عصر حاضر کے نوجوان اور فکراقبال

عصر حاضر کے نوجوان اور فکراقبال

مقالہ نگار ۔ام ایمن (ریسرچ اسکالر)

شعبۂ اردو خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی،لکھنؤ

’’ابھی تک اردو زبان نے اقبال سے بڑا شاعر پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ ہمہ گیری اور وسعت ابھی کسی اور شاعر کو نصیب نہیں ہوئی جو اقبال کی شاعری میں پائی جاتی ہے۔‘‘

                                                                (ترقی پسند ادب، علی سردار جعفری، ص 108)

علامہ اقبال کے تعلق سے علی سردار جعفری کا مندرجہ بالا قول آج بھی بڑی حد تک صادق آتا ہے اور شاید ہی اردو شاعری کی تاریخ میں کوئی ایسا شاعرہو جو اقبال کی ہمہ گیر فکر، وسعت نظر اور فکری گہرائی کی اس بلندی تک پہنچ سکا ہو۔غالب کے بعد اقبال ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اردو شاعری کو فکری اور فنی اعتبار سے بام عروج تک پہنچا دیا ہے ۔عہد اقبال سے اب تک ہر نسل اپنے عہد کے مسائل کے تناظر میں اقبال کے افکار میں نئے امکانات تلاش کرتی رہی ہے۔ شاعرمشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال دنیائے ادب اور اہل دانش کے درمیان کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اپنی آفاقی فکر، ہمہ گیر نظر اور انسان دوست پیغام کے سبب اقبال نہ صرف اردو دنیا میں بلکہ عالمی سطح کے ادبی حلقوں میں بھی منفردا ورممتاز مقام رکھتے ہیں۔علامہ اقبال نے شاعری کواپنے افکار و نظریات کی ترسیل و ابلاغ کے اہم ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کی شاعری میں انسان کی عظمت، مقصد حیات،خودی اور اس کے مستقبل کے مسائل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اپنی شاعری میں اسی وسعت کی بنا پر اقبال کسی ایک عہد خاص طبقے یا محدود ذہنی دائرے کے شاعر نہیں ہیں۔ اقبال کسی ایک فکر، مذہب یا ملت کے شاعر نہیں ہیں۔ ان کی شاعری میں تمام بنی نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا تصور موجود ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے اپنے پیغام کو عالم انسانی تک پہنچانے کے لیے اسلامی تعلیمات، روایات، استعارات اور تلمیحات کو بنیادی وسیلہ بنایا۔دراصل اقبال کے یہاں مذہب اخلاقی تعمیر اور روحانی ارتقا کا ذریعہ ہے۔اقبال کے یہاں مذہب کا تصور تفریق نہیں ہے۔ انہوں نے مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے ان افکار و نظریات کو اخذ کیا جو انسان کے فلاح و بہبود سے تعلق رکھتے ہیں۔

اقبال کی شاعری اپنے عہد کے مسائل تک ہی محدود نہیں ہےاسی لئے رشید احمد صدیقی نے اقبال کو مستقبل کا شاعرقرار دیا ہے۔ اقبال کے اشعار آنے والی نسلوں کے لیے ایسے خضر راہ کی حیثیت رکھتے ہیں جو مشکل اور خار زارراستوں میں درست سمت کا تعین کرنے میں رہنمائی عطا کرتے ہیں۔ علی سردار جعفری اقبال کی شاعری کی معنویت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اقبال کو ان کے عہد نے پیدا کیا تھا لیکن وہ اپنے عہد سے بڑے تھے۔ وہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور ٹیگور کے ہم عصر تھے۔ یہ تینوں بھی اپنے عہد کی پیداوار تھے لیکن اپنے عہد سے بڑے تھے۔ ان چاروں کی بلند قامت پرچھائیاں مستقبل کی صدیوں پر پڑ رہی ہیں۔‘‘

(اقبال شناسی، علی سردار جعفری، ص 20)

اقبال کی اس بلند قامتی کی ایک وجہ ان کی وہ دور اندیشی ہے جس کے تحت انہوں نے اپنے عہد کے مسائل کے ساتھ ساتھ آنے والے زمانے کے مسائل کو بھی محسوس کیا۔ اقبال اسلاف کے کارناموں سےبخوبی واقفیت رکھتے تھے،ساتھ ہی اپنے دور کی صورت حال کا گہرا مشاہدہ رکھتے تھے اور مستقبل کے امکانات پر بھی ان کی نگاہ تھی۔ مجنوں گورکھپوری اقبال کے تعلق سے رقم طراز ہیں:۔

’’ہمارے ادب اور ہماری معاشرت کی تاریخ میں اقبال کا شمار ان دانایان راز میں ہوگا جو مستقبل کی جھلک دکھا کر فکر و عمل کا رخ نئی سمتوں کی طرف موڑ سکتے ہیں۔‘‘

(مجنوں گورکھپوری، اقبال، مشمولہ: اقبال بحیثیت شاعر، ص 72)

اقبال کی شاعری میں مستقبل بینی کا سب سے روشن پہلو نوجوانوں کے نام ان کا پیغام ہے۔ اپنی شاعری کے بیشتر حصوں میں اقبال نوجوانوں سے مخاطب نظر آتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے عہد کے نوجوانوں کو مخاطب کیاہے بلکہ آنے والی نسلوں کوبھی ایسا پیغام دیا ہے جس کی معنویت عصر حاضر میں بھی برقرار ہے۔ اقبال نےاپنی شاعری میں نوجوان کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ قوم کی عزت، ترقی، سربلندی اور زوال بڑی حد تک نوجوانوں کی صلاحیت، عزم، کردار اور قوت عمل سے وابستہ ہے۔ اقبال ملک و ملت کے لئے نوجوانوں کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے نوجوانوں کے دل میں حرارت، ولولہ، خود اعتمادی، بلند نظری اور جدوجہد کا جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔علاوہ ازیں نوجوانوں کو مایوسی اور محدود خواہشات کی دنیا سے باہر نکلنے کا درس دیتے ہیں۔ وہ اس کے سامنے ایک وسیع تر دنیا کا تصور رکھتے ہوئے کہتے ہیں:۔

کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش

اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا نہ دوش

اقبال نے نوجوان کے لیے شاہین کا استعارہ استعمال کر کےبا ہمت ،بلند پرواز ،بے خوف اور خوددار بننےکی تلقین کی ہے۔ شاہین بلند پرواز، خوددار، بے خوف اور آزاد طبع پرندہ ہے۔ وہ محدود فضا میں قید رہنا پسند نہیں کرتا بلکہ آسمان کی وسعتوں میں پرواز کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں:۔

یہ پورب یہ پچھم، چکوروں کی دنیا

مرا نیلگوں آسماں بیکرانہ

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں

کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

شاہین کسی ایک منزل یا کامیابی پر قناعت نہیں کرتا بلکہ اس کی نگاہ ہمیشہ نئی منزلوں کی تلاش میں آگے بڑھتی رہتی ہے۔ یہی پیغام اقبال نوجوانوں کو دیتے ہیں کہ چھوٹی سی کامیابی پر رک جانا انسانی امکانات کو محدود کر دیتا ہے۔ نوجوان کو ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں سر گرداں رہنا چاہیے۔مسلسل جدوجہد ہی انسان کو مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ اقبال کا شاہین اس نوجوان کا استعارہ ہے جو حالات کا تابع ہو جانےکے بجائے حالات کو اپنے عزم ،حوصلہ اورعمل سے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اقبال نوجوانوں کو جہد مسلسل اور منزل مقصود کے لئےعمل پیرا ہونے کا درس دیتے ہیں:۔

یہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہے

جو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہے

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

اقبال نوجوان کی اصل طاقت پختہ ارادے ، بلند حوصلے اور مسلسل جدوجہد کو گردانتے ہیں۔ اگر اس کے اندر خود اعتمادی اور عمل کا جذبہ موجود ہے تو وہ ناسازگار حالات میں بھی اپنی منزل تلاش کر لیتا ہے۔ لیکن اگر نوجوان مقصدیت سے محروم ہو جائے تو جدید سہولتیں اور بے شمار وسائل بھی اسے کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتے۔

آج کا نوجوان سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور معلومات کی فراوانی کے ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہا ہے جس کا تصوربھی اقبال کے عہد میں شاید نہیں تھا۔ جدید ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لیے معلومات کے بے شمار دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک نئی نوعیت کا ذہنی دباؤ، فکری انتشار اور بے سمتی بھی پیدا ہوئی ہے۔ جتنی سہولتیں بڑھتی جا رہی ہیں اتنی ہی ذہنی کشمکش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ زندگی کی برق رفتاری نے نئی نسل کو سہولتیں تو دی ہیں لیکن اسے بے آرامی، بے چینی، مایوسی اور مقصدیت کے بحران سے بھی دوچار کر دیا ہے۔عصرحاضر کا نوجوان بظاہر معلومات کے وسیع سمندر میں غوطہ زن ہےلیکن اس ظاہری ترقی نے ان کے باطن میں خلا پیدا کر دیا ہے۔سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ترسیل و ابلاغ نے جہاں اظہار اور رابطے کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں تو دوسری جانب غیر ضروری مصروفیات اورفوری کامیابی کی خواہش نے نوجوانوں کی ذہنی یکسوئی کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں فکراقبال نوجوانوں کے لیے ایسی فکری بنیاد فراہم کرتی ہے جو اسے ظاہری کامیابی کے بجائے اخلاقی بلندی اور مقصد حیات کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اقبال کے یہاں نوجوان کے لئےخودی کی تعمیر سب سے اہم فلسفہ حیات ہے۔ خودی اپنی ذات کی پہچان، مقصدحیات کا شعور، فکری خود مختاری اور مسلسل عمل کا نام ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی وہ قوت ہے جو انسان کو کمزوری، احساس کمتری اور غلامانہ ذہنیت سے نکال کر خود انحصاری اور ذمہ داری کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ اسی لیے اپنے کئی اشعار میں خودی کو بیدار کرنے کی دعوت دیتے ہیں:۔

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

نوجوان اگر اپنی خودی کو پہچان لے تو اس کے امکانات محدود نہیں رہتے۔ وہ اپنے اندر چھپی ہوئی قوتوں کو دریافت کر سکتا ہے اور اپنے وجود کو کسی بڑے مقصد سے وابستہ کر سکتا ہے۔ عصرحاضر کے نوجوان کے لیے یہ تصور اس لیے بھی اہم ہے کہ آج وہ دوسروں کی زندگی، کامیابی اور ظاہری معیار کو دیکھ کر اپنے آپ کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے میں فکر اقبال اسے اپنی ذات کی قدر، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد اور اپنی الگ شناخت قائم کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

اقبال کے یہاں خودی کی تعمیر کے ساتھ علم اور تعلیم کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اقبال کاتصور تعلیم صرف معلومات کا ذخیرہ یا روزگار کے حصول کا ذریعہ نہیں ہے۔ اقبال ایسی تعلیم کے خواہاں ہیں جو انسان کے قلب و روح کی تربیت، اخلاقی تعمیر اور خودی کے شعور کو بیدار کرے۔ آج جدید تعلیم، سائنسی ترقی اور صنعتی زندگی نے نوجوانوں کی زندگی میں انقلاب آفریں تبدیلی پیدا کی ہےلیکن اس ظاہری ترقی کے ساتھ اگر باطنی اور اخلاقی تعمیر کا رشتہ قائم نہ رہے تو شخصیت میں ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔اقبال کا تصور تعلیم اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے نزدیک وہ علم حقیقی معنوں میں کارآمد ہے جو انسان کے قلوب و اذہان کو روشن کر دے، شعور کو بیدار کرے اور اس کے کردار کوسر بلند ی عطاکرے۔ اقبال نوجوانوں کو مشرق و مغرب دونوں کے علوم سے استفادہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ اپنی تہذیبی، اخلاقی اور روحانی جڑوں سےبھی وابستہ رہے۔ اقبال جدید علم کے مخالفت نہیں کرتےبلکہ ایسی تعلیم کے مخالف ہیں جو انسان کو اپنی ذات، تہذیب اور اخلاقی ذمہ داری سے دور کر دے۔شمیم حنفی نے اقبال کی اسی دائمی معنویت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:۔

’’اقبال نئے انسان اور اس کی دنیا کے مسائل سے اپنی تمام تر آگہی اور شعریات کے ترقی یافتہ اصولوں سے باخبری کے باوجود قدیم و جدید دونوں کے لیے یکساں معنویت کا سامان رکھتے ہیں۔ اسی لیے نئے اور پرانے دونوں انھیں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

(اقبال اور عصرحاضر کا خرابہ، شمیم حنفی، ص 65)

اقبال کی فکر کسی مخصوص تاریخی صورت حال تک محدودنہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں نئے معنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عصر حاضر کا نوجوان معلومات کی فراوانی کے باوجود فکری انتشار اور بے یقینی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں فکر اقبال اسے بیداری، ہمت، بہادری اور ولولے کا درس دیتی ہے۔عصرحاضر میں نوجوان کے بڑے مسائل میں بے سمتی، غلامانہ تقلید، خود اعتمادی کی کمی، محنت سے فرار اور فوری کامیابی کی خواہش شامل ہیں۔ اقبال ان تمام کمزوریوں کے برخلاف نوجوانوں کو عمل اور تخلیق کی راہ دکھاتے ہیں:۔

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد

ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

اقبال کے یہ اشعار نسل نو کو درس دیتے ہیں کہ دوسروں پر منحصر ہو کر منتظرفردا رہنے کے بجائے خود عمل پیرا ہونا چاہیے۔ تقلید انسان کی تخلیقی قوت کو محدود کر دیتی ہے۔جب کہ اقبال نوجوانوں سے تخلیق، تجدید،مسلسل جدوجہد اور خود انحصاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آج کے دور میں یہ پیغام مزید اہم ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں وہی نوجوان آگے بڑھ سکتا ہے جو دوسروں کی تقلیدکے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اقبال نوجوان کو مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں:۔

ایسی کوئی دنیا نہیں افلاک کے نیچے

بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تخت جم و کے

کامیابی کے لیے جدوجہد، قربانی، صبر اور مسلسل عمل ضروری ہے صرف خواہش سے کامیابی نہیں مل سکتی ہے۔ آج کا نوجوان سہولتوں کے ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہا ہے جہاں بہت سی چیزیں فوری طور پر دستیاب ہیں۔ اس فوری دستیابی نے نوجوانوں میں انتظار، صبر اور مسلسل محنت کا جذبہ ختم کر دیا ہے۔ اقبال کا پیغام اس کے برعکس ہے۔ وہ نوجوان کو بتاتے ہیں کہ اعلی منزل کو حاصل کرنے کے لئے محنت اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔اقبال نوجوان کے اندر سوال کرنے کا حوصلہ اور فرسودہ روایات کو چیلنج کرنے کی جرأت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اقبال عصر حاضر کے نوجوان کی تن آسانی اور آرام طلبی سے مطمئن نہیں ہیں:۔

ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل

نہ زورحیدری تجھ میں نہ استغنائے سلیمانی

ان اشعار میں اقبال کی تنقید مغرب کی ہر چیز کے خلاف نہیں بلکہ اس ذہنیت کے خلاف ہے جو ظاہری آسائش مادی دولت اور نمود و نمائش کو زندگی کا مقصد بنا دیتی ہے۔ آج کے نوجوان کے تناظر میں اس پیغام کی معنویت اور بڑھ جاتی ہےکیونکہ سوشل میڈیا اور صارفیت کی ثقافت نے ظاہری کامیابی کو زندگی کا معیار بنا دیا ہے۔ اقبال نوجوانوں کو ظاہری چمک دمک کے بجائے خودداری اور مقصدیت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ علامہ اقبال کو ایسے نوجوانوں سے محبت ہے جن کے حوصلے بلند ہوں۔جو مشکلات سے گھبرا کر ہتھیار ڈال دینے کے بجائے مسلسل جدوجہد کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنانے کی تدبیریں تلاش کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں:۔

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اقبال ایسی نوجوان نسل کے خواہاں ہیں جو منزل مقصود کی تلاش جاری رکھے اور ناممکن دکھائی دینے والے کاموں کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھے۔ اقبال کا نوجوان آج کے نوجوان سے مختلف نہیں ہے صرف اس کے مسائل اور ان سے مقابلے کے ذرائع بدل گئے ہیں۔اقبال نوجوانوں کی تن آسانی اور مغرب کی اندھی تقلید سے فکرمندضرور تھے۔ لیکن اقبال مغربی علم اور سائنس کے مخالف نہیں تھے۔ ان کی تنقید مغرب کی اس تہذیبی مادیت اور اندھی تقلید پر ہے جو انسان کو اپنی روحانی اور تہذیبی شناخت سے محروم کر دیتی ہے:۔

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر اقبال نوجوانوں کو مغربی علوم اور تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی فکری خود مختاری برقرار رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ عصرحاضر کے نوجوان کے لیے بھی یہی رویہ زیادہ موزوں ہے کہ وہ جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی علوم سے استفادہ کرےلیکن اپنی تہذیبی شناخت کو فراموش نہ کرے۔اقبال کی یہ تشویش ان کے خطابات اور نثری افکار میں بھی نمایاں ہوتی ہے:۔

’’عصر حاضر کی ذہنی سرگرمیوں سے جو نتائج مرتب ہوئے ہیں ان کے زیر اثر انسان کی روح مردہ ہو چکی ہے، یعنی وہ اپنے ضمیر اور باطن سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ خیالات اور تصورات کی جہت سے دیکھیے تو اس کا وجود خود اپنی ذات سے متصادم ہے۔ سیاسی اعتبار سے نظر ڈالیے تو افراد افراد سے۔ اس میں اتنی سکت ہی نہیں کہ اپنی بے رحم انانیت اور ناقابل تسکین جوع زر پر قابو حاصل کر سکے۔‘‘

(تشکیل جدید الہیات اسلامیہ، ص 289، 290)

جدید دنیا نے انسان کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں لیکن مادی ترقی کے ساتھ اگر اخلاقی شعور اور روحانی توازن قائم نہ رہے تو انسان اندر سے منتشر ہو سکتا ہے۔ عصر حاضر کا نوجوان بھی اسی تضاد سے دوچار ہے۔ اس کے پاس معلومات ہیں لیکن یکسوئی کی کمی ہے۔ رابطے کے ذریعے ہیں لیکن حقیقی تعلقات کمزورہیں۔ سہولتیں میسر ہیں لیکن ذہنی طور سےسکون کی کمی ہے۔ اقبال نوجوان کو نہ ماضی میں قید کرنا چاہتے ہیں اور نہ حال سے فرار کی دعوت دیتے ہیں بلکہ اسے ماضی کی عظمت سے حوصلہ حال کے مسائل سے آگہی اور مستقبل کی تعمیر کا عزم عطا کرتے ہیں۔ ان کے یہاں اسلاف کا ذکر صرف ماضی پر فخر کے لیے نہیں بلکہ موجودہ نسل کے اندر عمل کی قوت پیدا کرنے کے لیے ہے۔اقبال چاہتے ہیں کہ نئی نسل کی تربیت اس طرح کی جائے کہ اس کے اندر خودی، خود اعتمادی، وسیع النظری اور عمل کی قوت پیدا ہو۔ اقبال کی نظم ائے پیر حرم کے اشعار اسی تناظر میں ہیں:۔

اے پیرحرم رسم و رہ خانقہی چھوڑ

مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت

 دے ان کو سبق خود شکنی خود نگری کا

تو ان کو سکھا خاراشگافی کے طریقے

مغرب نے سکھایا انھیں فن شیشہ گری کا

دل توڑ گئی ان کی دو صدیوں کی غلامی

دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

کہہ جاتا ہوں میں زور جنوں میں ترے اسرار

مجھ کو بھی صلہ دے میری آشفتہ سری کا

اقبال چاہتے ہیں کہ نوجوان کو صرف سہولتوں کے استعمال کا ہنر نہ سکھایا جائے بلکہ اسے مشکلات سے لڑ کر اپنے راستے خود بنانے کا حوصلہ بھی دیا جائے۔عصر حاضر میں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو سہولتوں کا صارف بننے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کا خلاقانہ استعمال کر سکے۔ اقبال کی فکر میں نوجوان کے لیے دعا بھی ہے اور اس سے ایک بڑے مقصد کی توقع بھی۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں:

جوانوں کو میری آہ سحر دے پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میری یہی ہے میرا نوربصیرت عام کر دے

 فکراقبال آج کے نوجوانوں کے لیے چند نصیحتوں یا بلند حوصلہ اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک طرزفکر اور طرززندگی ہے۔ یہ نوجوان کو مقصد حیات سے روشناس کراتی ہے، اندھیرے میں راستہ دکھاتی ہے، مشکلات میں ہمت و حوصلہ عطا کرتی ہے اور اسے اپنی صلاحیتوں سے آشنا کر کے کامیابی کے سفر پر گامزن کرتی ہے ۔ عصر حاضر میں نوجوانوں کے مسائل عہد اقبال کے مسائل سے ظاہری طور پر مختلف ہیں۔ لیکن ان مسائل کی بنیادی نوعیت میں کئی مماثلتیں موجود ہیں۔ آج بھی نوجوان بے سمتی، فکری غلامی، تن آسانی اور مقصدیت کے بحران کا شکار ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اقبال کے عہد میں ان مسائل کے اسباب اور مظاہر مختلف تھے۔ آج کے دور میں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور عالمی ثقافتی اثرات نے انہیں ایک نئی شکل دے دی ہے۔ اقبال ایسے نوجوان کی توقع کرتے ہیں جو خراب حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے انہیں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور ظاہری ترقی کے ساتھ اپنی اخلاقی اور روحانی تعمیر کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔ عصر حاضر میں بھی اقبال کی فکر نوجوانوں کو امید،عمل، خودی، جفاکشی، بلند نظری اور مقصدحیات عطا کرتی ہے۔

کتابیات

  1. 1. اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ، شمیم حنفی،2010
  2. 2. اقبال بحیثیت شاعر، مرتبہ پروفیسر رفیع الدین ہاشمی،مجلس ترقی ادب لاہور،1977
  3. 3. اقبال شناسی ،علی سردار جعفری ،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ،1976
  4. 4. ترقی پسند ادب، علی سردار جعفری، انجمن ترقی ہند علی گڑھ،1957
  5. 5. تشکیل جدید الہیات اسلامیہ، ڈاکٹر محمد اقبال،سید نذیر نیازی ،بزم اقبال لاہور،1986
  6. 6. کلیات اقبال،ڈاکٹر علامہ محمد اقبال،الحسنات بکس پرائیویٹ لمیٹیڈ،2023

Umme Aiman (Research Scholar)

Department of Urdu

KMC Language University, Lucknow 226013

Email Add- b-0513@kmclu.ac.in

Contact No. +91- 9044624033

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.