یٰسین احمد کے افسانوں میں عورتوں کے مسائل

یٰسین احمد کے افسانوں میں عورتوں کے مسائل

محمد ارشاد عالم

 ریسرچ اسکالر: تلنگانہ یونیورسیٹی ، نظام آباد،تلنگانہ

ای میل:mdirshadalam1199@gmail.com

موبائل : 8978630112

 یوں تو تقریبا ہر افسانہ نگار نے عورتوں کے مسایل پر افسانے اور مختصر افسانے تحریر کئے ہیں ،خواہ ماضی کے افسانہ نگار ہو یا حال کے ۔اور ان افسانوں کے ذریعہ انھوں نے نسائی مسائل کے مختلف پہلو و ں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جیسے بچپن کی شادی ، ازدواجی زندگی کی تلخیاں ، ساس اور نند کے مسائل ،ماں کے ساتھ بدسلوکی ،وغیرہ وغیرہ ۔ اگر ہم دور حاضر کی بات کریں تو دور حاضر کے مختصر افسانہ نگاروں میں ایک نام یٰسین احمد کا بھی ہے ، جنھوں نے خواتین کے مختلف مسائل کی نہ صرف نشاندہی کی ہے ۔ بلکہ عورتوں کے کرب آمیز زندگی کی جھلکیاں اور پیچیدہ حقائق پر روشنی ڈالی ہے۔

 یٰسین احمد صاحب کی پیدائش سر زمین حیدرآباد میں ۲۵ ستمبر ۱۹۴۶ ؁ ء میں ہوئی۔ اور تعلیم پی یو سی تک حاصل کی ۔ دوران حصول تعلیم سے آپ نے کہانیا ں لکھنا شروع کیں، رفتہ رفتہ لکھتے گئے ۔ افسانہ نگار ی میں نکھار پیدا ہوتا گیا ، لکھنے کا اشتیاق اور ذوق مطالعہ نے آپ کی صلاحیتوں میں مہمیز پیدا کی ۔ آج بحیثیت افسانہ نگار آپ کی حیثیت مسلم ہے ۔ ’’گم شدہ آدمی ، سلاٹر ہاوس ، یہ کیا جگہ ہے ، دھار ، شکستہ جذبے اور سایوں بھرا دالان ‘‘کے نا م سے آپ کے اب تک ۶ افسانوی مجموعے شا یع ہو کر ادبی حلقوں میں پذیرائی بھی حاصل کر چکے ہیں۔

 یٰسین احمد کے افسانے موضوعاتی تنوع کے غماز ہیں ۔ آپ کے بیشتر افسانوں میں اپنے معاشرے اور معاشرت کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں ۔ ازداجی زندگی کی دھوپ جھاوں ،عورت مرد کی نفسیات ، خواتین کے مسائل و معاملات وغیرہ کو آپ نے اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے ۔ اور خصوصا نسائی مسائل کو حتی الوسع اجا گر کرنے کی کوشش کی ہے ۔وہ عورت جس کا گھر بار نہیں، کوئی سہارا نہیں ، غریبی کی وجہ سے فٹ پاتھ پر سوتی ، کڑکتی جاڑے میں بھی ہم ان کی قدرے خیال نہیں کرتے اور نہ ہی حکومت اس کا کچھ خیال کرتی ہے،وہ کس طرح سے اپنی زندگی گزارتی ہے ۔ یٰسین احمد نے اس طرح کی نسائی زندگی کے اضطراب آمیز لمحات اور کرب انگیزی کے اثرات کی عکاسی اپنے افسانہ ’’پن‘‘ میں کچھ یوں کی ہے ۔

’’ سرکاری زچگی خانے سے کچھ دور تین چار آدمی ردی اور لکڑی کے ٹکڑے جلا کر اپنے ہا تھ تاپ رہے تھے ، ان میں ایک کمزور سی بوڑھی عورت شامل تھی جو آگ سے قریب بیٹھنے کے باوجود تھر تھر کانپ رہی تھی ۔ ‘‘(۱)

 چند سطور کے بعد ایک دوسری ایسی بے گھر غریب عورت کی زندگی کی منظر کشی کی ہے جو اپنی گود میں اولاد کودیکھ دیکھ کر اپنی تما م تر تکالیف کو بھولنے کی کوشش کرتی ہے اور اپنی بے بسی کو دلاسہ دیتی ہے ۔

’’ وہیں پر ایک عورت نظر آئی ۔ جو میلی کچیلی ساڑی میں ملبوس اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی ۔ پل کے نیچے بہتا ہو ا پانی اور دور تک پھیلے ہوئے درختوں کی وجہ سے سردی میں اور اضافہ ہو گیا تھا ۔ سرد ہو اوں کے تھپیڑے اس عورت کے کمزور جسم سے ٹکرا رہے تھے ۔ لیکن اپنے نو زائیدہ کو بالیدگی بخشنے کی لا زوال جستجو میں سارے احساسات کو بھلا بیٹھی تھی ۔ْ‘‘ (۲)

 یٰسین احمد نے خواتین کے صرف ایک پہلو پر ہی بات نہیں کی ہے بلکہ نسائی مسائل کے مختلف جہتوں پر افسا نے لکھے ہیںاور ان افسانوں سے انقلاب آفریں اور قلوب و اذہان کو جھنجھوڑ نے والا پیغامات ملتے ہیں ۔وہ خواتین جن کی اولاد رہتے ہوئے بھی بے سہارا ہیں ۔ او رووہ شکم پروری کے لئے گھر گھر جا کر ملازمت کرتی ہیں، مکمل جفا کشی کے ساتھ گھروں کے کا م کاج کرتی ہیں ، لیکن کما حقہ انہیں معاوضہ بھی نہیں ملتا ہے ۔ یٰسین احمد نے ایسے نسائی معاملات کا بھی بخوبی احساس دلایا ہے ، ایک امنی نامی بیوہ خاتون ہے ، جس کا ایک بیٹا ہے ، بیٹے کی شادی دلانے کے بعد اب بیٹا سسرال میں رہنے لگتا ہے ۔ ماں اکیلی مصیبتوں کا سامنا کرتے ہوئے گھر میں رہتی ہے ، رفتہ رفتہ گھر میں غریبی آنے لگتی ہے ، اب رہنے کے لیے گھر نہیں ، کھانے کے لئے کھانا نہیں ، گھروں میں جا جا کرپڑوسیوں کے کام کرتی ہے ۔لیکن کاموں کی مناسبت سے انہیں ٹھیک معاوضہ بھی نہیں ملتا ہے۔ اس کے با وجود بھی ان کاموںکو خندہ پیشانی سے انجام دیتی ہے ۔فقط اس لئے کہ اسے دو وقت کی روٹی مل جا ئے ، رہنے کے لئے دو گز زمین مل جائے ۔ ایسے کرب آمیز سسکیوں کا احسا س دلاتے ہو ئے یٰسین احمد صاحب ’’امنی‘‘ نامی افسانہ میں رقم طراز ہیں ۔

’’وہ چپ چا پ اپنے کام میں مشغول ہوجاتیں ۔ حالانکہ سوئی دھاگے کی آنکھ مچولی میں آنکھوں میںپانی آنے لگتا تھا ۔ لیکن ماتھے پر ایک شکن بھی نہیں دکھائی دیتی تھی ۔یہ سب کچھ کرنے کے بدلے میں امنی کو کیا ملتا تھا ؟ و وقت کا کھا نا اور چا ئے ۔ گھر کے گوشے میں تھوڑی سی جگہ ۔۔۔۔

جہاں وہ اپنے ہو نٹ بند اور آنکھیں کھلی رکھ کر کارو بار دنیا دیکھتی رہتیں ۔ ‘‘ (۳)

 اسی افسانے میں ماں کے ساتھ اولاد کی بے مروتی اورلا پرواہی کے بارے میںیٰسین احمد صاحب لکھتے ہیں۔

’’ بیٹے نے بھی کبھی ماں کو اپنے ساتھ رہنے کے لیے مجبور نہیں کیا تھا ۔ دو ما ہ یا تین ماہ میں وہ امنی کا میڈیکل چیک اپ کراتا اور دوائیں دلادیتا تو سمجھ لیتا کہ اس نے دودھ کی قیمت ادا کردی ہے ۔ ‘‘ (۴)

 یٰسین احمد نے اپنے افسانے ’’سایوں بھرا دالان ‘‘میں ان مالدار ہوس پرست افراد کی حقیقت کو پیش کی ہے ۔ جن کے گھر میں قبول صورت ملازمہ رہتی ہے ،لیکن وہ ہوس پرست افراد اسے اپنے جنسی جذ بے کی تسکین کے لئے اپنی ہوس کا شکار بنا لیتے ہیں۔ باسکیٹ بال چمپیئن جواب پیروں سے معذور ہیں ان کی دیکھ بھال کے لئے امریکہ میں مقیم ان کی بہن نے جولیا نامی ایک ملازمہ کو متعین کی ہے۔ جولیا اپنا فریضہ اچھی طرح سے انجام دیتی ہے ۔ جو لیا کے باتوں میں وہ اپنا ئیت محسوس کرتا ہے ۔ جو لیا کا حسن بر تا واور ہمد ردانہ سلوک اسے اچھا لگنے لگتا ہے اور اب جو لیا کے بھر ے بھرے جسم کو بری نظر وں سے دیکھتا ہے۔ جنسی جذبے کی تسکین کے لئے قبول صورت جو لیا کو وہ گھور تے رہتا ہے ۔ ایک مرتبہ بارش ہور ہی ہوتی ہے ۔ جولیا کا جسم بارش سے بھیگ جاتا ہے جب جولیا دالان میں آتی ہے تو اس کے بھیگے ہوئے جسم کو وہ ہوس پرست بری نظروں سے دیکھتا ہے۔ یٰسین احمد نے اس کی منظر کشی کچھ اس طرح کی ہے

 ’’اس کمرے میں داخل ہوکر جولیا نے سوئچ آن کیا لیکن دروازہ بند نہیں کیا پہلے اس نے اپنی بھیگی بھیگی زلفوں کو ہیر ہینڈ کی گرفت سے آزادکیا اور پھر بالوں کو خشک کرنے لگی ۔ اس کے بعد اس نے اپنا سکریٹ اتاراتھا اور تولیہ سے جسم کا پانی پونچھنے لگی تھی ۔ مہین پردے اور برقی قمقمے کی تیز روشنی میں اس کے بدن کےسارے پیچ وخم دکھائی دے رہے تھے ۔ میں نے اپنی نگاہ دوسری طرف پھیر لی کہ عور ت میرےلئے ایک بے معنی شئے بن کر رہ گئی تھی ۔ ‘‘ (۵)

 جب ایک عورت کا جنسی استحصال ہونے لگتا ہے ۔ تو اس عورت کا سماج میں اور ایسے ہوس پرست افراد کی بیچ زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اورایک دن وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ یٰسین احمد نے اپنے افسانہ ’’ ہتھیا ر ‘‘ میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک عورت جب گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے کن کن حالات سے سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ ایک عورت نوکری کی تلاش میں شہر کا رخ کرتی ہے ۔ غیر آبا د رامائن پیٹھ ریلوے اسٹیشن آتی ہے اور کا ونٹر سے شہر کا ایک ٹکٹ نکال کر ٹرین کا انتظار کرتی ہے ۔ پتہ چلتا ہے کہ ٹرین تاخیر ہے وہ ویٹنگ ہال میں آجاتی ہے کہ رات کی تاریکی چاروں اور چھا جاتی ہے ایک بد معاش اپنی ہوس ناک نظروں سے اسے گھورتا ہے۔ اور اس کی عزت کو داغدار کرنے کی جستجو کرنے لگتا ہے۔اور اب۔۔۔

’’ عورت کو تنہائی ، نہتے پن اور بے بسی کا احساس شدت سے ہو نے لگا ۔ عورت نے سسکنا شروع کردیا اور پچھلی طرف کسکنے لگی ۔ اس کی ہمت جواب دے چکی تھی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اچانک نہ جانے کیا خیال اس کے دماغ میں آیا، اس نے سسکنا بند کردیا اور چلا کربولی ’’ ایک نہتی عورت کو دیکھ کر تیری ہوس جاگتی ہے ۔ آ، قریب آ اور کرلے جو کرنا ہے میں دیکھوں گی تو کتنا مرد ہے ۔۔۔!‘‘

یہ کہتے ہو ئے عورت نے اپنے بلاوز کے دو تین بٹن جھٹکے سے توڑدیئے۔ اپنے جسم سے بندھی ہوئی ساڑی کھینچ کر ایک طرف پھینک دی ۔اب وہ نیم برہنہ حالت میں اس کے سامنے کھڑی تھی ۔بس ایک لمحہ ، ایک پل ، بلکہ وقت کے اقل ترین حصہ تک وہ عورت کوگھورتا رہا اور یک بیک اس کے چہرے کی شیطانی مسکراہٹ کافور ہوگئی اورآنکھیں یو ں پھیل گئیں جیسے کوئی زہریلا ، ان دیکھا ہتھیار اس کے دل کی نازک رگوں میں دور تک دھنس گیا ہے ۔ وہ تیزی سے پلٹا اور یوں باہر نکل گیا جیسے خدشہ رہا ہو کہ ایک لمحہ بھی وہاں رکا رہا تو پتھر کا بن جائے گا ‘‘ ۔ (۶)

نسائی افکار و اطوار نیز نفسیات کو کہانی میں ڈھالنا اور موضوع کے ساتھ حسن برتاو میں یٰسین احمد نے چابک دستی سے کام لیا ہے ۔ عورتوں کی عزت و احترام، مذہبیات و اخلاقیات تو ہے مگر اس کی فطری جبلت کو سمجھنا اور ایک انسان کے طور پر اس کے ساتھ سلوک روا رکھنا دوسری بات ہے ۔ صرف اور صرف جنسی نقطہ نگاہ سے عورت کے وجود کو آنکنا ، ہوس کی تکمیل کے لئے اس کاستعمال کہاں تک روا ہے ؟ نسائی قوت کا اظہار رد عمل کے طور پر بھی ہوتا ہے ، احتجاج اور بغاوت حسن کے خمیر میں نہیں ہونے کے باوجود عورت کا جسم ہتھیار بن سکتا ہے ۔

 یٰسین احمد نے اپنے افسانو ں میں تقریبا ہر طرح کے نسائی مسائل کو اور اس کے مختلف جہتوں کو موضوع بنا کر سماج کو خوبصورت بنانے کا اور عورتوں کے مسائل کو حل کرنے کا جذبہ دلایا ہے ۔آپ نے سماج اور معاشرہ میں خواتین کے حوالہ سے جو محسوس کیا ، اسے اپنی تخلیقی قوت سے ، فنی رچاو اور اسلوب کی رعنائی سے افسانے کی شکل میں قوم کو احسا س دلایا ہے ۔

 حوالہ جات

(۱)افسانہ ’’پن‘‘ افسانوی مجموعہ دھار ، ص : ۷۱ ، مصنف: یٰسین احمد ، ناشر: الانصار پبلیکشنز حیدرآباد

(۲) افسانہ ’’پن‘‘ افسانوی مجموعہ دھار ، ص : ۷۲ ، مصنف: یٰسین احمد ، ناشر: الانصار پبلیکشنز حیدرآباد

(۳)افسانہ ’’امنی‘‘ افسانوی مجموعہ سایوں بھرا دالان ، ص: ۲۰، مصنف : یٰسین احمد ، ناشر اطیب پبلیکشنز حیدرآباد

 (۴) افسانہ ’’امنی‘‘ افسانوی مجموعہ سایوں بھرا دالان ، ص: ۲۱، مصنف : یٰسین احمد ، ناشر اطیب پبلیکشنز حیدرآباد

 (۵) افسانہ ’’ سایوں بھرا دالان‘‘ ، صــ : ۱۳۷ ، مصنف : یٰسین احمد ، ناشر اطیب پبلیکیشر حیدرآباد

(۶) افسانہ ــــ’’ ہتھیار‘‘ افسانوی مجموعہ سلاٹر ہاوس، ص: ۶۰، مصنف: یٰسین احمد ، ناشر استعارہ پبلیکشنز دہلی

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
wpDiscuz
Please wait...

Subscribe to our newsletter

Want to be notified when our article is published? Enter your email address and name below to be the first to know.