اردو سفرنامے ’’ہیروشیما کے آنسو‘‘ کا موضوعاتی و اسلوبی مطالعہ
اردو سفرنامے ’’ہیروشیما کے آنسو‘‘ کا موضوعاتی و اسلوبی مطالعہ
(Thematic and Stylistic Study of the Urdu Travelogue Hiroshima ke Aansoo)
ڈاکٹر شہباز حسین
پاک سیکرٹریٹ، اسلام آباد
Abstract:
This study presents a thematic and stylistic analysis of Hiroshima ke Aansoo (Tears of Hiroshima), a distinguished Urdu travelogue by Bina Goindi that offers a profound literary and cultural portrayal of Japan. The article argues that the travelogue transcends the conventional boundaries of travel writing by combining factual observation with historical consciousness, cultural interpretation, and artistic expression. Through a close textual analysis, the study examines the author’s depiction of Japanese society, including its social values, discipline, family system, educational excellence, architectural traditions, religious beliefs, aesthetic sensibility, literary culture, and technological advancement. Particular attention is given to Goindi’s sensitive portrayal of Hiroshima, where the devastating legacy of war is transformed into a powerful discourse on peace, human resilience, and universal humanity. The article further highlights the stylistic richness of the travelogue, emphasizing its vivid imagery, descriptive precision, historical references, symbolic language, poetic allusions, multilingual diction, and engaging narrative technique. These stylistic features enhance both the literary quality and documentary value of the text. The study concludes that Hiroshima ke Aansoo is not merely a record of travel experiences but a significant cultural and intellectual document that deepens readers’ understanding of Japanese civilization while enriching the tradition of Urdu travel writing through its balanced fusion of scholarship, creativity, and humanistic insight.
Keywords:
Bina Goindi, Hiroshima ke Aansoo, Urdu Travelogue, Japanese Culture, Travel Writing, Thematic Analysis, Stylistic Analysis, Historical Consciousness, Cultural Representation, Urdu Literature.
بینا گوئندی کا نام عصرِ رواں کی ان ادبی شخصیات میں ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبول اور ہر دلعزیز رہی ہیں۔ اردو اور انگریزی شاعری کے ساتھ ساتھ اردو نثر میں ان کے کمالات قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ لائقِ تقلید بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں خیال کی تازگی، جذبے کی صداقت اور اسلوب کی نفاست ایک حسین امتزاج کی صورت جلوہ گر ہوتی ہے، جب کہ نثر میں زبان کی شگفتگی، بیان کی روانی اور فکر کی گہرائی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ وہ لفظ کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بناتیں بلکہ اسے معنی اور احساس کی نئی جہت عطا کرتی ہیں۔نوے کی دہائی میں جب لاہور کی ادبی فضا فکری جوش، تخلیقی حرارت اور تہذیبی شعور سے معمور تھی، بینا گوئندی کا شمار شہر کے سرِفہرست لکھاریوں میں ہوتا تھا اور ادبی محفلوں، مشاعروں اور فکری نشستوں میں ان کی موجودگی ایک معتبر حوالہ سمجھی جاتی تھی۔ ان کا قلم اس عہد کے فکری اور جمالیاتی رجحانات کی بھرپور ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ اس طرح بینا گوئندی نے نہ صرف اپنے عہد پر گہرا اثر چھوڑا بلکہ اردو ادب کی روایت میں بھی ایک نمایاں اور دیرپا مقام حاصل کیا:
’’بینا اپنے فنی اوصاف کے حوالےسے ایک سے زیادہ جہات کی مالک ہیں۔ وہ نثر نگار ہے۔ دل کشی اور رعنائی خیال اس کی نثر کا لازمہ ہے۔ وہ شاعرہ بھی ہیں۔ ’’سوچتی آنکھیں‘‘، ’’جو تم نے دیکھا‘‘، ’’مٹی کی پیالی‘‘ اس کے شاعری کے مجموعے ہیں۔ سائنس اس کا مضمون ہے۔ نامور مسلمان سائنس دان، نقرس اور گھنٹیا دونوں کتابیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ سفرناموں میں ’’جانب منزل چلا چل‘‘ اس کا حج عمر کا سفرنامہ ہے‘‘۔ (۱)
مصنفہ نے دیگر اصنافِ ادب میں اپنی فنی مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اردو سفرنامے کو بھی ایک نئی جہت عطا کی ہے ۔ ان کا سفر نامہ ’’ہیروشیما کے آنسو‘‘ جاپان جیسے گہرے تہذیبی پس منظر کے حامل ملک پر ایک فکر انگیز، دل آویز اور ممتاز ادبی دستاویز ہے۔ یہ محض سفر کی سرسری روداد نہیں بلکہ مشاہدے کی گہرائی، مطالعے کی وسعت اور احساس کی شدت کا حسین امتزاج ہے۔اس سفرنامے میں مصنفہ نے جاپان کے شہروں اور یہاں کے باسیوں کی طرزِ معاشرت کی عکاسی کے ساتھ ساتھ اس خطے کی تاریخ کے نشیب و فراز، جغرافیائی خصوصیات، تہذیبی و ثقافتی روایات، فنونِ لطیفہ کی باریکیوں اور جدید جاپانی معاشرے کی فکری ساخت کو نہایت سلیقے اور شعور کے ساتھ پیش کیا ہے۔ خصوصاً ہیروشیما کے پس منظر میں انسانی المیے، جنگ کی ہولناکی اور امن کی ضرورت کو جس درد مندی اور حساسیت سے بیان کیا گیا ہے، وہ قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔یوں ’’ہیروشیما کے آنسو‘‘ محض ایک سفرنامہ نہیں رہتا بلکہ جاپان کے ماضی، حال اور مستقبل کے امکانات پر ایک سنجیدہ فکری مکالمہ بن جاتا ہے، جو قاری کو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اسے سوچنے، محسوس کرنے اور انسانیت کے مشترکہ دکھ درد سے جڑنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ا بتدائی طور پر یہ سفرنامہ قسط وار قومی ڈائجسٹ کے صفحات کی زینت بنتا رہا، جہاں اسے قارئین کی بھرپور توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی۔ بعد ازاں گزشتہ سال (۲۰۲۵) اسے باقاعدہ کتابی صورت میں شائع کیا گیا، یوں یہ تخلیق مستقل ادبی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اسی حوالے سے سلمیٰ اعوان لکھتی ہیں:
’’بہت سال پہلے قومی ڈائجسٹ میں بینا گوئندی کے جاپان سے متعلق سفرنامے کی پہلی قسط پڑھنے کو ملی۔ سفر نامہ اور وہ بھی جاپان جیسے مشرق بعید کے دیس کا پڑھا تو بینا کے غیر معمولی مصنفہ ہونے کا احساس ہوا‘‘۔ (۲)
مصنفہ خود بھی اس سفرنامے کی ابتدائی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’جاپان کی کہانی جو ۱۹۹۲ میں لکھنی شروع کی اس کی نو اقساط تک قومی ڈائجسٹ میں چھپیں۔ لیکن اس کے بعد زندگی اور ماورائے زندگی کی دوڑ میں یہ کہانی مکمل ہی نہیں ہو سکی تھی۔ سو اب اس دریافت کو بازیافت کر رہی ہوں‘‘۔ (۳)
’’ہیرو شیما کے آنسو‘‘ میں جاپانی تہذیب و ثقافت کی نہایت دل کش اور مؤثر عکاسی ملتی ہے۔ مصنفہ نے اس خطۂ ارض کے باشندوں کے طرزِ زندگی کو محض ایک سیاح کی نظر سے نہیں، بلکہ ایک حساس مشاہدہ رکھنے والے ادیب کی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جاپانی معاشرت کی باریکیاں، ان کی روزمرہ زندگی کی ترتیب و تنظیم، وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور کو بڑی سلیقہ مندی سے قلم بند کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں، جاپانی رسم و رواج، خاندانی اقدار اور سماجی رویّوں کی بھی ایک تفصیلی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کے طرزِ رہائش کی سادگی اور نفاست، جدیدیت اور روایت کا حسین امتزاج، تعلیمی نظام ، علم و تحقیق سے وابستگی، اور بچوں کی تربیت میں اخلاقی اقدار کی اہمیت کو نہایت خوب صورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔مصنفہ نے جاپانی مذہبی رجحانات اور عقائد کا بھی گہرا مطالعہ پیش کیا ہے، جہاں روحانیت، فطرت سے قربت، اور انسانی اقدار کا احترام نمایاں نظر آتا ہے۔ ہیروشیما کے المیے کے پس منظر میں جاپانی قوم کے صبر، حوصلے اور تعمیرِ نو کے جذبے کو جس درد مندی اور فکری گہرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، وہ اس سفرنامے کو محض ایک سفری روداد نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور انسانی دستاویز بنا دیتا ہے۔یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ سفر نامہ جاپان کی تہذیب و ثقافت کا نہ صرف ایک شفاف آئینہ ہے بلکہ قاری کو ایک مختلف مگر بامعنی دنیا سے روشناس کرانے والی ایک مؤثر ادبی تخلیق بھی ہے۔
جاپانی باشندوں کے طرزِ معاشرت پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ وہاں وقت کی پابندی محض ایک سماجی عادت نہیں بلکہ ایک مضبوط اخلاقی قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جاپانی لوگ اس اصول کی سختی سے پاسداری کرتے ہیں اور اور اس ضمن میں کسی قسم کی نرمی یا چشم پوشی کو مناسب نہیں سمجھتے، جس سے ان کے منظم اور باوقار طرزِ زندگی کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ ان کی اسی خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے مصنفہ لکھتی ہیں:
’’ان کے پیدل چلنے کا ڈھنگ مختلف اور رفتار ہم پاکستانیوں سے کہیں زیادہ تھی، لیکن کیا مجال کہ کوئی بھی شخص اس بھیڑزدہ ماحول میں ایک دوسرے سے ٹکرایا ہو۔ یہ سبک رفتاری دراصل پابندی وقت قائم رکھتی ہے جس کی وجہ سے یہ ایک ترقی یافتہ قوم ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ اگر آپ نے کسی شخص کو دو بجے ملنا ہے تو وہ ایک بج کر انسٹھ منٹ پر آپ کے گھر کے باہر ہوگا اور ٹرین کا وقت اگر گیارہ بجے ہے تو وہ اس وقت سٹیشن چھوڑ جائے گی‘‘۔ (۴)
ان کی پابندی وقت کی ایک اور مثال پیش کرتی ہیں:
’’پلیٹ فارم نمبر ’’دو‘‘ پر پہنچے تو آٹھ بج کر تئیس منٹ پر ٹرین کا وقت تھا۔ پورے دو منٹ کے بعد وہاں رکنے کے بعد آٹھ بج کر پچیس منٹ پر روانگی تھی۔ اندازہ لگائیں دو منٹ کے اندر اندر اس قدر عوام نے اترنا اور چڑھنا تھا۔ ان ٹرینوں کی پابندی کا یہ عالم ہے کہ ان کے ساتھ آپ اپنی گھڑیاں ملا سکتے ہیں‘‘۔ (۵)
جاپانی معاشرت میں خوشی اور غمی کا تصور دنیا کی دوسری اقوام سے خاصا مختلف ہے۔ وہاں مسرت کے مواقع محض شادی بیاہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ غم اور سوگ میں بھی باہمی احترام، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کا اظہار نہایت سلیقے اور وقار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپانی معاشرے میں تحائف کا تبادلہ صرف خوشی کی علامت نہیں بلکہ غم کے موقع پر بھی ایک باوقار روایت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور پسماندگان سے ہمدردی کا ایک علامتی اظہار ہوتا ہے۔ ان کے اسی تصور کو بیان کرتے ہوئے بینا گوئندی لکھتی ہیں:
’’ان کے ہاں شادی، فوتیدگی، اخلاقی رویے بہت مفرد ہیں۔ وہ مرنے والے کے گھر میں ایک اچھی خاصی مناسب رقم لفافے میں ڈال کر لواحقین کو پیش کرتے ہیں اور جن کے ہاں فوتیدگی ہو وہ پرسہ کرنے والے کو واپسی پر قیمتی تحائف دے کر رخصت کرتے ہیں‘‘۔ (۶)
مصنفہ بتاتی ہیں کہ جاپانی قوم مغرب و مشرق، قدیم و جدید تہذیبوں کا انوکھا امتزاج ہے۔ جہاں صنعتی ترقی ہے، ادھر ٹیکنالوجی کا سمندر بھی ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ اگر وہ مندروں میں جا کر اپنے آباؤ اجداد کی روحوں سے ملاقات کرتے ہیں تو قدرت سے بھی والہانہ جذبہ محبت سے جڑے ہیں۔توہمات اور خرافات بھی ان کے ساتھ زمانہ قدیم سے جڑے ہیں، جن سے وہ ایک ترقی یافتہ قوم ہونے کے باوجود دامن نہیں چھڑا سکے۔ یہ زندگی کے ہر اہم فیصلے اور معاملے میں اپنے بزرگوں کی مشاورت کو ایک اعزاز سمجھتے ہیں اور یہ سلسلہ ان بزرگوں کی وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے ، یعنی ان مرحومین سے بھی اہم معاملات اور امور میں مشورہ لیا جاتا ہے:
’’ان کے ہاں اپنے بزرگوں سے وفات کے بعد بھی ہم کلام ہوا جاتا ہے۔ باقاعدہ ان سے صلاح مشورہ کیا جاتا ہے، اپنے دکھ درد بانٹے جاتے ہیں۔ گویا وہ اس جسمانی جسم سے زیادہ ابدی روحانی جسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ لوبان اور اگربتیوں سے فضا میں بدروح اور بلیات کو بھگاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے ہاں نیکی اور بدی کا تصور نہیں ہوتا بلکہ کمزور اور طاقت ور ہستی کا تصور ہے‘‘۔ (۷)
جاپان کے طرزِ تعمیر کے حوالے سے مصنفہ واضح کرتی ہیں کہ جاپانی تعمیرات میں محض اینٹ، پتھر اور لکڑی کا استعمال ہی نہیں، بلکہ فطرت، روایت اور جدید شعور کی ایک ہم آہنگ صورت جلوہ گر ہوتی ہے۔ گھروں اور عمارتوں کی ساخت میں سادگی، توازن اور افادیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، جہاں ہر زاویہ اور ہر جگہ ایک مقصد کے تحت ترتیب دی گئی محسوس ہوتی ہے۔ مصنفہ کے مطابق جاپانی طرزِ تعمیر میں قدرتی روشنی، کھلی فضا اور ماحول سے ہم آہنگی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، جو انسان اور فطرت کے باہمی رشتے کو مضبوط بناتی ہے۔ یوں یہ طرزِ تعمیر جاپانی ذہن کی جمالیاتی حس، نظم و ضبط اور اعتدال پسندی کا آئینہ دار بن کر سامنے آتا ہے۔ لکھتی ہیں:
’’روایتی جاپانی گھر عام طور پر ایک یا دو منزلہ ہوتا ہے۔ لیکن اب یہ جاپانی مغربی طرز کا رہن سہن بھی اپنا رہے ہیں۔ گویا بے شمار فلیٹ بننے لگے ہیں جن میں صوفے کرسیاں اور پلنگ باقاعدہ کمروں کے مطابق خریدے جاتے ہیں‘‘۔ (۸)
اسی حوالے سے ایک اور جگہ لکھتی ہیں:
’’وہاں پر اکثر عمارتوں میں پارکنگ فلورز بنائے گئے ہیں۔ جن میں لفٹ کے ذریعے گاڑیوں کو اوپر کی منزلوں تک پارک کیا جاتا ہے‘‘۔(۹)
جاپان میں عورت کے مقام و مرتبہ پر بات کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ جاپانی معاشرے میں عورت کو احترام، وقار اور انسانی عظمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ وہاں عورت محض گھر کی زینت نہیں بلکہ سماجی، تہذیبی اور اخلاقی اقدار کی امین تصور کی جاتی ہے۔ جاپانی باشندے اپنی بیٹیوں سے غیر معمولی محبت کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم، تربیت اور شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور انہیں اعتماد، خودمختاری اور عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا حق دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپانی معاشرے میں میں عورت کا کردار مضبوط، باوقار اور بااثر نظر آتا ہے، جو خاندان کی تشکیل سے لے کر معاشرتی استحکام تک ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں لکھتی ہیں:
’’والدین اپنے بچوں بالخصوص اپنی بیٹیوں کی سلامتی، ترقی اور بہتر مستقبل کے لیے کاغذ کی بنی گڑیاں، ان کے ناموں کے تصور سے پانی میں بہاتے ہیں۔ یہ بیٹیوں یعنی عورتوں کی عزت و آبرو کو اولین سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک خواتین کی تخلیقی صلاحیت میں دراصل نجات کے بےشمار راستے ہیں، اسی لیے بظاہر ملحد قوم کو بھی قدرت کا خیال ہے۔ تب ہی تو عمل سے اعتقاد پر ایمان کی ڈوری کو پکڑتے ہیں‘‘۔ (۱۰)
جاپان میں وراثت اور جائیداد کی تقسیم کا نظام نہ صرف دیگر معاشروں سے مختلف ہے بلکہ اپنی منصفانہ اور متوازن ساخت کے باعث ایک نمایاں مثال بھی پیش کرتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد قانون، سماجی ذمہ داری اور خاندانی ہم آہنگی پر رکھی گئی ہے، جہاں دولت کی منتقلی محض طاقت یا روایت کے زور پر نہیں بلکہ عدل و انصاف کے اصولوں کے تحت انجام پاتی ہے۔ جاپانی معاشرے میں وراثت کی تقسیم اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ خاندان کے تمام افراد کے حقوق محفوظ رہیں اور کسی ایک فرد کو بلا وجہ فوقیت حاصل نہ ہو۔ اسی وجہ سے یہ نظام معاشرتی توازن، خاندانی استحکام اور سماجی انصاف کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور جاپانی تہذیب کے نظم و ضبط اور قانون پسندی کی ایک روشن علامت کے طور پر سامنے آتا ہے:
’’ان کے ہاں وراثت اور جائیداد کی تقسیم کا قانون بھی بہت منصفانہ ، وراثت بیٹی یا بیٹے کو نہیں ملتی بلکہ بوڑھے والدین جس بچے کے پاس رہتے ہیں، وہ ہی اپنے والدین کی جائیداد کا اصل وارث ہوتا ہے۔ اس طرح بچے اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ بہت اچھا سلوک رکھتے ہیں‘‘۔ (۱۱)
مصنفہ لکھتی ہیں کہ اگرچہ جاپانی قوم ترقی یافتہ اور جدیدیت میں آگے ہے ، مگر اس کے باوجود ان کا طرزِ زندگی نہایت سادہ اور بے تکلف ہے۔ وہ نمود و نمائش سے کوسوں دور رہتے ہیں اور ہر قسم کی فضول خرچی کو ناپسند کرتے ہیں۔ ان کی یہ سادگی نہ صرف روزمرہ کے معمولات میں ظاہر ہوتی ہے بلکہ ان کے معاشرتی آداب، رہن سہن اور حتیٰ کہ لباس و طرزِ تعمیر میں بھی بخوبی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اسی سادگی اور عملی رویے کی بدولت جاپانی معاشرہ منظم، محتاط اور پراثر دکھائی دیتا ہے، اور یہ ان کی تہذیب و ثقافت کی ایک منفرد اور قابلِ تحسین پہچان ہے:
’’میرا خیال تھا کہ اس افتتاحی تقریب میں قمقمے اور روشنیاں وغیرہ لگی ہوں گی لیکن ان کی سادگی دیکھ کر ایک مرتبہ پھر تاریخ کے اوراق میرے سامنے کھلنے لگے۔ کبھی یہ قوم روٹی کے چند ٹکڑوں کیلیے کتنی گ و دو کرتی تھی‘‘۔ (۱۲)
جاپانیوں کے سادہ طرزِ زندگی کی عکاسی ان کے کھانے میں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ وہ چینی، گھی اور تیل جیسے اجزاء سے مکمل اجتناب برتتے ہیں اور اپنی خوراک کو جتنا ممکن ہو سادہ اور صحت مند رکھتے ہیں۔ ان کی خوراک میں زیادہ تر ابلی ہوئی سبزیاں شامل ہوتی ہیں، جنہیں قدرتی ذائقے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور ان میں مصالحہ جات کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یہی سادگی نہ صرف ان کی جسمانی صحت کو برقرار رکھتی ہے بلکہ ان کے تہذیبی رویے اور زندگی کے فلسفے کی جھلک بھی پیش کرتی ہے، جہاں ہر چیز کی قیمت اور ضرورت کو بخوبی سمجھا جاتا ہے اور غیر ضروری چیزوں سے گریز کیا جاتا ہے۔مصنفہ ان کی اس خوبی کو بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’میز پر ہریالی ہی ہریالی تھی۔ گمان ہوتا تھا جیسے ہری ہری گھاس پر مختلف رنگوں کے پھول سجائے گئے ہوں۔ ان تمام کھانوں کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ ان میں گھی یا تیل کے استعمال کا نام و نشان نہیں مل رہا تھا‘‘۔ (۱۳)
جاپان کا فنونِ لطیفہ فطرت کے حسن کی نہایت باریک بینی، لطافت اور روحانی ہم آہنگی کے ساتھ عکاسی کرتا ہے۔ جاپانی مصوری، خطاطی، باغ بانی، شاعری او دستکاری میں پہاڑوں کی بلندیاں، بہتے دریاؤں کی نغمگی، کھلتے ہوئے پھولوں کی نزاکت اور موسموں کی بدلتی ہوئی کیفیات نمایاں طور پر جھلکتی ہیں۔ جاپانی فنکار فطرت کو محض ایک منظر کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک روحانی تجربہ اور انسانی جذبات کا آئینہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے جاپان کا فن معمولی مناظر میں بھی بھی حسنِ ازل تلاش کرنے کا ہنر رکھتا ہے، جو دیکھنے والے کے دل و ذہن پر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ اسی تناظر میں بینا گوئندی لکھتی ہیں:
’’جاپان کا فنونِ لطیفہ فطرت کے حسن کی عکاسی کرتا ہے۔ پھولوں کی آرائش اور باغبانی ان کی زندگی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ کانسی اور لکڑی کے مجسمے، مصوری، ظروف سازی، روغن کاری اور لکڑی کے بلاکوں سے چھپائی کے فن میں طاق ہو چکے ہیں۔ ان کی کلاسیکی موسیقی میں ’’گاگاکو‘‘ طرزِ موسیقی قدیم ترین طرز ہے جو چھٹی صدی میں ایشیا سے بوکاگو رقص کے ساتھ ادھر متعارف ہوئی‘‘۔ (۱۴)
ان کے ڈرامہ کلچر پر بات کرتے ہوئے مصنفہ لکھتی ہیں:
’’روایتی جاپانی ڈراموں میں علامتی ڈرامے ’’نوہ‘‘ کلاسیکی نقاب پہن کر پیش کیے جاتے ہیں۔ ان ڈراموں میں بون راکو، پتلیوں کے تماشے اور کابو کی تھیٹر بھی شامل ہیں‘‘۔ (۱۵)
جاپانی لوگ شاعری سے بھی گہرا شغف رکھتے ہیں اور اسے اپنے جذبات، احساسات اور فطرت سے تعلق کے اظہار کا ایک نفیس ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جاپانی شاعری خصوصاً ہائیکو اور تانکا، اختصار میں معنویت، سادگی میں گہرائی اور خاموشی میں تاثیر کی مثال ہے۔ چند لفظوں میں ایک مکمل منظر، ایک لمحہ اور ایک کیفیت قید کر لینا جاپانی ذوقِ شاعری کی نمایاں خصوصیت ہے۔ موسموں کی تبدیلی، چاندنی راتیں، بہار کے پھول اور خزاں کے پتّے جاپانی شاعری کے محبوب موضوعات ہیں، جن کے ذریعے شاعر انسانی زندگی کی ناپائیداری اور حسنِ فطرت کو نہایت لطیف انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری جاپانی معاشرت اور ثقافت کا ایک اہم اور زندہ حصہ سمجھی جاتی ہے:
’’جاپانی قوم شاعری کی اس قدر دلدادہ ہے کہ شادی بیاہ اور لڑکی لڑکے کا ایک دوسرے کو پروپوزل بھی شعروں کی پسندیدگی پر ہی قبول یا مسترد کیا جاتا تھا۔ ہائیکو جاپانی صنفِ سخن ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل میری شاعری کی کتاب ’’سوچتی آنکھیں‘‘ شائع ہوئی۔ جس میں غزلوں نظموں کے ساتھ ہائیکو بھی شامل تھے۔ مجھے بہت فخر ہو رہا ہے کہ میں ہائیکو کے دیس میں پھر رہی ہوں‘‘۔ (۱۶)
اسلوب پر بات کی جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ مصنفہ کا اسلوب ہمہ جہت اور رنگا رنگ ہے، جس میں فکری گہرائی اور فنی ندرت ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک دل کش ادبی فضا قائم کرتی ہیں۔ ان کی تحریر میں اسلوبی تنوع اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے؛ کہیں بیان کی سادگی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور کہیں لفظوں کی تہہ داری معنی کے نئے دریچے وا کرتی ہے۔ ان کے اسلوب پر بات کرتے ہوئے عامر بن علی لکھتے ہیں:
’’بنیادی طور پر مصنفہ چونکہ تخلیق کار ہیں اس لیے ان کا اندازِ تحریر بھی انتہائی تخلیقی ہے۔ جس کا اظہار پہلے باب کے عنوان سے ہی ہو جاتا ہے‘‘۔ (۱۷)
یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مصنفہ کی باریک بینی، مشاہدے کی گہرائی اور اسلوب کی شگفتگی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، یوں یہ سفرنامہ محض پڑھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے:
’’گہری مطالعاتی نظر کے ساتھ ساتھ افسانوی طرزِ تحریر ہے، جو اس سفر نامے کو ہمیشہ زندہ رکھے گا‘‘۔ (۱۸)
ا س سفرنامے میں اردو کی دلکش اور شستہ لفاظی کے ساتھ ساتھ انگریزی الفاظ کا برمحل اور فطری استعمال بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ مصنفہ نے زبان کے اس امتزاج کو کسی تصنع یا بوجھل پن کے بغیر اس خوبی سے برتا ہے کہ متن کی روانی اور تاثر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کہیں وہ انگریزی الفاظ کو اردو کے سانچے میں ڈھال کر یوں پیش کرتی ہیں کہ وہ اجنبیت کا احساس دلائے بغیر اردو کے مزاج میں گھل مل جاتے ہیں، اور کہیں انہیں اصل انگریزی حروف میں برقرار رکھتی ہیں، جو متن کو عصری حسّیت اور عالمی تناظر سے جوڑ دیتے ہیں:
’’کھڑکی سے باہر جھانکا تو حدِ نگاہ تک ریگستانی سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ ٹیک آف کے بعد بلندی حد عبور کی تو ناشتہ سرو کیا گیا۔ اس سے قبل ائیر ہوسٹس اور سٹیوارڈ نے تمام مسافروں کو اخبار سرو کیے‘‘۔ (۱۹)
یہ لسانی تنوع نہ صرف مصنفہ کی زبان پر گرفت اور فکری وسعت کا اظہار ہے بلکہ قاری کو ایک ایسے عہد کی نمائندگی بھی دکھاتا ہے جہاں زبانیں ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتی ہیں۔ اردو اور انگریزی کے اس خوشگوار اور بہترین امتزاج سے سفرنامے کی بیان کردہ فضا زیادہ زندہ، متحرک اور قابلِ قبول ہو جاتی ہے اور قاری خود کو مصنفہ کے ساتھ اس سفر میں شریک محسوس کرنے لگتا ہے:
ہوٹل کی میزبان سے ہونے والے مکالمے کو ا نگریزی میں لکھتی ہیں:
“Are you Bina Goindi from Pakistan.
Yes, Yes I am Bina from Pakistan.” (۲۰)
تشبیہات اور استعارات کو نہایت سلیقے، شعوری انتخاب اور فنی مہارت کے ساتھ برتتی نظر آتی ہیں، جو ان کے اسلوب کو ایک خاص دلکشی اور جمالیاتی وقار عطا کرتا ہے۔ ان کے ہاں تشبیہ محض لفظی آرائش نہیں بلکہ خیال کی توضیح اور احساس کی شدت کو ابھارنے کا ذریعہ بن جاتی ہے، جب کہ استعارات معنی کی تہوں کو گہرا کر کے قاری کو فکر اور تخیل کی نئی سمتوں سے روشناس کراتے ہیں۔مصنفہ کی یہ فنی مہارت نہ صرف بیان کو پُراثر بناتی ہے بلکہ قاری کو متن کے ساتھ ایک تخلیقی اور جمالیاتی رشتہ بھی عطا کرتی ہے، یوں ان کا اسلوب محض مطالعے کا تجربہ نہیں رہتا بلکہ ایک بھرپور ادبی لطف میں ڈھل جاتا ہے:
’’کسی پرندے کی طرح بل کھاتا جہاز کس بہادری سے ان برف پوش چوٹیوں کے بیچوں بیچ درمیان میں اپنا راستہ بناتے ہوئے آگے منزل کے نشان دیکھ رہا تھا‘‘۔ (۲۱)
ان کے اسلوب کی ایک اور نمایاں خصوصیت اردو اور فارسی شاعری کا برمحل اور بامعنی استعمال ہے، جو محض حوالہ یا تزئین کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ متن کی معنوی ساخت کو وسعت دیتا اور فکری تسلسل کو مضبوط بناتا ہے۔ اردو شاعری کی نرمی اور فارسی شعر کی وقار آمیز لطافت مل کر تحریر کو ایک کلاسیکی آہنگ عطا کرتی ہیں، جس سے نہ صرف بیان میں شائستگی پیدا ہوتی ہے بلکہ مصنفہ کے ذوقِ جمال اور ادبی شعور کی پختگی بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔
اردو کا ایک شعر لکھتی ہیں:
اتنا عریاں تو یہ پتھر کے زمانے میں نہ تھا
جتنا اس دورِ تمدن کا یہ انساں نکلا (۲۲)ص ۵۸
غالب ؔ کے شعر کا ایک مصرع لکھتی ہیں:
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا (۲۳)
اپنے مؤقف کی توضیح اور تائید میں مصنفہ محض اپنی ذاتی شاعری تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اردو و فارسی کے نامور اور معتبر شعرا کے منتخب اشعار سے بھی بھرپور استفادہ کرتی ہیں۔ یہ اشعار محض حوالہ جاتی نوعیت کے نہیں ہوتے، بلکہ دلیل کے طور پر سامنے آ کر تحریر کی فکری بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر وہ پورا شعر نقل کرتی ہیں اور کہیں صرف ایک مصرع رقم کر کے پوری فضا قائم کر دیتی ہیں، گویا چند لفظوں میں ایک مکمل معنیاتی کائنات سمٹ آتی ہے۔ اس طرزِ اظہار سے نہ صرف مصنفہ کی وسیع المطالعہ شخصیت اور ادبی روایت سے گہری وابستگی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ ان کا شعری ذوق اور فنّی بصیرت بھی واضح ہو جاتی ہے، جو قاری کو متن کے ساتھ ذہنی اور جمالیاتی سطح پر گہرا رشتہ قائم کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
امیر خسرو کا ایک فارسی شعر لکھتی ہیں:
ہمہ آہو وانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آں کہ روزے بشکار خواہی آمد (۲۴)
مصنفہ کی اپنی نظم ’’جاپانی گڑیا‘‘ بھی اس میں شامل ہے:
نرم و نازک ۔ ۔۔روئی کے جیسی
دھیرے دھیرے چلتی ہے
بولتے بولتے ہنستی ہے
نظر اٹھا کے۔۔۔ سر کو جھکا کے ’’
کونی چیوا ‘‘ کہتی ہے (۲۵)
دورانِ مطالعہ قاری کو اس سفرنامے میں منظر نگاری کے شاندار اور بے مثال نمونے پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ ہر منظر کو اس باریکی اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ قاری پر یہ احساس طاری ہوجاتا ہے کہ وہ خود اس جگہ پر موجود ہے اور سے براہِ راست اپنے آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ یہی منظر نگاری مصنفہ کی اس فن پر گہری گرفت اور عبور کی دلیل ہے، جو نہ صرف واقعات اور مناظر کو حقیقی اور دلکش بناتی ہے بلکہ قاری کو ہر منظر کی وسعت اور پس منظر سے بھی بخوبی آگاہ کرتی ہے۔مصنفہ ٹیکسی میں دورانِ سفر ایک منظر کو کچھ یوں بیان کرتی ہیں:
’’باہر جھانکا تو گنزا لا علاقہ ایک ہرے بھرے پیڑ کی مانند لگ رہا تھا۔ جس کی شاخوں پر سورج کی کرنوں سے رات کی پڑی اوس کے موتی چھن چھن کر گر رہے ہوں اور پتوں کی سطح کو سنگِ مر مر کی طرح نکھار رہے ہوں‘‘۔ (۲۶)
جزئیات نگاری ان کے اسلوبِ تحریر کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ وہ ہر منظر، ہر واقعہ اور ہر لمحے کو اتنی باریک اور نفاست کے ساتھ بیان کرتی ہیں کہ قاری کے سامنے اس کا ہر پہلو، تمام رنگ، ہر پہلو اور ہر جذباتی کیفیت عیاں ہوجاتی ہے۔ ان کی یہ باریک بینی نہ صرف متن کو حقیقت کے قریب تر محسوس کراتی ہے بلکہ قاری کو ایک ایسی تجرباتی دنیا میں داخل کر دیتی ہے جہاں ہر منظر کی خوبصورتی اور ہر واقعے کی اہمیت براہِ راست محسوس ہوتی ہے۔
پورے سفرنامے میں مصنفہ کے گہرے تاریخی شعور کی ایک واضح جھلک نظر آتی ہے۔ جو کہ ان کے اسلوب کو محض وقار ہی نہیں بخشتا بلکہ اسے فکری گہرائی اور معنوی وسعت سے بھی ہمکنار کرتا ہے۔ سفرنامے کے متن میں جگہ جگہ تاریخ کے روشن و تاریک ابواب کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ کہیں ماضی کے اہم واقعات کا بامعنی حوالہ ہے اور کہیں تاریخی شخصیات اور تہذیبی نشانات کا ذکر، جو بیان کو محض مشاہداتی سطح پر محدود نہیں رہنے دیتا۔ یہ تاریخی اشارات سفر کے جغرافیائی مناظر کو زمانی تسلسل سے جوڑ دیتے ہیں، یوں قاری کو حال کے ساتھ ساتھ ماضی کے شعور سے بھی روشناس کراتے ہیں۔ اس اسلوبی حُسن کے باعث سفرنامہ نہ صرف معلوماتی دستاویز بن جاتا ہے بلکہ تاریخ، تہذیب اور تجربے کے امتزاج سے ایک سنجیدہ ادبی متن کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس سے مصنفہ کے تاریخی شعور کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
’’جدید چین کی تاریخ کا آغاز ۱۹۱۱ سے ہوتا ہے جب اسی سال اکتوبر میں وہاں پر صوبائی اسمبلیوں کی مدد سے انقلاب آیا اور مانچو شہنشائیت زوال پذیر ہوئی۔ ۱۹۲۰ میں قومی اسمبلی کے ممبران کی مدد سے ایک جداگانہ جمہوریہ کا اعلان ۱۹۲۵ میں شمالی اور جنوبی چین کے مابین خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔ ۱۹۳۱ میں جاپان نے چین پر حملہ کیا اور چینی مانچوریہ پر قبضہ کر کے پیش قدمی شروع کی۔ ۱۹۳۹ میں چین میں عوامی جمہوریہ یعنی سوشلسٹ حکومت قائم ہوئی اور مارشل چیانگ کائی شک کی برائے نام حکومت فارموسا کے جزیرے میں منتقل ہو گئی۔ اس طرح چینی کمیونسٹ رہنما ماؤزے تنگ کو اس کا پہلا صدر منتخب کیا گیا‘‘۔ (۲۷) ص ۲۵
ایک اور جگہ لکھتی ہیں:
’’یہاں کی تاریخ اور تہذیب امن دوستی کی ا مین رہی ہے۔ جہاں پر قبلائے خان سے لے کر چوئن لائی اور ماؤزے تنگ جیسے لیڈر پیدا ہوئے‘‘۔ (۲۸)
سفر نامے میں جاپان کے ہر شعبہ زندگی کے بارے میں بیش قیمت معلومات پڑھنے کو ملتی ہیں۔ اگر اس سفر نامے کو ’’جاپان کا معلومات نامہ‘‘ قرار دیا جائے تو یہ کسی طور بھی مبالغہ نہ ہوگا۔ یہ محض ایک سیاح کے مشاہدات کا بیان نہیں بلکہ جاپانی معاشرت اور روزمرہ کے معمولاتِ زندگی کی ایک جامع اور بصیرت افروز دستاویز ہے۔ قاری جیسے ہی صفحہ پلٹتا ہے، اسے نئی اور بیش قیمت معلومات کے در وا ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ جاپان میں اسلامکی شناخت کے حوالے سے معلومات دیتے ہوئے لکھتی ہیں :
’’اس وقت جاپان میں ۱۱۵ مساجد ہیں اور ان میں اکثر امام جاپانی ہیں۔ کیونکہ ہر مسجد میں ہر ماہ ۲۰۔۳۰ جاپانی اسلام قبول کرتے ہیں۔ اس وقت دین اسلام جاپان میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ اس میں سٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرامز بھی بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں‘‘۔ (۲۹)
جاپان کے جغرافیے پر روشنی ڈالتے ہوئے مصنفہ نہایت عرق ریزی اور باریک بینی کے ساتھ ایسی بیش قیمت معلومات رقم کرتی ہیں جو نہ صرف قاری کے علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ اس کے ذہن میں جاپان کی سرزمین کا ایک واضح، جیتا جاگتا اور ہمہ گیر نقشہ بھی ابھار دیتی ہیں۔
’’جاپان جزیروں کی ایک انوکھی دنیا ہے۔ یہ ۱۴۱۲۵ جزیروں پر مشتمل ہے۔ کیوٹو، ہونشو جزیرے میں ہے۔ قدیم جاپانی جن تعمیر کے اعلیٰ ترین محلات ادھر کیوٹو میں ہی موجود ہیں۔ اس دور میں ہر نیا آنے والا شہنشاہ اپنی مرضی سے اپنی رہائش گاہ یعنی محل تعمیر کرواتا تھا‘‘۔ (۳۰)
جاپان کا یہ پہلو بھی نہایت قابلِ تعریف ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں انسانی آبادی میں تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے جب کہ اس تمام صورتِ حال کے برعکس اس ملک کی آبادی مسلسل کم ہورہی ہے۔ سال بہ سال اس کے باشندوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے، اور یہ رجحان نہ صرف معاشرتی و اقتصادی ساخت پر اثر ڈال رہا ہے بلکہ جاپانی معاشرے کی زندگی کے ہر شعبے میں اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ اس کے برعکس دیگر ممالک میں آبادی میں اضافہ کی یہ رفتار عالمی سطح پر کئی چیلنجز پیدا کر رہی ہے، مگر جاپان میں یہ کمی ایک منفرد سماجی و اقتصادی پہچان کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اسی حوالے سے مصنفہ لکھتی ہیں:
’’آبادی کے لحاظ سے جاپان اس وقت دنیا کا گیارہواں بڑا ملک ہے اور اس وقت جاپان کی کل آبادی ساڑھے بارہ کروڑ ہے۔ جس میں ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کی آبادی ہے جن میں پچھتر ہزار جاپانی مسلمان ہیں۔ مجموعی طور پر جاپانیوں کی آبادی میں بتدریج کمی ہورہی ہے۔ جس کی وجہ نوجوانوں میں بچے پیدا کرنے کا کم ہوتا ہوا رجحان ہے‘‘۔ (۳۱)
جاپان عالمی سطح پر تعلیمی میدان میں غیر معمولی ترقی کی روشن مثال بن چکا ہے، خصوصاً سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اس کی علمی برتری عالمی سطح پر مسلمہ حیثیت رکھتی ہے۔ ریسرچ اور تحقیقی مطالعوں کو یہاں محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ قومی نصب العین کا درجہ حاصل ہے۔ جاپانی جامعات اور تحقیقی ادارے جدید سائنسی نظریات، تکنیکی ایجادات اور عملی تحقیقات میں دنیا کی صفِ اوّل میں شمار ہوتے ہیں۔ انہی اداروں سے وابستہ درجنوں ممتاز محققین اور باصلاحیت طلبہ اپنی غیر معمولی علمی خدمات کے اعتراف میں نوبل انعام جیسے اعلیٰ عالمی اعزاز سے نوازے جا چکے ہیں، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ جاپان نے تعلیم کو ترقی، وقار اور عالمی شناخت کا مضبوط وسیلہ بنا لیا ہے۔مصنفہ ’’ہیرو شیما کے آنسو‘‘ میں جاپان کی مشہور کیوٹو یونی ورسٹی کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’یہ جاپان کی دوسری اور قومی ریسرچ کی پہلی یونیورسٹی ہے۔ ۱۸۹۷ میں قائم ہوئی۔ اس یونیورسٹی کے گیارہ طلبا کو نوبل پرائز مل چکا ہے۔ اس یونیورسٹی میں دنیا کے تمام مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے کا علاوہ جاپان کا پہلا قومی ہائیڈو ریسرچ ری ایکٹر ادھر ہی کام کر رہا ہے‘‘۔ (۳۲)
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ سفرنامہ محض ایک سفر کی دستاویز ہی نہیں، بلکہ جاپان کی تاریخ، ثقافت اور معاشرتی زندگی کا ایک جامع اور معتبر نامہ بھی ہے۔ اس میں نہ صرف بیش قیمت معلومات کا خزانہ موجود ہے جو قاری کے علم و آگاہی میں اضافہ کرتا ہے، بلکہ یہ اس عظیم ملک کے تمام پہلوؤں کو ایک مربوط اور مستند انداز میں پیش کرتا ہے۔ ہر صفحہ، ہر منظر اور ہر واقعہ قاری کو جاپان کی پیچیدہ تہذیب، تاریخی ورثے، معاشرتی اصولوں اور روزمرہ کی زندگی کی عکاسی سے روشناس کراتا ہے۔ یوں یہ سفرنامہ ایک ایسی مستند دستاویزی روایت کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو نہ صرف معلومات فراہم کرتی ہے ، بلکہ جاپان کے طرزِ معاشرت اور اور یہاں کے باشندوں کی نفسیات اور خصوصیات کو بھی بخوبی عیاں کرتا ہے۔
حوالہ جات
۱۔ آصف رضا، بینا گوئندی کے سفرناموں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ (مقالہ ایم۔فل اردو، غیر مطبوعہ)، الحمد اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد، ۲۰۲۴، ص ۳۵
۲۔ بینا گوئندی، ہیرو شیما کے آنسو، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور، ۲۰۲۵، ص ۸
۳۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۶
۴۔ ایضاً۔۔۔ص ۷۰
۵۔ ایضاً۔۔۔ص۷۹
۶۔ ایضاً۔۔۔ص ۹۴
۷۔ ایضاً۔۔۔ص ۹۹
۸۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۳۴
۹۔ ایضاً۔۔۔ص ۴۶
۱۰۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۱۰
۱۱۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۳۲
۱۲۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۱۳
۱۳۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۸۶
۱۴۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۲۷
۱۵۔ ایضاً۔۔۔ص ۴۶
۱۶۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۲۸
۱۷۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۱
۱۸۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۲
۱۹۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۸
۲۰۔ ایضاً۔۔۔ص ۳۲
۲۱۔ ایضاً۔۔۔ص ۲۲
۲۲۔ ایضاً۔۔۔ص ۵۸
۲۳۔ ایضاً۔۔۔ص ۶۲
۲۴۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۲۶
۲۵۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۲۳
۲۶۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۲۶
۲۷۔ ایضاً۔۔۔ص ۲۵
۲۸۔ ایضاً۔۔۔ص ۲۲
۲۹۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۷۱
۳۰۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۰۰
۳۱۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۷۱
۳۲۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۱۲


Leave a Reply
Be the First to Comment!