹلی سے ہے۔

دیباچہ تیر نیم کش،انتظار حسین،ص 8

مندرجہ بالا اقتباس میں بھی ذکر آیا کہ سید محمد جعفری کواہل اقتدار کی کی خود غرضیاںاور فریب کاریاں،ان کی اخلاقی گراوٹ ،ان کی خوشامد پسندی اور ہوس اقتدار،اس سے پیدا ہونے والی سماجی نا انصا فیاں اور عوامی مصائب و مشکلات سے سروکار تھا۔ان کے کلام کے مطالعے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا پسندیدہ موضوع رہا ہے ۔انہوں نے اس موضوع پر بارہا قلم اٹھایا:

گرچہ بالکل بے گنہ تھا ہوگیا وزیر

 یعنی ایک جھونکا جو آیا بجھ گئی شمع ضمیر

مفت میں کوٹھی ملی ،موٹر ملی،پی اے ملا

جب گیا پک نک پہ باہر ٹور کا ٹی اے ملا

وزیروںاور افسروں کی فطرت اور وزارتوں کے بننے بگڑنے کا بیان ایک دوسری نظم میں کچھ یوں ہے:

جس محفل میں تو جاتا وہ اہل خرد کی محفل ہے

تو صرف وزارت کرتا ہے اور صرف اسی کے قابل ہے

جو بس کا تیرے کام نہیں اس کام کے اوپر مائل ہے

 دوران سفر گر ٹوٹ گئی کابینہ جس میں شامل ہے

 ’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سید محمد جعفری کی شاعری کا غالب موضوع سماجی نا انصا فیاں اور عوامی مصائب و مشکلات ،اہل اقتدار کی کی خود غرضیاںاور فریب کاریاں،ان کی اخلاقی گراوٹ ،ان کی خوشامد پسندی وغیرہ ہیں۔انہوں نے ان موضوعات کو نہایت موثر انداز میں بیان کیا ہے ،جو قاری کی شعوری بیداری کا سبب بنتا ہے۔ سید محمد جعفری کا کمال یہ بھی ہے کہ انہوں نے طنزیہ و مزاحیہ شاعری کو جو ہنسی دلگی یا صرف حظ اٹھانے کے ایک ذریعہ تک محدودو نہیں کیا، بلکہ اس کی سطح سے اٹھاکر اسے فکر ی سنجیدگی سے روشناس کیا اور اظہار کی شائستگی سے آشنا کیا۔غرضیکہ سید محمد جعفری کی ا نہی خصوصیات کی بنا پرایک انفرادی شناخت قائم ہوئی اور انہوں نے طنزیہ و مزاحیہ ادب کے ذخیرے میں جو بیش قیمتی اضافے کئے اس کے لئے ان کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.