اقبال کا شخصی و فکری مطالعہ اور جگن ناتھ آزاد
اقبال کا شخصی و فکری مطالعہ اور جگن ناتھ آزاد
ڈاکٹر گلاب سنگھ
R/O Beoli Distt & Teh, Doda
UT :Jammu & Kashmir Pin Code 182202
علامہ محمد اقبال کی شخصیت اور فکری دنیا کا مطالعہ نہ صرف ادبی تاریخ کا ایک اہم باب ہے بلکہ جدید دورِ انسانی کے لیے ایک زندہ دستاویز بھی ہے۔ اقبال وہ نایاب ہستی ہیں جنہوں نے مشرق و مغرب کے فکری دھاروں کو ایک نئی روشنی میں دیکھا اور انسان کی اندرونی قوت کو جگانے کا پیغام دیا۔ ان کی فکر آج بھی تفرقہ، مادی پرستی اور روحانی خلا کے دور میں راہنمائی کا منبع بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں اقبال کی شخصیت اور افکار کا گہرا جائزہ لینا صرف تاریخی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ نسلوں کی اخلاقی اور فکری تعمیر کا لازمی تقاضا بھی ہے۔اقبال کی فکری میراث کو سمجھنے اور اسے زندہ رکھنے میں مختلف عقائد و مذاہب سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور محققین کا کردار انتہائی قابلِ قدر رہا ہے۔ ان میں جگن ناتھ آزاد کا نام ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ایک ادیب کی حیثیت سے اقبال کی فکر کے ساتھ ان کا گہرا تعلق عقیدت کی ایک ایسی مثال پیش کرتا ہے جو مذہبی اور قومی حدود سے ماورا ہے۔ آزاد نے نہ صرف اقبال کے کلام کو دل کی گہرائی سے محسوس کیا بلکہ ان کی فکری جہات کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ ان کی تحریروں میں اقبال کو ایک ہمہ گیر مفکر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو صرف ایک مذہبی یا قومی شاعر نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ترجمان ہیں۔جگن ناتھ آزاد کا کام اقبال شناسی کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اقبال کی فکر کو فرقہ وارانہ رنگوں سے الگ کر کے اس کے عالمگیر پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ان کی کتابیں، مضامین اور تحقیق اقبال کے فلسفۂ خودی، عشق، عمل اور توحید جیسے موضوعات کو جدید مسائل کے آئینے میں پیش کرتی ہیں۔ آزاد کا یہ علمی اور جذباتی سفر یہ بتاتا ہے کہ عظیم افکار کسی ایک گروہ یا مذہب تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث بن جاتے ہیں۔
علامہ محمد اقبال کی شخصیت اور فکری دنیا ایک ایسا وسیع سمندر ہے جس میں غوطہ زن ہونے والا ہر شخص اپنے اندر نئی توانائی اور نئی بصیرت پیدا کرلیتا ہے۔ یہ وہ شخص تھے جن کی پیدائش 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ کے ایک کشمیری خاندان میں ہوئی تھی، جہاں گھر کا ماحول قرآن و حدیث کی روشنی سے منور تھا۔ ان کے والد شیخ نور محمد ایک عام تاجر تھے مگر ان کے دل میں اللہ کی محبت اور تصوف کی پیاس تھی، جبکہ والدہ امام بی بی کی دعائیں اور نیک سیرت نے بچے اقبال کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ اور لاہور میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ اور ادب کی تعلیم مکمل کی، پھر 1905 میں یورپ کا سفر کیا جہاں کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ کی ڈگری، بیرسٹر کا امتحان پاس کیا اور جرمنی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یورپ میں رہائش کے دوران مغربی تہذیب کی چمک دمک دیکھ کر ان کے اندر ایک بغاوت سی پیدا ہوئی، وہ مغرب کی مادی ترقی کو سراہتے تھے مگر اس کی روح کی خالی پن پر رنجیدہ بھی تھے، اور اسی رنجیدگی نے انہیں اپنی اسلامی جڑوں کی طرف مزید راغب کیا۔
اقبال کی فکری دنیا قرآن مجید کے گہرے مطالعے پر قائم تھی۔ وہ قرآن کو صرف ایک کتابِ آسمانی نہیں بلکہ عمل کی دعوت دینے والا دستورِ حیات سمجھتے تھے۔ ان کا فلسفۂ خودی انسان کو اس کی اندرونی طاقت سے روشناس کرواتا ہے کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے اور اسے بے اختیار نہیں بلکہ متحرک، فعال اور تخلیق کار بننا چاہیے۔ وہ رومی کے عاشق تھے اور فارسی میں شاعری کر کے پوری امت مسلمہ تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتے تھے۔ ’’اسرارِ خودی‘‘، ’’رموزِ بیخودی‘‘، ’’بانگِ درا‘‘، ’’بالِ جبریل‘‘ اور ’’ضربِ کلیم‘‘ جیسی کتابیں ان کی فکری گہرائی کی گواہ ہیں۔ انہوں نے تصوف کو بھی قبول کیا مگر وہ بے عمل تصوف نہیں بلکہ عمل، جدو جہد اور محنت والا تصوف چاہتے تھے۔ سیاست میں ان کا کردار بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 1930 کے الہ آباد خطبے میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا تصور پیش کیا جو بعد میں پاکستان کی بنیاد بنا۔ محمد علی جناح سے ان کے خط و کتابت آج بھی ان کی بصیرت کی دلیل ہیں۔ ان کی شخصیت میں سادگی، جرات، ایمان اور دور اندیشی کا امتزاج تھا جو انہیں صرف برصغیر کا شاعر نہیں بلکہ عالمی سطح کا مفکر بنا دیتا ہے۔
جگن ناتھ آزاد اقبال کی شخصیت اور فکر کے ایک ایسے عاشق تھے جن کا تعلق عقیدت اور محبت کی ایک مضبوط زنجیر سے جڑا ہوا تھا، حالانکہ وہ اقبال کو ملنے سے محروم رہے تھے۔ آزاد صاحب کی پیدائش 5 دسمبر 1918 کو عیسیٰ خیل میں ہوئی تھی جہاں ان کے والد تلوک چند محروم خود اردو کے شاعر تھے اور اقبال کے پرجوش مداح بھی تھے۔ گھر میں اقبال کا کلام پڑھا جاتا، ان کی نظمیں سنائی جاتیں اور ان کی تعلیمات پر بحث ہوتی، اسی ماحول نے بچپن سے ہی آزاد کے دل میں اقبال کے لیے ایک خاص جگہ بنا دی۔ تعلیم راولپنڈی اور لاہور میں مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فارسی میں ایم اے کیا اور جلد ہی ادبی دنیا میں قدم رکھا۔ 1936 میں ان کا پہلا مضمون ’’اقبال کی منظر نگاری‘‘ ہمایوں رسالے میں شائع ہوا، جو ان کے اقبال شناسی کے سفر کا آغاز تھا۔ اقبال کی وفات کی خبر 1938 میں سن کر آزاد صاحب اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے ’’ماتمِ اقبال‘‘ نامی مرثیہ لکھا جس میں انہوں نے اقبال کی عظمت کو دل کی گہرائیوں سے بیان کیا۔ مرثیہ کا ایک ملاحظہ ہو:
پھر نالہ ہائے غم سے ہے لبریز دل کا ساز
پھر ہوگیا ہے دیدۂ حیراں گہر طراز
وہ حق شناس فلسفی و مردِ نکتہ داں
وہ باکمال شاعر و درویش پاکباز
نغمے تھے جس سخنور ِ عالی دماغ کے
مشرق میں دلپذیر تو مغرب میں جاں نواز
(بحوالہ: جگن ناتھ آزاد، بیکراں، سنہ1996،ص:220)
یہ مرثیہ اقبال کے شخصی و فکری مطالعے کے حوالے سے ان کی گہری عقیدت اور جذباتی لگاؤ کا ایک روشن ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس میں آزاد نے اقبال کی وفات کے غم کو اپنے دل کے ساز کے ذریعے بیان کرتے ہوئے انہیں ایک ہمہ پہلو شخصیت کے طور پر دیکھا ہے ، حق شناس فلسفی، نکتہ داں، باکمال شاعر اور پاکباز درویش۔ آزاد صاحب کا یہ بند اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ انہوں نے اقبال کو صرف ادبی شخصیت کے طور پر نہیں پڑھا بلکہ ان کی روح، ان کی فکر اور ان کی انسانی عظمت کو دل کی گہرائی سے محسوس کیا تھا۔خاص طور پر اس بند میں اقبال کے کلام کی مشرق و مغرب میں پذیرائی کا ذکر آزاد صاحب کی اس فکری بصیرت کو ظاہر کرتا ہے جو ان کے پورے کام کا خاصہ رہا۔ وہ اقبال کو ایک ایسے سخنور کے روپ میں پیش کر رہے ہیں جن کا پیغام حدودِ جغرافیہ سے ماورا تھا۔ یہ بند آزاد اور اقبال کے رشتے کی ایک خوبصورت جھلک پیش کرتا ہے۔ یہ صرف ایک مرثیہ کا حصہ نہیں بلکہ آزاد صاحب کی اس عقیدت کا آئینہ ہے جو ان کے اقبال پر لکھے گئے مضامین، کتابوں اور تحقیق کا بنیادی محرک رہا۔
تقسیمِ ہند کے بعداگرچہ آزاد ہندوستان چلے آئے مگر ان کا دل ہمیشہ اقبال کی تعلیمات سے جڑا رہا۔ وہ ہندوستان میں رہتے ہوئے بھی اقبال کی فکر کو غلط فہمیوں سے بچانے اور اسے نئی نسل تک پہنچانے میں مصروف رہے۔ آزاد اقبال کو صرف ایک مسلمان شاعر نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مفکر مانتے تھے۔ ان کے نزدیک اقبال نے ہندوستانی تہذیب، سنسکرت ادب اور مشترکہ ورثے سے بھی فیض حاصل کیا تھا اور ان کی شاعری میں مشرق و مغرب کا حسین امتزاج موجود تھا۔ آزاد کی اپنی شاعری میں بھی اقبال کا رنگ جھلکتا ہے، وہ اقبال کی طرح وطن، انسانیت، خودی اور عمل کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں اقبال کی تعلیمات کو موجودہ دور کے مسائل کا حل پیش کیا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد جب کچھ حلقوں میں اقبال کو فرقہ پرست ثابت کرنے کی کوششیں ہوئیں تو آزاد نے دلائل اور تحقیق کے ذریعے ان کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ اقبال انسانیت کے پیغامبر تھے جو اتحاد امت اور اخلاقی بلندی کے قائل تھے۔ اس طرح آزاد اور اقبال کا رشتہ ادب کی تاریخ میں ایک منفرد مثال بن گیا جہاں ایک ہندو ادیب نے ایک مسلمان مفکر کی فکر کو اپنی جان کی طرح عزیز رکھا اور اسے زندہ رکھنے کی کوشش کی۔’’فکر اقبال کے بعض اہم پہلو‘‘میں جگن ناتھ آزاد لکھتے ہیں:
’’ہم ہندوستانیوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنے میںتامل نہ ہونا چاہئے کہ تقسیم ہند کے بعد ہم نے اقبال اور کلام اقبال سے خاصی بے اعتنائی برتی۔ جہاں تک میرا خیال ہے 1947سے 1955تک اقبال کے متعلق صرف دو یا تین کتابیں شائع ہوئیں۔ ‘‘
(بحوالہ: جگن ناتھ آزاد، فکر اقبال کے بعض اہم پہلو، سنہ1982، ص:9)
اقبال اور اس کے عہد میں جگن ناتھ آزاد اقبال کے ساتھ ہوئی نا انصافی اور بے اعتنائی کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’یہ ہندوستانی ادب کی بدقسمتی ہے کہ نقادوں اور سیاست دانوں نے علامہ اقبال کی ہمہ گیر شخصیت کو مختلف خانوں میں تقسیم کر کے اس حقیقت پر پردہ ڈال دیا ہے جس کی تابانی سے آنے والی نسلوں کے دماغ روشن ہو سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس سے نہ صرف ہمارے سماجی اندھیرے بڑی حد تک دور ہو چکے ہوتے بلکہ ان کی جگہ ایک ملک گیر تا بانی لے چکی ہوتی اور تمدنی اعتبار سے ہم اس منزل سے کہیں آگے ہوتے جہاں اس وقت ہم موجود ہیں۔
اقبال کی شخصیت ایک جلوہ صد رنگ بلکہ جلوہ ہزار رنگ کا مرقع ہے لیکن بلکہ جلوۂ ہزار رنگ کا مرقع ہے لیکن کوتاہ بین نگاہوں نے صرف ایک ایک پہلو کو دیکھا اور وہ بھی نا مکمل طور پر۔ اگر ایکایک پہلو پر بھی پورے خلوص اور جامعیت کے ساتھ نظر ڈالی جاتی تو ہندوستان کی تمدنی فضا آج سے بہت مختلف ہوتی۔‘‘
(بحوالہ:جگن ناتھ آزاد، اقبال اور اس کا عہد، سنہ1989،ص:15)
جگن ناتھ آزاد نے اقبال کے شخصی و فکری مطالعے کے میدان میں جو کام کیا وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ اقبال شناسی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے متعدد کتابیں اقبال پر لکھیں جن میں تحقیق، تنقید، سوانح اور تشریح کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کی سب سے اہم کتاب ’’اقبال اور اس کا عہد‘‘ 1960 میں شائع ہوئی جس میں انہوں نے اقبال کے عہد کے سیاسی، سماجی اور ادبی پس منظر کو تفصیل سے بیان کیا۔ اس کتاب میں آزاد نے واضح کیا کہ اقبال کا فن صرف حسنِ بیان تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ فنِ برائے زندگی کے قائل تھے، ان کی شاعری زندگی کو بدلنے والا پیغام تھی۔
جگن ناتھ آزاد کی تصنیف ’’اقبال اور مغربی مفکرین‘‘ اقبالیات کے میدان میں ایک اہم اور قابلِ قدر اضافہ ہے جو 1994ء میں مکتبہ علم و دانش لاہور سے شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں آزاد صاحب نے علامہ اقبال کی اخاذ اور تاثر پذیر شخصیت کے ان پہلوؤں کو تفصیل سے کھول کر پیش کیا ہے جن میں مغربی فلسفہ و فکر کا گہرا اثر نظر آتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اقبال نے ان مغربی مفکرین ، جیسے نطشے، برگسن، گوئٹے اور دیگر سے استفادہ تو کیا مگر انہیں اسلامی تعلیمات اور مشرقی بصیرت کی روشنی میں ڈھال کر ایک نیا فکری امتزاج پیش کیا۔ یہ کتاب اقبال کے یورپی دورِ قیام کے فکری سفر، ان کی فلسفیانہ تشکیل اور مغرب کی مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی خامیوں پر ان کے تنقیدی نقطٔ نظر کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ آزاد صاحب کی تحریر میں گہری تحقیق، دل کی عقیدت اور علمی مزاج کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کتاب نہ صرف اقبال کے مخالفین کے شبہات کا علمی جواب بنتی ہے بلکہ قاری کو یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ اقبال مغرب کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے نہیں بلکہ ایک خودی والے مفکر تھے جو مشرق و مغرب کے بہترین عناصر کو اپنے کلام میں سمو کر امت مسلمہ کو جاگنے کی دعوت دے رہے تھے۔ تقریباً 250صفحات پر مشتمل یہ کتاب آزاد کے اقبال شناسی کے اس وسیع کام کا حصہ ہے جو انہیں’’اقبال کا انسائیکلوپیڈیا‘‘کا خطاب دلاتا ہے، اور آج بھی طلبہ، محققین اور ادب دوستوں کے لیے اقبال کی فکری گہرائی کو سمجھنے کا ایک معتبر حوالہ ہے۔وہ لکھتے ہیں:
’’فلسفہ مغرب کے تعلق سے کلام اقبال کا ذکر کرتے ہوئے اس قدر افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے کہ حقیقت اسی افراط و تفریط میں گم ہو کے رہ گئی ہے۔ اہل قلم کی ایک جماعت نے مذہبی جوش میں یہ ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگا دیا ہے کہ علامہ اقبال نے قدم قدم پر مختلف مغربی فلسفیانہ نظریات کی تردید اور تغلیط کی ہے۔ دوسری جماعت ان حضرات پر مشتمل ہے جن کے نزدیک علامہ اقبال کے افکار مغربی مفکرین کے افکار کا پر تو ہیں۔ یہ حضرات اس ضمن میں نطشے اور برگساں کا ذکر خاص طور سے کرتے ہیں۔ان دونوں طرح کے خیالات کے لوگ کلام اقبال پر بات چیت کرتے وقت غالباً اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ ادب العالیہ یا اعلیٰ شاعری کسی فلسفیانہ نظریے کی تائید یا تردید کا نام نہیں ہے۔ ایک بڑا وسیع المطالعہ شاعر دوسروں کے نظریات کو پسند بھی کر سکتا ہے نا پسند بھی۔ وہ دوسرے بڑے شعراء اور فلسفیوں کے افکار سے اثر پذیر ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ ان کے افکار کی تائید بھی کر سکتا ہے اور تردید بھی۔ ‘‘
(بحوالہ: جگن ناتھ آزاد، اقبال اور مغربی مفکرین، سنہ1994، ص: 13)
’’اقبال کی کہانی‘‘ بچوں اور نوجوان نسل کے لیے لکھی گئی ایک سادہ مگر دلچسپ کتاب ہے جس میں اقبال کی زندگی کے واقعات کو کہانی کی شکل میں پیش کیا گیا تاکہ نئی نسل ان سے متاثر ہو سکے۔ ’’محمد اقبال: ایک ادبی سوانح حیات‘‘میں آزاد نے اقبال کی ادبی شخصیت کے ہر پہلو کو کھول کر رکھ دیا، ان کی فارسی اور اردو شاعری کا موازنہ کیا اور ان کے فن کی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ ان کی دیگر کتابیں جیسے ’’فکرِ اقبال کے بعض اہم پہلو‘‘، ’’اقبال اور کشمیر‘‘اقبال کی مختلف جہتوں کو سامنے لاتی ہیں۔ آزاد نے اقبال کے کلام کا گہرا مطالعہ کیا تھا، بہت سے اشعار ازبر تھے اور وہ ان کے فلسفۂ خودی، عشق، توحید اور عمل کو سمجھانے میں مہارت رکھتے تھے۔
انہوں نے تنقیدی مضامین کے ذریعے اقبال مخالف رجحانات کا علمی جواب دیا۔ ہندوستان میں بعض لوگ اقبال کو صرف مسلم قوم پرست قرار دیتے تھے، آزاد نے ان کے دلائل کو رد کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ اقبال کی فکر انسانیت کی فلاح اور اخلاقی اصلاح پر مبنی تھی۔ انہوں نے اقبال میموریل ٹرسٹ کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جموں و کشمیر یونیورسٹی میں متعدد لیکچرز دیے اور سیمینارز منعقد کروائے۔ ان کی انگریزی کتاب ’’اقبال آرٹ اینڈ مائنڈ‘‘نے مغربی دنیا میں بھی اقبال کو متعارف کروایا۔ آزاد کی شاعری میں اقبال کا اثر واضح ہے، ان کی نظم ’’اے وادی گریز‘‘ اقبال کی ’’اے وادیٔ لولا ب‘‘ کی یاد دلاتی ہے۔ ان کا کام صرف لکھنا نہیں تھا بلکہ اقبال کی یاد کو زندہ رکھنا، ان کی تعلیمات کو نئی نسل تک پہنچانا اور انہیں موجودہ مسائل کا حل بنانا تھا۔
جگن ناتھ آزاد 24 جولائی 2004 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے مگر ان کی خدمات آج بھی اقبال کے عاشقوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ادب اور فکر کی دنیا میں عقیدت اور تحقیق کا امتزاج قوموں کے درمیان پل باندھ سکتا ہے۔ اقبال نے امت کو جگانے کا کام کیا تو آزاد نے اس پیغام کو زندہ رکھا اور اسے نئی جہت دی۔ آج کے دور میں جہاں تفرقہ اور مایوسی پھیلی ہوئی ہے، اقبال اور آزاد دونوں کی تعلیمات ہمیں خودی کی طرف بلاتی ہیں، عمل کی دعوت دیتی ہیں اور اتحاد کی اہمیت سکھاتی ہیں۔ ان دونوں عظیم شخصیات کا مطالعہ نہ صرف ادبی لذت دیتا ہے بلکہ زندگی گزارنے کا ایک نیا انداز بھی سکھاتا ہے۔
٭٭٭
Dr Gulab Singh
R/O Beoli Distt & Teh, Doda
UT :Jammu & Kashmir Pin Code 182202


Leave a Reply
Be the First to Comment!