بشیر بدرکی غزلوں میں امیجری کا نیا پن

    بشیر بدرکی غزلوں میں امیجری کا نیا پن

ہلال احمد کمہار

      ریسرچ اسکالر

  شعبہ اردو

    یونیورسٹی آف حیدرآباد

                                                                                                                                                            hilalquadiri@gmail.com

                                                                        بشیر بدرکی غزلوں میں امیجری کا نیا پن

  اُردو ادب کی دنیا میں ڈاکٹر بشیر بدرؔ کسی تعارف کے  محتاج نہیں۔ بشیر بدرؔ جہاں ایک استقامت آشنا، صاحب اسلوب تخلیق کار ہیں وہیں بحیثیت شاعر دنیا میں ان کا اعتبار، وقار اور افتخار قائم ہوچکا ہے۔ اصلی نام سید محمّد بشیر،بشیر بد ر کے نام سے مشہور ہیں ۔انکی پیدائش ۱۵ فروری۱۹۳۵ ء  میں ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہوئی۔ان کی اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسّلم یونیورسٹی میں ہوئی۔انہوں نے ۷سال کی عمر سے شعر و شاعری کا آغاز کیا۔بشیر بدر عام آدمی کے شاعر تھے اُنہوں نے بہت خوبصورتی اور سلیقے سے زندگی کی عام باتوں کو اپنی غزلوں میں پرویا اور غزلوں کو ایک نیا چہرہ دیا۔بشیر بدر اردو شاعری کا ایک معتبر نام ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک اپنی منفرد غزلوں کے ذریعے قارئین اور سامعین کے دلوں پر راج کیا۔اردو غزل میں بشیر بدر کا نام ایک منفرد حیثیت رکھتا تھا۔ انہوں نے غزل کو نئی زبان۔،نئے استعارے اور نئی حسیت عطا کی۔ ان کے شعری مجموعے‘‘اکائی’’اور‘‘امیج’’نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی جبکہ ان کی شاعری نے اردو داں طبقے کے ساتھ غیر اردو قارئین کو بھی متاثر کیا۔ ان کی شاعری میں محبت،جدائی، تنہائی، رشتوں کی نزاکت، یادوں کی کسک اور انسانی جذبات کی سادگی بھرپور انداز میں جھلکتی تھی۔

            بشیربدر کی غزلوں  میں پیکر تراشی ، امیجری کے موضو ع پر بحث کرنے سے پہلے  امیجری کے بارے میں مختصر جان لیتے ہیں۔  امیجری سے مراد الفاظ کے ذریعے ذہن میں ایسی تصویر کشی کرنا ہے جو قاری کے حواس کو بیدار کرے۔ یہ تحریر یا شاعری میں وہ بصری یا حسیاتی نقشہ ہوتا ہے جو کسی منظر، کیفیت، یا جذبے کو ہو بہ ہوقاری کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔مصوری اور شاعری دونوں کا مقصد انسان کے اندرونی احساسات اور بیرونی دنیا کے مناظر کو پیش کرنا ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ مصور رنگوں اور شکلوں کے ذریعے تصویر بناتا ہے جبکہ شاعر الفاظ کے ذریعے یہی کام انجام دیتا ہے۔ اس لیے شاعری میں لفظوں کی ترتیب اور انتخاب بہت اہم ہوتے ہیں، کیونکہ انہی کے ذریعے قاری کے ذہن میں نقش اور تصویریں بنتی ہیں۔

ادب اور شاعری میں اس کی اہمیت اور اطلاق حسب ذیل ہے

   بنیادی اقسام بصری (Visual):        ایسے الفاظ جو دیکھنے کی حس سے متعلق ہوں (مثال: سرخ گلاب، تاریک رات)۔

   سامعی (Auditory):                ایسے الفاظ جو دسننے کی حس سے متعلق ہوں(مثال: بادلوں کی گرج، کوئل کی کوک)۔

   لمسی (Tactile):                    ایسے الفاظ جوچھونے یا محسوس کرنے سے متعلق ہوں (مثال: مخملی گھاس، تیز ٹھنڈی ہوا)۔

  ذائقائی اور شامی (Gustatory / Olfactory):ایسے الفاظ جو چکھنے اور سونگھنے سے جڑے ہوں (مثال: ترش لیموں، بھیگی مٹی کی خوشبو)

                شاعری میں امیجری کا تصور قدیم زمانے سے موجود ہے۔ یونانی فلسفیوں افلاطون اور ارسطو نے بھی شاعری اور تخیل کے بارے میں بحث کی تھی۔ افلاطون شاعری کو حقیقت کی نقل سمجھتا تھا، جبکہ ارسطو کے نزدیک شاعری تخلیقی قوت اور انسانی تخیل کا اظہار ہے۔ اسی وجہ سے شاعری میں تشبیہات و استعارات کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ شاعر کے خیالات اور جذبات کو زیادہ مؤثر اور دلنشین بنا دیتی ہے۔

                اس سلسلے میں ڈاکٹر شمس لکھتے ہیں کہـ  ـ’’ ادب میں امیجری کو محاکات، تمثیل کاری، تجسیم کاری اور پیکر تراشی جیسے کئی نام دیے گئے۔ اردو شاعری میں امیجری کا حسن شروع ہی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ولی کے محبوب کا یوں برآمد ہونا کہ ’’جیوں مشرق سے نکلے ہے آفتاب آہستہ آہستہ! ‘‘ امیجری ہی تو ہے ـ’’میر کی کلیوں کے تبسم‘‘  اور غالب کے ’’نقش فریادی‘‘سے کون واقف نہیں۔ لیکن شاعری میں امیجری کا رجحان جدید دور میں کچھ زیادہ ہی ابھر کر آیا، اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اس دور میں ہماری شاعری نے نظریاتی، فنی اور تکنیکی سطح پر تیزی سے مغربی اثرات کو قبول کیا۔ ان نئے تجربات میں تمثیل کاری (allegory) اور تجسیم کاری (personification) کو خاص طور سے اہمیت حاصل ہے۔ تمثیل کاری (allegory) میںکرداروں یا شکلوں کے ذریعے مجردات کی نمائندگی ہوتی ہے ۔

                جب کہ تجسیم کاری (personification) میں کسی غیر مجسم شے کسی تصور کو مجسم کیا جاتا ہے یا انسانی صفات سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ ناصر کاظمی کے درج ذیل اشعار میں اُداسی اور فراق جیسے غیر مجسم اور مجرد دتصورات کو مجسم کیا گیا ہے۔‘‘   ؎  ـ

              ہمارے گھر کی دیواروں پہ نا صر       اداسی بال کھولے سورہی ہے

          کدھر چلے گئے وہ ہم نوائے شام فراق     کھڑی ہے در پہ مرے سر جھکائے شامِ فراق

          بجھی بجھی سی ہے کیوں چاند کی ضیا ناصر    کہاں چلی ہے یہ کا سہ اٹھائے شام فراق

 جدید غزل میں ناصر کاظمی سے امیجری کا نیا اسلوب سامنے آیا اور بعد کے آنے والے کئی شعرا کے ہاں بھی یہ تجربات ملتے ہیں، بشیر بدر اس انداز میں سب سے نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر ہیں۔   ؎

         ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں       مرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھے آئنے میں اتار لوں

          میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا              ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزار لوں

           اگر آسماں کی نمائشوں میں مجھے بھی اذن قیام ہو         تو میں موتیوں کی دکان سے تری بالیاں ترے ہار لوں

          کہیں اور بانٹ دے شہرتیں کہیں اور بخش دے عزتیں     مرے پاس ہے مرا آئینہ میں کبھی نہ گرد و غبار لوں

          کئی اجنبی تری راہ میں مرے پاس سے یوں گزر گئے       جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی ترا نام لے کے پکار لوں

                                اس خوبصورت غزل میں بشیر بدر نے بہت ہی دلکش اور گہری امیجری کا استعمال کیا ہے ۔غزل کی پلکیں سنوارنا،لفظ لفظ کا آئینہ بننا،دن کا تھکا ہوا اور شب کا جگا ہوا،موتیوں کی دکان، بالیاں اور ہار،آئینے پر گرد و غبار ،آسماں کی نمائشیںجیسے الفاظ کے ذریعے قاری کے ذہن میں خوبصورت تصویریں بناتی ہے۔شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ابھی آپ ادھر مت دیکھیں کیونکہ میں اپنی شاعری (غزل) کو خوبصورت بنا رہا ہوں۔ میں اپنی شاعری کے ہر لفظ کو اس قدر واضح اور سچا بنانا چاہتا ہوں کہ اس میں آپ کا عکس نظر آئے۔محبوب کے خدو خال یا سرا پا نگاری کی تصویر کشی غزل میں ہوتے آئی ہے لیکن بدرصاحب محبوب کی پلکوں اور گیسو سنوارنے پر قناعت نہیں کرتے بلکہ صنف غزل ہی کی پلکیں سنوارنے پہ اتر آتے ہیں۔ وہ لفظوں کو تراش کر آئینہ بنانے کی بات کرتے ہیں تا کہ وہ محبوب کے حسن کو دکھانے میں مطمئن ہوسکیں۔ بات صرف محبوب اور حسن محبوب کی نہیں ہے، بدر ہر موضوع کی بہترین منظر کشی کا ہنر رکھتے ہیں لیکن محبوب چوں کہ غزل کا محبوب موضوع ہے لہذا بات یہیں سے شروع ہوتی ہے،سچ یہ ہے کہ بدرا میجری کے فن میں ید طولیٰ رکھتے ہیں اور اس کی دلیل ان کے سینکڑوں اشعار ہیں۔بشیر بدر نے اس غزل میں حسن، محبت، تھکن، اور درویشی کو مجسم کرنے کے لیے آئینے، پلکوں، موڑ، شام، اور موتیوں جیسے استعاروں سے ایسی امیجری تخلیق کی ہے جو غزل کے رومانوی اور اداس موڈ کو قاری کے دل میں اتار دیتی ہے۔  ؎

          کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا    وہ غزل کا لہجہ نیا نیا نہ کہا ہوا نہ سنا ہوا

          جسے لے گئی ہے ابھی ہوا وہ ورق تھا دل کی کتاب کا       کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا کہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا

         کئی میل ریت کو کاٹ کر کوئی موج پھول کھلا گئی          کوئی پیڑ پیاس سے مر رہا ہے ندی کے پاس کھڑا ہوا

        وہی خط کہ جس پہ جگہ جگہ دو مہکتے ہونٹوں کے چاند تھے     کسی بھولے بسرے سے طاق پر تہ گرد ہوگا دبا ہوا

        مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسین بنا دیا             مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو مہندیوں سے رچا ہوا

       وہی شہر ہے وہی راستے وہی گھر ہے اور وہی لان بھی       مگر اس دریچے سے پوچھنا وہ درخت انار کا کیا ہوا

       مرے ساتھ جگنو ہے ہم سفر مگر اس شرر کی بساط کیا          یہ چراغ کوئی چراغ ہے نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا

                اس خوبصورت غزل میں بدر صاحب نے تین قسم سے زائد امیجری استعمال کیا گیا ہے جو پڑھنے والے قاری  کے ذہن میں متحرک تصویریں بنا دیتے ہیں۔مثال کے طور پر اس غزل میں بصری امیجری کے لئے وہ الفاظ یعنی جو ہمارے دیکھنے کی حس کو متحرک کریں۔ دھوپ کی پتوں میں ہرا ربن،دل کی کتاب کا ورق اور ہوا، ریت کو کاٹتی لہر اور پیاسا درخت،پرانا طاق اور مٹی،دلہن کا ہاتھ اور مہندی،انار کا درخت اور دریچہ، جنگو اور بجھا ہوا چراغ وغیرہ قابل ذکر ہے۔اس طرح لمسی اور حسی امیجری کے لیے پیاس سے مرتا پیڑ، مہکتے ہونٹوں کے چاند وغیرہ ،جز باتی اور علامتی امیجری کے لیے آنسوؤں سے مٹا اور لکھا ہوا، حادثوں سے سجا دیا، وغیرہ الفاظ کا تعین کیا ہے۔  ؎

           جسے لے گئی ہے ابھی ہوا وہ ورق تھا دل کی کتاب کا       کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا کہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا

                آنسو انسانی جذبات کا سب سے مؤثر اظہار ہیں، اسی لیے شاعری میں ان کا ذکر بہت کثرت سے ملتا ہے۔ بڑے شعرا نے آنسوؤں کو صرف غم کی علامت نہیں سمجھا بلکہ انہیں محبت، جدائی، تنہائی، یاد اور دل کی کیفیتوں کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔بدرؔ نے اپنی شاعری میں آنسوؤں کو منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک آنسو انسان کے باطن کی سچی آواز ہیں۔ جب دل شدید دکھ، تنہائی یا محبت کے احساس سے بھر جاتا ہے تو یہی جذبات آنسوؤں کی صورت میں آنکھوں سے نکلتے ہیں۔بدرؔ کی شاعری میں رات، تنہائی اور آنسو ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ وہ رات کو ایسا سفر قرار دیتے ہیں جس میں انسان اپنے احساسات کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے، اور اسی کیفیت میں آنسو دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔اسی طرح ان کے اشعار میں پیاری دستک، چاندنی اور خوشبو بھی خوبصورت علامتوں کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ پیاری دستک امید اور محبوب کی آمد کا احساس دلاتی ہے، چاندنی حسن، پاکیزگی اور دلکشی کی علامت ہے، جبکہ خوشبو محبت کی یاد، قربت اور خوشگوار احساسات کی نمائندگی کرتی ہے۔بدرؔ نے ان تمام علامتوں کو اس مہارت سے استعمال کیا ہے کہ ان کی شاعری میں جذبات کی گہرائی اور خوبصورتی مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہی علامتی انداز ان کے کلام کو عام شاعری سے ممتاز بناتا ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

بشیر بدر کا پہلا شعری مجموعہ’’ــ ـاکائی ‘‘۱۹۶۹ ء میں شائع ہوا تو ان کی امیجری کے نت نئے انداز نے دنیائے شعر و ادب دیا، دوے مجموعے  ’’امیج‘‘ کے آنے سے بدر کی امیجری کا رنگ اور تیز ہو گیا۔’’ امیج ‘‘۱۹۷۳ء میں منظر عام پر آیا اس میں موجود شاعری امیجری کے وصف سے بھری ہوئی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ مجموعہ بھی اسم بامسمی ہے۔ اس مجموعے کی امیجری کا اچھوتا رنگ ان کی شاعری کو اپنے معاصرین سے منفرد پہچان عطا کرنے کے لیے کافی ہے۔  امیج کی اشاعت کے ساتھ ہی بدر اپنی امتیازی حیثیت قائم کرنے میں ایک طرح سے کامیاب نظر آتے ہیں لیکن ان کی شاعری کا تیسرا موڑ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ یہ موڑ آمد کی اشاعت ’’۱۹۸۵‘‘ سے شروع ہوتا ہے اور بعد کے سبھی مجموعوں میں یہی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔’’آمد‘‘ سے قبل بدر اپنے معاصرین میں جگہ بنانے کے لیے کوشاں تھے لیکن ’’آمد‘‘ کی اشاعت کے بعد ان کی انفرادیت کو اُردو دنیا نے تسلیم کر لیا۔ ڈاکٹر محمد حسن جیسے سر بر آوردہ نا قد بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ” غزل گو کی حیثیت سے بشیر بدر کی شاعری پر ایمان نہ لانا کفر ہے ‘‘۔ (سہ ماہی انتساب بشیر بدر نمبر، شمارہ نمبر ۴۴، ص100) اس دور میں بشیر بدر کونئی امیجری کا مقبول شاعر تسلیم کرنے کے ساتھ انھیں مشاعروں میں جدید’’ غزل کے امام” جیسے القاب سے یاد کیا جانے لگا۔ ’’آمد ‘‘کے بعد مجموعہ ’’آسمان‘‘ کی اشاعت ۱۹۹۳ ء سے بدر شہرت کے آسمان چھونے میں کامیاب ہوئے۔اس کے بعد آس، آہٹ اور بعد کے کلام کی اپنی انفرادیت ہے۔ یہاں ان کے ابتدائی کلام سے ایک مثال

  مست وسرشار تھے کوئی ٹھوکر لگی آسماں سے زمیں پہ یوں ہم آگئے  شاخ سے پھول جیسے کوئی گر پڑے رقص آواز پر جھومتے جھومتے      آنکھیں آنسو بھری، پلکیں بوجھل گھنی، جیسے جھیلیں بھی ہوں نرم سائے بھی ہوں  وہ تو کیسے انہیں کچھ ہنسی آگئی، بچ گئے آج ہم ڈوبتے ڈوبتے          یہ اشعار بدر کے بالکل ابتدائی دور کی غزل سے ماخوذ ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ بدر ابتدا ہی سے غزل میں نادر تشبیہات کے استعمال سے امیجری کا نیا رنگ بھرنے کا ہنر رکھتے تھے۔ درج بالا شعر میں دیکھیے کس قدر دلکش حسی بصری پیکر ظاہر ہوا ہے۔ زندگی کے کسی موڑ پر اچانک ایک خوش وخرم اور مست و سرشار شخص کسی حادثے کا شکار ہو جائے یا اپنوں سے جدا ہو جائے اور سب کی سب خوشیاں پل بھر میں چھن جائیں، اس منظر کو بدر شاخ سے گرتے ہوئے ایک ایسے پھول سے دکھاتے ہیں جو جھومتے جھومتے اپنے وجود کو مضمحل ہوتے دیکھے۔ بلاشبہ ایک عاشق عشق میں مست وسرشار ہوتا ہے لیکن محبوب سے بچھڑتے وقت اس کا ایسا حال ہوتا ہے جیسے کوئی ٹھو کر اسے آسمان سے زمیں پر گرا دے۔ دوسرے شعر میں بھی بہترین حسی بصری تصویر رقم ہے۔   ؎

               سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے                با وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے

              میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں            کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے

              مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا                  خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے

             بت بھی رکھے ہیں نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں             دل مرا دل نہیں اللہ کا گھر لگتا ہے

              زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں             پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

                بشیر بدرنے امیجری کا استعمال نہایت مؤثر اور فنکارانہ انداز میں کیا اور ایسے الفاظ، تشبیہوں، استعاروں اور علامتوں سے کام لیا ہے جو قاری کے ذہن میں جیتی جاگتی تصویریں اور گہرے احساسات پیدا کرتے ہیں۔ محبوب کو ”گلابوں کا شجر” قرار دے کر حسن، لطافت اور پاکیزگی کا دلکش منظر پیش کیا گیا ہے، جبکہ ”باوضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے” محبوب کے احترام اور تقدس کا احساس اجاگر کرتا ہے۔ ”ستاروں سے گزر سکتا ہوں” محبت کی وسعت، بلند ہمتی اور خواب ناک کیفیت کی بصری تصویر سامنے لاتا ہے۔ اسی طرح ”مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا” اور ”خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے” انسان کی داخلی کشمکش اور نفسیاتی اضطراب کو مجسم کرتے ہیں۔ ”دل مرا دل نہیں اللہ کا گھر لگتا ہے” دل کی روحانی پاکیزگی اور تقدس کی علامتی تصویر پیش کرتا ہے، جبکہ آخری شعر میں ”قبر سے کم دی ہے زمیں، پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے” زندگی کی تنگی، گھٹن اور بے بسی کا ایسا بصری اور حسی منظر تخلیق کرتا ہے جو قاری کو شدت سے متاثر کرتا ہے۔ اس طرح پوری غزل میں بصری، حسی، نفسیاتی اور علامتی امیجری باہم مل کر معنی، احساس اور جمالیاتی حسن کو مؤثر انداز میں نمایاں کرتی ہے۔

                بشیر بدر کی شاعری میں غزل کی کلاسیکی روایت بھی موجود ہے اور جدید احساسات بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے محبت، جدائی، تنہائی، امید اورانسانی رشتوں کو نہایت خوبصورتی سے اپنے اشعار کا حصہ بنایا ہے۔ ان کے کلام میں علامتوں اور استعاروں کا استعمال سادہ مگر انتہائی مؤثر انداز میں ملتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی شاعری ہر طبق فکر کے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ان کی غزلوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ کے بجائے عام فہم زبان استعمال کرتے ہیں۔ یہی سادگی ان کے اشعار کو یادگار اور دل نشین بناتی ہے۔ ان کے کلام میں روایت کی خوبصورتی بھی موجود ہے اور جدید دور کے مسائل و احساسات کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔   ؎

                بڑی آگ ہے، بڑی آنچ ہے، ترے میکدے کے گلاب میں  کئی بالیاں، کئی چوڑیاں یہاں گھل رہی ہیں شراب میں

                وہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا، وہی لکھنے پڑھنے کا شوق ہے                     ترا نام لکھنا کتاب پر، ترا نام پڑھنا کتاب میں

                وہ بدن سخن کا جمال ہے، وہ جمال اپنی مثال ہے           کوئی ایک مصرعہ نہ کہہ سکا، کبھی اس غزل کے جواب میں

                یہ نوازشیں یہ عنایتیں، ترا شکر کیسے ادا کروں             سرِ راہ پھول بچھا دیے، مرے آنسوؤں کے جواب میں

                مرے زرد پتوں کی چادریں بھی ہوائیں چھین کے لے گئیں   میں عجب گلاب کا پھول ہوں‘جو برہنہ سر ہے شباب میں

        یہ دُعا ہے ایسی غزل کہوں‘کبھی پیش جس سے میں کرسکوں    کوئی حرف تیرے حضور میں‘کوئی شعر تیری جناب میں

                اس غزل میں امیجری اور علامت نگاری کا نہایت دل آویز اور مؤثر استعمال ملتا ہے۔ شاعر نے خوشبو کو مرکزی استعارے اور علامت کے طور پر برتتے ہوئے محبت، یاد، قربت، حسن اور فطرت کے مختلف احساسات کو مجسم کیا ہے۔ غزل کے ہر شعر میں خوشبو کسی نہ کسی جذبے، کیفیت یا یاد کی نمائندہ بن کر سامنے آتی ہے، جس سے قاری کے ذہن میں بصری، حسی اور جذباتی مناظر ابھرنے لگتے ہیں۔ ”پہلی ملاقات کی خوشبو” ماضی کی حسین یادوں، ”ریشمی زلفوں میں بسی رات کی خوشبو” حسن اور رومان کی کیفیت، ”بادل ہیں چھپائے ہوئے برسات کی خوشبو” فطرت کی تازگی اور زندگی کی شادابی، ”قصبات کی خوشبو” سادگی، خلوص اور دیہی تہذیب، جبکہ ”تری سوغات کی خوشبو” محبوب کی محبت، قربت اور لازوال یاد کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ اس طرح شاعر نے خوشبو، زلف، رات، بادل، برسات، قصبات، پھول اور سانس جیسی علامتوں کے ذریعے عشق، یاد، فطرت اور انسانی جذبات کو نہایت لطیف اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ یہی خوب صورت امیجری اور بامعنی علامت نگاری اس غزل کے حسن اور تاثیر کو دوبالا کر دیتی ہے۔

                الغرض بشیر بدر کی شاعری صرف اردو ادب تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کی مختلف زبانوں میں بھی اسے پسند کیا گیا ہے۔ ان کے اشعار آج بھی مشاعروں، ادبی نشستوں اور عام گفتگو میں یکساں مقبول ہیں۔ یہی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا فن وقت گزرنے کے ساتھ مزید مؤثر اور زندہ ہوتا جا رہا ہے۔ان کی شاعری میں محبت اور انسان دوستی کا پیغام نمایاں ہے۔ وہ اپنے منفرد اسلوب، سادہ زبان اور گہرے خیالات کی وجہ سے جدید اردو غزل کے اہم اور ممتاز شاعر شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کا کلام آج بھی قارئین کے دلوں میں وہی تازگی اور کشش رکھتا ہے جو ابتدا میںتھی۔

 حوالہ جات۔۔۔۔

  ۱۔’’آس‘‘  بشیر بدر  حسامی بک ڈپو حیدرآباد  فروری۱۹۹۳ ؁ ء

  ۲۔ـ’’کلیات بشیر بدر‘ ‘   ترتیب فاروق ارگلی  فرید بک ڈپو پرائیویٹ لمیٹڈ  ۴ٍ۲۰۱؁ء

  ۳۔’’آہٹ‘‘  بشیر بدر  ایم آر پبلیکیشنز نئی دہلی

  ۴۔رسالہ تحریک ادب اشاعت  ۲۰۱۳؁ ء

  ۵۔بشیر بدر فن اور شخصیت رفعت سلطان اور رضیہ حامد باب العلم پبلیکیشنز  نوائیڑا  ۱۹۸۸؁ء

  ۶۔غزل کے اہم موڑ  بشیر بدر آمد کے حوالے سے ریحانہ نسرین  ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس دہلی  ۲۰۱۰؁ء

                                                                                                                                                                                                ہلال احمد کمہار

                                                                                                                                                                                                ریسرچ اسکالر

                                                                                                                                                                                              شعبہ اردو

              یونیورسٹی آف حیدرآباد

                                                                                                                                                            hilalquadiri@gmail.com

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.