معاصر اُردو نظم میں ترقی پسند نظریات کے اثرات
معاصر اُردو نظم میں ترقی پسند نظریات کے اثرات
طاہرہ خاتون
ریسرچ اسکالر ، خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی ،لکھنؤ
پروفیسر ثوبان سعید
شعبۂ اردو ، خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی ، لکھنؤ
اس آنکھ سے وابستہ ہے توقیرِ بصیرت
وہ آنکھ جو رفتارِ جہاں دیکھ رہی ہے
اُردو ادب کا ہمیشہ اپنے عہد کے سماجی، سیاسی اور فکری حالات سے گہرا تعلق رہاہے۔ ادب اپنے زمانے کے مسائل، رجحانات اور انسانی تجربات کا آئینہ دار رہا ہے۔ اُردو شاعری خصوصاً نظم نے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے موضوعات اور اسلوب میں وسعت پیدا کی۔ بیسویں صدی میں ترقی پسند تحریک نے اردو شاعری کو نئے موضوعات، نئے رجحانات اور نئے فکری شعور سے روشناس کرایا۔ اس تحریک نے ادب کو حسن و عشق کے محدود دائرے سے نکال کر سماجی شعور، انسانی مسائل اور زندگی کی حقیقی صورت حال کا ترجمان بنایا۔ آج ترقی پسند تحریک بطور تنظیم اپنی سابقہ صورت میں موجود نہیں رہی، تاہم اس کے نظریات معاصر اردو نظم میں مختلف شکلوں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ معاصر نظم میں انسان دوستی، سماجی انصاف، احتجاج، طبقاتی شعور اور مظلوم طبقات کی ترجمانی جیسے عناصر ترقی پسند فکر کے واضح اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز اپریل ۱۹۳۶ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد ادب کو زندگی کے مسائل سے جوڑنا اور معاشرے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ اس تحریک نے شاعری کو سماجی حقیقت نگاری سے قریب کیا اور ظلم، استحصال، طبقاتی نابرابری اور انسانی آزادی جیسے موضوعات کو فروغ دیا۔ ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس لکھنؤ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت پریم چند نے کی۔ اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے ادب کی افادیت اور مقصدیت کو واضح کرتے ہوئے کہا:
” جس ادب سے ہمارا ذوق صحیح بیدار نہ ہو۔ روحانی اور ذہنی تسکین نہ ملے ، ہم میں قوت اور حرارت نہ پیدا ہو ہمارا جذبہ حسننہ جاگے جو ہم میں سچا ارادہ اور مشکلات پر فتح پانے کے لئے سچا استقلال نہ پیدا کرے وہ آج ہمارے لیے بیکار ہے اس پر ادب کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ادب ہماری زندگی کو فطری اور آزاد بناتا ہے۔۔۔”
اور ان کے یہ الفاظ ترقی پسند فکر کا خلاصہ سمجھے جاتے ہیں:
” ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا۔”
ترقی پسند تحریک کے نظریات نے اردو نظم کے مواد اور اسلوب دونوں کو متاثر کیا اور اسے زندگی کے مسائل کے اظہار کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ اس حوالے سے آل احمد سرور نے اپنی کتاب “نئے اور پرانے چراغ” میں ترقی پسند فکر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
“ادب تاریخ ،فلسفہ یا ساینس نہیں ادب ہے مگر آج اسے زندہ ،ہمہ گیر اور پرکار رکھنے کے لیے ضرورت ہے کہ ہمارے شاعر اور ادیب شاعری اور نثر نگاری کو محض ایک شریں دیوانگی ایک جنونی کیفیت ایک ماورائی طاقت نہ سمجھیں اس کی سماجی اور اجتماعی پہلو پر نظر رکھیں۔”
(ص،۲۷۷)
اسی طرح اختر حسین رائے پوری نے اپنی تصنیف “ادب اور انقلاب ” میں ترقی پسند نظریات کو یوں بیان کیا ہے:
“ادب کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ ان جذبات کی ترجمانی کرے جو دنیا کو ترقی کی راہ دکھالائیں ان جذبات پر نفریں کرے جو دنیا کو آگے نہیں بڑھنے دیتے اور پھر وہ انداز اختیار کرے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کی سمجھ میں آ سکے کیوں کہ بہرحال زندگی کا مقصد یہی ہے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا زیادہ سے زیادہ بھلا ہو سکے۔”
(ص ٢، ۲۸)
معاصر اردو نظم سے مراد آزادی کے بعد خصوصاً بیسویں صدی کے آخری حصے سے لے کر عہد حا ضر تک کی نظم ہے۔ اس دور میں شاعر نے بدلتے ہوئے سماجی اور سیاسی حالات کو موضوع بنایا ہے۔ جدید شہری زندگی، معاشی ناہمواری، جنگ، دہشت گردی، طبقاتی کشمکش اور انسانی بحران جیسے مسائل معاصر نظم کے اہم موضوعات ہیں۔ ترقی پسند فکر نے نظم کے مواد اور اسلوب دونوں کو متاثر کیا اور اسے زندگی کے مسائل کے اظہار کا مؤثر ذریعہ بنایا۔معاصر اردو نظم میں ترقی پسند افکار کے فروغ میں فرحت احساس، افتخار عارف، مہتاب حیدر، شکیل اعظمی، سید حیدر رضوی، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید اور شمیم انور جیسے شعرا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان شعرا کی نظموں میں سماجی ناانصافی کے خلاف احتجاج، طبقاتی شعور، انسانی آزادی اور مظلوم طبقات کی ترجمانی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ سماجی ناانصافی اور استحصالی نظام کے خلاف احتجاج شمیم انور کے اشعار میں اس طرح ظاہر ہوتا ہے:
تم نے ہمارے چہرے چھین لیے ہیں
تاکہ ہماری پہچان مٹ جائے
ہماری انگلیاں تراش لی ہیں اور صرف انگوٹھے چھوڑ دیے ہیں
تاکہ ہم صرف تمہاری مشینوں کے بٹن دبا سکیں
ہمارے پیر کاٹ لیے ہیں اور ان کی جگہ چکے باندھ دیتے ہیں
تاکہ ہم ہمیشہ گردش میں رہیں
ہمارے پیٹ گروی رکھ لیے ہیں اور راشن صرف زندہ رہنے کے لیے دیتے ہیں، پیٹ بھرنے کے لیے نہیں
ہمارے بدن اس لیے ننگے نہیں ہیں کہ ہم ہر موسم کے عادی ہیں
بلکہ ہمارے کپڑے چھین لیے گئے ہیں، ہماری آنکھوں پر وہ عینک چڑھا دی گئی ہے
جو اڑیل گھوڑوں کی آنکھوں پر باندھی جاتی ہے تاکہ وہ دائیں بائیں نہ دیکھ سکیں۔
اسی شاعر کی نظم میں سماجی تشدد اور انسانی بے حسی کی ایک اور صورت ملاحظہ ہے:
کیا تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ
ایک اچھے بھلے شخص نے ایک اچھے بھلے شخص کو
سامنے والے فٹ پاتھ پر مار ڈالا ہے ۔
طبقاتی نابرابری اور معاشی استحصال کی تصویر سید حیدر رضوی کے اشعار میں نظر آ تی ہے:
ایک بوڑھا اسپتال میں دیتا تھا یہ صدا
ہے کوئی جو غریب کا گردہ خرید لے
مزدور کی حیات اسی کوشش میں گزگئی
اس بار اس کا بیٹا بھی بستہ خرید لے
اسی طرح معاصر نظم میں انسانی بے بسی، وجودی بحران اور زندگی کی ناپائیداری کا احساس بھی نمایاں ہے۔ فرحت احساس کے اشعار میں اس کیفیت کی ترجمانی یوں ہے:
خواب خس خا نہ و برفاب کے پیچھے پیچھے
گرمی شہر مقدر کے ستائے ہوئے لوگ
کیسی یخ بستہ زمینوں کی طرف آنکلے
میرے ثبوت بھی جا رہے ہیں پانی میں
کسے گواہ بناؤں سرائے فانی میں
معاشرتی جبر اور انسانی المیے کی تصویر مہتاب حیدر کے اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے:
ازل سے ہی دستورِ دنیا کا رہا ہے
جسے جینا تھا وہ مرنے پہ اکسایا گیا ہے
انسانی حقوق اور ظلم کے خلاف احتجاج کی آواز افتخار عارف کے اشعار میں نمایاں ہے:
ذکرِ مظلوم کو انعام میں رکھا گیا ہے
ظلم کو زمرۂ دشنام میں رکھا گیا ہے
اسی طرح معاصر نظم میں عورت کی آزادی، اظہارِ ذات، نسائی شعور اور سماجی جبر کے خلاف احتجاج بھی ترقی پسند فکر کا ایک اہم پہلو ہے۔ معاصر شاعرات نے عورت کے وجود، اس کی شناخت، اس کے حقوق اور معاشرتی پابندیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنا کر ترقی پسند روایت کو مزید وسعت عطا کی ہے۔ کشور ناہید کی نظم میں مزاحمت، احتجاج اور اظہارِ آزادی کا یہ انداز ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
ہم گونگے پن کے متلاشی ہیں
کہ تالی بجانے والے آواز استعمال نہیں کرتے ہیں
آواز، آزاد ہو تو نعرہ منصور
اور گھٹ جاتے تو حسن ناصر بن جاتی ہے
مگر گونگے چیخ تو سکتے ہیں
یہ کیوں ہے ۔ یہ کیوں ممکن ہے !!
ان اشعار میں شاعرہ نے انسانی آزادیِ اظہار، سماجی جبر اور خاموشی کے مسلط کردہ ماحول کے خلاف مؤثر احتجاج کیا ہے۔ اسی طرح صابرہ حنا نے اپنے شعر کے ذریعے عورت کی سماجی حیثیت اور مردانہ ذہنیت کے تضاد کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے:
میرے ہاتھوں میں وہ پرچم تھما کر
میرے ماتھے پہ آنچل ڈھونڈھتا ہے
یہ شعر اس معاشرتی رویّے کی عکاسی کرتا ہے جہاں عورت سے ایک طرف جدوجہد اور قربانی کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف اسے روایتی حدود میں محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسی طرح نصرت مہدی کے اشعار میں عورت کے اعتماد، خود شناسی اور عملی قوت کا اظہار نمایاں ہے:
عمل کا ردِ عمل وقت کا جواب ہوں میں
قبول کر لو مجھے قدرت کا انتخاب ہوں میں
ان اشعار میں عورت اپنی شناخت اور اپنی اہمیت کا اعلان کرتی نظر آتی ہے، جو ترقی پسند فکر کے نسائی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔عنبر عابد کا شعر بھی اسی ضمن میں قابلِ توجہ ہے:
ہم پہ جنت سے نکلوانے کا الزام سہی
گھر کو گہوارہِ جنت بھی بنایا ہم نے
یہ شعر عورت کی عظمت، اس کی قربانی اور اس کے تخلیقی کردار کو نمایاں کرتا ہے۔ شاعرہ نے نہایت مؤثر انداز میں عورت کے مثبت اور تعمیری کردار کو اجاگر کیا ہے۔ اس طرح معاصر اردو نظم میں خواتین شاعرات نے ترقی پسند نظریات کو نہ صرف قبول کیا بلکہ انہیں نئے فکری زاویوں اور عصری حسّاسیت کے ساتھ پیش بھی کیا ہے:
ازازل تا بہ ابد سارے یزیدوں کا حساب
ایک بے دفترِ بدنام میں رکھا گیا ہے
یوں معاصر اُردو نظم میں ترقی پسند نظریات نئے اسلوب اور جدید حسّاسیت کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ آج کا شاعر براہِ راست نعرہ بازی کے بجائے علامتی اور استعاراتی انداز میں سماجی مسائل، انسانی محرومی، طبقاتی کشمکش اور ظلم کے خلاف مزاحمت کو پیش کرتا ہے، جس سے معاصر اردو نظم ترقی پسند روایت کا ایک مضبوط اور زندہ تسلسل محسوس ہوتی ہے۔
ڈاکٹر یعقوب یاور اپنی تصنیف”ترقی پسند تحریک اور اردو شاعری”میں ترقی پسند تحریک کے اثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؛
“ترقی پسند تحریک کے بدولت شاعری کے مواد اور موضوعات میں رنگا رنگی کے اثار پیدا ہوئے ۔اس عہد میں اردو شاعری میں بہ لحاظ تعداد جتنے تجربات ہوےٴ وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوۓ آج اردو نظم کی جو صورت متعین ہوئی ہے اس کی نقش گری میں ترقی پسند تحریک کا بھی حصہ ہے نظم کو مقبول بنانے میں اس تحریک نے جو خدمات انجام دی ہیں ان سے انکار حقائق سے انحراف کے مترادف ہوگا۔اور نظم اپنے وجود کی نئی صورت گری اور ارتقاء کی رفتار میں تیزی کے لیے ہمیشہ ترقی پسند تحریک کی احسان مند رہے گی۔” (ص،۳۱ )
معاصر اُردو نظم میں زبان و بیان اور اسلوب کے اعتبار سے نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ معاصر نظم نگاروں نے روایتی لفظیات اور پیچیدہ اندازِ بیان کے بجائے سادہ، عام فہم زبان اختیار کی ہے تاکہ اپنے عہد کے مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔انہوں نے روزمرہ زبان، شہری زندگی کے محاورات اور عصری حسّیت کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے، جس سے نظم میں حقیقت نگاری اور معنوی وسعت پیدا ہوئی ہے۔ اسی لیے معاصر اُردو نظم زبان و بیان کے اعتبار سے سادگی، تاثیر، فکری گہرائی اور عصری شعور کا حسین امتزاج ہے۔
معاصر نظم کا اسلوب بیانیہ، علامتی اور تاثراتی ہے، جس میں داخلی کرب، سماجی بے چینی، طبقاتی کشمکش اور انسانی بحران کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ اس دور کی نظم میں علامت، استعارہ، طنز، علامتی پیرایۂ اظہار اور جدید تشبیہوں کا کثرت سے استعمال ملتا ہے۔ شاعر براہِ راست نعرہ بازی کے بجائے فکری گہرائی اور فنّی لطافت کے ساتھ اپنے خیالات پیش کرتا ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ معاصر اردو نظم پر ترقی پسند نظریات کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور یہ روایت آج بھی اردو شاعری کو زندگی کے مسائل اور انسانی اقدار سے وابستہ رکھے ہوئے ہے۔
معاون کتب
1 آل احمد سرور ، “نئے اور پرانے چراغ” 1955 سرفراز پریس لکھنؤ
2 اختر حسین رائے پوری، “ادب اور انقلاب” 1943 ادارہ اشاعت اردو حیدرآباد
3 قمر الہدی فریدی “معاصر اردو ادب”2007 یونیورسٹی پریس اے ایم یو علی گڑھ
4 فرحت احساس ، “میں رونا چاہتا ہوں” 2003 ساہتہ اکادمی دہلی


Leave a Reply
Be the First to Comment!