بچّوں کی شاعری کی زبان ( منتخب متون کے حوالے سے تنقیدی جائزہ)
بچّوں کی شاعری کی زبان ( منتخب متون کے حوالے سے تنقیدی جائزہ)
محمد مرجان علی
ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، جے پرکاش یونی ورسٹی، چھپرا
Email: mdmarjanali07@gmail.com
Call & WhatsApp: 9931646092
بچّوں کی شاعری کی زبان
( منتخب متون کے حوالے سے تنقیدی جائزہ)
ادبِ اطفال کے ماہرین اپنی ہر تحریر میں موضوع اور زبان کی سطح پر لکھنے والوں سے ایک بیدار مغزی اور احتیاط پسندی کا تقاضہ کرتے ہیں۔ ہر تخلیق کار سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ جب وہ کوئی تحریر بچّوں کے لیے پیش کرے تو وہ اُن کی سطحِ زبان کو سمجھے اور اُسی طرح اُن مخصوص عمر میں وہ کن موضوعات تک کا فکری سفر کر سکتے ہیں، اِس کا اُسے شعور حاصل ہو۔ ورنہ آپ کی بات اُن بچّوں تک آدھی ادھوری ہی پہنچ پائے گی اور شاید آپ کی تخلیق کا مقصد مکمّل طور پر حل نہیں ہو گا۔ تمام اصناف کی تخلیق کے مرحلے میں کسی مصنّف کے لیے ہر گز یہ لازم نہیں ہوتا کہ وہ زبان اور موضوع کے اتنے مرحلہ وار مدارج سے گزرے۔ غزل کہتے ہوئے ننّاوے فی صد شاعر کو یہ یاد نہیں رکھنا ہوتا ہے کہ اُس کی غزل پڑھنے والے یا سننے والے کس سطحِ علم کے افراد ہوں گے۔ وہ تخلیق کی رَو میں اپنی بات مکمّل کرتا ہے اور عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔ افسانہ ہو یا ناول ہر صنف کے لیے یہ اُصول موجود ہے کہ لکھنے والا پوری کائنات کو اپنا مخاطب سمجھتا ہے اور اپنے علم اور زبان کی مدد سے اُسے ترتیب دیتا ہے۔ بعد میں پڑھنے والے موضوعات اور افکار یا اسلوب کے بارے میں اپنے تنقیدی نظریات ڈالتے ہیں۔
اِس صورتِ حال کے برعکس بچّوں کے ادب پر کام کرنے والے تخلیق کاروں کی کیفیت جدا ہوتی ہے۔ وہ اگر نرسری کے بچّوں کے لیے رائمس لکھ رہے ہوں یا پہیلیاں پیش کر رہے ہوں، اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کے نشان زد سامع نہایت محدود سرمایۂ الفاظ کے ساتھ ہمارے سامنے آئے ہوئے ہیں۔ اُنھیں تحریر کے مقابلے آواز سے زیادہ غرض ہے۔ اِس لیے اِن کاموں کے لیے زبان کی سطح بالکل غور و فکر کے ساتھ شاعر یا ادیب کو متعیّن کرنی ہوتی ہے۔ آپ نے طَے کر لیا کہ محض بول چال کے پچیس لفظ اور دس بیس بے معنیٰ لفظ شامل کر کے اپنی نظم یا کہانی تیّار کر دیں گے جس میں بیان کا ڈَھب سمعی اور بصری زیادہ ہو، موسیقی اور بیان کی روانی زبردست ہو۔ کیا یہ لاشعور یا غیب سے آنے والے خیالات کے ساتھ مخصوص شعوری کوششوں کے بغیر ممکن ہے؟ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شاعر یا ادیب کو ادبِ اطفال کے میدان میں اترتے ہوئے اِس بات کا خیال ہمیشہ رکھنا ہی ہوگا کہ وہ بچّوں کی عمر اور اُن کے علم کو نگاہ میں رکھتے ہوئے الفاظ اور موضوعات کا انتخاب کرے۔
اِسی طرح اگر آٹھویں جماعت کے بچّے کے لیے ہمیں کوئی نظم کہنی ہے تو یہ یاد رہنا چاہیے کہ بچّے کی عمر تیرہ چودہ برس ہو چکی ہے اور وہ اب سیکڑوں مشکل الفاظ اور سیکڑوں عام فہم الفاظ سے واقف ہو چکا ہے۔ زندگی اور سماج کی ضرورتوں کو کچھ حد تک وہ سمجھتا ہے اور دنیا کو دیکھنے کا ایک شعور اُس میں پیدا ہو رہا ہے۔ اِس لیے اُسے نرسری رائمس یا عام پہیلیوں کی زبان اور موضوعات سے مختلف ایک دوسری دنیا کے تصوّرات کی طرف شاعر کو موڑنا ہے۔ ادبِ اطفال کے ماہر کی نگاہ میں ہمیشہ یہ بات رہتی ہے کہ اُس بچّے کی سطحِ زبان کو بھی رفتہ رفتہ بلند تر کرنا ہے اور زندگی کی تفہیم کا بھی ایک اعلا شعور ڈالنا ہے۔ اِس کام کے لیے ہمارے شاعر کے پاس ایک مختلف نظم تیّار رہتی ہے مگر ادبِ اطفال کے ماہر کو بارھویں جماعت کے بچّے کو ذہن میں رکھتے ہوئے کوئی نظم تخلیق کرنی ہو تو کیا اُسے یہ یاد نہیں رکھنی چاہیے کہ اب وہ بچّہ لڑکپن کی منزلوں سے گزرتے ہوئے ہمارے سماج کا ہونہار شہری بننے کے مرحلے میں ہے۔ اُس کی زبان دس بارہ برس کی رسمی تعلیم و تدریس سے کئی ہزار الفاظ کو شامل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ پانچ سو یا ایک ہزار مشکل الفاظ سے بھی واقف ہے اور ماحول سے اُس نے مزید کتنے ہزار الفاظ سیکھ لیے ہیں۔ اِس لیے اِس سطح کے بچّوں کے لیے جو شاعری مرتَّب ہو یا جو کہانیاں لکھی جائیں، اُن کی زبان کی سطح بالکل آٹھویں درجے یا نرسری کے بچّوں سے پورے طور پر مختلف ہوگی۔ہم لاکھ شاعری یا تخلیق کے معاملات کو وہبی قرار دیں مگر ادبِ اطفال کے دائرے میں داخل ہوتے ہوئے ہمیں اِس بات کا دھیان رکھنا ہوتا ہے کہ جس نشان زد حلقے کے لیے شعر گوئی ہو رہی ہے، اُس کی ضروریات اور عمر کی سطح کو شعوری طور پر سمجھا جائے اور اپنے ذہن کو بچّوں کی ضرورتوں کے تابع بنایا جائے۔
ادبِ اطفال میں اگر ایک طرف ہمیں بچّوں کے منتخب سرمایۂ الفاظ کی جانب توجّہ کرنی ہوتی ہے تو اُسی کے متوازی شعراے کرام کی زبان کا جائزہ لینا بھی ضروری ہو جاتا ہے کیو ں کہ جب تک دونوں کے سرمایۂ الفاظ میں مطابقت نہ پیدا ہو، اُس وقت تک بچّوں کے ادب کا پیدا ہونا ایک امرِ محال ہے۔ جب شاعر اپنی ذاتی زبان کو چھوڑ کر بچّے کی زبان اور اُس کے سرمایۂ الفاظ تک خود کو محدود کر لیتا ہے تو اُسے کامیاب تخلیقات پیش کرنے کی اہلیت میسّر آ جاتی ہے۔ اِس لیے ادبِ اطفال کی تنقید و تحقیق کے مرحلے میں ایک نقّاد کی بنیادی توجّہ اِس پہلو سے ہونی ہی چاہیے کہ بچّے کی سطحِ زبان اور شاعر کی سطحِ زبان میں مطابقت پیدا ہو سکی یا نہیں۔ بچّوں کا اچھا شاعر اِس پہلو سے چاق و چوبند رہتا ہے۔ وہ ہر گز اپنی سطح کی زبان کا استعمال بچّوں کے سلسلے کی شعر گوئی میں نہیں آزماتا ہے۔ دوسرے ادب اور بچّوں کے ادب کی تخلیقی سرگرمیوں میں یہ بنیادی فرق ہوتا ہے۔
بچوں کی زبان دراصل ان کی اپنی دنیا کی ترجمان ہوتی ہے۔ بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو وہ لفظوں کو مکمل طور پر ادا نہیں کر پاتا، اسی لیے اس کی زبان توتلی ہو جاتی ہے لیکن یہ توتلا پن اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی فطری صلاحیت کی علامت ہے۔ بچہ لفظوں کو جیسے سمجھتا ہے، ویسے ہی ادا کرتا ہے، اس میں بناوٹ یا دکھاوا نہیں ہوتا۔ اس کی بات سیدھی دل سے نکلتی ہے اور دل تک پہنچتی ہے۔ جب شاعر بچوں کی اس زبان کو اپنی شاعری میں شامل کرتا ہے تو وہ دراصل بچوں کے ذہن اور احساس کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مشکل الفاظ سے بچ کر ایسی زبان اختیار کرتا ہے جو بچوں کے لیے قابلِ فہم ہو۔ ظفر کمالی کی درج ذیل کلام میں بھی یہی بات نمایاں ہے۔ ان کے یہاں بچوں کی توتلی زبان صرف ہنسی یا دل لگی کے لیے نہیں آتی بل کہ معنی خیز انداز میں استعمال ہوتی ہے۔اُن کے اشعار میں نرمی اور اپنائیت کے جوہر از خود پیدا ہو جاتے ہیں۔ بچپن کی اِس زبان سے قاری اپنے بچپن کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ ایسی شاعری پڑھتے ہوئے آدمی کچھ لمحوں کے لیے اپنی عمر، ذمہ داری، منصب اور سنجیدگی کو بھول جاتا ہے۔ وہ خود کو پھر سے بچہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس طرح بچوں کی زبان نہ صرف بچوں کو خوش کرتی ہے بل کہ بڑوں کے دل کو بھی سکون پہنچاتی ہے۔ آئیے چند مثالوں سے ہم اپنی بچپن کی طرف لوٹتے ہیں:
یہ اپنے گھَل کی چھہہ جادی ہوگی
اِچھ کا دادا ہوگا دادی ہوگی
بیٹھی کیا کیا سوچ رہی ہے منّی
مِیلی گُلیا کی کب چھادی ہوگی
باجی دیکھو یہ ہے کتنا بھولا
کالا ہے تو کل دو اِچھ کو گولا
بھوکا ہے میں لاکل تھُولا دوں
لدّو کھائے گا لکلی کا گھولا
میلے اچھے ابّو آئیں گے جلول
کھانے کو لچھ گلّے لائیں گے جلول
ہاتھی والا چھَل کَچھ آیا ہے یہاں
مجھ کو لے کل ابّو جائیں گے جلول
اِن مثالوں سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ظفر کمالی اپنی تخلیق کے مرحلے میں نشان زد بچّوں کی عمر اور اُن کی زبان کی ادائیگی پر کس طرح مہارت رکھتے ہیں۔ بچّوں کی کم سِنی اور ماحول سے لسانی اخذ و استفادہ میں الفاظ بالخصوص حروف گڈ مڈ ہوتے ہیں۔ ایک دندانی آواز دوسری دندانی آواز میں کیسے شامل ہو گئی ،یہ عام آدمی سمجھ نہیں سکتا ہے مگر مخارج کی قربت کے سبب بچّوں کی زبان میں یہ تبدیلیاں آتی ہیں۔ دیکھنے سے یہ مہمل اور بے معنیٰ الفاظ ہوتے ہیں مگر حقیقی طور پر غور کریں تو یہ سچ ہے کہ ہر لفظ معصوم بچّوں کی ادائیگی میں ایک نیا لفظ اور نئی کیفیت کا ترجمان بن گیا ہے۔
ہندوستانی تہذیب میں شادی بیاہ کی رسومات نہایت رنگا رنگ، دل کش اور معنی خیز ہوتی ہیں جو دنیا کی بیش تر تہذیبوں سے کسی نہ کسی صورت میں مشابہت بھی رکھتی ہیں۔ انھیں تہذیبی روایات کو ہمارے شعرا نے بچوں کی شاعری میں نہایت سادگی اور لطافت کے ساتھ شامل کیا ہے۔ اس طرح وہ بچوں کو ان رسومات سے مانوس کرانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ بچوں کی شاعری میں سادہ زبان، دل چسپ تشبیہیں اور مانوس لفظیات کے ذریعے شادی بیاہ کے مختلف مراحل کو پیش کیا جاتا ہے۔ کہیں بکرے کے سہرے کا ذکر ملتا ہے، تو کہیں بکری کو ابٹن لگانے جیسے دل چسپ مناظر سامنے آتے ہیں۔ ایسے الفاظ اور تصویری پیکر بچوں کے ذہن میں نہ صرف خوش گوار اثر چھوڑتے ہیں بل کہ ہندوستانی شادی کی رسومات کو ان کے شعور میں رچ بس بھی جاتے ہیں۔ یوں بچوں کی شاعری محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہتی اور تہذیبی، ثقافتی اور سماجی روایات کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا مو ثر وسیلہ بن جاتی ہے۔ بچّوں کے مشہور شاعر اور ساہتیہ اکادمی انعام یافتی (براے ادبِ اطفال) شاعرڈاکٹر ظفر کمالی کی دو رباعیاں بہ طورِ مثال پیش کی جاتی ہیں۔ ملاحظہ ہوں:
اپنے بکرے کا سہرا لکھواؤں
یاروں کی محفل میں اس کو لگاؤں
بکری جو میں میں کرتی رہتی ہے
اس کو دلھن کا جوڑا پہناوؤں
سب مل کے لگائیں گے اسے ابٹن آج
پہنائیں گے پیروں میں جھانجھن آج
باجی کے دو پٹّے کو اڑھائیں گے اسے
بکری کو بنائیں گے ہم دلہن آج
بچے جب شاعری پڑھنے کی عمر تک پہنچتے ہیں تو وہ صرف لفظوں کو پڑھتے ہی نہیں بل کہ اُن کے معنی بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ خواہ بچہ عمر میں کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، وہ الفاظ کے ایک خاص ذخیرے کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے کیوں کہ زبان سیکھنے کا عمل ماں کی گود سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ بچہ روزانہ نہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے اور یہی مسلسل سیکھنے کا عمل اس کی شخصیت کی بنیاد بناتا ہے۔ ایسے میں جب شاعر بچوں کے لیے شاعری تخلیق کرتا ہے تو اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچے کی ذہنی سطح اور اس کے سیکھنے کے شوق کو پیشِ نظر رکھے۔ بچوں میں تجسس بڑوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے بچوں کی شاعری سے یہ توقع قائم ہو جاتی ہے کہ اس میں ایسی زبان استعمال کی جائے جو روزمرہ زندگی میں بھی رائج ہو لیکن ساتھ ہی اپنے اندر خاص معنی اور گہرائی بھی رکھتی ہو۔ بچوں کے لیے شاعری کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا نہیں ہوتا۔ ہمارے بہت سے بزرگ شعرا نے بچوں کی شاعری کو پَند و نصیحت کا ذریعہ بنایا اور اس میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی مگر بچوں کی شاعری کا اصل تقاضا یہ ہے کہ کھیل کھیل میں بچوں کے ذہن اور دل میں اچھی اور مثبت باتیں اتار دی جائیں۔ شاعری ایسی ہو کہ بچے اسے لطف کے ساتھ پڑھیں اور ساتھ ہی ان کے الفاظ کے ذریعے ان کا تلفّظ(Pronunciation)بھی بہتر ہو۔ اس طرح بچے اپنی عمر کے ساتھ ساتھ اپنی لفظیات (Vocabulary) کو بھی وسیع کرتے چلے جاتے ہیں جس سے اُن کا اپنی مادری زبان سے ایک گہرا رشتہ قائم ہو جاتاہے:
بچنا ہے عداوت سے عداوت ہے بری
ہم دور ہیں اِس سے جہالت ہے بری
نزدیک بخیلوں کے نہ جائیں ہر گز
اچھی تو سخاوت ہے بخالت ہے بری
نفرت کے اندھیروں کو مٹاتے جائیں
ہم جوت محبت کے جگاتے جائیں
باپو کے اہنسا کا سبق یاد کریں
دنیا کو نئی راہ دکھاتی جائیں
پالو نہ کبھی دل میں بغاوت کے سانپ
ہوتے ہیں خطرناک شقاوت کے سانپ
اللہ ہمیں اُن سے بچائے رکھے
ڈستے ہیں دماغوں کو عداوت کے سانپ
یہاں لفظ بغاوت، شقاوت، بخیلوں، بخالت، اہنسا جیسے الفاظ خاص توجہ کے مستحق ہیں کیوں کہ یہ عام طور پر بچوں کے لیے ذرا مشکل سمجھے جاسکتے ہیں۔ یہاں بچّوں کی زبان سے مطابقت بٹھانے کے بیچ ہی شاعر اُس ذمے داری کو بھی ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی رُو سے یہ بات طَے ہو جاتی ہے کہ شاعر اپنے نو نہالوں کے سرمایۂ الفاظ میں اِضافہ کرنے کے لیے گنجایشیں پیدا کرے۔ظفر کمالی نے اپنی کتابوں میں غالباً اِسی لیے فرہنگ بھی ڈال دی ہے تاکہ بچّے اُن نئے الفاظ کے معنوی تناظر سے بھی واقف ہو سکیں اور اپنے سرمایۂ الفاظ میں بھی اضافہ کر سکیں۔ تاہم بچوں کی شاعری میں ایسے الفاظ کا استعمال دانستہ طور پر کیا گیا ہے تاکہ بچے کم عمری ہی سے نئے اور نسبتاً مشکل الفاظ سے واقف ہو سکیں۔ اس طرح بچوں کی لغت میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور ان کی زبان بہ تدریج مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔
جب بچے کسی شعری نمونے میں ایسے الفاظ سنتے اور پڑھتے ہیں تو وہ انھیں یہ اجنبی لفظ مانوس لگنے لگتے ہیں اور اُن کی معنوی دنیا سے وہ اپنے پڑھنے والوں کے اُفقِ ذہنی کو وسیع کرتے ہیں۔ بچوں کے ذہن میں ان الفاظ کا اچھا اور تعمیری تصور بنتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے نہ صرف زبان کی تربیت ہوتی ہے بلکہ بچوں کی سوچ اور فہم و ادراک بھی بہتر ہوتی ہے اور ان کی ذہن سازی ایک صحت مند اور مثبت رُخ پر آگے بڑھتی ہے۔
بچوں کی زبان کے حوالے سے ایک گفتگو میں ظفر کمالی نے بہ صراحت اظہارِ خیال کیا۔بچوں کی زبان کے دائرۂ کار کے تعیّن میں ظفر کمالی کی گفتگو نہایت کار آمد ہے، اِس لیے اِس گفتگو کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی شاعری تخلیق کرتے وقت انھوں نے دانستہ طور پر تراکیب کے استعمال سے پرہیز کیا ہے کیوںکہ تراکیب بچوں کے ذہن میں اس طرح پیوست نہیں ہو پاتیں جس طرح سادہ اور براہِ راست الفاظ ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر کمالی کے مطابق بچہ ابھی ترکیبیں اور پیچیدہ زبان کو سمجھنے کی صلاحیت پوری طرح حاصل نہیں کر پاتا، اس لیے اگر شاعری میں زیادہ تراکیب استعمال کی جائیں تو مفہوم بچوں تک واضح انداز میں منتقل نہیں ہو پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بچوں کی ذہنی سطح کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سادہ، روزمرہ اور مانوس زبان کو ترجیح دی ہے لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بچوں کی شاعری میں تراکیب کے استعمال کی گنجایش موجود رہتی ہے۔ یہ درست ہے کہ بچے ہر ترکیب کا پورا مفہوم فوراً نہیں سمجھ پاتے مگر وہ اسے سمجھنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں اور یہی کوشش ان کے سیکھنے کے عمل کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ خاص طور پر وہ عمر جسے بچے کی کچی عمر کہا جاتا ہے دراصل نئی نئی باتیں، نئے لفظ اور نئے مفہوم سیکھنے کی عمر ہوتی ہے۔ بچہ اس مرحلے پر زبان کو صرف سمجھتا ہی نہیں بل کہ آہستہ آہستہ اس کی تہوں میں اترنے لگتا ہے۔ اس لیے اگر شاعری میں نہایت مشکل اور بوجھل تراکیب سے گریز ضروری ہے تو بالکل سادہ اور محدود زبان پر اکتفا کرنا بھی مناسب نہیں۔ کچھ آسان، مانوس اور روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی تراکیب ایسی ہوتی ہیں جنھیں بچے سیاق و سباق کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی کوشش ان کی لفظیات کو وسعت دیتی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو بچوں کی شاعری میں تراکیب کا استعمال مکمل طور پر ممنوع نہیں بل کہ محتاط اور مناسب حد تک قابلِ قبول ہے۔ شرط یہ ہے کہ ترکیب بچے کی عمر، ذہنی سطح اور تجربے کے مطابق ہو، تاکہ وہ شعر کو پڑھتے ہوئے لطف بھی حاصل کرے اور ساتھ ہی نئے لفظوں اور معنوں سے آشنا بھی ہوتا جائے۔ اس طرح بچوں کی شاعری تفریح کے ساتھ ساتھ زبان سیکھنے اور ذہنی نشوونما کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
ممتاز ناول نگار غضنفر نے بچّوں کے سلسلے سے نظم و نثر میں بہترین تخلیقات پیش کی ہیں۔ بچوں کی ایک نظم ’مائشا‘ کے چند بند ملاحظہ ہوں:
مائشا میری زندگانی ہے
ہر طرف اِس سے شادمانی ہے
ہر نظارے کا رنگ دھانی ہے
اُس کے ہونے سے میرے آنگن میں
تپشِ دھوپ بھی سہانی ہے
بے ضرر، بے زبان ہے لیکن
ہر طرف اُس کی حکمرانی ہے
باپ قربان، ماں فدا اُس پر
اور نانی تو بس دِوانی ہے
بن بلائے ہمیں بلاتی ہے
وہ تو گڑیا عجب سہانی ہے
اے غضنفر بتا کہ محفل میں
کیا کوئی مائشا کا ثانی ہے
(مائشا)
یہاں غضنفر نے شادمانی ، رنگ دھانی اور ثانی جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں، اس کے علاوہ بے ضرر اورتپشِ دھوپ جیسی ترکیبیں بھی برتی ہیں جو عام طور پر بچوں کے لیے لکھی گئی تحریروں میں کم ہی استعمال کی جاتی ہیں۔
غضنفر دانستہ طورپر ایسے الفاظ اپنی نظموں میں موقع و محل کے اعتبارسے استعمال کرتے ہیں جن سے ان لفظیات اور تراکیب سے بچّوں کے ذہن ہم آہنگ ہو سکیں۔ غضنفر سمجھتے ہیں کہ بچے جب اپنی پختہ عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو اپنے ماحول سے دور جا کر نئے نئے الفاظ سیکھتے ہیں۔ وہ اب مشکل الفاظ اور تراکیب اور لفظوں کے پیچھے کے چھپے ہوئے معنی کو سمجھنے کے لائق ہوجاتے ہیں۔اِسی لیے غضنفر اُن کے word stock میں مزید اِضافے کے لیے مختلف الفاظ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اِس استادانہ ذہانت کے لیے غضنفر صاحب واقعی دادکے قابل ہیں۔
مظفّر حنفی کی شاعرانہ حیثیت مابہ الامتیاز ہے۔ ادبِ اطفال کے شعبے میںبھی ان کا مقام بلند ہے۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہی بچوں کے ادب سے ہوتا ہے، اسی لیے بچوں کی شاعری کی طرف ان کا فطری رجحان رہاہے۔ ان کا شعری کلیّات ادبِ اطفال ’بول میری مینا‘ اس بات کی روشن مثال ہے کہ انھوں نے بچوں کے ادب کو محض عمومی انداز میں نہیں برتا بل کہ عمر اور ذہنی سطح کے مطابق نہایت شعوری اور تخصیصی رویّہ اختیار کیا۔ ’بول میری مینا‘ کو مظفّر حنفی نے چار حصّوں میں تقسیم کیا ہے جن میں چار سے سات برس، آٹھ سے دس برس، گیارہ سے چودہ برس اور پندرہ سے اٹھارہ برس کے بچوں کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ یہ خانہ بندی جدید تعلیمی اصولوں کے عین مطابق ہے اور شاعر کے تدریسی شعور کی غماز ہے۔ ہر عمر کے بچوں کے لیے جداگانہ موضوعات اور اس کے مطابق لفظیات کا انتخاب ان کی زبان دانی کی مہارت اور بچوں کی نفسیات پر گہری نظر ہونے کاثبوت فراہم کرتا ہے۔ مظفّر حنفی کی مجموعی شاعری کی لفظیات اور بچوں کی شاعری کی لفظیات سے مقابلہ کریں تو اِس خاص میدان میں اُن کی سوجھ بوجھ کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ اُنھوں نے بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق الگ الگ لفظیات کی درجہ بندی کی۔پوری کتاب پڑھتے ہوئے آسانی سے ہم اُن لفظوں کے بارے میں نہیں کہہ سکتے کہ وہ اُن کے عین مطابق نہیں ہیں۔اُنھوں نے عام یا معمولی لفظوں کے ساتھ کار و باری دنیا کے بہت سارے الفاظ بھی چنے جو کسی طرح بچوں کی زندگی سے مطابقت رکھ سکتے تھے۔بہت سارے بے معنی اور مہمل لفظوں کو بھی اُنھوں نے کمالِ ہنرکے ساتھ نظموں میں کچھ اِس طرح سے آزما لیا ہے کہ ایک طرف بچوں کی وہ مخصوص ذہنی سطح اُبھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ اُس سے نظم کے کثیر مقاصد ہونے کے ثبوت بھی فراہم ہوتے ہیں۔چند مثالوں سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے:
ٹیٹو بھائی
ذرا سوچو
اپنے بھی پر ہوتے تو۔۔۔
منگل کرتے جنگل میں
ڈبکی لیتے بادل میں
(ذرا سوچو)
گپّو مت کھولو یہ کھڑکی
کھاؤ گی ابّو کی جھڑکی
بھِن بھِن کرتے آ جاتے ہیں
مچھر زندہ کھا جاتے ہیں
(ہٹلر مچھر دانی میں)
دُم لہراتا آیا بندر
پھاند پڑا ٹنکی کے اندر
ڈھکّن گر گیا ٹنکی کا
کان کٹ گیا منکی کا
ڈاکٹر صاحب آئیں گے
ٹانکے چار لگائیں گے
بندر ہو جائے گا ٹھیک
اچھی مل گئی اس کو سیکھ
(کان بندر کا)
مظفّر حنفی نے انگریزی کے جو الفاظ یہاں پیش کیے ہیں، وہ ماحول میںگھُلے ملے الفاظ ہیں اور ہمارے بچوں کے کان اُن سے پورے طور پر آشنا ہیں۔اِن نظموں کا سب سے پُر اثر معاملہ اِن کا فطری پن ہے۔کہیں ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ خود بچوں کی ذہنی سطح پر نہیں آئے ہوئے ہیں۔وہ بچوں کی طرح بن کر اُن کی زبان اور طبیعت کے راز کو سمجھ کر اِن نظموں کی تخلیق میں کامیاب ہوئے ہیں۔
علقمہ شبلی جدید اردو شاعری کا ایک معتبر نام ہیں۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی باضابطہ طور پر نظمیںلکھی ہیں۔ بچوں سے متعلق ان کی بعض نظمیں خاص طور پر توجہ کی مستحق ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ ’کلکتہ کی سیر‘، ’پٹنے کی سیر‘ اور ’دہلی کی سیر‘ ایسی نظمیں ہیں جن میں شاعر نے سیر و سیاحت کے پردے میں بچوں کو تاریخ اور تہذیب سے روشناس کرایا ہے۔ ان نظموں میں جزئیات نگاری کے ذریعے ایک مکمل فضا قائم کی گئی ہے جن سے مقامات کی تصویری کیفیت قاری کے سامنے آ جاتی ہے۔ علقمہ شبلی نے نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں ان شہروں کی تاریخی ، تہذیبی اور سماجی پس منظر کو بیان کردیاہے۔ شاعر نے تفریح اور تفنن کے انداز میں بچوں کے فہم و ادراک میں تاریخی، ادبی، لسانی اور سماجی معلومات کو شامل کرکے ایک کامیاب تجربہ کیاہے۔ ایسی تخلیقات محض لطف و انبساط کا ذریعہ نہیں بنتیں بلکہ بچوں کی ذہنی تربیت میں بھی موثر کردار ادا کرتی ہیں۔مثال دیکھیے:
دیکھو بچو! یہ ہے پٹنہ
بھارت کا اک شہر پرانا
شہر، کہ جو تھا پاٹلی پترا
’مورا بنسی‘ راجاؤں کا
شہر، کہ جس میں چانک نے بھی
شاسن کی اک جوت جگائی
شہر کہ جس میں شاد نے چھیڑے
سازِ غزل پر دل کش نغمے
شہر کہ جس کی خاک سے اٹھّے
کتنے عالم، شاعر کتنے
شہر وہ، آؤ آج دکھائیں
تم کو اس کی سیر کرائیں
روپ پرانا دیکھو پہلے
رنگ نیا پھر دیکھنا آگے
دیکھو، یہ ہے پٹنہ سٹی
نوّابوں کی اُجڑی ڈیوڑھی
صبحِ بنارس صبح تھی اس کی
شام بھی اس کی شام اودھ تھی
وقت نے لی اک کروٹ ایسی
ڈوبی جیسے نبضِ ہستی
چاروں طرف ہے اب ویرانی
ماضی اب ہے ایک کہانی
غفلت کا انجام یہی ہے
صبح یہی ہے شام یہی ہے
روپ نیا اب اس کا دیکھو
علم و ہنر کی عظمت سمجھو
لان کا یہ میدان ہے، بچو!
پٹنے کی یہ شان ہے، بچو!
باپو کا استھان بھی یہ ہے
میلوں کا میدان بھی یہ ہے
گول گھر اب ہے سامنے، دیکھو
اوپر چڑھ کر زینے گن لو
غلے کا بھنڈار کہو تم
روشن مینار کہو تم
چند قدم پر جادو گھر ہے
جس کے اندر ایک نگر ہے
گوتم کی یہ مورت دیکھو
راجاؤں کی صورت دیکھو
برتن ہیں یہ گپت سَمَے کے
آئے ہیں یہ نالندہ سے
دیگھا کا یہ گھاٹ بھی دیکھو
گنگا کا یہ پاٹ بھی دیکھو
بچے، بوڑھے، نر اور ناری
اس کے روپ پر سب ہیںواری
آؤ، بچو! لوٹ چلو اب
تھوڑی دیر آرام کرو اب
(پٹنے کی سیر)
یہ نظم بچوں کے لیے نہایت سادہ اورپُر لطف انداز میںپیش کی گئی ہے۔ شاعر بچوں سے براہِ راست بات کرتا ہے اور انھیں پٹنہ شہر کی سیر کراتا ہے۔ اس لیے نظم پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے ہم واقعی شہر گھوم رہے ہوں۔ مشکل الفاظ یا ناقابلِ فہم باتیں نہیں ہیں بل کہ وہی باتیں ہیں جو ایک بچہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ نظم میں پٹنہ کی پرانی تاریخ بھی بتائی گئی ہے جیسے پاٹلی پتر، موریا دور، چانکیہ اور شاد عظیم آبادی کا ذکرملتا ہے مگر اس طرح کہ بچے بوریت کا شکار نہ ہوجائیں۔ شاعر بتاتا ہے کہ یہ شہر علم، ادب اور تہذیب کا مرکز رہا ہے اور یہاں بہت سے عالم اور شاعر پیدا ہوئے۔ ساتھ ہی وہ یہ سبق بھی دیتا ہے کہ غفلت کی وجہ سے شہر کی پرانی شان کم ہو گئی جو بچوں کے لیے ایک پیغام ہے۔ اس کے بعد شاعر پٹنہ کے موجودہ روپ کو دکھاتا ہے۔لان کا میدان، گول گھر، عجائب گھر، گاندھی جی کا استھان اور دیگھا گھاٹ، گنگا کا پاٹ۔ نظم کی ایک نمایاںخصوصیت یہ ہے کہ ماضی اور حال کا تقابل بھی نہایت لطیف پیرایے میں کیا گیا ہے۔یہ تمام امور بچوں کی دل چسپی بڑھاتے ہیں اور ان کے ذہن میں شہر کا ایک تصویری نقش بنا دیتے ہیں۔ زبان رواں اور بات چیت کے انداز میں ہے۔یہ ایک ساتھ معلومات بھی فراہم کرتی ہے اور لطف بھی پہنچاتی ہے۔ اِس نظم میں شامِ اودھ اور صبحِ بنارس جیسی ترکیبوں کے استعمال سے اردو کی تہذیبی فضا کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اکیسویں صدی میں بچوں کی شاعری کی زبان پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات لازماً پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قدیم دور کی شاعری اور عہدِ حاضر کی شعری تخلیقات کے موضوعات اور اسی طور پر اس کی زبان میں نمایاں فرق ہوگا۔ بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ بچوں کی دنیا بھی بدل چکی ہے۔ آج کے بچے ایک ایسی فضا میں سانس لے رہے ہیں جہاں تفریح اور معلومات کے بے شمارنئے ذرائع موجود ہیں۔ ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنِٹ اور دیگر الیکٹرانک آلات بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ قدیم شعرا کے عہد میں نہ اس نوعیّت کی سہولتیں دستیاب تھیں اور نہ ہی اس دور کے بچوں کی دل چسپیاں اس جہت سے نمایاں تھیں، اس لیے اس زمانے کے بچوں کی شاعری کے موضوعات بالکل مختلف تھے۔ اس کے برعکس اکیسویں صدی کے شعرا نے بچوں کی بدلتی ہوئی نفسیات اور ان کے نئے مشاغل کو بہ خوبی سمجھا اور اپنی شاعری میں ان جدید موضوعات کو جگہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے بچوں کی شاعری میں نئی دنیا کی جھلک صاف طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے عہد کے بیش تر شعرا نے بچوں کی زبان اور ذہن کے مطابق ان جدید موضوعات کو برتنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ نئے لکھنے والوں میں ڈاکٹر عادل حیات کا نام خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ وہ بچوں کے ایک اہم اور باخبر شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ٹی وی، کمپیوٹر، ٹرین، انٹرنِٹ جیسے موضوعات نہایت سادہ، رواں اور بچوں کی زبان میں پیش کیے گئے ہیں جن سے بچے نہ صرف لطف اندوز ہوتے ہیں بل کہ اپنے گرد و پیش کی نئی دنیا کو بھی شاعری کے ذریعے سمجھنے لگتے ہیں۔عادل حیات کی نظموں سے چند مثالیں ملاحظہ کریں:
دیکھو کیسا دور ہے آیا
جادو بن کر جگ میں چھایا
الفت ہے اور راحت اس میں
ہے دنیا کی دولت اس میں
فلمیں اس میں اور اخبار
صبح سویرے دیکھ لو یار
میرے بچّے! میری جان!
ہو چاہے جو بھی عنوان
بٹن دباتے مل جاتا ہے
چہرہ سب کا کھل جاتا ہے
جیسا جو کوئی چاہے گا
ویسا سب کچھ مل جائے گا
بھرتا ہے یہ سب کا پیٹ
کہلاتا ہے انٹرنیٹ
سن لے عاطف! سن لے زید!
ڈبّے میں ہے دنیا قید
(انٹرنیٹ)
یہ چھوٹا سا ڈبّا بڑا کار آمد
نہیں کرنی پڑتی ہے جس کی خوشامد
کہ چھوٹے سے ڈبّے میں دنیا سجی ہے
یہاں سے وہاں دھوم جس کی مچی ہے
سمیٹے ہے سب کچھ یہ اپنی نظر میں
ضروری ہوا زندگی کے سفر میں
کہ ہوتے ہیں اس میں کئی ایک چینل
جو رہتے ہیں بن کر سدا ایک پینل
بڑا کام ہے اُس میں ریموٹ کا بھی
سدا بن کے لگتا ہے جو اُس میں چابی
دباتے ہی ریموٹ روشن کرے گا
کئی ایک پردے پہ منظر بھرے گا
جو چاہو گے دیکھوگے تم اس میں عاقب
بہت کچھ ملے گا تمھیں بھی تو ثاقب
جو چاہو گے کرکٹ کا میدان ہوگا
سنیما کا بھی گھر میں طوفان ہوگا
کہیں پر جو نیتا کی تقریر ہوگی
تو ٹی وی میں اس کی بھی تفسیر ہوگی
کہیں پر سمندر کا ہوگا کنارا
کہیں باغ پھولوں کا سندر نظارا
ہمیشہ یہ سرکس دِکھائے گا بچو!
ہر اک کے دلوں کویہ بھائے گا بچّو!
مگر بچ کے ا س سے ہمیشہ ہی رہنا
ہوَس دیکھنے کی زیادہ نہ کرنا
جو ٹی وی تم اکثر ہی دیکھا کرو گے
سبق اپنا کس طرح پورا کروگے
(ٹی وی)
یہ دونوں نظمیں اکیسویں صدی کے بچوں کی شاعری میں زبان اور موضوع کے نئے رجحانات کی خوب صورت مثالیں فراہم کرتی ہیں۔ شاعر نے جدید عہد کی اہم ایجادوں انٹرنِٹ اور ٹی وی کو بچوں کی روزمرہ زندگی کے تناظر میں نہایت سادہ، رواں اور دل چسپ انداز میں پیش کیا ہے جو بچوں کی زبان اور ذہنی سطح سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ نظم ’انٹرنِٹ‘ میں شاعر نے اس نئی ٹیکنالوجی کو بچوں کے لیے ایک جادوئی دنیا کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ ’بٹن دباتے مل جاتا ہے‘ اور ’ڈبّے میں ہے دنیا قید‘ جیسے مصرعے بچوں کے مشاہدے اور تجربے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہاں زبان نہایت آسان،اور مکالماتی ہے جس سے نظم بچوں کو اپنی ہی بات لگتی ہے۔ شاعر نے انٹرنِٹ کے فوائد کو دل کش انداز میں بیان کیا ہے اور اسے معلومات اور سہولت کا ذریعہ بتایا ہے جس سے بچوں کی تجسّس پسند فطرت کو تسکین ملتی ہے۔ اسی طرح نظم ’ٹی وی‘ میں ٹیلی ویژن کی افادیت اور کشش کو بچوں کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ ریموٹ کو ’چابی‘ کہنا، مختلف چینلوں، کرکٹ، سنیما، تقریر اور قدرتی مناظر کا ذکر کرنا بچوں کی دل چسپی اور توجّہ کو قائم رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ نظم میں منظر نگاری کے ذریعے بچوں کے تخیل کو بیدار کیا گیا ہے۔ شاعر نے اخلاقی پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا اور حد سے زیادہ ٹی وی دیکھنے کے نقصانات کی طرف نرم انداز میں توجہ دلائی ہے ۔ ان نظموں میں جدید دنیا کی اصطلاحات کے ساتھ ساتھ آسان زبان میں ان کی توجیہات بھی پیش کی گئی ہیں۔مجموعی طور پر یہ نظمیں اس بات کی دلیل ہیں کہ ڈاکٹر عادل حیات نے اکیسویں صدی کے بچوں کی دنیا کو گہرائی سے سمجھا ہے۔ زبان سادہ، رواں اور بچوں کے مزاج کے مطابق پیش کیاہے جب کہ موضوعات جدید اور عہدِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ یہی خصوصیات ان نظموں کو بچوں کی شاعری میں اہم ، موثر اور اپنے عہد کے اعتبار سے موزوںبناتی ہیں۔ اِس طرح بچوں کی شعری زبان اور موضوع دونوں اعتبار سے عادل حیات کی نظمیں اپنے عہد کی عکاسی کرتی ہیں اور بچوں کے مزاج اور دل چسپی سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔
ایک طرف جہاں نئی دنیا اپنے قدم جما رہی ہے اور ٹی وی، کمپیوٹر، گلوبل وارمنگ جیسے موضوعات بچوں کی شاعری کا حصہ بن رہے ہیں، وہیں دوسری جانب بزرگوں کی روایت کی پاسداری کرنے والے شعرا بھی موجود ہیں جو ادبِ اطفال کی تہذیبی اساس کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ ان شعرا کی زبان و بیان بچوں کی نفسیات اور ادبی سطح سے پوری طرح ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ شبنم کمالی کا نام اسی فہرست میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ لیا جاسکتا ہے۔ وہ بنیادی طور پراگرچہ نعت گو ہیں مگر ان کی بچوں کی شاعری میں بھی وہ موضوع اور مزاج کا حق ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے بچوں کے لیے متعدد ایسی نظمیں تخلیق کی ہیں جو اخلاقی اعتبار سے گراں قدرہیںاور ادبِ اطفال کی روایت سے بھی مکمل طور پر وابستہ نظر آتی ہیں۔مثلاً ’علم و ادب کو دولت مولا مجھے عطا کر‘، ’علم کی باتیں‘، ’ماں کی نصیحت‘، ’جھوٹ پر اللہ کی لعنت‘، ’ماں باپ کی اطاعت‘ اور ’وقت کی قدر‘ جیسی نظمیں قابلِ ذکر ہیں۔ان نظموں میں شاعر نے زبان کا انداز نہایت نرم، سادہ اور ملائم رکھا ہے تاکہ بچوں کے لیے وہ بوجھل یا بوریت کا سبب نہ بنیں۔ تاہم اس سادگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ زبان کو سطحی بنا دیا جائے یا اظہار میں کم مائیگی پیدا ہو جائے۔ بچوں کی سطح پر اترنے کے باوجود شبنم کمالی کے یہاں لفظیات کا معیار بلند نظر آتا ہے۔ انھوں نے شاعری میں نہ صرف زبان کی شائستگی کو برقرار رکھا ہے بلکہ سطحی اور غیر معیاری الفاظ کے استعمال سے بھی اجتناب کیا ہے۔ اسی تناظر میں ان کی ایک نظم ’علم‘ ملاحظہ کیجیے:
علم وہ دولت ہے جس کو آ نہیں سکتا زوال
رہ زنِ علم و عمل ہو کوئی ،ہے امرِ محال
علم ہی سے جانتا ہے آدمی فطرت کا حال
علم ہی سے آدمیت پاتی ہے رنگِ کمال
کامیابی دین و دنیا کی اُسے ممکن نہیں
علم کو بخشا ہو جس نے درجۂ خواب و خیال
بیل بوٹے، پھول و پھل دنیا میں کیو ںپیدا ہوئے
ایک جاہل یہ بتا سکتا ہے، کیا اُس کی مجال
ناز ہے دولت پہ جن کو ان سے کہہ دو دوستو!
مال و زر فانی ہے لیکن علم مالِ لازوال
ہے جہالت جن کی پونجی، ہیں وہ نابیناے قوم
اُن کے آگے ہر طرف شیطان پھیلاتا ہے جال
سچ تو یہ ہے مقصدِ تخلیق ہے علم و عمل
علم ہی دیتا ہے انساں کو حقیقت میں جمال
علم کی کچھ قدر ہی جانی نہ تونے میرے دوست
رو رہا ہے دیکھ کر شبنم تری غفلت کا حال
(علم)
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ شبنم کمالی بچوں کے لیے شعرکہتے وقت محض وعظ و نصیحت پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس بات کا خاص اہتمام کرتے ہیں کہ زبان کی جمالیات بھی برقرار رہے۔ ان کی نظموں میں سادگی کے ساتھ ساتھ معنوی گہرائی پائی جاتی ہے جن سے بچوں کی فکری اور لسانی تربیت بھی ممکن ہے۔ درج بالا نظم میں دیکھا جائے تو عام یا سطحی قسم کے الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ بچے جب علم کی قدر و قیمت سمجھنے کے لائق ہوجاتے ہیں تو اُن کی لفظیات میں غیر معمولی اضافے کی گنجایشیں بھی بڑھ جاتی ہیں اور ویسی شاعری جنھیں ہم تعلیمی اصطلاح میں نرسری رائمس کہتے ہیں، سے آگے جا کر نئے نئے معنیٰ کی تلاش بھی کرتے ہیں اوراُن کی زبان اور سوچ پہلے کے مقابلے قدرے مشکل الفاظ سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ شبنم کمالی نے اُسی سطحِ ذہن کو ملحوظ رکھ کر ’علم‘ جیسی نظم رقم کی ہے۔ اِس نظم میں علم کی قدر و قیمت کو سمجھاتے ہوئے بچوں کی لفظیات میں اضافے کی بھی تربیت نظر آتی ہے۔ ’امرِ محال‘، رنگِ کمال، درجۂ خواب و خیال، مالِ لازوال،نابیناے قوم جیسی ترکیبیں اِس نظم کا حصّہ ہیں جن سے واضح ہوتا ہے وہ بچوں کی شاعری کو محض عمومی زبان تک محدود نہیں رکھتے بل کہ بچوں کو ایسی ترکیبوں سے بھی روشناس کراتے ہیں جوعام بچوں کی شاعری سے قدرے مختلف ہو۔
مذکورہ مثالوں سے عہدِ جدید میں جو شعری سرمایہ تخلیق ہوا، وہ زبان کے اعتبار سے ہم آہنگی کی پُر اعتماد مثال ہے۔ اصل میں بچّوں کے ادب کی طرف ایسے ہی مصنّف آتے ہیں جن میں بچّوں کی نفسیات کو سمجھنے اور بچّوں کے لیے معقول زبان استعمال کرنے کی واضح صلاحیت رہتی ہے۔ اِسی لیے بچّوں سے متعلّق اِس دَور کا سارا سرمایۂ ادب زبان اور موضوع کے اعتبار سے نہایت موزوں ہے اور جس عمر کے بچّوں کے لیے وہ تخلیق لکھی جا رہی ہے، اُس کے مطابق شعرا نے الفاظ گڑھے اور اُسی اعتبار سے موضوع کی پیش کش میں منطق بھی پیدا کی۔ اکثر شعرا کے یہاں اُن کی عمومی شاعری جو بڑوں کے لیے ہوتی ہے، اُس کے مقابلے میں بچّوں کے لیے پیش کردہ تخلیقات کی زبان اور اُس کے موضوعات میں بھی ایک مطابقت پذیری رہتی ہے۔ بچّوں کی شاعری کی زبان تراشنے میں اکثر شعرا سے یہ بھول نہیں ہوئی کہ وہ اپنی عمومی زبان کو آزما لیں۔ اِس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شعراے کرام نے بچّوں سے متعلق ادب کی تخلیق میں زبان کی وہی سطح آزمانے کی کوشش کی جس کے لیے وہاں ضرورت تھی۔ یہ ضرور ہے کہ کہیں کہیں کچھ مشکل الفاظ، نا مانوس تراکیب اور افہام و تفہیم کے لیے گنجلک بیانیہ بے ارادہ تیّار ہو جاتا ہے۔ یہ تخلیق کی رَو میں شاعر سے تصوّرات کی دنیا میں سیر کرنے کے مرحلے میں کبھی کبھی ممکن ہو جاتا ہے مگر وہاں بھی یہ دلیل ہمارے پیشِ نظر ہوتی ہے کہ شاعر نے بچّوں کے لیے مخصوص سرمایۂ الفاظ سے دو چار قدم آگے بڑھنے کا راستا کہیں اِس لیے بھی چنا ہو کہ وہ اُن بچّوں کے مستقبل کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے زبان کی اگلی دنیا سے اُنھیں روشناس کرانا چاہتے ہوں۔ بے شک اچھا تخلیق کار عہدِ حاضر کی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ آنے والے وقت کے حالات کے پیشِ نظر بھی زبان اور مفہوم کی ایک نئی دنیا گڑھنا چاہتا ہے۔ اِنھی اُصولوں کی بنیاد پر اِس مضمون میں شبنم کمالی، مظفر حنفی، علقمہ شبلی، ظفر کمالی، عطاء الرحمان طارق، حفیظ کرناٹکی، محبوب راہی، غضنفر ، عادل حیات وغیرہ کی نظموں کا تجزیاتی مطالعہ بالخصوص زبان و بیان کی پیش رفت کے اعتبار سے کرنے کی کوشش کی گئی۔ اردو زبان کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے ادبِ اطفال کے معاصر اردو شعرا کی تخلیقات کا بالااستیعاب مطالعہ کیا جانا چاہیے۔
Md Marjan Ali
Research Scholar, Department of Urdu
Jai Prakash University, Chapra
Email: mdmarjanali07@gmail.com WhatsApp & Call: 9931646092


Leave a Reply
Be the First to Comment!