علی سردار جعفری کی افسانوی منزل
علی سردار جعفری کی افسانوی منزل
ڈاکٹر محمد فاروق خان
ایم ۔ایس انٹر کالج سکندرآباد بلند شہر یوپی
علی سردار جعفری ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ بطور شاعر ان کی شہرت وعظمت عالمگیرہے۔ ان کے شعروسخن کا سورج اتنے جلال سے طلوع ہواکہ نقاد، افسانہ نگار، صحافی جعفری کا وجود ماند پڑگیا۔ جعفری کی زندگی کا سفر ۲۹؍ نومبر ۱۹۱۳ء میں بلرام پوریوپی سے شروع ہوا،اور اس کی تکمیل یکم اگست 2000 ء کو ممبئی میں ہوئی۔ تقریباً۸۷ سال وہ با حیات رہے۔
سردارسادات جعفریہ کے چشم و چراغ تھے اس خانوادے میں مذہبی احکامات، مشرقی روایات واقدار کی بڑی پابندی تھی۔ دینی مجالس، مشاعروںاور ادبی محفلوں کا انعقاد اکثر ہوتاتھا۔ مرثیہ خوانی اور ترحم کی مجالس کا انعقاد بڑے اہتمام سے کیا جاتا تھا۔ خاندان کے اسی مذہبی وعلمی ماحول میں علی سردار جعفری سن شعور کوپہنچے ۔ ۱۷ سال کی عمر میںا نھوں نے اپنا تخلیقی سفر مرثیہ گوئی سے شروع کیا۔ اس مشقی دور میںان پر میرؔ انیس کا بہت اثر تھا۔ شاید اسی وجہ سے جعفری نے میرؔانیس کے متروکہ تخلص ’’حزیں‘‘ کو اپناتخلص بنایا۔ جعفری نے پہلامرثیہ ۱۷ سال کی عمر میں لکھا تھا جس کا پہلا بند یہ ہے۔
آتا ہے کون شمع امامت لیے ہوئے
اپنی جلو میں فوج صداقت لیے ہوئے
ہاتھوں میں جام سرخ شہادت لیے ہوئے
لب پر دعائے بخشش امامت لیے ہوئے
اﷲ رے حسن فاطمہ کے ماہتاب کا
ذروں میں چھپتا پھرتا ہے نور آفتاب کا
جعفری کی ابتدائی تعلیم گھر پہ ہوئی۔مذہبی تعلیم کے لیے ان کا سلطان المدارس لکھنؤ میں داخلہ کرایا گیا۔ لیکن جعفری کا دل مدرسہ میں نہ لگا وہ بھاگ کربلرام پور آگئے۔ اور لائل کا لجیٹ ہائی اسکول میں داخل ہوگئے ۔ بیس سال کی عمر میں ہائی اسکول پاس کرکے ۱۹۳۳ء میں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میںداخلہ لے لیا۔ علی گڑھ کی طالب علمی کے زمانے کا تذکرہ جعفری نے اس طرح کیا ہے ۔
’’یہ ایک طوفانی زمانہ تھا جب تحریک آزادی اپنے شباب پرتھی اس عہد کے علی گڑھ نے اُردو زبان کو اختر حسین رائے پوری ،سبط حسن،منٹو، مجاز،جانثار اختر ، جذبی ، خواجہ احمد عباس، جلیل قدوائی، اختر انصاری ، شکیل بدایونی ، عصمت چغتائی ۱۹۴۰ء کے آس پاس اختر الایمان کا تحفہ دیا۔ وہاں خواجہ منظور حسین ، ڈاکٹر عبدالعلیم ڈاکٹر رشید جہاں ، ڈاکٹر محمد اشرف وغیرہ سے تعارف ہوا جن کی صحبت اور فیض نے ذوق ِ ادب اور آزادی کے جذبے کو جلا عطاکی ۔ جدید عہد کے اُردو ادب میںتقریباً ۷۵ فیصد علی گڑھ اور ترقی پسند تحریک کی عطا ہے ۔‘‘
خودنوشت بحوالہ جعفری کی نادر تحریریں۔ مرتبہ ڈاکٹر محمد فیروز
علی سردار جعفری نے اپنے ادبی سفر کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا۔ تین پاؤ گندھا آٹا ان کا پہلا افسانہ ہے جو شائع ہوا۔ جعفری کی تخلیقی نثر کے مطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ اس میں خطیبانہ عناصر اور شاعرانہ جوش کی ایک مدھم سی لہر نظر آتی ہے ۔ اس کے باوجود ان کی تحریریں ابہام وپیچیدگیوں سے پاک ہیں۔ سادگی، روانی ، اختصار اور نادر تشبیہات سے ان کی نثر پُر ہے۔ جعفری نے شعری مجموعہ سے پہلے اپنا افسانوی مجموعہ’’ منزل ‘‘۱۹۳۸ء میں شائع کرایا۔ جعفری نے اس زمانے میں افسانہ نگاری کے میدان میں قدم رکھاجب افسانوی ادب پر اصلاح پسندی اور رومانیت وتخئیل پرستی کے اثرات کافی حد تک کم ہو چکے تھے ۔
انگارے گروپ نے جدید افسانہ نگاری کے جو اصول ومعیار پیش کئے تھے وہ ابھی ردّوقبول ہی کے مرحلے میں تھے ۔ ترقی پسند تحریک اردو ادب پر کافی حد تک اثر انداز تھی ۔ حسن اور معیار حسن کو تبدیل کرنے کی شعوری کاوشیں ہو رہی تھیں۔مزاحمت وبغاوت کو شعروادب میں ایک مقام حاصل ہوگیا تھا ۔ اسی ادبی ماحول میں جعفری نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز کیا۔ زمانۂ طا لب علمی ہی میں جعفری نے’’ لچھمی ‘‘ اور ’’ آؤ ہم اس دنیا سے نکل چلیں ‘‘ کے نام سے دو اہم افسانے لکھے ان دونوں افسانوںکو فنّی اعتبار سے تو مکمل نہیں قراردیا جا سکتا پھر بھی ایک نو آموز افسانہ نگار کے ذہنی ونفسیاتی کیفیت کو جاننے میں معاون ہیں ’’لچھمی‘‘ ہی سے جعفری نے اشتراکی وترقی پسندانہ نظریات کی ترجمانی شروع کر دی تھی۔ان افسانوں کاتعلق چونکہ مشقی دور سے ہے اس لیے فکری وفنّی پختگی کی توقع فضول ہے ۔
جعفری کے یہاں ابتدائی دور ہی سے اسلوب ومواد دونوں اعتبار سے ترقی پسندوں کی تقلیدنظر آتی ہے۔ اس تقلیدی کاوش میں جعفری کے شعور اورلاشعوری دونوں کا دخل نظرآتا ہے۔مگر شعوری کاوش کا عکس بہت واضح ہے۔مزدور ، کارخانہ، بغاوت، مزاحمت، غریب، ظلم و استحصال، بے بسی اور مجبوری وغیرہ جیسے الفاظ کا بکثرت استعمال شعوری تقلیدکے عکاس ہیں۔’’آؤ ہم اس دنیا سے نکل چلیں‘‘ جون۱۹۳۷ء انکا دوسرا عہد طالب علمی کا یادگارافسانہ ہے، جس میں رومانیت اور تخئیل کا بھر پور امتزاج ملتا ہے ۔ یہ ایک انشائیہ نما افسانہ ہے۔ اس افسانہ میں جذبہ حسن و عشق کے ساتھ ساتھ دنیا کی بے ثباتی کاتذکرہ رنگین عبارت اور دلکش اسلوب میں کیا گیا ہے۔رومانیت وتخئیل کی فضا پورے افسانہ پر طاری ہے ۔ فکر ومواد سے زیادہ اسلوب نگارش اور عبارت آرائی پر توجہ صرف کی گئی ہے۔ اس افسانہ پرسجاد حیدر یلدرم اور نیاز فتح پوری کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔اس افسانہ میں چونکہ سماج کی مروجہ روایات واقدار، بے جا فخر اور نام نہاد عزت سے اپنی ناپسند یدگی و ناآسودگی کا اظہار کیا گیاہے ۔جس کی وجہ سماجی نظام جبرکے خلاف احتجاج کی ایک شمع روشن ہوتی ہے، اور اس کی لو لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جاتی ہے۔
علی سردار جعفری کا افسانوی مجموعہ’’ منزل‘‘ اس زمانے میں شائع ہواجب علی گڑ مسلم یونیورسٹی سے ان کا اخراج ہو چکا تھا۔ترقی پسندتحریک کی دستک ہر ادبی دروبا م پر سنائی دے رہی تھی۔جعفری نے خود کو اس تحریک کی تبلیغ واشاعت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ طالب علم لیڈر کی حیثیت سے وہ لکھنؤ یونیورسٹی میں سرگرم تھے۔ قومی آزادی کی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ کانگریس کی عبوری وزارت قائم ہوچکی تھی۔اس سیاسی اتھل پتھل کے زمانے میںـ’ منزل ‘کی اشاعت عمل میں آئی۔اس مجموعہ میں ’سپاہی کی موت‘ کے نام سے ایک ڈرامہ اور پانچ افسانے شامل ہیں۔ منزل ۱۹۳۷ء، بارہ آنے ۱۹۳۷ء، پاپ۱۹۳۶ء، مسجد کے زیرسایہ۱۹۳۸ء،اورآدم زادہیں۔ جعفری کے سبھی افسانوں میں عصری حسیت اورمعاصرسیاسی،معاشرتی،سماجی حالات کی نمائندگی وترجمانی بڑے موثر انداز میں کی گئی ہے۔’’منزل‘‘ کے پیش لفظ میں جعفری نے اپنے ادبی نقطہ نظر کا اظہاراس طرح کیا ہے۔
’’یہ افسانے ہندوستان کی اس تحریک کی پیداوار ہیںجس نے زندگی کا تصور بدل دیا ہے اس لیے ان میں اس تلخی کااحساس باعث تعجب نہیں جودرمیانی طبقہ کی طبع نازک پر گراں گزرے گی۔ مگر اس کو کیا کیا جائے کہ ہمارا موجودہ نظام زندگی کچھ ایساہی ہے۔‘‘ پیش لفظ ۔منزل
ایک کو چھوڑ کراس مجموعے میں شامل سبھی افسانوں کے تمام کرداروں کاتعلق نچلے وغریب طبقے سے ہے۔ البتہ’منزل ‘ہی کے نام سے ایک افسانہ اس مجموعہ میں شامل ہے جس کے کلیدی کردار فاطمہ اور اشفاق ہیں، ان دونوںکا تعلق اعلیٰ وحکمراںطبقہ سے ہے ۔ ان افسانوں کی تخلیق کا بنیادی مقصد ہی اشتراکیت وترقی پسندی کی نشرو اشاعت معلوم ہوتاہے ۔ اس لیے یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ان افسانوں میں اشتراکی ومارکسی نظریات کی ترجمانی کی گئی ہے کہنے کی بات تویہ ہے کہ مقصدیت کی شدّت اور فکرو نظریہ کی بکثرت تکرار نے جعفری کے افسانوں کو فنّی اعتبار سے کم تراور کمزور بنا دیا ہے۔ حزن ویاس، ظلم وجبر، غربت و افلاس مجبوری وبے بسی جیسے جذبوں کا مبالغہ امیز اظہار قاری کے ذہن کوبوجھل اور فن کے معیار کو مجروح کرنے کے لیے کافی ہیں۔
جعفری نے منزل کے پیش لفظ میں لکھا ہے ۔
’’ایک افسانے کو چھوڑ کر باقی تمام افسانوں کے کردار اس طبقہ سے لیے گئے ہیں جو زندگی کی راحتوں سے محروم ہے۔ ان میں دہقان کے لہو کی حرارت مزدور کی آنکھوں کی تھکن مفلس کے چہرے کی اداسی اور زندگی کے ہونٹوں کا زہریلا تبسم ہے۔‘‘پیش لفظ ۔منزل
جعفری کے تقریباً سبھی افسانوں میں نسائی کرداروں کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔ خواتین کی مظلومیت وبے چارگی ، ذہنی وجسمانی استحصال کو محور کادرجہ حاصل ہے ۔اسی محورپر تمام کہانیاں گھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ جیسے منزل میں شامل ’’بارہ آنے‘‘ کی’ جمنا‘ کا کردار جو اپنے باپ کی بیماری اور قرض سے مجبور ہوکر روزگار کی تلاش میں شہر آتی ہے ، کام نہ ملنے کی وجہ سے فقظ بارہ آنے میں اپنے جسم کا سودا کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔اسی طرح افسانہ’ منزل‘ کی فاطمہ جس کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہوتا ہے جو انگریزوں کا وفادار اور خطاب یافتہ ہے مگر فاطمہ کو انگریری حکومت سے نفرت ہے وہ کانگریس کے نظریہ آزادی کی خاموش حامی ہے۔ فاطمہ کی شادی ایک ایسے شخص سے کردی جاتی ہے جس کو وہ نظریاتی اعتبار سے نا پسند کرتی ہے۔آخر کار وہ آنچل کو پرچم بنا کر اعلان بغاوت کردیتی ہے۔
اسی مجموعہ میں شامل افسانہ ’’پاپ‘‘ کی اندرا جو کم عمری ہی میں اپنے شرابی دادا کے ہوس کا شکار ہو کر ایک بچی کی ماں بن جاتی ہے، یا پھر’’ مسجد کے زیر سایہ ‘‘کی بھکارن ماں کا کردار جو بھوک کی آگ سے جل کر اس قدر مجبور ولاچار ہوجاتی ہے کہ چوری کرکے اپنا اور اپنے معصوم بچے کا پیٹ بھر نے کی ناکام کوشش کرتی ہے ۔اسی طرح’’آدم زاد‘‘ کی’ جھناکا‘ کاکردار جس کا شوہر آٹھ سالوں سے لاپتہ ہے ،جھناکا اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نہ معلوم کتنوں کے جسموں کی آگ بجھاتی ہے،جھناکا نامعلوم باپ کے بیٹے کو جنم دیتی ہے۔ سماج کی پرواہ کئے بغیروہ اس کی پرورش کرتی ہے ۔ خود اعتمادی، جسارت اور بغاوت جعفری کے تمام نسانی کرداروں کی خاص شناخت ہیں۔
جعفری نے منزل کی اشاعت کے گیارہ سالوں بعد ۱۹۴۹ء میں اپنا آخری طویل افسانہ ’’چہرومانجھی‘‘ لکھا اس افسانہ پر کرشن چندر کی تقلیدکا الزام عائد کیا گیا ہے جو کافی حد تک درست بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس افسانہ کا کلیدی کردار بھی نسائی ہے۔ جس کانام چہرو ہے ۔ یہ ایک مظلوم بے سہارا غریب لڑکی تھی تیرہ دنوں تک مسلسل بھوکی رہنے کے بعد زمیندار کے لڑ کے سے ایک مٹھی چاول کے بدلے اپنے جسم کاسودا کر لیتی ہے۔
مذکورہ نسائی کرداروں کے حوالے سے جعفری کے افسانوں کا گر مطالعہ کیا جائے تو ایک ایسے فنکار سے ہماری ملاقات ہوتی ہے جو شاعراور ترقی پسند تحریک سے وابستہ جعفری سے کافی حد تک مختلف ومنفرد نظر آتا ہے ۔جعفری کے افسانوں میں انسانیت کا احترام اور محبت کے ساتھ ساتھ مروجہ سیاسی نظام سے نفرت کا اظہار بھی ملتا ہے ۔ ان کے سبھی افسانوں میں خواتین کی مظلومیت واستحصال کا اظہار ایک مخصوص نقطۂ نظر سے کیا گیا ہے۔ یوں تو آج کی مروجہ اصطلاح تانیثیت کا علمبردار جعفری کو نہیں قرار دیا کاسکتا ہے اس کے باوجود ان کے افسانوں میں پدرانہ نظام جبر کے خلاف شدید مزاحمت کا رویہ نظر آتا ہے۔ حقوق نسواں کی بازیافت اورخواتین کو بااختیار و بااعتبار بنانے کی کاوش جعفری کے یہاں ہر جگہ نظر آتی ہے ۔ عصری نسائی حسیت اور تانیثی رویّوں کے اظہار میں ان کے یہاں جارحیت اور شدّت پسندی کا رویہ پا یا جاتا ہے ۔ ان کے کرداراگر مفلسی کا شکار ہیں تو اتنے زیادہ تنگ دست نظر آتے ہیں کہ بارہ آنے یا ایک مٹھی چاول کے لیے اپنے جسم کا سودا کر لیتے ہیں۔ اعتدال وتناسب کی جعفری کے افسانوں میں بہت کمی ہے۔
جعفری کے اکثر نسائی کرداروں نے غربت وافلاس سے مجبور ہوکرجسم فروشی ہی کی راہ اختیار کی ہے۔ جیسے آدم زاد کی جھناکا،چہرہ مانجھی کی چہرو ،بارہ آنے کی جمنا، وغیرہ۔ جعفری کا اپنے اکثر نسائی کرداروں کو مجبوراً جسم فروش دکھانا ان کی اس ذہنیت و نفسیات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ غربت ومفلسی کو کس قدر ذلیل وحقیر سمجھتے ہیں ۔شایداسی لیے انھوں نے مجبور،لاچار اور بھوک سے نڈھال کرداروں سے یہ پیشہ کرایا ہے، تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اگر دولت کی تقسیم مساوی نہ ہوگی تو انجام یہ ہی ہوگا۔ مارکسی نقطہ نظر نے جعفری کو فکری سمت بخشی ہے ۔ جعفری کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے جسم فروشی کو بار بار دکھایاہے،پھر بھی عریانیت وفحاشی سے انکا قلم پاک ہے۔ جنسی عمل کا اظہار اس طرح کیاہے کہ قاری میں تلذذ کے بجائے کراہیت اور ترحم اور سماجی بیداری جذبے پیدا ہوتے ہیں۔
حزن و غم، ولاچاری ،مفلسی، مجبوری و بے چارگی کی اتنی موٹی پرتیں ان کے افسانوں پر جمی ہیں، کہ سوگواراور ماتمی ماحول پیدا ہوگیا ہے اور قاری نشاط وانبساط سے محروم ہوجاتا ہے۔قاری کی یہ محرومی تخلیقی ادب کا نقص بن جاتی ہے ۔اس لئے کہ جس تخلیق میں مسرت وبصیرت کا پہلو نہ ہو اس کی عظمت کی گواہی نہیں دی جاسکتی ہے ۔
جعفری کے نسائی کردار ویسے تو ظلم وجبر برداشت کرتے رہتے ہیں لیکن ان میں احتجاجی فکر بھی رفتہ رفتہ پروان چڑھتی رہتی ہے ۔آخرکار یہی فکر آتش فشاں بن کر بغاوت کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ جیسے ’’ پاپ ‘‘ کی شرمیلی ’’اندرا‘‘ کا اپنے عاشق کو پکڑ کر گلی میں لے جاکر یہ کہنا کہ’’تم نے بڑاپاپ کیا ہے‘‘ اب تم ہی میرے پتی ہو ۔ اسی طرح آدم زاد کی’’جھناکا‘‘کا اپنے حق میں پنچایت کا یہ فیصلہ’ ایسی عورت کا گاؤں میں رہنا ٹھیک نہیں‘ سن کر یہ کہنا’چودھری یہاں کون ہے جو گنگا نہیں نہایا‘‘بارہ آنے کی جمنا کا اپنے جسم کا سودا کرنے کے بعد بطور معاوضہ بارہ آنے ملنے پر یہ کہنا کہ ’’بس بارہ آنے ‘‘ چہرومانجھی کی چہرو کے یہ دلخراش جملے ’’میں اپنا جسم بیچتی ہوں‘‘۔’’میں اپنا جسم مٹھی بھر چاول میں بیچنے آئی ہوں اسے خریدلو‘‘ مذکورہ جملے فقط کرداروں کے مکالمے نہیں ہیں ،بلکہ ان کی حیثیت اس آئینہ کی طرح جس میںاس زمانہ کا پورا سماج بدنما وبھیانک شکل میں نظر آرہا ہے ۔ ان جملوںمیں احتجاج اور بغاوت کا بڑا شدید احساس پوشیدہ ہے۔ یہ جملے قاری پر آیٹم بم(Atom Bomb )بن کر گرتے ہیں۔ چند لمحوں کے لیے وہ دنیا ومافیہاکو بھول کر ان کرداروں کی مظلومیت اور مفلسی پر آنسو بہانے لگتا ہے۔
جعفری کے سبھی افسانے مختصر ہیں سوائے ’چہرو مانجھی‘ کے’ منزل‘ میں شامل افسانہ ’’بارہ آنے‘‘کو ان کا شاہکار اور لازوال افسانہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ فکر وفن ، موضوع ومواد، ہر اعتبارسے یہ ایک یادگار اور فطری افسانہ ہے ۔ اسلوب نگارش اور زبان و بیان نے اس کے حسن میں اضافہ کر دیا ہے ۔جعفری نے اس میں دوسرے افسانوں سے زیادہ اودھی زبان کا استعمال کیا ہے۔ مزدور پیشہ افراد کے آپسی گفتگو کے لیے اودھی بولی کے استعمال سے اس کی فضا فطری اوردلکش ہوگئی ہے ۔ بعض مقامات پر اودھی کا ایک لفظ یا جملہ پورے اقتباس یا جملوں کا نعم البدل ثابت ہوگیا ہے۔ جیسے ’’ماندے ہوجاؤ تو کام سے الگ کر دئیے جاؤ‘‘ اودھی علاقوں میں ماندے کا لفظ اب بھی عوام میں بیمار کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ اس طرح ان کا یہ جملہ’’ابے او کنوّاں‘‘ اس جملہ میں غصہ او ر تذلیل کی آمیزش ہے۔ اگر کسی کی آنکھ میں کوئی نقص ہو یا کوئی دیکھ کر ان دیکھی کرے اس کے لیے غصہ میں اس جملے کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ دوسرے اودھی جملے مثلاً ’’جاؤ بچہ آج چھوڑ دیہاہے‘‘ چھجی کوڑی بھی نہیں چھوڑی‘‘ دن بھر کام کرو شام کو عورت کی باتیں سنو نون نہیں،تیل نہیں، لکڑی لاؤ ،ای لاؤ اولاؤ‘‘ اس افسانے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کی تخلیق اسکرپٹ کے طرز پر ہوئی ہے۔ بہت معمولی کمی زیادتی کرنے کے بعد اس کو با آسانی فلمایا جا سکتا ہے ۔ اس میں’’ جمنا ‘‘غربت اور مجبوری کی وجہ سے جسم فروشی پر امادہ ہو جاتی ہے اور حصول زر کے لیے جس راہ کا انتخاب کرتی ہے وہ ہراعتبار سے نفرت و مذمت کے قابل ہے پھر بھی قاری کو جمنا سے محبت اور ہمدردی کا احساس ہوتا ہے، اور یہ احساس ہی اس افسانے کوکامیابی سے ہم کنار کر دیتا ہے ۔ اس افسانہ کے بارے میں ڈاکٹر خالد حیدر اپنے مضمون ’’سردار جعفری کی تخلیقی نثر‘‘ میںلکھتے ہیں۔
’’بارہ آنے‘‘ یقینا ایک خوبصورت افسانہ ہے جس میں پوری فضا اس کے کرداروں کے ماحول اور ان کی طبقاتی زندگی سے ہم آھنگ ہے۔ اور روای کہیں بھی نمایاں ہو کر سامنے نہیں آتا جس کی وجہ سے نظریہ کی تبلیغ کرنے کے باوجود یہ تبلیغ نہیں معلوم ہوتی ہے اور عورت کے استحصال کی یہ کہانی صرف عورت کے استحصال کی کہانی نہیں رہ جاتی بلکہ معاشرے کے اس بے بس نظام کی کہانی بن جاتی ہے جو ایک زنجیر کی مانند ایک دوسرے سے جڑی ہے۔
سردار جعفری شخصیت اور فن۔ مرتبہ ۔اصغر عباس
جعفری کی عالمی سطح پر شہرت ترقی پسند شاعر کے طور پر ہوگئی تھی ۔چونکہ ان کی شہرت وشناخت کا ، سبب شاعری تھی اسی لیے جعفری سے لوگوں کو عمدہ کلام اور انقلانی اشعار کی توقع ہوگئی تھی ۔ اسی شہرت نے جعفری کو افسانہ نگاری سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر آمادہ کیا ۔ جعفری کے افسانوی مجموعہ’ منزل‘ کو خاطر خواہ مقبولیت اور پذیرائی نہ مل سکی۔ اسی لیے انھوں نے خو د کو ناکام افسانہ نگار قرار دے کر افسانوں سے اپنا دامن چھڑا لیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر آدمی کے پاس دو آپشن Option ہوں تو وہ سب سے بہتر کا انتخاب کرتا ہے یہی معاملہ جعفری کے ساتھ بھی ہوا۔ ان کی شاعری افسانوں کے بالمقابل زیارہ بہتر تھی اسی لیے لوگوں نے اس کاانتخاب کرلیا۔ جعفری گر صرف افسانہ نگار ہوتے تو کچھ دنوں کے بعد ان کے افسانوں کو شہرت اور مقبولیت ضرور ملتی۔ جعفری نے افسانوں سے کنارہ کشی تو اختیار کر لی تھی ۔مگر بہت دنوں تک ان کے ذہن اور قلم پر افسانوی اثرات برقرار رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بعد کی نثری تحریروں مثلاً’’ لکھنوکی پانچ راتیں ‘‘ وغیرہ پر افسانوی اسلوب اور اثرات کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ سبھی مضامین تاثراتی اور سوانحی نوعیت کے ہیں۔
بطور افسانہ نگار ان کی ناکامی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس زمانے میںافسانوں کے ناخدا کرشن چندر کا سکہ افسانوی دنیا میں رائج الوقت تھا۔ اتنے عظیم اور مقبول فنکار کے سامنے کسی نو آموز کا ٹک پانا بہت مشکل تھا‘‘
ڈاکٹرمحمد فاروق ٗخان
ایم ۔ایس انٹر کالج سکندرآباد بلند شہر یوپی
mob:9359955642


Leave a Reply
Be the First to Comment!